بلتستانی
 
وبلاگ شخصی ارشاد حسين مطهري

محل درج آگهی و تبلیغات
 
نوشته شده در تاريخ دوشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری
 

کانفرنس میں شرکت کیلئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور مرکزی ترجمان حسن ظفر نقوی بھی پہنچ چکے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


نوشته شده در تاريخ دوشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 

: کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں ہم مذہب یا مسلک کی بیناد پر نہیں بلکہ خدمت کی بنیاد پر الیکشن لڑینگے۔ کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ بھی جاری کیا جائیگا۔


نوشته شده در تاريخ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 تہران میں ہونیوالی ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کیساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور وسعت دینے کا خواہاں ہے۔














نوشته شده در تاريخ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے دورے کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کے بارے میں مفاہمت کی کئی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کئے جائیں گے۔

























نوشته شده در تاريخ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 

: تہران میں وزیراعظم محمد نواز شریف اور اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے پر اتفاق، نواز شریف کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔

















نوشته شده در تاريخ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 

وزیراعظم نواز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر ایران پہنچ گئے
پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے۔ وزیراعظم کے ہمراہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ موجود ہیں۔ ایران دورے کے دوران وزیراعظم نواز شریف ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور روحانی پیشوا آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کریں گے۔ جس میں سرحدی صورت حال، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی ترقی کے باہمی مفاد کے مواقع کا جائزہ لیاجائے گا۔ اس موقع پر متعدد شعبوں میں کئی مفاہمتی معاہدے طے پانے کے علاوہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے مستقبل کا بھی فیصلہ ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور ایران میں نئی حکومتوں کے قیام کے بعد اعلٰی قیادت کی سطح پر یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

نوشته شده در تاريخ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری



مجلس علماء بحرین کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا ہے کہ ملک میں پائی جانے والی مذہبی ناانصافی اتنی واضح ہے کہ کسی ثبوت کی محتاج نہیں جبکہ آل خلیفہ حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اور مخالفین کو پرامن احتجاج کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔
آل خلیفہ نے مذاکرات کے دروازے بند کر رکھے ہیں، ہمارے ساتھ تبعیض آمیز برتاو کیا جا رہا ہے، آیت اللہ شیخ عیسی قاسم
اسلام ٹائمز [نیوز ڈیسک] – بحرین کے معروف شیعہ عالم دین اور مجلس علماء بحرین کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے الدراز خطے میں خطبہ نماز جمعہ میں کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت صرف ایک بات پر ڈٹی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ملک میں اصلاحات، امن و امان اور مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومت کا موقف سرکاری جیلوں میں جاری قیدیوں کے ساتھ سلوک سے جانا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہر قسم کے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کو ممنوع اعلان کیا گیا ہے جو جمہوری تقاضوں کے خلاف ہے جبکہ حکومت کی سیکورٹی فورسز مظاہروں میں شریک شہریوں کے خلاف زہریلی آنسو گیس اور رائفل کی گولیاں استعمال کر رہی ہے۔

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومتی غنڈوں کی جانب سے عام شہریوں کا قتل عام اور شہداء کی لاشیں وارثین کے حوالے نہ کیا جانا کھلی دہشت گردی ہے جس کا مقصد شہداء کے گھرانوں کو خاموش رہنے اور انہیں حکومت کے خلاف ہر قسم کی عدالتی کاروائی سے باز رہنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اور یہ چاہتی ہے کہ عوام اس کے ظالمانہ اقدامات کے سامنے خاموش ہو جائیں۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومت مذاکرات انجام دینے میں مخلص نہیں لہذا ہم ایسے مذاکرات کو قبول نہیں کر سکتے جس کا مقصد صرف مدمقابل پر اپنے مطالبات کو تحمیل کرنا ہو۔ ایسے مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف رائے عامہ کو دھوکہ دینا اور دنیا کو فریب دینا ہے۔

بحرین کے معروف شیعہ عالم دین اور خطیب نماز جمعہ نے گذشتہ ہفتے دارالحکومت مناما میں "تہذیبوں کے درمیان گفتگو" کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے اس کانفرنس میں شریک افراد کیلئے صرف ایک ہی پیغام ہے اور وہ یہ کہ وہ آئیں اور آل خلیفہ رژیم کی جانب سے ہماری مسمار شدہ مساجد کو دیکھیں۔ یہ اس حکومت کا حقیقی چہرہ ہے اور حکومت کی گفتگو کا انداز ہے جو اس نے شروع سے اپنا رکھا ہے۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ اگر اس کانفرنس میں شریک افراد کیلئے ہمارے ملک میں آزادی کو کوئی اہمیت حاصل ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ بحرین میں موجود مذہبی ناانصافی اور اہل تشیع کے ساتھ حکومت کے تبعیض آمیز رویئے کو دیکھیں۔ انہوں نے کہا یہ تبعیض آمیز حکومتی رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور اتنا عیاں ہے کہ اسے ثابت کرنے کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔


نوشته شده در تاريخ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری


 نیو میمن مسجد کے باہر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ 66 برس ہو چکے ہیں اور مسلم امہ کا تیسرا مقدس مقام قبلہ اول بیت المقدس تاحال صیہونی غاصب اسرائیل کے شکنجے میں ہے۔
حکومت پاکستان فلسطینیوں کے حق کی واپسی کیلئے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرے، فلسطین فاؤنڈیشن
اسلام ٹائمز۔ حکومت پاکستان مظلوم فلسطینیوں کے حق واپسی کے لئے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرے، فلسطینیوں کے حق واپسی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کے مرکزی ترجمان سید اظہر شاہ ہمدانی، جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی، جماعت اسلامی پاکستان کراچی کے نائب امیر مسلم پرویز، سابق امیر جماعت کراچی محمد حسین محنتی، عوامی مسلم لیگ پاکستان کے مرکزی رہنما محفوظ یار خان ایڈووکیٹ، ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے جنرل سیکرٹری شہزاد مظہر اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی ترجمان صابر کربلائی سمیت علامہ شوکت مغل، ناصر رضوان ایڈووکیٹ اور عبدالوحید یونس نے نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ پر ’’ یوم نکبہ ‘‘ کی مناسبت سے جاری مہم ’’ یوم واپسی فلسطین، منزل فلسطین ‘‘ کے تحت فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی اور غاصب اسرائیل سے نفرت کے اظہار کے لئے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مردہ باد امریکہ، اسرائیل نا منظور اور برطانیہ نا منظور سمیت فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے، فلسطینیوں کے حق واپسی کا دفاع کریں گے، اسرائیل ایک غیر قانونی ریاست ہے، فلسطینیوں ہم تمھارے ساتھ ہیں اور منزل فلسطین کے نعرے آویزاں تھے۔ شرکائے احتجاجی مظاہرہ نے مردہ باد امریکہ اور اسرائیل نا منظور سمیت برطانیہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے پرچموں کو بھی نذر آتش کیا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ 66 برس ہو چکے ہیں اور مسلم امہ کا تیسرا مقدس مقام قبلہ اول بیت المقدس تاحال صیہونی غاصب اسرائیل کے شکنجے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پوری دنیا میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد مظلوم فلسطینی بے گھر ہیں اور مہاجرین کی زندگی بسر کررہے ہیں لیکن افسوس ناک بات ہے کہ سنہ 1948ء میں موجود اقوام متحدہ نے ایک طرف تو اسرائیل کے غاصبانہ تسلط پر آنکھیں بند کرلی تھیں اسی طرح آج کی اقوام متحدہ بھی مظلوم فلسطینیوں کو ان کے وطن واپسی کا حق دلوانے میں بری طرح ناکام ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب لیگ سمیت او آئی سی کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی اداروں کو چاہئیے کہ دنیا کے اس اہم ترین اور سلگتے ہوئے مسئلے کی طرف توجہ کریں اور مظلوم نہتے فلسطینی مسلمانوں کو وطن واپسی کا حق فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا مرحلہ ہے کہ دنیا بھر میں ’’ یوم نکبہ کو یوم واپسی فلسطین ‘‘ کے تحت منایا جا رہا ہے اور پوری دنیا میں ایک ہی نعرہ ’’ منزل فلسطین ‘‘ بلند ہو چکا ہے تاہم وہ وقت بھی دور نہیں کہ جب دنیا بھر کے تمام ممالک سے حریت پسندوں کے قافلے نکل کھڑے ہوں گے اور سب کا نعرہ ’’ منزل فلسطین ‘‘ ہی ہوگا اور پھر دنیا کی کوئی طاقت فلسطینیوں کو ان کے اپنے وطن واپس جانے سے نہیں روک سکے گی، مظاہرین نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور مسئلہ فلسطین کے حل کو فلسطینیوں کی امنگوں کے مطابق حمایت کرے۔ اس موقع پر مظاہرین نے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ سمیت عالمی سامراجی قوتوں کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے اور پر امن منتشر ہوگئے۔


نوشته شده در تاريخ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری


مرکزی دفتر میں ہونے والی ملاقات میں ایس یو سی ضلع گلگت کے صدر مولانا شیخ شہادت حسین ساجدی نے وفد کے ہمراہ مختلف تنظیمی و ملی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔
اسلام آباد، ایس یو سی ضلع گلگت و ہنرہ نگر کے وفد کی علامہ شبیر میثمی سے خصوصی ملاقات
  شیعہ علماء کونسل ضلع گلگت اور ضلع ہنزہ نگر کے عہدیداران کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مولانا شیخ شہادت حسین ساجدی ضلعی صدر گلگت کی سربراہی میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی راہنما اور مرکزی سیاسی سیل کے انچارج حجۃ الاسلام علامہ شیخ شبیر حسن میثمی سے مرکزی دفتر ایس یو سی میں خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر ایس یو سی صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عبّاس تقوی، کراچی ڈویژن کے صدر علامہ جعفر سبحانی بھی موجود تھے جبکہ ضلع گلگت اور ضلع ہنزہ نگر کے عہدیداران میں ضلع گلگت کے صدر مولانا شیخ شہادت حسین ساجدی، جنرل سیکرٹری شیخ سلطان صابری، سیکرٹری اطلاعات عارف حسین، شیخ گلاب حسین شاکری، شیخ اقبال حسین توسلی، اور ہنزہ کے راہنما شیخ شبیر حسین حکیمی شامل تھے۔ ملاقات میں گلگت بلتستان میں تنظیمی، ملی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ مختلف قومی، ملی و تنظیمی امور پر طویل مشاورت کی گئی۔


نوشته شده در تاريخ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

اس قوی خیال کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ جب ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باجود بھی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے بعد ٹی ٹی پی کو نہ صرف ان سے اظہار لاتعلقی کرنا پڑا بلکہ ان گروہوں سے اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جس سے ثابت ہوگیا کہ یہ کوئی ایک پلیٹ فارم پر موجود منظم طاقت نہیں بلکہ مختلف، آزاد دہشت گرد گروپوں کا ایک مجموعہ ہے۔ جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ اس حقیقت کے آشکارا ہونے تک گرچہ ریاست اور عوام کا ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ہے لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ریاست کے دشمن دہشت گرد گروہ ریاستی اداروں کے سامنے نہایت کمزور ہیں، ضرورت فقط موثر حکمت عملی کی ہے۔
افغانستان میں صدارتی انتخابات اور پاکستان (1)
تحریر: عمران خان
 
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ افغانستان میں ہونیوالے صدارتی انتخابات میں پاکستان نے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک گرچہ یہ ایک مثبت اور بہتر پیشرفت تھی، تاہم افغانستان کے حوالے سے وہ جہادی جنگجو حلقے جنہوں نے روس کے خلاف امریکی وسائل سے ایک جنگ لڑی، وہ پاکستان کی اس پالیسی سے زیادہ خوش نظر نہیں آتے۔ ان کے نزدیک افغانستان میں امریکہ کی آمد کے بعد بھارت نے جو گہرا اثر و نفوذ پیدا کیا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان افغانستان کا سیاسی مستقبل طے کرنے میں اپنا کردار اسی طرح ادا کرے، جس طرح ماضی میں کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں ہونیوالے حالیہ صدارتی انتخابات میں کسی امیدوار کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے انتخابات کا ایک اور دور ہوگا۔ جس میں فقط دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ افغان انتخابات کیسے ہوئے، امیدوار کون تھے، طالبان کا کیا کردار رہا، طالبان کے بائیکاٹ کی وجہ سے آنیوالی حکومت کے لیے افغانستان کتنا پرامن ہوگا اور افغانستان میں سیاسی استحکام سے خطے پر کیا اثرات ہونگے، کا مختصر جائزہ لینے سے قبل پاک افغان تعلقات میں آنیوالے پیچ و خم کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
 
مشرف دور حکومت میں پاکستان نے امریکہ سے نان نیٹو اتحادی ہونے کا اعزاز تو حاصل کرلیا، مگر اس کے جواب میں برسوں پرانی افغان پالیسی سے مکمل طور پر رول بیک کرنا پڑا۔ نتیجے میں پاکستانی اداروں کی تخلیق کردہ وہ قوتیں جنہیں اسٹرٹیجک اثاثے ہونے کا اعزاز حاصل تھا، مخالف سمت میں اکٹھی ہونا شروع ہوگئیں۔ افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد حامد کرزئی کا دور شروع ہوا۔ ابتداء میں صدر حامد کرزئی کو امریکہ و پاکستان کی آشیرباد حاصل تھی۔ صدر مشرف کے دور اقتدار کے خاتمے پر افغانستان میں موجود دوستوں کے تحفظات و خدشات میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ حامد کرزئی کی صدارت کے تیرہ برسوں میں افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بڑھتا چلا گیا۔ وہی طالبان جنگجو جن کے خلاف پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا، انہی کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی، لیکن ان جنگجوؤں کے ساتھ آنیوالے مذموم بیرونی ایجنڈے نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے وہ مراکز قائم کئے، جن کا شکار خود پاکستان ہونے لگا۔ 

افغانستان کی جانب سے متعدد بار ایسے الزامات عائد کئے گئے، جس میں کہا جاتا رہا کہ دہشت گرد پاکستان کے آزاد علاقوں میں اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کئے ہوئے ہیں اور وہیں سے آکر افغانستان میں دہشت گردی کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ سفارتی محاذ پر گرچہ پاکستان نے افغان کٹھ پتلی حکومت کے ان الزامات کو زیادہ مقبول نہیں ہونے دیا، لیکن کرزئی حکومت کو سخت حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔ کرزئی حکومت نے جنگجوؤں سے روابط مضبوط کئے اور افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے انہیں تعاون پر آمادہ کیا۔ بعض تجزیہ نگاروں نے اپنی تحریروں میں یہ خیال ظاہر کیا کہ کرزئی کی جانب سے امریکہ کے ساتھ سخت لہجے اور برطانوی فوجیوں کے افغانستان میں کردار سے بیزاری کے اعلان کی بنیادی وجہ جنگجو گروپوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغان انتخابات سے قبل کرزئی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرے۔ جس کی رو سے افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد بھی افغانستان میں کئی ہزار امریکی فوجی موجود رہیں گے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر فوجی تعمیرات بھی کر رکھی ہیں۔
 
کرزئی حکومت نے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے بلکہ چین جو کہ افغانستان میں فقط سرمایہ کاری تک محدود تھا، اس کے ساتھ فوجی اور دفاعی تعلقات بنانے اور بڑھانے میں خوشی ظاہر کی۔ کرزئی حکومت جنگجوؤں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی کہ بیرونی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کے مستقبل اور دوستوں و دشمنوں کا فیصلہ یہاں بسنے والوں نے ہی کرنا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد پاکستان کے لیے جس بڑی پریشانی نے جنم لیا وہ افغانستان سے پاکستان میں ہونیوالی دراندازی تھی۔ پہلے جنگجو پاکستان سے افغانستان جاکر مسلح کارروائیاں کرتے اور واپس آتے، لیکن اب یہ صورتحال ہے کہ افغانستان سے جنگجو پاکستان میں آکر کارروائیاں کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنیوالی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں نے افغانستان میں مضبوط اور محفوظ ٹھکانوں کی تعمیر کے بارے افغان طالبان کو اعتماد میں لیا ہے۔ فاٹا کے علاقے میں موجود وہ جنگجو جو افغانستان سے آئے اور یہیں پر محفوظ ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہوئے، انہیں فاٹا کیصورت میں اپنی ایک الگ و خود مختار ریاست نظر آرہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں پاکستان سے اس علاقے کی علیحدگی کی صورت میں وہ یہاں آزادانہ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ 

افغان حکومت نے ان کی اس امید کو قوی کرنے کی خاطر ڈیورنڈ لائن کے مسئلہ کو تاحال حل نہیں ہونے دیا۔ افغان حکومت کی جنگجوؤں کے ساتھ فروغ پاتی مفاہمت میں پاکستانی اداروں کو اپنا کردار زوال پذیر ہوتا محسوس ہوا۔ چنانچہ پاکستان میں موجود وہ افراد جو کرزئی حکومت اور جنگجوؤں میں رابطے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے، ان کو نہ صرف گرفتار کیا گیا، بلکہ انتہائی محفوظ مقامات پر خفیہ طریقے سے رکھا گیا، حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والوں نے ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور پھر رہائی کو اسی عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔ پاکستانی اداروں کے کردار سے اس امر کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے کہ ملک میں موجود جنگجو، یا مسلح قوتیں ریاستی اداروں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں۔ اس کے باجود وطن عزیز میں جاری دہشت گردی کی لہر کا قابو میں نہ آنا یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس طرح پاکستانی طالبان کو افغانستان میں موجودہ قوتوں کی دوستانہ تھپکی ملتی رہی ہے، اس طرح افغانستان میں موجود طالبان کی پاکستانی ادارے گاہے بگاہے حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ 

افغانستان میں امریکی آمد کے بعد آزاد اور چھوٹے جنگجو و دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کا سلسلہ شروع ہوا۔ گرچہ مسلح افرادی قوت جو کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو اور اپنے اندر نظم و ضبط رکھتی ہو، علاقے میں استحکام پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ چھوٹے چھوٹے آزاد جنگجو گروپ جن کی مانگوں کی فہرست زیادہ طویل بھی نہیں ہوتی، بیرونی قوتوں کے لیے زیادہ سود مند ثابت ہوتے ہیں۔ بڑے اور منظم جنگجو جتھے چونکہ ایک قیادت کے اندر رہ کر باقاعدہ احکامات کے تحت کام کرتے ہیں، لہذا ایک طرف ان کے مطالبات بھی لمبے چوڑے ہوتے ہیں اور اختلاف کی صورت میں جب وہ کارآمد نہیں رہتے تو نہ ہی ان کے متبادل دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی ان پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت افغانستان میں امریکی آمد کے بعد چھوٹے بڑے کئی آزاد جنگجو گروہ بنے، اور کچھ ہی عرصے بعد یہی صورتحال پاکستان میں پیدا کی گئی۔ گرچہ پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی کی ہر کارروائی کی ذمہ داری تحریک طالبان قبول کرتی رہی، جس کا بڑا مقصد اپنا وزن افغان طالبان کے برابر ظاہر کرنا بھی تھا۔
 
اس عرصے میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ پہلی یہ کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کے ساتھ ہی مربوط ہے اور انہی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ دوسرا خیال یہ تھا کہ ٹی ٹی پی گرچہ ملا عمر کو امیر مانتی ہے، تاہم اس کے ایجنڈے میں افغان حکومت اور دیگر بیرونی ایجنسیز بھی اثر رکھتی ہیں۔ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں فکری تضاد بھی نمایاں نظر آتا رہا۔ کبھی فوج اور دفاعی اثاثے نشانہ بنے، تو کبھی مسلک، کبھی عام عوام اور کبھی اقلیتیں، حکومت بھی نشانے پر رہی اور اپوزیشن بھی، طالبان کو بھائی کہنے والے عمران خان کابینہ کا صوبائی وزیر بھی نشانہ بنا اور مرحوم قاضی حسین احمد پر بھی حملہ ہوا۔ یہاں تک کہ طالبان کے فکری اور عسکری پیشوا سمجھے جانیوالے کرنل امام کو بھی قتل کیا گیا اور جنرل نیازی کو بھی۔ دہشت گردی کے واقعات میں یہ تضاد دلیل تھا کہ کسی نظریاتی گروہ نے ریاست کے خلاف مقاصد کے حصول کے لیے جنگ مسلط نہیں کی ہوئی بلکہ مختلف گروہ مختلف قوتوں کے ایجنڈے کی خاطر یہ کارروائیاں سرانجام دے رہے ہیں۔ 

اس قوی خیال کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ جب ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باجود بھی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے بعد ٹی ٹی پی کو نہ صرف ان سے اظہار لاتعلقی کرنا پڑا بلکہ ان گروہوں سے اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جس سے ثابت ہوگیا کہ یہ کوئی ایک پلیٹ فارم پر موجود منظم طاقت نہیں بلکہ مختلف، آزاد دہشت گرد گروپوں کا ایک مجموعہ ہے۔ جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ اس حقیقت کے آشکارا ہونے تک گرچہ ریاست اور عوام کا ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ہے لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ریاست کے دشمن دہشت گرد گروہ ریاستی اداروں کے سامنے نہایت کمزور ہیں، ضرورت فقط موثر حکمت عملی کی ہے۔ 
(جاری ہے)


نوشته شده در تاريخ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

دو سال کا عرصہ مکمل ہونیکے باوجود صوبائی حکومت دہشتگردوں کو تو گرفتار نہ کرسکی، لیکن دہشتگردی کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کو گرفتار کرکے اسکردو جیل بھیج دیا۔



















نوشته شده در تاريخ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری


پاکستان میں شیعہ علماء کونسل تحریک جعفریہ کا تسلسل ہے۔ اس کی نسبت مجلس وحدت مسلمین ایک نئی شیعہ تنظیم ہے۔ طلباء کی تنظیمیں آئی ایس او اور اصغریہ ہیں۔ ان کے دستور میں نے پڑھے ہیں۔ یہ سب نظام امامت و ولایت کے قائل اور متعہد افراد ہیں۔ کوئی ثابت کر دے کہ یہ تنظیمیں غرب زدہ ہیں۔ دنیا بھر کی جن شیعہ تنظیموں کی میں نے بات کی یہ التقاط کی قائل نہیں۔ امت اسلام ناب ایک ہی نصب العین پر یقین رکھتی ہے۔ مداح اہلیت حاج محمود کریمی کے الفاظ میں عشق یعنی یہ کلام، تا بقیہ اللہ قیام، عشق یعنی یہ پیام، پا بہ پای فرزند امام۔ ہمارا نعرہ مرگ بر ضد ولایت فقیہ۔
شیعہ تنظیموں کا پیام تا بقیۃ اللہ قیام
تحریر: عرفان علی

یہ ایک ’’ٹو دی پوائنٹ‘‘ بحث اور نتیجہ خیز مقالہ ہے۔ ہم نے گذشتہ دو مقالوں میں کچھ معروضات پیش کیں۔ درخواست ہے ان برادران سے جو اتفاق نہیں کرتے کہ وہ ان دلائل کے مقابلے میں دلائل پیش کریں۔ امام خامنہ ای کا نظریہ برادر روحانی میثم ہمدانی بیان کرچکے، اس لئے اب اس کی روشنی میں اپنی اصلاح کرلیں۔ بہتر ہوگا کہ اب علامہ اقبال کی تنظیمی حیثیت واضح ہونے کے بعد انکے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ انقلاب اسلامی کے تنظیمی بزرگان کے بارے میں بھی آپ اپنی اصلاح کرلیں اور امام خمینی کو ایسا سپر مین نہ بنائیں کہ جو صرف فلموں میں ہی پایا جاتا ہے۔ ان الفاظ پر معذرت کیونکہ امام کو تنظیمی بزرگان پر اعتماد تھا، لیکن مدعی سست گواہ چست والا موقف ہمیں ان الفاظ پر مجبور کرتا ہے۔ مودبانہ عرض کہ امام امت کے ان فرزندان حقیقی کی سیرت کا مطالعہ فرمائیں، جو دنیا بھر میں تنظیمی ڈھانچوں کے ذریعے اسلامی تحریکیں چلایا کرتے تھے اور اب بھی ایسا کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک سید بزرگوار اور امام خمینی کے الفاظ میں سید اعلام علامہ عارف حسین الحسینی تھے۔ وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نامی ایک پارٹی کے سربراہ تھے، اسی عہدے پر شہید ہوئے۔ تنظیم کی اہمیت پر ان کی گفتگو کی آڈیو، وڈیو اور تحریری متن موجود ہے۔ انکی شہادت پر امام امت کا پیغام بھی پڑھیں، امام نے ان کو امام حسین علیہ السلام کا فرزند حقیقی لکھا۔

لبنان میں امام امت کے فرزندان حقیقی امام موسٰی صدر، راغب حرب، عباس موسوی جیسی قابل فخر ہستیوں کی تنظیمی وابستگی کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔ لبنانی حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کی کتاب حزب اللہ، دی ان سائیڈ اسٹوری میں بھی ان بزرگان کا تنظیمی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ پڑھیں، میرے بھائی پڑھیں۔ امور زندگی میں نظم پیدا کریں۔ جماعت سے وابستہ رہیں، ان دو اقوال زریں کے بارے میں معلوم کریں کہ کیا امیر المومومنین امام المتقین نے یہ جملے نہیں کہے؟ آیت اللہ حسین فضل اللہ نے تنظیم الاخوان قائم کی۔ آیت اللہ شیخ مہدی شمس الدین بھی امام موسٰی الصدر کی پارٹی کے تنظیمی عالم دین تھے۔ بحرین کے شیعہ علمائے دین کو دیکھیں، معلوم کریں کہ جمعیت الوفاق الوطنی الاسلامیہ بحرین کے الیکشن میں سنگل لارجیسٹ پارٹی کی حیثیت سے جیت چکی۔ عراق میں دیکھیں، سید عمار الحکیم، ابراہیم جعفری، نوری المالکی کی اپنی جماعتیں ہیں، الیکشن میں حصہ لیتی ہیں۔ سید مقتدیٰ صدر کے حامیوں کی جماعت بھی عراقی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔

تحریکیں یا نہضت تنظیمی قائدین کے ذریعے ہی چلائی جاتی ہیں۔ کفاح المسلمین فی تحریر الہند پڑھیں۔ اس کتاب کو فارسی میں امام خامنہ ای نے تالیف و ترجمہ کیا ہے۔ اس کا نام ہے "مسلمانان در نہضت آزادی ہند۔" اس میں بھی مسلمانان ہند کے تنظیمی قائدین کی سیاسی جدوجہد کا تذکرہ ہے۔ حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کی کتاب کے پہلے باب کا عنوان جادہ و منزل ہے، اسکا مطالعہ ضرور کریں، اس میں پاکستان سمیت ہر اس ملک کے شیعہ کے لئے حکمت عملی موجود ہے کہ جہاں شیعہ اصولوں کے مطابق نظام حکومت نہیں ہے۔ اس میں اسلامی ریاست کا قیام کے عنوان کے تحت ایک حکمت عملی بیان کی گئی ہے، اسے ضرور پڑھیں اور سمجھیں۔ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں: ’’ایک تخیل کی صورت میں ہم اسلامی ریاست کے قیام کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں اور دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنی ساری تمناؤں کو اسی میں مضمر سمجھیں، جبکہ عملی اظہار کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے ایک موزوں بنیاد کی ضرورت ہے، جس پر ریاست کی مضبوط عمارت تعمیر ہوسکے۔ ایسی بنیاد کا مظہر وہ عوام الناس ہیں جنہیں ایسے حکمران ادارے کے انتخاب کی آزادی دی گئی ہے۔ قرآن کے الفاظ میں دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔‘‘

اپنے اس پیغام کے بارے میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ ایسی اسلامی ریاست کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو عوام کی آزاد مرضی و منشا پر استوار ہو۔ اس لئے ہم اپنے ایمان و عقیدے کو اپنے گردوپیش کے حالات سے مکمل طور پر ہم آہنگ پاتے ہیں۔ جب تک یہ حالات ہمارے منصوبے کی تائید نہیں کرتے (خواہ اختلاف کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں یا کسی اور وجہ سے) ہم اپنے آپ کو قابل معافی سمجھتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کہ ہم نے اپنا پیغام دے دیا ہے اور اپنے موقف کا اعلان کر دیا ہے، پھر یہ بات لوگوں پر چھوڑ دی ہے کہ وہ جس نظام کو چاہیں، اختیار کریں اور اپنے اس انتخاب کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔‘‘ 
سورہ یونس کی آیت نمبر 10: اگر تیرے رب کی یہ مشیت ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے، پھر تو کیا لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ لبنان میں ہمارے سیاسی تجربے نے ایک ایسے لائحہ عمل کے درست ہونے کا ثبوت دے دیا ہے، جو ایک مخلوط معاشرے کے اندر اسلامی بصیرت سے ہم آہنگ ہے۔‘‘

’’لیکن عملی کامیابیوں کے لئے کچھ بنیادیں اور کچھ معروضی طریق کار کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ بات ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ ہم خدا کے دین کے لئے کوئی دانشمندانہ طریق کار اختیار کریں۔‘‘ ’’اسلام کو اختیار کرنے کا تقاضا ہے کہ اس بارے میں بصیرت حاصل کی جائے اور اس کے سیاق و سباق کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس وقت جتنے اسلامی مکاتب فکر ہیں، وہ شریعت سے متعلق اپنے اپنے بانیوں کی تشریحات کی روشنی میں ایک رائے قائم کرتے ہیں۔ اس طرح ہماری پارٹی نے پیغمبر (ص) کی اولاد کی تشریح کی پیروی کا فیصلہ کیا ہے۔ اہل تشیع کا عمومی راستہ یہی ہے۔ وہ تعلیمات جنہیں ہماری پارٹی نے حرز جان بنایا ہوا ہے، انہی بنیادی اصولوں کا مجموعہ ہے اور یہ حزب اللہ کے لئے اسلام کی تفہیم کا ایک پس منظر ہے۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ نے دیگر اسلامی عقائد میں سے کسی ایک کا انتخاب کیوں نہیں کیا اور ان سب میں سے کوئی مشترکہ راہ کیوں نہیں تلاش کی، جو کہ تمام مسلمانوں کو متحد کرنے کے چیلنج کا جواب ہوتی۔ اس سلسلے میں ہمارا جواب یہ ہوگا کہ مختلف مکاتب فکر کو متحد کرسکنا ہماری عزیز ترین خواہش ہے۔ کاش ہم اسے پورا کرسکیں، لیکن یہ ایک بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے، جسے سلجھانے کے لئے فقہائے کرام نے صدیوں کام کیا مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔‘‘

اس کتاب کے دوسرے باب میں حزب اللہ یا امت اللہ کے عنوان سے لکھا گیا کہ ’’امام خمینی نے اپنے منشور میں جن مقاصد کی توثیق کی تھی، ان پر عملدرآمد کے مسئلے پر غور و فکر شروع کر دیا گیا۔ پارٹی کی لیڈرشپ کی سطح پر متعدد امور پر صلاح و مشورہ ہوا، خاص طور پر مثالی تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل، ڈائریکٹوریل فریم ورک اور قوم کے اجزاء کو یکجا کرکے اسے ایک وحدت بنانے کے لئے قابل عمل تجاویز زیر بحث آئیں۔ ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی بھی ضرورت تھی کہ کیا پارٹی کا نام حزب اللہ رکھا جائے یا امت اللہ۔‘‘ ’’دوسری طرف قوم کے تصور کا انحصار ایک ایسے پلیٹ فارم پر ہوتا ہے، جو سب کو تسلیم کرتا ہو، خواہ ان کی وفاداریاں کچھ بھی ہوں اور وہ کوئی بھی کام کرتے ہوں، لیکن پروگرام پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہ بنتے ہوں، اس کی بنیاد ایسی قیادت کی موجودگی پر استوار ہوتی ہے جو مساجد، علماء اور دیگر تنظیموں کو ہدایت جاری کرتی ہو۔ یہ ہدایات عمومی نوعیت کی ہوں، اور خاص خاص مواقع پر جاری ہوتی ہوں، جن پر قوم کان دھرتی ہو اور عمل کرتی ہو۔ تاہم لبنان جیسے متنوع معاشرے کے لئے ایسی ہدایات کوئی معنی نہیں رکھتیں، کیونکہ یہ ایک مختلف النوع عناصر پر مشتمل معاشرہ ہے۔ کافی سوچ بچار کے بعد بالآخر پارٹی کے لئے ایک تنظیمی فارمولا وضع کرلیا گیا۔‘‘ اسی کتاب سے مزید: ’’جس طرح ہر پارٹی یا تنظیم چند نظریات رکھتی ہے اور لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتی ہیں، حزب اللہ بھی یہی کر رہی ہے۔‘‘ ’’پارٹی کے دیگر بہت سے ارکان فرقے (شیعت) سے تعلق نہیں رکھتے، لہٰذا پارٹی کا مشترکہ میدان نظریاتی ہے نہ کہ مذہبی عقیدے سے وابستگی۔‘‘

’’بیسویں صدی کی اسلامی تحریکیں‘‘، اس عنوان کے تحت شہید بزرگوار استاد مرتضٰی مطہری نے ایک بہت ہی کارآمد بات کی ہے، اگر ہم اس کو سمجھ پائیں۔ لکھتے ہیں کہ ’’ارسطو نے فلسفہ کے بارے میں یہ جملے کہے ہیں کہ اگر تم فلسفی بننا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو فلسفیانہ رنگ میں رنگو، اور اگر تم فلسفی نہیں بننا چاہتے تو بھی اپنے آپ کو فلسفی رنگ میں رنگو۔ اس کی وضاحت میں اس طرح کروں گا کہ ارسطو نے کہا کہ اگر فلسفہ صحیح ہے تو اس کی تائید کرو اور اگر غلط ہے تو اس کا انکار کرو۔‘‘ شہید عالی قدر مطہری مزید فرماتے ہیں کہ ’’وہ لوگ جو کچھ علوم کو اس طرح حاصل کرلیتے ہیں کہ انکے علوم کا فلسفیانہ غور و فکر سے کوئی باہمی رشتہ نہیں ہوتا اور فلسفہ کی نفی کرنے لگتے ہیں، تو وہ بڑی سخت غلطی میں مبتلا ہیں۔ قطعاً صحیح نہیں ہے کہ ایک آدمی جو فلسفہ اور فقہ کی ایک کتاب کے متعلق کچھ نہیں جانتا، وہ صرف کتاب کو دیکھ کر ہی اس کی تردید کر دے۔‘‘ ماضی کے بزرگ علماء کا حوالہ دے کر لکھا کہ یہ علماء عصر حاضر کے مزاج کے مطابق ہونے چاہئیں اور انہیں اس دور کے تمام احساسات سے بخوبی واقف ہونا چاہیے۔‘‘ اس کے علاوہ لکھا کہ کچھ نوجوانوں نے جو ولولہ انگیز جذبہ ایمانی رکھتے تھے، نے رائے طلب کی کہ وہ یونیورسٹی تعلیم کو فوراً ختم کرکے اسلاف کی تعلیمات سیکھنا چاہتے ہیں، لیکن شہید مطہری نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔

پاکستان میں شیعہ علماء کونسل تحریک جعفریہ کا تسلسل ہے۔ اس کی نسبت مجلس وحدت مسلمین ایک نئی شیعہ تنظیم ہے۔ طلباء کی تنظیمیں آئی ایس او اور اصغریہ ہیں۔ ان کے دستور میں نے پڑھے ہیں۔ یہ سب نظام امامت و ولایت کے قائل اور متعہد افراد ہیں۔ کوئی ثابت کر دے کہ یہ تنظیمیں غرب زدہ ہیں۔ دنیا بھر کی جن شیعہ تنظیموں کی میں نے بات کی یہ التقاط کی قائل نہیں۔ امت اسلام ناب ایک ہی نصب العین پر یقین رکھتی ہے۔ مداح اہلبیت حاج محمود کریمی کے الفاظ میں عشق یعنی یہ کلام، تا بقیہ اللہ قیام، عشق یعنی یہ پیام، پا بہ پای فرزند امام۔ ہمارا نعرہ مرگ بر ضد ولایت فقیہ۔
(دوستوں سے معذرت کہ اب اس موضوع پر اسلام ٹائمز کے ان پیجز پر بات نہیں ہوگی۔ دوست چاہتے ہیں کہ پاکستان کی شیعہ تنظیمی سیاست پر لکھوں تو اسلام ٹائمز کی انتظامیہ کو راضی کرلیں۔ اگر اب بھی ہمارے بعض برادران کو شیعہ تنظیمی سیاست پر اعتراض ہے تو وہ مجھے براہ راست ایمیل کر دیں، انشاءاللہ اس فورم پر بات ہوگی)


نوشته شده در تاريخ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم اور بامقصد بنانے کے لئے وزیراعظم میاں نواز شریف گیارہ مئی سے دو دن کے دورے پر ایران جا رہے ہیں، جہاں ایرانی قیادت سے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی تعلقات کو زیادہ مضبوط اور موثر بنانے کا عہد کیا جائے گا۔ ایران اگست 1947ء میں آزادی کے بعد، پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ ہر عالمی فورم پر ایران نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی ان دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات تمام تر نشیب و فراز کے باوجود فروغ پذیر ہیں۔ حسن اتفاق ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں شہید نے بھی مئی (1949ء) کے مہینے میں ہی ایران کا دورہ کرکے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا تھا۔
پاک ایران تعلقات
تحریر: آغا مسعود حسین 

گذشتہ دو ماہ سے ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں تنائو پیدا ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ایران کے پانچ سکیورٹی گارڈز کو پاکستان کی سرحد کے قریب سے اغوا کرلیا گیا تھا، جس کا الزام ایران نے پاکستان پر عائد کیا تھا، حالانکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے بارڈر سکیورٹی گارڈز کو پاکستان کے کسی ادارے نے اغوا نہیں کیا بلکہ یہ علاقے میں موجود دہشت گردوں کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ (اس وقت چار بارڈر سکیورٹی گارڈ ایران پہنچ چکے ہیں جبکہ ایک کے بارے میں شبہ ہے کہ مار دیا گیا)؛ چنانچہ ان گارڈز کی واپسی کے بعد کسی حد تک ایران پاکستان تعلقات میں کشیدگی کم ہوئی ہے، جو ان دونوں پڑوسی اسلامی ملکوں کے لیے اچھا شگون ہے۔
 
ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم اور بامقصد بنانے کے لئے وزیراعظم میاں نواز شریف گیارہ مئی سے دو دن کے دورے پر ایران جا رہے ہیں، جہاں ایرانی قیادت سے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی تعلقات کو زیادہ مضبوط اور موثر بنانے کا عہد کیا جائے گا۔ ایران اگست 1947ء میں آزادی کے بعد، پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ ہر عالمی فورم پر ایران نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی ان دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات تمام تر نشیب و فراز کے باوجود فروغ پذیر ہیں۔ حسن اتفاق ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں شہید نے بھی مئی (1949ء) کے مہینے میں ہی ایران کا دورہ کرکے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا تھا۔ 

اس پس منظر میں وزیراعظم کا دورۂ ایران اس لئے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ موجودہ حکومت کا جھکائو سعودی عرب کی طرف بڑھتا اور پڑوسی ممالک خصوصاً ایران کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی گھٹ رہی ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی وزارت خارجہ نے دبے لفظوں میں حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ باہمی تعلقات کو کسی ایک ملک کے ساتھ اس طرح وابستہ نہ کرے کہ دوسرے ممالک ان تعلقات سے متعلق شک و شبے میں مبتلا ہوجائیں، بلکہ کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات میں بیلنس ہونا چاہے۔ اس حقیقت کو پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کے مشیر سرتاج عزیز نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا اور وہ اسی سلسلے میں ایران بھی گئے تھے، تاکہ ایرانی قیادت کو اعتماد میں لے کر یہ بات گوش گزار کی جائے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایران کے خلاف نہیں ہیں بلکہ پاکستان کی تو یہ کوشش ہوگی کہ ایران اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں اگر کوئی کجی یا غلط فہمی ہے تو اسے دور ہونا چاہیے، بلکہ پاکستان اس سلسلے میں مدد بھی کرسکتا ہے۔
 
جیسا کہ میں نے اوپر کہیں لکھا ہے کہ گیارہ مئی سے وزیراعظم میاں نواز شریف ایران کے دورے پر جا رہے ہیں، جہاں وہ ایرانی قیادت سے تجدید عہد وفا کریں گے بلکہ انہیں یہ یقین بھی دلائیں گے کہ پاکستان کی جانب سے ایران کی سرحدوں کے اندر کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو رہی، بلکہ پاکستان ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایرانی قیادت کو یہ بھی باور کرایا جائے گا کہ پاکستانی بلوچستان کے بعض علاقوں میں علیحدگی پسندوں نے جو توڑ پھوڑ اور قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اس سے پاکستان خود بھی پریشان اور نالاں ہے، جبکہ ایف سی ان کی مسلسل سرکوبی کر رہی ہے۔ دوسری طرف یہی شرپسند عناصر سرحد پار ایرانی بلوچستان میں دہشت گردی کا ارتکاب کرتے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بگاڑ اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انشاء اللہ وہ اپنی مذموم حرکتوں میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
 
دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی غرض سے پیر کے روز ایران کے وزیر داخلہ جناب عبدالرضا رحمانی فضلی اسلام آباد آئے تھے، اور اپنے ہم منصب چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ملاقات کے دوران ان دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں پر ہونے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا تھا، اور یہ طے پایا تھا کہ دہشت گردی اور اغوا سے متعلق واقعات کے انسداد کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان دونوں ملکوں کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ ہونی چاہیے، بلکہ اسے زیادہ موثر بنایا جائے، معلومات کے تبادلے کی بنیاد پر یہ دونوں ملک اپنے اپنے علاقوں میں سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرسکیں گے۔ جناب رحمانی فضلی اور چوہدری نثار علی خان کے مابین ملاقات ان دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں خوشگوار اضافے کا باعث بنی ہے، ویسے بھی ایران اور پاکستان کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کے علاوہ 1999ء سے آزاد تجارت کا معاہدہ موجود ہے، جس کی وجہ سے تجارتی تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
 
پاکستان نے 1980ء کی دہائی میں ایران، عراق کے درمیان ہونے والی جنگ میں ایران کی مکمل حمایت کی تھی۔ پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت بلکہ کم و بیش تمام پاکستانی، ایران سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اور باہمی تعلقات کو بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن اس ساتھ ہی وہ سعودی عرب سے بھی اپنے تعلقات کو مزید مستحکم و مضبوط ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، ویسے بھی دنیا کے تمام مسلمانوں کا ایمانی و دینی مرکز مکہ اور مدینہ سے منسلک ہے۔ اس لحاظ سے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات دو بھائیوں کے درمیان نہ ٹوٹنے والے رشتوں سے جُڑے ہوئے ہیں۔
 
بہرحال وزیراعظم میاں نواز شریف کا دورہ ایران، باہمی تعلقات میں مزید بہتری اور تفہیم کا باعث بنے گا، اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں مزید اضافہ ممکن ہوسکے گا۔ ایران پاک گیس پائپ لائن (740 کلو میٹر لمبی) کا مسئلہ بھی زیر بحث آئے گا۔ اگر پاکستان نے دسمبر 1914ء تک اپنی طرف کی گیس پائپ لائن تعمیر نہ کی تو اسے روزانہ ایک ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے اتنی بڑی رقم ادا کرنا خاصا مشکل ہوگا۔ وزیراعظم اس اہم مسئلہ پر ایرانی قیادت سے بات کریں گے۔ ممکن ہے کہ ایرانی صدر محترم حسن روحانی سے درخواست کریں کہ اس رقم کی ادائیگی کو فی الحال موخر کر دیا جائے، اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان ایران تعلقات میں مزید بہتری پیدا ہوسکے گی۔
"روزنامہ دنیا"


نوشته شده در تاريخ سه شنبه شانزدهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 
15 اپریل 2014ء کو ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام دوسری ’’عالمی اتحاد امت کانفرنس‘‘ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ پہلی کانفرنس 11 و 12 نومبر 2012ء کو کونسل کے مرحوم صدر جناب قاضی حسین احمد کی قیادت میں اسلام آباد میں ہی منعقد ہوئی تھی۔ اس دو روزہ کانفرنس کا ایک عمومی اجتماع کنونشن سنٹر میں منعقد ہوا تھا جبکہ دوسرے روز مقامی ہوٹل میں خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ 2012ء میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس بہت پرشکوہ، یادگار، تاریخی اور نہایت موثر تھی۔ اس نے کونسل کی پیش رفت اور اس کے پیغام کی پذیرائی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

جنوری 2013ء کو کونسل کے احیاء گر اور امت اسلامیہ کے عظیم دردمند راہنما قاضی حسین احمدؒ انتقال کرگئے، یہ ایک غیر متوقع، رِقت خیز اور ہلا دینے والا سانحہ تھا۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے لیے ایسے راہنما کی جدائی بہت غم انگیز تھی، جو خلوص و ہمت کا پیکر تھا اور درد مشترک و قدر مشترک پر امت کو مجتمع کرنے کی صدا بلند کرنے والا تھا۔ اللہ تعالٰی اپنے اُس حبیبؐ کے صدقے ان کے مقاماتِ عالی کو اور بلند کرے، جس کی محبت میں وہ ہمیشہ زمزمہ سنج رہتا تھا۔

قاضی حسین احمد مرحوم کی رحلت جان سوز کے بعد ملی یکجہتی کونسل کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا۔ اس کی بہت سی وجوہات تھیں۔ کون نہیں جانتا کہ بہت سی قوتوں کو امت اسلامیہ کے اتحاد کی اس جدوجہد سے کَد ہے۔ خود قاضی صاحب کو یہ قوتیں اپنے راستے کا کوہِ گراں سمجھتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے نظریہ اتحاد امت کے خلاف شدت پسند گروہوں کے لیڈروں نے تقریریں کیں، انھیں اس راستے سے پلٹ آنے کو کہا، جب وہ حق کے راستے سے پلٹتے دکھائی نہ دیئے تو ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ قاضی صاحب مرحوم نے خود راقم سے بارہا بعض قوتوں کا نام لے کر کہا کہ وہ وحدت امت کی اس جدوجہد کے خلاف ہیں۔ انھوں نے نام لے کر بتایا کہ عالمی اتحاد امت کانفرنس میں عرب وفود کو شرکت سے روکنے کے لیے فلاں قوت نے کردار ادا کیا ہے۔ اس سب کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ اب ان کے پاس جتنی بھی عمر ہے، وہ اسے امت کے اتحاد و وحدت کی کوششوں میں صرف کریں گے۔
 
وہ تو ملی یکجہتی کونسل کو ایک عالمی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس کا عالمی سیکرٹریٹ قائم کرنے کے لیے بالکل تیار تھے، لیکن ابھی کونسل کے اندر اتنی آمادگی پیدا نہ ہوسکی تھی۔ اس سیکرٹریٹ کے توسط سے وہ عالم اسلام کے مسائل کو حل کرنے میں کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔ ملک کے اندر بعض موثر مذہبی جماعتیں ابھی کونسل کا حصہ نہیں بنی تھیں۔ البتہ قاضی صاحب کا احترام سب جماعتیں اور سب قائدین کرتے تھے۔ اس لیے جو جماعتیں ابھی کونسل کا باقاعدہ حصہ نہیں تھیں، وہ بھی اس کے مقاصد کی تائید کرتی تھیں، لیکن اس میں شمولیت کے حوالے سے ابھی ان کے کچھ تحفظات باقی تھے۔ معاملات آگے بڑھ رہے تھے کہ کونسل اچانک ایسے قائد سے محروم ہوگئی۔

اس کے بعد کونسل کو مجتمع رکھنا، امید کی شمع کو جلائے رکھنا اور قاضی صاحب کے خلا کو پر کرنے کی کوششیں کرنا مشکل مراحل تھے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی چونکہ کونسل کے سینیئر نائب صدر تھے، اس لیے قاضی صاحب کی رحلت کے بعد مجلس عاملہ کے پہلے اجلاس میں ہی اتفاق رائے سے انھیں کونسل کا قائم مقام صدر منتخب کر لیا گیا۔ قاضی صاحب کے جلائے ہوئے چراغوں کو روشن رکھنا، طے شدہ پروگراموں کو جاری رکھنا اور نئی قیادت کے انتخابات کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا، جیسے عظیم کام ان کے دوش پر آگئے تھے۔ انھوں نے کونسل کی موثر اور فعال شخصیات کے تعاون سے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت ان تمام امور میں نتیجہ خیز پیش رفت کا مظاہرہ کیا۔

یہاں تک کہ 28 اکتوبر 2013ء کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کونسل کے سربراہی اجلاس میں عبوری طور پر جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ جناب صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کو کونسل کا صدر اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ کو کونسل کا سیکرٹری جنرل منتخب کرلیا گیا۔ دونوں راہنماؤں نے چند ماہ کے اندر اندر کونسل میں ایک نئی روح پھونک دی۔ کونسل کے اندر اور باہر کی اہم مذہبی جماعتوں اور قائدین سے موثر رابطے کئے۔ عالمی سطح کی کانفرنسوں میں بھی پاکستان کے اس عظیم پلیٹ فارم کی نمائندگی کی۔ پاکستان کے عوام کو بھی اعتماد دیا، یہاں تک کہ کونسل کی مرکزی کابینہ اپنے 24 مارچ 2014ء کے اجلاس میں ایک اور عالمی اتحاد امت کانفرنس کا فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ فیصلہ کونسل کی قیادت کے اعتماد اور اعلٰی اسلامی مقاصد پر ان کے غیر متزلزل ایمان اور وحدت امت کی شمع کو روشن رکھنے کے لیے ان کی شدید آرزو کا مظہر تھا۔

ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام یہ دوسری عالمی اتحاد امت کانفرنس اپنے اندر پیش رفت کی بہت سی جہتیں رکھتی ہے۔ اس کانفرنس نے یقینی طور پر مرحوم قاضی صاحب کی قیادت میں منعقد ہونے والی عالمی اتحاد امت کانفرنس کی یادیں تازہ کر دیں۔ اس کانفرنس نے یہ پیغام دیا کہ کونسل کی موجودہ قیادت اپنے مرحوم قائدین مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور قاضی حسین احمد ؒ کی حقیقی ورثہ دار ہے اور اس ورثے کی حفاظت کا عہد کئے ہوئے ہے۔

اس کانفرنس میں ایسی مذہبی جماعتوں کے ممتاز قائدین بھی شریک ہوئے، جو ابھی کونسل کا فعال حصہ نہیں ہیں۔ اگرچہ کونسل میں شامل قائدین کی دلی آرزو ہے کہ ملک کی تمام مذہبی جماعتیں اور قائدین اس پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر امت کے اتحاد کا ایک خوبصورت اور طاقتور مظہر بن جائیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جو خود ملک سے باہر تھے، کی نمائندگی کے لیے کانفرنس میں ان کا اعلٰی سطحی وفد شامل تھا۔ جمعیت کے اس وقت کے قائم مقام امیر سینیٹر جناب مولانا گل نصیب اور سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کے علاوہ جمعیت کے آزاد جموں کشمیر کے صدر جناب مولانا یوسف سعید اس کانفرنس میں شریک ہوئے اور انھوں نے خطاب بھی فرمایا۔ 

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ناظم اعلٰی جناب خرم نواز گنڈا پور کانفرنس میں تشریف لائے اور انھوں نے تقریر کی۔ منہاج القرآن کے نمائندہ محترم ڈاکٹر رحیق عباسی نے ملی یکجہتی کونسل کے احیائی اجلاس میں شرکت کی تھی۔ وہ اس وقت منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ناظم اعلٰی تھے۔ مرحوم قاضی صاحب کی خواہش تھی کہ ان کا ادارہ کونسل کی باقاعدہ رکنیت اختیار کرے، البتہ انھوں نے ’’مبصر‘‘ کی حیثیت سے کونسل سے وابستگی اختیار کی۔ ان کے نمائندگان مختلف کمیشنوں کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ اشتراک و تعاون فروغ پذیر رہے گا۔ اس کانفرنس میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سینیئر نائب صدر اور اسلامی نظریاتی کونسل کے محترم رکن جناب مولانا حافظ زبیر احمد ظہیر نے بھی شرکت کی اور حاضرین سے خطاب فرمایا۔ وفاق المدارس العربیہ کے ناظم اعلٰی جناب قاری محمد حنیف جالندھری بھی شریک ہوئے۔ وہ اپنے بیرون ملک کے دورے سے واپسی پر سیدھا اسلام آباد پہنچے، تاکہ اس کانفرنس میں شریک ہوسکیں۔ دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم ممتاز عالم دین، وفاقی شرعی عدالت کے سابق جج مولانا مفتی محمد تقی عثمانی بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔

کانفرنس میں افواج پاکستان کی سابقہ قیادت کے نہایت اہم ارکان بھی شریک ہوئے، جن میں سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل، آئی ایس آئی کے ایک اور سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی اور جنرل (ر) عبدالقیوم شامل ہیں۔ پاکستان کی مختلف ممتاز یونیورسٹیوں کے نامور اساتذہ کرام اور دانشور بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ ان میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر، پروفیسر دوست محمد، پروفیسر ڈاکٹر شہتاز احمد، پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد، پروفیسر عبدالخالق سہریانی اور جناب عبدالرحمن شامل ہیں۔ ان اساتذہ کرام کا تعلق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سرگودھا، پشاور یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں سے ہے۔ ان کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن جناب ڈاکٹر محسن مظفر نقوی، تحریک اتحاد امت کے سربراہ مولانا پیر سید چراغ الدین، جمعیت مشائخ اہل سنت کے ناظم اعلٰی پیر سید اشتیاق حسین شاہ، جامعہ نعیمیہ اسلام آباد کے مہتمم مفتی گلزار احمد نعیمی، متحدہ علماء محاذ کے سیکرٹری جنرل محمد سلیم حیدر اور جمعیت اتحاد العلماء کے مولانا سید قطب بھی زیب محفل تھے۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذمہ داران سے بھی مخفی نہ تھا کہ ’’عالمی اتحاد امت کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ دوسری عظیم کانفرنس امت اسلامیہ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز، قومی اخبارات اور قومی نیوز ایجنسیوں کے اہم نمائندگان کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کے مختلف نمائندگان بھی اس اہم ایونٹ کی کوریج کے لیے موجود تھے۔ ان میں اپنا نیوز، ڈان نیوز، ایکسپریس ٹی وی، روزنامہ ریاست، روز ٹی وی، آج ٹی وی، سماء ٹی وی، آر این اے، اقرا نیوز، ابتک ٹی وی، ثنا نیوز، نیوزون، روزنامہ جسارت، رائل ٹی وی، ڈیلی ٹاک، پرائم نیوز، اے آر وائی، میٹروواچ، روزنامہ الشرق، روزنامہ جہان پاکستان، روزنامہ آج، وش نیوز، سچ نیوز، دنیا نیوز، روزنامہ دنیا، ایشیا ٹوڈے، جیو نیوز، العالم ٹی وی، بزنس ٹائم، ڈیلی فرنٹیر، روزنامہ اوصاف، روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ نئی بات، اے این این، اسلام ٹائمز، اے پی پی، ارنا، پی پی آئی اور دیگر بہت سے اداروں کے نمائندگان شامل تھے۔

کانفرنس میں جموں و کشمیر کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس میں ایران اور افغانستان کے مہمانوں نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ایران سے آیۃ اللہ العظمٰی شیخ ناصر مکارم شیرازی کے دو رکنی نمائندہ وفد نے شرکت کی۔ وفد کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر علی زادہ موسوی تھے اور ان کے ہمراہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید محمود وزیری تھے۔ دونوں نمائندگان نے مختلف نشستوں میں حاضرین سے خطاب فرمایا۔ افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے حزب اسلامی افغانستان کے بین الاقوامی امور کے انچارج اور ترجمان ممتاز دانشور ڈاکٹر غیرت بہیر نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ بعض دیگر اسلامی ممالک کے نمائندگان کی شرکت بھی متوقع تھی، تاہم ان کی طرف سے خیر سگالی کے جذبات اور پیغامات کے ساتھ معذرت کا پیغام موصول ہوا۔

ملی یکجہتی کونسل کی رکن جماعتوں کی مختلف سطح کی قیادت نے اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کی۔ پاکستان کے چاروں صوبوں، شمالی علاقہ جات، فاٹا اور آزاد جموں و کشمیر سے مذہبی قیادت کی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ علماء اور دانشوروں کے علاوہ اس کانفرنس میں مشائخ اور صوفیائے کرام کے آستانوں کے سجادہ نشین حضرات کی شرکت بھی نمایاں تھی۔ ان میں سے دیگر کے علاوہ حضرت پیر نورالحق قادری بھی رونق محفل تھے۔ انھوں نے حاضرین سے خطاب بھی کیا۔ یاد رہے کہ ملی یکجہتی کونسل میں مشائخ کرام کی متعدد تنظیمیں بھی بطور رکن موجود ہیں۔ کونسل میں ان کی شرکت ملک بھر میں فعال طور پر دکھائی دیتی ہے۔

ملی یکجہتی کونسل میں پاکستان میں موجود تمام مکاتب فکر کی نمائندہ تنظیمیں موجود ہیں اور ان کا یہ اجتماع اس امر کا اعلان ہے کہ مسالک کے کچھ فروعی اختلاف اور تعبیر کے کچھ فرق کے باوجود یہ تمام مسالک ایک امت کا حصہ ہیں اور ایک دوسرے کو امت اسلامیہ کے مختلف رنگوں اور تعبیروں کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ سب کو امت محمدیہؐ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ایک دوسرے کی جان، مال اور آبرو کی حرمت کے قائل ہیں۔ سب شدت پسندی اور تشدد سے بیزار ہیں۔ سب مسلمانوں کے خلاف تکفیری روش سے اعلان برأت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اتحاد امت کانفرنس میں جو ایک آدھ بات ملی یکجہتی کونسل کے مقاصد سے ہٹ کر کہی گئی، اسے نہ فقط پذیرائی حاصل نہ ہوئی بلکہ اس سے اجتناب کی دعوت دی گئی۔ کانفرنس کے نہایت مفید اور مثبت اثرات کا دائرہ پھیلتا چلا جا رہا ہے، جو یقینی طور پر خود کونسل کے دائرے کی وسعت اور اس کے پیغام کی مزید پذیرائی پر منتج ہوگا اور امتِ اسلامیہ کی سرحدوں کے اس پار بھی اس کا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مثبت پیغام جائے گا۔ ان شاءاللہ

تحریر: ثاقب اکبر

نوشته شده در تاريخ سه شنبه شانزدهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

جامعه روحانیت بلتستان کے ایک وفد نے جامعة المصطفی العالمیه کے وائس چانسلر حضرت آیت الله اعرافی سے ملاقات کی ملاقات میں طلاب کے مختلف مسائل اور مشکلات کو بیان کیا اور بلتستان میں مدارس کو زیاده فعال بنانے کی ضرورت اور جامعة المصطفی میں بلتستان کے طلاب کی تعلیمی مشکلات کے حل پر زور دیا۔

آیت الله اعرافی نے فرمایا جامعه روحانیت بلتستان ایک عظیم، گرانقدر  اور وزین اداره هے اور آپکی فعالیتوں کو دیکھ کر دل کو سرور آتا هے آپکی فکری اور ثقافتی سرگرمیاں اور اجتماعی پروگراموں  کا جامعة المصطفی استقبال کرتا هے۔
آپ نے فرمایا نئے آنے والے طلاب کو راهنمائی کرتے هوئے ان سے بھی انکی مهارتوں کے مطابق استفاده کریں آپ نے وحدت پر زور دیتے هوئے فرمایا شیعه سنی کے درمیان اختلاف ایجاد کرنے والے عناصر پر کڑی نظر رکھیں آپ نے جامعه روحانیت کی طرف سے پیش کرده مشکلات کو بھی اسرع وقت میں حل کرنے کی یقین دهانی کرائی۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه شانزدهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری
 
 
 
جنرل سیکرٹری جامعہ روحانیت بلتستان حجت الاسلام والمسلمین مشتاق
 حسین حکیمی نے جی بی میں ہونیوالے عام انتخابات کے بارے میں
جامعہ روحانیت بلتستان کا موقف بیان کیا اور آئنده الیکشن کے حوالے سے
اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر زور دیا۔
 

نوشته شده در تاريخ پنجشنبه یازدهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری


بعد از ترویج و گسترش اسلام به دست مبلغان نخستین بالخصوص میر شمس الدین عراقی بت شكن كه در مدتی كه در بلتستان اقامت داشتند مساجد و خانقاه های زیادی ساخته شد و اسلام در این منطقه گسترش یافت. و بعد از آنها مبلغانی از ایران و كشمیر به این منطقه آمدند و كار آنها را ادامه دادند و در ترویج دین مبین اسلام تلاش فراوان نمودند. درباره بعضی از آنها توضیحاتی بیان می كنیم.

 شاگردان و مریدان مبلغان نخستین

به همراه میر شمس الدین عراقی در حدود شصت نفر از مریدان او به بلتستان آمده بودندو بعضی از آنها در بلتستان ماندند و كار او را ادامه دادند.

وقتی میر عراقی از بلتستان عازم كشمیر بود راجه بهرام حاكم خپلو از وی خواست كه مریدش ملك حیدر و پسرش اسماعیل را در منطقه بگذارند تا مردم را راهنمائی كنند و مسجد چقچن را كه امیر كبیر سید علی همدانی آن را بنا نموده بود تكمیل نماید. میر آن دو را در منطقه گذاشت و خودش به كشمیر رفت.[1]

میر دانیال شهید

پسر میر شمس الدین میر دانیال نیز مدتی در سكردو بود و وقتی میرزا حیدر دوغلات در كشمیر به حكومت رسید میر دانیال را از سكردو اسیر كرد و به همراه خودش به كشمیر آورد. در این باره دكتر اكبر حیدری كاشمیری در مقدمه كتاب بهارستان شاهی می نویسد: در سال  956‌هجری میرزا حیدر به سكردو رفت و از آنجا پسر بزرگ میر شمس الدین میر سید دانیال را اسیركرد و به همراه خودش به كشمیر آورد و او را یكسال زندانی نمود سپس به قول او به جرم اینكه كلمه شهادت او منافی شرع است در تاریخ 4 صفر 957 هجری به حكم قاضیان دربار قاضی حبیب، قاضی عبدالغفور و قاضی ابراهیم او را به شهادت رساند و دشت كربلا تاریخ شهادت او است. كه جمع آن 957 می باشد. [2]

دكتر كاشمیری در ادامه از زبان مولف بهارستان شاهی كه نا معلوم است و در آن زمان بوده قضیه را بدین صورت نقل می كند:

 میرزا حیدر دست تغلب از آستین تعدی بدر كشید و جماعت محبان اهلبیت رسول علیهم السلام و زمره موالیان علی ولی الله اظهار عداوت بنیاد و غایت بغض و نهایت تعصب كار بدان مرتبه رسانید كه بتخریب و تهدیم خانقاه متبركه امیر شمس الدین امر نمود و دست طغیان بر قتل اهل اسلام و ایمان و سفك دماء ارباب ایقان گشود. و در تاریخ 955 نهصد و پنجاه و پنجم هجری حضرت ریشی را شهید ساختند. در هشتم ذیحجه سنه مذكور كه روز ترویه باشد.

در سال نهصد و پنجاه و ششم هجری تبت رفته حضرت شیخ دانیال را گرفته آورد آنحضرت را قریب یك سال در قید و زنجیر محبوس داشته بانواع تعذیب و ایذاها. قریب هزار و پانصد اشرفی طلا  ازو گرفته آخر از جهت دفع مطاعن و رفع ملاعن عبدالرشید خان در قصد كشتن و صدد قتل آنحضرت افتاد و شیخ فتح الله پیش خود آورده گواهان دروغ و شهود كاذبه از وی طلب نمود و آن مرد نا خدا ترس جست و جو و رشوتها داده جماعتی فساق و ملاحده آورد كه نه در احكام شریعت گواهی ایشان مقبول و نه قواعد مروت اقوال ایشان مسموع بود. ایشان را حاضر ساخته، بعضی از ایشان بر سبب رفض آنحضرت گواه شدند و بعضی بر تزكیه و تنقیه گواهان شاهد شدند. و آنحضرت را در بیست و چهارم ماه صفر سنه نهصد و پنجاه و هفتم هجری بحكم قضات وقت قاضی حبیب، قاضی ابراهیم و قاضی عبدالغفور شهید ساختند.[3]

 

برادران طوسی

از مبلغانی كه در بلتستان در ترویج اسلام نقش مهمی داشته بعد از مبلغان نخستین برادران طوسی هستند. طبق روایات محلی برادران طوسی از شهر طوس ایران به اشاره غیبی امام هشتم حضرت امام علی بن موسی الرضا علیه السلام به این منطقه آمدند و آنها از نسل امام هشتم علیه السلام هستند.

طبق نوشته مولوی حشمت الله خان برادران طوسی (شاه ناصر طوسی و سید علی طوسی) در زمان راجه یبگو سكیم از یارقند به راه سلتورو به منطقه خپلو رسید و در منطقه تهگس[4]  اقامت نمودند و در تبلیغ مشغول شدند. این دو برادر پیرو سید محمد نودبخش بودند. و تعلیمات نوربخشی را ترویج نمودند.[5]

میر نجم الدین ثاقب دربارة ورود آنها می نویسد:

ازان بعد بزرگی از كاشغر           به سال دو تا و یك طا و جیم

بیاید ز راه سلتور همی          برای اشاعت دین كریم

همی كرد تاكید بر امر دین          بتعمیر مسجد بد شوق عظیم

كننده بنای جامع شگر          همی شاه ناصر اسمش كریم

به تحت حكومت چون دبله خان            نمود جلو بر رسم شاه قدیم

آنها در منطقه تهگس یك مسجد بنا نمودند و بعد از تكمیل بنای مسجد این دو برادر به طرف شگر رفتند و در شگر یك مسجد بزرگ بنا نمودند و در ترویج اسلام تلاش فراوان نمودند. و مردم را به احكام و معارف اسلام راهنمائی كردند.

سید ناصر طوسی در محله چهوترون شگر اقامت گزید. او در كوهی كه در بالای محله است مشغول عبادت می شدند . و بعد از مدتی در هماه كوه غایب شد. طبق اعتقاد مردم محلی شاه ناصر در این كوه غایب شده است و مردم برای زیارت این كوه می روند.

سید علی طوسی به سكردو آمد و در این منطقه مشغول تبلیغ شد و در منطقه كواردو[6] اقامت نمود. او در منطقه كواردو یك مسجد بزرگ بنا نمود كه الآن هم این مسجد موجود می باشد.

او در همین منطقه از دنیا رفت و در كنار مسجد دفن شد. و بر قبر او یك مقبره بنا نموده‌اند. كه الآن نیز زیارتگاه مردم هست.

در مقبره وی یك قرآن خطی كه به دست او نوشته شده است موجود می باشد. كه در خط نسخ نوشته شده است. این قرآن به همراه ترجمة فارسی است و در حاشیه نیز تفسیر نوشته شده است.

     بر لوح مزار او تاریخ وفات 1081 هجری مرقوم است.

طبق روایات محلی به همراه شاه ناصر و سید علی طوسی دو برادر دیگر آنها سید محمود طوسی و سید حیدر طوسی نیز به بلتستان آمده اند. سید محمود در سال 1080 هجری در سكردو وفات یافت. و تا امروز آستانه ایشان مرجع خلایق منطقه است.

سید حیدر نیز در منطقه قمراه مقیم شد و در آن دیار از دنیا رفته اند. و آستانه ایشان در این منطقه است.

میر عارف و میر ابو سعید

این دو نفر از اخلاف میر شمس الدین عراقی هستند. این دو نفر بعد از برادران طوسی از كشمیر به بلتستان وارد شده‌اند، همان طور كه میر نجم الدین ثاقب نوشته است.

درود شد به تبت آن بو سعید           كه او اصل سادات به تبت مقیم

بدان ناظم ستوده دو دست         لقب نجم ثاقب بجن رجیم

آنها سال 1715 میلادی از كشمیر به خپلو وارد شدند. میر عارف در تهگس سكونت گزید و آنجا  مسجدی كه برادران طوسی بنا نموده بودند تعمیر و باز سازی نمود و این مسجد امروزه نیز موجود است كه از زیبا ترین مساجد منطقه است. ایشان در این منطقه از دنیا رفت. و آستانه او در كنار مسجد واقع است. و مرجع اهل تهگس و حومه آنست. در سنگ قبر وی تاریخ وفات وی به این شعر ذكر شده است:

تاریخ فوت میر هیمن میر عارف است

میر عارف فرزند پسر نداشت و فقط دختر داشت وقتی پیر شد یكی از فرزندان میر مختار به نام  میر اسحاق را به دامادی خود قبول كرد و با دخترش ازدواج نمود و در تهگس به جانشینی خود گذاشت.

طبق گفته میر واعظ تهگس سید مختار كه خودش نیز از نسل میر اسحاق است به همراه میر عارف از كشمیر به بلتستان آمد چهار خانواده به نام 1- مله وا 2- بنگی وا 3- بنده وا 4 – تهكورپا به همراه ایشان به بلتستان آمدند كه الان نیز اولاد آنها در منطقه زندگی می كنند.

میر ابو سعید در منطقه كریس سكونت اختیار نمود. و در تبلیغ مشغول بود. تا اینكه در سال 1095 هجری در آن دیار وفات یافت.

شاه محسن

از جمله مبلغان ایرانی است كه در سال 1025 هجری از طوس به بلتستان تشریف آورد و در مناطق مختلف بلتستان به تبلیغ دین اسلام پرداخت. شاه محسن معاصر میر ابو سعید و میر عارف است كه در خپلو سكونت اختیار نمود. اطلاعات زیادی از حالات زندگانی ایشان در دست نیست. مزار شریفش در محله گونگمه ستقجی واقع است

میر یحیی و میر مختار

  میر یحیی و میر مختار از فرزندان میر ابوسعید بوده و ظاهرا هنگام ورود میر ابوسعید به بلتستان همراه ایشان بوده اند. هردو در منطقه شگر رفتند و مدتی آنجا مقیم بودند، سپس با توطئة حاكم شگر میر مختار دوباره به كریس بازگشت. ولی میر یحیی در شگر مقیم شدند. میر یحیی هفت خانقاه و چهارده مسجد در شگر بنا كردند.[7]

میر مختار نیز حدود 23 خانقاه و مساجد بیشماری را در مناطق مختلف بنا نمود و مساجد قبلی را باز سازی كرد.[8]

میر مختار یك عالم و دانشمند متبحر و خوش الحان بود كه به سرعت تمام رؤساء و مردم شگر را به دور خود جمع كرد. و محفل و مجلس ایشان چنان رونق گرفت كه دربار حاكم شگر به سردی گرایید و این امر موجب شد كه وزرای او آتش حسادت را نسبت به میر مختار و میر یحیی در دل حاكم فروزان كنند در نتیجه حاكم شگر عزم كرد كه آن دو را به قتل برساند ولی یكی از وزرای او مشوره داد و گفت كه تمام اهالی شگر معتقد و مرید آنها شده‌‌اند و تا آن دو زنده اند به آنها معتقد خواهند بود و نمی توانیم از فعالیتهای تبلیغی آنها جلوگیری كنیم لذا بهترین راه برای كشتن آنها این است كه توسط یك پیر زن آنها را مسموم كنیم. ولی دربان حاكم شگر كه از مریدان آن دو بود جریان را به آنها رسانید لذا هر دو از مركز شگر به محلة چهوركاه فرار كردند. و از قتل نجات یافتند ولی مدتی نگذشت كه حاكم شگر سپاهیان خود را آن جا فرستاد تا آن دو بزرگوار را به قتل برسانند ولی بخواست خدا آن دو بزرگوار از آنجا نیر از قتل نجات یافتند و میر مختار از محل گریخت و میر یحیی مخفی شد. البته سپاهیان حاكم شگر منزل ایشان را كه مردم محلی برای آنها درست كرده بودند، تاراج نمودند و زن و فرزندان را اسیر كرده و دو فرزند میر مختار سید عبدالله و سید باقر را به قتل رساندند. همسر میر مختار كه بیرو رگیلمو نام داشت، را به دربار آوردند. چون از جدائی شوهر و فرزندانش بیقرار و غمگین بود در اثنای نماز در حال سجده جان به جان آفرین سپرد. از عقاب الهی زبان حاكم شگر یك دفعه به بند آمد و قوت گویایی را از دست داد. هر چه  دوا و درمان كردند و طبیب و حكیم برای علاج آوردند فایده‌ای نداشت. مشاوران گفتند كه میر مختار كه فرار كرد ولی میر یحیی هنوز مخفی است شما به  ایشان امان دهید و از كرده خود اظهار ندامت و پشیمانی كنید و از میر یحیی طلب عفو كنید وبرای برگشت قوت گویایی از او درخواست دعا كنید. چنانچه پس از تلاش فراوان میر یحیی را یافتند و از او درخواست نمودند كه به كاخ حاكم تشریف بیاورند و برای صحت یابی او دعا فرمایند. میر یحیی هم طبق دستور قرآن والكاظمین الغیظ والعافین عن الناس به كاخ رفت حاكم شگر نیز از او طلب عفو نمود و عذر خواست و قول داد كه هرگز در راه تبلیغ ایشان مانع نخواهد بود. میر یحیی هم عفو نمود و قوت گویایی او بازگشت. میر یحیی در شگر هفت خانقاه ساخت كه طرز ساخت همه آنها یكسان بود.میر یحیی در شگر وفات نمود و در صحن خانقاه شگر مدفون گشت.

میر مختار نیز به كریس رفت و اهالی كریس از او به گرمی استقبال نمودند. و برای او یك اقامت گاه خوب و یك مسجد بزرگ را احداث نمودند. میر مختار نیز در مناطق مختلف خپلو خانقاه ها و مساجد زیادی بنا نمود و مساجد قبلی را بازسازی نمود.

 میر مختار هیجده فرزند ذكور داشت كه همه در مناطق مختلف بلتستان برای تبلیغ فرستاده شدند. اكثر سادات موسوی بلتستان از نسل میر مختار هستند. میر مختار بر فقه احوط شرحی به زبان فارسی نوشت و سراج الاسلام نام گذاشت، وی در سن 67 سالگی در سال 1131 هجری در كریس وفات یافت. مزارش در كریس هنوز هم موجود است.

میر سید علی رضوی

میر سید علی رضوی متخلص به سید از شعرای برجسته فارسی زبان كشمیر و از علمای معروف است. كه از كشمیر وارد بلتستان شد، علت هجرت از كشمیر معلوم نیت ولی در شعرهای خود از دوری وطن شكایت می كند و در یكی از شعرها صریحا می گوید:

نه بی عقلی و خرد از گلشن كشمیر می آیم      ز پیچاچیچ تقدیر است كه با زنجیر می آیم

سلیمان وار بودم صاحب تخت سلیمانی             بدست دیو خاتم داده و دلگیر می آیم

این اشعار دلالت دارد كه وی صاحب منصب بزرگی بوده و بعدا تبعید شده است، و احتمال دارد كه در اثر زد و خودردهای فرقه‌ای در كشمیر به بلتستان گریخته استف مشهور هم همین است كه وی همراه اجداد سادات حسینی و رضوی در كهرمنگ از كشمیر وارد بلتستان شده است.

می گویند كه میر سید علی رضوی در ابتدا وارد سكردو شد و در گمبه سكردو ماتم سرای(حسینیه‌ای) تاسیس نمود، سپس به كواردو رفت و در آنجا نیز حسینیه‌ای تاسیس كرد.

بعد از آن میر سید علی رضوی به كهرمنگ رفت و از سوی حاكم كهرمنگ به زعامت دینی منطقه منصوب گشت، كه تاكنون اولاد وی منصب پیری(رهبر دینی) خانواده حاكم و چندین منطقه دیگر از قبیل پاری و غندوس را به عهده دارند. میر سید علی در كهرمنگ فرهنگ عزاداری سید الشهدا علیه السلام را ترویج داد. چنانچه خواندن نوحه‌ها و مراثی فارسی و كشمیری به اوج خود رسید، وی روش ویژه عزاداری كهرمنگ امروز نیز در كل منطقه زبان زد عام است و هنوز اشعار كشمیری با ترجمه بلتی در مجالس عزاداری خوانده می شود و تعزیه خوانی و شبیه واقعه كربلا نیز رایج است كه در جاهای دیگر بلتستان دیده نمی شود.

از خدمات دیگر میر سید علی رضوی و اولاد وی كه اكثرا عالم و شاعر بودند این است كه احكام مقدس دین مبین را در منطقه ترویج نمودند، بطوریكه در مناطق تحت نفوذ آنها در كهرمنگ حتی نواختن آلات موسیقی تاكنون ممنوع است.

در این رابطه داستانی بر سر زبان ها است كه: وقتی میر سید علی رضوی وارد منطقه شد حاكم كهرمنگ در محل ورزشگاه شغرن(استادیوم) مشغول چوگان بازی بود و نوازندگان وی را تشویق می كردند، میر ناراحت شد، حاكم كهرمنگ علت را پرسید، وی گفت:از امروز نواختن آلات موسیقی را ممنوع اعلام نماید و در محل ورزشگاه حسینیه‌ای تاسیس نماید، چنانچه حاكم اعلام كرد اسب محبوب خود را در محل تاسیس حسینیه قربانی كنند. پای این اسب در حسینیه مذكور در روز عاشورا تا الآن به نمایش گذاشته می شود. گفته می‌شود حسینیه شغرن از نخستین حسینیه های بلتستان است.

میر سید علی رضوی خطاط چیره دستی بود، بیاض اشعار وی پر از نوشته هایی از خط شكسته، نستعلیق و نسخ است. نكاح نامه عبدالعظیم خان حاكم كهرمنگ همراه فخرالنساء بیگم دختر رفیع خان حاكم سكردو به دست وی نوشته شده است.

درباره تاریخ تولد یا وفات میر سید علی رضوی مدركی در دست نیست ولی روی مهر وی تاریخ 1135 دیده می شود و بر صفحه مشق خطی كه بنام سعادت خان پسر عظیم خان نوشته شده 1157 هجری ثبت گردیده است. و در یكی از اشعار خود به پیری اشاره نموده و گفته است:

سی گذشت و چل گذشت و شصت آمد بر سرم

ساده لوحی بین چو طفلان شاد و خندانم هنوز

میر سید علی رضوی از علمای شیعه بوده و ترویج مذهب تشیع در بلتستان بویژه كهرمنگ سعی فراوان نموده است. خطبه نكاح عبداالعظیم خان حاكم كهرمنگ و نسخ خطی بعضی از متون فقهی شیعه كه بدست وی نوشته شده است.گویای این مطلب است. و بعد از او علمای آل میر سید علی مانند سید محمد رضوی، سید احمد شاه رضوی و سید محمود شاه رضوی معروف است. كه به علاوه بلتستان در كرگل نیز تبلیغ دین مبین نموده است.

میر نجم الدین ثاقب

میر نجم الدین ثاقب فرزند میر جلال الدین و نوه میر مختار است و از بزرگترین نوه‌های میر مختار بشمار می رود. وی تنها فرزند میر جلال الدین است. پس از شهادت میر جلال الدین پدر بزرگش میر مختار بهوی عنایت  توجه خاص نمود و علوم ضروریه را به وی آموخت. چند سال بعد از حادثه شگر مردم آن منطقه از میر مختار نیز بدون نظر به بی وفائیهای گذشته اهالی شگر سید نجم الدین ثاقب و سید ابوالحسن را به شگر اعزام نمودند.

بعد از این زمان نیز مبلغانی از ایران به این منطقه برای تبلیغ دین مبین آمدند كه اسامی بعضی از آنها در ذیل ذكر می شود. و درباره احوالات آنها تفصیلات در دست نیست.

 سید ابوالعلی  تحسین

         وی به همراه پدرش از كشمیر به بلتستان آمد. وی یك عالم برجسته و شاعر بزرگ بود دیوان وی كه به نام دیوان تحسین است كه تنها نسخه خطی آن در منطقه خپلو در كتابخانه شخصی آقای غلام حسن حسنو سهروردی موجود است. كه در آن اشعار عرفانی، اخلاقی،تاریخی و درباره منطقه بلتستان و تاریخ آن می باشد.

 آیة الله بحرالعلوم

وی در منطقه باشه شگر در محله تهورگو سكونت اختیار نموده بود و در همین منطقه از دنیا رفت.

 آیة الله شیخ محمد رضا تهرانی

 آیة الله شیخ علی كاشف الغطاء

قبر وی در منطقه شگر خاص می باشد.

نقش علمای محلی در تبلیغ و گسترش اسلام

در ترویج دین مبین اسلام در بلتستان بعد از علما و مبلغینی كه از خارج بلتستان آمده بودند علما محلی و بومی بلتستان نقش بسزائی را ایفا نموده‌اند. خصوصا بعضی از آنها زحماتی فراوانی را متحمل شده اند كه به خاطر زحمات آنها در بلتستان اگرچه اسلام در قرن هشتم میلادی گسترش یافت اما نسبت به مناطق و شهرهای دیگر اسلام به طور كامل و صحیح رایج شد و به آن عمل می‌شد. حتی مردم عادی و بی سواد نیز از احكام دینی با خبر هستند. در ذیل نام بعضی از علمای برجسته بلتستان را ذكر می كنیم:

1- آیة الله شیخ جواد ناصر الاسلام:

در حوزه علمیه نجف اشرف تحصیل علم نموده و بعد از تحصیل علوم آل محمد به منطقه برگشته و در راه بازگشت در تهران مدتی در دربار قاجاریه بودند و بعد در منطقه بلتستان رفته و مشغول تبلیغ شدند.

2- آیة الله شیخ علی غروی برولمو:

3- سید محمود شاه رضوی:

ایشان علاوه بر تبلیغ در بلتستان در كرگیل نیز تبلیغ نمودند و هزاران نفر از نوربخشیهای پوریك به دست وی مذهب شیعه قبول كردند.

4- سید محمد رضوی

5- سید عباس موسوی شگر

6- سید مرتضی موسوی كندوس

7- سید شاه عباس موسوی خپلو

8- سید حسن موسوی

9- شیخ غلام محمد غروی

    10- شیخ حسن مهدی آبادی

11- سید عون علی عون المومنین

12- سید علی ممتاز خپلو

13- شیخ غلام حسین كواردو

14- شیخ محمد جو

13- شیخ محسن علی نجفی

14- شیخ علی مدبری

15- سید علی موسوی

16- شیخ محمد حسن جعفری


[1] - تحفة الاحباب، ص 381

[2] - دكتر اكبر حیدری كاشمیری، تاریخ كشمیر بهارستان شاهی، انجمن شرعی شیعیان جمون و كشمیر، اول، 1982، ص 122، 123

[3] - دكتر اكبر حیدری كاشمیری، پیشین، ص 123

[4] - تهغس(Thaghas)

[5] - مولوی حشمت الله خان، پیشین، ص 592

[6] - Kwardu

[7] - دكتر نعیم غازی، پیشین، ص 185
[8] - غلام حسن حسنو سهروردی، پیشین، ص 120 ش


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه یازدهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری


در ترویج دین مبین اسلام در بلتستان حاكمان محلی بلتستان نقش بسزائی را ایفا نموده‌اند. و با مبلغان نخستین و علماء محلی همكاری نزدیكی را انجام داده‌اند. در ذیل به چند نمونه آن اشاره می كنیم:

1– زمانی كه امیر كبیر سید علی همدانی وارد خپلو شد حاكم وقت خپلو یبگو مقیم خان به استقبال ایشان رفته و دین مبین اسلام را قبول كرد. و به همراه او همة مردم منطقه نیز مشرف به اسلام شدند.[1]

2- وقتی میر شمس الدین عراقی بت شكن از كشمیر به بلتستان آمد حاكم سكردو بطور رسمی از ایشان استقبال نمود. و در ترویج دین مبین اسلام به ایشان كمك فراوانی نمود.

3- دربارة حاكم معروف و مشهور خانواده مقپون سكردو در قرن یازدهم هجری علی شیر خان انچن[2] واقعات مختلفی را نقل نموده اند از جمله آنها یكی اینكه زمانی كه وی لداخ را فتح نمود از سپاه خود تعداد زیادی را در مناطق مختلف لداخ قرار داد تا در این مناطق به تبلیغ اسلام مشغول شوند.[3]

و بعد از آن نیز تعداد زیادی دیگر از علمای محلی بلتستان را به لداخ اعزام نمود.

4- یكی دیگر از حاكمان سكردو بنام عبدال خان معروف به آدم خوار[4] دختر خود را به عقد والی هنزه راجه عیاشو در آورد و برای او شرط گذاشت كه خود او و تمام مردم تحت ریاست وی مسلمان شود. چنانچه وی این شرط را قبول كرد و خود به همراه تمام مردم هنزه مشرف به اسلام شدند. و از بلتستان مبلغان را به این منطقه دعوت كردند و آنها در این منطقه اسلام را ترویج نمودند.[5]

5- یكی دیگر از حاكمان مقپون سكردو بنام شاه مراد خواهر خود را به ازدواج حاكم سورو كرتسه بنام كهری نمگیال در آورد و به او شرط كرد كه او مسلمان شود و او نیز اسلام را قبول كرد. شاه مراد به همراه خواهر خود جمعی از علمای محلی را به سورو فرستاد و آنها نیز در این منطقه به تبلیغ اسلام پرداختند. و با تبلیغ آنها تعدادی قابل توجه از مردم سورو مشرف به اسلام شدند.[6]

از این واقعات معلوم می شود كه حاكمان بلتستان بالخصوص حاكمان مقپون سكردو در ترویج و استقرار اسلام در بلتستان خدمات زیادی انجام داده اند.

6- حكام كهرمنگ در ترویج احكام اسلامی و گسترش فرهنگ عزاداری سید الشهداء علیه السلام نقش مهمی ایفا كردند،‌چنانچه میر سید علی رضوی از علمای كشمیر وارد كهرمنگ شد شرط نمود كه نواختن آلات موسیقی را ممنوع اعلام كند و در ورزشگاه چوگان حسینیه تاسیس نماید، حاكم دستور داد اسب چوگانش را قربانی كنند و در محل قربانی حسینیه تاسیس نمایند، سپس میر سید علی رضوی را به زعامت دینی انتخاب كرد و زمینه تبلیغ و ارشاد را برای وی فراهم نمود.

بعلاوه این حاكمان بلتستان برای علما و آخوندهای محلی در مناطقی كه آنها مشغول تبلیغ هستند ملك و زمین می دادند و الان هم در مناطق مختلف اولاد آنها زندگی می كنند. و نزد آنها اسناد و مداركی كه دلیل بر ملكیت آنها بر این اراضی هستند موجود می باشد. بنده خودم در منطقه تهگس نامه حاكم خپلو به فرزندان میر اسحاق كه اراضی منطقه تهگس را به آنها بخشیده بود دیدم كه نزد آقای سید مختار موسوی میر واعظ و خطیب جمعه این منطقه نگهداری می شود.

[1] - میر سید علی همدانی، ص 32

[2] - علی رائی

[3] -  مولوی حشمت الله خان ، پیشین، ص 400

[4] - می زوس

[5] - حاجی قدرت الله بیگ، تاریخ هنزه، حافظ شفیق الرحمن، اول 1980ص 99

[6] - مولوی حشمت الله خان ، پیشین، ص 616




طبقه بندی: تاریخ بلتستان،


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه یازدهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

مذهب اهل سنت نخستین بار توسط یك عالم حنفی به نام ملا محمد عمر سمرقندی معروف به ملا پشاوری حدود سال های 1890 تا 1900 از راه منطقه چهوربت وارد بلتستان شد. بعضی او را اهل بلتستان می داند و می گویند كه او از بلتستان برای تحصیل علم به پشاور رفته بود. و بعد از تحصیل علم به منطقه بازگشت و در دوران تحصیل در مدرسه اهل سنت این مذهب را اختیار نموده بود.[1]
ولی در اصل وی اهل پشاور بوده و برای تبلیغ مذهب اهل سنت به بلتستان آمده بود. ملا پشاوری در ترویج مذهب اهل سنت بسیار كوشید و تاثیر زیادی در این زمینه گذاشت. وی برای جلب توجه مردم منطقه كه شیعه و محل اهل بیت علیهم السلام بوده است نام خود را عوض كرده و خود را در بلتستان با نام محمد حسین معرفی نمود. در بلتستان برخی از ملاهای محلی از او كسب علوم دینی نموده اند. از نوربخشیها ملا خلیل و عبدالرحیم نخستین مریدان وی به شمار می روند. بعلاوه این دو نفر قربان علی از چهوربت و سلطان علی از دغونی شاگرد وی بودند. این دو نفر مذهب حنفی را قبول كردند. سلطان علی برای ادامه تحصیل به هندوستان رفت و در آنجا مذهب اهل حدیث را قبول كرد و سند فارغ التحصیلی را دریافت كرد. و به بلتستان برگشت. از همین جا فعالیت وهابیها در بلتستان شروع می‌شود آنها تا مدتی به صورت اهل سنت فعالیت كردند. و بعدا به دو گروه اهل سنت و اهل حدیث تقسیم شدند. و اهل حدیث نسبت به اهل سنت بیشتر توانستند در منطقه نوربخشی ها را به طرف خودشان جلب كنند. و در مناطقی از بلتستان تعداد قابل توجهی را وهابی نمودند.

طبق نوشته آقای حسین آبادی شاعر معروف بلتستان بوا عباس علیه الرحمه و بوا جوهر مرحوم نبز از شاگردان ملا پشاوری بوده اند.[2]

پس از ملا پشاوری و قربان علی و سلطان علی تبلیغات اهل سنت اعم از سنی و وهابی توسط مبلغان شبه‌قاره و فارغ التحصیلان مدارس عربیه شبه‌قاره ادامه پیدا كرد. آنها تعدادی از نوربخشی‌ها را به مذهب اهل حدیث در آوردند. بالخصوص در خپلو جمعیت منطقه یوگو صد درصد و جمعیت غواری هشتاد درصد اهل حدیث هستند. بعلاوه این در مناطق دیگر خپلو مانند كریس، خپلو ، چهوربت و در شگر در منطقه وزیر پور تعداد قابل توجهی از مردم مذهب وهابی قبول نموده‌اند.

نام برخی از علمای اهل حدیث كه فارغ التحصیل مدارس شبه‌قاره هستند از این قرار است.

مولانا سید ابوالحسن، مولانا رضاء الحق، حافظ محمد موسی، مولانا عبدالرحیم، مولانا عبدالحق، مولانا محمد قمر، مولانا عبدالرحیم كورو، مولانا عبدالكریم سكسه.

ترویج و گسترش مذهب اهل سنت ادامه داشت و نوربخشی ها یكی بعد از دیگری مذهب خودشان را ترك می كردند و به مذهب اهل حدیث در می آمدند. تا آنكه از سوی مولوی عبدالحق تبتی در سال 1342 هجری كتابی بنام تحفة تبت مبنی بر كافر، زندیق و ملحد بودن تمام نوربخشی ها نوشته شد و در آن از فتوای علمای اهل سنت هند بر علیه نوربخشی ها را جمع آوری كرد. و آن را در هند چاپ نموده و در بلتستان تقسیم نمود. كتاب چنان برای نوربخشیها آزار دهنده بود كه دیگر تبدیل مذهب از سوی نوربخشیها متوقف شد و نوربخشیها را نسبت به اهل سنت و اهل حدیث بسیار بد ظن كرد.[3]

در اصل وهابی ها وقتی دیدند كه نوربخشی ها متمایل به وهابیگری هستند می خواستند كه با انتشار این كتاب همه نوربخشی ها را یكباره به وهابی تبدیل كنند. ولی این كار نتیجه منفی و برعكس را داد و وهابی ها كلیه نسخه‌های این كتاب را كه در آن زمان قیمت یك جلد آن دوازده و نیم پیسه( معادل 193 تومان)  بوده است از مردم به قیمت 500 روپیه(8000 تومان) جمع آوری نمودند.

البته این توقف تبدیل مذهب از سوی نوربخشی ها برای مدت كوتاهی باقی ماند. سپس در اثر تبلیغات زیاد و تحریص فراوان اهل سنت و اهل حدیث به نوربخشی ها باز تبدیل مذهب شروع شد. تا حال ادامه دارد. وهابی‌ها شیوة جذب نوربخشی ها را عوض كرده‌اند. امروزه وهابی ها بچه‌های فقیر نوربخشی را به مدارس خود برای تحصیل می برند. در آن مدارس آنها را تربیت می كنند كه نتیجة آن در بلتستان الان دیده می شود كه درباره آن در فصل اول مختصرا بیان شده است.

راه دیگر جلب نوربخشی ها از طریق كمك‌های مالی و رفاهی است. كه بعلت مشكلات اقتصادی مردم به طرف وهابیگری گرایش پیدا می كنند.

وهابی ها در بلتستان در منطقه غواری خپلو یك دارالعلوم بزرگ ساخته‌اند كه در آن حدود 1200 نفر طلبه پسر و حدود 500 نفر طلبه دختر مشغول تحصیل هستند. در این دارالعلوم اساتید برجسته و فارغ التحصیل از دانشگاه مدینه و الازهر تدریس می كنند. غیر از این دارالعلوم در مناطق سكردو، مركز خپلو، كریس، چهوربت و وزیر پور شگر نیز مدارس وهابی ها فعال هستند.

غیر از مدارس موسسات وهابی‌ها در بخشهای اقتصادی و علمی و فرهنگی مشغول فعالیت هستند. از جمله آنها مركز اسلامی سكردو است. و در منطقه غواری یك گاوداری بزرگ دایر است كه محصولات لبنی آن در شهر سكردو فروخته می‌شود. 

[1] - یوسف حسین آبادی، پیشین، ص 27

[2] - همان

[3] - غلام حسن حسنو سهروردی، پیشین، ص 153


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه یازدهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری


مبلغان اسلامی وقتی به منطقه بلتستان آمدند بر فرهنگ این منطقه تاثیرات زیادی گذاشتند و اثرات و یادگارهای فراوانی را از خود بجا گذاشتند. كه از همه مهمتر دین مبین اسلام است كه تا امروز در این دیار باقی است. در ذیل آثار مبلغان را در منطقه بلتستان ذكر می كنیم.

 

الف- آثار معنوی

بزرگترین میراثی كه این مبلغان اسلامی ایرانی و فارسی زبان برای مردم بلتستان بجا گذاشتند اسلام ناب محمدی بود كه عبارتست از همان تعلیمات و معارف ظاهری و باطنی اهل بیت عصمت و طهارت علیهم السلام، از آن زمان تا امروز مردم این میراث جاویدان را در اختیار دارند. و بحمدالله امروز اكثر مردم بلتستان محب اهل بیت عصمت و ولایت علیهم السلام هستند. بطوریكه بلتستان گاه با نام ایران صغیر یاد می شود بخاطر اینكه اكثریت مردم بلتستان عاشقان و پیروان مكتب اهل بیت علیهم السلام هستند. آنها در شادی آنها شاد و در غم آنها غمگین و در ایام ولادت آنها جشن عید و در ایام شهادت آنها مجالس عزاداری برگزار می كنند.

 مبلغان نخستین مكتب اهل بیت علیهم السلام را در بلتستان ترویج دادند. مبلغان بعدی این مكتب پاك ومقدس را كه مبلغان نخستین آورده بودند در بلتستان تداوم بخشیدند. اهداف آنها یكی بود آن اشاعه و ترویج مكتب اهل بیت علیهم السلام در بلتستان بود. و در این راه خداوند متعال آنها را موفق و كامیاب كردند. این مبلغین چنانچه قبلا نیز بیان شد مذهب شیعی داشتند و مذهب شیعه را در منطقه گسترش دادند ولی بعدا بعلت بعضی از افراد مغرض شیعه ها را تقسیم نمودند.

هر چند برخی از نویسندگان معاصر نوربخشی این حقیقت را نمی خواهند قبول كنند و این مطلب را رد می كنند. و می گویند كه مذهب شیعه در بلتستان بعد از ورود اهل سنت به بلتستان توسط شیخ جواد ناصر الاسلام رواج یافته است. در حالی كه تشیع از قرن‌ها در بلتستان ریشه داشته است و ما چندین مورد را به عنوان دلیل ذكر می نمائیم.:

1- یكی از دلایل وجود تشیع در بلتستان گفتار قاضی نورالله شوشتری است كه در مورد تبت می نویسد:

تبت نام دو ولایت است قریب به كشمیر یك را تبت كبیر گویند ..................  دیگری را تبت صغیر می گویند. و در سنه الف میر علی رای كه الحال حاكم تبت است بتوفیق الهی تبت كبیر را تسخیر نموده ................ و همگی از حاكم و سپاهی و رعیت شیعه امامیه با اخلاص اند. غلو ایشان د رتشیع بمرتبه ای است كه اگر احیانا سنیان كشمیر به آنجا می روند ار ایشان جزیه می گیرند. و آنكه در جوار پادشاه عظیم الشان هندوستان وقع اند خطبه به نام نامی پادشه عالیجاه ایمان كلاه ایران سریر صفویه موسویه انارالله برهانهم الجلیه می خوانند.[1]

2- دیگر اینكه صاحب كتاب معروف المنجد در كتاب اعلام خودش درباره بلتستان می نویسد: كورة جبلیه واقعة علی حدود الهند الشمالیه الغربیه جبالها و مثالجها من اعظم جبال و مثالج العالم و سكانها شیعیون.[2]

3- دكتر برنئیر سیاح و نویسنده اروپائی كه در زمان اورنگ زیب پادشاه هند به این كشور سفر كرده بود و در دربار پادشاه بود كه از سكردو حاكم این منطقه ( تبت خورد) شاه مراد در دربار پادشاه هند حاضر شد. یك شب یكی از منصب داران دربار به نام دانشمند خان، شاه مراد را دعوت كرد. آنجا دكتر برنئیر نیز حاضر بود از وی درباره آنجا( تبت خورد) سوال نمود كه مردم آن چگونه است؟ شاه مراد به ایشان جواب داد: مردم تبت خورد قبلا همه غیر مسلمان و بت پرست بوده اند ولی الان اكثریت آنها مسلمان شده‌اند و او خود ( شاه مراد) و همه مردم از فرقه شیعه تعلق دارند كه مذهب مردم ایران است.[3]

4- مولوی حشمت الله خان درباره مسلمانان گیلگت می گوید كه در زمان علی شیر خان انچن (1595-1633) و نوه های او شیرشاه و علی شاه و شاه مراد(1660-1710) به گیلگت حمله كردند و به این وجه با گیلگت رابطه برقرار شد. و حاكم گیلگت میرزا خان تحت تاثیر آنها قرار گرفت و مذهب شیعه را اختیار نمود و به این صورت در گیلگت مذهب شیعه گسترش یافت. و در زمان های بعدی مذهب شیعه در گیلگت رونق چشمگیری یافت. خود میر شمس الدین عراقی به گیلگت نرفته است ولی از بلتستان وقتا فوقتا به گیلگت علما می رفتند. در گیلگت الآن دو مذهب شیعه و اهل سنت رائج است. و در نگر همه مردم شیعه هستند.[4]

5- محمد قاسم فرشته در تاریخ خود درباره مردم بلتستان می نویسد: حاكم تبت كوچك خیلی زیاد غلو می كند كه او حكم داده است كه هر كه بر اصحاب كبار تبری نجوید نمی نگذارند در شهر داخل شود.[5]

6- از آثار خطی و آداب و رسوم رایج در بعضی از خانواده‌های علمی از جمله سادات كهرمنگ چنین به نظر می‌رسد كه تشیع از صدها سال رواج داشته است، بویژه از دوره صفویه به بعد در حدود 400 سال است كه علماء، دانشمندان و شعرای شیعه در ترویج احكام اسلامی و علوم آل محمد علیهم السلام نقش بسزایی داشته‌اند، از جمله این آثار نكاحنامه عبدالعظیم خان حاكم كهرمنگ همراه فخرالنساء بیگم دختر رفیع خان حاكم سكردو كه به دست میرسید علی رضوی به روش شیعه خوانده و نوشته شده است و دال بر این است كه هر دو حاكم شیعه بوده‌اند.

[1] - قاضی نورالله شوشتری، پیشین، ج1،ص118

[2] - المنجد، اعلام، ص

[3] - برنئیر كا سفرنامه هند،

[4] - مولوی حشمت الله خان، پیشین، ص 595

[5] - محمد قاسم فرشته، تاریخ فرشته، شیخ نیاز احمد،ترجمه اردو، عبدالحق خواجه ایم ای،  لاهور، اول، ج 2، ص 935


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه یازدهم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری



شب عاشور خیموں کے لُٹنے، چادروں کے چھننے اور سید سجاد علیہ السلام کی علالت کو آپ ؑ نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ تک کے تمام مظالم کو سر کرنے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔ کربلا کے پیغام رسانوں، مقصد امام حسین ؑ کی پہچان کرانے والوں اور روداد غم سنانے والوں میں آپ سید سجاد (ع) اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔ وگرنہ یزید نے یہ ٹھان لیا تھا کہ حسین علیہ السلام کے مقصد کو کربلا میں ہی دفن کر دیا جائے، مگر ان حضرات نے قیام حسینی کے مقصد کو اپنے خطبوں اور غم کی روداد میں کوہ بہ کوہ اور قریہ بہ قریہ کچھ اسطرح سنایا اور پہنچایا کہ یزید اور یزیدی قصر کی اینٹ سے اینٹ بجنے لگی اور یزیدیت کو تا دم حشر لائق نفرت بنا دیا۔
مخزن علم اہلبیت، باقر العلوم علیہ السلام

ترتیب و تنظیم: این ایچ حیدری

ماہ رجب 57ء کی پہلی تاریخ تھی، جب آسمانِ ولایت و امامت کا پانچواں آفتاب نمودار ہوا۔ جسکی روشنی سے سارا مدینہ منور ہوگیا۔ اس امر میں بھی شاید خاص امر الہٰی پوشیدہ ہو، کہ پانچ اور سات جسکو ملانے سے 57 بنتا ہے۔ آپ سلسلہ امامت کے پانچویں امام اور سلسلہ عصمت کے ساتویں معصوم ہیں۔ آپ (ع) کی عمر مبارک 57 برس ہوئی۔ جس سے آپکی سن ولادت اور عمر مبارک کو یاد رکھنا کافی آسان ہے۔ اسم گرامی الہامِ خداوندی اور پیش نہادِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محمد قرار پایا۔ یوں سلسلہ عصمت اور بعدِ رسول آپ (ع) پہلے ہمنام محمد ہیں۔ آپ (ع) اپنے فرزند ارجمند امام جعفر صادق علیہ السلام کی نسبت سے ابوجعفر مشہور ہوئے۔ علم و دانائی اور شائستہ بیانی نے اپنے متاثرین کو باقر العلوم لقب دینے پر مجبور کیا۔ باقر العلوم کا مطلب علم کی دیوار میں شگاف ڈالنے والا۔ کیونکہ آپ (ع) نے اسرار رموزِ علوم و فنون کو اس قدر وسعت دی اور انکی کچھ اسطرح تشریح کی، کہ تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی۔ حد یہ ہے کہ عالم اسلام کے بڑے بڑے علماء و مفکرین بھی آپ کے خرمن علم کے خوشہ چینوں میں تھے اور آپ (ع) کے علم و دانش سے خوب فائدہ اٹھایا۔ تو گویا آپ (ع) نے درِ علم نبی کی واضح مثال و مصداق قائم کیا۔ آپ (ع)‌ کے والد ماجد حضرت امام زین العابدین ؑ اور والدہ ماجدہ جناب فاطمہ بنت الحسن (ع) تھی۔ لہذا آپ (ع) کو یہ شرف حاصل ہوا کہ آپ (ع) کے والد، دادا، نانا، بیٹا اور پوتا امام تھے۔ تاریخ میں آپ (ع) سے متعلق جن مشہور واقعات کا ذکر ملتا ہے، اُن میں سے چند ایک قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

آپؑ ابھی کمسن ہی تھے کہ کھیل کود کے دوران گھر کے کنویں میں گرگئے۔ والدہ محترمہ یہ دیکھ کر رونے لگیں اور امام سجاد ؑ کو آواز دی۔ امام سجاد ؑ اُس وقت نماز میں مشغول تھے آپ نے بیٹے کو کنویں سے نکالنے کی بجائے آرام سے اپنی نماز جاری رکھی اور نماز ختم کرنے کے بعد آکر اپنے بچے کو کنویں سے نکالا، یہاں تک کہ امام باقر علیہ السلام کا لباس تک تر نہ ہوا اور صحیح و سالم باہر آ گئے۔ امام سجاد ؑنے فرمایا کہ خدا اپنے ولی کا خود محافظ ہے۔ یوں فاطمہ بنت الحسن پر یہ بات واضح ہوگئی کہ نماز کو چھوڑ کر بچے کو بچانے کی بجائے امام نے اپنے معمول کی نماز کیوں جاری رکھی۔ ایک مرتبہ آپ ؑ سات سال کی عمر میں اپنے والد کے ساتھ حج پر جا رہے تھے۔ راستے میں ایک حیرت زدہ شخص نے سوال کیا، فرزند! تم کون ہو؟ کہاں جا رہے ہو اور زاد راہ کیا ہے؟ آپ نے اپنے جواب سے اُس شخص کو لاجواب کیا اور فرمایا میرا سفر من اللہ اور الی اللہ (اللہ سے اور اللہ کی طرف) ہے۔ میرا زادِ راہ تقویٰ ہے۔ میرا نام محمد ابن علی ابن الحسین ابن علی ابن ابی طالب ہے۔ آپ (ع) کو یہ امتیاز بھی حاصل ہوا کہ رسول اکرم (ص) نے جابر بن عبداللہ انصاری کو آپ کا نام بتایا اور خبر دی کہ تمھاری انکے ساتھ ملاقات ہو گی تو ان کو میرا سلام پہنچانا۔ قدرت نے جابر کو امام سے اس حال میں ملایا کہ آپ (جابر) کافر ضعیف اور بوڑھے ہو چکے تھے۔ امام ؑ اپنے والد سید سجاد ؑ کے ہمراہ کہیں جا رہے تھے کہ جابر نے آپ کو دیکھا اور آگے بڑھے۔ اپنے والد کے حکم پر حضرت نے جابر کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ جابر نے گلے لگا کر رسول گرامی اسلام کا سلام پہنچایا۔ کیا کہنے اُس سلام کے، یہ اُس ہستی کا سلام تھا جس پر خالق اکبر نے صبح و شام تمام مخلوق پر یہ لازم قرار کر دیا کہ ان پر درود و سلام بھیجیں۔ یہ سعادت جابر ابن عبداللہ انصاری کو نصیب ہوئی کہ آپ اسلام کے امین قرار پائے۔
28 رجب 60ء کو جب سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی بقاء کا سفر شروع کیا تو ان میں آپ (ع) بھی شریک تھے۔ اس وقت آپ کی عمر مبارک 4 سال کے لگ بھگ تھی۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے پاکیزہ اوصاف کی رزائل کیساتھ جنگ دیکھی۔ آپ (ع) نے اپنی آنکھوں سے اپنے پیاروں اور 72 جانثاروں کو تہہ تیغ ہوتے دیکھا۔ تین دن کی سخت ترین گرمی اور دھوپ میں پیاس کی شدت کو برداشت کرنے والوں میں آپ بھی شریک تھے۔ شب عاشور خیموں کے لُٹنے، چادروں کے چھننے اور سید سجاد علیہ السلام کی علالت کو آپ ؑ نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ کربلا سے کوفہ، کوفہ سے شام اور شام سے مدینہ تک کے تمام مظالم کو سر کرنے والوں میں آپ بھی شامل تھے۔ کربلا کے پیغام رسانوں، مقصد امام حسین ؑ کی پہچان کرانے والوں اور روداد غم سنانے والوں میں آپ سید سجاد (ع) اور سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ برابر کے شریک تھے۔ وگرنہ یزید نے یہ ٹھان لیا تھا کہ حسین علیہ السلام کے مقصد کو کربلا میں ہی دفن کر دیا جائے، مگر ان حضرات نے قیام حسینی کے مقصد کو اپنے خطبوں اور غم کی روداد میں کوہ بہ کوہ اور قریہ بہ قریہ کچھ اسطرح سنایا اور پہنچایا کہ یزید اور یزیدی قصر کی اینٹ سے اینٹ بجنے لگی اور یزیدیت کو تا دم حشر لائق نفرت بنا دیا۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 
وزیراعلٰی گلگت بلتستان نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں سات دنوں سے طلباء، کاروباری حضرات، سرکاری ملازمین اور مریضوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے۔
گندم سبسڈی حکومت پاکستان نے ترسیل پر دیا ہے جو برقرار ہے، سید مہدی شاہ
 وزیراعلٰی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور اور پرامن ہیں صوبے کی جمہوری حکومت عوام کو پر امن احتجاج سے نہیں روکے گی لیکن کسی فرد کو حالات خراب کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت بھی نہیں دی جائیگی۔ وزیراعلٰی نے کہا کہ میری ذات کے خلاف تقاریر میں نازیبا الفاظ کہنے والوں کا جواب دے سکتا ہوں مگر میرا ضمیر اور میری زبان اس کی اجازت نہیں دیتی۔ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ہمارے خلاف تقاریر کرنے والوں کا جواب ہمارے پاس نہیں۔ میری ذات پر کیچڑ اچھالنے والے پہلے اپنی گریباں میں جھانکھیں۔ وزیراعلٰی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کی جانب سے میڈیا کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گندم سبسڈی کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ اصل حقائق کو بتانے کے بجائے غلط بیانی کی جا رہی ہے۔ گندم سبسڈی حکومت پاکستان نے ترسیل پر دیا ہے جو برقرار ہے۔ گلگت بلتستان میں سات دنوں سے طلباء، کاروباری حضرات، سرکاری ملازمین اور مریضوں کو بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے دھرنوں کی وجہ سے حکومت اور کاروباری حضرات کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 
واضح رہے کہ حالیہ دھرنا بلتستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا ہے اور افراد کی شرکت کی غیر معمولی ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کی کال پر جاری دھرنے آٹھویں روز میں داخل
 گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی تحریک اور دیگر عوامی مطالبات پر مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ پر آٹھویں روز بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔ بدھ کے روز صوبائی حکومت بالخصوص وزیراعلٰی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ کی دعوت پر عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندہ وفد نے مذاکرات کیلئے سی ایم ہاوس کا دورہ کیا اور دن بھر طویل مذاکرات جاری رہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران صوبائی حکومت نے بہت سے مطالبات منظور بھی کر لئے، تاہم عوامی ایکشن کمیٹی کے راہنماوں نے تمام مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور یوں مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔ بعدازاں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے راہنماوں کا کہنا ہے کہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل عمل درآمد تک احتجاجی دھرنے جاری رہینگے۔ دوسری جانب بلتستان بھر میں دھرنوں میں شدت آنے لگی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ تمام مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے۔ واضح رہے کہ حالیہ دھرنا بلتستان کی تاریخ کا طویل ترین دھرنا ہے اور افراد کی شرکت کی غیر معمولی ہے۔

نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 

عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلان کے مطابق یادگار شہداء اسکردو پر چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔

























نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 

سکردو شہر کی فضا اسوقت "جینا ہوگا مرنا ہوگا" "دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا" "حق کی خاطر لڑنا ہوگا" اور حکومت مخالف نعروں سے گونج رہی ہے۔

































نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 


































نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری
 
 
 
کمیٹی کے اعلان کے مطابق یادگار شہداء اسکردو پر چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔ بلتستان کے علاوہ گلگت کے اہم علاقوں اور شاہراہ ریشم پر بھی دھرنے جاری ہیں۔

نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری
 
 
اسکردو شہر کی فضا اسوقت "جینا ہوگا مرنا ہوگا" "دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا" "حق کی خاطر لڑنا ہوگا" اور حکومت مخالف نعروں سے گونج رہی ہے۔

نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 
 
 شہر کی تمام اہم مارکیٹیں، بنکس اور دکانیں مکمل طور پر بند ہیں جبکہ سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں میں بھی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔




















نوشته شده در تاريخ سه شنبه دوم اردیبهشت 1393 توسط ارشادحسین مطهری

 
بلتس
تان میں ضلع خپلو، سب ڈویژن کھرمنگ، روندو اور شگر میں بھی متعدد مقامات پر احتجاجی دھرنے جاری ہے۔ بلتستان میں مرکزی دھرنا یادگار شہداء اسکردو پر دیا گیا ہے۔ جہاں عوام کا ایک جم غفیر موجود ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر بلتستان بھر میں پہیہ جام ہڑتال، احتجاجی دھرنے جاری
عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کی کال پر بلتستان میں پہیہ جام ہڑتال اور دھرنے جاری ہیں۔ آج بلتستان بھر کی تمام اہم شاہراہیں اور چوراہے بند رہے۔ بلتستان میں ضلع خپلو، سب ڈویژن کھرمنگ، روندو اور شگر میں بھی درجنوں مقامات پر احتجاجی دھرنے جاری ہیں۔ بلتستان کی اہم شاہراہیں جن میں شاہراہ ریشم، اسلام آباد اسکردو روڈ، کے ٹو کو جانے والی سڑک، سیاچن روڈ، کرگل لداخ روڈ اور نواحی علاقوں کو آپس میں ملانے والی سڑکیں بھی بند ہیں۔ بلتستان میں مرکزی دھرنا یادگار شہداء اسکردو پر جاری ہے۔ جہاں عوام کا ایک جم غفیر موجود ہے۔ صبح کے وقت اسکردو شہر کے تمام اہم چوراہوں پر لوگ جمع ہوگئے، جو ریلیوں کی شکل میں مرکزی دھرنے میں شامل ہوتے رہے۔ اسکردو شہر کی فضا اسوقت "جینا ہوگا مرنا ہوگا" "دھرنا ہوگا دھرنا ہوگا" "حق کی خاطر لڑنا ہوگا" اور حکومت مخالف نعروں سے گونج رہی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے اعلان کے مطابق یادگار شہداء اسکردو پر چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے۔ واضح رہے کہ بلتستان کے علاوہ گلگت کے اہم علاقوں اور شاہراہ ریشم پر بھی دھرنے جاری ہیں۔

.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک