تعداد بازديد :  
تاريخ : دوشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۳
 

غدیر

 خدا کی حمد و ثنا

ساری تعریف اس اللہ کےلئے ھے جو اپنی یکتائی میں بلند اور اپنی انفرادی شان کے باوجود قریب ھے[1] وہ سلطنت کے اعتبار سے جلیل اور ارکان کے اعتبار سے عظیم ھے وہ اپنی منزل پر رہ کر بھی اپنے علم سے ھر شے کا احاطہ کےے هوئے ھے اور اپنی قدرت اور اپنے برھان کی بناء پر تمام مخلوقات کو قبضہ میں رکھے هوئے ھے ۔[2]

      وہ ھمیشہ سے قابل حمد تھااور ھمیشہ قابل حمد رھے گا ،وہ ھمیشہ سے بزرگ ھے وہ ابتدا کرنے والا دوسرے :خداوند عالم کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے هو ئے ھے درحالیکہ خداوند عالم اپنے مکان میں ھے ۔البتہ خداوند عالم کےلئے مکان کا تصور نھیں کیا جا سکتا ،پس اس سے مراد یہ ھے کہ خداوند عالم تمام مو جودات پر اس طرح احاطہ کئے هوئے ھے کہ اس کے علم کےلئے رفت و آمد اور کسب کی ضرورت نھیں ھے ۔

 ھے وہ پلٹانے والاھے اور ھر کام کی باز گشت اسی کی طرف ھے بلندیوں کا پیدا کرنے والا ،فرش زمین کابچھانے والا،آسمان و زمین پر اختیار رکھنے والا ، پاک ومنزہ ،پاکیزہ [3]،ملائکہ اور روح کا پروردگار، تمام مخلوقات پر فضل وکرم کرنے والا اور تمام موجودات پر مھربانی کرنے والا ھے وہ ھر آنکھ کو دیکھتا ھے[4]  اگر چہ کوئی آنکھ اسے نھیں دیکھتی ۔

      وہ صاحب حلم وکرم اوربردبار ھے ،اسکی رحمت ھر شے کااحاطہ کئے هوئے ھے اور اسکی نعمت کا ھر شے پراحسان ھے انتقام میں جلدی نھیں کرتا اور مستحقین عذاب کو عذاب دینے میں عجلت سے کام نھیں   لیتا ۔

      اسرارکو جانتا ھے اور ضمیروں سے باخبر ھے ،پوشیدہ چیزیں اس پر مخفی نھیں رہتیں ،اور مخفی امور اس پر مشتبہ نھیں هوتے ،وہ ھر شے پر محیط اور ھر چیز پر غالب ھے ،اسکی قوت ھر شے میں اسکی قدرت ھر چیز پر ھے ،وہ بے مثل ھے اس نے شے کو اس وقت وجود بخشا جب کو ئی چیز نھیں تھی اوروہ زندہ ھے،[5] ھمیشہ رہنے والا،انصاف کرنے والا ھے ،اسکے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے ،وہ عزیز و حکیم ھے ۔

      نگاهوں کی رسائی سے بالاتر ھے اور ھر نگاہ کو اپنی نظر میں رکھتا ھے کہ وہ لطیف بھی ھے اور خبیر بھی کوئی شخص اسکے وصف کو پا نھیں سکتا اور کوئی اسکے ظاھر وباطن کی کیفیت کا ادراک نھیں کرسکتا مگر اتنا ھی جتنا اس نے خود بتادیا ھے۔

      میں گواھی دیتا هوں کہ وہ ایسا خدا ھے جس کی پاکی و پاکیزگی کا زمانہ پر محیط اور جسکا نور ابدی ھے

       اسکا حکم کسی مشیر کے مشورے کے بغیر نافذھے ،اور نہ ھی اس کی تقدیرمیں کوئی اسکا شریک ھے،اور نہ اس کی تدبیر میں کوئی فرق ھے ۔[6]

      جو کچھ بنایا وہ بغیر کسی نمونہ کے بنایا اور جسے بھی خلق کیا بغیر کسی کی اعانت یا فکر ونظر[7] کی زحمتکے بنایا ۔جسے بنایا وہ بن گیا[8] اور جسے خلق کیا وہ خلق هوگیا ۔وہ خدا ھے لا شریک ھے جس کی صنعت محکم اور جس کا سلوک بہترین ھے ۔وہ ایسا عادل ھے جو ظلم نھیں کرتااور ایسا کرم کرنے والا ھے کہ تمام کام اسی کی طرف پلٹتے ھیں ۔

      میں گو اھی دیتا هوں کہ وہ ایسا بزرگ و برتر ھے کہ ھر شے اسکی قدرت کے سامنے متواضع ، تمام چیزیں اس کی عزت کے سا منے ذلیل ،تمام چیزیں اس کی قدرت کے سامنے سر تسلیم خم کئے هو ئے ھیں اور ھر چیز اسکی ھیبت کے سامنے خاضع ھے۔

       وہ تمام بادشاهوں کا بادشاہ[9] ،تمام آسمانوں کا خالق ،شمس و قمر پر اختیاررکھنے والا ،یہ تمام معین وقت پرحرکت کر رھے ھیں،دن کو رات اور رات کو دن پر پلٹانے والا [10]ھے کہ دن بڑی تیزی کے ساتھ اس کا پیچھا کرتا ھے،ھرمعاندظالم کی کمر توڑنے والا اورھرسرکش شیطان کو ھلاک کرنے والا ھے ۔

      نہ اس کی کوئی ضد ھے نہ مثل،وہ یکتا ھے بے نیاز ھے ،نہ اسکا کوئی باپ ھے نہ بیٹا ،نہ ھمسر۔ وہ خدائے واحد اور رب مجید ھے ،جو چاہتا ھے کرگزرتا ھے جوارادہ کرتا ھے پور ا کردیتا ھے وہ جانتا ھے پس احصا کر لیتاھے ،موت وحیات کا مالک،فقر وغنا کا صاحب اختیار ،ہنسانے والا، رلانے والا،قریب کرنے والا ،دور ہٹادینے والا[11] عطا کرنے والا[12]،روک لینے والا ھے، ملک اسی کے لئے ھے  اور حمد اسی کے لئے زیبا ھے اورخیر اسکے قبضہ میں ھے ۔وہ ھر شے پر قادر ھے ۔

      رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کردیتا ھے ۔[13] اس عزیزو غفار کے علاوہ کوئی خدا نھیں ھے ،وہ دعاؤں کا قبول کرنے والا، بکثرت عطا کرنے والا،سانسوں کا شمار کرنے والا اور انسان و جنات کا پروردگار ھے ،اسکے لئے کوئی شے مشتبہ نھیں ھے۔[14]وہ فریادیوں کی فریاد سے پریشان نھیں هوتا ھے اور اسکو گڑگڑانے والوں کا اصرار خستہ حال نھیں کرتا ،نیک کرداروں کا بچانے والا ، طالبان فلاح کو توفیق دینے والاموٴ منین کا مولا اور عالمین کا پالنے والاھے ۔اسکا ھر مخلوق پر یہ حق ھے کہ وہ ھر حال میں اسکی حمد وثنا کرے ۔

      ھم اس کی بے نھایت حمد کرتے ھیںاورھمیشہ خوشی ،غمی،سختی اور آسائش میں اس کا شکریہ ادا کرتے ھیں ،میں اس پر اور اسکے ملائکہ ،اس کے رسولوں اور اسکی کتابوں پر ایمان رکھتا هوں،اسکے حکم کو سنتا هوں اور اطاعت کرتا هوں ،اسکی مرضی کی طرف سبقت کرتا هوں اور اسکے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم هوں[15] چونکہ اسکی اطاعت میں رغبت ھے اور اس کے عتاب کے خوف کی بناء پر کہ نہ کوئی اسکی تدبیر سے بچ سکتا ھے اور نہ کسی کو اسکے ظلم کا خطرہ ھے ۔

۲ ایک اھم مطلب کے لئے خداوند عالم کا فرمان

      میں اپنے لئے بندگی اور اسکے لئے ربوبیت کا اقرار کرتا هوں اوراپنے لئے اس کی ربوبیت کی گواھی دیتا هوں اسکے پیغام وحی کو پہنچانا چاہتا هوں کھیں ایسا نہ هوکہ کوتاھی کی شکل میں وہ عذاب نازل هوجائے جس کا دفع کرنے والا کوئی نہ هواگر چہ بڑی تدبیرسے کام لیا جائے اور اس کی دوستی خالص ھے۔اس خدائے وحدہ لا شریک نے مجھے بتایا کہ اگر میں نے اس پیغام کو نہ پہنچایا جو اس نے علی کے متعلق مجھ پرنازل فرمایاھے تو اسکی رسالت کی تبلیغ نھیں کی اور اس نے میرے لئے لوگوں کے شرسے حفاظت کی ضمانت لی ھے اور خدا ھمارے لئے کافی اور بہت زیادہ کرم کرنے والا ھے ۔

      اس خدائے کریم نے یہ حکم دیا ھے :<بِسم اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحیمِ،یٰااٴَیُّھَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰااُنزِلَ اِلَیکَ مِنْ رَبِّکَ( فی عَلِیٍّ یَعْنی فِی الْخِلاٰفَةِلِعَلِیِّ بْنِ اٴَبی طٰالِبٍ) وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰابَلَّغْتَ رِسٰالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النّٰاسِ>[16]

      ”اے رسول!جوحکم تمھاری طرف علی (ع) (یعنی علی بن ابی طالب کی خلافت )کے بارے میں نازل کیاگیا ھے،اسے پہنچادو،اوراگرتم نے ایسانہ کیا[17] تو رسالت کی تبلیغ نھیںکی اورالله تمھیں لوگوںکے شرسے محفوظ رکھے گا “

      ایھا الناس! میں نے حکم کی تعمیل میں کوئی کوتا ھی نھیں کی اور میں اس آیت کے نازل هونے کا سبب واضح کردینا چاہتا هوں :

      جبرئیل تین بار میرے پاس خداوندِسلام[18] پروردگار(کہ وہ سلام ھے )کا یہ حکم لے کر نازل هوئے کہ میں اسی مقام پرٹھھر کر سفیدوسیاہ کو یہ اطلاع دے دوں کہ علی بن ابی طالب (ع)  میرے بھائی ،وصی،جانشین اور میرے بعد امام ھیں ان کی منزل میرے لئے ویسی ھی ھے جیسے موسیٰ کےلئے ھارون کی تھی ۔فرق صرف یہ ھے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ هوگا،وہ اللہ و رسول کے بعد تمھارے حاکم ھیں اور اس سلسلہ میں خدا نے اپنی کتاب میں مجھ پریہ آیت نازل کی ھے :

      <اِنَّمٰاوَلِیُّکُمُ اللهُ وَرَسُوْلُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْاالَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلاٰةَوَیُوٴْتُوْنَ الزَّکٰاةَ وَھُمْ رٰاکِعُونَ>[19]

      ”بس تمھارا ولی اللهھے اوراسکارسول اوروہ صاحبان ایمان جونمازقائم کرتے ھیں اورحالت رکوع میںزکوٰةادا کرتے ھیں “علی بن ابی طالب(ع) نے نماز قائم کی ھے اور حالت رکوع میں زکوٰةدی ھے وہ ھر حال میں رضا ء الٰھی کے طلب گار ھیں۔ [20]

      میں نے جبرئیل کے ذریعہ خدا سے یہ گذارش کی کہ مجھے اس وقت تمھارے سامنے اس پیغام کو پہنچانے سے معذور رکھا جائے اس لئے کہ میں متقین کی قلت اور منافقین کی کثرت ،فساد برپاکرنے والے ،ملامت کرنے والے اور اسلا م کا مذاق اڑانے والے منافقین کی مکاریوںسے با خبرهوں ،جن کے بارے میں خدا نے صاف کہہ دیا ھے کہ”یہ اپنی زبانوں سے وہ کہتے ھیں جو ان کے دل میں نھیں ھے ،اور یہ اسے معمولی بات سمجھتے ھیں حالانکہ پروردگارکے نزدیک یہ بہت بڑی بات ھے “۔اسی طرح [21] منافقین نے بارھا مجھے اذیت پہنچائی ھے یھاں تک کہ وہ مجھے ”اُذُنْ“”ھر بات پرکان دھرنے والا“کہنے لگے اور ان کا خیال تھا کہ میں ایسا ھی هوںچونکہ اس (علی )کے ھمیشہ میرے ساتھ رہنے،اس کی طرف متوجہ رہنے،اور اس کے مجھے قبول کرنے کی وجہ سے یھاں تک کہ خداوند عالم نے اس سلسلہ میں آیت نازل کی ھے:

<وَمِنْھُمُ الَّذِیْنَ یُوْذُوْنَ النَّبِیَّ وَیَقُوْلُوْنَ ھُوَاُذُنٌ،قُلْ اُذُنُ ]عَلَی الَّذِیْنَ یَزْعَمُوْنَ اَنَّہُ اُذُنٌ-[خَیْرٍلَکُمْ،یُوٴمِنُ بِاللّٰہِ وَ یُوٴْمِنُ لِلْمُوٴْمِنِیْنَ>[22]

اس مقام پر یہ بات بیان کردینا ضروری ھے کہ ”یُوٴْمِنُ بِاللّٰہِ “اللہ ”باء “ کے ساتھ اور ”یُوٴمِنُ لِلْمُوٴْمِنِیْنَ ‘مو منین ”لام کے ساتھ ان دونوں میں یہ فرق ھے کہ پھلے کا مطلب تصدیق کرنا اور دوسرے کا مطلب تواضع اور احترام کا اظھار کرنا ھے ۔

      ”اور ان میں سے بعض ایسے ھیں جو رسول کو ستاتے ھیں اور کہتے ھیں کہ یہ بس کان ھی (کان) ھیں (اے رسول )تم کھدوکہ (کان تو ھیں مگر)تمھاری بھلائی (سننے )کے کان ھیں کہ خدا پر ایمان رکھتے ھیں اور مو منین( کی باتوں) کا یقین رکھتے ھیں “[23]  

      ورنہ میں چاهوں تو ”اُذُنْ “کہنے والوں میںسے ایک ایک کا نام بھی بتاسکتا هوں،اگر میں چاهوں تو ان کی طرف اشارہ کرسکتا هوں اور اگرچا هوں توتمام نشانیوں کے ساتھ ان کاتعارف بھی کراسکتا هوں ،لیکن میں ان معاملات میں کرم اور بزرگی سے کام لیتا هوں ۔[24]

      لیکن ان تمام باتوں کے باوجود مرضیٴ خدا یھی ھے کہ میں اس حکم کی تبلیغ کردوں۔

      اس کے بعد آنحضرت (ص) اس آیت کی تلا وت فرما ئی :

      <یٰااٴَیُّھَاالرَّسُوْلُ بَلِّغْ مٰااُنزِلَ اِلَیکَ مِنْ رَبِّک (فِیْ حَقِّ عَلِیْ )وَاِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمٰابَلَّغْتَ رِسٰالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنَ النّٰاسِ>[25]

      ”اے رسول!جوحکم تمھاری طرف علی (ع) کے سلسلہ میں نازل کیاگیا ھے،اسے پہنچادو،اوراگرتم نے ایسانہ کیاتورسالت کی تبلیغ نھیںکی اورالله تمھیں لوگوںکے شرسے محفوظ رکھے گا “

۳ بارہ اماموں کی امامت اور ولایت کا قانونی اعلان

      لوگو! جان لو(اس سلسلہ میںخبر دار رهواس کو سمجھواور مطلع هوجاؤ) هوکہ اللہ نے علی کو تمھارا ولی اور امام بنادیا ھے اور ان کی اطاعت کو تمام مھاجرین ،انصار اورنیکی میں ان کے تابعین اور ھر شھری، دیھاتی، عجمی، عربی، آزاد، غلام، صغیر، کبیر، سیاہ، سفید پر واجب کردیا ھے ۔ھر توحید پرست[26] کیلئے ان کا حکم جاری،ان کا امر نافذ اور ان کا قول قابل اطاعت ھے ،ان کا مخالف ملعون اور ان کا پیرو مستحق رحمت ھے۔[27]جو ان کی تصدیق کرے گا اور ان کی بات سن کر اطاعت کرے گا اللہ اسکے گناهوں کو بخش دے گا

      ایھا الناس ! یہ اس مقام پر میرا آخری قیام ھے لہٰذا میری بات سنو ، اور اطاعت کرو اور اپنے   پر ور دگار کے حکم کو تسلیم کرو ۔ اللہ تمھارا رب ، ولی اور پرور دگار ھے اور اس کے بعد اس کا رسول محمد(ص) تمھارا حاکم ھے جو آج تم سے خطاب کر رھا ھے۔[28] اس کے بعد علی تمھارا ولی اور بحکم خدا تمھارا امام ھے  اس کے بعد امامت میری ذریت اور اس کی اولاد میں تمھارے خدا و رسول سے ملاقات کے دن تک با قی رھے گی ۔

      حلال وھی ھے جس کو اللہ ،رسول اور انھوں(بارہ ائمہ )نے حلال کیا ھے اور حرام وھی ھے جس کو اللہ،رسول اور ان بارہ اماموں نے تم پر حرام کیا ھے ۔ اللہ نے مجھے حرام و حلال کی تعلیم دی ھے اور اس نے اپنی کتاب اور حلال و حرام میں سے جس چیز کا مجھے علم دیا تھا وہ سب میں نے اس( علی  (ع) )کے حوالہ کر دیا ۔

      ایھا الناس علی (ع)  کو دوسروں پر فضیلت دو خداوندعالم نے ھر علم کا احصاء ان میں کر دیا ھے اور کو ئی علم ایسا نھیں ھے جو اللہ نے مجھے عطا نہ کیا هو اور جو کچھ خدا نے مجھے عطا کیا تھا سب میں نے علی   (ع)  کے حوالہ کر دیا ھے۔[29] وہ امام مبین ھیں اور خداوند عالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ھے :

      <وَکُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنَاہُ فِیْ اِمَامٍ مُبِیْنٍ>[30] ”ھم نے ھر چیز کا احصاء امام مبین میں کردیا ھے “

      ایھا لناس ! علی (ع) سے بھٹک نہ جانا ، ان سے بیزار نہ هو جانا اور ان کی ولایت کا انکار نہ کر دیناکہ وھی حق کی طرف ھدا یت کر نے والے ،حق پر عمل کر نے والے ، باطل کو فنا کر دینے والے اور اس سے روکنے والے ھیں ،انھیں اس راہ میں کسی ملامت کر نے والے کی ملامت کی پروانھیں هوتی ۔

       وہ سب سے پھلے اللہ و رسول پر ایمان لا ئے اور اپنے جی جا ن سے رسول                        پرقربان تھے وہ اس وقت  رسول کے ساتھ تھے جب لوگوں میں سے ان کے علا وہ کوئی عبادت خدا کر نے والا نہ تھا(انھوں نے لوگوں میں سب سے پھلے نماز قائم کی اور میرے ساتھ خدا کی عبادت کی ھے میں نے خداوند عالم کی طرف سے ان کو اپنے بستر پر لیٹنے کا حکم دیاتو وہ بھی اپنی جان فدا کرتے هو ئے میرے بستر پر سو گئے ۔

      ایھا الناس ! انھیں افضل قرار دو کہ انھیں اللہ نے فضیلت دی ھے اور انھیں قبول کرو کہ انھیں اللہ نے امام بنا یا ھے ۔

      ایھا الناس ! وہ اللہ کی طرف سے امام ھیں[31] اور جو ان کی ولایت کا انکار کرے گا نہ اس کی توبہ قبول هوگی اور نہ اس کی بخشش کا کوئی امکان ھے بلکہ اللہ یقینااس امر پر مخالفت کر نے والے کے ساتھ ایسا کرے گااور اسے ھمیشہ ھمیشہ کےلئے بدترین عذاب میں مبتلا کرے گا۔ لہٰذا تم ان کی مخالفت[32] سے بچو کھیں ایسا نہ هو کہ اس جہنم میں داخل هو جا وٴ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ھیں اور جس کو کفار کےلئے مھیا کیا گیا ھے ۔

      ایھا الناس ! خدا کی قسم تمام انبیاء علیھم السلام و مرسلین نے مجھے بشارت دی ھے اور میں خاتم الانبیاء والمر سلین اور زمین و آسمان کی تمام مخلوقات کےلئے حجت پر ور دگار هوں جو اس بات میں شک کرے گا وہ گذشتہ زمانہ ٴ جا ھلیت جیسا کا فر هو جا ئے گا اور جس نے میری کسی ایک بات میں بھی شک کیا اس نے گویا تمام باتوں کو مشکوک قرار دیدیا اورجس نے ھمارے کسی ایک امام کے سلسلہ میں شک کیااس نے تمام اماموںکے بارے میں شک کیااور ھمارے بارے میں شک کرنے والے کا انجام جہنم ھے ۔[33]

      اس بات کا بیان کردینا بھی ضروری ھے کہ شاید ”جا ھلیت اول کے کفر“ سے دور جاھلیت کے کفر کے درجہ میں سے شدیدترین درجہ ھے ۔

      ایھا الناس ! اللہ نے جو مجھے یہ فضیلت عطا کی ھے یہ اس کا کرم اور احسان ھے ۔ اس کے علا وہ  کو ئی خدا نھیں ھے اور وہ میری طرف سے تا ابد اور ھر حال میں اسکی حمدو سپاس ھے ۔

      ایھا الناس ! علی (ع) کی فضیلت[34] کا اقرار کرو کہ وہ میرے بعد ھر مرد و زن سے افضل و بر تر ھے جب تک اللہ رزق نا زل کررھا ھے اور اس کی مخلو ق با قی ھے ۔ جو میر ی اس بات کو رد کرے اور اس کی موافقت نہ کرے وہ ملعون ھے ملعون ھے اور مغضوب ھے مغضوب ھے ۔ جبرئیل نے مجھے یہ خبر دی ھے[35] کہ      پر ور دگار کا ارشاد ھے کہ جو علی سے دشمنی کرے گا اور انھیں اپنا حاکم تسلیم نہ کر ے گا اس پر میری لعنت اور میرا غضب ھے ۔لہٰذا ھر شخص کو یہ دیکھنا چا ہئے کہ اس نے کل کےلئے کیا مھیا کیا ھے ۔اس کی مخالفت کرتے وقت اللہ سے ڈرو ۔ کھیں ایسا نہ هو کہ راہ حق سے قدم پھسل جا ئیں اور اللہ تمھا رے اعمال سے  با خبر ھے ۔

      ایھا الناس ! علی (ع) وہ جنب اللہ[36] ھیںجن کاخداوند عالم نے اپنی کتاب میںتذکرہ کیا ھے اور ان کی مخالفت کرنے والے کے با رے میں فرمایا ھے:<اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یَاحَسْرَتَاعَلیٰ مَافَرَّطَّتُ فِیْ جَنْبِ اللّٰہِ >[37]ھائے افسوس کہ میں نے جنب خداکے حق میں بڑی کو تا ھی کی ھے“

      ایھا الناس ! قر آن میں فکر کرو ، اس کی آیات کو سمجھو ، محکمات میںغوروفکر کرو اور متشابھات کے پیچھے نہ پڑو ۔ خدا کی قسم قر آن مجید کے باطن اور اس کی تفسیر[38]کو اس کے علاوہ اور کو ئی واضح نہ   کرسکے گا۔ [39]

جس کا ھاتھ میرے ھاتھ میں ھے اور جس کا بازو تھام کر میں نے بلند کیا ھے اور جس کے بارے میں یہ بتا رھا هوں کہ جس کا میں مو لا هوں اس کا یہ علی (ع) مو لا ھے ۔ یہ علی بن ابی طالب (ع)  میرا بھائی ھے اور وصی بھی ۔ اس کی ولایت کا حکم اللہ کی طرف سے ھے جو مجھ پر نا زل هوا ھے ۔

      ایھا الناس ! علی (ع)  اوران کی نسل سے میری پاکیزہ اولاد ثقل اصغر ھیں اور قرآن ثقل اکبر ھے[40] ان میں سے ھر ایک دوسرے کی خبر دیتا ھے اور اس سے جدا نہ هوگا یھاں تک کہ دونوں حوض کو ثر پر وارد هوں گے جان لو! میرے یہ فرزند مخلوقات میں خدا کے امین اور زمین میں خدا کے حکام ھیں ۔[41]

      آگاہ هو جاوٴ میں نے میں نے اداکر دیا میں نے پیغام کو پہنچا دیا ۔میں نے بات سنا دی، میں نے حق کو واضح کر دیا،[42] آگاہ هو جا وٴ جو اللہ نے کھا وہ میں نے دھرا دیا۔ پھر آگاہ هو جاوٴ کہ امیر المو منین میرے اس بھا ئی کے علاوہ کو ئی نھیں ھے[43] اور اس کے علاوہ یہ منصب کسی کےلئے سزا وار نھیں ھے ۔

۴ پیغمبر اکرم  (ص)کے ھاتھوں پر امیرا لمومنین علیہ السلام کا تعارف

      (اس کے بعد علی (ع) کو اپنے ھا تھوں پرپازوپکڑکر بلند کیا یہ اس وقت کی بات ھے جب حضرت علی علیہ السلام منبر پر پیغمبر اسلام(ص) سے ایک زینہ نیچے کھڑے هوئے تھے اور آنحضرت (ص) کے دائیں طرف ما ئل تھے گویا دونوں ایک ھی مقام پر کھڑے هو ئے ھیں ۔

      اس کے بعد پیغمبر اسلام(ص) نے اپنے دست مبارک سے حضرت علی علیہ السلام کو بلند کیا اور ان کے دونوں ھاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھایااورعلی (ع) کو اتنابلند کیا کہ آپ (ع)  کے قدم مبارک آنحضرت(ص)  کے گھٹنوں کے برابر آگئے۔[44] اس کے بعد آپ (ص)  نے فر مایا :

      ایھا الناس !یہ علی (ع)  میرا بھائی اور وصی اور میرے علم کا مخزن[45] اورمیری امت میں سے مجھ پر ایمان لانے والوںکے لئے میرا خلیفہ ھے اور کتاب خدا کی تفسیر کی رو سے بھی میرا جانشین ھے یہ خدا کی طرف دعوت دینے والا ،اس کی مر ضی کے مطابق عمل کر نے والا ،اس کے دشمنوں سے جھاد کر نے والا، اس کی اطاعت[46] ۔ پر ساتھ دینے والا ، اس کی معصیت سے رو کنے والا ۔

      یہ اس کے رسول کا جا نشین اور مو منین کا امیر ،ھدایت کرنے والاامام ھے اورناکثین( بیعت شکن ) قاسطین (ظالم) اور مارقین (خا رجی افرا[47] سے جھاد کر نے والا ھے ۔

      خداوند عالم فر ماتا ھے :<مٰایُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ>[48] ”میرے پاس بات میں تبدیلی نھیں  هو تی ھے “ خدایا تیرے حکم سے کہہ رھا هوں[49]۔خدا یا علی (ع)  کے دوست کو دوست رکھنا اور علی (ع)  کے دشمن کو دشمن قرار دینا ،جو علی (ع)  کی مدد کرے اس کی مدد کرنا اور جو علی (ع)  کو ذلیل و رسوا کرے تو اس کو ذلیل و رسوا کرناان کے منکر پر لعنت کر نا اور ان کے حق کا انکارکر نے والے پر غضب نا زل کرنا ۔

      پر ور دگا را ! تو نے اس مطلب کو بیان کرتے وقت اور آج کے دن علی (ع)  کو تاج ولایت پہناتے وقت علی (ع)  کے بارے میں یہ آیت نازل فر ما ئی:

      <الْیَوْمَ اٴَکْمَلْتُ لَکُمْ دینَکُمْ وَاٴَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتی وَرَضیتُ لَکُمْ الاِسْلاٰمَ دیناً>[50]

      ”آج میںنے دین کو کا مل کر دیا ،نعمت کو تمام کر دیا اور اسلام کو پسندیدہ دین قرار دیدیا“

      <وَمَنْ یَبْتَغِ غَیْرَالاِسْلاٰمِ دیناًفَلَنْ یُقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَفِی الْآخِرَةِمِنَ الْخاسِرینَ>[51]

      ”اور جو اسلام کے علاوہ کو ئی دین تلاش کر ے گا وہ دین قبول نہ کیا جا ئے گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ والوں میں هو گا “

      پرور دگارا میں تجھے گواہ قرار دیتا هوں کہ میں نے تیرے حکم کی تبلیغ کر دی ۔[52]

۵ مسئلہ ٴ امامت پر امت کی توجہ پر زور دینا

      ایھا الناس !اللہ نے دین کی تکمیل علی (ع) کی امامت سے کی ھے ۔لہٰذا جو علی (ع) اور ان کے صلب سے آنے والی میری اولاد کی امامت کا اقرار نہ کرے گا ۔اس کے دنیا و آخرت کے تمام اعمال بر باد  هو جا ئیں گے[53] وہ جہنم میں ھمیشہ ھمیشہ رھے گا ۔ ایسے لوگوں کے عذاب میں کو ئی تخفیف نہ هو گی اور نہ انھیں مھلت دی   جا ئے گی ۔

      ایھا الناس ! یہ علی (ع) ھے تم میں سب سے زیادہ میری مدد کر نے والا ، تم میں سے میرے سب سے زیادہ قریب تر اور میری نگاہ میں عزیز تر ھے ۔اللہ اور میں دونوں اس سے را ضی ھیں ۔قرآن کریم میں جو بھی رضا کی آیت ھے وہ اسی کے با رے میں ھے اور جھاں بھی یا ایھا الذین آ منوا کھا گیا ھے اس کا پھلا مخا طب یھی ھے قرآن میںھر آیت مدح اسی کے با رے میں ھے ۔  سوره  ھل اتیٰ میں جنت کی شھا دت صرف اسی[54] کے حق میں دی گئی ھے اور یہ سورہ اس کے علا وہ کسی غیر کی مدح میں نا زل نھیں هوا ھے ۔

      ایھا الناس ! یہ دین خدا کا مدد گار ، رسول خدا  (ص)[55]سے دفاع کر نے والا ، متقی ، پا کیزہ صفت ، ھا دی اور مھدی ھے ۔تمھارا نبی سب سے بہترین نبی اور اس کا وصی بہترین وصی ھے اور اس کی اولاد بہترین او صیاء ھیں ۔

      ایھا الناس !ھر نبی کی ذریت اس کے صلب سے هو تی ھے اور میری ذریت علی (ع)  کے صلب سے ھے

      ایھا الناس ! ابلیس نے حسد کر کے آدم کو جنت سے نکلوادیا لہٰذا خبر دار تم علی سے حسد نہ کرنا کہ تمھارے اعمال برباد هو جا ئیں ،اور تمھا رے قد موں میں لغزش پیدا هو جا ئے ،آدم صفی اللہ هو نے کے با وجود ایک ترک او لیٰ پر زمین میں بھیج دئے گئے تو تم کیا هو اور تمھاری[56] کیا حقیقت ھے ۔تم میں دشمنان خدا بھی پا ئے جا تے ھیں[57] یاد رکھو علی کا دشمن صرف شقی هو گا اور علی کا دوست صرف تقی هو گا اس پر ایمان رکھنے والاصرف مو من مخلص ھی هو سکتا ھے اور خدا کی قسم علی (ع)  کے با رے میںھی  سوره  عصر نا زل هوا  ھے ۔

      <بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ وَالْعَصْرِاِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْر>[58]

      ”بنام خدائے رحمان و رحیم ۔قسم ھے عصر کی ،بیشک انسان خسارہ میں ھے “مگر علی (ع) جو ایمان لا ئے اور حق اور صبر پر راضی هو ئے ۔

      ایھا الناس !میں نے خدا کو گواہ بناکر اپنے پیغام کو پہنچا دیا اور رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نھیں ھے ۔ایھا الناس !اللہ سے ڈرو ،جو ڈرنے کا حق ھے اور خبر دار !اس وقت تک دنیا سے نہ جانا جب تک اس کے اطاعت گذار نہ هو جا ؤ ۔

۶ منافقوں کی کار شکنیوں کی طرف اشارہ

      ایھا الناس !”اللہ ، اس کے رسول(ص) اور اس نور پر ایمان لا وٴ جو اس کے ساتھ نا زل کیا گیا ھے ۔قبل اس کے کہ خدا کچھ چھروں کو بگا ڑ کر انھیں پشت کی طرف پھیر دے یا ان پر اصحاب سبت کی طرح لعنت کرے “[59]

      جملہ ” جو شخص اپنے دل میں علی (ع) سے محبت اور بغض کے مطابق عمل کرتا ھے “کی آٹھویں حصہ کے دوسرے جزء میں وضاحت کی جا ئے گی ۔

      خدا کی قسم اس آیت سے میرے اصحاب کی ایک قوم کا قصد کیا گیا ھے کہ جن کے نام و نسب سے میں آشنا هوں لیکن مجھے ان سے پردہ پوشی کرنے کا حکم دیا گیا ھے ۔پس ھر انسان اپنے دل میں حضرت علی علیہ السلام کی محبت یا بغض کے مطابق عمل کرتاھے ۔

      ایھا الناس !نور کی پھلی منزل میں هوں[60] میرے بعد علی  (ع) اور ان کے بعد ان کی نسل ھے اور یہ سلسلہ ا س مھدی قائم تک بر قرار رھے گاجو اللہ کاحق اورھما راحق حا صل کر ے گا[61]چو نکہ اللہ نے ھم کو تمام مقصرین ،معا ندین ،مخا لفین ،خا ئنین ،آثمین اور ظالمین کے مقابلہ میں اپنی حجت قرار دیا ھے ۔[62]

      ایھا الناس !میں تمھیں با خبر کرنا چا ہتا هوں کہ میں تمھا رے لئے اللہ کا نما ئندہ هوں جس سے پھلے بہت سے رسول گذر چکے ھیں ۔ تو کیا میں مر جا وٴں یا قتل هو جا ؤں تو تم اپنے پرا نے دین پر پلٹ جا وٴ گے ؟ تو یاد رکھو جو پلٹ جا ئے گا وہ اللہ کا کو ئی نقصان نھیں کرے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دینے والا ھے ۔آگاہ هو جا وٴ کہ علی    (ع) کے صبر و شکر کی تعریف کی گئی ھے اور ان کے بعد میری اولا د کو صابر و شاکر قرار دیا گیا ھے ۔جو ان کے صلب سے ھے ۔

      ایھا الناس !مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھوبلکہ خدا پر بھی احسان نہ سمجھوکہ وہ تمھارے اعمال کو نیست و نابود کردے اور تم سے ناراض هو جا ئے ،اور تمھیں آگ اور”پگھلے هوئے “تانبے کے عذاب میں مبتلا کردے تمھارا پروردگار مسلسل تم کو نگاہ میں رکھے هو ئے ھے ۔[63]

      آنحضرت (ص) نے ”پھلے صحیفہٴ ملعونہ “کی طرف اشارہ فر مایا ھے جس پرمنافقین کے پانچ بڑے افراد نے حجة الوداع کے موقع پر کعبہ میں دستخط کئے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ پیغمبر اکرم(ص) کے بعد خلافت ان کے اھل بیت علیھم السلام تک نھیں پہنچنی چا ہئے اس سلسلہ میں اس کتاب کے تیسرے حصہ کے دوسرے جزء کی طرف رجوع کیجئے “

      ایھا الناس !عنقریب میرے بعد ایسے امام آئیں گے جو جہنم کی دعوت دیں گے اور قیامت کے دن ان کا کو ئی مدد گار نہ هو گا ۔اللہ اور میں دونوں ان لوگوں سے بیزار ھیں ۔

      ایھا الناس !یہ لوگ اور ان کے اتباع و انصار سب جہنم کے پست ترین درجے میں هو ں گے اور یہ متکبر لوگو ں کا بد ترین ٹھکانا ھے ۔آگاہ هو جا وٴ کہ یہ لوگ اصحاب صحیفہ[64] ھیں لہٰذاتم میں سے ھر ایک اپنے  صحیفہ پر نظر رکھے ۔

      راوی کہتا ھے :جس وقت پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی زبان مبارک سے ”صحیفہ ٴ ملعونہ “کا نام ادا کیا اکثر لوگ آپ کے اس کلام کا مقصد نہ سمجھ سکے اور اذھان میں سوال ابھر نے لگے صرف لوگوں کی قلیل جما عت آپ کے اس کلام کا مقصد سمجھ پائی ۔

      ایھا الناس !آگاہ هو جا وٴ کہ میں خلافت کو امامت اوروراثت کے طورپر قیامت تک کےلئے اپنی اولاد میں امانت قرار دے کر جا رھا هوں اور مجھے جس امر کی تبلیغ کا حکم دیا گیا تھا میں نے اس کی تبلیغ کر دی ھے تا کہ ھر حا ضر و غائب ،مو جود و غیر مو جود ، مو لود و غیر مو لود سب پر حجت تمام هو جا ئے ۔ اب حا ضر کا فریضہ ھے کہ قیامت تک اس پیغام کوغائب تک اورماں باپ اپنی اولاد کے حوالہ کر تے رھیں ۔

      میرے بعد عنقریب لوگ اس امامت(خلافت) کو باشاہت سمجھ کرغصبی[65] غصب کرلیں گے ،خدا غا صبین اور تجاوز کرنے والوں پر لعنت کرے ۔یہ وہ وقت هوگا جب (اے جن و انس[66] تم پر عذاب آئے گا آگ اور(پگھلے هوئے) تانبے کے شعلے بر سا ئے جا ئیں گے جب کو ئی کسی کی مدد کرنے والا نہ هو گا ۔[67]

      ایھا الناس !اللہ تم کو انھیں حالات میں نہ چھو ڑے گا جب تک خبیث اور طیب کو الگ الگ نہ کر ایھا الناس !کوئی قریہ[68] ایسا نھیں ھے مگر یہ کہ اللہ (اس میں رہنے والوںکو آیات الٰھی کی تکذیب کی بنا پر) ھلا ک کر دےگااور اسے حضرت مھدی کی حکومت کے زیر سلطہ لے آئے گا یہ اللہ کا وعدہ ھے اوراللہ صا دق الوعد ھے۔[69]

      ایھا الناس !تم سے پھلے اکثر لوگ ھلاک هو چکے ھیں اور اللہ ھی نے ان لوگوں کو ھلاک کیا ھے[70] اور وھی بعد والوںکو ھلا ک کر نے والا ھے ۔خداوند عالم کا فرمان ھے :

      <اٴَلَمْ نُھْلِکِ الْاٴَوَّلینَ،ثُمَّ نُتْبِعُھُمُ الْآخِرینَ،کَذٰلِکَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمینَ،وَیْلٌ یَوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِّبینَ>[71]

      ”کیا ھم نے ان کے پھلے والوں کو ھلاک نھیں کردیا ھے پھر دوسرے لوگوں کو بھی انھیں کے پیچھے لگا دیں گے ھم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کا بر تاوٴ کرتے ھیں اور آج کے دن جھٹلانے والوں کے لئے بربادی ھی بربادی ھے “

      ایھا الناس !اللہ نے مجھے امر و نھی کی ھدایت کی ھے اور میں نے اللہ کے حکم سے علی(ع) کوامر ونھی کیا ھے۔ وہ امر و نھی الٰھی سے با خبر ھیں۔[72] ان کے امر کی اطاعت کرو تاکہ سلا متی پا وٴ ، ان کی پیروی کرو تاکہ ھدایت پا وٴ ان کے روکنے پر رک جا وٴ تاکہ راہ راست پر آجا وٴ ۔ان کی مر ضی پر چلو اور مختلف راستے تمھیں اس کی راہ سے منحرف کردیں گے  ۔

۷ اھل بیت علیھم السلام کے پیرو کار اور ان کے دشمن

      میں وہ صراط مستقیم هوں جس کی اتباع کا خدا نے حکم دیا ھے۔[73] پھر میرے بعد علی   (ع)  ھیں اور ان کے بعد میری اولاد جو ان کے صلب سے ھے  یہ سب وہ امام ھیں جو حق کے ساتھ ھدایت کر تے ھیں اور حق کے ساتھ انصاف کر تے ھیں ۔

      اس کے بعد آنحضرت (ص) نے اس طرح فرمایا :<بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، الحمد للہ رب العا لمین ۔۔۔> سوره  الحمد کی تلاوت کے بعد آپ نے اس طرح فرمایا :

      خدا کی قسم یہ سورہ میرے اور میری اولاد کے با رے میں نا زل هوا ھے ، اس میں اولاد کےلئے عمو میت بھی ھے اور اولاد کے ساتھ خصوصیت بھی ھے ۔[74]  یھی خدا کے دوست ھیں جن کےلئے نہ کوئی خو ف ھے اور نہ کو ئی حزن ! یہ حزب اللہ ھیں جو ھمیشہ غالب رہنے والے ھیں ۔

      آگاہ هو جا وٴ کہ دشمنان علی ھی اھل ِ تفرقہ ، اھل تعدی اور برادران شیطان ھیں جواباطیل کوخواھشات نفسانی کی وجہ سے ایک دوسرے تک پهونچا تے ھیں ۔[75]

      آگاہ هو جا وٴ کہ ان کے دوست ھی مو منین بر حق ھیں جن کا ذکر پر ور دگار نے اپنی کتاب میں کیا ھے:

      <لَاتَجِدُ قَوْماًیُوٴمِنُوْنَ بِاللہِ والْیَوْمِ الْآخِرِیُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّاللہَ وَرَسُوْلَہ وَلَوْ کَانُوْااٰبَائَھُمْ اَوْاَبْنَائَھُمْ اَوْاِخْوَانَھُمْ اَوْعَشِیْرَتَھُمْ ،اُولٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِھِم الاِیْمَانَ ۔۔۔>[76]

      ”آپ کبھی نہ دیکھیں گے کہ جوقوم اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی ھے وہ ان لوگوں سے دوستی کر رھی ھے جو اللہ اور رسول سے دشمنی کر نے والے ھیںچا ھے وہ ان کے باپ دادا یا اولاد یا برادران یا عشیرة اور قبیلہ والے ھی کیوں نہ هوں اللہ نے صاحبان ایمان کے دلوں میں ایمان لکھ دیا ھے “

      آگاہ هو جا وٴ کہ ان (اھل بیت )کے دوست ھی وہ افراد ھیں جن کی توصیف پر ور دگار نے اس انداز سے کی ھے :< الَّذِیْنَ آمَنُوْاوَلَمْ یَلْبَسُوْااِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُوْلٰئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُھْتَدُوْن>[77]

      ” جو لوگ ایمان لا ئے اور انھوں نے اپنے ایمان کو ظلم سے آلودہ نھیں کیا انھیں کےلئے امن ھے اور وھی ھدایت یا فتہ ھیں “

      آگاہ هو جا ؤ کہ ان کے دوست وھی ھیں جو ایمان لائے ھیں اور شک میں نھیں پڑے ھیں ۔

      آگاہ هوجاوٴ کہ ان کے دوست ھی وہ ھیںجوجنت میں امن و سکون کے ساتھ داخل هو ں گے اور ملا ئکہ سلام کے ساتھ یہ کہہ کے ان کا استقبال کریں گے کہ تم طیب و طاھر هو ، لہٰذا جنت میں ھمیشہ ھمیشہ کےلئے داخل هو جا وٴ “

      آگاہ هو جا وٴ کہ ان کے دوست ھی وہ ھیں جن کے لئے جنت ھے اور انھیں جنت میں بغیر حساب رزق دیاجائیگا ۔[78]

      آگاہ هو جا وٴ کہ ان (اھل بیت ) کے دشمن ھی وہ ھیں جوآتش جہنم کے شعلوں میںداخل هوں گے۔

       آگاہ هو جا وٴ کہ ان کے دشمن وہ ھیں جوجہنم کی آواز اُس عالم میں سنیں گے کہ اس کے شعلے بھڑک

رھے هوں گے اور وہ ان کو دیکھیں گے ۔

      آگاہ هو جا وٴ کہ ان کے دشمن وہ ھیں جن کے با رے میں خدا وند عالم فر ماتا ھے:

       <کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَعَنَتْ اُخْتَھَا۔۔۔>[79]

      ” (جہنم میں) داخل هو نے والاھر گروہ دوسرے گروہ پر لعنت کرے گا ۔۔۔ ‘ ‘

      آگاہ هو جا وٴ کہ ان کے دشمن ھی وہ ھیں جن کے با رے میں پر ور دگار کا فرمان ھے:

       < کُلَّمَا اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَاٴَلَھُمْ خَزْنَتُھَااَلَمْ یَاتِکُمْ نَذِیْرٌ. قَالُوْابَلَیٰ قَدْجَاءَ نَانَذِیْرٌفَکَذَّبْنَاوَقُلْنَامَانَزَّلَ اللہُ مِنْ شَیْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّافِیْ ضَلَالٍ کَبِیْرٍ.۔۔۔اَلَا فَسُحْقاًلِاَصْحَا بِ السَّعِیْرِ>[80]

      ” جب کوئی گروہ داخل جہنم هو گا تو جہنم کے خازن سوال کریں گے کیا تمھا رے پاس کو ئی ڈرانے والا نھیں آیا تھا ؟تو وہ کھیں گے آیا تو تھا لیکن ھم نے اسے جھٹلا دیا اور یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نا زل نھیں کیا ھے تم لوگ خود بہت بڑی گمرا ھی میں مبتلا هو۔۔۔آگاہ هوجا ؤ تو اب جہنم والوں کےلئے تو رحمت خدا سے دوری ھی دوری ھے“ [81]

      آگاہ هو جا وٴ کہ ان کے دوست ھی وہ ھیں جو اللہ سے از غیب ڈرتے ھیں[82] اور انھیں کےلئے مغفرت اور اجر عظیم ھے ۔

      ایھا الناس!دیکھو آگ کے شعلوں اوراجر عظیم کے ما بین کتنا فا صلہ ھے ۔[83]

      ایھا الناس!ھمارا دشمن وہ ھے جس کی اللہ نے مذمت کی اور اس پر لعنت کی ھے اور ھمارا دوست وہ ھے جس کی اللہ نے تعریف کی ھے اور اس کو دوست رکھتا ھے ۔

      ایھا الناس!آگاہ هو جا وٴ کہ میں ڈرانے والا هو ں اور علی   (ع)  بشارت دینے والے ھیں ۔[84]

      ایھا الناس!میں انذار کرنے والا اور علی (ع)  ھدایت کرنے والے ھیں۔

      ایھا الناس!میں پیغمبر هوں اور علی   (ع) میرے جا نشین ھیں ۔

      ایھا الناس!آگاہ هو جا وٴ میں پیغمبر هوں اور علی   (ع)  میرے بعد امام اور میرے وصی ھیں اوران کے بعد کے امام ان کے فرزند ھیں آگاہ هو جاوٴ کہ میں ان کا باپ هوں اور وہ اس کے صلب سے پیدا هو نگے۔

۸ حضرت مھدی عج۔۔

      یاد رکھو کہ آخری امام ھمارا ھی قائم مھدی ھے ، وہ ادیان پر غالب آنے والا اور ظالموں سے انتقام لینے والا ھے ،وھی قلعوں کو فتح کر نے والا اور ان کو منھدم کر نے والا ھے ،وھی مشرکین کے ھر گروہ پر غالب اور ان کی ھدایت کر نے والا ھے ۔[85]

      آگاہ هوجا ؤ وھی اولیاء خداکے خون کا انتقام لینے والااور دین خدا کا مدد گار ھے جان لو!کہ وہ عمیق سمندر سے استفادہ کر نے والا ھے ۔[86]

      عمیق دریا سے مراد میں چند احتمال پائے جا تے ھیں ،منجملہ دریائے علم الٰھی ،یا دریائے قدرت الٰھی ،یا اس سے مراد قدرتوں کا وہ مجمو عہ ھے جو خداوند عالم نے امام علیہ السلام کو مختلف جہتوں سے عطا فر مایا ھے “

 وھی ھر صاحب فضل پر اس کے فضل اور ھر جا ھل پر اس کی جھالت کا نشانہ لگا نے والا ھے ۔[87]

      آگاہ هو جا وٴ کہ وھی اللہ کا منتخب اور پسندیدہ ھے ، وھی ھر علم کا وارث اور اس پر احا طہ رکھنے والا ھے۔

      آگاہ هو جا ؤوھی پرور دگار کی طرف سے خبر دینے والا اورآیات الٰھی کو بلند کر نے والا ھے[88] وھی رشید اور صراط مستقیم پر چلنے والا ھے اسی کو اللہ نے اپنا قانون سپرد کیا ھے ۔

      اسی کی بشارت دور سابق میں دی گئی ھے ۔[89] وھی حجت با قی ھے اور اس کے بعد کو ئی حجت نھیں ھے ، ھر حق اس کے ساتھ ھے اور ھر نور اس کے پاس ھے ، اس پر کو ئی غالب آنے والا نھیں ھے وہ زمین پر خدا کا حاکم ، مخلوقات میں اس کی طرف سے حَکَم اور خفیہ اور علانیہ ھر مسئلہ میں اس کا امین  ھے ۔

۹ بیعت کی وضاحت

      ایھا الناس!میں نے سب بیان کر دیا اور سمجھا دیا ،اب میرے بعد یہ علی تمھیں سمجھا ئیں گے

      آگاو هو جا وٴ ! کہ میں تمھیں خطبہ کے اختتام پر اس بات کی دعوت دیتا هوں کہ پھلے میرے ھاتھ پر ان کی بیعت کا اقرار کرو ،[90]اس کے بعد ان کے ھاتھ پر بیعت کرو ، میں نے اللہ کے ساتھ بیعت کی ھے اور علی (ع) نے میری بیعت کی ھے اور میں خدا وند عالم کی جا نب سے تم سے علی(ع)کی بیعت لے رھا هوں (خدا  فرماتا ھے)[91]:<اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَایُبَایِعُوْنَ اللہَ یَدُ اللہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ فَمَنْ نَکَثَ فَاِنَّمَایَنْکُثُ عَلیٰ نَفْسِہ وَمَنْ اَوْفَیٰ بِمَاعَاھَدَ عَلَیْہُ اللہَ فَسَیُوْتِیْہِ اَجْراًعَظِیْماً>

      ” بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کر تے ھیں وہ درحقیقت اللہ کی بیعت کر تے ھیں اور ان کے ھا تھوں کے اوپر اللہ ھی کا ھا تھ ھے اب اس کے بعد جو بیعت کو توڑ دیتا ھے وہ اپنے ھی خلاف اقدام کر تا ھے اور جو عھد الٰھی کو پورا کر تا ھے خدا اسی کو اجر عظیم عطا کر ے گا “

۱۰ حلال و حرام ،واجبات اور محرمات

      ایھا الناس!یہ حج اور عمرہ اور یہ صفا و مروہ سب شعا ئر اللہ ھیں(خدا وند عالم فر ماتا ھے:[92]

       <فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِعتَمَرَفَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا۔۔۔ >[93]                   ”لہٰذا جوشخص بھی حج یا عمرہ کر ے اس کےلئے کو ئی حرج نھیں ھے کہ وہ ان دونوں پھا ڑیوں کا چکر  لگا ئے “

      ایھا الناس!خا نہ ٴ خدا کا حج کرو جو لوگ یھاں آجاتے ھیں وہ بے نیاز هو جا تے ھیںخوش هوتے ھیں اور جو ا س سے الگ هو جا تے ھیں وہ محتاج هو جا تے ھیں ۔[94]

      ایھا الناس!کو ئی مو من کسی مو قف(عرفات ،مشعر ،منی ) میں وقوف[95] ھیں کرتا مگر یہ کہ خدا اس وقت تک کے گناہ معاف کر دیتا ھے ،لہٰذا حج کے بعد اسے از سر نو نیک اعمال کا سلسلہ شروع کرنا چاہئے

      ایھا الناس!حجا ج کی مدد کی جاتی ھے اور ان کے اخراجات کا اس کی طرف سے معا وضہ دیا جاتا ھے اور اللہ محسنین کے اجر کو ضا ئع نھیں کرتا ھے ۔

      ایھا الناس!پورے دین اور معرفت احکام کے ساتھ حج بیت اللہ کرو ،اور جب وہ مقدس مقامات سے واپس هو تو مکمل توبہ اور ترک گنا ہ کے ساتھ ۔

      ایھا الناس!نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو جس طرح اللہ نے تمھیں حکم دیا ھے[96]  اگر وقت زیادہ گذر گیا ھے اور تم نے کو تا ھی و نسیان سے کام لیا ھے تو علی (ع) تمھا رے ولی اور تمھارے لئے بیان کر نے والے ھیں جن کو اللہ نے میرے بعداپنی مخلوق پرامین بنایا ھے اور میرا جا نشین بنایا ھے وہ مجھ سے ھے اور میں اس سے هوں ۔[97]

      وہ اور جو میری نسل سے ھیں وہ تمھارے ھر سوال کا جواب دیں گے اور جو کچھ تم نھیں جا نتے هو سب بیان کر دیں گے ۔

      آگاہ هو جاوٴ کہ حلا ل و حرام اتنے زیادہ ھیں کہ سب کا احصاء اور بیان ممکن نھیں ھے ۔مجھے اس مقام پر تمام حلال و حرام کی امر و نھی کرنے اور تم سے بیعت لینے کا حکم دیا گیاھے اور تم سے یہ عھد لے لوں کہ جو پیغام علی (ع)  اور ان کے بعد کے ائمہ کے با رے میں خدا کی طرف سے لا یا هوں ،تم ان سب کا اقرار کرلوکہ یہ سب میری نسل اور اس (علی (ع) )سے ھیں اور امامت صرف انھیں کے ذریعہ قائم هوگی ان کا آخری مھدی ھے جو قیا مت تک حق کے ساتھ فیصلہ کر تا رھے گا “

      ایھا الناس!میں نے جس جس حلال کی تمھارے لئے رہنما ئی کی ھے اور جس جس حرام سے روکا ھے کسی سے نہ رجوع کیا ھے اور نہ ان میں کو ئی تبدیلی کی ھے لہٰذا تم اسے یاد رکھو[98] اور محفوظ کرلو، ایک میں پھر اپنے لفظوں کی تکرار کر تا هوں :نماز قا ئم کرو ، زکوٰة ادا کرو ، نیکیوں کا حکم دو ، برا ئیوں سے روکو ۔

       اور یہ یاد رکھو کہ امر با لمعروف کی اصل یہ ھے کہ میری بات کی تہہ تک پہنچ جا وٴ اور جو لوگ حاضر نھیں ھیں ان تک پہنچا وٴ اور اس کے قبول کر نے کا حکم دو اور اس کی مخالفت سے منع کرو[99] اس لئے کہ یھی اللہ کا حکم ھے اور یھی میرا حکم بھی ھے[100]اور امام معصوم کو چھو ڑ کر نہ کو ئی امر با لمعروف هو سکتا ھے اور نہ نھی عن المنکر ۔[101]

      ایھا الناس!قرآن نے بھی تمھیں سمجھا یا ھے کہ علی (ع)  کے بعد امام ان کے فرزند ھیں اور میں نے تم کو یہ بھی سمجھاد یا ھے کہ یہ سب میری اور علی کی نسل سے ھیں جیساکہ پر ور دگار نے فر مایا ھے:

      <وَجَعَلَھَاکَلِمَةً بَاقِیَةً فِیْ عَقَبِہِ >[102]

      ” اللہ نے (امامت )انھیںکی اولاد میں کلمہ با قیہ قرار دیا ھے “اور میں نے بھی تمھیں بتا دیا ھے  کہ جب تک تم قرآن اور عترت سے متمسک رهو گے ھر گزگمراہ نہ هو گے [103]

      ایھا الناس!تقویٰ اختیار کرو تقویٰ۔قیا مت سے ڈروجیسا کہ خدا وندعالم نے فر مایا ھے:

       <اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ >[104]

      ”  زلزلہ قیامت بڑی عظیم شیٴ ھے “

      موت ، قیامت ،حساب، میزان ،اللہ کی با رگاہ کا محا سبہ ،ثواب اور عذاب سب کو یاد کرو کہ وھاں نیکیوں پر ثواب ملتا ھے[105] اور برا ئی کر نے والے کا جنت میں کو ئی حصہ نھیں ھے ۔

۱۱ قانونی طور پر بیعت لینا

      ایھا الناس!تمھاری تعداد اتنی زیادہ ھے کہ ایک ایک میرے ھاتھ پر ھاتھ ما ر کر بیعت نھیں    کر سکتے هو ۔لہٰذا اللہ نے مجھے حکم دیا ھے کہ میں تمھاری زبا ن سے علی   (ع) کے امیر المو منین[106] هو نے اور ان کے بعد کے ائمہ جو ان کے صلب سے میری ذریت ھیں سب کی امامت کا اقرار لے لوں اور میں تمھیں بتا چکا هوں کہ میرے فرزند ان کے صلب سے ھیں۔

      لہٰذا تم سب مل کر کهو :ھم سب آپ کی بات سننے والے ، اطاعت کر نے والے ، راضی رہنے والے اور علی (ع) اور اولاد علی (ع)  کی امامت کے با رے میں جو پروردگار کا پیغام پہنچایا ھے اس کے سا منے سر تسلیم خم کر نے والے ھیں ۔ھم اس بات پر اپنے دل ، اپنی روح ، اپنی زبان اور اپنے ھا تھوں سے آپ کی بیعت کر رھے ھیں اسی پر زندہ رھیں گے ، اسی پر مریں گے اور اسی پر دو بارہ اٹھیں گے ۔نہ کو ئی تغیر و تبدیلی کریں گے اور نہ کسی شک و ریب میں مبتلا هو ں گے ، نہ عھد سے پلٹیں گے نہ میثاق کو تو ڑیں گے ۔

       اورجن کے متعلق آپ نے فرمایا ھے کہ وہ علی امیر المومنین اور ان کی اولاد ائمہ آپ کی ذرّیت میںسے ھیں ان کی اطاعت کریں گے ۔جن میںسے حسن وحسین ھیں اور ان کے بعد جن کو اللہ نے یہ منصب دیا ھے اور جن کے بارے میں ھم سے ھمارے دلوں،ھماری جانوںھماری زبانوں ھمارے ضمیروں اور ھمارے ھاتھوںسے عھدوپیمان لے لیاگیا ھے ھم اسکا کوئی بدل پسند نھیں کریں گے ،اور اس میں خدا ھمارے نفسوں میں کوئی تغیر و تبدل نھیں دیکھے گا۔

      ھم ان مطالب کو آپ کے قول مبارک کے ذریعہ اپنے قریب اور دور سبھی اولاد اور رشتہ داروں تک پہنچا دیں گے اورھم اس پر خدا کو گواہ بناتے ھیںاور ھماری گواھی کے لئے اللہ کافی ھے اور آپ بھی ھمارے گواہ ھیں ۔[107]

      ایھاالناس!اللہ سے بیعت کرو ،علی (ع)  امیر المومنین هونے اور حسن وحسین اور ان کی نسل سے باقی ائمہ کی امامت کے عنوان سے بیعت کرو۔جو غداری کرے گا اسے اللہ ھلاک کردے گا اور جو وفا کرے گا اس پر رحمت نازل کرے گا اور جو عھد کو توڑدے گا وہ اپنا ھی نقصان کرے گا اور جو شخص خداوند عالم سے باندھے هوئے عھد کو وفا کرے گا خدوند عالم اس کو اجر عظیم عطا کرے گا ۔

      ایھاالناس !جومیں نے کھا ھے وہ کهو اور علی کو امیر المومنین کہہ کر سلام کرو،[108]اور یہ کهو کہ پرودگار ھم نے سنا اور اطاعت کی ،پروردگاراھمیں تیری ھی مغفرت چاہئے اور تیری ھی طرف ھماری بازگشت ھے اور کهو :حمدو شکرھے اس خداکاجس نے ھمیں اس امر کی ھدایت دی ھے ورنہ اسکی ھدایت کے بغیر ھم راہ ھدایت نھیں پاسکتے تھے۔

      ایھاالناس!علی ابن ابی طالب کے فضائل اللہ کی بارگاہ میں اور جواس نے قرآن میں بیان کئے ھیں وہ اس سے کھیں زیادہ ھیں کہ میں ایک منزل پر شمار کر اسکوں۔لہٰذا جو بھی تمھیں خبر دے اور ان فضائلسے آگاہ کرے اسکی تصدیق کرو۔[109]

      یاد رکھو جو اللہ ،رسول،علی اور ائمہ مذکورین کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی کا مالک هوگا ۔

      ایھا الناس!جو علی کی بیعت ،ان کی محبت اور انھیں امیر المومنین کہہ کر سلام کرنے میں سبقت کریں گے وھی جنت نعیم میں کامیاب هوں گے ۔ایھالناس!وہ بات کهو جس سے تمھارا خدا راضی هوجائے ورنہ تم اور تمام اھل زمین بھی منکر هوجائیں تو اللہ کو کوئی نقصان نھیں پهونچا سکتے۔

       پرودگارا !جو کچھ میں نے ادا کیا ھے اور جس کا تونے مجھے حکم دیا ھے اس کے لئے مومنین کی مغفرت فرما اور منکرین (کافرین )پر اپنا غضب نازل فرمااور ساری تعریف اللہ کے لئے ھے جو عالمین کا پالنے والا ھے ۔

   ب : ”عَرَّفَھَا “ تشدید کے ساتھ ،یعنی جو شخص امیر المو منین علیہ السلام کے فضائل بیان کرے اور ان کا لوگوں کو تعارف کرائے تو اس کی تصدیق کرو ۔

      ”ب “ میں عبارت اس طرح ھے :ایھا الناس ،فضائل علی (ع)  اور جو کچھ خداوند عالم نے ان سے مخصوص طور پر قرآن میں بیان کیا ھے وہ اس سے کھیں زیادہ ھے کہ میں ایک جلسہ میں بیٹھ کر سب کو بیان کروں ،لہٰذا جو کو ئی اس بارے میں تم کو خبر دے اس کی تصدیق کرو ۔

 

[1] توحید کے متعلق خطبہ کی ابتدا کے الفاظ بہت دقیق مطالب کے حامل ھیںجن کی تفسیر کی ضرورت ھے ۔مذکورہ جملہ کی اس طرح وضاحت کی جا سکتی ھے :ساری تعریف اس خد اکےلئے ھے جو یکتا ئی میں بلند مرتبہ رکھتا ھے ،وہ یکتا هو نے اور بلند مرتبہ هونے کے باوجوداپنے بندوں سے نزدیک ھے ۔ ” ب “اور ” د “ کی عبارت اس طرح ھے :اس خد ا کی حمد ھے جو اپنی یکتا ئی کے ساتھ بلند مرتبہ اور اپنی تنھائی کے با وجود نزدیک  ھے۔

[2] اس جملہ سے مندرجہ ذیل  دو جہتوں میں سے ایک جہت مراد هو سکتی ھے:

       پھلے :خداوند عالم کا علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے هوئے ھے درحالیکہ وہ چیزیں اپنی جگہ پر ھیں اور خداوند عالم کو ان کے معائنہ اور ملا حظہ کرنے کی ضرورت نھیں ھے ۔

[3] کلمہ ” قُدُّوْسٌ “کا مطلب ھر عیب و نقص سے پاک اور منزّہ ،اور کلمہ ٴ ” سُبُّوْحٌ “ کا مطلب جس کی مخلوقات تسبیح کرتی ھے اور تسبیح کا مطلب خداوند عالم کی تنزیہ اور تمجید ھے “

[4] ”ج “، ” د “اور ” ھ “ھر نفس اس کے زیر نظر ھے ۔

[5] ” ج “اور ” د “وھی  عدم سے وجود عطا کرنے والا ھے “

[6] ” الف “ ، ” ب “ اور ” د “اس کی تدبیر میں کو ئی اختلاف نھیں ھے “          

[7] ” ج “بغیر فساد کے “

[8] ” ج “ :اس نے چاھا پس وہ وجود میںآگئے ۔

[9] ” ب “ اور ” ج “:بادشاهوں کا مالک ۔

[10] اس چیز سے کنایہ ھے کہ رات اور دن دو کشتی لڑنے والوں کی طرح ایک دو سرے پر غالب آجاتے ھیں اور اس کو زمین پر پٹک دیتا ھے اور خود اوپر آجاتا ھے ۔دن کے بارے میں فرمایا ھے”رات کا بہت تیزی کے ساتھ پیچھا کرتا ھے “ لیکن رات کے بارے میں نھیں فر مایا ۔شاید یہ اس بات سے کنایہ هو کہ چونکہ دن نور سے ایجاد هو تا ھے اور جیسے ھی نور کم هوا  رات آجاتی ھے ۔

[11] ”د “تدبیر کرتا ھے اور مقدر بناتا ھے ۔

[12] ” ب “ منع کرتا ھے اور ثروتمند بنا دیتا ھے ۔

[13] ” ج “ اور ” ھ “ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرنے والا اس کے علاوہ اور کو ئی نھیں ھے ۔

[14] ” ج “ اور ”د “اور ”ھ “ سے کسی زبان کی مشکل پیش نھیں آتی ھے ۔

[15] ” د “ ” ھ “اس کے حکم کو سنو اور اطاعت کرو ،اور جس چیز میں اس کی رضایت ھے اس کی طرف سبقت کرو اور اس کے مقدرات کے مقابلے میں تسلیم هو جاؤ۔

[16] سوره  ما ئدہ آیت/۶۷۔

[17] ” ج “ اور ” ھ “ جو کچھ میں نے پہنچایاھے اس میں کسی قسم کی کو ئی کو تا ھی نھیں کی ھے اور جو کچھ مجھ پر ابلاغ هوا اس کے پہنچانے میں کسی قسم کی کاھلی نھیں کی ھے ۔

[18] ان دو مقامات پر سلام پروردگار عالم کے نام کے عنوان سے ذکر هوا ھے۔

[19] سوره  ما ئدہ آیت/۵۵۔

[20] ” ب “ حالت رکوع میں خداوند عالم کی خاطر زکات دی ھے خداوند عالم بھی ھر حال میں ان کا ارادہ کرتا ھے ۔

[21] یعنی اس مھم کے ابلاغ میں معافی چاہنے کی ایک علت یہ بھی ھے

[22] سوره  توبہ آیت/ ۶۱۔

[23] یھاں پر اس کا مطلب یہ هو گاکہ پیغمبر اکرم  (ص) خداوند عالم کے کلام کی تصدیق فرماتے ھیں اورمو منین کے مقابل میں تواضع اور احترام کا اظھار کرتے ھیں اور ان کی باتوں کو رد نھیں کرتے ۔

[24] ” ج “ اور ” ھ “ لیکن خدا کی قسم ان کی باتوں کو در گزر کرتے هوئے ان پر کرامت کرتا هوں ۔

[25] سوره  مائدہ آیت/۶۷۔

[26] ” ج “ اور ” ھ “ ھر موجود پر ۔۔۔

[27] ” ب “جو شخص ان کا تابع هوگا ان کی تصدیق کرے گا اس کو اجر ملے گا ۔

[28] آنحضرت (ص) کے اس کلام سے مراد خود آپ ھی ھیں ۔

[29] ” اَحْصَاہُ “ کا مطلب ” عَدَّ ہُ وَضَبَطَہُ “ھے ۔یعنی ذہن سے قریب کرنے کےلئے کلمہ”جمع اور جمع آوری “سے استفادہ کیا گیا ھے ۔

[30] سوره  یس آیت/۱۲۔

[31] وہ خداوند عالم کے امر سے امام ھیں ۔

[32] میری مخالفت کرنے سے پرھیز کرو ۔

[33] ”الف‘ ‘، ”ج “اور ” د “اگر کو ئی میری اس گفتگو میں کسی ایک چیز میں شک کرے گو یا اس نے تمام چیزوں میں شک کیا ھے اور اس میں شک کرنے والے کا ٹھکانا جہنم ھے ۔” ھ “:جو شخص میری گفتار کی ایک چیز میں شک کرے گویا اس نے پوری گفتار میں شک کیا ھے

[34] ” ب “ ایھا الناس ،خداوند عالم نے علی بن ابی طالب کو سب پر افضل قرار دیا ھے ۔

[35] ” ج “ اور ” ھ “میرا کلام جبرئیل سے اور جبرئیل پروردگار عالم کی طرف سے یہ پیغام لا ئے ھیں۔

[36] ” جنب “ یعنی طرف ،جہت ،پھلو ۔شاید یھاں پراس سے مراد امیر المو منین علیہ السلام کا خداوند عالم سے بہت زیادہ مرتبط هو نا ھے

[37] سوره  زمر آیت/۵۶۔

[38] ” زواجر “یعنی باطن ،ضمیر اورنھی کے معنی میں بھی آیا ھے ،اور پھلے معنی عبارت سے بہت زیادہ منا سبت رکھتے ھیں

[39] خدا کی قسم وہ نور واحد کے عنوان سے تمھارے لئے بیان کرنے والے ھیں ۔

[40] یہ حدیث :<انی تارک فیکم الثقلین > کی طرف اشارہ ھے ۔

[41] ” ج “یہ خداوند عالم کی جانب سے  اس کی خلق میںامراور زمین میں اس کا حکم ھے ۔

[42] ” ج “ جان لو !میںنے نصیحت فرما دی ھے ۔

[43] ” الف “ اور ” ب “اور ” د “:جان لو کہ امیرالمومنین میرے اس بھا ئی کے علاوہ کوئی نھیںھے ۔

[44] ” ب “ امیر المو منین علیہ السلام نے اپنے دونوں ھاتھوں کو پیغمبر اکرم  (ص) کے چھرہ ٴ اقدس کی طرف اس طرح بلند کیا کہ آپ کے دونوں ھاتھ مکمل طورپر آسمان کی طرف کھل گئے تو پیغمبر اکرم  (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو بلند کیا یھاں تک کہ ان کے قدم مبارک آنحضرت (ص) کے گھٹنوں کے برابر آگئے ۔

       یہ فقرہ کتاب اقبال سید بن طا ؤس میں اس طرح آیا ھے :۔۔۔پیغمبر اکرم  (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو بلند کرتے هو ئے فر مایا :ایھا الناس ،تمھارا صاحب اختیار کون ھے ؟ انھوں نے کھا :خدا اور اس کا رسول ۔آنحضرت  (ص)نے فرمایا : آگاہ هو جاؤ جس کا صاحب اختیار میں هوں یہ علی اس کے صاحب اختیار ھیں ۔خداوندا جو علی کو دوست رکھے  تو اس کو دوست رکھ اور جو علی سے دشمنی کرے تو اس کو دشمن رکھ ،جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر اور جو اس کو ذلیل کرے تو اس کو ذلیل و رسوا کر ۔

[45] ” د “ اور میرے بعد امور کے مدبر ھیں ۔

[46] ” ب “ :۔۔۔اور میری امت کے جو لوگ مجھ پر ایمان لائے ھیں ان پرمیرے جا نشین ھیں ۔آگاہ هو جا ؤ کہ قرآن کا نازل کرنا میری ذمہ داری ھے لیکن میرے بعد اس کی تاویل ،تفسیر کرنا اور وہ عمل کرنا جس سے خدا راضی هوتا ھے اور دشمنوں سے جنگ کرنا اس کے ذمہ ھے اور وہ خداوند عالم کی اطاعت کی طرف راہنما ئی کرنے والے ھیں ۔

[47] ناکثین :طلحہ ،زبیر ،عائشہ اور اھل جمل ؛قاسطین :معاویہ اور اھل صفین ؛اور مارقین :اھل نھروان ھیں ۔

[48] سوره  ق آیت/۲۹۔    

[49] ” الف “ میں کہتا هوں :میری بات (خداوند عالم کے امر سے )نھیں بدلتی ھے ۔” ھ “ میں خداوند عالم کے امر سے کہتا هوں :میری بات میں کو ئی تغیر و تبدل نھیں هوتاھے ۔ 

[50] سوره  ما ئدہ آیت /۳۔

[51] سوره  آل عمران آیت/ ۸۵۔

[52] ” الف “ ،” ب “ ، ” د “ اور ” ھ “ : خدایا! تو نے مجھ پر نازل کیا ھے کہ میرے بعد امامت علی   (ع)  کے لئے ھے میں نے اس مطلب کو بیان کیا علی   (ع)  کو امام معین فرمایا ،جس کے ذریعہ تو نے اپنے بندوں کے لئے دین کو کامل کیا ، ان پر اپنی نعمت تمام کی اور فرمایا :جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو انتخاب کرے گا وہ دین قبول نہ کیا جا ئیگا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھا نے والوں میں سے هوگا “خدایا میں تجھ کو گواہ بناتا هوں کہ میں نے پہنچادیا اور گواھی کے لئے تجھ کو کا فی سمجھتا هو ں ۔

[53] ” حبط “ یعنی سقوط ،فساد ،نابودهونا ،ضائع هونا اور ختم هوجانا ھے ۔

[54] ہ  سوره  انسان کی آیت ۱۲ کی طرف اشارہ ھے جس میں خدافرماتا ھے :<وَ جَزَاھُمْ بِمَاصَبَرُوْاجَنَّةً وَ حَرِیْراً > اور انھیں ان کے صبر کے عوض جنت اور حریر جنت عطا کرے گا “ سوره  انسان آیت/ ۱۲۔

[55] ” ب “ وہ میرا قرض ادا کرنےوالا اور میرا دفاع کرنے والا ھے ۔’ ھ “ وہ خداوند عالم کا دَین (قرض) ادا کرنے والا ھے۔

[56] یعنی تمھارے ایمان کے درجہ کا حضرت آدم علیہ السلام کے درجہ سے بہت زیادہ فاصلہ ھے ۔

[57] ” ب “ درحالیکہ خداوند عالم کے بہت زیادہ دشمن هو گئے ھیں ۔” ج “اور ” ھ “ اگر تم انکار کروگے تو تم خدا کے دشمن هو ۔

[58] سوره  عصر آیت/۱۔   

       کتاب اقبال سید بن طاؤس میں عبارت اس طرح آئی ھے : سوره  ” والعصر “ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل هوا ھے اور اس کی تفسیر یوں ھے :قیامت کے زمانہ کی قسم، انسان گھا ٹے میں ھے اس سے مراد دشمنان آل محمد ھیں ،مگر جو لوگ ان کی ولایت پر ایمان لائے اور اپنے دینی برادران کے ساتھ مواسات کے ذریعہ عمل صالح انجام دیتے ھیں اور ان کی غیبت کے زمانہ میںایک دوسرے کو صبر کی سفارش کرتے ھیں ۔

[59] یہ  سوره  نساء آیت/ ۴۷کی طرف اشارہ ھے۔کلمہ ” طمس “ کا مطلب ایک تصویر کے نقش و نگار کو محو کرنا ھے ۔اس مقام پر (احادیث کے مطابق )دل سے ھدایت کا مٹا دینا اور اس کو گمرا ھی کی طرف پلٹا دینامراد ھے ۔

[60] ” مسلوک “یعنی داخل کیاگیا۔اور ” ب “ میں مسبوک ھے جس کا مطلب قالب میں ڈھالاهوا ھے۔

[61] د”اور ھر مو من کا حق حاصل کرے گا “

[62] ج”۔۔۔مھدی قائم خداوند عالم اور ھمارے ھر حق کو تمام مقصرین ،معاندین ،مخالفین،خا ئنین ،آثمین،ظالمین اور غاصبین کو قتل کر کے وصول کرے گا “

[63] ”ھ“ ھمارے سلسلہ میں خداوند عالم پر احسان نہ جتاؤخداوند عالم تمھاری باتیں قبول نھیں کرے گا ،تم پر غضب نازل کرے گا اور تم پر عذاب نازل کرے گا اس “

[64] کلمہ ٴ ”اغتصاب “کا مطلب ظلم و زبر دستی کے ساتھ اخذ کرنا ‘

[65] کلمہ ٴ ”الثقلان“ کا ”جن و انس “ترجمہ کیا گیا ھے ۔

[66] یہ  سوره  رحمن کی ۳۱ اور ۳۵ ویں آیت کی طرف اشارہ ھے ۔

[67] یہ  سوره  آل عمران کی ۱۷۹ویںآیت کی طرف اشارہ ھے

 کردے اور اللہ تم کو غیب پر با خبر کرنے والا نھیں ھے ۔

[68] کلمہٴ ”قریہ “کے معنی گاؤں اور آبادی کے ھیں اور اس مو قع پر دوسرے معنی منا سب ھیں ۔

[69] ”الف “اور ”د“ایھا الناس ! کو ئی ایسی بستی نھیں ھے جس کے رہنے والوں کو پروردگار عالم نے تکذیب کی وجہ سے ھلا ک نھیں کیا اسی طرح خداوند عالم ظالموں کی بستیوں کو ھلاک کرتا ھے جیسا کہ خداوند عالم نے قرآن کریم میں ارشاد فر مایا ھے اور یہ علی (ع)  تمھارے امام اور صاحب اختیار ھیں وہ وعدہ گاہ الٰھی ھیں اور خداوند عالم اپنے وعدہ کو عملی کرتا ھے ۔

[70] ”ج اور ”ھ “خدا کی قسم تم سے پھلے والے لوگوں کو ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ھلاک کیا ھے ۔

[71] سورہ مرسلات :آیات /۱۶۔۱۹۔

[72] ”الف “پس وہ امر و نھی کو خداوند عالم کی طرف سے جانتے ھیں ۔”د“امر و نھی خداوند عالم کی طرف سے ان کے ذمہ ھے “

[73] ”الف “اور ” د “جان لو ! کہ علی    (ع)  کے دشمن اھل شقاوت ،تجاوز کرنے والے اور شیا طین کے بھا ئی ھیں ۔

[74] سوره  مجا دلہ آیت/ ۲۲۔

[75] سوره  انعام آیت/۸۲۔

[76] سوره  مجادلہ آیت /۲۲۔”ب “اور ”ج “میں وہ سیدھا راستہ هوں جس سے تمھیں خداوند عالم نے ھدایت پانے کا حکم دیاھے ۔

[77] سوره  انعام آیت/۸۲۔”ج“:کس شخص کے بارے میں نازل هوا ھے ؟انھیں کے بارے میں نازل هوا ھے (خدا کی قسم انھیں کے بارے میں نازل هوا ھے خداکی قسم ان سب کو شامل ھے اور ان کے آباء و اجداد سے مخصوص ھے اور عام طور پر ان سب کو شامل ھے ۔

[78] ”الف “، ”ب “اور ” د“آگاہ هو جا ؤ کہ ان کے دوست وہ لوگ ھیں جن کے بارے میں خدا وند عالم فر ماتا ھے :وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل هو ں گے “

[79] سوره  اعراف آیت /۳۸ ۔

[80] سوره  ملک آیات / ۸۔۱۱۔

[81] کلمہ”سحق “کے معنی ھلاکت ،اور دوری کے ھیں ۔

[82] جملہ ” یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ “کا شاید یہ مطلب ھے کہ وہ خداوند عالم کو دیکھے بغیر غیب پر ایمان رکھنے کی وجہ سے اس سے ڈرتے ھیں ۔

[83] ”الف “اور ”د “آگ کے شعلوں اور بھشت کے ما بین کتنا فا صلہ ھے ۔”ب “ھم نے آگ کے شعلوں اور عظیم اجر کے مابین فرق واضح کر دیا ھے “

[84] شاید اس سے یہ مراد هو کہ میں نے تم کو برائیوں سے ڈرایا اور تصفیہ کیا اور اب وہ وقت آگیا ھے کہ تم علی   (ع)  کے ساتھ بھشت کی راہ اختیار کرلو ۔

[85] ”الف “، ”ب “اور ”د “وہ ھر اھل شرک قبیلہ کا قاتل ھے “

[86] وہ عمیق سمندر سے عبور کرنے والا ھے ۔

[87] ”ب“وہ وھی ھے جو صاحب فضل کو اس کے فضل کے مانند جزا دیتا ھے ۔

[88] وہ اپنے آبا ؤ اجدادکے حکم کو محکم و مضبوطی عطا کرنے والا ھے۔

[89] وہ وھی ھے جس کی ھر گزشتہ پیغمبر نے بشارت دی ھے ۔

[90] ” ج “ میں تمھاری طرف بیعت کے لئے ھاتھ بڑھاؤں گا ۔

[91] سوره  فتح آیت/ ۱۰۔

[92] پرانٹز کے اندرجملہ اس لئے لکھا گیا ھے کہ ” بھما “کی ضمیر کا حج و عمرہ سے کوئی تعلق نھیں ھے اور اس کامرجع صفا و مروہ  ھیں

[93] سوره  بقرہ آیت / ۱۵۸)

[94] شاید منقطع هو جا نے سے مراد کم نسل هو جا نا هو جیساکہ کلمہ ”بتر “سے استفادہ کیا گیا ھے ،اور ”د “اور  ”ھ “میں اس طرح ھے :”گھر والے خا نہٴ خدا میں داخل نھیں هو تے مگر یہ کہ وہ رشد و نمو کر تے ھیں اوران کا غم ختم هو جا تا ھے اور کو ئی خاندان اس کو ترک نھیں کرتا مگر یہ کہ وہ ھلاک اورمتفرق هو جاتا ھے “

[95] اس سے مراد ان تین جگهوں پر وقوف کرنا ھے جو اعمال حج کا جزشمار هو تا ھے ۔

[96] ”ج “اور ”ھ “زکات ادا کرو جیسا کہ میں نے تم کو حکم دیا ھے “

[97] ”الف “ اور ”ج “جس شخص کو خداوند عالم نے مجھ سے خلق کیا ھے اور میں اس سے هوں۔ ”د “جس کو خداوند عالم نے خود اپنا اور میرا خلیفہ قرار دیا ھے ۔

[98] اس مطلب کے سلسله میں فکر کرنا اور تحقیق کرناـ

[99] یہ جملہ (نسخہٴ ”ج “)کتاب ” التحصین “کے مطابق خطبہ کا آخری جملہ ھے ۔

[100] ” ب “جان لہ کہ تمھارے سب سے بلند و برتر اعمال امر بالمعروف اور نھی عن المنکر ھیں ۔پس جو لوگ اس مجلس میں حا ضر نھیں ھیں اور انھوں نے میری ان باتوں کو نھیں سنا ھے ان کو سمجھانا چونکہ تم تک یہ حکم میرے اور تمھارے پرور دگار کا ھے ۔

[101] شاید اس سے مراد یہ هو کہ معروف و منکرات کا معین کرنا نیز معروف و منکرات کی شرطوں اور اس کے طریقہ کو امام معصوم معین کرتاھے ۔ نسخہٴ ” ج “میں اس طرح آیا ھے :”امر بالمعروف اور نھی عن المنکرصرف امام معصوم کے حضور میں هو تا ھے ۔

[102] سوره  زخرف آیت / ۲۸۔

[103] ” ب “ایھا الناس میں قرآن کو اپنی جگہ پر قرار دے رھا هوں اور میرے بعد میرے جا نشین علی (ع)  اورائمہ ان کی نسل سے ھیں ،اور میں نے تم کوسمجھادیا کہ وہ مجھ سے ھیں ۔اگر تم ان سے متمسک رهو گے تو ھر گز گمراہ نہ هو گے ۔

[104] سوره  حج آیت/۱ ۔

[105] ” د “جو شخص اچھے کام کرے گا کامیاب هوگا ۔

[106] ”الف “، ” ب “اور ” ھ “جو کچھ میں نے علی (ع)  کےلئے ”امیر المو منین“ کے عنوان سے بیان کیا ھے ۔

[107] اس مقام تک وہ عبارتیں تھیں جن کے سلسلہ میں پیغمبر اسلام  (ص) نے لوگوں سے چاھا کہ وہ اس کومیرے ساتھ دھرائیںیں اور اس کے مضمون کا اقرار کریں۔ یہ عبارتیں نسخہٴ ”ب“ کے مطابق بیان کی گئی ھیں۔ اس کے بعد ”الف“، ”د“ اور ” ھ “ میںاس جملہ ”آپ نے ھماری مو عظہٴ الٰھی کے ذریعہ نصیحت فر ما ئی “یھاں تک اس طرح آیا ھے :

       ”۔۔۔ھم خدا وند عالم ،آپ ،علی امیر المو منین   (ع)  ان کے امام فرزندجن کے سلسلہ میں آپ نے فر مایا کہ وہ آپ کے فرزنداور ان (علی) کے صلب سے ھیں کی اطاعت کرتے ھیں ۔ ”ھ “ (آپ نے فرمایا وہ علی (ع) کے صلب سے آپ کے فرزند ھیں وہ جب بھی آئیں اور امامت کا دعویٰ کریں )جو حسن و حسین علیھما السلام کے بعد ھیںمیں نے ان دو نوںکے مقام و منزلت کی اپنے اور خدا کے نزدیک نشاندھی کرادی ھے ۔ان دونوں کے سلسلہ میں میں نے یہ مطالب تم تک پہنچا دئے ھیں ، وہ دونوں جوانان جنت کے سردار ھیں ،وہ اپنے والد بزرگوار علی (ع) کے بعد امام ھیں اور میں علی (ع)  سے پھلے ان دونوں کاباپ هوں۔

        کهو ”ھم اس سلسلہ میں خدا وند عالم ،آپ ،علی (ع) ،حسن و حسین اور جن اماموں کا آپ نے تذکرہ فر مایا ھے ان سے عھد و پیمان باندھتے ھیں اورھم سے امیر المو منین علیہ السلام کے لئے میثاق لیاجائے ۔(”ھ “پس یہ پیمان مو منین سے لے لیا گیاهو ) ھمارے دلوں ،جانوں ،زبانوں اور ھاتھ سے ،جس شخص کےلئے ممکن هو اس سے ھاتھ سے ورنہ وہ اپنی زبان سے اقرار کرے ۔اس پیمان کو ھم نھیں بد لیں گے اور ھم کبھی بھی اس میں تغیرو تبدل کرنے کا ارادہ نھیں کریں گے۔

       ھم آ پ کا یہ فرمان اپنے دور اور قریب سب رشتہ داروں تک پہنچا دیں گے۔ ”ھ“ ھم آپ کا یہ قول اپنے تمام بچوں تک پہنچا ئیں گے چا ھے وہ پیدا هو گئے هوں اور چا ھے ابھی پیدا نہ هو ئے هوں )،ھم خدا کو اس مطلب کے لئےاپنا گواہ بناتے ھیں اور گواھی کے لئے خدا کافی ھے اور آپ(ع)  ھم پر شاھد ھیں ،نیز ھر وہ انسان جوخدا کی اطاعت کرتا ھے (چا ھے آشکار طور پر اور چاھے مخفی طور پر) نیز  خداوند عالم کے ملا ئکہ ،اس کا لشکر اور اس کے بندوں کو اپنا گواہ قرار دیتے ھیں اور خداوند عالم تمام گواهوںسے بلند و بالا ھے “۔

       ایھا الناس!اب تم کیا کہتے هو ؟یاد رکھو کہ اللہ ھر آواز کو جانتا ھے اور ھر نفس کی مخفی حالت سے باخبر ھے ،جو ھدایت حاصل کرے گاوہ اپنے لئے اور جو گمراہ هوگا وہ اپنا نقصان کرے گا ۔جو بیعت کرے گا اس نے گویا اللہ کی بیعت کی،اسکے ھاتھ پر اللہ کا ھاتھ ھے ۔

[108] یعنی کهو ”السلام علیک یا امیر المو منین “۔اور عبارت ” ب “میں اس طرح ھے :ایھا الناس جس کی میں نے تملوگوں کوتلقین کی ھے اس کی تکرار کرو اوراپنے امیر المو منین کو سلام کرو“۔ 

[109] اس عبارت کے دو طریقہ سے معنی بیان کئے جا سکتے ھیں :

       الف :”عَرَفَھَا “بغیر تشدید ،یعنی امیرالمو منین علیہ السلام کے فضائل بیان کرنے والے کو اھل معرفت هو نا چا ہئے اورصرف سنے هوئے کو لیں اس وقت تک نقل نہ کریں جب تک دشمنوںکی مکاریوںاور حذف شدہ عبارتوں سے آگاہ نہ هو جائیں کہ کھیں ایک فضیلت کا نتیجہ برعکس نہ هوجائے ۔

التماس دعا



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : دوشنبه بیست و یکم مهر ۱۳۹۳

 

 

من کنت اولی بہ من نفسہ فعلی اولی بہ من نفسہ۔ فانزل اللہ تعالی ذکرہ: الیوم اکملت لکم دینکم

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
بقلم: سید افتخار علی جعفری
اس مقالہ میں ہماری کوشش یہ ہے کہ اہل سنت و الجماعت کی ان وجوہات کو بیان کریں جن کی بنا پر وہ حدیث غدیر کے امیر المومنین علیہ السلام کی امامت اور بلافصل خلافت پر واضح اور آشکار نص ہونے کو قبول نہیں کرتے۔ اور منصفانہ طور پر یہ فیصلہ کریں کہ آیا یہ حدیث جیسا کہ شیعہ دعویدار ہیں واقعا علی علیہ السلام کی خلافت پر دلالت کرتی ہے یا نہیں؟
سب سے پہلے ہم احادیث کی ان کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن میں حدیث غدیر بیان ہوئی ہے۔ اس کے بعد حدیث غدیر ، اسکے بارے میں نظریات اور اشکالات بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

حدیث غدیر امام حنبل کی نگاہ میں
امام احمد حنبل نے اپنی مسند میں یوں بیان کیا ہے:
حدثنا عبد اللہ، حدثنی ابی، ثنا عفان، ثنا حماد بن سلمہ، انا علی بن زید، عن عدی بن ثابت ، عن البراء بن عازب، قال: کنا مع رسول اللہ[ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم] فی سفر فنزلنا بغدیر خم فنودی فینا: الصلاۃ جامعۃ، و کسح لرسول اللہ[ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم] تحت شجرتین فصلی الظھر و اخذ بید علی [رضی اللہ عنہ] فقال: الستم تعلمون انی اولی بکل مومن من نفسہ؟ قالوا: بلی ، قال فاخذ بید علی فقال: من کنت مولاہ فعلی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ۔ قال فلقیہ عمر بعد ذلک فقال لہ: ھنیئا یابن ابی طالب اصبحت و امسیت مولی کل مومن و مومنۃ۔ [1]
براء بن عازب کا کہنا ہے: ایک سفر میں ہم رسول خدا [ ص] کے ہمراہ تھے غدیر خم کے مقام پر پہنچے ایک آواز دی گئی: الصلاۃ جامعۃ، [ نماز جماعت کے لیے تیار ہو جاو] دو درختوں کے نیچے رسول خدا [ص] کے لیے انتظام کیا گیا رسول خدا نماز بجا لائے اور پھر حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کیا میں سب کی جان و مال کا مالک نہیں ہوں؟ سب نے کہا ہاں آپ ہماری جان و مال کے مالک ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں خدایا اس کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھےاور اس سےد شمنی رکھ جو علی سے دشمنی کرے۔ پھرعمرآپ کے گلے ملے اور کہا مبارک ہو اے ابو طالب کے بیٹے تم نے صبح وشام کی ہے اس حالت میں کہ تم ہر مومن مرد و عورت کے مولا ہو۔
یہ روایت[مسند احمد ] میں مختلف مقامات پربہت زیادہ سندوں کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔[2]
حافظ ابن عبداللہ نیشاپوری نے بھی مستدرک میں مختلف الفاظ میں مختلف مقامات پر حدیث غدیر کو نقل کیا ہے۔منجملہ:
حدثنا ابوالحسین محمد بن احمد بن تمیم الحنظلى ببغداد، ثنا ابوقلابة عبدالملک بن محمد الرقاشى، ثنا یحیى بن حماد، وحدثنى ابوبکر محمد بن احمد بن بالویه وابوبکر احمد بن جعفر البزاز، قالا ثنا عبدالله بن احمد بن حنبل، حدثنى ابى، ثنا یحیى بن حماد و ثنا ابونصر احمد بن سهل الفقیه ببخارى، ثنا صالح بن محمد الحافظ البغدادى، ثنا خلف بن سالم المخرمى، ثنا یحیى بن حماد، ثنا ابوعوانة، عن سلیمان الاعمش، قال ثنا حبیب بن ابى ثابت عن ابى الطفیل، عن زید بن ارقم ـ رضى اللّه عنه ـ قال: لمّا رجع رسول اللّه ـ صلى اللّه علیه وآله وسلم ـ من حجة الوداع ونزل غدیرخم امر بدوحات فقممن فقال: کانّى قد دعیت فاجبت. انى قد ترکت فیکم الثقلین احدهما اکبر من الآخر: کتاب اللّه تعالى وعترتى فانظروا کیف تخلفونى فیهما فانّهما لن یفترقا حتى یردا علىّ الحوض. ثم قال: ان اللّه ـ عزّ وجلّ ـ مولاى وانا مولى کل مؤمن. ثم اخذ بید علی ـ رضى اللّه عنه ـ فقال: من کنت مولاه فهذا ولیّه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه. و ذکر الحدیث بطوله. هذا حدیث صحیح على شرط الشیخین ولم یخرجاه بطوله.[3]
اسی کتاب میں اس حدیث کے نقل کرنے کے بعد دوسری سندوں کے ساتھ اسی روایت کو تکرار کیا ہے دونوں میں صرف اتنا فرق ہے کہ جملہ" من کنت مولاہ " سے پہلے کہتے ہیں:
ثم قال: أن تعلمون انى اولى بالمؤمنین من انفسهم ثلاث مرات قالوا: نعم فقال: رسول اللّه ـ صلى اللّه علیه وآله ـ من کنت مولاه فعلى مولاه.[4]

حدیث غدیر سنن ابن ماجہ اور ترمذی میں
ابن ماجہ لکھتے ہیں:
حدثنا على بن محمد، ثنا ابوالحسین، اخبرنى حماد بن سلمه، عن على ابن زید بن جدعان، عن عدىّ بن ثابت، عن البراء بن عازب، قال: اقبلنا مع رسول اللّه ـ صلى اللّه علیه وآله ـ فى حجّته التى حجّ فنزل فى بعض الطریق فامر الصلاة جامعة فأخذ بید علی فقال: ألست اولى بالمؤمنین من انفسهم؟ قالوا: بلى قال: الست اولى بکل مؤمن من نفسه؟ قالوا: بلى. قال: فهذا ولىّ من أنا مولاه، اللهم وال من والاه اللهم عاد من عاداه۔[5]
ترمذی بھی " سنن" میں اسی مضمون کے ساتھ اس حدیث کو نقل کرتے ہیں۔[6]
اس مقالہ میں ہم شیعوں کے منابع سے حدیث کو نقل نہیں کریں گے تاکہ ہمارا مقصد جو اہلسنت کے منابع سے حدیث غدیر کا اثبات ہے پورا ہو جائے ورنہ شیعہ منابع میں تو حدیث غدیر تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔

شیعوں کا نظریہ
شیعہ معتقد ہیں کہ پیغمبر اسلام [ص] کی رحلت کے بعد لوگوں کی دنیاوی اور دینی رہنمائی کا اہم مسئلہ خود لوگوں کے انتخاب پر نہیں چھوڑ دیا گیا۔ بلکہ رسول اکرم [ص] نے اسلام کی طرف پہلی دعوت [ دعوت ذوالعشیرہ] سے لے کر اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک جگہ جگہ اس مسئلہ کی طرف اشارہ فرمایا اور امیر المومنین علی علیہ السلام کو اپنا بلافصل خلیفہ اور جانشین مقرر فرمایا۔ حدیث غدیر انہیں روایات میں سے ایک ہے جو اس امر پر دلالت کرتی ہے۔

دوسرے مذاہب کا نظریہ
دوسرے اسلامی مذاہب شیعوں کے نظریہ کے مقابلے میں استدلال لاتے ہیں اور معتقد ہیں کہ یہ روایت حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کو ثابت نہیں کرتی۔ ہم یہاں پر ان کے نظریات کے بارے میں بحث و تحقیق کرتے ہیں۔
۱: ایک روایت سے استدلال کرنے کے لیے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ اس کی سند صحیح ہو دوسرے الفاظ میں، صرف اس روایت کو اس مسئلہ میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جس کا پیغمبر اسلام [ص] سے صادر ہونا یقینی ہو۔ خاص کر کے شیعہ عقیدہ کے مطابق جو مدعی ہیں کہ امامت کے مسئلہ میں ایک شخص کی روایت پر عمل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اس مہم مسئلہ پر دلالت کرنے والی دلیل کو متواتر ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے بعض اہل سنت کے علماء نے حدیث غدیر کو غیر متواتر سمجھتے ہوئے اسے استدلال کے قابل نہیں سمجھا۔ جیسے قاضی عضد الدین ایجی مواقف میں کہتے ہیں:
ہم اس روایت کی صحت کا انکار کرتے ہیں اور اس کے متواتر ہونے کا دعوی، بے دلیل ہے۔ کیسے یہ روایت متواتر ہے جبکہ اکثر اصحاب نے اسے نقل نہیں کیا ہے۔[7]
ابن حجر ھیثمی کا کہنا ہے: شیعہ فرقے اس بات پر متفق ہیں کہ جو چیز امامت پر دلیل کے عنوان سے پیش ہونا چاہیے اسے متواتر ہونا چاہیے۔ حالانکہ اس حدیث کا متواتر نہ ہونا معلوم ہے۔ جیسا کہ اس حدیث کی صحت کے بارے میں اختلاف پہلے گزر چکا ہے بلکہ وہ جنہوں نے اس حدیث کی صحت میں اشکال کیا ہے علماء حدیث میں سے ابو داود سجستانی، ابو حاتم رازی اور دوسرے لوگ ہیں پس یہ " خبر واحد" ہے جس کی صحت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔[8]
ابن حزم اور تفتازانی نے بھی یہی بات کہی ہے۔[9]

جواب:
یہ اشکال ہر اس شخص کی نظر میں جو تھوڑی بہت تاریخ اسلام اور احادیث سے آشنائی رکھتا ہے واضح ہے کہ تعصب اور کینہ کی وجہ سے ہے۔ ورنہ حدیث غدیر کا انکار کرنا ان سوفسطائیوں کی طرح ہے جنہوں نے واقعیت کے موجود ہونے کا انکار کیا، یا ان لوگوں کی طرح ہے جنہوں نے جنگ بدر اور احد کا انکار کیا۔ جو اسلام کے مسلمات میں سے ہیں۔
ہم مختصرا یہاں پر اس روایت کے مصادر اور اس کی صحت کے اصولوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس کی تفصیل کوجاننے کے لیے تین تحقیقی کتابوں "الغدیر" علامہ امینی، " عبقات الانوار، علامہ میر حامد حسین اور " احقاق الحق و ملحقاتہ" شہید قاضی نور اللہ شوشتری کی طرف ارجاع دیتے ہیں۔
کتاب احقاق الحق میں علماء اہل سنت کے چودہ افراد پر مشتمل ایک فہرست نقل ہوئی ہے جن میں علامہ سیوطی، جزری، جلال الدین نیشاپوری، ترکمانی ذہبی شامل ہیں ان سب نے حدیث غدیر کے تواتر ہونے کا اعتراف کیا ہے۔[10]
ابن حزم نے بھی منھاج السنہ میں یہی کہا ہے۔[11]
علامہ امینی " الغدیر" میں اہل سنت کے تینتالیس بڑے اور بزرگ علماء [منجملہ: ثعلبی، واحدی، فخر رازی، سیوطی، قاضی شوکانی] کی عبارتوں کو نقل کرتے ہیں جو حدیث غدیر کے صحیح السند ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ [12]نیز اہل سنت کے تیس بڑے مفسرین[ منجملہ: ترمذی، طحاوی، حاکم نیشاپوری، قرطبی، ابن حجر عسقلانی، ابن کثیر، ترکمانی] کی عبارتوں کو ان کے ناموں کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ ان سب نے اس آیت "یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک و ان لم تفعل۔۔۔" کے ذیل میں حدیث غدیر کو ذکر کرتے ہوئے اس آیت کو اس حدیث سے واضح ربط دیا ہے۔ [13]
کتاب " احقاق الحق" میں حدیث غدیر کو اہلسنت کے پچاس معتبر مصادر اور منابع سے نقل کیا ہے۔جیسے سسن المصطفی، مسند احمد، خصائص نسائی، عقد الفرید، حلیۃ الاولیاء وغیرہ۔[14]
یہاں پر ہم اہل سنت کے بعض بزرگان کے حدیث غدیر کے بارے میں اقوال کو الغدیر سے نقل کرتے ہیں:
ضیاء الدین مقبلی کا کہنا ہے: اگر حدیث غدیر قطعی اور یقینی نہیں ہے تو کچھ بھی دین اسلام میں قطعی اور یقینی نہیں ہے۔
غزالی کہتے ہیں: جمہور مسلمین کا اجماع ہے حدیث غدیر کے متن پر۔
بدخشی کہتے ہیں: حدیث غدیر صحیح حدیث ہے کوئی اس کی صحت پر شک نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کے اندر تعصب کی آگ جل رہی ہو کہ ایسے شخص کی بات کا کوئی اعتبار نہیں۔
آلوسی کا کہنا ہے: حدیث غدیر، صحیح حدیث ہے جس کی سند میں کوئی مشکل نہیں ہے اور ہمارے نزدیک اس کی صحت ثابت ہے ۔ رسول خدا [ص] سے بھی اور حضرت علی [ع] سے بھی تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔
حافظ اصفہانی کہتے ہیں: حدیث غدیر صحیح حدیث ہے کہ صحابہ میں سے سو افراد نے اسے نقل کیا ہے اور " عشرہ مبشرہ" بھی انہیں سو آدمیوں میں سے ہیں۔[15]
حافظ سجستانی کا کہنا ہے کہ حدیث غدیر ایک سو بیس صحابیوں کے ذریعے نقل ہوئی ہے اور حافظ اب العلاء ھمدانی نے ایک سو پچاس افراد کو بیان کیا ہے۔[16]
حافظ ابن حجر عسقلانی " تہذیب التھذیب" میں حدیث غدیر کے بعض راویوں کو بیان کرنے کے ضمن میں اس کے طرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ابن جریر طبری نے حدیث غدیر کی اسناد کو ایک کتاب کے اندر جمع کیا ہے اور اسے صحیح السند حدیث شمار کیا ہے اور ابو العباس ابن عقدہ نے بھی اسے صحابہ میں سے ستر افراد کے ذریعے سے نقل کیا ہے۔ [17]
نیز کتاب" فتح الباری بشرح صحیح البخاری" میں آیا ہے:
حدیث" من کنت مولاہ فعلی مولاہ" کو ترمذی اور نسائی نے نقل کیا ہے اور اس کے نقل کے راستے اور سندیں بہت زیادہ ہیں کہ ان سب کو ابن عقدہ نے ایک مستقل کتاب میں ذکر کیا ہے اور اس کی بہت ساری سندیں صحیح اور حسن ہیں۔ اور ہمارے لیے امام احمد حنبل سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: جو کچھ علی [ع] کے فضائل کے سلسلے میں مجھ تک پہنچا ہے صحابہ میں سے کسی ایک کے بارے میں نہیں ملتا۔ [18]
قندوزی حنفی حدیث غدیر کو مختلف اسناد سے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
محمد بن جریر الطبری نے حدیث غدیر کو پچھتر طریقوں سے نقل کیا ہے اور ایک مستقل کتاب بنام " الولایۃ" اس کے بارے میں تالیف کی ہے۔ نیز ابو العباس احمد بن محمد بن سعید بن عقدہ نے ایک کتاب تالیف کی جس میں ایک سو پچاس طریقوں سے حدیث غدیر کو نقل کیا ہے۔[19]
حافظ محمد بن محمد الجزری الدمشقی نے امیر المومنین[ع] کے حدیث غدیر سے احتجاج کرنے کو نقل کرتے ہوئے یوں لکھاہے:
یہ حدیث حسن ہے اور یہ روایت تواتر کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے جیسا کہ رسول اسلام سے بھی تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہے بہت سارے گروہ نے بہت سارے دوسرے گروہوں سے اس حدیث کو نقل کیا ہے پس جو لوگ اس حدیث کی سند کو ضعیف کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کی باتوں کی طرف توجہ دینا فضول ہے۔ اس لیے کہ وہ علم حدیث سے بے خبرہیں۔[20]
حدیث غدیر کو بخاری اور مسلم نے اپنی صحیحوں میں نقل نہیں کیا لیکن یہ چیز یعنی ان کا اپنی کتابوں میں نقل نہ کرنا ہر گز حدیث غدیر کی سند کے ضعیف ہونے پر دلالت نہیں کرتا۔ اس لیے کہ بہت ساری روایتیں جو خود بخاری اور مسلم کی نظر میں صحیح ہیں اور ان کی سندوں میں کوئی مشکل نہیں ہے انہوں نے اپنی صحیحوں میں نقل نہیں کیا۔ اسی وجہ سے ان کی کتابوں کے بعد کئی مستدرک لکھی گئیں۔ اگر تمام صحیح روایات صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں نقل ہو جاتی تو صحاح ستہ کی ضرورت نہ تھی۔ حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ کوئی عالم اور دانشمند اپنے پاس صحیح بخاری اور صحیح مسلم رکھنے کے بعد دوسری صحاح سے بے نیاز نہیں ہو جاتا۔
دوسری طرف سے خود بخاری اور مسلم نے بیان کیا ہے کہ جو کچھ ہم ان کتابوں میں لائے ہیں وہ صحیح ہے نہ یہ کہ جو کچھ صحیح تھا ہم نے ذکر کر دیا۔ بلکہ بہت ساری صحیح احادیث کو دوسری وجوہات کی بنا پر ذکر نہیں کیا۔[21]
مذکورہ مطالب کے علاوہ، علامہ امینی [رہ] حدیث غدیر کو بخاری اور مسلم کے اساتید اور بزرگان میں سے انتیس افراد سے نقل کرتے ہیں۔[22]
گفتگو کے اس حصہ کے آخر میں اس سلسلے میں کئے جانے والے ایک اشکال کو ذکر کرتے ہیں:
ابن حجر لکھتے ہیں:
حدیث غدیر، صحیح حدیث ہے کہ جس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں پائی جاتی۔ اور اسے ترمذی، نسائی او احمد حنبل جیسوں نے نقل کیا ہے اور بہت سارے طریقوں سے یہ حدیث نقل ہوئی ہے منجملہ اصحاب میں سے سولہ افراد نے اسے نقل کیا ہے اور احمد بن حنبل کی روایت میں آیا ہے کہ اسے تیس صحابیوں نے رسول اسلام [ص] سے سنا اور جب امیر المومنین کی خلافت پر جھگڑا ہوا تو انہوں نے گواہی دی۔[23]
پھر دوسری جگہ تکرار کرتے ہوئے کہتے ہیں:
حدیث غدیر کو تیس صحابیوں نے رسول خدا[ص] سے نقل کیا ہے اور بہت سارے اس کے نقل کے طریقے صحیح یا حسن ہیں۔[24]
پس خود اشکال کرنے والوں کی نظر میں جیسے ابن حجر غیرہ کہ جنہوں نے اس حدیث کی صحت پر اشکال کیا ہے توجہ نہیں کرنا چاہیے اس لیے کہ ابن حجر خود دوسری جگہ کہتے ہیں: ولا التفات لمن قدح فی صحتہ۔[25][ اس شخص کی بات پر کوئی توجہ نہیں کی جائے گی جو حدیث غدیر کے صحت پر شک کرے]۔
استاد محمد رضا حکیمی اپنی کتاب " حماسہ غدیر" میں اہل سنت کے ۱۵ معاصر علماء کے نام بیان کرتے ہیں جنہوں نے حدیث غدیر کو اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ان میں سے بعض یہ ہیں: احمد زینی دحلان، محمد عبدہ مصری، عبد الحمید آلوسی، احمد فرید رفاعی، عمر فروخ۔[26]
قابل توجہ ہے کہ شیعہ امامت سے مربوط روایات میں تواتر اور یقینی ہونےکو شرط سمجھتے ہیں اور حدیث غدیر شیعہ کتب روائی میں متواتر اور قطعی ہے۔ جیسا کہ بہت سارے سنی مصادر میں بھی اس کا قطعی الصدور ہونا ثابت ہے۔ اور سنی علماء کے عقیدہ کے مطابق کسی حدیث سے امامت کو ثابت کرنے کے لیے دوسرے فروع دین کی طرح اس کا صحیح السند ہونا کافی ہے اس کے تواتر کو ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لہذا یہ اشکال خود بخود رفع دفع ہو جاتا ہے۔
دوسرا اشکال جو قاضی عضد الدین ایجی نے اپنی کتاب " مواقف" میں بیان کیا ہے یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام غدیر کے دن پیغمبر کے ساتھ نہیں تھے، لکھتے ہیں:
علی [ع] حجۃ الوداع میں غدیر کے دن پیغمبر اسلام کے ہمراہ نہیں تھے بلکہ وہ یمن میں تھے۔[27]
بہتر ہے اس اشکال کو بیان کرنے سے پہلے " مواقف" کی شرح لکھنے والے کی بات کو بیان کریں۔ سید شریف جرجانی نے مواقف پر شرح لکھتے ہوئے اس مقام پر بیان کیا ہے:
یہ اشکال مردود ہے اس لیے کہ حضرت علی [ع] کا غائب ہونا حدیث کے صحیح ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا۔ مگر یہ کہ روایت میں یہ آیا ہو کہ پیغمبر اسلام نے علی کو اپنے پاس بلایا یا ان کا ہاتھ پکڑا۔ بہت ساری روایات میں یہ جملہ نقل نہیں ہوا ہے۔[28]
ابن حجر ہیثمی اس شبہ کے جواب میں لکھتے ہیں:
وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ حدیث غدیر صحیح نہیں ہے یا یہ اشکال کرتا ہے کہ حضرت علی یمن میں تھے اس کی بات غلط ہے اس لیے کہ حضرت علی یمن سے واپس آچکے تھے اور حج کو انہوں نے پیغمبر اسلام کے ساتھ بجا لایا تھا۔[29]
اگر چہ تاریخی اعتبار سے امیر المومنین کا یمن سے واپس لوٹنا اور پیغمبر اسلام کے ہمراہ حج کے ارکان کا بجا لانا مسلم ہے لیکن پھر بھی نمونہ کے طور پر چند ایک نکات کو ان لوگوں کے حوالے سے جنہوں نے اس مسئلہ کو چھیڑا ہے بیان کرتے ہیں:
طبری [ تاریخ طبری، ج۲، ص۲۰۵] ابن کثیر[ البدایہ و النھایۃ ، ج۲ ص۱۸۴ اور نیز اسی جلد کے صفحہ ۱۳۲ پر مفصل طور پر امیر المومنین کے یمن سے واپس پلٹنے کی بحث کو بیان کرتے ہیں اور آپ کی واپسی کو ثابت کرتے ہیں،] ابن اثیر [ الکامل ، ج ۲ ص ۳۰۲]۔
۳: تیسرا اشکال جو زیادہ اہم اور مضبوط ہے وہ ہے کلمہ "مولا" کے بارے میں کہ یہ کلمہ مختلف معنی پر دلالت کرتا ہے جیسے ''چچا کا بیٹا''، "غلام کو آزاد کرنے والا"، "پڑوسی" " دوست" ، " اولی بالتصرف" "ولی اور سرپرست" وغیرہ۔ شیعہ حدیث غدیر کے شواہد و قرائن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس حدیث میں لفظ مولا ولی، سرپرست اور اولی بالتصرف کے معنی میں ہے۔ لیکن بعض سنی علماء کلمہ مولا میں شبہہ ایجاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہاں پر مولا دوست وغیرہ کے معنی میں ہے بظاہر یہ شبہہ فخرالدین رازی نے کتاب " نھایۃ العقول" میں ایجاد کیا اور دوسروں جیسے قاضی عضد الدین ایجی، [30] ابن حجر[31] اور فضل بن روزبھان[32] نے فخر رازی سے اسے نقل کیا ہے۔
قاضی عضد الدین ایجی کتاب مواقف میں لکھتے ہیں:
کلمہ " مولا" سے مراد "ناصر" ہے اس لیے کہ حدیث کے بعد پیغمبر اسلام کے دعائیہ جملہ سے یہی معنی سمجھ میں آتے ہیں اور مولا سے مراد "اولی" نہیں ہے اس لیے کہ کبھی بھی مفعل کا وزن افعل کے معنی میں نہیں آتا ہے۔ [33]
ابن حجر ہیثمی نیز کہتے ہیں:
ہم اس چیز کو قبول نہیں کرتے کہ " مولا" کے معنی وہی ہوں جو شیعہ کہتے ہیں بلکہ اس کے معنی "ناصر" کے ہیں اس لیے کہ مولا کے معنی متعدد ہیں جیسے " آزاد کرنے والا"، " امور میں تصرف کرنے والا"، " ناصر" " محبوب" ۔ ہم اور شیعہ دونوں معترف ہیں کہ اگر اس روایت میں مراد " محبوب" ہو اس کے معنی صحیح نکلیں گے اس لیے کہ علی [ع] ہمارے اور ان کے محبوب ہیں ۔ لیکن یہ کہ مولا کے معنی " امام" ہوں نہ شریعت میں یہ معنی ہیں اور نہ لغت میں۔ شریعت میں یہ معنی بیان نہیں ہوئے اس کے بارے میں بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ واضح ہے لیکن لغت میں بھی یہ معنی نہیں آئے ہیں یہ بھی لغت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی عرب لغت دان نے "مفعل" کے معنی ''افعل" بیان نہیں کئے ہیں۔[34]
بعض دوسرے لوگوں کی باتیں بھی انہیں الفاظ کے ساتھ تکرار ہوئی ہیں۔

اشکال کا جواب
اس اشکال کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ شیعہ معتقد ہیں کہ اگر فرض کریں یہ قبول کر لیتے ہیں کہ کلمہ "مولا" چند معنی میں مشترک ہے اور عربی لغت دانوں نے بعد والے زمانے میں مولا کے معنی اولی نہیں کئے لیکن رسول اسلام کے زمانے میں اور اس حدیث کو بیان کرتے وقت مخاطبین نے ان معنی کو اس کلمہ سے سمجھا ہے۔ اس مدعی پر ہمارے پاس کئی دلیلیں ہیں:
۱: حسان بن ثابت کہ جو صدور حدیث کے وقت موجود تھے کہ جن کے ادبی مقام کا انکار کرنے والا کوئی نہیں ملتا، [35] انہوں نے رسول خدا [ص] سے اجازت چاہی تاکہ اس واقعہ کو اپنے منظوم کلام میں بند کرے ان کے منجملہ اشعار میں سے ایک شعر یہ ہے:

فقال لہ قم یا علی فاننی
رضیتک من بعدی اماما و ھادیا
علامہ امینی نے ان اشعار کو اہل سنت کے بارہ مآخذ اور اہل تشیع کے چھبیس مآخذ سے نقل کیا ہے۔[36]
قیس بن سعد بن عبادہ نے بھی اپنے اشعار کے اندر یوں کہا:
و علی امامنا و امام
لسوانا اتی بہ التنزیل
یوم قال النبی من کنت مولاہ
فھذا مولاہ خطب جلیل
علامہ امینی نے ان اشعار کو بارہ مآخذ سے نقل کیا ہے۔[37]
عمر عاص نے بھی اپنے اشعار میں کہا:
و فی یوم خم رقی منیرا
یبلغ و الرکب لم یرحل
الست بکم منکم فی النفوس
باولی؟ فقالوا: بلی فافعل
فانحلہ امرۃ المومنین
من اللہ مستخلف المنحل
و قال فمن کنت مولا لہ
فھذا لہ الیوم نعم الولی

ان اشعار کو بھی علامہ امینی نے شیعہ سنی آٹھ مصادرسے نقل کیا ہے۔ [38]
اس کے علاوہ علامہ امینی الغدیر میں بہت سارے شعراء اور عرب ادبا کے کلمات کو بیان کرتے ہیں جو کلمہ مولا سے امامت اور ولایت کے معنی سمجھتے پر دلالت کرتے ہیں۔[39]
خود مولا علی[ع] نے ایک شعر کے اندر جو معاویہ کو لکھا ہے اس بات کی تائید کے طور پر لکھا ہے:
و اوجب لی ولایتہ علیکم
رسول اللہ یوم غدیر خم
علامہ امینی نے اسے شیعوں کے گیارہ منابع اور سنیوں کے چھبیس منابع سے نقل کیا ہے۔[40]
نیز اس حدیث سے ولی کے معنی سمجھنے پر بہترین دلیل حضرت ابوبکر اور عمر کا مبارک باد دینا ہے جو رسول خدا [ص] کے خطبہ کے تمام ہونے کے بعد انہوں نے علی علیہ السلام کو مخاطب کر کے مبارک باد دی:
بخ بخ لک یا بن ابی طالب اصبحت مولای و مولی کل مومن و مومنۃ۔
علامہ امینی نے شیخین کی تبریک کو ساٹھ سنی مصادر سے نقل کیا ہے [ منجملہ: مسند احمد، تاریخ الامم و الملوک، تاریخ بغداد، مصنف ابن ابی شیبہ ہیں] [41]
سچ مچ اگر پیغمبر اسلام [ص] کی مولا سے مراد ناصر اور محبوب ہوتی تو علی علیہ السلام کو مبارک باد دینے کی کون سی جگہ تھی؟ اس کے علاوہ بعض لوگوں کا غدیر خم کے مقام پر شدید اعتراض کرنا [جیسے حارث بن نعمان فہری] اور خدا سے عذاب کی درخواست کرنا اور اللہ کی طرف سے اس پر عذاب کا نازل ہونا یہ سب کس لیے تھا؟ صرف اس لیے کہ علی پیغمبر اسلام کے ناصر اور محبوب ہو گئے؟ وہ تو پہلے بھی تھے بغیر کہے انہوں نے اپنی زندگی نصرت اسلام اور رسالت کے لیے وقف کر دی تھی۔
علامہ امینی نے اس واقعہ کو اہل سنت کے تیس منابع سے نقل کیا ہے جن میں الکشف و البیان، دعاۃ الھداۃ اور احکام القرآن شامل ہیں۔[42]
انصاف سے بتائیں کہ کیا اگر حدیث غدیر میں مولا کے معنی ناصر اور محبوب کے ہوتے تو کیا یہ اتنے غضب اور انکار کی جگہ تھی حارث بن نعمان فھری جیسوں کو آتش غضب میں جلایا جاتا؟ اس حدیث کے علاوہ بہت ساری دوسری حدیثیں حتی قرآن کی آیتیں موجود ہیں جو صریحا امیر المومنین کی محبت اور نصرت پر دلالت کرتی ہیں کیوں جب وہ صادر ہوئی تو کسی نے اعتراض نہیں کیا؟
یہ چیز بھی ہمارے دعوے پر دلیل ہے کہ پیغمبر اسلام حدیث غدیر کو بیان کرنے سے خوف کھا رہے تھے اور اس مسئلہ کو تاخیر میں ڈال رہے تھے یہاں تک کہ آیہ کریمہ نازل ہوئی اور کھلے الفاظ میں پیغمبر اسلام کی حفاظت کا وعدہ دیا " واللہ یعصمک من الناس" خدا آپ کو لوگوں کے شر سے بچائے گا۔ آپ کو جو حکم دیا گیا ہےاسے انجام دیں۔
تو کیا یہ علی علیہ السلام کی محبوبیت اور ناصریت کا اعلان تھا جو منافقین کے مزاج سے سازگار نہیں تھا اور پیغمبر اسلام جن سے خوف کھا رہے تھے۔ واضح اور آشکار ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی محبوب یا ناصر ہونے کے اعلان سے منافقین کی صحت پر کوئی اثر پڑنےوالا نہیں تھا اس لیے کہ روز اول سے وہ اس اعلان سے واقف تھے اور جگہ جگہ آپ کی مدد اور نصرت کے کرشمہ ملاحظہ کر چکے تھے۔ لہذا اگر دسیوں بار پیغمبر[ص] علی [ع] کے ناصر ہونے کا اعلان کردیں تو ان کی پیشانی پر کوئی بل نہ نہیں آئے گا۔ لہذا اتنے سارے شواہد و قرائن ملاحظہ کرنے کے بعد یہ کہنا کہ مولا سے مراد ناصر اور محبوب ہے انصاف سے دور اور تعصب کے نزدیک ہے۔ غدیرخم میں رسول اسلام [ص] کا عظیم انتظام اورانصرام یہ بتا رہا ہے کہ مسئلہ بہت حساس موڑ پر ہے اور جو بات وہ کہنے جا رہے ہیں وہ معمولی سی بات نہیں ہے وہ اسلام کے مستقبل کی تقدیر ہے۔ لہذا حدیث غدیر میں مولا سے مراد صرف اور صرف اولی بالتصرف ، ولی و سرپرست ہے۔
یہاں پر اس نکتہ کی طرف متوجہ کر دوں کہ پیغمبر اسلام [ص]کو اپنی جان کا خطرہ اور خوف نہیں تھا کہ منافق ان کی جان لے لیں گے بلکہ آپ [ص] دین میں اختلاف اور امت میں پراکندگی سے خوف کھا رہے تھے لیکن پرورگار عالم نے انہیں اطمینان دلایا کہ اعلان ولایت اختلاف سے بڑھ کر ہے اگر سلسلہ ولایت کا اعلان نہیں ہو گا تو دین خطرے میں پڑ جائے گا اس لیے کہ اس کا محافظ نہیں رہے گا۔ اور ایسا خوف کھانا کوئی عیب بھی نہیں ہے حضرت موسی کے بارے میں بھی خدا فرماتا ہے: فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی۔[43]
اور مزید عرض کر دوں کہ علامہ میر حامد حسین نے حدیث غدیر کو مختلف طریقوں سے نقل کیا ہے کہ بعض جگہوں میں بجائے "من کنت مولاہ" کے حدیث " من کنت اولی بہ من نفسہ فعلی ولیہ" کے الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔[44] ان الفاظ کے بعد یہ بحث کہ مولا کے معنی کیا ہے خود بخود ختم ہو جاتی ہے اس لیے کہ حدیث نے خود واضح طور پر بیان کر دیا کہ جس طریقے سے رسول اسلام [ع] مسلمانوں کے نفوس پر اولویت اور حاکمیت رکھتے ہیں علی بھی ویسے ہی تصرف اور حاکمیت کا حق رکھتے ہیں۔ حموینی نے بھی اپنی کتاب " فرائد السطین" میں انہیں کلمات کے ساتھ حدیث غدیر کو نقل کیا ہے: من کنت اولی بہ من نفسہ فعلی اولی بہ من نفسہ۔ فانزل اللہ تعالی ذکرہ: الیوم اکملت لکم دینکم۔[45]
اس بات پر بھی ایک نگاہ کرنا ضروری ہے کہ آیا لغت میں کلمہ مولا اولی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کہ نہیں؟ چلبی مواقف پر حاشیہ کے دوران قاضی عضد الدین سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
اس اشکال کا جواب دیا جا چکا ہے کہ مولا کا " متولی"، "صاحب امر"، " اولی بالتصرف '' کے معنی میں استعمال کرنا عربی لغت کی اندر شایع ہے اور عربی لغت دانوں کے ذریعے یہ استعمال نقل ہوا ہے۔ ابو عبیدہ کا کہنا ہے " ھی مولاکم ای اولی بکم" اور پیغمبر اکرم [ص] نے فرمایا ہے: ایما امراۃ نکحت بغیر اذن مولاھا؛ یعنی اس شخص کی اجازت کے بغیر جو اس پر اولی بالتصرف ہے۔ پس یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ مولا کے معنی اولی کے نہیں ہو سکتے اس لیے کہ مولا بر وزن مفعل ہے اور ولی فعیل کے وزن پرہے۔ مولا اسم ہے جو اولی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے نہ اولی کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔[46]
علامہ میر حامد حسین نے ایک مکمل جلد کو اس بات سے مخصوص کیا ہے کہ مولا اولی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یا نہیں، وہ لوگ جنہوں نے یہ دعوی کیا ہے مولا " اولی" کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا ان کے بارے میں تفصیل سے انہوں نے اس کتاب کے اندر بیان کیا ہے۔[47]
مزید جانکاری کے لیے ان کی کتاب عبقات الانوار کی طرف رجوع کریں۔

(جاری)
..............

[1] امدي، علي‌بن محمد؛ الاحكام؛ بيروت: مؤسسه النور، 1387ق.
[2] ابن ابي‌الحديد؛ شرح نهج‌البلاغه؛ بيروت: داراحياء الكتب العربيه، [بي‌تا
[3] ابن ابي‌شيبه كوفي؛ لامصنف؛ بيروت: دارالفكر، [بي‌تا].
[4] ابن‌اثير، علي؛ اسدالغابه؛ تهران: اسماعيليان، [بي‌تا].
[5] ابن‌الجارود نيشابوري؛ المنتقي؛ بيروت: مؤسسه الكتب الثقافيه، [بي‌تا].
[6] ابن الدمياطي، المستفاد؛ بيروت: دارالكتب العلميه، [بي‌تا].
[7] ابن حبان، عبدالله؛ البداية و النهاية؛بيروت: دارالحياء التراث العربي، [بي‌تا].
[8] ________، تقريب التهذيب؛ بيروت، دارالمكتبة العلميه، 1995م.
[9] ________، تهذيب التهذيب؛ بيروت: دارالفكر، 1984م.
[10] ________، طبقات المحدثين؛ بيروت: مؤسسه الرساله، 1992م.
[11] ________، غريب الحديث؛ بيروت: دارالكتب العلميه، [بي‌تا].
[12] ابن‌حبان، علي‌بن بلياني؛ صحيح‌ابن حبان؛ الطبعة الثانيه، [بي‌نا]،[بي‌تا] 1993م.
[13] ابن ‌حجر عسقلاني، شهاب‌الدين؛ فتح‌الباري؛ بيروت: دارالمعرفة، [بي‌تا].
[14] ابن‌حزم، ابومحمد علي؛ الفصل في ‌الملل والاهواء؛ بيروت: [بي‌نا]۔[ بی تا].
[15] ابن‌خلدون؛ تاريخ ابن ‌خلدون؛ بيروت: مؤسسه الاعلمي، [بي‌تا].
[16] ابن خلكان، احمد بن محمد؛ وفيات الاعيان؛ بيروت: داراحياء التراث العربي، 1397م.
[17] ابن‌سعد، محمد؛ الطبقات الكبري؛ بيروت: دار صادر، [بي‌تا].
[18] ابن عساكر، ابوالقاسم؛ تاريخ مدينه دمشق؛ بيروت: دارالفكر، 1995م.
[19] ابن قتيبه دينوري؛ الامامة والسياسة؛ قم: شريف رضي، [بي‌تا].
[20] ابن‌كثير، اسماعيل؛ تفسير القرآن ‌الكبير؛ بيروت: دارالمعرفة، 1992م
[21] ابن ‌ماجه، محمد بن يزيد قزويني؛ سنن ابن ماجه؛ بيروت: دارالفكر، [بي‌تا].
[22] ابن‌نجار، محمد؛ ذيل تاريخ بغداد؛ بيروت: دارالكتب العلميه، [بي‌تا].
[23] ابن‌هشام، محمد؛ سيرة النبي؛ مصر: مكتبة محمد، [بي‌تا].
[24] ابن مزاحم منقري، نصر؛ واقعة الصفين؛ قاهر: مدني، [بي‌تا].
[25] ابي‌داوود، ابن ‌اشعث؛ سنن ابي ‌داوود؛ بيروت: دارالفكر، [بي‌تا].
[26] احمد بن حنبل؛ فضائل‌الصحابه؛ بيروت: دارالكتب العلميه، [بي‌تا].
[27] ________، مسند احمد؛ بيروت: دار صادر، [بي‌تا].
[28] اسكافي، ابوجعفر؛ المعيار والموازنه؛ قم: تحقيق محمدباقر محمودي، [بي‌نا]، [بي‌تا].
[29] اصفهاني، ابي‌نعيم؛ ذكر اخبار اصبهان؛ ليدن: بريل، 1934م.
[30] الباني، محمدناصر؛ ارواءالغليل؛ بيروت: مكتب‌الاسلامي، [بي‌تا].
[31] اميني، عبدالحسين(علامه)؛ الغدير؛ بيروت: دارالكتاب العربي، 1379ق.
[32] بخاري، محمد بن اسماعيل؛ تاريخ ‌الكبير؛ دياربكر: مكتبةالاسلاميه، [بي‌تا].
[33] بلاذري، احمد؛انساب الاشراف؛ بيروت: مؤسسه الاعلمي، [بي‌تا].
[34] ________، فتوح‌البلدان؛ مصر: لجنة البيان ‌العربي، [بي‌تا].
[35] بيهقي، ابوبكر؛ سنن ‌الكبري؛ بيروت: دارالفكر، [بي‌تا].
[36] ترمذي، محمد بي ‌عيسي؛ سنن ترمذي؛ بيروت: دارالفكر، [بي‌تا].
[37] حاجي خليفه؛ كشف‌الظنون؛ بيروت: دار احياءالتراث العربي، [بي‌تا].
[38] حاكم حسكاني، عبيدالله ‌بن احمد؛ شواهد التنزيل؛ ايران: مجمع احياء الثقافة الاسلاميه، 1411ق.
[39] حاكم نيشابوري، محمد بن عبدالله؛ المستدرك؛ بيروت: دارالمعرفه، [بي‌تا].
[40] ________، معرفة علوم ‌الحديث؛ بيروت: دارالافاق‌الجديد، [بي‌تا].
[41] حموي، ياقوت؛ معجم ‌البلدان؛ بيروت: داراحياء التراث‌العربي، 1979م.
[42] خطيب بغدادي، احمد بن علي؛ تاريخ بغداد؛ بيروت: دارالكتب العلميه، [بي‌تا].
[43] طہ، ۶۷
[44] دينوري، ابن قتيبه؛ تأويل مختلف الحديث؛ بيروت: دارالكتب العلميه، [بي‌تا].
[45] ذهبي، ابوعبدالله؛ تذكرة الحفاظ؛ بيروت: داراحياء التراث العربي، [بي‌تا].
[46] ________، سير اعلام النبلاء؛ بيروت: مؤسسه الرساله، [بي‌تا].
[47] رازي، محمد بن عمر؛ المحصول؛مؤسسه الرساله، [بي‌تا].
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۳

 

عکس های رهبر حسینی مون، زیباترین آقای دنیا بعد از امام زمان ارواحنا له الفداء
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
جهت سلامتی و طول عمرشون صلوات بفرستید.
اللهم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجهم
 


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۳

 

خاطرات و کراماتی از مقام معظم رهبری

 


 

 

مختصری از زندگی نامه

ولادت


روز ۲۴تیر ماه۱۳۱۸برابر با۲۸صفر۱۳۵۸هجری قمری،مصادف بود با همان روزی که رهبر عالیقدر آیندگان، سید علی خامنه ای، پا به عالم خاک نهاد و از مشهد مقدس، شهر اباالحسن،علی بن موسی الرضا(علیه السلام)یعنی مشهد مقدس چشم بر عالم گشود تا سیّدی باشند، خراسانی!.
ایشان دومین پسر از پسران حجت الاسلام حاج سید جواد حسینی خامنه ای بودند، طبق فرموده خودشان:((از همان کودکی طعم زندگی ساده و همراه با قناعت شدید زیر زبانشان است))و نیز می فرمودند:((پدرم روحانی بود،اما خیلی پارسا و گوشه گیر، زندگی ما به سختی می گذشت، من یادم هست شبهایی می شد که در منزل ما شام نبود و مادرمان با زحمت برایمان شام تهیه می کردند و آن هم نان و کشمش بود!))
ایشان از ۴سالگی به همراه برادر بزرگترشان، سید محمد، برای آموختن الفبا و قرآن به مکتب فرستاده میشوند و پس از گذراندن این دوره و تحصیلات ابتدائی وارد حوزه می شوند و نزد اساتید وقت، مقدمات را می خوانند،در بخش اساتید و شاگردان ، اساتید دروسشان را به شرح نام خواهیم برد.مبارزاتشان علیه رژیم پهلوی را از سال۱۳۳۱ به همراه شهید نواب صفوی آغاز می نمایند و در نهایت به همراه امام و مردم، انقلاب را به پیروزی می رسانند.
سال۱۳۶۸نیز آغاز ولایت امری ایشان می باشد و ان شاالله سایه وجود با برکتشان تا ظهور حضرت صاحب(عج)،که به فرموده بسیاری از اولیاء الهی بسیار نزدیک است و سپردن پرچم اسلام به دستان حضرت، مستدام بماند.

 

خاطرات و کرامات


آنچه که در این بخش در مورد کرامات این مرد عظیم می توان گفت،این است که شأن سیاسی و وجه ی راه بری عمومی ایشان اقتضا می کند که ایشان کاملاً مکتوم و پوشیده بمانند.اما در اینجا اندکی از مواردی که دیده شده و یا توسط اوتاد اولیاءالهی(علیهم الرحمه)به تایید رسیده است را به اختصار خواهیم آورد.باشد که مورد توجه بیشتر مخاطبین قرار گیرد.

خورشید چند دقیقه ای در اینجا تابید و رفت!
حجت السلام حیدری کاشانی،از شاگردان حضرت آیت الله بهائدینی(رحمته الله علیه)،در کتاب شریف(سیری در آفاق)آورده اند که:وقتی که رهبر معظم به قم آمده بودند و به دیدار حضرت آیت الله بهائدینی(رحمته الله علیه)نیز مشرف شده بودند، بنده حضور نداشتم.روز بعد که خدمت آیت الله بهائدینی(رحمته الله علیه)این ولیّ بزرگ الهی، رسیدم از ایشان پریسدم:آیا دیروز رهبر معظم به دیدار شما نیز آمدند؟فرمودند:
((آری،خورشید چند دقیقه ای اینجا تابید و رفت!))


اُسوه ی زمان 

حضرت علامه حسن زاده آملی(حفظه الله)که از اوتاد اولیاء الهی بوده و وصف مقاماتشان از هیچ قلمی برنیاید،مطالب ذیل را در شأن مقام معظم رهبری یبان می فرمایند.بدیهی است که اولیاء خدا هیچ گاه به اضافه گویی و اغراق از کسی نمی گویند:

«رهبر عظیم الشأن کشور بزرگ جمهوری اسلامی ایران،آیت الله معظّم،جناب خامنه ای کبیر-مَتَع الله الاسلام وَ المُسلمین بِطولِ بَقائهُ الشَّریف-قائد، ولیّ ، وفیّ و رائد، سائس،حفی، مصداق بارز((نَرفَعُ دَرَجات مَن نَشاء))می باشد.
عزّت و شکوت روز افزون آن قائد اُسوه ی زمان را همواره از حقیقة الحقائق مسئلت دارم و امیدوارم دادار عالم و آدم همواره سالار و سرورم را سالم و مسرور دارد.»
حسن حسن زاده آملی
تقدیم اثر به مقام رهبری
و نیز ایشان در جایی دیگر،پس از تألیف یکی از کتب ارزشمند خود به نام:
(فصّ حِکمِة عِصمَتیّهَ فی کَلِمَتِهِ فاطمیَّه)آنرا هدیه ای به مقام رهبری دانسته و مطالب ذیل را در این مورد می نویسند:
بسم الله الرّحمن الرّحیم
«این صحیفه نور موسوم به(فصّ حِکمِة عِصمَتیّهَ فی کَلِمَتِهِ فاطمیَّه) به مناسبت تأسیس نخستسن کنگره و تجلیل و تکریم از عصمة الله الکبری و ثمره شَجَرةِ التَقین و اَحسنَ منازِلَ القّرآن و بَقّیَّتِه النُبُوَة و مِشکوةِ الوِلایهِ وَ الُاِمامَته، حضرت فاطمة بنت خاتم الانبیاء محّمد مصطفی- صَلَّی الله عَلَیه وَ آلهِ وسَلَم-که به فرمان همایون و خجسته رهبر عظیم الشأن کشور بزرگ جمهوری اسلامی ایران، جناب آیت الله معظم،خامنه ای کبیر-مَتَّعَ الله السلام و المسلمین بِطولِ بقائُه الشَّریف-درساری مازندران برگزار می شود.با سلام و تحیّت خالصانه و ارادات بی پیرایه و درود ونوید جاوید به حضور آن قائد ولی وفی، و رائد سائس حفی، مصداق بارز((نَرفَع دَرَجات مَن نَشاء)) تقدیم می گردد و عوض می شود:
((یا اَیَها العَزیز ،جِئنا بِبِضاعةٍ مُزجاة۱))
دادار عالم و آدم همواره سالار و سرورم را مسرور دارد. ۱۴/۶/ ۱۳۷۶
۱:برگرفته از آیه۸۸سوره یوسف(ع) المّتمِسَک بذیل الولایة:حسن حسن زاده آملی»

گوشهایتان به دهان رهبرتان باشد

اخیراً نیز در یک سخنرانی عمومی که مستند می باشد، در تاریخ۲۲/۷/۸۸،حضرت علامه حسن زاده آملی(حفظه الله)مطالب قابل تأمل زیر را بیان فرمودند:
((گوشِتان فقط به دهان رهبرتان باشد،چرا که گوش ایشان به دهان حضرت صاحب الزمان(عج الله تعالی فرجه)است!!!)).

آنکه دنیا نتوانست شکارش کند!

در جایی دیگر حضرت علامه حسن زاده آملی ایشان را اینگونه وصف می کنند:

((رهبر عظیم الشأن، آن که دنیا نتوانست شکارش کند!))

بسیار مراقب باشید!

حضرت آیت الله فاطمی نیا(حفظه الله)که خود یکی از شاگردان بارز اخلاقی و عرفانی اولیاء بزرگ الهی همچون:حضرت آیت الله بهائدینی، حضرت علامه طباطبایی، حضرت آیت الله مصطفوی تبریزی و نیز حضرت آیت الله بهجت (علیهم الرحمة)می باشند،در یکی از جلسات سخنرانی خویش می فرمایند:
((در این منبر سید الشهداء، اگر یقین نداشتم نمی گفتم،عزیزان، بدانید و آگاه باشید!امروز این کشور پرچم دار اسلام در جهان است ،ضربه زدن به این کشور هم ضربه زدن به اسلام است و گناهیست عظیم.رهبر این کشور، این مرد بزرگ الهی نیز پرچم دار این کشور است، پس هر گونه قدمی در جهت تضعیف و یا ضربه زدن به ایشان ضربه ی به اسلام است.بسیار باید مواظب بود، نپرسید چطوری؟، ولی همین قدر بدانید که با یقین عرض می کنم:امروز هر کس قدمی علیه ایشان بر دارد، عاقبت به خیر شدنش بعید است!))
ایشان از ماست!
حضرت آیت الله کاظم صدیقی(حفظه الله)از شاگردان برجسته عرفانی و اخلاقی حضرت آیت الله بهجت(رحمت الله علیه)در سخنرانی عمومی خود در بیت رهبری در شهادت حضرت زهرا(سلام الله علیها)به تاریخ ۲۸/۲/۸۹ نقل فرمودند که:
((یکی از شاگردان آیت الله بهجت، به نام مرحوم آیت الله شیخ علی احمدی میانجی که از عارفان بنام بودند، برای بنده تعریف کردند.البته می دانم که خود آقا(مقام رهبری) راضی به نقل این ماجرا نیستند،اما چه کنم؟!امشب اینجا نگویم کِی بگویم؟آن بزرگوار یعنی همان مرحوم میانجی،صاحب مقام تشرف بودند و برای من تعریف کردند که یک بار در یکی از تشرفات از حضرت صاحب الزمان(عج)در مورد رهبری سید علی خامنه ای پرسیدم،حضرت فرمودند:((ایشان از ماست!!!)).))
شخص اول ما
حضرت آیت الله مشکینی(رحمته الله علیه)که خود از علمای ربّانی و اولیاء الهی بودند در وصف مقام رهبری چنین فرموده اند:
((اَلحَمدُ لله در رأس کشور ما شخصی قرار دارد که به راحتی پشت سرش نماز می خوانیم، فردی از فرزندان حضرت زهرا(سلام الله علیه)که در سالهای متمادی مورد امتحان قرار گرفته و از همه ی آزمایش ها سر بلند بیرون آمده است.))

امشب یک اتفاقی در حال رخ دادن است!

حجت السلام نیازی نقل می کنند:

شب حوادث کوی دانشگاه من طبق معمول خدمت آقا رسیدم تا گزارشات روزمره را به اطلاع برسانم.هنوز خودم هم بی خبر بودم، پس از نماز مغرب و عشاء به امامت ایشان برای اعلام اخبار آماده شدم،آقا فرمودند:((امشب یک اتفاقی در حال رخ دادن است!))
بعداً خبر کوی دانشگاه منتشر شد!

 

اگر می دانستند!

یکی از وابستگان و مرتبطان با حضرت آیت الله بهجت نقل می کند:
بار اول که مقام معظم رهبری به قم تشریف آورده بودند حضرت آیت الله بهجت نیز همچون سایر مردم در خیابانها به جمعیت استقبال کننده پیوسته بودند.ما به ایشان عرض کردیم:
آقا کاش شما با این شرایط سنی و جسمی به خیابان تشریف نمی آوردید.فرمودند:
((اگر مردم می دانستند که استقبال از این سیّد چه ارزش و ثوابی دارد هیچ کس در خانه اش نمی ماند!))

 

خواب آیت الله بهجت

حضرت آیت الله کاظم صدیقی نقل می کنند:
شخص موثقی از مرتبطان با حضرت آیت الله بهجت برای بنده نقل کردند:شبی آِیت الله بهجت در عالم رویا می بینند که در جایی تمام علمای بزرگ جمع هستند و حضرت حجّت(عج)نیز تشریف دارند و نشسته اند.ناگهان حضرت آقای خامنه ای از در وارد می شوند و حضرت به احترامشان از جای بر می خیزند و جایی را برای ایشان باز می کنند!
(یعنی حضرت می خواستند احترام ایشان را در نزد خودشان به سایرین بفهمانند.)
شما بهتر سراغ دارید؟
روزی شخصی نزد آیت الله بهجت شروع به گلایه از مسؤلان نمود.همین که گلایه و بد گویی ها را خواست به سمت حضرت آقای خامنه ای نیز بکشاند فوراً حضرت آیت الله بهجت که سرشان پایین بود، سر را بالا آورده و با نگاه تندی به آن شخص فرمودند:((شما بهتر از ایشان را سراغ دارید؟ما که نداریم!))

فرمایش حاج اسماعیل دولابی

عارف کامل حاج اسماعیل دولابی فرموده اند:((خداوند همه چیز را به امام خمینی یک جا داده بود و به آقای خامنه ای آرام آرام همه چیز را عنایت می فرماید!))

 

ختومات جهت سلامتی!

اواخر، روزی حضرت آیت الله بهجت از مسئولین دفترشان می خواهند تا فوراً با بیت حضرت آقای خامنه ای ارتباط ایجاد کرده و یکی از افراد نزدیک آقا را به ملاقات فوری می طلبند. در پی این موضوع یکی از پسران حضرت آقا به قم و نزد ایشان می آیند.حضرت آقای بهجت در این دیدار می فرمایند:((سلام مرا به پدرتان برسانید و بگویید خطری جان ایشان را تهدید می کند، بنده ختومات و اوراد و ذکر و هر چه نیاز بود انجام داده ام، ایشان خودشان نیز هر چه می توانند انجام دهند و مراقب باشند!))


اساتید و شاگردان

اساتید:

ایشان کتب ادبی از قبیل:(جامع المقدمات)،(سیوطی) و(مُغنی) را نزد مدرّسان مدرسه ی((سلیمان خان)) و((نواب)) خواندند،کتاب (معالم)را نیز در همان دوره خواندند،(شرایع الاسلام)و(شرح لمعه) را نزد پدرشان و آقا میرزا مدرس یزدی می خوانند و(رسائل)و(مکاسب)را نیز نزد عارف و عالم ربّانی، حاج شیخ میرزا هاشم قزوینی به پایان میرسانند.دروس سطح فقه و اصول را نزد پدرشان و به طور کم سابقه ای در طی پنج سال و نیم به اتمام می رسانند.در زمینه فلسفه نیز کتاب (منظومه) ملاّ هادی سبزواری را نزد آیت الله میرزا جواد آقا تهرانی(رحمته الله علیه)و شیخ رضا ایسی(رحمته الله علیه)خواندند.ایشان از۱۸سالگی دروس خارج فقه و اصول را نزد مرجع عظیم، عارف بزرگوار، حضرت آیت الله میلانی(رحمته الله علیه)شروع می نمایند.
پس از یک سال در سال۱۳۳۷تا۱۳۴۳به قم هجرت کرده و در طی این۶سال به تحصیلات عالی در فقه و اصول و فلسفه در محضر آیت الله بروجردی(رحمته الله علیه) ،حضرت آیت الله شیخ مرتضی حائری یزدی(رحمته الله علیه) ،
حضرت علامه طباطبایی(رحمته الله علیه)وحضرت امام(رحمته الله علیه)می پردارند و در این مدت از شئون دیگر این اولیاء الهی نیز بهره ها می برند. حضرت آیت الله صدّیقی در مورد اساتید ایشان می فرمایند(( ایشان با حضرت آیت الله شیخ عباس قوچانی، وصی عرفانی حضرت میرزای قاضی در ارتباط بودند و در جلسات خصوصی ایشان نیز شرکت داشتند و از ایشان مرتب دستورات و برنامه های سلوکی دریافت می نمودند.)) جدا از اینها، پدر بزرگوارشان خود از جمله شاگردان حضرت آیت الله میرزا علی آقای قاضی بودند و ایشان در دامان چنین پدری پرورش یافته اند.

 

یک اتفاق و همه ی توفیقاتدر سال ۱۳۴۳در طی مکاتباتی متوجه می شوند که پدرشان آب مروارید داشته و تقریباً نابینا گشته اند و لذا می بایست به مشهد باز گردند،از طرفی برای پدر بسیار غمگین می شوند و از طرفی نیز نمی شود از این حوزه و اساتید عظیمش و پیشرفت عجیب علمیشان دل بکنند، در نهایت پدر و مادر را بر توفیقات فردی ترجیح داده و به مشهد باز می گردند.
خودشان در این باره می فرمایند:((به مشهد رفتم و خداوند توفیقات زیادی به ما داد، بنده فکر می کنم اگر در زندگی توفیقاتی داشتم ناشی از همان نیکی ای است که من به پدر و بلکه به پدر و مادرم کردم.))
ایشان در بازگشت به مشهد نیز دست از تحصیل بر نداشته و تا سال۱۳۴۷در محضر عالم ربانی حضرت آیت الله میلانی(رحمته الله علیه) ، زانوی ادب بر زمین نهادند.

شاگردان:

کلاس دروس خارج فقه ایشان همچنان بر گزار می گردد، ولی فعلاً نمی توان شخص خاصی را به عنوان شاگرد خصوصی ایشان معرفی نمود.مشغله ی رهبری ایشان نیز اجازه ی اشتغال بیشتر به این مسائل را گرفته است.

ویژگی های اخلاقی

زندگی بسیار ساده

مرحوم حاج احمدآقا خمینی(رحمته الله علیه)نقل می کنند:
بر خود واجب می دانم که شهادت دهم زندگی آیت الله خامنه ای بسیار ساده است، نه از باب اینکه ایشان به این حرفها نیاز داشته باشند. من از داخل منزل ایشان مطلع هستم، ایشان در خانه بیش از یک نوع غذا بر سر سفره ندارند. خانواده ایشان روی موکت زندگی می کنند. روزی به منزل ایشان رفتم، یک فرش نخ نما آنجا بود، از زبری آن فرش به موکت پناه بردم!

اُملت ساده

سر لشکر رحیم صفوی نقل می کنند:
روزی در منزل آقا میهمان بودم و بحث به طول انجامید و نزدیک مغرب شد، پس از نماز ایشان با مهربانی به من فرمودند:((آقا رحیم، شام میهمان ما باشید.))
عرض کردم:اسباب زحمت می شود.فرمودند:((نه، چه زحمتی،بمانید هر چه هست با هم می خوریم.))وقتی سفره را انداختند دیدم شام فقط یک املت ساده است!


مرا به دنبال زیلوها فرستادند

سردار شهید شوشتری نقل کرده اند:
((مقداری زیلوی نخ نما در خانه ی آقا بود.آنها را جمع کردیم و فروختیم و یک مقدار هم از پول شخصی روی آن گذاشتم و یک فرش خریدیم و پهن کردیم.
وقتی ایشان تشریف آوردند فرمودند:((اینها دیگر چیست؟زیلوها چه شد؟))
عرض کردم:عوض کردیم.فرمودند:((اشتباه کردید که عوض کردید!بروید و همان زیلوها را پس بگیرید و بیاورید!)) ما هم دوباره رفتیم و با زحمت زیلوها را یافتیم و پسگرفته و آوردیم.
در جایی دیگر از ایشان خواسته شد تا اجازه دهند تا از زندگیشان فیلمبرداری گردد و پخش شود. ایشان نپذیرفتند و فرمودند: «می ترسم باور نکنند!»

من اصلاً متوجه نشدم

حجت السلام راشد یزدی نقل می کنند:
زمانی که آقا در ایرانشهر تبعید بودند، در یک نماز جماعت که به امامت ایشان مشغول اقامه نماز جماعت بودیم،ناگهان در بین نماز یک بزغاله آمد و در جلوی نمازگزاران شروع به بالا و پایین پریدن کرد.عده ی زیادی از جمع توجه خود را از دست داده و عده ای هم خندیدند.
پس از نماز ازایشان سوأل کردیم:شما چطور نخندید در آن جلو؟ایشان فرمودند:
((برای چه بخندم؟))عرض کردیم:برای آن بزغاله دیگر!فرمودند:((من اصلاً متوجه بزغاله نشدم!)).
آری اولیاء الهی اینگونه اند و ما اینگونه:
غرض مرا ز نمازم این بود غم فراق تو را با تو راز بگذارم
و گرنه این چه نمازیست که من بی تو نشسته روی به محراب و دل به بازارم

عبادت ایشان

آیت الله موسوی کاشانی نقل می کنند:
حال ایشان در وقت عبادت، حال به خصوصی است، در شبانه روز تنها۴ ساعت می خوابند و مابقی را به تلاش و تهجّد و وظایف رهبری مشغولند، هر شب از ساعت ۳۰/۳ صبح به عبادت می پردازند تا سپیده دم.
حضرت آیت الله مصباح یزدی نیز نقل می کنند:
توسل ایشان به امام زمان بسیار عجیب است، چه شبها که مخفیانه و با لباس شخصی جهت شناخته نشدن به مسجد جمکران رفته و به راز و نیاز عاشقانه می پردازد،گاهی هم برخی متوجه می شوند و ایشان را می شناسند.

نماز اول وقت و از خود گذشتگی:

سردار شهید شوشتری نقل می کنند:
در زمان جنگ به همراه آقا در قرار گاه لشگر امام رضا(ع)در خرمشهر بودیم.اذان ظهر را گفتند ایشان بلافاصله بر خواستند و ما بقی هم برای اقتدا آماده شدند.مسجد قرارگاه پُر شد و ایشان که این موضوع را دیدند بیرون آمدند و زیلویی پهن کردند و خود در گرمای شدید خرمشهر به امامت ایستادند،عده ای از ما بقی هم که این موضوع را دیدند، بیرون آمدند و جا باز شد.

تواضع و فروتنی

سردار محمد شیرازی نقل می کنند:
در سفری، در سال۷۹که آقا به اردبیل داشتند، در جلسه ای با فرهیختگان و شاعران،
عده ای از شعرا اشعاری را در وصف ایشان خواندند، پس از ارائه اشعار شاعران، ایشان با تواضع تمام فرمودند:
((اشعار بسیار زیبایی بود،فقط یک عیب داشت!آن هم این بود که در مدح بنده بود.))

حضور در خط مقدم جبهه و رفتار ایشان

سرباز رزمنده ای به نام حسین کاظمی که هم اکنون نیز ساکن شهر دماوند هستند برای حقیر(محقّق)، خاطرات ذیل را بیان کردند که در اینجا می آورم:
((در اوج درگیری های دفاع از خرمشهر، من و چند تن دیگر را از تهران به عنوان راننده ماشینهای دارو و غذا به خرمشهر فرستادند.در زیر آتش توپ خانه عراقی ها با خواست خدا سالم به خرمشهر رسیدیم.دیدم چند نفر از پناه گاهی علامت می دهند.
رفتم آنجا و دیدم چند نفر آنجا هستند که به آنها می آید فرمانده باشند.در آن جمع سیّدی نورانی و جلیل القدر بود که رفته رفته با او صمیمی شده و از او خواستم تا به عنوان راننده با او بمانم.مرد عجیبی بود خیلی مهربان و با گذشت، تمام رفتار و اعمالش برای ما امر به معروف و نهی از منکر بود.هیچگاه مستقیماً تذکر نمی داد.او و فردی دیگر که بعداً فهمیدم شهید چمران است، گروههای چریکی پاتک شب، علیه عراق را فرماندهی می کردند و خود نیز از فعالان اصلی عملیاتها بودند! اگر یک مرد در عمرم دیده بودم او بود! بعد از چند وقت یک روز دیدم دوربین های تلویزیون آمدند و دور او جمع شدند. فهمیدم آدم معروفیست.بعد به او گفتم:سیّد شما فرمانده رده بالا بودی و ما خبر نداشتیم؟لبخندی زد و چیزی نگفت.
آنقدر تواضع داشت که باز هم نفهمیدم چه کسی هستند! یعنی اصلاً نمی شناختم چنین اسمی را.بعدها که مرا به تهران فرستادند، فهمیدم ایشان سید علی خامنه ای هستند!

با متّخلف برخورد کنید، ولو پسر من باشد!

حجت السلام نیازی نقل می کنند:
یکی از مسئولین رده بالای نظامی اشتباه قانونی انجام داده بود و سازمان قضایی گزارش حادثه را تنظیم و برای مقام رهبری ارسال نمود تا نتیجه ی قطعی مشخص گردد.
مُعَظَم لَه در پاسخ نامه مرقوم فرموده بودند:((با متخلف برخود کنید، ولو پسر من باشد!))

ابتدا اسمِتان را از شناسنامه ام خارج کنم ،آنوقت...!

ایشان همواره اجازه نمی دهند که هیچ یک از پسرانشان، هیچ گونه پست و یا منسبی
داشته باشند و تنها از راه درس و بحث طلبگی امرار معاش می کنند.نقل است که روزی یکی از فرزندانشان از ایشان اجازه می گیرند که:آیا به بنده اجازه پذیرش فلان پست را میدهید که پیشنهاد کرده اند؟ ایشان فرمودند:
((اشکالی ندارد،اما ابتدا برویم اسمتان را از شناسنامه ام خارج کنم، آنوقت به هر پستی که می روید،بروید!!!))

 

پزشک خصوصی

پزشکی نقل می کند:روزی در مطب بودم که خانمی با فرزندش مراجعه کرد.آن فرزند بسیار به مقام رهبری شبیه بود.اسم وفاملیش را پرسیدم، حدسم قویتر شد.از آن خانم پرسیدم شما با رهبری نسبتی دارید؟گفتند:((بله، ولی شما فعلاً چیزی نگو یید. بنده همسرشان هستم و این کودک هم فرزندشان.)) با تعجب پرسیدم:مگر شما پزشک خصوصی ندارید؟!گفتند:((خیر،آقا به ما اجازه این کارها را نمی دهند!می گو یند شما هم مثل بقیه در صف ویزیت بیمارستان بایستید!))

 

ایشان بروند از غذای خانه میل کنند

حضرت آیت الله جوادی آملی(حفظه الله) نقل می فرمایند:
((روزی میهمان مقام معظم رهبری بودم، سفره را گستردند.پسرشان آقا مصطفی هم بودند.ایشان به آقا مصطفی فرمودند:((شما پاشو برو!))
بنده خلاف ایشان عرض کردم:((اجازه بدهید آقازاده هم باشند، من از وی خواسته ام بمانند.))فرمودند:

((نه خیر، این غذا غذای بیت المال است.شما هم کار دارید و مِهمان بیت المال هستید.ایشان بروند منزل و از غذای منزل میل کنند!))

به فرموده خودشان:((در جوانی ورزش زورخانه ای هم انجام می دادند، اسب سوار ماهری هم هستند و به والیبال هم علاقه زیادی دارند و گاهی هم انجام می دادند، حال بیشتر به کوهنوردی پرداخته و بسیار هم به این ورزش سفارش می کنند.))به فرموده خودشان:((کارها سنگین است، ولی چون ورزش می کنم خسته نمی شوم.))نصیحت ایشان در زمینه ورزش معروف است که:

((ورزش برای جوانان لازم است و برای مسن ترها واجب!))

 

منبع:سایت ساقی کوثر



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه نوزدهم مهر ۱۳۹۳
 

 


 

 

مختصری از زندگی نامه

ولادت


روز ۲۴تیر ماه۱۳۱۸برابر با۲۸صفر۱۳۵۸هجری قمری،مصادف بود با همان روزی که رهبر عالیقدر آیندگان، سید علی خامنه ای، پا به عالم خاک نهاد و از مشهد مقدس، شهر اباالحسن،علی بن موسی الرضا(علیه السلام)یعنی مشهد مقدس چشم بر عالم گشود تا سیّدی باشند، خراسانی!.
ایشان دومین پسر از پسران حجت الاسلام حاج سید جواد حسینی خامنه ای بودند، طبق فرموده خودشان:((از همان کودکی طعم زندگی ساده و همراه با قناعت شدید زیر زبانشان است))و نیز می فرمودند:((پدرم روحانی بود،اما خیلی پارسا و گوشه گیر، زندگی ما به سختی می گذشت، من یادم هست شبهایی می شد که در منزل ما شام نبود و مادرمان با زحمت برایمان شام تهیه می کردند و آن هم نان و کشمش بود!))
ایشان از ۴سالگی به همراه برادر بزرگترشان، سید محمد، برای آموختن الفبا و قرآن به مکتب فرستاده میشوند و پس از گذراندن این دوره و تحصیلات ابتدائی وارد حوزه می شوند و نزد اساتید وقت، مقدمات را می خوانند،در بخش اساتید و شاگردان ، اساتید دروسشان را به شرح نام خواهیم برد.مبارزاتشان علیه رژیم پهلوی را از سال۱۳۳۱ به همراه شهید نواب صفوی آغاز می نمایند و در نهایت به همراه امام و مردم، انقلاب را به پیروزی می رسانند.
سال۱۳۶۸نیز آغاز ولایت امری ایشان می باشد و ان شاالله سایه وجود با برکتشان تا ظهور حضرت صاحب(عج)،که به فرموده بسیاری از اولیاء الهی بسیار نزدیک است و سپردن پرچم اسلام به دستان حضرت، مستدام بماند.

 

خاطرات و کرامات


آنچه که در این بخش در مورد کرامات این مرد عظیم می توان گفت،این است که شأن سیاسی و وجه ی راه بری عمومی ایشان اقتضا می کند که ایشان کاملاً مکتوم و پوشیده بمانند.اما در اینجا اندکی از مواردی که دیده شده و یا توسط اوتاد اولیاءالهی(علیهم الرحمه)به تایید رسیده است را به اختصار خواهیم آورد.باشد که مورد توجه بیشتر مخاطبین قرار گیرد.

خورشید چند دقیقه ای در اینجا تابید و رفت!
حجت السلام حیدری کاشانی،از شاگردان حضرت آیت الله بهائدینی(رحمته الله علیه)،در کتاب شریف(سیری در آفاق)آورده اند که:وقتی که رهبر معظم به قم آمده بودند و به دیدار حضرت آیت الله بهائدینی(رحمته الله علیه)نیز مشرف شده بودند، بنده حضور نداشتم.روز بعد که خدمت آیت الله بهائدینی(رحمته الله علیه)این ولیّ بزرگ الهی، رسیدم از ایشان پریسدم:آیا دیروز رهبر معظم به دیدار شما نیز آمدند؟فرمودند:
((آری،خورشید چند دقیقه ای اینجا تابید و رفت!))


اُسوه ی زمان 

حضرت علامه حسن زاده آملی(حفظه الله)که از اوتاد اولیاء الهی بوده و وصف مقاماتشان از هیچ قلمی برنیاید،مطالب ذیل را در شأن مقام معظم رهبری یبان می فرمایند.بدیهی است که اولیاء خدا هیچ گاه به اضافه گویی و اغراق از کسی نمی گویند:

«رهبر عظیم الشأن کشور بزرگ جمهوری اسلامی ایران،آیت الله معظّم،جناب خامنه ای کبیر-مَتَع الله الاسلام وَ المُسلمین بِطولِ بَقائهُ الشَّریف-قائد، ولیّ ، وفیّ و رائد، سائس،حفی، مصداق بارز((نَرفَعُ دَرَجات مَن نَشاء))می باشد.
عزّت و شکوت روز افزون آن قائد اُسوه ی زمان را همواره از حقیقة الحقائق مسئلت دارم و امیدوارم دادار عالم و آدم همواره سالار و سرورم را سالم و مسرور دارد.»
حسن حسن زاده آملی
تقدیم اثر به مقام رهبری
و نیز ایشان در جایی دیگر،پس از تألیف یکی از کتب ارزشمند خود به نام:
(فصّ حِکمِة عِصمَتیّهَ فی کَلِمَتِهِ فاطمیَّه)آنرا هدیه ای به مقام رهبری دانسته و مطالب ذیل را در این مورد می نویسند:
بسم الله الرّحمن الرّحیم
«این صحیفه نور موسوم به(فصّ حِکمِة عِصمَتیّهَ فی کَلِمَتِهِ فاطمیَّه) به مناسبت تأسیس نخستسن کنگره و تجلیل و تکریم از عصمة الله الکبری و ثمره شَجَرةِ التَقین و اَحسنَ منازِلَ القّرآن و بَقّیَّتِه النُبُوَة و مِشکوةِ الوِلایهِ وَ الُاِمامَته، حضرت فاطمة بنت خاتم الانبیاء محّمد مصطفی- صَلَّی الله عَلَیه وَ آلهِ وسَلَم-که به فرمان همایون و خجسته رهبر عظیم الشأن کشور بزرگ جمهوری اسلامی ایران، جناب آیت الله معظم،خامنه ای کبیر-مَتَّعَ الله السلام و المسلمین بِطولِ بقائُه الشَّریف-درساری مازندران برگزار می شود.با سلام و تحیّت خالصانه و ارادات بی پیرایه و درود ونوید جاوید به حضور آن قائد ولی وفی، و رائد سائس حفی، مصداق بارز((نَرفَع دَرَجات مَن نَشاء)) تقدیم می گردد و عوض می شود:
((یا اَیَها العَزیز ،جِئنا بِبِضاعةٍ مُزجاة۱))
دادار عالم و آدم همواره سالار و سرورم را مسرور دارد. ۱۴/۶/ ۱۳۷۶
۱:برگرفته از آیه۸۸سوره یوسف(ع) المّتمِسَک بذیل الولایة:حسن حسن زاده آملی»

گوشهایتان به دهان رهبرتان باشد

اخیراً نیز در یک سخنرانی عمومی که مستند می باشد، در تاریخ۲۲/۷/۸۸،حضرت علامه حسن زاده آملی(حفظه الله)مطالب قابل تأمل زیر را بیان فرمودند:
((گوشِتان فقط به دهان رهبرتان باشد،چرا که گوش ایشان به دهان حضرت صاحب الزمان(عج الله تعالی فرجه)است!!!)).

آنکه دنیا نتوانست شکارش کند!

در جایی دیگر حضرت علامه حسن زاده آملی ایشان را اینگونه وصف می کنند:

((رهبر عظیم الشأن، آن که دنیا نتوانست شکارش کند!))

بسیار مراقب باشید!

حضرت آیت الله فاطمی نیا(حفظه الله)که خود یکی از شاگردان بارز اخلاقی و عرفانی اولیاء بزرگ الهی همچون:حضرت آیت الله بهائدینی، حضرت علامه طباطبایی، حضرت آیت الله مصطفوی تبریزی و نیز حضرت آیت الله بهجت (علیهم الرحمة)می باشند،در یکی از جلسات سخنرانی خویش می فرمایند:
((در این منبر سید الشهداء، اگر یقین نداشتم نمی گفتم،عزیزان، بدانید و آگاه باشید!امروز این کشور پرچم دار اسلام در جهان است ،ضربه زدن به این کشور هم ضربه زدن به اسلام است و گناهیست عظیم.رهبر این کشور، این مرد بزرگ الهی نیز پرچم دار این کشور است، پس هر گونه قدمی در جهت تضعیف و یا ضربه زدن به ایشان ضربه ی به اسلام است.بسیار باید مواظب بود، نپرسید چطوری؟، ولی همین قدر بدانید که با یقین عرض می کنم:امروز هر کس قدمی علیه ایشان بر دارد، عاقبت به خیر شدنش بعید است!))
ایشان از ماست!
حضرت آیت الله کاظم صدیقی(حفظه الله)از شاگردان برجسته عرفانی و اخلاقی حضرت آیت الله بهجت(رحمت الله علیه)در سخنرانی عمومی خود در بیت رهبری در شهادت حضرت زهرا(سلام الله علیها)به تاریخ ۲۸/۲/۸۹ نقل فرمودند که:
((یکی از شاگردان آیت الله بهجت، به نام مرحوم آیت الله شیخ علی احمدی میانجی که از عارفان بنام بودند، برای بنده تعریف کردند.البته می دانم که خود آقا(مقام رهبری) راضی به نقل این ماجرا نیستند،اما چه کنم؟!امشب اینجا نگویم کِی بگویم؟آن بزرگوار یعنی همان مرحوم میانجی،صاحب مقام تشرف بودند و برای من تعریف کردند که یک بار در یکی از تشرفات از حضرت صاحب الزمان(عج)در مورد رهبری سید علی خامنه ای پرسیدم،حضرت فرمودند:((ایشان از ماست!!!)).))
شخص اول ما
حضرت آیت الله مشکینی(رحمته الله علیه)که خود از علمای ربّانی و اولیاء الهی بودند در وصف مقام رهبری چنین فرموده اند:
((اَلحَمدُ لله در رأس کشور ما شخصی قرار دارد که به راحتی پشت سرش نماز می خوانیم، فردی از فرزندان حضرت زهرا(سلام الله علیه)که در سالهای متمادی مورد امتحان قرار گرفته و از همه ی آزمایش ها سر بلند بیرون آمده است.))

امشب یک اتفاقی در حال رخ دادن است!

حجت السلام نیازی نقل می کنند:

شب حوادث کوی دانشگاه من طبق معمول خدمت آقا رسیدم تا گزارشات روزمره را به اطلاع برسانم.هنوز خودم هم بی خبر بودم، پس از نماز مغرب و عشاء به امامت ایشان برای اعلام اخبار آماده شدم،آقا فرمودند:((امشب یک اتفاقی در حال رخ دادن است!))
بعداً خبر کوی دانشگاه منتشر شد!

 

اگر می دانستند!

یکی از وابستگان و مرتبطان با حضرت آیت الله بهجت نقل می کند:
بار اول که مقام معظم رهبری به قم تشریف آورده بودند حضرت آیت الله بهجت نیز همچون سایر مردم در خیابانها به جمعیت استقبال کننده پیوسته بودند.ما به ایشان عرض کردیم:
آقا کاش شما با این شرایط سنی و جسمی به خیابان تشریف نمی آوردید.فرمودند:
((اگر مردم می دانستند که استقبال از این سیّد چه ارزش و ثوابی دارد هیچ کس در خانه اش نمی ماند!))

 

خواب آیت الله بهجت

حضرت آیت الله کاظم صدیقی نقل می کنند:
شخص موثقی از مرتبطان با حضرت آیت الله بهجت برای بنده نقل کردند:شبی آِیت الله بهجت در عالم رویا می بینند که در جایی تمام علمای بزرگ جمع هستند و حضرت حجّت(عج)نیز تشریف دارند و نشسته اند.ناگهان حضرت آقای خامنه ای از در وارد می شوند و حضرت به احترامشان از جای بر می خیزند و جایی را برای ایشان باز می کنند!
(یعنی حضرت می خواستند احترام ایشان را در نزد خودشان به سایرین بفهمانند.)
شما بهتر سراغ دارید؟
روزی شخصی نزد آیت الله بهجت شروع به گلایه از مسؤلان نمود.همین که گلایه و بد گویی ها را خواست به سمت حضرت آقای خامنه ای نیز بکشاند فوراً حضرت آیت الله بهجت که سرشان پایین بود، سر را بالا آورده و با نگاه تندی به آن شخص فرمودند:((شما بهتر از ایشان را سراغ دارید؟ما که نداریم!))

فرمایش حاج اسماعیل دولابی

عارف کامل حاج اسماعیل دولابی فرموده اند:((خداوند همه چیز را به امام خمینی یک جا داده بود و به آقای خامنه ای آرام آرام همه چیز را عنایت می فرماید!))

 

ختومات جهت سلامتی!

اواخر، روزی حضرت آیت الله بهجت از مسئولین دفترشان می خواهند تا فوراً با بیت حضرت آقای خامنه ای ارتباط ایجاد کرده و یکی از افراد نزدیک آقا را به ملاقات فوری می طلبند. در پی این موضوع یکی از پسران حضرت آقا به قم و نزد ایشان می آیند.حضرت آقای بهجت در این دیدار می فرمایند:((سلام مرا به پدرتان برسانید و بگویید خطری جان ایشان را تهدید می کند، بنده ختومات و اوراد و ذکر و هر چه نیاز بود انجام داده ام، ایشان خودشان نیز هر چه می توانند انجام دهند و مراقب باشند!))


اساتید و شاگردان

اساتید:

ایشان کتب ادبی از قبیل:(جامع المقدمات)،(سیوطی) و(مُغنی) را نزد مدرّسان مدرسه ی((سلیمان خان)) و((نواب)) خواندند،کتاب (معالم)را نیز در همان دوره خواندند،(شرایع الاسلام)و(شرح لمعه) را نزد پدرشان و آقا میرزا مدرس یزدی می خوانند و(رسائل)و(مکاسب)را نیز نزد عارف و عالم ربّانی، حاج شیخ میرزا هاشم قزوینی به پایان میرسانند.دروس سطح فقه و اصول را نزد پدرشان و به طور کم سابقه ای در طی پنج سال و نیم به اتمام می رسانند.در زمینه فلسفه نیز کتاب (منظومه) ملاّ هادی سبزواری را نزد آیت الله میرزا جواد آقا تهرانی(رحمته الله علیه)و شیخ رضا ایسی(رحمته الله علیه)خواندند.ایشان از۱۸سالگی دروس خارج فقه و اصول را نزد مرجع عظیم، عارف بزرگوار، حضرت آیت الله میلانی(رحمته الله علیه)شروع می نمایند.
پس از یک سال در سال۱۳۳۷تا۱۳۴۳به قم هجرت کرده و در طی این۶سال به تحصیلات عالی در فقه و اصول و فلسفه در محضر آیت الله بروجردی(رحمته الله علیه) ،حضرت آیت الله شیخ مرتضی حائری یزدی(رحمته الله علیه) ،
حضرت علامه طباطبایی(رحمته الله علیه)وحضرت امام(رحمته الله علیه)می پردارند و در این مدت از شئون دیگر این اولیاء الهی نیز بهره ها می برند. حضرت آیت الله صدّیقی در مورد اساتید ایشان می فرمایند(( ایشان با حضرت آیت الله شیخ عباس قوچانی، وصی عرفانی حضرت میرزای قاضی در ارتباط بودند و در جلسات خصوصی ایشان نیز شرکت داشتند و از ایشان مرتب دستورات و برنامه های سلوکی دریافت می نمودند.)) جدا از اینها، پدر بزرگوارشان خود از جمله شاگردان حضرت آیت الله میرزا علی آقای قاضی بودند و ایشان در دامان چنین پدری پرورش یافته اند.

 

یک اتفاق و همه ی توفیقاتدر سال ۱۳۴۳در طی مکاتباتی متوجه می شوند که پدرشان آب مروارید داشته و تقریباً نابینا گشته اند و لذا می بایست به مشهد باز گردند،از طرفی برای پدر بسیار غمگین می شوند و از طرفی نیز نمی شود از این حوزه و اساتید عظیمش و پیشرفت عجیب علمیشان دل بکنند، در نهایت پدر و مادر را بر توفیقات فردی ترجیح داده و به مشهد باز می گردند.
خودشان در این باره می فرمایند:((به مشهد رفتم و خداوند توفیقات زیادی به ما داد، بنده فکر می کنم اگر در زندگی توفیقاتی داشتم ناشی از همان نیکی ای است که من به پدر و بلکه به پدر و مادرم کردم.))
ایشان در بازگشت به مشهد نیز دست از تحصیل بر نداشته و تا سال۱۳۴۷در محضر عالم ربانی حضرت آیت الله میلانی(رحمته الله علیه) ، زانوی ادب بر زمین نهادند.

شاگردان:

کلاس دروس خارج فقه ایشان همچنان بر گزار می گردد، ولی فعلاً نمی توان شخص خاصی را به عنوان شاگرد خصوصی ایشان معرفی نمود.مشغله ی رهبری ایشان نیز اجازه ی اشتغال بیشتر به این مسائل را گرفته است.

ویژگی های اخلاقی

زندگی بسیار ساده

مرحوم حاج احمدآقا خمینی(رحمته الله علیه)نقل می کنند:
بر خود واجب می دانم که شهادت دهم زندگی آیت الله خامنه ای بسیار ساده است، نه از باب اینکه ایشان به این حرفها نیاز داشته باشند. من از داخل منزل ایشان مطلع هستم، ایشان در خانه بیش از یک نوع غذا بر سر سفره ندارند. خانواده ایشان روی موکت زندگی می کنند. روزی به منزل ایشان رفتم، یک فرش نخ نما آنجا بود، از زبری آن فرش به موکت پناه بردم!

اُملت ساده

سر لشکر رحیم صفوی نقل می کنند:
روزی در منزل آقا میهمان بودم و بحث به طول انجامید و نزدیک مغرب شد، پس از نماز ایشان با مهربانی به من فرمودند:((آقا رحیم، شام میهمان ما باشید.))
عرض کردم:اسباب زحمت می شود.فرمودند:((نه، چه زحمتی،بمانید هر چه هست با هم می خوریم.))وقتی سفره را انداختند دیدم شام فقط یک املت ساده است!


مرا به دنبال زیلوها فرستادند

سردار شهید شوشتری نقل کرده اند:
((مقداری زیلوی نخ نما در خانه ی آقا بود.آنها را جمع کردیم و فروختیم و یک مقدار هم از پول شخصی روی آن گذاشتم و یک فرش خریدیم و پهن کردیم.
وقتی ایشان تشریف آوردند فرمودند:((اینها دیگر چیست؟زیلوها چه شد؟))
عرض کردم:عوض کردیم.فرمودند:((اشتباه کردید که عوض کردید!بروید و همان زیلوها را پس بگیرید و بیاورید!)) ما هم دوباره رفتیم و با زحمت زیلوها را یافتیم و پسگرفته و آوردیم.
در جایی دیگر از ایشان خواسته شد تا اجازه دهند تا از زندگیشان فیلمبرداری گردد و پخش شود. ایشان نپذیرفتند و فرمودند: «می ترسم باور نکنند!»

من اصلاً متوجه نشدم

حجت السلام راشد یزدی نقل می کنند:
زمانی که آقا در ایرانشهر تبعید بودند، در یک نماز جماعت که به امامت ایشان مشغول اقامه نماز جماعت بودیم،ناگهان در بین نماز یک بزغاله آمد و در جلوی نمازگزاران شروع به بالا و پایین پریدن کرد.عده ی زیادی از جمع توجه خود را از دست داده و عده ای هم خندیدند.
پس از نماز ازایشان سوأل کردیم:شما چطور نخندید در آن جلو؟ایشان فرمودند:
((برای چه بخندم؟))عرض کردیم:برای آن بزغاله دیگر!فرمودند:((من اصلاً متوجه بزغاله نشدم!)).
آری اولیاء الهی اینگونه اند و ما اینگونه:
غرض مرا ز نمازم این بود غم فراق تو را با تو راز بگذارم
و گرنه این چه نمازیست که من بی تو نشسته روی به محراب و دل به بازارم

عبادت ایشان

آیت الله موسوی کاشانی نقل می کنند:
حال ایشان در وقت عبادت، حال به خصوصی است، در شبانه روز تنها۴ ساعت می خوابند و مابقی را به تلاش و تهجّد و وظایف رهبری مشغولند، هر شب از ساعت ۳۰/۳ صبح به عبادت می پردازند تا سپیده دم.
حضرت آیت الله مصباح یزدی نیز نقل می کنند:
توسل ایشان به امام زمان بسیار عجیب است، چه شبها که مخفیانه و با لباس شخصی جهت شناخته نشدن به مسجد جمکران رفته و به راز و نیاز عاشقانه می پردازد،گاهی هم برخی متوجه می شوند و ایشان را می شناسند.

نماز اول وقت و از خود گذشتگی:

سردار شهید شوشتری نقل می کنند:
در زمان جنگ به همراه آقا در قرار گاه لشگر امام رضا(ع)در خرمشهر بودیم.اذان ظهر را گفتند ایشان بلافاصله بر خواستند و ما بقی هم برای اقتدا آماده شدند.مسجد قرارگاه پُر شد و ایشان که این موضوع را دیدند بیرون آمدند و زیلویی پهن کردند و خود در گرمای شدید خرمشهر به امامت ایستادند،عده ای از ما بقی هم که این موضوع را دیدند، بیرون آمدند و جا باز شد.

تواضع و فروتنی

سردار محمد شیرازی نقل می کنند:
در سفری، در سال۷۹که آقا به اردبیل داشتند، در جلسه ای با فرهیختگان و شاعران،
عده ای از شعرا اشعاری را در وصف ایشان خواندند، پس از ارائه اشعار شاعران، ایشان با تواضع تمام فرمودند:
((اشعار بسیار زیبایی بود،فقط یک عیب داشت!آن هم این بود که در مدح بنده بود.))

حضور در خط مقدم جبهه و رفتار ایشان

سرباز رزمنده ای به نام حسین کاظمی که هم اکنون نیز ساکن شهر دماوند هستند برای حقیر(محقّق)، خاطرات ذیل را بیان کردند که در اینجا می آورم:
((در اوج درگیری های دفاع از خرمشهر، من و چند تن دیگر را از تهران به عنوان راننده ماشینهای دارو و غذا به خرمشهر فرستادند.در زیر آتش توپ خانه عراقی ها با خواست خدا سالم به خرمشهر رسیدیم.دیدم چند نفر از پناه گاهی علامت می دهند.
رفتم آنجا و دیدم چند نفر آنجا هستند که به آنها می آید فرمانده باشند.در آن جمع سیّدی نورانی و جلیل القدر بود که رفته رفته با او صمیمی شده و از او خواستم تا به عنوان راننده با او بمانم.مرد عجیبی بود خیلی مهربان و با گذشت، تمام رفتار و اعمالش برای ما امر به معروف و نهی از منکر بود.هیچگاه مستقیماً تذکر نمی داد.او و فردی دیگر که بعداً فهمیدم شهید چمران است، گروههای چریکی پاتک شب، علیه عراق را فرماندهی می کردند و خود نیز از فعالان اصلی عملیاتها بودند! اگر یک مرد در عمرم دیده بودم او بود! بعد از چند وقت یک روز دیدم دوربین های تلویزیون آمدند و دور او جمع شدند. فهمیدم آدم معروفیست.بعد به او گفتم:سیّد شما فرمانده رده بالا بودی و ما خبر نداشتیم؟لبخندی زد و چیزی نگفت.
آنقدر تواضع داشت که باز هم نفهمیدم چه کسی هستند! یعنی اصلاً نمی شناختم چنین اسمی را.بعدها که مرا به تهران فرستادند، فهمیدم ایشان سید علی خامنه ای هستند!

با متّخلف برخورد کنید، ولو پسر من باشد!

حجت السلام نیازی نقل می کنند:
یکی از مسئولین رده بالای نظامی اشتباه قانونی انجام داده بود و سازمان قضایی گزارش حادثه را تنظیم و برای مقام رهبری ارسال نمود تا نتیجه ی قطعی مشخص گردد.
مُعَظَم لَه در پاسخ نامه مرقوم فرموده بودند:((با متخلف برخود کنید، ولو پسر من باشد!))

ابتدا اسمِتان را از شناسنامه ام خارج کنم ،آنوقت...!

ایشان همواره اجازه نمی دهند که هیچ یک از پسرانشان، هیچ گونه پست و یا منسبی
داشته باشند و تنها از راه درس و بحث طلبگی امرار معاش می کنند.نقل است که روزی یکی از فرزندانشان از ایشان اجازه می گیرند که:آیا به بنده اجازه پذیرش فلان پست را میدهید که پیشنهاد کرده اند؟ ایشان فرمودند:
((اشکالی ندارد،اما ابتدا برویم اسمتان را از شناسنامه ام خارج کنم، آنوقت به هر پستی که می روید،بروید!!!))

 

پزشک خصوصی

پزشکی نقل می کند:روزی در مطب بودم که خانمی با فرزندش مراجعه کرد.آن فرزند بسیار به مقام رهبری شبیه بود.اسم وفاملیش را پرسیدم، حدسم قویتر شد.از آن خانم پرسیدم شما با رهبری نسبتی دارید؟گفتند:((بله، ولی شما فعلاً چیزی نگو یید. بنده همسرشان هستم و این کودک هم فرزندشان.)) با تعجب پرسیدم:مگر شما پزشک خصوصی ندارید؟!گفتند:((خیر،آقا به ما اجازه این کارها را نمی دهند!می گو یند شما هم مثل بقیه در صف ویزیت بیمارستان بایستید!))

 

ایشان بروند از غذای خانه میل کنند

حضرت آیت الله جوادی آملی(حفظه الله) نقل می فرمایند:
((روزی میهمان مقام معظم رهبری بودم، سفره را گستردند.پسرشان آقا مصطفی هم بودند.ایشان به آقا مصطفی فرمودند:((شما پاشو برو!))
بنده خلاف ایشان عرض کردم:((اجازه بدهید آقازاده هم باشند، من از وی خواسته ام بمانند.))فرمودند:

((نه خیر، این غذا غذای بیت المال است.شما هم کار دارید و مِهمان بیت المال هستید.ایشان بروند منزل و از غذای منزل میل کنند!))

به فرموده خودشان:((در جوانی ورزش زورخانه ای هم انجام می دادند، اسب سوار ماهری هم هستند و به والیبال هم علاقه زیادی دارند و گاهی هم انجام می دادند، حال بیشتر به کوهنوردی پرداخته و بسیار هم به این ورزش سفارش می کنند.))به فرموده خودشان:((کارها سنگین است، ولی چون ورزش می کنم خسته نمی شوم.))نصیحت ایشان در زمینه ورزش معروف است که:

((ورزش برای جوانان لازم است و برای مسن ترها واجب!))

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳

 

 

در این پست نظر و دید بزرگان و علما و شخصیت های بزرگ رو درباره حضرت آیت الله خامنه ای(دامه برکاته) و رهبری ایشان و شایستگی ایشان برای این مقام رو به صورت متن و فیلم و صوت تا آنجایی که توانسته است جمع آوری کرده است تا جواب دندان شکنی به بدگویان انقلاب و اسلام باشد. امید است که خوشتون بیاد.


وبسایت دیتا در این پست برای اولین بار کار بسیار زیبایی را انجام داده است که امیدوار است مورد توجه خداوند متعال و حضرت ولی عصر(عج) قرار بگیرد.


در این پست نظر و دید بزرگان و علما و شخصیت های بزرگ رو درباره حضرت آیت الله خامنه ای(دامه برکاته) و رهبری ایشان و شایستگی ایشان برای این مقام رو به صورت متن و فیلم و صوت تا آنجایی که توانسته است جمع آوری کرده است تا جواب دندان شکنی به بدگویان انقلاب و اسلام باشد. امید است که خوشتون بیاد.

برای سلامتی رهبر و تعجیل در فرج امام زمان(عج) سه صلوات بفرستید.

 



علامه حسن زاده آملی:


1- قائد اسوه : رهبرعظیم الشان کشور بزرگ جمهوری اسلامی ایران آیت الله معظم جناب خامنه ای کبیر- متع الله الاسلام و المسلمین بطول بقائه الشریف- قائد، ولی، وفیّ،ورائد، سائس، حفی، مصداق بارز، (نرفع درجات من نشاء می باشد.) عزت و شوکت روز افزون آن قائد اسوه ی زمان را همواره از حقیقة الحقائق مسئلت دارم و امیدوارم دادار عالم و آدم همواره سالار و سرورم را سالم و مسرور دارد.

 آیت الله حسن حسن زاده ی آملی، کتاب پرتوی از خوشید علی شیرازی ص 33  

2- علامه عظيم‌الشأن حضرت آيت‌الله حسن‌زاده آملي، جلوي حضرت آقا دو زانو نشسته و ايشان را مولا خطاب مي‌كنند. حضرت آقا ناراحت شده و به علامه مي‌فرمايند اين كار را نكنيد. علامه حسن‌زاده مي‌فرمايند: اگر يك مكروه از شما سراغ داشتم اين كار را نمي‌كردم.

3- ايشان در جاي ديگر فرموده‌اند: گوش‌تان به دهان رهبر باشد. چون ايشان گوششان به دهان حجت‌بن‌الحسن(عج) است. اين جملات وقتي بيشتر معنا پيدا مي‌كند كه بدانيم صاحب تفسير الميزان، علامه عارف آيت‌الله طباطبايي درباره شاگردش علامه حسن‌زاده فرموده‌اند: حسن‌زاده را كسي نشناخت جز امام زمان(عج).

4- و همچنین در صفحه ی اول کتاب انسان در عرف عرفان خود نیز این کتاب را به رهبر معظم انقلاب اهداء نموده که در زیر می خوانید:

تقدیم نامه :

بسم الله الرحمن الرحیم
الم. تلک آیات الکتاب الحکیم. هدیً و رحمةً للمحسنین
با سلام و دعای خالصانه و ارائه ارادت بی پیرایه جاودانه به حضور باهرالنور رهبر عظیم الشان کشور بزرگ جمهوری اسلامی ایران حضرت آیت الله معظّم، جناب خامنه ای کبیر، متّع الله الاسلام و المسلمین بطول بقائه الشریف - این اثر نمونه دوران را اعنی رساله انسان در عرف عرفان را به پاس تجلیل و تکریم و ابراز شادمانگی از نزول اجلال آن یگانه دوران در دارالسلام و الایمان شهر هزار سنگر آمل مازندران، از جانب خودم و از جانب همه شهروندان بزرگوار این بلد و خطّه شهرستان آمل بلکه از جانب همه فرزانگان گرامی و گرانقدر استان مازندران، به پشگاه مبارک آن ولی بحق که مصداق بارز رساله است با کمال ابتهاج و انبساط تقدیم میدارم ، عزت و شوکت روز افزون آن قائد اسوه زمان را همواره از حقیقة الحقائق خداوند سبحان مسئلت دارم. یا رب دعای خسته دلان مستجاب کن
۱۳۷۷/۳/۲۰حسن حسن زاده آملی ::: کتاب انسان در عرف عرفان
 
 
5- رهبر عظیم‌الشأن‌تان را دوست بدارید، عالمی،‌ رهبری، موحدی، سیاسی، دینداری، انسانی، ربانی، پاک منزه، کسی که دنیا شکارش نکرده، قدر این نعمت عظما را که خدا به شما عطا فرموده، قدر این رهبر ولی وفی الهی را بدانید، مبادا این جمعیت ما را، مبادا این کشور ما را، مبادا این کشور علوی را، این نعمت ولایت را از دست شما بگیرند. خدایا به حق پیامبر و آل پیامبر سایه این بزرگ‌مرد، این رهبر اصیل اسلامی حضرت آیت‌ا… معظم خامنه‌ای عزیز را مستدام بدار.
 

6- سینه ی خود را شکافتم، به هر جای آسمان رفتم این سید (خامنه ای) را دیدم. باید قنبر حضرت خامنه ای کبیر بود.
منبع: نشریه پرتو سخن 16/06/90

 

آیت الله بهجت: 



1- آیت الله صدیقی در مراسم احیای شب قدر در هیأت رزمندگان غرب تهران با ذکر خصوصیاتی ویژه از مقام معظم رهبری به ذکر خاطره ای از دیدار ایشان با مرحوم آیت الله العظمی بهجت(ره) پرداخت.

وی گفت: در ابتدای کار مقام معظم رهبری نزد آیت الله بهجت رفته بودند و گفته بودند امام ویژگی هایی داشتند و فاصله من با امام خیلی زیاد است. بار سنگینی که بردوش امام بوده حال بر دوش من گذاشته شده است من چه کنم؟

مرحوم آیت الله بهجت(ره) پس از تأملی گفته بودند: شما با موازین آشنایید(اشاره به اجتهاد ایشان). اگر بر مبانی و موازینی که تشخیص می دهید به تشخیص شرعی خود عمل کنید "من" تضمین می کنم که اولیاء الهی تو را تنها نگذارند.

2- آیت الله صدیقی امام جمعه موقت شهر تهران سه شنبه ۲۸/۲/۸۹ در مراسم ایام شهادت جانسوز حضرت زهرا سلام الله علیها که در بیت رهبری با حضور آیت الله العظمی امام خامنه ای حفظه الله برگزار می شد پس بیان از فضایل صدیقه کبری و مناقب آن حضرت خطاب به مقام معظم رهبری فرمودند:

"آقا جان؛شما دستور فرمودید از شما چیزی نگم،اما اینها که آمده اند اینجا همه عاشقند مگر می شود چیزی نگفت."

آیت الله صدیقی پس از بیان چند جمله با همین مضامین،به نقل چند جمله از آقای بهجت رضوان الله تعالی علیه پرداختند:

"از آقای بهجت سوال کردم نظرتان راجع به مقام معظم رهبری چیست؟

آقای بهجت فرمودند:"بهتر از ایشان نداریم."

 

3- همچنین آقای بهجت به خود بنده عرضه داشتند که در دیداری که با امام زمان عجل الله تعالی فرجه الشریف داشتم از ایشانراجع به آقای خامنه ای سوال کردم و

حضرت پاسخ دادند: " آقای خامنه ای از ماست."

4- به نقل از حجت الاسلام صدیقی از زبان یکی از دوستان نزدیکشان که به حضور آقای بهجت رفت و آمد داشته اند:در یک جلسه ی دو سه نفری که خدمت آیت‌الله العظمی آقای بهجت بودیم یه کسی انتقاد گونه‌ای را خواستند به رهبری خدمت آقای بهجت بازگو کنند. آقای بهجت به یک نگاه تندی به ایشان فرمودند: شما بهتر از ایشان سراغ دارید. من که بهتر از ایشان سراغ ندارم.

5- آیت الله مصباح یزدی رابط بین آیت الله بهجت و حضرت آقا بودند. البته امام (ره) خودشان به حضرت آیت الله خامنه ای فرموده‌ بودند كه از آقاي بهجت استفاده كنيد. ایشان هم نامه‌اي مي نويسند مي‌دهند به حاج آقای مصباح كه اين را شما لطف کنید و بدهید به‌ آقاي بهجت.

البته ظاهراً آن طور که من اطلاع دارم حاج آقا برای ثبت این مکاتبات حساس شرط مي‌گذارند كه من به شرطي نامه رساني مي‌كنم كه نامه را ببینم و نسخه ای هم کپي کنم و نگه دارم! حضرت آقا هم به دلیل علاقه خاصی که به آیت الله مصباح داشتند، قبول مي‌كنند.

ظاهراً حضرت آقا تقاضای دستورالعمل داشتند که آیت الله مصباح می آوردند و آیت الله بهجت هم در پاسخ در مواقعی خودشان می نوشتند و در مواقعی هم به حاج می فرمودند که این موارد را بنویسید و به ایشان تحویل بدهید.

 یکبار رهبر انقلاب برای آقای بهجت می نویسند که من این موارد را می دانم و انشاءالله عامل خواهم بود ولی توقعم بیش از این است که آقاي بهجت ‌در پاسخ نوشته بودند اينها را عمل کنید، در فرصتي كه پيش بیاید ديگر شما برای من نامه ننويسيد، من خودم برای شما نامه مي‌نويسم.

تا این که امام از دنیا رفتند، یادم است ما مشهد بوديم که حاج آقای مصباح برای بیعت با آقا آمده بودند تهران و از آنجا هم آمدند مشهد. ما خدمتشان رسیدیم و از وضع و اوضاع پرسیدیم. حاج آقا فرمودند كه برای بیعت رفته بودم خدمت آقا ولی خدا را شکر دست خالی نرفتم چون آیت الله بهجت يک نامه چهار صفحه ای برای حضرت آقا که تازه رهبر شده بودند، نوشتند که شروع نامه هم این بود که بنده انتصاب حضرتعالي را به سمت مقام ولايت و رهبري تبريك عرض مي‌كنم و بعد شروع كرده بودند كه حالا ديگر وظايف شما این است.

بعد آقا به آیت الله مصباح فرموده بودند که تا حالا خيلي‌ها از مردم و مسئولین با من بيعت كردند ولی هيچ كدام دلم را آرام نكرد كه من در این جایگاه باید باشم یا نه الا این نامه که خیالم را راحت کرد. چون مي‌دانم که ايشان اصلاً بر مبنایی که دیگران ممکن است بنویسند و حرف بزنند، نمی نویسند وصحبت نمی کنند.

6- حجت الاسلام فقیهی اصفهانی از اساتید حوزه علمیه قم  :

یکی از رفقا ما به نام آقای رجالی ، که خیلی رفت و آمد داشت از قدیم با حضرت آیت الله بهجت و درس ایشان را خیلی شرکت می کرد و خیلی آدم با صفا و سالم و خوبی است، ایشان چند مورد از ایشان را برای ما نقل می کرد .

یکی اینکه می گفت ، آیت الله بهجت ، به این راحتی هر کسی را راه نمی دادند برای ملاقات ، آن هم برای ملاقات های طولانی و این حرف ها .

ولی آیت الله خامنه ای مرتب خدمت آیت الله بهجت می رسیدند و این ها یک رابطه صمیمی داشتند . زیاد و به طور مخفیانه آقا می آمدند قم و می رفتند خدمت آیت الله بهجت .

یکی از زمان هایی که ایشان می گفت زمان ملاقات این دو بزرگوار بوده است ، سحر بود دو ساعت مانده به اذان صبح . ایشان می گفت که آیت الله خامنه ای گاهی سحر می آمدند . در آن موقعیت حساس می آمدند خدمت آیت الله بهجت و می رفتند . خوب این نشانه علاقه شدید آیت الله بهجت به مقام معظم رهبری است که در این موقع شب و سحر آقا را می خواستند و با هم بودند و صحبت می کردند .

بعد باز ایشان می گفتند چند سال پیش که آیت الله خامنه ای یک هفته ای تشریف آوردند قم ، جمعیت زیادی برای استقبال آمده بودند در خیابان ها .

آیت الله بهجت هم آمدند جزء جمعیت استقبال کنندگان . حالا یک مرجعی در سن حدود نود سال ! ایشان هم آمدند در جمع استقبال کنندگان آیت الله خامنه ای . ایشان می گفت که یک شخصی به ایشان گفت که حاج آقا شما با این سن و سال آمدید وسط این جمعیت استقبال کنندگان ؟

آیت الله بهجت فرمودند : " اگر مردم می دانستند که استقبال این سید چقدر ثواب دارد هیچ کس در خانه نمی نشست " .

این تعبیر خیلی زیباست که اگر مردم می دانستند استقبال این سید چقدر ثواب دارد هیچ کس تو خانه نمی نشست .

7-  شش ماه قبل از فوت آیت الله بهجت ایشان فرموده بودند که : " آقا را بگویید بیایند اینجا با ایشان کار دارم " .

آقا را خواسته بودند و آیت الله خامنه ای آمده بودن این جا قم . صحبت هایی با هم داشتند از جمله آیت الله بهجت فرموده بودند : " خطری به سمت شما دارد می آید و من این خطر را احساس می کنم و من آن چه باید برای شما انجام بدهم ، برای سلامتی شما انجام داده ام (حالا نذر باشد یا هر چیز دیگر) " .

 و فرموده بودند : " خودتان هم هر کاری می توانید انجام بدهید " .

البته کاملش را حاج آقای صدیقی روی منبر نگفتند .

ولی بعدها یکی از دفتری های آیت الله بهجت  که اطلاع داشتند و کامل تر گفتند .

گفتند چند روزی گذشت و باز دوباره حضرت آیت الله بهجت گفتند که : " آیت الله خامنه ای را بگویید یک نفر بفرستند من با ایشان کار دارم " . حاج آقا محمدی گلپایگانی را آیت الله خامنه ای فرستادند پیش آیت الله بهجت.

آیت الله بهجت دومرتبه تأکید کردند: "  که من برای سلامتی شما هرکاری می توانستم انجام دادم . خودتان هم یک کاری انجام بدهید " . برای بار دوم بعد از چند روز این تأکید را آیت الله بهجت داشتند که به واسطه آقای محمدی گلپایگانی به آقا خبرش رسید و خود آیت الله خامنه ای هم هرکاری باید انجام بدهند انجام داده بودند .

آقا زاده آیت الله بهجت نیز می گفت که یک موقعی آیت الله خامنه ای تشریف آوردند قم ، بعد آیت الله بهجت فرمودند : " همه از اطاق بروند بیرون " . حالا هر کس می آمد ملاقات آیت الله بهجت ، پسر آقا و بعضی های دیگر هم حضور داشتند .

بعد می گفت : یک موقعی آیت الله خامنه ای که آمدند ، آیت الله بهجت فرمودند : " هیچ کسی نماند ، همه بروند بیرون من با آقا حرف خصوصی دارم " و بعد تا مدتی با هم بودند و به طور خصوصی و ما همه رفته بودیم بیرون از اطاق ، این قدر با هم صمیمی بودند .

 

آیت الله وحید خراسانی:



1- هنگامی كه آیت الله آملی لاریجانی برای مشورت به خدمت آیت الله وحید خراسانی رسیده بودند تا نظرات ایشان را در خصوص پست ریاست قوه قضاییه جویا شوند ایشان فرمودند به هرطریق كه می توانید این سید را كمك دهید ایشان تنها است اگر شما او را كمك نكند پس چه كسی به ایشان یاری رساند.

2- روزی یكی از طلبه ها خدمت آقای وحید خراسانی می رود و از اوضاع و احوال كشور گلایه می كند و ایشان خطاب به این طلبه جوان می گویند آیا من می توانم كشور را اداره كنم ؟

این طلبه جوان بعد از مدتی تفكر می گوید؟ خیر شما نمی توانید این كشور را اداره كنید

آیت الله وحید می گویند به راستی چه كسی بهتر از مقام معظم رهبری می تواند این كشور را اداره كند.

3-  آیت الله محمد مهدی شب زنده دار نیز در درس خارج فقه خود که در مسجد اعظم قم برگزار شد، با اشاره به حمایت آیت الله وحید خراسانی از مقام معظم رهبری گفت: آیت الله العظمی وحید خراسانی که ما بیست و چند سال خدمت ایشان مشرف می شدیم و تلمذ کردیم، چند بار در جلسات مختلف فرمودند «کارهای آقای خامنه ای بر اساس موازین است».

وی ادامه داد: یعنی ایشان ضوابط شرعی را مراعات می کنند و اصل در این است که هوا و هوس ندارند و وقتی تشخیص می دهند که این حکم، حکم خداست به آن عمل می کنند و این یک شهادت بزرگی است.

استاد دروس خارج حوزه علمیه قم گفت: در جلسه دیگری هم آیت الله وحید خراسانی از آیت الله خامنه ای و پدر ایشان تعریف کردند، بنابراین وقتی مقام معظم رهبری به حرم اهل بیت و قم مشرف می شوند، وظیفه همه ما است که از مقام شامخ ایشان تجلیل کنیم.

وی بیان داشت: این تجلیل، تجلیل از اسلام، مذهب، اهل بیت و مرجعیت بوده و شکر نعمت حکومت اسلامی است که خداوند متعال به این مملکت ارزانی داشته است.
 

بنیان گذار انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی(ره):  

 

1- امام خميني(ره) خطاب به مقام معظم رهبري در زمان رياست جمهوري ايشان: هر موقعي‌كه شما به سفر مي‌رويد، من مضطرب هستم تا برگرديد. خيلي سفر نرويد! همچنين امام راحل در مورد امام خامنه اي مي فرمودند : شما مانند خورشيدي هستيد كهنورافشاني مي كنيد. کیهان 26/4/86

2- جنابعالی را یکی از بازوهای توانای جمهوری اسلامی می دانم و شما را چون برادری که آشنا به مسائل فقهی و متعهد به آن هستید و از مبانی فقهی مربوط به ولایت مطلقه فقیه جدا جانبداری می کنید میدانم.

3- در بین دوستان و متعهدان به اسلام و مبانی اسلامی از جمله افراد نادری هستید که چون خورشید روشنی می دهید.

4- یک نفر را مثل ایشان پیدا بکنید که متعهد به اسلام باشد و خدمتگزار، و بناى قلبى اش بر این باشد که به این ملت خدمت کند، پیدا نمى کنـید، ایشان را من سالهاى طولانى مى شناسم.

5- از زبان احمد آقای خمینی : وقتیکه داشت تلویزیون آقای کیم ایل سونگ را با آقای خامنه ای که در کره بودند نشان می داد زنگ امام بصدا در آمد دویدم بطرف اطاق آقا دیدم آقا دو زانو نشسته نزدیک تلویزیون و به تلویزیون خیره شده فکر کردم سکته کرده،داد زدم دیدم برگشت گفت: بیا بشین. نشستم. گفت احمد آقا می بینی این عظمت را وقتیکه عصایش را برمیدارد و قدم برمی دارد حیف نیست ایشان بعنوان رهبره آینده نباشد من هم بشما (احمد آقا) گفتم هم به اکبر آقا (هاشمی) تکلیف من تمام است من اگر بگویم اختلاف ایجاد می شود.

6- و در قسمتی دیگر می گوید : در لحظه های آخر عمر امام (ره) آقای خامنه ای را با خانواده اش می پذیرفت خانواده آقا بودند و آقای خامنه ای که شروع به صحبت - کرد ما خودمان دیدیم لحظه ی آخر هرچه در امام-ره بود به آقای خامنه ای انتقال پیدا کرد . یک فروغی در چهره آقا دیده میشد آقا درحالی که قرمرز قرمز بود و صورتش برافروخته با یک صلابتی به همه نگاه میکرد. آقا فرمودند که احدی حق ندارد با جایی مصاحبه کند ...


7- و در قسمتی دیگر می فرماید: امام وقتیکه آقای خامنه ای را می دید چهره اش باز میشد مانند حالتی که آدم عشقش را می بیند و خوشحال می شود دست خودش نیست. امام ابروها و چهره اش باز میشد. بلند میشد و به طرف آقای خامنه ای براه می افتاد و حالا هرچند نفر حضور میداشتند. من ده بار بیشتر خودم می دیدم این موارد را ...
 
 
8- و در قسمتی می گوید : وقتیکه امام فرمودند که خوشحالم از اینکه می بینم فردی از سلاله پاک پیامبران و از فرزندان امام حسین (ع) بر مسند حکومت نشست خوب برای ما یک حرف بود. من به بزرگواری مراجعه کردم و گفتم اینکه امام گفت خوب تفسیر می خواهد یعنی چه؟ گفت همان که امام تمام قد جلوی آقای خامنه ای بلند می شود. دلیل صلی اش است. گفتم بازهم نمیدانم گفت مشکل خودت است. امام با هیچکس شوخی ندارد، امام ره بخاطره سید بودن آقای خامنه ای نمی گوید آقای خامنه ای سی و چهارمین فرزند امام حسین (ع) است. شجره نامه دارد. بروید ببینید. آقای خامنه ای بلا واسطه بدون هیچ چیزی پسر امام حسین است. این را بازهم جرات نمیکردیم بعضی جاها بگویئم. تا اینکه آقای خامنه ای در آستان مرکز رفتند تفرش. در تفرش وقتیکه به زیارت آن زیارتگاه مشهور و معروف رفتند و زیارت کردند فرمودند این (امامزاده) پدر چهارم من است. اصالت ما در ایران از ایشان است. بچه ها دیدند آن امامزاده سی امین فرزند امام حسین (ع) که آقا سی و چهارمین می شود.
 
 
9- آقای هاشمی رفسنجانی فرموده اند: آقای خامنه ای از مسافرت آمده بود باهم خدمت امام رفتیم. امام (ره) به آقای خامنه ای فرمودند: وقتیکه شنیدم هواپیمای شما در فرودگاه نشست خیالم راحت شد.
 
 
 
10- و در ص 38 همان کتاب آقای هاشمی فرموده اند: که در جلسات آخر عمر حضرت، امام ره برای مقام معظم رهبری کلمه رهبر برادر را بکار می بردند که قطعاً این تعبیر بی معنا نبود و در همان صفحه امام بر شایستگی آقای خامنه ای برای رهبری تاکید داشتند.
( پرتوی از خورشید علی شیرازی ص 38)
 
11- به نقل از حجةالاسلام مهدوي:

خدا رحمت كند شهيد عراقي و يكي از شخصيتهاي سياسي خوب امروز كه متأسفانه نمي توانيم اسم ببريم ،ميگويند وقتي امام در ابتداي نهضت اولين اعلاميه سياسي خود را داد ، (خوب ما در حد فهم خودمان درك ميكرديم ، نمي دانستيم روح خدا كجا را دارد ميزند) گفتيم خوب مردم ايران در فقر و بدبختي و استكبار اين طاغوت هستند و امام مي خواهد اين ايران را به آرامش و رفاه برساند .
گفت با شهيد عراقي بعد از اولين غرشي كه امام كرد ، رفتيم خدمت امام ، شهيد عراقي با همان خلوصي كه داشت گفت حاج آقا واقعاً خيلي خوب مي شد اگر اين چيزي كه شما ميگوييد اتفاق بيافتد . وضع مردم ايران خيلي خوب ميشود .
امام با بي اعتنايي فرمود بله وضع مردم هم خوب ميشود ، ولي ما مأمور به انجام چنين كاري نيستيم .
آقاي عراقي هم آدم سمج ، گفت آقا چي گفتيد ؟
امام فرمود ما براي مأموريت ديگري آمديم ، وضع مردم هم در حاشيه خوب ميشود .
آقاي عراقي گفت براي چه مأموريتي آمده ايد ؟
امام فرمود براي سه مأموريت :
اول سرنگون كردن حكومت پهلوي – دوم استقرار نظام جمهوري اسلامي – سوم ، دادن پرچم حكومت اسلامي به دست صاحب اصلي اش .
حوادث روزگار و فاصله زماني از حافظه ما برد ، رفتيم داخل مبارزات و خيلي ها كشته شدند و انقلاب پيروز شد. شهيد عراقي هم با زبان روزه توسط سيد مهدي هاشمي كه داخل باند آقاي منتظري بود ، نيز به شهادت رسيد ، ما به يكباره ديديم دو تا از وعده هاي امام محقق شد .
يك وقتي در جمع بعضي از مسئولين نظام از جمله حضرت آيت الله ري شهري ، گفتم شهيد عراقي و بنده شاهد چنين حرفي از امام بوديم . حالا دو مورد آن اتفاق افتاده ، سومين آن يعني چي ؟
بحث شد كه با دست امام ميرسد به دست صاحب اصلي ، يا شخص ديگري ؟
يكي از همان جمع كه حالا اسم نمي برم و شما مي شناسيد و آدم بزرگواري است ، گفت من ميروم و از امام مي پرسم . بعد رفتند و اينقدر از امام اصرار كردند كه آقاي عراقي همچنين چيزي از شما شنيده ، آيا درست است ؟
امام فرمودند بله درست است .
گفتند دو تا از آنها محقق شده سومي چي ؟
امام گفتند سومي هم خدا انشاءالله مي خواهد و ميشود .( خيلي امام پرهيز داشت )
اصرار كردم گفتم شما هستيد كه اين پرچم را به دست صاحبش مي دهيد ؟ يا شخص ديگر ؟ بعد از اصرار من،
امام فرمودند : نه من نيستم . بعد از من كسي خواهد آمد كه پرچم را به دست صاحب اصلي اش خواهد داد .
حالا ما داريم اين مطلب را الان مي شنويم ، ولي اين آقاياني كه بعضي هايشان اين همه آتش مي سوزانند ، آن زمان داغ داغ تنوري اين مطالب را شنيده اند ، نمي دانند .

نمي دانند كه علامه اميني صاحب الغدير مي فرمايد : الخميني ، ذخيرة الله في الارض.

 

12- به نقل از حجت الاسلام دانشمند:

اگر من از مظلومیت رهبر بگویم شاید دلتان خون بشود ، خیلی مظلومند ایشان .


این موضوع را من با یک واسطه می گویم . با یکی از محافظ های آقا در حرم امام رضا روبروی ضریح ، دو به دو با هم بودیم .

گفتم از آقا چه خبر ؟

میگفت ما روزهای دوشنبه ، ( این را میگفت و گریه میکرد ) می رویم سرکشی میکنیم به خانواده شهدا . آقا می فرمودند به خانواده شهدا نگویید که ما می آییم که به زحمت نیافتند .

یک ربع قبل آقا در ماشین هستند ما درب میزنیم و میگوییم آقا می خواهند تشریف بیاورند منزل و یک سلام و علیکی با مادر و پدر شهید نمایند .

یکبار رفتیم درب خانه دو شهید ، من خودم رفتم دیدم درب باز است و آب و جارو کرده اند . درب زدم ، مادر شهید آمدند دم درب و گفتند : آقا کو ؟

گفتم : کدام آقا ؟

گفت : مقام معظم رهبری کجاست ؟

گفتم : شما از کجا می دانید ؟

شروع کرد به گریه کردن ، گفت دیشب خواب بچه هام را دیدم ، بچه ها آمدند گفتند خوش بحالت ، فردا سید علی می خواهد بیاید خانه تان .

به اینجا که رسید ، مقام معظم رهبری هم رسیدند به درب خانه .

بعد مادر شهید گفت من خواب دیدم که امام هم تشریف آوردند و گفتند فردا آقا سید علی آقا می خواهند بیایند ، ما هم تبریک می گوییم . و یک مطلبی هم امام فرمودند و پیغام دادند که من به شما بگویم .

مقام معظم رهبری فرمودند چه پیغامی ؟

مادر شهید گفتند : امام فرمودند سلام ما را به آقا سید علی آقا برسانید و به ایشان بگویید اینقدر از خدا طلب مرگ نکن ! فرج نزدیک است ان شاءالله .

آقا خیلی گریه کرد .

حجت الاسلام دانشمند : مظلوم است آقا . یک کاری نکنیم که اگر گره ای نمی توانیم باز کنیم ، لااقل گره بر گره نیاندازیم .این واقعاً ظلم است ، خدا نمی بخشد .

در این دنیا مرکز شیعه فقط ایران است . افغانستان ، پاکستان ، مصر ، عربستان و عراق را ببینید . در ممالک اسلامی کجا شیعه همه کاره است ، ایران مرکز شیعه است ، دل امام زمان به شما بسته شده و امید امام به شماست .

خدایا رهبر مظلوم و با کرامت انقلاب را بحق امام زمان محافظت بفرما.
 

دکتر میلانی دکتر مخصوص رهبر معظم انقلاب در وقت ترور نافرجام ایشان:

1- بعد از ۲۵سال از آن قضایا که به اتفاق محافظان و دیگر برادران به بیت معظم له شرف یاب می شوند میفرماید حالا بهتر میشود فهمید که چرا سالهاست ضربان قلب این مردم میگوید دست خدا بر سر ماست... این دست رنگ خدا را دیده و طعم بهشت را چشیده ،سوغات یک سفر غیبی به آن سوی ابرهاست که پیش رهبر مانده تا بقول دکتر میلانی با دست موعود بیعت کند.کیهان 86/4/6

خانواده شهید عبدوس:

1- پدر شهید امین همانطور که روبروی آقا نشسته می گوید: به من ثابته آقا جون شما را خداوند در آن بمب گذاری حفظ کرد. به من ثابته که انقلاب از خمینی بشما رسیده و از شما به حضرت صاحب الزمان میرسد.

کیهان 86/4/26

 
آیت الله سید احمد خاتمی: 


1- آیت الله سید احمد خاتمی در خطبه های نماز جمعه 1/4/86 تهران در یادآوری ششم تیرماه سال ۶۰ روز سوء قصد به رهبر معظم انقلاب گفت: مصلحت خدا بر این بود که حضرت ایت الله خامنه ای از آن سوء قصد جان سالم بدر ببرند و امروز سکّان دار کشتی امت اسلامی باشند تا پرچم اسلام را بدست صاحب اصلی اش برسانند. کیهان شنبه 2/4/86


 کتاب آیا ظهور امام زمان نزدیک است؟:

1- در کتاب " آیا ظهور امام زمان نزدیک است" آمده است که در قبال علائم قبل از ظهور میتوان اشاره به رهبری معظم نمود. در این خصوص جای آن دارد که اشاره به سخن بزرگی از بزرگان حق و حقیقت کنیم که در ماه رمضان طی تماسی که با ایشان داشتیم فرمودند: ایشان ( مقام معظم رهبری) را فرد صالح و منتظر واقعی امام عصر(عج) دانستند و در یک بیان (که این عین کلام را نمیشود عنوان کرد) به مظلومیت ایشان اشاره مستقیم نمودند. نکته جالب این که این سید جلیل القدر خراسانی وظیفه بسیار مهمّ و حسّاس در قبال ظهور برعهده دارند که این وظیفه از اسرار است و قابل ذکر نیست و جمع کسانیکه مخلصانه به امام عصر (عج) عشق می ورزند نسبت به ایشان ارادت خاصّ دارند.

 آیا ظهور امام زمان نزدیک است؟ ص ۲۴۲

 
آیت الله بهاءالدینی(ره):

1- بعد از امام اگر بشود به کسی اعتماد کرد به این سید (آیة الله خامنه ای)است.. آقای خامنه ای از همه به امام نزدیک تر است  . . .کسی که ما به اوامیدواریم آقای خامنه ای است . . . این دید ماست، نزد ما محرز است سیدعلی خامنه ای.

2- علامه بهاءالدینی چند سال قبل از فوت حضرت امام فرمودند: مساله قائم مقامی سر نمیگیرد. دلخوشی ما به آقای خامنه ای ست. صبح صادق 16/3/84

3- در دیداری که مقام معظم رهبری در قم و در خانه علامه بهاءالدینی دارند. روز بعد که جمعی بخانه علامه بهاءالدینی میروند. سوال میکنند دیروز مقام معظم رهبری اینجا آمدند میفرماید بله چند دقیقه خورشید تابید و رفت.

او چون خورشیدی دارای خیرو برکت است. دید ما و حرف ما این ست که آقای خامنه ای را باید کمک کنید.
کتاب پرتوی از خورشید علی شیرازی ص 40
 
 
4- این ماجرا را من از آقای صدیقی نقل قول می کنم .
در زمان ریاست جمهوری آیت الله خامنه ای ، آقا با آقای بهاءالدینی (ره) ارتباطی نداشت . آقای فاطمی‌نیا رابط آشنایی شدند و رابطه آقا و آقای‌ بهاءالدینی خیلی نزدیك شد .

بعد از رهبری مقام معظم رهبری ، آقای بهاءالدینی کسالتی پیدا کرده بودند و بیمارستان هم نمی‌رفتند .

آقای خامنه‌ای به آقای فاطمی‌نیا گفته بودند که به آقای بهاءالدینی بفرمایید که حتماً دکتر بروند و اگر هزینه‌ای هم دارد بدهید.

بالاخره به آقای بهاءالدینی گفتند كه آقا گفتند شما حتماً بیمارستان بروید.

خلاصه به خاطر دستور آقا، ایشان می‌آیند تهران بیمارستان خاتم و مدتی بستری می شوند برای معالجه .

این را آقای صدیقی می‌گفت، می‌گفت من رفتم عیادت‌شان و به آقای بهاءالدینی گفتم آقا حالتان بعد از عمل چه طور است؟

آیت الله بهاءالدینی گفتند : الحمد لله! الحمد لله! ما به حرف این سید (آیت الله خامنه‌ای) گوش كردیم، آمدیم بیمارستان، آقا (امام زمان) آمد ملاقات ما .
 

5- به گزارش اختصاصی خبرنگار رهوا از یک منبع آگاه : قرار بوداز طرف مجلس خبرگان منتظری انتخاب شود ازتمام علما برای ایشان امضاي تاييدگرفته میشد.روزی برای گرفتن امضا چند از نزدیکان منتظری به خدمت آيت الله سید رضا بهاء الديني رسيدند اماايشان امضا نكردند هرچه ازفرستادگان منتظري اصرار ازايشان انكار.تاآنجا كه خود منتظري شخصا به خدمت ايشان رسید وتمام كتابهايي كه درمورد ولايت فقيه نوشته بود را محضر حضرت

آقا قرار دادند

حضرت آقا تمام كتاب ها راجمع كردند وبه منتظري چند لحظه نگاه کردند و خنده کوتاهی کردند و فرمودند ولايت فقيه نوشتني نيست فهميدني است

این منبع نزدیک به بیت بهاءالدینی نقل میکند که از حضرت آقا پرسیدم چرا ايشان راتاييد نكرديد مگه شخص ديگري هم ميتواند .بعد از امام (ره) به مقام رهبری برسند

حضرت آقا فرمودند : البته هیچ كس حاج آقا روح الله نمی شود، ولی آقاسیدعلی خامنه ای حقیقتا ولی فقیه هستند و رهبر ,از همه به امام نزدیكتر است. كسی كه ما به او امیدواریم آقای خامنه ای است. شما از ما قبول نمی كنید و تعجب می كنید، ولی این دید ماست، نزد ما محرز است آقاسید علی خامنه ای رهبر آینده هستند و ايشان باز هم فرمودند :نظر ما سيد علي سید علی سید علی خامنه اي است

این منبع آگاه در گوشه ای دیگر از گفتگو با رهوا بیان کرد که :زمان می گذشت و به مرور زمان سخنان گهربار و گلواژه های بینش آفرین این پیر روشن ضمیر، بیشتر و بهتر عملی می شد. تا این كه رحلت حضرت امام خمینی قدس سره و انتخاب حضرت آیةالله خامنه ای (حفظه الله) پیش آمد.

محضر آقا جان رسیدیم و به عنوان خبر روز خدمتشان عرض كردیم. فرمودند:ما مدتها پیش به این مطلب رسیده بودیم و نظر خود را بیان کردیم که هیچ کس بعد از حاج آقا روح الله نمیتواند رهبر شود جز سید علی آقا و باید به ایشان كمك كرد تا تنها نباشد.

برپایه همین گزارش:قبل از ریاست جمهوری آقای خامنه ای روزی در بیت محترم حضرت آقا بهاءالدینی بودیم که آقای خامنه اي كه درآن زمان نماينده مجلس بودند به بیت ایشان (منزل)تشريف آورده اند و وقتي که آقای خامنه ای رفتند آقا زیر لب فرمودند :خورشيدلحظه اي تابيد ورفت!
يكي از روزها كه حضرت آقا تشريف برده بودند به جمكران، حدود ساعت دو شب به حضرت آيت‌الله العظمي بهاءالديني خبر مي‌دهند كه آقا صبح بعد از نماز مي‌خواهند تشريف بياورند منزل شما. تيم حفاظت ساعت چهار صبح براي آماده كردن شرايط به منزل ايشان مي‌روند كه متوجه مي‌شوند آقاي بهاءالديني، پيرمرد نود ساله جلوي در خانه ايستاده‌اند. مي‌گويند: آقا چرا با اين كهولت سن اينجا تشريف داريد؟ ايشان مي‌فرمايند: براي ديدن رهبر بزرگ انقلاب، من از همان ساعتي كه شما زنگ زديد آمده‌ام استقبال.

یکی از نزدیکان آیت الله بهاالدینی هم در باره پیش بینی ایشان در باره رهبری آقا اینچنین نقل میکند: گاهی که صحبت از قائم مقامی برخی افراد بعد از امام می شد، ایشان لبخندی ملیح زده و با تامل اندیشمندانه ای می فرمود: ما این طور نمی بینیم، چون خدا نمی خواهد، هر چند بعضی تلاش می کنند . خیال می کنند می توانند برای شیعه از جانب خود رهبر و مرجع درست کنند.

آن گاه این داستان را بیان می کردند که:در زمان سید ابوالحسن اصفهانی برای مرجعیت بعد از ایشان، تبلیغ زیادی برای میرزا محمد حسین اصفهانی (کمپانی) کردند، ولی از آن جاکه خدا نمی خواست، میرزا محمد حسین اصفهانی پنج سال قبل از سید ابوالحسن اصفهانی رحلت کرد و سید ابوالحسن اصفهانی بر پیکرش نماز خواند.
6- آیت الله فاطمی نیا:بعد از اینکه در سال 68 مجلس خبرگان به رهبری امام خامنه ای رای می دهند. بعد از فوت امام خمینی، رهبر انقلاب به دیدار آیت الله بها الدینی می روند. بسیجی ها آیت الله العظمی بها الدینی اصرار داشته اند که دست آقا را ببوسند و آقا هم نمی گذاشتند. این عالم بزرگوار وقتی امتناع رهبر انقلاب را می بیند می فرماید:

اجازه بدهید تا من دستتان را ببوسم تا فردا که به محضر جده ام زهرا مشرف شدم به ایشان عرض کنم، دست ولی خود را بوسیدم.  

 

7- به نقل از آیت الله فاطمی نیا : من این مطلب را همه جا می گویم و شما هم همه جا محکم بگویید. 4 بزرگ به من فرموده اند و هر 4 نفر هم زنده اند.سخنان این بزرگواران را هم ضبط کرده ام.من این مطلب را جدا جدا از این 4 بزرگوار پرسیده ام وبا هم نبوده اند.این 4 نفر حضرات آیات، آیت الله بها الدینی ،آیت الله امجد،جناب آقای احدی از علما و حجت الاسلام و المسلین حیدری کاشانی هستند.سال 61 آقای منتظری قائم مقام می شوند و هر 4 نفر نگران می شوند.همان سال این ها خدمت آیت الله بها الدینی (به عنوان قله خود)می روند و از ایشان در مورد رهبر آینده می پرسند.این مطالب که از آیت الله بها الدینی نقل خواهم کرد عین عبارت هاست و کسانی که مکتوب نیز می خواهند به کتاب سیری در آفاق مراجعه کنند. آیت الله بها الدینی در جواب این 3 عزیز می فرماید:

«آقای منتظری رهبر نمی شود، همه ی امید ما فرزند عزیز زهرا سید علی خامنه ای است.ایشان را اطاعت و حمایت کنید.»

 8-  از زبان داماد اين عالم رباني: آيت‌الله بهاءالديني از اين ديدار بسيار به وجد آمدند و به مقام معظم رهبري با عنوان «السلام عليك يا وديعة‌الله» سلام دادند اين در حالي بود كه مقام معظم رهبري از نظر سني جاي پسر آيت‌الله بهاءالديني به حساب مي‌آمدند.

 

حضرت آیت الله مشکینی(ره):  

1-حضرت مستطاب آیت الله حاج سیدعلی خامنه ای (مد ظله العالی) واجد مقام فقاهت و اجتهاد و قدرت استنباط احکام شرعیه که تصدی مقام معظم رهبری بدان نیازمند است، می باشند. چنانچه معظم له حائز سایر شرایط ولایت امت و رهبری جامعه مسلمین نیز بنحو اوفی می باشند و این امر را خبرگان محترم رهبری از روی درایت و اطلاع خود و استفاده از بیانات و تأییدات رهبر عظیم الشأن راحل امام خمینی قدس الله سره در مواقع متعدده، تأیید و تصویب نموده اند.


آیت الله صمدي آملي: 



1- در يادواره شهداي شهرستان آمل (مسجد فاطمه الزهرا(س) ) به تاريخ 27/8/89 هديه اي بسيار ارزشمند به امت حزب الله دادند و آن اين بود كه فرمودند:

« عرب، به شيء تيز ميگويد: حادّ و شيء بسيار تيز را حديد مي گويد.

هديه و نويد و اميد بنده به شما در مورد مقام معظم رهبري اينست كه " بصره اليوم الحديد " جناب ايشان بسيار تيزبين هستند. چشم بصيرت ايشان بسيار بسيار تيز است و ايشان بسيار تيزبين. پس حرف ايشان را درست بفهميد و درست اجرا كنيد.
ايشان در فراز ديگر بعد از سخناني درباره فتنه سال گذشته كه ريشه اش را در سال 64 و 65 دانسته اند فرمودند:
وحدت جامعه اسلامي فقط بايد حول و محور مقام معظم رهبري باشد .
ایشان ضمنا فرمودند که سفر مقام رهبری به قم توطئه بزرگی را تقریبا در نطفه خفه کرد. منتظر فتنه های سخت تر در اینده باشید. »

 آیت‌الله العظمی سیستانی:  

1- حجت‌الاسلام والمسلمین عباس کعبی درجمع اساتید سطح یک حوزه علمیه خراسان در قم، در خصوص رابطه مقام معظم رهبری با آیت‌الله العظمی سیستانی گفت: این رابطه دوطرفه و بسیار صمیمی است؛ به طوری که حضرت آیت‌الله سیستانی خود بارها گفته اند که من برای سلامتی آیت‌الله خامنه ای دعا می کنم و مسئولان نظام را نیز بر اطاعت از ایشان سفارش می کنم .

 از طرفی مقام معظم رهبری نیز ارتباط صممیمانه ای با حضرت آیت‌الله سیستانی دارندو ابراز داشته اند که هر شب برای سلامتی ایشان دعا می کنم.

‌آيت الله العظمي اراكي(رحمةالله عليه) : 


1- انتخاب شايسته‌ي حضرت عالي به مقام رهبري جمهوري اسلامي ايران، مايه‌ي دلگرمي و اميدواري ملّت قهرمان ايران است.

روزنامه جمهوري اسلامي 22/3/1368


آيت الله مهدوي كني: 


1- اين الهامي بود از الهامات الهي و هدايتي بود از هدايت معنوي روح حضرت امام (رضوان الله عليه) كه هنوز اين ملت را رها نكرده و اين رحمتي بود از طرف خداوند كه در كوران اين مصيبت جانكاه، با تعيين آيت الله خامنه‌اي كه از ياران صديق امام و از ياران خوشنام و خوش سابقه بوده و مجتهد و عادل است، به عنوان رهبري نظام جمهوري اسلامي ايران، آرامشي توأم با اعتماد و اطمينان بر كشور و امت فداكار حاكم گرديد.

روزنامه رسالت 23/3/1368

2- نعمت وجود مقام معظم رهبری را باید قدر دانست و کسانی که قدر رهبری را نمی دانند ناسپاس هستند.


 آيت الله فاضل لنكراني(رحمة الله): 

1-بنده به عنوان كسي كه هم عضو مجلس خبرگان هستم و هم اينكه آشنايي با آيت الله خامنه‌اي دارم؛ عرض مي‌كنم كه ايشان اهل نظر و اهل اجتهاد هستند. بيست سال پيش وقتي در مشهد در مسجد گوهرشاد با ايشان برخورد كردم؛ آن موقع ايشان از مدرسين محترم مشهد بودند؛ پرسيدم چه چيزي تدريس مي‌كنيد، فرمودند: مكاسب. مكاسب از مهمترين و مشكلترين كتب علمي ماست. به نظر من ايشان يك فقيه و يك مجتهد است. كسي كه در سالهاي طولاني در جهان سياست استادي چون امام امت داشته است و خودش نيز داراي استعداد سرشار است؛ چنين فردي داراي مقامات بلندي از درك سياسي است. دوران هشت ساله رياست جمهوري ايشان يك شاهد قوي براي مطلب است. سفرهايي كه ايشان به كشورهاي خارج داشته‌اند، به عنوان يك سياستمدار در صحنه‌هاي سياسي جهان درخشيده است.

روزنامه رسالت 22/3/1368

 
حضرت آیه الله العظمی گلپایگانی: 


1- براي رهبر معظم عبايي هديه فرستادند و فرمودند: «اگر ديدم كاري را شما انجام مي‌دهيد و خلاف مطلب اسلامي است، من تذكر مي‌دهم. اگر تغيير داديد بسيار خوب، اگر تغيير نداديد من ديگر صحبت نمي‌كنم و

تضعيف شما را حرام مي‌دانم. عمده عظمت شماست. شما رهبر مسلمين هستيد و نمي‌خواهم صحبتي كنم در يك فرعي كه شما را تضعيف كرده‌ام.

آیت الله مصباح یزدی:  


1- من خیلی کارها در مباحث علمی کردم و آن تببین مقام و منزلت رهبری است. من تصمیم گرفتم بقیه عمرم را برای این کار بگذارم. من به یقین رسیدم که ایشان اقرب به معصوم است و فاصله ایشان با معصومین به مراتب کمتر از بقیه مراجع است و اگر در قبال این مساله قصور کنیم فردای قیامت محاکمه خواهیم شد.

2- از بزرگترین نعمت های الهی که خدا برای مسلمانان بعد از غیبت امام زمان(عج) مرحمت کرده وجود مقدس رهبر معظم انقلاب است.... باید در پیشگاه عظمت الهی سربه خاک بگذاریم و طول عمر بیشتر برای رهبر معظم انقلاب را درخواست کنیم.

 

3- اگر امثال بنده شبانه‌روز تسبیح به دست بگیریم و فقط خدا را شکر کنیم که خدا چنین رهبری را به ما داده، والله معتقدم که از عهده شکر این نعمت برنمی‌آییم. رهبر عزیز ما تالی تلو معصوم است.من در زمان حضرت امام هر وقت ذهنم متوجه این مسئله می‌شد که بعد از امام چه خواهد شد، مضطرب می‌شدم و به هر صورتی خودم را منصرف می‌کردم که اصلا در‌باره این مسئله فکر نکنم. چون هیچ جواب و طرح قانع‌کننده‌ای برای جبران خلا وجود امام نداشتم. این مسئله به‌قدری برای من نگران کننده بود که سعی می‌کردم به آن فکر نکنم. اما وقتی که مقام معظم رهبری ‌‌دامت برکاته ‌‌عهده‌دار این مسئولیت شدند، گویا آب خنکی روی شعله آتش بریزند.

شهید سید مرتضی آوینی : 


1- شهادت در رکاب امام خمینی زیباست اما دفاع از ولی فقیه حاضر از آن زیباتر است؛ خون دادن برای امام خمینی زیباست، اما خون دل خوردن برای امام خامنه ای از آن هم زیباتر است.
 

پوتین در سفر به ایران:  

1- من کمونیستم ,خانم من مسیحی ارتدوکس است, در خانه ما کتاب های مسیحی یافت می شود , و من آنها را خوانده ام , من آنچه را که در باره عیسی مسیح خوانده بودم همه را در چهره رهبر ایران دیدم .حال فهمیدم چه تدبیری کشور را اداره می کند و این خاطره ماندگار در من می ماند.


حجت الاسلام بهلول (ره):  

1- مرحوم بهلول خطیب معروف و رهبر قیام گوهرشاد مي‌گفت: «من در طول مدت عمرم، امرا و صاحب منصبان زيادى را ديده‌ام؛ اما كسى را به لحاظ بى‌رغبتى به مقام و منصب دنيا، هم پاى آيت الله خامنه‌اي نديده‌ام. انسان وقتى زندگى روزمره او را از نزديك مى‌بيند، حس مى‌كند كه ذره‌اى ميل به دنيا در او وجود ندارد... واقعاً در اين مقطع، من هيچ كس را در تقوا و اعراض از مال و مقام دنيا، مثل او نمى شناسم. آخرين بارى كه در خدمت وى بودم، به من گفت: آقاى بهلول! خاطرتان هست كه قبل از انقلاب، يك شب در مسجد طرقبه منبر بوديد؛ پس از اتمام مجلس، وقتى خواستيد از مسجد بيرون بياييد، چون تاريك بود، من آمدم دستتان را بگيرم و كمكتان كنم؛ اما دستتان را كشيديد و گفتيد: من چشمانم خوب مى‌بيند؛ تا جايى كه هنوز زير نور ماه، خاطره مى‌نويسم؛ حالا چطور؟ حالا هم بينايى‏تان در همان حد هست؟ من گفتم: آقا! حالا زير نور خورشيد هم ديگر نمى توانم بنويسم. بعد آقا گفت: اخيراً كمتر به ما سر مى زنيد. گفتم: آقا! شما متعلق به همه مردم ايران هستيد؛ من اگر وقت شما را بگيرم، مثل اين است كه وقت همه ايرانى‏ها را گرفته‌ام».

 
آیت الله العظمی نوري همداني:  

1- آنقدر ويژگي و شايستگي از جمله شجاعت،‌ تدبير،‌ فرهنگ، فقه، زمان‌شناسي و معلومات در وجود آيت‌الله خامنه‌اي هست كه بعد از امام راحل هيچ‌كس نمي‌توانست اين خلأ را پر كند.


حضرت آیت الله فاطمی نیا:  

1- اگر چيزي را يقين نكنم، نمي‌گويم. بدانيد و آگاه باشيد هركس كوچك‌ترين حرفي در تضعيف مقام رهبري بزند، هركس انديشه‌اي داشته باشد كه ضد مقام رهبري باشد، خدا او را نخواهد بخشيد. اين را يقين بدانيد.این مرد بزرگ عز اسلام است.

مرحوم دولابی(ره):  

1- امام خمینی "رحمت الله" مظهر مهابت بود و رهبری (( آیت الله خامنه ای ))مظهر محبت. خداوند متعال به امام نعمت ها را یکجا داد و امام هم این نعمت ها را برای استقرار نظام جمهوری اسلامی مصرف کردند. ولی نعمت ها به حضرت آقا را خدا تدریجی به ایشان می دهد و در هر مرحله ای متناسب با شرایط، خدا نعمت هایی را به ایشان می دهد یعنی شرایط آن نعمت ها را خود آقا فراهم می کنند.

 
آیت الله خوشوقت(ره): 


1- به نقل از آيت الله صفايي بوشهري: آيت الله خوشوقت  درباره مقام رهبری می فرمودند كه خداوند این منصب را به ایشان داده وهر ابزاری که برای این منصب لازم است را نیزبه ایشان هدیه داده است و رهبری را همیشه حضرت آقا صدا می کردند و حراست ازحریم  ولایت را بر همگان واجب می دانستند.

 
شهید دستغیب(ره):  

 1- هر عمامه سري كه از رهبر مكرم فاصله بگيرد، لعنت خدا برش باد...

2- شهيد محراب، عارف عامل، آيت‌الله دستغيب فرمودند: «چيزي كه بنده نسبت به اين شخص بزرگ فهميده‌ام اين است كه فردي است خدايي، هوا‌پرست نيست، مقام نمي‌خواهد، قدرت نمي‌خواهد به دست بگيرد، امتحان خويش را پيش از پيروزي و بعد از پيروزي داده است. در هر پستي كه بوده، امتحان خودش را داده است. كسي كه امام جمعه تهران باشد، آن وقت در جبهه برود، در سنگرها از اسلام دفاع كند، اين مرد بزرگ، مقامي براي خودش قائل نيست، به عينه مثل رهبر عظيم‌الشأن. امام فرموده: به من خدمتگزار بگوييد بهتر است از اينكه رهبر بگوييد. آقاي علي خامنه‌اي هم اين‌جوري است، مقام نمي‌خواهد، مقام روي او اثر نمي‌گذارد».

حاج احمد آقای خمینی(ره):  

1- من به عنوان فرزند امام ... رهبرا من مرید شما هستم ...

 


 آیت الله شهید صدوقی(ره):  

1- حجت‌الاسلام راشد يزدي می‏گوید: در سال 56 به اتفاق آقاي صدوقي و تعدادي از آقايان ديگر، تصميم گرفتيم برويم به افرادي كه در تبعيد هستند، سري بزنيم. چون مقام معظم رهبري به ايرانشهر تبعيد شده بودند، خدمت ايشان رسيديم. به امامت آقاي صدوقي نماز مغرب و عشا را خوانديم. من شنيده بودم كه در سمت ايرانشهر، كفش‌هاي خوبي توليد مي‌شود، لذا تصميم گرفتم به بازار بروم و يك جفت كفش بخرم. كارم يك الي دو ساعت طول كشيد. به خانه آقاي خامنه‌اي تلفن زدم كه ديگر آقاي صدوقي و آقاي خامنه‌اي براي صرف غذا منتظر من نباشند و شام را ميل كنند. وقتي برگشتم ديدم اين دو بزرگوار هنوز مشغول بحث هستند. من وارد كه شدم، آقاي صدوقي به من گفت: «ماشاءالله، ماشاءالله اين آقاي سيد‌علي آقا خيلي مُشت‌شان پر است».

صبح روز بعد رفتيم چابهار براي زيارت آقاي مكارم؛ در اين فاصله، اسم آقاي خامنه‌اي از دهان آقاي صدوقي نيفتاد؛ از بس مجذوب ايشان شده بود.

بعد از زيارت آقاي مكارم، گفتم كنار دريا برويم تا مدتي استراحت كنيم. ايشان گفت من مي‌خواهم برگردم پيش آقاي خامنه‌اي و بعد حدود دو ساعتي با هم بحث كردند. از لحاظ علمي آقاي خامنه‌اي، مورد تأييد صددرصد آقاي صدوقي بود.

2- در زمان انقلاب، بين حزب جمهوري اسلامي و امام جمعه بندرعباس اختلافي در گرفت. آقاي صدوقي به من گفتند تا درباره اختلاف آن‌ها، گزارشي بياورم. بعد از تهيه و دادن گزارش آن به آقاي صدوقي، ايشان پرسيدند: كي به تهران مي‌روي؟ گفتم فردا. ايشان پاكتي را به من دادند. پشت پاكت نوشته بود: "تقديم به محضر مبارك آيت‌الله‌ العظمي آقاي خامنه‌اي ". پسر آقاي صدوقي اعتراض كردند كه آيا ايشان به مقام آيت‌اللهي رسيده‌اند؟ آقاي صدوقي از بالاي عينك به پسرش نگاه كرد و گفت: "بله كه آيت‌الله‌ هستند".

 
آيت‌الله هاشمی رفسنجاني:  

1- من برای اداره کشور، هیچکس را صالح تر از آیت‏الله خامنه‏ای نمی‏دانم و کسی هم بهتر از ایشان توان اداره کشور را ندارد. ایشان بدیل ندارد و بهترین فرد برای مسند ولایت فقیه است. دوست و دشمن به این موضوع معترف‏اند. من در زیر سقف انقلاب کسی را با صلاحیت‏تر از آیت‏الله خامنه‏ای برای رهبری نمی‏بینم. ایشان هم مدیر است و هم مدبّر.

من اطاعت ولی فقیه را بر خود واجب می‏دانم. موارد متعددی بوده که من و آقا با هم بر سر موضوعی مباحثه کرده و در صورتی که به نتیجه نرسیده‏ایم من نظر ایشان را مقدم داشته و اطاعت کرده‏ام؛ آن هم به این دلیل که ایشان ولی فقیه هستند و امرشان واجب‏الاطاعه است. ضمن اینکه نظر ایشان را به عنوان یک کارشناس خبره هم می‏پذیرم.

 شهید بهشتی(ره):  

1- شهید مظلوم دکتر بهشتی فرمودند چهره ای مانند شخصیت آیت الله خامنه ای خداوند ذخیره کرده برای رهبری این انقلاب.

آیت الله مکارم شیرازی:  

1- الحمدلله رهبر حکومت اسلامی رهبری است بسیار آگاه و جنبه مذهبی و روحانی او بر جنبه سیاسی او غلبه دارد.

 

2- اگر مقام معظم رهبری حرمت نداشته باشند امروز هیچ‌کدام از ما ایرانی‌ها حرمت نخواهیم داشت.

تبعیت از حکم حکومتی ولی فقیه بر مراجع تقلید هم واجب است‌.

آیت الله جوادی آملی:  

1- رهبری نه پست است نه مقام ، بلکه امام جامعه است.چگونه است که در نماز با اقتدای چند نفر می گوییم امام جماعت ، اما به رهبر جهان اسلام نگوییم امام؟.هر لفظی غیر از امام خامنه ای جفاست به ایشان.

شهید مطهری(ره):  

1- سید علی خامنه ای از نمونه های ارزنده ای است برای آینده موجب امیدواری است.من از اخلاص آقای خامنه ای تعجب می کنم،ایشان هیچ به دنبال خودنمایی نیست که بخواهد خودش را مطرح کند و خودش را نشان بدهد،من در جریان کمیته ی استقبال از حضرت امام بیشتر به تقوای ایشان پی بردم.


آیت الله میرزا جواد تبریزی(ره):  

1- وقتی که حضرت آیت الله تبریزی، مریض بودند و در بیمارستان در تهران به سر می‌بردند، آقا آمدند خدمت آیت الله تبریزی برای عیادت. مرحوم آیت الله تبریزی به رغم بیماری که داشتند، نشستند روی تخت دستشان را روی سینه قرار دادند مقابل حضرت آیت الله خامنه‌ای. با این که سن آیت الله تبریزی خیلی بیش‌تر بود ولی عکس ایشان الان هست، که این عکس خیلی مهم است و موجود است که دستشان را برای احترام با آن حالت مریضی بر سینه قرار دادند، در مقابل آیت الله خامنه‌ای و تبسمی کردند از دیدن ایشان، پیدا بود خیلی خشنود بودند.
 

آیت الله طالقانی(ره):  

1- آقای خامنه ای امید آینده اسلام است.آیت الله العظمی میلانی در سنین جوانی، ایشان را مجتهد خطاب می کنند.


آیت الله عبدالله نظری مازندرانی:  

1- برای حمایت و محافظت از رهبر معظم انقلاب پا در رکاب خواهم برد امروز حمایت از ولایت فقیه یک امر واجب بر همگان است و باید به صورت جدی به این مساله توجه شود همه افراد باید این مساله را برای خود یک فریضه مهم بدانید.

 
آیت الله ناصری:  

1- مقام معظم رهبری را خدا حفظ شان کند ،بنده می دانم مطلب را ،ایشان تمام امیدشان به امام زمان است،خدا شاهد است پناهگاهشان امام زمان است.


سید حسن نصرالله:  

1- با توجه به شناختي كه از آيت الله العظمي خامنه‌اي در دست دارم و پس از مطالعه و بررسي بسياري از مدارك و شواهد مي‌توان گفت، ما در خدمت امام بزرگواري قرار داريم كه در رهبري، تقوا، پرهيزكاري و اجتهاد بي‌نظيري است ما در خدمت امامي هستيم كه داراي ديدگاهي جامع، عميق و مستحكم و استوار بر اصول و مباديي از قبيل "اصول و مباني فكري "؛ "شناخت نيازها و مشكلات "؛ "شناخت امكانات موجود " و "آشنايي با راهبردها مناسب و همخوان با آن اصول و مبادي " است و به همين دليل است كه ملاحظه مي‌كنيم به راحتي ايشان بر روند جاري در امور آگاهي و اطلاع دارند و با عمق و بينش عميق آنها را به راحتي ارزيابي مي‌كنند و بي‌شك اين ارزيابي دقيق و عميق نشات يافته از همين ديدگاه جامع و شامل است و به خاطر همين ديدگاه است كه با وجود حوادث و جريان‌هاي مختلف و متفاوت، درباره هريك ديدگاه كارشناسانه خود را همچون يك صاحبنظر نكته سنج و دقيق بيان مي‌كنند.

ما خود را در برابر شخصيت بزرگ و استثنايي از اين حيث ملاحظه مي‌كنيم و مي‌بينيم كه بسياري در اين امت هستند كه از اين شخصيت والا آگاهي و شناختي جز اندك ندارند و به همين دليل است كه به جرات مي‌توانيم بگوييم كه ايشان در ميان امت اسلام و حتي در ايران چقدر مظلوم هستند؛ حتي ايشان در مهمترين بعد شخصيتي‌شان كه همان بعد سياسي و رهبري است هنوز شناخته شده نيستند، چون شخصيتي است كه دشمنان از يك سو آن را محاصره كرده‌اند و از سوي ديگر دوستان آنگونه كه بايد حق اين شخصيت را ادا نمي‌كنند و اين مسئوليت ماست كه اين امت را با اين شخصيت بزرگ و عظيم آشنا كنيم تا از آن بهره‌هاي لازم و شايسته را ببرند و از بركات وجودش چنين رهبري و چنين ولي فقيه و انديشمند و متفكري براي حال و آينده و دنيا و آخرت خود مستفيض شوند.

 شهید اندرزگو:  

1- راوی استاد پناهیان: خاطره دیگه دارم برای دلهای نورانی میگم؛ استدلال نیست برای دلهای کورانی !!!!! احساس قشنگیه برای دلهای نورانی

شهید اندرزگو میدونید کیه؟ انسان بسیار زاهد، بسیار مجاهد، بسیار عارف، بسیار خوب ، بسیار قوی

آقای ابوترابی را چه طوری میشناسید؟ اسوه ای بود در دفاع مقدس که بی نظیره، خیلی از شهدای ما به گرد پای این شخصیت بزرگ نمیرسن.یه خوبی به من گفت که ابوترابی از کسانی هست که پای ظهور حضرت دوباره بر میگرده!!!گفتم حقشه ، فوق العاده است آقای ابوترابی و شخصیت بی نظیری داره؛ مرحوم شد ، آزاده بود.

ابوترابی مرید شهید اندرزگو بود؛ ببین دیگه اندرزگو کی بوده!!

شهید چمران با آقای ابوترابی آشنا شد ، یکماه بعد آشنایی شون ،آقای ابوترابی اسیر شد؛ از اون به بعد شهید چمران هرجا می رفت دوتا عکس در اتاقش می زد یکی عکس امام خمینی ، یکی عکس ابوترابی!!!!

شهید چمران ، عاشق ابوترابی بود، و همیشه میگفت من چرا ایشون را دیر پیدا کردم، با اینکه شهید چمران از نظر سنی ، بزرگتر از ابوترابی بود!!!

ابوترابی مرید اندرزگو بود، شهید اندرزگو قبل از اینکه به شهادت برسه به خانمش گفته بود: من میدونم که این انقلاب پیروز میشه و امام بر میگرده به ایران(اون موقع خبر برگشتن امام خبر عجیبی بود، تا یکماه قبل برگشتن امام هم این خبر عجیب بود)

خانمش ظاهرا از ظهور سوال میکنه ، اما شهید اندرزگو میگه نه، امام به ظهور نمی رسه؛ اما بعد او یک سید روحانی، زمام امور را بدست میگیره به اسم سید علی، خانمش میگه حتما تویی؟(اسم کوچک شهید اندرزگو ، سیدعلی بود) ایشون میگن نه، من قبل از اینکه امام بیاد شهید میشم ؛ او یک فرد دیگه است.

 
حجه الاسلام حاجتی(امام جمعه اهواز) به نقل از آقای ری شهری:  

1- آذربایجان غربی خدمت علما و ائمه جمعه بودم، یکی از علمای سلماس اومد پیش من و گفت:اول انقلاب علامه طباطبایی را در مرکز قم ( میدان شهدا) دیدم که داشت به سمت منزل امام خمینی می رفت، به علامه گفتم: این انقلاب را چگونه می بینید:

علامه طباطبایی فرمود: این انقلاب متصل می شود به انقلاب جهانی امام زمان علیه السلام-علامه ، علامه طباطبایی این حرف را میزنه ها

روزهای اول انقلاب که امام به قم آمده بودند و چند روزی از آمدن ایشان نمیگذشت، ایشان(علامه طباطبایی) را در خواب دیدم ، در آنحال به ایشان در خواب گفتم که استنباط من این است که ظهور امام زمان نزدیک است؛ ایشان به شدت گریه کردند و سرشان را به علامت تایید مطلب من تکان دادند

تعدادی از اهل معرفت هم همین واقعه را تایید میکنند..

حتی یکی از دوستان حضرت امام خمینی که چند ماه پیش نزد رهبر انقلاب حضرت آیت الله العظمی امام خامنه ای حفظه الله ، مدرکی را در این رابطه به آقا فرموده بودند، آقا(امام خامنه ای ) به من ( یعنی به ری شهری) فرمودند:«این عبارت ، عین عبارت امام خامنه ای است و ناقل آن خود آقاست» : آقای ری شهری ، ایشون آمد پیش من و گفت : آقای سیدعلی عزیز در زمان رهبری تو ، حجه ابن الحسن العسگری ظهور خواهد کرد...


حجه الاسلام حاجتی به نقل از آیت الله محمدی گلپایگانی: 

1- بارها و بارها این پیام به ما رسیده است از افراد مختلف که در خواب و مکاشفه ؛ امام زمان میفرمایند: ما سید علی را تنها نخواهیم گذاشت....

 
عزیزان اهل بصیرت چیزهایی را می فهمند که دیگران نمی فهمند...

آقای رودکی که الان نماینده مجلس هست میگفت: یه زمانی همراه با فرماندهان سپاه خدمت آیت الله اراکی(ره ) رسیدیم، ایشون فرمود: مردم آمریکا زودتر از سایر ملل به قدرت مافوق بشری حجه ابن الحسن پی خواهند برد...

کجا را می دیده این مرد ؟ از کجا صحبت میکرده ایشون؟ من نمیدونم..

هرکسی را نتواند گفت که صاحب نظر است..

عشق بازی دگر و نفس پرستی دگر است...

نه هر آنچه چشم ببیند سیاه است و سفید

یا سپیدی ز سیاهی بشناسد بصر است...

یه کسی باید این جملات را بگه که این چیزها را می دیده

امام خامنه ای 15 فروردین 1381 دیدار با سید حسن نصرالله  : این روزگار ، روزگار قدرت نمایی خدای متعال است و حضور جمهوری اسلامی ایران در این منطقه جهان، مبدایی برای حوادث باور نکردنی در سراسر عالم است... منتظر باشید....

زمانی این جملات را آقا به سید حسن نصرالله گفت که سیدحسن نصرالله باور نمی کرد ارتش اسراییل اینطور مفتضاحانه از جنوب لبنان عقب نشینی کند...

بعد آقا فرمودند : علیرغم همه تبلیغات دشمن و دشمنان ، آینده را روشن می بینیم حقیقتا امروز احساس میکنیم که وعده های الهی در حال تحقق یافتن است، ما باید خود را آماده نگه داریم....

آقا از کجا صحبت میکرد که با این تعبیر فرمود: این دوران؛ دوران غلبه ارزشهای معنوی است و جوانهای ما که حتما این دوره را می بینند....

آقا برای مخاطبان فهیمی چون شما صحبت میکنه که اشارات را میگیرند...

سوال: ما گناه کردیم اگه بیاییم بگوییم یه آقایی پیش بینی کرده بود؟ نه

ما خطا کردیم اگر بگیم یه آقایی قبل انقلاب سنه 1350 یه پیشگویی هایی کرده بود، این پیشگویی ها یکی پس از دیگری به منصه ظهور رسید؟ نه

ما فقط در صورتی گناهکاریم که وقتی برای ظهور تعیین کنیم.

متاسفانه اخیرا خیلی ها هم دکون باز میکنن

دیدم یه نفر در تهران جلسه تدریس گذاشته و یه جوان بزرگواری گفت : عجب صحبتهایی از خدا و پیغمبر کرده؟

جزوه را گرفتم ، دیدم هیچ نامی از شهدا و سید علی  انقلاب و امام و ... نیست!!!

بهش گفتم این دکون باز کزده؟

چند روز بعد هم گندش در اومد...

شما نمی تونی از امام زمان صحبت کنی ، اما از نایبش صحبت نکنی و نمیتونی از امام زمان صحبت کنی و هر دقیقه ادعای رویت آقا و ملاقات آقا را بکنی.

من کسی را سراغ ندارم که در زمان حیاتش ادعای زیارت امام زمان را کرده باشه(با اینکه بارها محضر امام زمان رسیده بودند اما بعد رحلتشون بعضی افراد متوجه شده بودن)

پس اشکال نداره که از پیشگوییها استفاده کنیم اما به شرطی که در جایی خودش استفاده بشه چون اینها تاییدات است و دل را صفا میده و انسان را امیدوار میکنه

حالا موضوع اصلی که میخواستم بگم:

سال 75 در جلسه ای با آقایون روحانیون بودم پیرامون شخصیت رهبری، روحانی بزرگواری آمد پیش من و اعتراض کرد به من و گفت : شما اجازه می دادید که یه جمله هم ما میگفتیم، گفتم خوب بگویید من عطش شنیدن دارم..

گفت : این چیزهایی که شما نقل کردی را فقط شنیدید اما من خودم به یه چیزی برخورد کردم...

گفت 12 ساله بودم 1350 قبل از پیروزی انقلاب در روستای کریشان بالاتر از سه راه خرمشهر اهواز ، در حاشیه اهواز زندگی میکردم، اصلا اهل بروجن بودیم و همراه عربهای اون منطقه ساکن در یک جا شده بودیم

نوجوانی بودم 12 ساله؛ شبی پیرمردها دور هم نشسته بودن، یه آقایی که واعظ هم بود و از یکی از استانها آمده بود محفلی بود ، من هم گوش می دادم

دیدم رو کرد به این جمعیت و گفت میخواید براتون پیشگویی هایی بکنم

گفتند بگو،(این روحانی راوی میگفت من برای اولین بار اونجا بود که با اسم امام خمینی آشنا شدم) گفت : آقایون این آقای خمینی که در تبعید به سر می بره میاد ایران و عن قریب پهلوی را سرنگون میکنه ، حکومت اسلامی برپا میکنه

بازم بگم؟ بهش گفتند بگو، گفت : بعد مدتی عراق به این کشور(ایران) حمله میکنه

بازم بگم؟ بهش گفتند بگو دیگه

گفت تا همین جا(دستش را زد به خاک کریشان) گفت تا اینجا عراق پیشروی میکنه(راست هم میگفته،چون خط مقدم عراق در جبهه اهواز کنار روستای کریشان بود)

بازم بگم?

گفتند بگو:

گفت: بعد از مدتی آیت الله(امام خمینی) فوت میکنه

گم بعدش چی میشه

گفتند بگو

گفت بعد رفتن آیت الله (امام) سید دیگری می آید که آمدن اون سید؛ آغاز ظهور امام زمان عجل الله تعالی فرجه الشریف هست...

بعد ایشون اینها را به من(یعنی به آقای حاجتی) گفت، چند ماه گذشت ، دوباره من این روحانی راوی را دیدم ، به من گفت: یه چیز عجیب بگم بهت در تکمیل حرفهای اون چند ماه پیش،

گفتم بگو

این روحانی راوی گفت: این حرفها را پیش یه پیرمرد 80 نود ساله از بستگانمون  در بروجن ، گفتم

این پیرمرد گفت: چیز جدیدی نگفتی به من ؛ من سالهای قبل ، حدود سال 1322، یعنی 30 سال قبل از تو شنیده بودم!!!

حاج آقا حاجتی: به این روحانی گفتم: حرفهای اون پیرمرد با تو یکی بود یا اضافاتی داشت؟

گفت دوجا اضافه داشت

گفت که این پیرمرد گفت: سید اول رحلت میکنه، سید دوم می آید؛ زمان صدارت و رهبری سید دوم طولانی تره

در زمان رهبری سید دوم ؛ فتنه های بزرگی رخ خواهد داد

که این سید با اقتدار بر همه این فتنه ها  غلبه میکنه

و انقلاب را با دستان مبارکش به ید با برکت و مبارک حجه ابن الحسن می سپارد....

(این حرف پیرمرد برای سال 75 بوده که نه قتل های زنجیره ای اتفاق افتاده بود و نه فتنه اصفهان،نه فتنه 18 تیر و نه فتنه ان پی تی و نه فتنه بزرگ سال88)


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳

 

چشم تموم کائنات سوی عنایت علی

رهبر ما خامنه ای تحت حمایت علی

رهبر فرزانه ما ای علی روزگار

وارث خونهای پاک و از خمینی یادگار

یا علی جان مقتدای من تویی

رهبر من ، مرجع من ، پیشوای من توی

ما دیگه نمیگذاریم دستای تو بسته بشه

مثل حیدر دلت از امت خود خسته بشه

مثل سلمان و ابوذردر خونت می شینیم

آخه توچهره تو تصویر حیدر می بینیم

بذار تا هرچی می خوان ،بگن ولی ،ما همینیم

توی چهره علی عکس خمینی می بینیم

وقتی تو حرف می زنی اشکای ما جاری می شه

اگه تو گریه کنی زخم دلا کاری می شه

رفقا بیاید با هم قدر علی رو بدونیم

تا دم آخر باهاش همه بسیجی بمونیم

خون تو رگهامون و هدیه به رهبر می کنیم

پای عشقش با همه سختی ها ما سر می کنیم

حرف تو برای ما حرف امام زمونه

تا دم آخر آقا تو سینه هامون می مونه

حرف تو برای ما حرف امام زمونه

تا دم آخر آقا تو سینه هامون می مونه



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳
 

 

مقام معظم رهبری

۱- شهادت دُرّ گرانبهایی است که بعد از جنگ به هر کس نمی دهند.

۲- ما فقه بـه معنـای واقعی کلمـه و قرآنی آن را در میدان جنگ آموخته ایم .

۳- امروز، به فضل همین شهادتها و به برکت خون شهدا، ملت ما، ملت سربلند و آبرومندی است و ملتها آبرو و عزت را این گونه باید پیدا کنند.

۴- شهادت بالاترین پاداش و مزد جهاد فی سبیل الله است.

۵- همه کسانی که در جنگ تحمیلی هشت ساله، چه با حضور خود یا فرزندان و عزیزانشان، حضور و فعالیتی داشته اند، مخصوصا خانواده شهیدان عزیز و جانبازان و اسیران گرامی، باید بدانند که در امتحانی بزرگ شرکت کرده و در آن سربلند بیرون آمده اند .

۶- فرزندان شهدا بدانند که پدران آنان موجب شدند که اسلام، در چشم شیطانها و طاغوتهای عالم، ابهت پیدا کند.

۷- ایستادگی در مقابل دشمنان مقتدر و مسلط، زورگوی ظالم و پرروی گستاخ، کار بسیار بزرگ و با عظمتی است. این همان کاری است که مردم ما کردند و عظمت ملت ما به خاطر همین شهادت جوانان شما و شجاعت فرزندانتان بود.

۸- شهید جانش را فروخته و در مقابل آن، بهشت و رضای الهی را گرفته است که بالاترین دستاوردهاست. به شهادت در راه خدا، از این منظر نگاه کنیم. شهادت، مرگ انسانهای زیرک و هوشیار است که نمی گذارند این جان، مفت از دستشان برود و در مقابل، چیزی عایدشان نشود.

۹- شهدا، علاوه بر مقامات رفیع معنوی، که زبانها و قلمها از توصیف آن و چشم و دلها از مشاهده آن ناتوانند، مشعلدار پیروزی و استقلال ملتند و حق بزرگ آنان بر گردن ملت، بسی عظیم است.

۱۰- پرچم عروج انسان به بام معنویت که امروز در گوشه و کنار دنیا برافراشته می شود، در حقیقت پرچم امام ما و شهیدان اوست. آنها زنده اند و روز به روز زنده تر خواهند شد.

۱۱- من اکنون به پدران و مادران، همسران و فرزندان، خواهران و برادران و دیگر کسان شهدای عزیز و جانبازان و اسراء و مفقودین درود می فرستم و اعلام می کنم که آنان در رتبه و شان معنوی، بلافاصله پشت سر عزیزان فداکار خویشند.

۱۲- هر چه داریم، به برکت جانفشانیها و فداکاری هاست، به برکت روحیه شهادت طلبانه است.

۱۳- اساسا جهاد واقعی و شهادت در راه خدا، جز با مقدمه ای از اخلاصها و توجه ها و جز با حرکت به سمت “انقطاع الی الله” حاصل نمی شود.

۱۴- اگر مجاهدت فداکارانه جوانان این مرز و بوم که به این شهادتها منتهی شده است نمی بود، همه روزهای این ملت، در زیر چتر سیاه ظلم و تجاوز و دخالت دشمنان اسلام و ایران، به شبهای تار بدل می گشت.

۱۵- فداکاری شهیدان و گذشت خانواده ها و حضور رزمندگان ما بود که ابرهای تیره و تار آن روزگار دشوار را از افق زندگی این ملت زدود

منبع :عصر انتظار



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳

 

بسم الله الرحمن الرحیم

 

تعریف ولایت فقیه

ولایت فقیه –طبق قانون اساسی ما- نافی مسئولیتهای ارکان مسئول کشور نیست. مسئولیت دستگاه های مختلف و ارکان کشور غیرقابل سلب است. ولایت فقیه، جایگاه منهدسی نظام  حفظ خط و جهت نظام و جلوگیری از انحراف به چپ و راست است؛ این اساسی ترین و محوری ترین مفهوم و معنای ولایت فقیه است.

بنابراین ولایت فقیه نه یک امر نمادین و تشریفاتی محض و احیاناً نصیحت کننده است ... نه نقش حاکمیت اجرایی در ارکان حکومت دارد چون کشور مسئلان اجرایی، قضایی و تقنینی دارد و همه باید بر اساس مسئولیت خود کارهایشان را انجام دهند و پاسخگوی مسئولیتهای خود باشند. نقش ولایت فقیه این است که در این مجموعه ی پیچیده و درهم تنیده ی تلاش های گوناگون نباید حرکت نظام، انحراف از هدفها و ارزشها باشد...پاسداری و دیده بانی حرکت کلی نظام به سمت هدفهای آرمانی و عالیش، مهمترین و اساسی ترین نقش ولایت فقیه است.

[نویسنده: انصافاً خیلی تعریف قشنگ و گویا و کاملی کرده اند. این تعریف کاملاً بر آنچه در قانون اساسی در مورد وظایف رهبری آمده منطبق است. وظیفه ی رهبری پرداختن به امور جزئی و مسئولیت های اجرایی و قضایی و ... نیست بلکه ره بری جامعه به سوی هدف است.از همین تعریف و از آنچه در قانون اساسی آمده یک مسئله ی خیلی مهم هم روشن می شود و آن این است که در کشور ما مشکلات و نقص ها و کوتاهی ها و حتی ظلم های زیادی وجود دارد. خیلی از مردم مسئولیت همه ی اینها را متوجه رهبر می دانند و او را عامل این مشکلات دانسته یا حداقل او را به خاطر کوتاهی در مقابله با این موارد سرزنش می کنند. در حالی که هرکس در قبال مسئولیت قانونی و شرعی ای که دارد باید مورد سؤال قرار بگیرد. وظیفه ی ایشان هرگز برخورد با فلان استاندار یا قاضی یا اختلاسگر و ... نیست. ایشان وظیفه ی هدایت کلی جامعه به سوی اهداف دینی و ملی را دارند. البته همین مسائل هم زیرمجموعه ی همین اهداف است و جزء اهداف است که همه ی اینها اصلاح شود اما ایشان باید حرکت کلی جامعه را کنترل و مراقبت و هدایت کنند نه مصادیق و موارد جزئی را. همه ی اینها مسئولینی دارد که بخش عمده ای از نابسمانی ها مربوط به عدم انجام صحیح وظایف توسط مسئولین است. همچنین نقش خود مردم در سالم زیستن، عدالت و تقوی و پرکاری و وظیفه شناسی داشتن نیز بسیار حائز اهمیت است. فاکتورهای دیگری هم هست اما چیزی که مهم است این است که رهبر عزیزمان آن وظائفی که در قانون اساسی وجود دارد را خداراشکر به خوبی دارند انجام می دهند که خلاصه ی آن همان چیزی است که در تعریف خودشان از ولایت فقیه مشاهده فرمودید. این اتفاقاً خیلی با ارزش و نشانه ی هوشیاری ایشان است که آن وظیفه ی  اصلی و کلیدی (رهبری) را مورد بیشترین عنایت قرار داده اند و مسائل جزئی (اگرچه به آنها هم می پردازند) ایشان را از این وظیفه ی فوق العاده بزرگ و سنگین بازنداشته.]

بیانات رهبر عزیز انقلاب در 15/3/83- تداوم آفتاب ص 58

 

تنها حکومتی که به فکر معنویت مردم هم هست

در جهانی که انسان از بی توجهی به معنویات رنج می برد، هیچ چیز برای بشر نجات بخش تر از تشکیل چنین حکومتی [یعنی ولایت فقیه] نیست ... عمل به جامعیت دین درواقع متکی به تشکیل حکومت دینی است"

تداوم آفتاب ص 55

 

ولایت فقیه اختراع امام خمینی (ره) نیست

ولايت فقيه جزو مسلّمات فقه شيعه است. اين كه حالا بعضى نيمه‏سوادها مى‏گويند امام ولايت فقيه را ابتكار كرد و ديگر علما آن را قبول نداشتند، ناشى از بى‏اطّلاعى است. كسى‏كه با كلمات فقها آشناست، مى‏داند كه مسأله «ولايت فقيه» جزو مسائل روشن و واضح در فقه شيعه است. كارى كه امام كرد اين بود كه توانست اين فكر را با توجّه به آفاق جديد و عظيمى كه دنياى امروز و سياستهاى امروز و مكتبهاى امروز دارند، مدوّن كند و آن را ريشه‏دار و مستحكم و مستدل و باكيفيت سازد؛ يعنى به شكلى درآورد كه براى هر انسان صاحب نظرى كه با مسائل سياسى روز و مكاتب سياسى روز هم آشناست، قابل فهم و قابل قبول باشد.

نمازجمعه 14/3/78 – khamenei.ir

 

هر کسی را برچسب ضدولایت فقیه نزنید

آن چیزی که من قبلاً عرض کرده ام و الآن هم تأکیداً و تأییداً عرض می کنم – با اینکه شما هم قبلا به من گفته اید که این جهت حل شده است - اين است كه در هيچ جايى از جاها در سطح كشور، در رد و قبولها، اين جهات خطى و سياسى و اين‏كه فلانى نسبت به فلان كس چه موضعى دارد، مطلقاً نبايستى دخالت بكند. بدون تحقيق نبايستى افراد را متهم كرد. به ظواهرِ خيلى ابتدايى نبايستى نسبت به وجود جرمى در كسى حكم كرد؛ مثلاً الان رايج شده كه بعضيها را به اندك چيزى «ضد ولايت فقيه» مى‏گويند! معلوم نيست اگر كسى يك وقت در جايى يك كلمه حرفى زد، اين ضديت با ولايت فقيه باشد...در زمان امام(رضوان‏اللَّه‏عليه) ما مى‏ديديم كه ايشان مطلبى را مى‏فرمودند، اما در مجلس همه به آن رأى نمى‏دادند؛ نمى‏شود گفت اينها ضد ولايت فقيه‏اند. من يادم هست كه يك وقت راجع به راديو و تلويزيون يك نظر اين بود كه رؤساى سه قوه، شوراى عالى راديو و تلويزيون باشند؛ همان شوراى سرپرستى‏يى كه سابق بود. بنده خودم با ايشان صحبت كرده بودم و مى‏دانستم كه نظرشان اين است كه رئيس جمهور و رئيس مجلس و رئيس قوه‏ى قضاييه، اعضاى شوراى سرپرستى را تشكيل بدهند. قاعده‏اش هم همين بود كه وقتى مى‏گويند سه قوه نظارت كنند - كه در قانون اساسى قبلى، تعبير اين‏گونه بود - بايد شورايى با اين تركيب تشكيل شود؛ آسانترين وجهش اين است. وقتى اين پيشنهاد به مجلس آمد، آقاى هاشمى آن را مطرح كردند؛ اما با اكثريت قاطعى رد شد! با اين‏كه ايشان هم گفتند كه اين نظر امام است، اما فقط عده‏ى معدودى به آن رأى دادند! واقعاً نمى‏شود به آن اكثريت گفت كه شما ضد ولايت فقيه هستيد؛ نه، همه‏شان هم فدايى امام و علاقه‏مند به امام و مخلص امام بودند؛ خيليهايشان هم جبهه‏برو بودند؛ اما این حرف را قبول نداشتند؛ بنابراین باید واقعاً این چیزها از هم تفکیک بشود.

بیانات رهبر معظم انقلاب در دیدار با اعضای هیأات مرکزی نظارت بر انتخابات چهارمین دوره ی مجلس 4/12/70 –khamenei.ir

 

دین و سیاست

با دخالت دین در سیاست، قداست دین نه تنها از بین نمی رود، بلکه بر قداست دین افزوده می شود.

بیانات رهبر انقلاب در 1/5/76 – تداوام آفتاب ص 56

 

راستی چرا با ولایت فقیه مخالفت می کنند؟

ما مسلمین باید ولایت را تجربه کنیم. در طول قرنهای متمادی نگذاشتند. چه کسانی نگذاشتند؟ همان کسانی که حکومت به سبک ولایت، آنها را از مسند قدرت و حکومت کنار می زند؛ و الّا به نفع مردم است. کدام کشورها هستند که اگر در رأس حاکمیتشان یک انسان پرهیزگار پارسای مؤمنِ مراعات کننده ی اوامر و نواهی الهی و عامل به صالحات و حسنات باشد، برای آنها بهتر نباشد از اینکه فرد میگسارِ شهوترانِ پولپرست دیناپرستی بر سر کار باشد؟ هر ملت و مذهبی که می خواهند داشته باشند...ما همیشه این را گفته ایم و این جزو مسلمات انقلاب ماست که انقلاب و نظام جمهوری اسلامی، یک تعرض عمومی به فرهنگ غیراسلامی و ضداسلامی است که امروز بر قدرتهای جهانی حاکم است و ارکان قدرت جهانی براساس آن شکل گرفته است.

بیانات رهبر انقلاب در 10/4/70 – تداوم آفتاب ص 57

 

مردم سالاری دینی در حکومت اسلامی

امروز آمریکا بعد از پانزده ماه که با اشغال نظامی عراق را گرفته است، هنوز به مردم این کشور اجازه نمی دهد که بگویند برای حکومت خود چه چیز و چه کسانی را می خواهند. نماینده ی سازمان ملل دیروز مصاحبه می کند و می گوید چون آمریکایی ها در عراق حضور نظامی دارند باید رأی حاکم آمریکایی در انتخاب عناصر دولت مراعات شود! دموکراسی اینها این است. [استفاده از] نام دموکراسی، اغواگری است. دموکراسی حتی در کشورهای خودشان هم یک مردم سالاری حقیقی نیست؛ جلوه فروشی به وسیله ی تبلیغات رنگین و پولهای بی حسابی است که در این راه خرج می کنند؛ لذا آراء مردم گم است...در مکتب سیاسی امام، مردم سالاری از متن دین برخاسته است؛ از «امرهم شوری بینهم» برخاسته است؛ از «هو الذی ایّدک بنصره و بالمؤمنین» برخاسته است. ما این را از کسی وام نگرفته ایم.

بیانات رهبر عزیز انقلاب در 15/3/83- تداوم آفتاب ص 58



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳

 

 این دو بیت را امشب سروده ام ، آن هم برای ارسال پیامک به دوستان و آشنایانی که در دلشان شک و ریبی هست ! فردا انشاالله  برای ۱۵۰ نفر می فرستم!

 

 

عید غدیر خم ،  نبیّ ، دست  علی  بالا  گرفت

 

شد آیه نازل دینـتان امروز دین  کامل است

 

 در عصر غیبت هم ولیّ  , چون نایب مهدی بُود

 

امروز "حکم رهبری" ، معیار حق  و  باطل است

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳

 

 

  • عدالت اجتماعى يكى از مهمترين و اصلى ترين خطوط در مكتب سياسى امام بزرگوار ماست . در همه ى برنامه هاى حكومت در قانونگذارى ، در اجرا، در قضا بايد عدالت اجتماعى و پُر كردن شكافهاى طبقاتى ، مورد نظر و هدف باشد. مقام معظم رهبری
  •  مسلمانها در هر نقطه ى دنيا جوانهاى مسلمان ، روشنفكران مسلمان ، نخبگان مسلمان فتوحات فكرى خود در ميدانهاى سياسى را برخاسته و برآمده ى از مكتب فكرى امام مى دانند. مقام معظم رهبری
  •  حركت امام براى سعادت كشور و ملت ، بر مبناى هدايت شريعت اسلامى بود؛ لذا تكليف الهى براى امام كليد سعادت به حساب مى آمد و او را به هدفهاى بزرگِ آرمانى خود مى رساند. مقام معظم رهبری
  • امام قوانين شريعت را بستر حركت خود مى دانست و علائم راهنماى حركت خود به شمار مى آورد. مقام معظم رهبری
  • مردم سالارى در مكتب سياسى امام بزرگوار ما كه از متن اسلام گرفته شده است مردم سالارىِ حقيقى است ؛ مثل مردم سالارى امريكايى و امثال آن ، شعار و فريب و اغواگرىِ ذهنهاى مردم نيست . مقام معظم رهبری
  • حرف نوى مكتب سياسى امام بزرگوار ما براى دنيا اين است كه در همه ى اركان برنامه ريزى هاى يك قدرت سياسى ، سياست با معنويت ، و قدرت با اخلاق همراه شود و اصول اخلاقى مورد مراعات قرار گيرد. مقام معظم رهبری
  • پيروزى جزو نعمتهاى خداست و امام به پيروزى علاقه مند بود نه اين كه علاقه مند نبود يا بى رغبت بود اما آنچه او را به سوى آن هدفها پيش ‍ مى برد، تكليف و عمل به وظيفه ى الهى بود؛ براى خدا حركت كردن بود. چون انگيزه ى او اين بود، لذا نمى ترسيد؛ شك نمى كرد؛ ماءيوس نمى شد؛ مغرور نمى شد؛ متزلزل و خسته هم نمى شد. اينها خاصيت عمل به تكليف و عمل براى خداست . مقام معظم رهبری
  • امام به اراده ى تشريعى پروردگار اعتقاد و به اراده ى تكوينىِ او اعتماد داشت و مى دانست كسى كه در راه تحقق شريعت الهى حركت مى كند، قوانين و سنت هاى آفرينش كمك گار اوست . مقام معظم رهبری
  • همه ى رفتارها و همه ى مواضع امام حول محور خدا و معنويت دور مى زد. مقام معظم رهبری
  • امام كه تجسم مكتب سياسىِ خود بود، سياست و معنويت را با هم داشت و همين را دنبال مى كرد؛ حتّى در مبارزات سياسى ، كانون اصلى در رفتار امام ، معنويت او بود. مقام معظم رهبری
  • مكتب سياسى امام ميدانى را باز مى كند كه گستره ى آن حتّى از تشكيل نظام اسلامى هم وسيع تر است . چيزهايى در اين مكتب وجود دارد كه بشريت تشنه ى آنهاست ؛ لذا كهنه نمى شود. مقام معظم رهبری
  • دشمنان انقلاب چاره يى ندارند جز اين كه با فلسفه ى امام ، با مكتب امام و با شخصيت امام كه همچنان زنده و پايدار است دشمنى كنند تا بتوانند اين ملت را به خيال خود به عقب نشينى و تسليم در مقابل خودشان وادار كنند. مقام معظم رهبری
  • عامل مهم تسليم ناپذيرى و ايستادگى ملت ايران در راه پُر افتخار خود، فلسفه ى سياسى و مكتب سياسى امام است. مقام معظم رهبری
  • در حقيقت امام کبير ما با قيام الهي خود جان ها را حيات بخشيد و در پرتو احياي جان، علوم الهي را احيا کرد و خداوند سبحان نيز همواره با امداد غيبي او را تأييد نمود. مقام معظم رهبري
  • امام راحل قرآن مهجور را مشهور و سنت مستور را سنت مشهور و دين مهجور را دين مأنوس کرد. مقام معظم رهبري
  • خميني عزيز ما را کيست که نشناسد و کيست که به شايستگي بشناسد، الفاظ مرا تحمل آن نيست که آن حقيقت فاخروآن گوهرنفيس را در خودبگنجاند. مقام معظم رهبري
  • همه بايد سعي کنند شخصيت امام خميني را با همان ابعاد عظيم به درستي شناسايي کنند. (مقام معظم رهبري)
  • اين دوران (عصر امام خميني)دوران اسلام و دوران غلبه ارزش‌هاي الهي و معنوي است، اين دوران، دوران امام خميني، قدس سره، مي باشد و انشاءالله جوانهاي ما اين آينده را خواهند ديد. مقام معظم رهبري
  • امام خميني(ره) اهل خلوت، اهل عبادت، اهل گريه نيمه شب، اهل دعا، تضرع، ارتباط با خدا، شعر و معنويت و عرفان و ذوق و حال بود. آن مردي كه چهره او دشمنان ملت ايران را مي‌ترساند و به خود مي‌لرزاند و آن سد مستحكم و كوه استوار، وقتي كه مسايل عاطفي و انساني پيش مي‌آمد يك انسان لطيف، يك انسان كامل و يك انسان مهربان بود.
  • امام بزرگوار ما با اين انقلاب ، مسلمانان را نشاط بخشيد ، اسلام را زنده كرد . (مقام معظم رهبري)
  • هيچ روزى ماننـد دوازدهـم بهمـن نبـود كه در آن مردى از دودمان پيامبران و بر شيـوه ى آنان با دستى پر معجزه، چـون آيه ى رحمت فرود آمـد و آنان را بر بال فرشتگان حق نشانيـد و تا عرش عزت و عظمت پر كشيد. (مقام معظم رهبري)
  • الحق شخصيت آن عزيز يگـانه(امام راحل)، شخصيتـى دست نيـافتنـى و جـايگــاه والاى انسانـى او جـايگـاهـى دور از تصـور و اسـاطيـر گـونه بـود. (مقام معظم رهبري)
  • نه ايـن جانب و نه هيچ فرد ديگرى در جمهورى اسلامـى قادر نيست كه به قله ى آن شخصيت ممتـاز و استثنـايـى(امام راحل) دست يـابـد. (مقام معظم رهبري)
  • امروز مهم ترین وظیفه، انتقال سالم مکتب امام (ره) به نسل های آینده است. (مقام معظم رهبري)
  • اظهار ارادت به امام خمینی (ره) بدون اعتقاد به مکتب سیاسی ایشان، بی مفهوم است. (مقام معظم رهبري) ارسال رایگان پیامک  مکتب سیاسی امام نیاز اصلی بشریت است. (مقام معظم رهبري)
  • در مکتب سیاسی امام علاوه بر مردم سالاری مدرن، معنویت حقیقی و توجه و توکل به خداوند متعال وجود دارد. (مقام معظم رهبري)
  • عزت و امنیت پایدار، رشد و توسعه و اعتلای معنوی و اخلاقی ملت ایران در گرو عمل مسئولان و مردم به توصیه ها و وصیت نامه امام خمینی (ره) است و این واقعیت نباید هیچ گاه فراموش شود. (مقام معظم رهبري)
  • حقيقتا قلب امام عزيزمان در مواردى ملهم از الهامات غيبى بـود و كلمات او گويى در مـواردى كلمات متكى به وحـى است. (مقام معظم رهبري)
  • امام خمينى شخصيتى آن چنان بزرگ بـود كه در ميان بزرگان و رهبران جهان و تـاريخ به جز انبيا و اولياى معصـوميـن(ع) به دشوارى مى تـوان كسى را با ايـن ابعاد و خصوصيات تصور كرد. (مقام معظم رهبري)
  • بزرگداشت امام براي ما ، جنبه اعتقادي ، ايماني، انقلابي، عاطفي و ملي دارد . (مقام معظم رهبري)
  • راه و روش و اهداف امام خميني همانند اهداف انبياء بوده است . (مقام معظم رهبري)
  • امام خميني يك حقيقت هميشه زنده است ، نام او پرچم انقلاب ، راه او راه انقلاب و اهداف او اهداف ابن انقلاب است . (مقام معظم رهبري)
  • خداوند امام عزيزمان را به عنوان گوهري يك دانه و ذخيره اي از سوي خود در ميان ملت ما قرار داد . (مقام معظم رهبري)
  • كلام امام خميني(ره) همانند بمبي در دنيا منفجر شد و همه را تحت تاثيرقرار داد . (مقام معظم رهبري)
  • راه ما راه امام خميني است و در اين راه با همة قدرت و قاطعيت خود حركت خواهيم كرد . (مقام معظم رهبري)
  • امام بزرگوار ما به اسلام و مسئولين و مسلمين قوت قلب و عزت يخشيد . (مقام معظم رهبري)
  • امام به همه فهماند مه انسان كامل شدن ، علي وار زيستن و تا نزديكي مرزهاي عصمت پيش رفتن افسانه نيست . (مقام معظم رهبري)
  • امام آن روح الله بود كه با عصا و يد بيضاي موسوي و بيان و فرقان مصطفوي به نجات مظلومان كمر بست ، تخت فرعونهاي زمان را لرزاند و دل مستضعفان را به نور اميد روشن ساخت . (مقام معظم رهبري)
  • امام خميني(ره) زنده است تا اسلام ناب محمدي (ص) زنده است و او زنده است تا پرچم عظمت اسلام و وحدت مسلمين و نفرت از ظالمين بر افراشته است. (مقام معظم رهبري)
  • طنين صداي امام خميني(ره) كه نداي حق و عدل بود در دلهاي امتش و در فضاي جهان هست و خواهد بود .او نمرده است و نخواهد مرد . (مقام معظم رهبري)
  • ادامه خط امام يعني طرفداري از فقرا ، ضعفا ، عدالت اجتماعي ، وحدت ملي ، مقابله و معارضه با استكبار جهاني و وابستگان آنها . (مقام معظم رهبري)
  • وظيفه همة ماست كه با توكل به خدا و تقويت روح اخلاص و همبستگي ، حركت عظيمي را كه امام بزرگوار آغاز كرده اند ادامه دهيم . (مقام معظم رهبري)
  • امام عزيز با رحلت خود امت اسلام را يتيم كردند و شايد در دل ها ، محيط زندگي و در جهان اسلام نتوان تا سالهاي متمادي اين خلاًعظيم را پر ساخت . (مقام معظم رهبري)
  • ياد و نام امام بزرگوارمان كاخ قدرتهاي طاغوتي و نيز دل آنها را ميلرزاند زيرا او خادم به اسلام و مسلمين بود كه با مجاهدت خود و ملتش به اسلام و مسلمين عظمت بخشيد. (مقام معظم رهبري)
  • مرقد حضرت امام مركزي براي گسترش الهامات الهي و نورانيت و روح عرفاني براي مردم اهل بصيرت و معرفت خواهد بود . (مقام معظم رهبري)
  • براي امام خميني(ره) كه راهرو راه پيامبران بود ، همچون خود پيامبران، مرگ جسم به معناي مزگ شخصبت نيست . (مقام معظم رهبري)
  • امام خميني زنده است تا اميد زنده است و تا حركت و نشاط هست و تا جهاد و مبارزه هست . (مقام معظم رهبري)
  • بر اساس جهان بيني اسلامي اعتقاد راسخ به لزوم اتحاد مسلمين ، براي حل مشكلات مسلمانان و عظمت و سر بلندي و قدرت اسلام ضرورت دارد و اين هدفي بود كه امام همواره آن را دنبال مي كردند . (مقام معظم رهبري)
  • امام خميني(ره) كه جوهره درخشان وجودي اش در سايه ربوبيت پروردگار آشكار شد ، بارها و بارها سياستهاي جهاني را جابجا كرده و تغيير داد . (مقام معظم رهبري)
  • امام ،خوب اين مردم را شناخته بودند و مردم هم حقاًو انصافاً امامشان را خوب شناخته بودند . (مقام معظم رهبري)
  • در سخت ترين مراحل ، امام عزيزمان همواره آرام و مطمئن بودند و به مردم اطمينان فراواني داشتند . (مقام معظم رهبري)
  • براي امام ،امت اسلامي و اسلام مطرح بود و ايشان منطقه اي فكر نمي كردند . (مقام معظم رهبري)
  • اگر چه جاي خالي امام براي ما سخت و تلخ است اما ميراث گرانبهاي معمار بزرگ انقلاب ، امام خميني حفظ خواهد شد . (مقام معظم رهبري)
  • اين كه امام مي فرمودند (به من خدمتگزار بگويند بهتر است تا رهبر ) با صداقت و راستي بود و تعارفي در كار نبود . (مقام معظم رهبري)
  • امام خميني(ره) عصر گرايش و احترام به ارزشهاي انساني و احترام به عدالت و حريت انسان و اصل احترام به آراءمردم را بنيان گذاشتند كه حتي دشمنان ايشان هم به عظمت امام معترفند . (مقام معظم رهبري)
  • امام كبير ما عصر جديدي را در زمان ما آغاز كردند . (مقام معظم رهبري)
  • هنر بزرگ حضرت امام اين بود كه ديوارهاي بين اجتماعات مردم را از بين برد و يك فضاي وسيع با دل هاي آشنا بوجود آورد . (مقام معظم رهبري)
  • امام عزيز با حيات ، ابتكارو تحرك خود كه از آن روح بزرگ و دل روشن بر مي آيد و همچنين با مرگ پر حادثه و عروج ملكوتي خود به اسلام و انقلاب خدمت كردند . (مقام معظم رهبري)
  • دشمنان خام طمع و كوردل كه گمان كردند كه با فقدان امام خميني دوران جديد با مشخصاتي متمايز از دوران امام خميني قدس سره آغاز شده است سخت در اشتباهند . (مقام معظم رهبري)
  • دوران ده ساله حيات مبارك امام خميني رضوان الله تعالي عليه الگو و نمونه حيات جامعه انقلابي ما است و خطوط اصلي انقلاب همان است كه امام ترسيم فرموده است . (مقام معظم رهبري)
  • حقيقتاً براي انساني بزرگ و شخصيتي بي نظير مانند امام خميني جا داردكه برگزيده ترين انسانها و صافترين و پاكترين دلها از احساس تكريم نسبت به او سرشار شوند . (مقام معظم رهبري)
  • امام عظيم الشان روياي بي تعبير تشكيل حكومت اسلامي را در عالم خارج و واقعيت محقق كرد تا انسانها بتوانند در همةابعاد بر اساس اعتقادات خود زندگي كنند و با همت امام بود كه پيام حق اسلام به آفاق عالم رسيد و لازمه ظهور انسانهاي برجسته اي چون امام امت ، گذشت از راحتي ها ، شهوات نفساني و وسوسه هاي گوناگون و آشنا كردن دل با انوار و الطاف الهي است و براي تحقق ابن منظور بايد تلاش و مجاهدت كرد . (مقام معظم رهبري)
  • ادامه راه امام فقط با بصيرت و صبر ميسر است . نگذاريد به بهانه هاي گوناگون آدمهاي كم بصيرت ، يا كم صبر يا خود خواه با بي توجه به مصالح عمومي مردم ميان صفوف مستحكم شما فاصله بياندازد ، شما را نسبت به يكديگر يا نسبت به مسئولين دل چركين و نگران كنند آگاه باشيد و بدانيد اين راه به هدف خواهد رسيد . (مقام معظم رهبري)
  • سخن و اشارات امام راحل، انديشه و نصيحت او، دستور و توصيه او و بلاخره رفتار او عطيه هاي گوناگوني بود كه سخاوتمندانه از آن قلة مصفا مي جوشيد و معدودي از ياران او را كه در دامنه بودند پيوسته بهرمند مي كرد. (مقام معظم رهبري)
  • عظمت و شخصيت رهبري حضرت امام رضوان الله تعالي عليه قابل قياس با هيچ يك از رهبريهاي دنياي امروز نبود .اما ايشان هيچگاه پيروزي انقلاب اسلامي در ايران را به خود نسبت نمي دادند .امام براي مردم يك وسيله الهي بودند و ايشان حركت عظيم مردم و اخلاص و فداكاري آنان را موجب اين پيروزي بزرگ مي دانستند . (مقام معظم رهبري)
  • بر اساس معاني قرآني واقعي ، حضرت امام خميني رضوان الله تعالي عليه انسان حكيمي بودند كه با حكمت خود فعل و انفعالات عالم غيب را درك مي كردند . اما در عين آنكه از انديشه سياسي بسيار بالايي برخوردار بودند بعنوان يك انسان استثنائي زمان ما حقايق را مي فهميدند و اين همان عالم غيب ملكوت وجود انسان است كه راه رسيدن به آن تقوي و عمل به تكليف شرعي است . (مقام معظم رهبري)
  • فتح دلهاي آحاد امت اسلامي در اقصي نقاط جهان كه در برابر عظمت امام و راه و پيام او از خود اطاعت ، تسليم و همراهي نشان دادند از اخلاص آن بزرگوار كه نقطه اساسي حيات او بود ناشي مي شد و فقط با اخلاص در گفتار و عمل است كه مي توان راه امام را طي كرد . (مقام معظم رهبري)
  • امام بزرگوارمان بذر وحدت را پاشيده اند و نهال اسلامي در حال رشد است اين حركت استمرار خواهد داشت و استكبار از ضربه زدن به اين حركت پر شتاب كه راه روشني را در پيش روي خود دارد ناتوان است . (مقام معظم رهبري)
  • در همه جاي عالم فاصلة ميان زندگي و رؤساي كشور با مردم كوچه و بازار فاصلة شاه و گداست و حتي حكومتهايي هم كه داعية توده‌اي داشتند نتوانستند از زندگي مسرفانه شاهان براي خود صرفنظر كنند افتخار نظام اسلامي آن است كه امام عظيم الشأنش تا پايان عمر در زي طلبگي زندگي كرد . (مقام معظم رهبري)
  • اين عصر را بايد عصر امام خميني ناميد و ويژگي آن عبارتست از پيدايش و جرأت و اعتماد به نفس ملتها در برابر زورگويي ابر قدرتها و شكستن بت هاي قدرت ظالمانه و بالندگي نهال قدرت واقعي انسان ها و سر بر آوردن ارزش هاي معنوي و الهي . (مقام معظم رهبري)
  • حيات و شخصيت خميني كبير ، تجسم اسلام ناب محمدي (ص) و تبلور انقلاب اسلامي بوده و او خود و سخنش و انگشت اشاره اش خضر راه اين حركت الهي و روشنگر نقاط مبهم و برطرف كننده همه ي ترديدها بوده و همجنان خواهد بود . ملت ايران و از همه بيشتر مسئولان كشور بايد اين درس بزرك را هرگز از ياد نبرد . (مقام معظم رهبري)
  • اين فكر غلطي است كه حرف دل امام را تنها مي توان در رؤيت سياسي امام ديد .حرف دل امام را در مجموعه اي از همه ابعاد وجودي امام با صد زبان همچون فرياد سياسي ، شعر عرفاني ، لبخند و يا گريه اي بيان شده است . بايد ديد و سعب و كوشش ما بايد بر اين باشد كه در تمام جهات كمال امام را مورد توجه قرار دهيم . (مقام معظم رهبري)
  • شخصيت وجودي امام كه در جايي براي شهادت اسيري اشك مي ريزد و در جايي ديگر همچون قضيه شهادت 72 تن از بزرگان انقلاب چون كوهي استوار مي باشد با هيچ زباني قابل توصيف نيست . (مقام معظم رهبري)
  • اگر امام نيست ، خداي او ، راه او ، رهنمودهاي او و انگشت نوراني اشاره هاي او كه ما را به راه راست هدايت مي كرد ، هست و مهم اين است كه ما كار بزرگ امام را بشناسيم و قدر بدانبم . (مقام معظم رهبري)
  • صلوات و سلام خدا بر شاهد شهيدان و امام مجاهدان و اسوه و مقتداي صالحان و رفعت بخش كلمه پيامبران ، حضرت امام خميني قدس الله سره و اعلي الله كلمه كه آتش خشم مستضعفان را بر هيمه فسق و فساد و كفر و الحاد و ظلم و استكبار جهاني افكند و اركان سلطة مستكبران را متزلزل ساخت . (مقام معظم رهبري)
  • بدون شك ما امروز با فقدان رهبر و امام عزيز و معظم بي نظيرمان دچار كمبود و خلاً مهمي هستيم لكن با ياد صلابت ، قاطعيت و معنويت و روحانيت آن بزرگوار و با الهام از درسهاي فراموش ناشدني ايشان امروز مقطع و دوران ديگري را آغاز مي كنيم . (مقام معظم رهبري)
  • شخصيت امام به وجود خارجي او بستگي ندارد ، بلكه عظمت اين شخصيت از فكر ، راه و رهنمودهاي او مايه مي گيرد .لذا اهتمام به احداث مرقد ،گنبد و صحن امام عزيز له معناي تلاش براي حفظ هويت فكري و راه او و نيز زنده نگه داشتن ياد اوست . (مقام معظم رهبري)
  • ارتحال رهبر كبير انقلاب حضرت آيت الله العظمي امام خميني قدس الله نفسه الزكيه حقاًضايعه اي جبران ناپذير و صدمه اي بزرگ بود . (مقام معظم رهبري)


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳

 

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) پروردگارا! تو را به حسین و زینب علیهماالسّلام قسم مى‌دهیم كه ما را جزو دوستان و یاران و دنباله‌روان آنان قرار بده.

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) پروردگارا! حیات و زندگى ما را زندگى حسینى و مرگ ما را مرگ حسینى قرار بده.

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) پروردگارا! امام بزرگوار ما را كه به این راه هدایتمان كرد، با شهداى كربلا محشور كن. شهداى عزیز ما را با شهداى كربلا محشور كن.
 
۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) در زندگى حسین‌بن‌على علیه‌السّلام، یك نقطه‌ى برجسته، مثل قله‌اى كه همه‌ى دامنه‌ها را تحت‌الشعاع خود قرار مى‌دهد، وجود دارد و آن عاشورا است. ۱۳۷۱/۱۱/۰۶

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) تحقیقاً یكى از مهمترین امتیازات جامعه شیعه بر دیگر جوامع مسلمان، این است كه جامعه شیعه، برخوردار از خاطره عاشوراست.
۱۳۷۳/۰۳/۱۷

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) یكى از بزرگترین نعمتها، نعمت خاطره و یاد حسین‌بن‌على علیه‌السّلام، یعنى نعمت مجالس عزا، نعمت محرّم ونعمت عاشورا براى جامعه شیعىِ ماست.
۱۳۷۳/۰۳/۱۷

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) قدر مجالس عزادارى را بدانند، از این مجالس استفاده كنند و روحاً و قلباً این مجالس را وسیله‌اى براى ایجاد ارتباط و اتّصالِ هرچه محكم‌تر میان خودشان و حسین‌بن‌على علیه‌السّلام، خاندان پیغمبر و روح اسلام و قرآن قرار دهند.
۱۳۷۳/۰۳/۱۷
 

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع)

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) در ماه محرم، معارف حسینى و معارف علوى را كه همان معارف قرآنى و اسلامى اصیل و صحیح است براى مردم بیان كنید.
۱۳۷۲/۰۳/۲۶

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) اگر براى ذكر مصیبت، كتاب «نَفَس المهمومِ» مرحوم «محدّث قمى» را باز كنیدو از رو بخوانید، براى مستمع گریه‌آور است و همان عواطفِ جوشان را به‌وجود مى‌آورد. چه لزومى دارد كه ما به خیال خودمان، براى مجلس‌آرایى كارى كنیم كه اصل مجلس عزا از فلسفه واقعى‌اش دور بماند؟!
۱۳۷۳/۰۳/۱۷

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) وقتى شعر را میخوانیم، به فكر باشیم كه از این شعر ما ایمان مخاطبان ما زیاد شود. پس، هر شعرى را نمیخوانیم؛ هرجور خواندنى را انتخاب نمیكنیم؛ جورى میخوانیم كه لفظ و معنا و آهنگ، مجموعاً اثرگذار باشد. در چه؟ در افزایش ایمان مخاطب.
۱۳۸۶/۰۴/۱۴

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) برخى كارهاست كه پرداختن به آنها، مردم را به خدا و دین نزدیك مى‌كند. یكى از آن كارها، همین عزاداریهاى سنّتى است كه باعث تقرّبِ بیشترِ مردم به دین مى‌شود. این‌كه امام فرمودند «عزادارى سنّتى بكنید» به خاطر همین تقریب است. در مجالس عزادارى نشستن، روضه خواندن، گریه كردن، به سروسینه زدن و مواكب عزا و دسته‌هاى عزادارى به راه انداختن، از امورى است كه عواطف عمومى را نسبت به خاندان پیغمبر، پرجوش مى‌كند و بسیار خوب است.
۱۳۷۳/۰۳/۱۷

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع)

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) من حقیقتاً هر چه فكر كردم، دیدم نمى‌توانم این مطلب - قمه‌زدن - را كه قطعاً یك خلاف و یك بدعت است، به اطّلاع مردم عزیزمان نرسانم. این كار را نكنند. بنده راضى نیستم. اگر كسى تظاهر به این معنا كند كه بخواهد قمه بزند، من قلباً از اوناراضى‌ام.
۱۳۷۳/۰۳/۱۷

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) لازم است از همه برادران و خواهرانى كه در سراسر كشور، در ایّام عزادارى، با اقامه عزا و به راه انداختن مراسم عزادارى، بخصوص با اقامه نماز جماعت در ظهر عاشورا و با عرض ارادت به خاندان پیامبر، این روزها را بزرگ داشتند سپاسگزارى كنم.
۱۳۷۷/۰۲/۱۸

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) هیچ وقت نباید امت اسلامى و جامعه‌ى اسلامى ماجراى عاشورا را به عنوان یك درس، به عنوان یك عبرت، به عنوان یك پرچم هدایت از نظر دور بدارد. قطعاً اسلام، زنده‌ى به عاشورا و به حسین‌بن‌على (علیه‌السّلام) است.
۱۳۹۱/۰۹/۰۱

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) اگر كسانى براى حفظ جانشان، راه خدا را ترك كنند و آن‌جا كه باید حق بگویند، نگویند، چون جانشان به خطر مى‌افتد، یا براى مقامشان یا براى شغلشان یا براى پولشان یا محبّت به اولاد، خانواده و نزدیكان و دوستانشان، راه خدا را رها كنند، آن وقت حسین‌بن‌على‌ها به مسلخ كربلا خواهند رفت و به قتلگاه كشیده خواهند شد.
۱۳۷۵/۰۳/۲۰

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع)

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) اگر فداكارى بزرگ حسین‌بن‌على علیه‌السلام نمى‌بود كه این فداكارى، وجدان تاریخ را به كلى متوجه و بیدار كرد در همان قرن اول یا نیمه‌ى قرن دوم هجرى، بساط اسلام به كلى برچیده مى‌شد.
۱۳۷۲/۰۳/۲۶

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) كار امام حسین علیه‌الصّلاه والسّلام در كربلا، با كار جدّ مطهرش حضرت محمد بن عبداللَّه صلى‌اللَّه‌علیه‌وآله‌وسلم در بعثت، قابل تشبیه و مقایسه است. قضیه این است. همان طور كه پیغمبر در آن جا، یك تنه با یك دنیا مواجه شد، امام حسین هم در ماجراى كربلا، یك تنه با یك دنیا مواجه بود.
۱۳۷۵/۰۹/۲۴

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) عبرت آن است كه انسان نگاه كند و ببیند چطور شد حسین‌بن‌على علیه‌السّلام - همان كودكى كه جلوِ چشم مردم، آن همه موردِ تجلیلِ پیغمبر بود و پیغمبر درباره‌ى او فرموده بود: «سیّد شباب اهل الجنه»؛ سرور جوانان بهشت - بعد از گذشت نیم قرن از زمان پیغمبر، با آن وضعِ فجیع كشته شد؟!
۱۳۷۳/۱۰/۱۵

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) امام حسین را فقط به جنگِ روز عاشورا نباید شناخت؛ آن یك بخش از جهاد امام حسین است. به تبیین او، امر به معروف او، نهى از منكر او، توضیح مسائل گوناگون در همان منى و عرفات، خطاب به علما، خطاب به نخبگان- حضرت بیانات عجیبى دارد كه تو كتابها ثبت و ضبط است- بعد هم در راه به سمت كربلا، هم در خود عرصه‌‌ى كربلا و میدان كربلا، باید شناخت.
۱۳۸۸/۰۵/۰۵

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) عاشورا پیامها و درسهایى دارد. عاشورا درس مى‌دهد كه براى حفظ دین، باید فداكارى كرد. درس مى‌دهد كه در راه قرآن، از همه چیز باید گذشت. درس مى‌دهد كه در میدان نبرد حق و باطل، كوچك و بزرگ، زن و مرد، پیر و جوان، شریف و وضیع و امام و رعیت، با هم در یك صف قرار مى‌گیرند.
۱۳۷۱/۰۴/۲۲
 

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع)

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) درس عاشورا، درس فداكارى و دیندارى و شجاعت و مواسات و درس قیام للَّه و درس محبّت و عشق است. یكى از درسهاى عاشورا، همین انقلاب عظیم و كبیرى است كه شما ملت ایران پشت سر حسین زمان و فرزند ابى‌عبداللَّه الحسین علیه‌السّلام انجام دادید. خود این، یكى از درسهاى عاشورا بود.
۱۳۷۷/۰۲/۱۸

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) امام بزرگوار ما، محرّم را به عنوان ماهى كه در آن، خون بر شمشیر پیروز مى‌شود، مطرح نمود و به بركت محرّم، با همین تحلیل و منطق، خون را بر شمشیر پیروز كرد. این، یك نمونه از جلوه‌هاى نعمت ماه محرّم و مجالس ذكر و یاد امام حسین علیه‌السّلام است كه شما دیدید.
۱۳۷۳/۰۳/۱۷

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع)

۲۰ جمله از رهبر انقلاب درباره عزاداری سیدالشهدا (ع) درس حسین‌بن‌على علیه‌الصّلاةوالسّلام به امّت اسلامى این است كه براى حقّ، براى عدل، براى اقامه‌ى عدل، براى مقابله‌ى با ظلم، باید همیشه آماده بود و باید موجودى خود را به میدان آورد؛ در آن سطح و در آن مقیاس، كار من و شما نیست؛ امّا در سطوحى كه با وضعیّت ما، با خُلقیّات ما، با عادات ما متناسب باشد چرا؛ باید یاد بگیریم.
۱۳۹۲/۰۳/۲۲


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳

 

آپ کی ولادت کو بعض مورخین نے 15 ذی الحجہ اور بعض نے دوم یا پنجم رجب بتائي ہے اسی طرح شہادت کو بعض تیسری رجب مانتے ہیں لیکن شیخ کلینی اور مسعودی نے ستائیس جمادی الثانی بیان کی ہے

نام: علی بن محمد
نام پدر: محمد بن علی
نام مادر: بی بی سمانہ
تاریخ ولادت: ۱۵ ذیحجہ ۲۱۲ ھ (1)، ایک اور روایت کے مطابق ۲ رجب ۲۱۲ ھ کو واقع ہوئی ہے۔
لقب: تقی، ہادی
کنیت: ابوالحسن ثالث
مدت امامت: ۳۳ سال
تاریخ شہادت: ۳ رجب ۲۵۴ ھ (2) (۸۶۸ میلادی ) شہر سامرا
ہم عصر خلفاء:
امام ہادی علیہ السلام کے امامت کے دور میں چند عباسی خلفاء گذرے ہیں جن کے نام یہ ہیں:
۱۔ معتصم ( مامون کا بھائی ) ۲۱۷ سے ۲۲۷ ھ تک
۲۔ واثق ( معتصم کا بیٹا ) ۲۲۷ سے ۲۳۲ ھ تک
۳۔ متوکل ( واثق کا بھائی ) ۲۳۲ سے ۲۴۸ ھ تک
4۔ منتصر ( متوکل کا بیٹا ) ۶ ماہ
۵۔ مستعین ( منتصر کا چچا زاد ) ۲۴۸ سے ۲۵۲ ھ تک
۶۔ معتز ( متوکل کا دوسرا بیٹا ) ۲۵۲ سے ۲۵۵ ھ تک
امام ہادی علیہ السلام مؤخرالذکر خلیفہ کے ہاتھوں شہید ہوئے اور اپنے گھر میں ہی مدفون ہیں۔
امام علیہ السلام کے زندگی کا مختصر جائزہ
امام علی نقی (علیہ السلام کی سال ولادت212 ھ اور شہادت ۲۵۴ ہجری میں واقع ہونے کے بارے اتفاق ہے لیکن آپ کی تاریخ ولادت و شہادت میں اختلاف ہے۔ ولادت کو بعض مورخین نے 15 ذی الحجہ اور بعض نے دوم یا پنجم رجب بتائي ہے اسی طرح شہادت کو بعض تیسری رجب مانتے ہیں لیکن شیخ کلینی اور مسعودی نے ستائیس جمادی الثانی بیان کی ہے (3)
البتہ رجب میں امام ہادی علیہ السلام کی پیدائش کی ایک قوی احتمال زیارت مقدسہ ناحیہ کا جملہ ہے، جس میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں: "اللہم انی اسئلک بالمولودین فی رجب، محمد بن علی الثانی و ابنہ علی ابن محمد " آپ کا نام گرامی علی اور لقب، ہادی، نقی، نجیب، مرتضی، ناصح، عالم، امین، مؤتمن، منتجب، اور طیب ہیں، البتہ ہادی اور نقی معروف ترین القاب میں سے ہیں، آنحضرت کی کنیت " ابو الحسن " ہے اور یہ کنیت چار اماموں یعنی امام علی ابن ابی طالب، امام موسی ابن جعفر، امام رضا علیہم السلام کیلئے استعمال ہوا ہے، اگر صرف ابوالحسن ہو تو یہ امیرالمؤمنیں علی علیہ السلام کے لئے مختص ہے جبکہ امام موسی بن جعفر علیہ السلام کو ابو الحسن اول، امام رضا علیہ السلام کو ابو الحسن الثانی، اور امام علی النقی علیہ السلام کو ابو الحسن الثالث کہا جاتا ہے۔
امام علی النقی الہادی علیہ السلام کی ولادت مدینہ منورہ کے قریب "صریا" نامی گاؤں میں ہوئی ہے جسے امام موسی کاظم علیہ السلام نے آباد کیا اور کئی سالوں تک آپ کی اولاد کا موطن رہا ہے۔
حضرت امام علی النقی علیہ سلام جو کہ ہادی اور نقی کے لقب سے معروف ہیں 3 رجب اور دوسرے قول کے مطابق 25 جمادی الثانی کو سامرا میں شہید کئے گئے۔
حضرت امام علی النقی علیہ سلام کا دور امامت، عباسی خلفاء "معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین، اور معتز" کے ہمعصر تھا۔ حضرت امام علی النقی علیہ سلام کے ساتھ عباسی خلفا کا سلوک مختلف تھا بعض نے امام کے ساتھ اچھا سلوک کیا تو کسی نے حسب معمول برا، البتہ سب کے سب خلافت کو غصب کرنے اور امامت کو چھیننے میں متفق اور ہم عقیدہ تھے، جن میں سے متوکل عباسی اہل بیت کی نسبت دشمنی کے حوالے سے زیادہ بدنام تھا اوراس نے خاندان رسالت کو آزار و اذیت پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، یہاں تک کہ اماموں کی قبروں کو مسمار کیا، خاص طور پر قبر مطہر سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ سلام اور اس کے اطراف کے تمام گھروں کو مسمار کرکے وہاں کھیتی باڑی کرنے کا حکم دیا۔
متوکل نے حضرت امام نقی علیہ السلام کو سن 243 ہجری میں مدینہ منورہ سے سامرا بلایا۔ عباسی خلفا میں سے صرف منتصر باللہ نے اپنے مختصر دور خلافت میں خاندان امامت و رسالت کے ساتھ قدرے نیک سلوک کیا.
حضرت امام علی النقی علیہ سلام کو سامرا "عباسیوں کے دار الخلافہ" میں 11 سال ایک فوجی چھاونی میں قید رکھا گیا۔ اس دوران مکمل طور پر لوگوں کو اپنے امام کے ملاقات سے محروم رکھا گیا۔ آخر کار 3 رجب اور دوسری روایت کے مطابق 25 جمادی الثانی سن 254 ہجری کو معتز عباسی خلیفہ نے اپنے بھائی معتمد عباسی کے ہاتھوں زہر دلوا کر آپ کوشہید کردیا.
عصر امام علیہ السلام کے دور میں سیاسی اور سماجی حالات
عباسی خلافت کے اس دور میں چند ایک خصوصیات کی بناء پر دوسرے ادوار سے مختلف ہے لہذا بطور اختصار بیان کیا جاتا ہے:
۱۔ خلافت کا عروج و زوال:
خواہ اموی خلافت کا دور ہو یا عباسی کا، خلافت ایک عظمت و حیثیت رکھتی تھی لیکن اس دور میں ترک اور غلاموں کے تسلط کی وجہ سے خلافت گیند کی مانند ایک بازیچہ بن گئی تھی اور بادشاہ اور بادشاہ گر (یعنی ترک) جس طرف چاہتے اس کو پھیرتے تھے۔
۲۔ درباریوں کی عیاشی اور ہوس بازی:
عباسی خلفاء نے اپنے دور خلافت میں عیاشی، شراب خواری اور دوسرے گناہوں میں ڈوبے ہوئے تھے ان ان کی عیاشیوں کو تاریخ نے ثبت و ضبط کیا ہے۔
۳۔ بے انتہا ظلم و بربریتا:
تاریخ عباسی خلفاء کے ظلم و جور سے بھری پڑی ہے اور ظلم کی جو داستانیں ان بظاہر خلفاء اور درحقیقت جابر بادشاہوں کے دور میں رقم ہوئی ہیں قلم انہیں تحریر کرنے سے قاصر ہے۔
۴۔ علوی تحریکوں کا فروغ:
اس عصر میں عباسی حکومت کی یہ کوشش رہی کہ معاشرے میں جامعہ میں علویوں سے نفرت پیدا کی جائے اور مختصر بہانے پر ان کو بی رحمانہ قتل و غارت کا نشانہ بنایا جاتا تھا کیونکہ علوی تحریک کو عباسی حکومت ہمیشہ اپنے لئے خطرہ سمجھتی تھی۔
اسی لئے اس سلسلے کی ایک کڑی یعنی امام ہادی علیہ السلام کو حکومت وقت نے مدینے سے سامرا بلایا اور فوجی چھاونی میں بہت سخت حفاظتی انتظام کے تحت گیارہ سال نظربند رکھا.
عباسی خلفاء کا سیاہ ترین دور اور امام ہادی (ع) کا موقف
عباسی خلفاء میں سے خصوصا خلیفہ متوکل علویوں اور شیعیان آل رسول(ص) کا سب سے سخت دشمن تھا؛ اسی لئے یہ دور تاریخ کا سب سے زیادہ سخت ترین اور سیاہ ترین دور سمجھا جاتا ہے لہذا امام ہادی علیہ السلام اس خلیفہ کے زمانے میں اپنے ماننے والوں کیلئے پیغام دینا بہت ہی خفیہ انداز سے انجام دیتے تھے؛ چونکہ امام (ع) کی کڑی نگرانی ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے امام علیہ السام نے وکالت اور نمائندگی کی روش اختیار کی۔
امام ہادی (ع) اور کلامی مکاتب
امام ہادی علیہ السلام کے دور امامت کے سخت ترین حالات میں دیگر مکاتب اور مذاہب کے ماننے والے اپنے عروج پر تھے اور باطل عقائد اور نظریات مثلا جبر و تفویض، خلق قرآن وغیرہ، اسلامی اور شیعہ معاشرے میں رسوخ کرگئے تھے اور ان حالات نے امام (ع) کی ہدایت و رہبری کی ضرورت کو دوچند کردیا تھا۔ امام ہادی(ع) کے بہت سارے مناظرے اس حقیقت کا مبرہن ثبوت ہیں۔
وصلی اللہ علی محمد و آلہ الطاہرین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ طبرسی، اعلام الوری، الطبعة الثالثه، دارالکتب الاسلامیه، ص 355 ؛ شیخ مفید، الارشاد، قم، مکتبه بصیرتی، ص 327۔
2۔ شبلنجی، نورالابصار، ص 166، قاهره، مکتبته المشهد الحسینی۔
3۔ وقایع الایام، ص ۲۸۲۔
بقلم: حضرت آیت اللہ شیخ محمد جواد فاضل لنکرانی۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳
 

امام دہم حضرت امام علی بن محمد النقی الہادی علیہ السلام 15 ذوالحجہ سنہ 212 ہجری، مدینہ منورہ کے محلے صریا میں پیدا ہوئے آپ (ع) کا نام "علی" رکھا گیا اور کنیت ابوالحسن، اور آپ (ع) کے مشہور ترین القاب "النقی اور الہادی" ہیں۔ اور آپ (ع) کو ابوالحسن ثالث اور فقیہ العسکری بھی کہا جاتا ہے۔

امام ہادی علیہ السلام اور اعتقادی انحرافات کے خلاف جدوجہد
آپ (ع) کی عمر ابھی چھ سال پانچ مہینے تھی کہ ستمگر عباسی ملوکیت نے آپ کے والد کو ایام شباب میں ہی شہید کردیا اور آپ (ع) نے بھی اپنے والد حضرت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام کی طرح چھوٹی عمر میں امامت کا عہدہ سنبھالا اور آپ کی مدت امامت 33 سال ہے۔ امام علی النقی الہادی علیہ السلام اپنی عمر کے آخری دس برسوں ـ کے دوران مسلسل متوکل عباسی کے ہاتھوں سامرا میں نظر بند رہے۔ گو کہ سبط بن جوزی نے تذکرةالخواص میں لکھا ہے کہ امام علیہ السلام 20 سال اور 9 مہینے سامرا کی فوجی چھاؤنی میں نظر بند رہے۔ آپ کی شہادت بھی عباسی ملوکیت کے ہاتھوں رجب المرجب سنہ 254 کے ابتدائی ایام میں ہوئی۔
امام دہم حضرت امام علی بن محمد النقی الہادی علیہ السلام 15 ذوالحجہ سنہ 212 ہجری، مدینہ منورہ کے محلے صریا میں پیدا ہوئے (1) آپ (ع) کا نام "علی" رکھا گیا اور کنیت ابوالحسن، (2) اور آپ (ع) کے مشہور ترین القاب "النقی اور الہادی" ہیں۔ (3) اور آپ (ع) کو ابوالحسن ثالث اور فقیہ العسکری بھی کہا جاتا ہے۔ (4) جبکہ امیرالمؤمنین (ع) اور امام رضا (ع) ابوالحسن الاول اور ابوالحسن الثانی کہلاتے ہیں۔ آپ (ع) کے والد حضرت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام "سیدہ سمانہ" ہے۔ (5) 
آپ (ع) کی عمر ابھی چھ سال پانچ مہینے تھی کہ ستمگر عباسی ملوکیت نے آپ کے والد کو ایام شباب میں ہی شہید کردیا اور آپ (ع) نے چھوٹی عمر میں امامت کا عہدہ سنبھالا (6) اور آپ کی مدت امامت 33 سال ہے۔ (7) امام علی النقی الہادی علیہ السلام اپنی عمر کے آخری دس برسوں کے دوران مسلسل متوکل عباسی کے ہاتھوں سامرا میں نظر بند رہے۔(8) آپ کی شہادت بھی عباسی ملوکیت کے ہاتھوں رجب المرجب سنہ 254 کے ابتدائی ایام میں ہوئی۔ (9) آپ (ع) شہادت کے بعد سامرا میں اپنے گھر میں ہی سپرد خاک کئے گئے۔ (10)
امام ہادی علیہ السلام اپنی حیات طیبہ کے دوران کئی عباسی بادشاہوں کے معاصر رہے۔ جن کے نام یہ ہیں: معتصم عباسی، واثق عباسی، متوكل عباسی، منتصر عباسی، مستعين عباسی اور معتز عباسی۔ (11)
معاشرے کے ہادی و راہنما
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد معاشرے کی ہدایت و راہنمائی کی ذمہ داری ائمہ طاہرین علیہم السلام پر عائد کی گئی ہے چنانچہ ائمہ علیہم السلام نے اپنے اپنے عصری حالات کے پیش نظر یہ ذمہ داری بطور احسن نبھا دی اور اصل و خالص محمدی اسلام کی ترویج میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہيں کیا۔ ائمہ علیہم السلام کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کے عقائد کو انحرافات اور ضلالتوں سے باز رکھیں اور حقیقی اسلام کو واضح کریں چنانچہ امام علی النقی الہادی علیہ السلام کو بھی اپنے زمانے میں مختلف قسم کے انحرافات کا سامنا کرنا پڑا اور انحرافات اور گمراہیوں کا مقابلہ کیا۔ آپ (ع) کے زمانے میں رائج انحرافات کی جڑیں گذشتہ ادوار میں پیوست تھیں جن کی بنیادیں ان لوگوں نے رکھی تھیں جو یا تو انسان کو مجبور محض سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ انسان اپنے افعال میں مختار نہیں ہے اور وہ عقل کو معطل کئے ہوئے تھے اور ذاتی حسن و قبح کے منکر تھے اور کہہ رہے تھے کہ کوئی چیز بھی بذات خود اچھی یا بری نہيں ہے اور ان کا عقیدہ تھا کہ خدا سے (معاذاللہ) اگر کوئی برا فعل بھی سرزد ہوجائے تو درست ہے اور اس فعل کو برا فعل نہیں کہا جاسکے گا۔ ان لوگوں کے ہاں جنگ جمل اور جنگ جمل کے دونوں فریق برحق تھے یا دوسری طرف سے وہ لوگ تھے جنہوں نے انسان کو مختار کل قرار دیا اور معاذاللہ خدا کے ہاتھ باندھ لئے۔ یا وہ لوگ جنہوں نے دین کو خرافات سے بھر دیا اور امام ہادی علیہ السلام کے دور میں یہ سارے مسائل موجود تھے اور شیعیان اہل بیت (ع) کو بھی ان مسائل کا سامنا تھا چنانچہ امام علیہ السلام نے ان تمام مسائل کا مقابلہ کیا اور ہر موقع و مناسبت سے لوگوں کے عقائد کی اصلاح کا اہتمام کیا۔
جبر و تفویض
علم عقائد میں افراط و تفریط کے دو سروں پر دو عقائد "جبر و تفویض" کے نام سے مشہور ہیں جو حقیقت میں باطل عقائد ہيں۔
شیخ صدوق نے عیون اخبار الرضا (12) میں اپنی سند سے امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا:
برید بن عمیر شامی کہتے ہیں کہ میں "مرو" میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (ع) سے عرض کیا: آپ کے جد بزرگوار امام صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی کہ آپ (ع) نے فرمایا: نہ جبر ہے اور نہ ہی تفویض ہے بلکہ امر دو ان دو کے درمیان ہے، اس کا مطلب کیا ہے؟
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص گمان کرے کہ "خدا نے ہمارے افعال انجام دیئے ہیں [یعنی ہم نے جو کيا ہے وہ درحقیقت ہم نے نہیں کیا بلکہ خدا نے کئے ہيں اور ہم مجبور ہيں] اور اب ان ہی اعمال کے نتیجے میں ہمیں عذاب کا مستحق گردانے گا"، وہ جبر کا عقیدہ رکھتا ہے۔ اور جس نے گمان کیا کہ خدا نے لوگوں کے امور اور رزق وغیرہ کا اختیار اپنے اولیاء اور حجتوں کے سپرد کیا ہے [جیسا کہ آج بھی بہت سوں کا عقیدہ ہے] وہ درحقیقت تفویض [خدا کے اختیارات کی سپردگی] کا قائل ہے؛ جو جبر کا معتقد ہوا وہ کافر ہے اور جو تفویض کا معتقد ہوا وہ مشرک ہے۔
راوی کہتا ہے میں نے پوچھا: اے فرزند رسول خدا (ص) ان دو کے درمیان کوئی تیسرا راستہ ہے؟
فرمایا: یابن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)! "امرٌ بین الامرین" سے کیا مراد ہے؟
فرمایا: یہی کہ ایک راستہ موجود ہے جس پر چل کر انسان ان چیزوں پر عمل کرتا ہے جن کا اس کو حکم دیا گیا ہے اور ان چیزوں کو ترک کردیتا ہے جن سے اس کو روکا گیا ہے۔ [یعنی انسان کو اللہ کے واجبات پر عمل کرنے اور اس کے محرمات کو ترک کرنے کا جو اختیار دیا گیا ہے یہی وہ تیسرا اور درمیانی راستہ ہے]۔
میں نے عرض کیا: یہ جو بندہ اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل کرتا ہے اور اس کی منہیات سے پرہیز کرتا ہے، اس میں خدا کی مشیت اور اس کے ارادے کا کوئی عمل دخل ہے؟
فرمایا: وہ جو طاعات اور عبادات ہیں ان کا ارادہ اللہ تعالی نے کیا ہے اور اس کی مشیت ان میں کچھ یوں ہے کہ خدا ہی ان کا حکم دیاتا ہے اور ان سے راضي اور خوشنود ہوتا ہے اور ان کی انجام دہی میں بندوں کی مدد کرتا ہے اور نافرمانیوں میں اللہ کا ارادہ اور اس کی مشیت کچھ یوں ہے کہ وہ ان اعمال سے نہی فرماتا ہے اور ان کی انجام دہی پر ناراض و ناخوشنود ہوجاتا ہے اور ان کی انجام دہی میں انسان کو تنہا چھوڑتا ہے اور اس کی مدد نہیں فرماتا۔  
جبر و تفویض کا مسئلہ اور امام ہادی علیہ السلام
شہر اہواز [جو آج ایران کے جنوبی صوبے خوزستان کا دارالحکومت ہے] کے عوام نے امام ہادی علیہ السلام کے نام ایک خط میں اپنے لئے درپیش مسائل کے سلسلے میں سوالات پوچھے جن میں جبر اور تفویض اور دین پر لوگوں کے درمیان اختلافات کی خبر دی اور چارہ کار کی درخواست کی۔
امام ہادی علیہ السلام نے اہواز کے عوام کے خط کا تفصیلی جواب دیا جو ابن شعبہ حرانی نے تحف العقول میں نقل کیا ہے۔
امام (ع) نے اس خط کی ابتداء میں مقدمے کی حیثیت سے مختلف موضوعات بیان کئے ہیں اور خط کے ضمن میں ایک بنیادی مسئلہ بیان کیا ہے جو ثقلین (قرآن و اہل بیت (ع)) سے تمسک ہے جس کو امام علیہ السلام نے مفصل انداز سے بیان کیا ہے۔ اوراس کے بعد آیات الہی اور احادیث نبوی سے استناد کرکے حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ولایت اور عظمت و مقام رفیع کا اثبات کیا ہے۔ (13)
شاید یہاں یہ سوال اٹھے کہ "اس تمہید اور جبر و تفویض کی بحث کے درمیان کیا تعلق ہے؟"؛ چنانچہ امام علیہ السلام وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہيں: ہم نے یہ مقدمہ اور یہ امور تمہید میں ان مسائل کے ثبوت اور دلیل کے طور پر بیان کئے جو کہ جبر و تفویض کا مسئلہ اور ان دو کا درمیانی امر ہے۔ (14)
شايد امام ہادی علیہ السلام نے یہ تمہید رکھ کر جبر و تفویض کے مسئلے کو بنیادی طور حل کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ اگر لوگ ثقلین کا دامن تھامیں اور اس سلسلے میں رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات پر عمل کریں تو مسلمانان عالم کسی بھی صورت میں گمراہ نہ ہونگے اور انتشار کا شکار نہ ہونگے اور کبھی منحرف نہ ہونگے۔
امام ہادی علیہ السلام اس تمہید کے بعد موضوع کی طرف آتے ہیں اور امام صادق علیہ السلام کے قول شریف "لا جَبْرَ وَلا تَفْويضَ ولكِنْ مَنْزِلَةٌ بَيْنَ الْمَنْزِلَتَيْن"؛ (15) کا حوالہ دیتے ہيں اور فرماتے ہیں: "اِنَّ الصّادِقَ سُئِلَ هَلْ اَجْبَرَ اللّه‏ُ الْعِبادَ عَلَى الْمَعاصى؟ فَقالَ الصّادِقُ عليه‏السلام هُوَ اَعْدَلُ مِنْ ذلِكَ۔ فَقيلَ لَهُ: فَهَلْ فَوَّضَ اِلَيْهِمْ؟ فَقالَ عليه‏السلام : هُوَ اَعَزُّ وَاَقْهَرُ لَهُمْ مِنْ ذلِكَ"۔ (16)
امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیا خدا نے انسان کو نافرمانی اور معصیت پر مجبور کیا ہے؟
امام علیہ السلام نے جواب دیا: خداوند اس سے کہیں زيادہ عادل ہے کہ ایسا عمل انجام دے۔ (17)
پوچھا گیا: کیا خداوند متعال نے انسان کو اس کے حال پہ چھوڑ رکھا ہے اور اختیار اسی کے سپرد کیا ہے؟
فرمایا: خداوند اس سے کہیں زيادہ قوی، عزیز اور مسلط ہے ہے کہ ایسا عمل انجام دے۔
امام ہادی علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: مروی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: "النّاسُ فِى القَدَرِ عَلى ثَلاثَةِ اَوْجُهٍ: رَجُلٌ يَزْعَمُ اَنَّ الاَْمْرَ مُفَوَّضٌ اِلَيْهِ فَقَدْ وَهَنَ اللّه‏َ فى سُلْطانِهِ فَهُوَ هالِكٌ وَرَجُلٌ يَزْعَمُ اَنَّ اللّه‏َ جَلَّ و عَزَّ اَجْبَرَ الْعِبادَ عَلَى الْمَعاصى وَكَلَّفَهُمْ ما لا يُطيقُون فَقَدْ ظَلَمَ اللّه‏َ فى حُكْمِهِ فَهُوَ هالِكٌ وَرَجُلٌ يَزْعَمُ اَنَّ اللّه‏َ كَلَّفَ الْعِبادَ ما يُطيقُونَ وَلَمْ يُكَلِّفْهُمْ مالا يُطيقُونَ فَاِذا أَحْسَنَ حَمَدَ اللّه‏َ وَاِذا أساءَ اِسْتَغْفَرَ اللّه‏َ؛ فَهذا مُسْلِمٌ بالِغٌ"۔ (18)
لوگ "قَدَر" پر اعتقاد کے حوالے سے تین گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں (فرقۂ قَدَریہ کے تین گروہ ہیں):
٭ کچھ کا خیال ہے کہ تمام امور و معاملات انسان کو تفویض کئے گئے ہيں؛ ان لوگوں نے خداوند متعال کو اپنے تسلط میں سست گردانا ہے، چنانچہ یہ گروہ ہلاکت اور نابودی سے دوچارہوگیا ہے۔
٭ کچھ لوگ وہ ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ خداوند متعال انسان کو گناہوں اور نافرمانی پر مجبور کرتا ہے اور ان پر ایسے افعال اور امور واجب قرار دیتا ہے جن کی وہ طاقت نہیں رکھتے! ان لوگوں نے خداوند متعال کو اس کے احکام میں ظالم اور ستمگر قرار دیا ہے چنانچہ اس عقیدے کے پیروکار بھی ہلاک ہونے والوں میں سے ہیں۔ اور
٭ تیسرا گروہ وہ ہے جس کا عقیدہ ہے کہ خداوند متعال انسان کی طاقت و اہلیت کی بنیاد پر انہیں حکم دیتا ہے اور ان کی طاقت کے دائرے سے باہر ان پر کوئی چیز واجب نہيں کرتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اگر نیک کام انجام دیں تو اللہ کا شکر انجام دیتے ہیں اور اگر برا عمل انجام دیں تو مغفرت طلب کرتے ہیں؛ یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی اسلام کو پاچکے ہیں۔
اس کے بعد امام ہادی علیہ السلام مزید وضاحت کے ساتھ جبر و تفویض کے مسئلے کو بیان کرتے ہيں اور ان کے بطلان کو ثابت کرتے ہیں۔
فرماتے ہیں: "َاَمّا الْجَبْرُ الَّذى يَلْزَمُ مَنْ دانَ بِهِ الْخَطَأَ فَهُوَ قَوْلُ مَنْ زَعَمَ أنَّ اللّه‏َ جَلَّ وَعَزَّ أجْبَرَ الْعِبادَ عَلَى الْمَعاصى وعاقَبَهُمْ عَلَيْها وَمَنْ قالَ بِهذَا الْقَوْلِ فَقَدْ ظَلَمَ اللّه‏َ فى حُكْمِهِ وَكَذَّبَهُ وَرَدَّ عَليْهِ قَوْلَهُ {وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَداً}۔ (19) "وَقَوْلَهُ {ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ يَدَاكَ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ}"۔ (20) ۔۔۔؛ (21)
ترجمہ: جہاں تک جبر کا تعلق ہے ـ جس کا ارتکاب کرنے والا غلطی پر ہے ـ پس یہ اس شخص کا قول و عقیدہ ہے جو گمان کرتا ہے کہ خداوند متعال نے بندوں کو گناہ اور معصیت پر مجبور کیا ہے لیکن اسی حال میں ان کو ان ہی گناہوں اور معصیتوں کے بدلے سزا دے گا!، جس شخص کا عقیدہ یہ ہوگا اس نے اللہ تعالی کو اس کے حکم و حکومت میں ظلم کی نسبت دی ہے اور اس کو جھٹلایا ہے اور اس نے خدا کے کلام کو رد کردیا ہے جہاں ارشاد فرماتا ہے "تیرا پرورد‏گار کسی پر بھی ظلم نہيں کرتا"، نیز فرماتا ہے: "یہ ( عذاب آخرت ) اُسکی بناء پر ہے جو کچھ تُمہارے اپنے دو ہا تھوں نے آگے بھیجا ، اور بے شک اللہ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے"۔  
امام علیہ السلام تفویض کے بارے میں فرماتے ہیں:
"وَاَمَّا التَّفْويضُ الَّذى اَبْطَلَهُ الصّادِقُ عليه‏السلام وَاَخْطَأَ مَنْ دانَ بِهِ وَتَقَلَّدَهُ فَهُوَ قَوْلُ الْقائِلِ: إنَّ اللّه‏َ جَلَّ ذِكْرُهُ فَوَّضَ إِلَى الْعِبادِ اخْتِيارَ أَمْرِهِ وَنَهْيِهِ وَأَهْمَلَهُمْ"؛ (22)
ترجمہ: اور جہاں تک تفویض کا تعلق ہے ـ کس کو امام صادق علیہ السلام نے باطل کردیا ہے اور اس کا معتقد غلطی پر ہے ـ خداوند متعال نے امر و نہی [اور امور و معاملات کے پورے انتظام] کو بندوں کے سپرد کیا ہے اور اس عقیدے کے حامل افراد کو اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔  
فرماتے ہیں:
"فَمَنْ زَعَمَ أَنَّ اللّه‏َ تَعالى فَوَّضَ اَمْرَهُ وَنَهْيَهُ إلى عِبادِهِ فَقَدْ أَثْبَتَ عَلَيْهِ الْعَجْزَ وَأَوْجَبَ عَلَيْهِ قَبُولَ كُلِّ ما عَملُوا مِنْ خَيْرٍ وَشَرٍّ وَأَبْطَلَ أَمْرَ اللّه‏ِ وَنَهْيَهُ وَوَعْدَهُ وَوَعيدَهُ، لِعِلَّةِ مازَعَمَ اَنَّ اللّه‏َ فَوَّضَها اِلَيْهِ لاَِنَّ الْمُفَوَّضَ اِلَيْهِ يَعْمَلُ بِمَشيئَتِهِ، فَاِنْ شاءَ الْكفْرَ أَوِ الاْيمانَ كانَ غَيْرَ مَرْدُودٍ عَلَيْهِ وَلاَ مَحْظُورٍ۔۔۔"؛ (23)
ترجمہ: پس جس نے گمان کیا کہ خدا نے امر و نہی [اور معاشرے کے انتظامات] کا کام مکمل طور پر اپنے بندوں کے سپرد کیا ہے اور ان لوگوں نے گویا خدا کو عاجز اور بے بس قرار دیا ہے اور انھوں نے [اپنے تئیں اتنا اختیار دیا ہے] کہ اپنے ہر اچھے اور برے عمل کو قبولیت کو اللہ پر واجب قرار دیا ہے! اور اللہ کے امر و نہی اور وعدہ و وعید کو جھٹلاکر باطل قرار دیا ہے؛ کیونکہ اس کہ وہم یہ ہے کہ خداوند متعال نے یہ تمام امور ان ہی کے سپرد کئے گئے ہیں اور جس کو تمام امور سپرد کئے جاتے ہیں وہ ہر کام اپنی مرضی سے کرتا ہے۔ پس خواہ وہ کفر کو اختیار کرے خواہ ایمان کا راستہ اپنائے، اس پر کوئي رد ہے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی رکاوٹ ہے۔
امام ہادی علیہ السلام یہ دونوں افراطی اور تفریطی نظریات کو باطل کرنے کے بعد قول حق اور صحیح نظریہ پیش کرتے ہیں جو "امرٌ بین الأمرین" سے عبارت ہے؛ فرماتے ہیں:
"لكِنْ نَقُولُ: إِنَّ اللّه‏َ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ الْخَلْقَ بِقُدْرَتِهِ وَمَلَّكَهُمْ اِسْتِطاعَةَ تَعَبُّدِهِمْ بِها، فَاَمَرَهُمْ وَنَهاهُمْ بِما اَرادَ، فَقَبِلَ مِنْهُمُ اتِّباعَ أَمْرِهِ وَرَضِىَ بِذلِكَ لَهُمْ، وَنَهاهُمْ عَنْ مَعْصِيَتِهِ وَذَمّ مَنْ عَصاهُ وَعاقَبَهُ عَلَيْها"؛ (24)
ترجمہ: لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ: خداوند عزّ و جلّ نے انسان کو اپنی قوت سے خلق فرمایا اور ان کو اپنی پرستش اور بندگی کی اہلیت عطا فرمائی اور جن امور کے بارے میں چاہا انہیں حکم دیا یا روک دیا۔ پس اس نے اپنے اوامر کی پیروی کو اپنے بندوں سے قبول فرمایا اور اس [بندوں کی طاعت و عبادت اور فرمانبرداری] پر راضی اور خوشنود ہوا اور ان کو اپنی نافرمانی سے روک لیا اور جو بھی اس کی نافرمانی کا مرتکب ہوا اس کی ملامت کی اور نافرمانی کے بموجب سزا دی۔
امام علی النقی الہادی علیہ السلام اور غلات (نصیریوں) کا مسئلہ
ہر دین و مذہب اور ہر فرقے اور قوم میں ایسے افراد پائے جاسکتے ہیں جو بعض دینی تعلیمات یا اصولوں میں مبالغہ آرائی سے کام لیں یا بعض دینی شخصیات کے سلسلے میں غلو کا شکار ہوتے ہيں اور حد سے تجاوز کرتے ہیں۔ برادر مکاتب میں میں صحابیوں کی عمومی تنزیہ اور ان سب کو عادل سمجھنا اور بعض صحابہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر فوقیت دینا یا صحابہ کی شخصیت اور افعال کا دفاع کرنے کے لئے قرآن و سنت تک کی مرضی سے تأویل و تفسیر کرتے ہیں اور اگر صحاح سے رجوع کیا جائے تو ایسی حدیثوں کی بھی کوئی کمی نہيں ہے جو ان ہی مقاصد کے لئے وضع کی گئی ہیں۔
لیکن یہ بیماری دوسرے ادیان و مکاتب تک محدود نہيں ہے بلکہ پیروان اہل بیت (ع) یا شیعہ کہلانے والوں میں بہت سے افراد اس بیماری میں مبتلا ہوئے ہیں۔ یہ سلسلہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے زمانے سے جاری رہا اور ہمیشہ ایک گروہ یا چند افراد ایسے ضرور تھے جو ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی نسبت غلو کا شکار تھے اور غالیانہ انحراف کا شکار تھے۔
غالیوں کے یہ گروہ حضرات معصومین علیہم السلام کی تعلیمات کو یکسر نظر انداز کرکے ان کے سلسلے میں غلو آمیز آراء قائم کرتے تھے اور بعض تو ائمہ معصومین علیہم السلام کو معاذاللہ الوہیت تک کا درجہ دیتے ہیں چنانچہ غلو کی بیماری امام ہادی علیہ السلام کے زمانے میں نئی نہيں تھی بلکہ غلو بھی دوسرے انحرافی عقائد کی مانند ایک تاریخی پس منظر کا حامل تھا۔
غلو کے مرض سے دوچار لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے وصال کے بعد ہر دور میں نظر آرہے ہيں۔ حتی کہ امام سجاد علیہ السلام کے زمانے میں بھی یہ لوگ حاضر تھے اور شیعیان اہل بیت (ع) کے لئے اعتقادی مسائل پیدا کررہے تھے۔
نہ غالی ہم سے ہیں اور نہ ہمارا غالیوں سے کوئی تعلق ہے
امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام غالیوں سے یوں برائت ظاہر کرتے ہیں:
"إنَّ قَوْما مِنْ شيعَتِنا سَيُحِبُّونا حَتّى يَقُولُوا فينا ما قالَتِ الْيَهُودُ فى عُزَيْرٍ وَقالَتِ النَّصارى فى عيسَى ابْنِ مَرْيَمَ؛ فَلا هُمْ مِنّا وَلا نَحْنُ مِنْهُمْ"۔ (25)
ترجمہ: ہمارے بعض دوست ہم سے اسی طرح محبت اور دوستی کا اظہار کریں گے جس طرح کہ یہودی عزیز (ع) کے بارے میں اور نصرانی عیسی (ع) کے بارے میں اظہار عقیدت کرتے ہیں نہ تو یہ لوگ (غالی) ہم سے ہیں اور نہ ہمارا ان سے کوئی تعلق ہے۔
امام سجاد علیہ السلام کے اس ارشاد سے معلوم ہوتا ہے کہ ائمہ علیہم السلام اپنے عصری تقاضوں کے مطابق اس قسم کے انحرافات کا مقابلہ کرتے تھے اور اس قسم کے تفکرات کے سامنے مضبوط اور فیصلہ کن موقف اپناتے تھے اور ممکنہ حد تک انہیں تشیع کو بدنام نہيں کرنے دیتے تھے۔
امام سجاد علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
"اَحِبُّونا حُبَّ الاِْسْلامِ فَوَاللّه‏ِ ما زالَ بِنا ما تَقُولُونَ حَتّى بَغَّضْتُمُونا إلَى النّاسِ"۔ (26)
ترجمہ: ہم سے اسی طرح محبت کرو جس طرح کا اسلام نے تمہیں حکم دیا ہے؛ پس خدا کی قسم! جو کچھ تم [غالی اور نصیری] ہمارے بارے میں کہتے ہو اس کے ذریعے لوگوں کو ہماری دشمنی پر آمادہ کرتے ہو۔
یہاں اس بات کی یادآوری کرانا ضروری ہے کہ غلو آمیز تفکر مختلف صورتوں میں نمودار ہوسکتا ہے۔ مرحوم علامہ محمد باقر مجلسی بحارالانوار میں لکھتے ہيں: "نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے بارے میں غلو کا معیار یہ ہے کہ کوئی شخص؛
٭ نبی (ص) یا کسی امام یا تمام ائمہ (ع) کی الوہیت [اور ربوبیت] اور قدیم ہونے کا قائل ہوجائے؛
٭ نبی (ص) یا کسی امام یا تمام ائمہ (ع) کو اللہ کا شریک قرار دے؛ کہ مثلاً ان کی عبادت کی جائے یا روزی رسانی میں انہيں اللہ کا شریک قرا دے یا کہا جائے کہ خداوند متعال ائمہ رسول اللہ (ص) یا ائمہ کی ذات میں حلول کر گیا ہے۔ یا وہ شخص اس بات کا قائل ہوجائے کہ رسول اللہ (ص) خدا کی وحی یا الہام کے بغیر ہی علم غیب کے حامل ہيں؛
٭ یا یہ کہ دعوی کیا جائے کہ ائمہ انبیاء ہی ہیں؟
٭ یا کہا جائے کہ بعض ائمہ کی روح بعض دوسرے ائمہ میں حلول کرچکی ہے۔
٭ یا کہا جائے کہ رسول اللہ (ص) اور ائمہ علیہم السلام کی معرفت و پہچان انسان کو ہر قسم کی عبادت اور بندگی سے بے نیاز کردیتی ہے اور اگر کوئی ان کی معرفت حاصل کرے تو ان پر کوئی عمل واجب نہ ہوگا اور نہ ہی محرمات اور گناہوں سے بچنے اور پرہیز کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (27)
جیسا کہ آپ نے دیکھا ان امور میں سے کسی ایک کا قائل ہونا غلو کے زمرے میں آتا ہے اور جو ان امور کا قائل ہوجائے اس کو غالی بھی کہتے ہيں اور بعض لوگ انہيں نصیری بھی کہتے ہیں۔
علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ جو غلو کی ان قسموں میں کسی ایک کا قائل ہوگا وہ کافر اور ملحد ہے اور دین سے خارج ہوچکا ہے۔ جیسا کہ عقلی دلائل، آیات امو مذکورہ روایات وغیرہ بھی اس بات کا ثبوت ہیں۔ (28)
امام علی النقی الہادی علیہ السلام کے زمانے میں غالی سرگرم تھے اور اس زمانے میں ان کے سرغنے بڑے فعال تھے جو اس گمراہ اور گمراہ کن گروپ کی قیادت کررہے تھے چنانچہ امام علیہ السلام نے اس کے سامنے خاموشی روا نہ رکھی اور مضبوط اور واضح و فیصلہ کن انداز سے ان کی مخالفت کی اور ان کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا۔ اس منحرف غالی گروہ کے سرغنے: على بن حسكہ قمى، قاسم يقطينى، حسن بن محمد بن بابا قمى، فہري، محمد بن نُصير نميري اور فارِس بن حاكم تھے۔ (29)
احمد بن محمد بن عيسى اور ابراہيم بن شيبہ، امام ہادی علیہ السلام کے نام الگ الگ مراسلے روانہ کرتے ہیں اور اس زمانے میں غلات کے عقائد اور رویوں و تفکرات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ان کے بعض عقائد بیان کرتے ہیں اور اپنے زمانے کے دو بدنام غالیوں على بن حسكہ اور قاسم يقطينى کی شکایت کرتے ہیں اور امام علیہ السلام واضح اور دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہیں کہ:
"لَيْسَ هذا دينُنا فَاعْتَزِلْهُ"؛ (30)
ترجمہ: یہ ہمارا دین نہیں ہے چنانچہ اس سے دوری اختیار کرو۔
اور ایک مقام پر امام سجاد، امام باقر اور امام صادق علیہم السلام کی مانند غالیوں پر لعنت بھیجی:
محمد بن عیسی کہتے ہیں کہ امام ہادی علیہ السلام نے ایک مراسلے کے ضمن میں میرے لئے لکھا:
"لَعَنَ اللّه‏ُ الْقاسِمَ الْيَقْطينى وَلَعَنَ اللّه‏ عَلِىَّ بْنَ حَسْكَةِ الْقُمىّ، اِنَّ شَيْطانا تَرائى لِلْقاسِمِ فَيُوحى اِلَيْهِ زُخْرُفَ الْقَولِ غُرُورا"۔ (31)
ترجمہ: اللہ تعالی قاسم یقطینی اور علی بن حسکہ قمی پر لعنت کرے۔ ایک شیطان قاسم الیقطینی کے سامنے ظاہر ہوتا ہے اور باطل اقوال کو خوبصورت ظاہری صورت میں اس کو القاء کرتا ہے اور اس کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اس کو دھوکا دیتا ہے۔
نصر بن صبّاح کہتے ہیں: حسن بن محمد المعروف ابن بابائے قمی، محمد بن نصير نميرى اور فارس بن حاتم قزوينى پر امام ہادی (علیہ السلام) نے لعنت بھیجی۔ (32)
ہم تک پہنچنے والی روایات سے معلوم ہوتا ہے غلو اور دوسرے انحرافات کے خلاف کہ امام ہادی علیہ السلام کی جدوجہد اظہار برائت اور لعن و طعن سے کہیں بڑھ کر تھی اور آپ (ع) نے بعض غالیوں کے قتل کا حکم جاری فرمایا ہے۔
محمد بن عیسی کہتے ہیں:
"إنَّ اَبَا الحَسَنِ العَسْكَرِى عليه‏السلام أمَر بِقَتلِ فارِسِ بْنِ حاتم القَزْوينىّ وَضَمِنَ لِمَنْ قَتَلَهُ الجَنَّةَ فَقَتَلَهُ جُنَيْدٌ"۔ (33)
ترجمہ: امام ہادی علیہ السلام نے فارس بن حاتم قزوینی کے قتل کا حکم دیا اور اس شخص کے لئے جنت کی ضمانت دی جو اس کو ہلاک کرے گا چنانچہ جنید نامی شخص نے اس کو ہلاک کردیا۔
مُجَسِِّمہ اور مُشَبِّہہ
مسلمانوں کے درمیان گمراہی اور ضلالت پر مبنی عقائد کبھی شیعیان اہل بیت (ع) تک بھی سرایت کرجاتے تھے اور روایات کے مطابق یہ عقائد امام ہادی (علیہ السلام) کے زمانے میں اہل تشیع کر درمیان اختلاف کا سبب بنے؛ مجسمہ وہ لوگ تھے جو خدا کو جسم سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ خدا کو دیکھا جاسکتا ہے۔ اور مشبہہ وہ لوگ تھے جو خدا کو مخلوقات سے تشبیہ دیتے تھے۔
اس میں شک نہیں ہے کہ شیعہ تعلیمات کا سرچشمہ شفاف اور پاک ہے چنانچہ ان کے عقائد بھی انحرافات سے دور رہے ہیں اور یہ تعلیمات ہر شیعہ کے لئے فخر و اعزاز کا سرمایہ ہیں؛ تا ہم بعض اوقات بعض وجوہات کی بنا پر انحرافی افکار اہل تشیع میں بھی رواج پاتے رہے ہیں اور ہمارے ائمہ (علیہم السلام) نے بھی ان کا مقابلہ کیا ہے اور تشیع کے شفاف چہرے کو ان ناپاک توہمات سے پاک کردیا۔
شیخ صدوق (رحمۃاللہ علیہ) اپنی کتاب "التوحید" میں لکھتے ہیں: "میں نے یہ کتاب مخالفین کی طرف سے اہل تشیع پر روا رکھی جانے والی تہمتوں کے باعث تالیف کی؛ جو کہہ رہے تھے کہ شیعہ تشبیہ اور جبر کے قائل ہیں۔۔۔؛ لہذا اللہ سے تقرب اور اس پر توکل کرکے اس کتاب کا آغاز کیا جو توحید و یکتا پرستی اور تشبیہ اور جبر کی نفی کرتی ہے"۔ (34)
پس یہ ایسا مسئلہ نہ تھا جس کو ائمہ طاہرین (علیہم السلام) نظرانداز کریں کیونکہ اس قسم کے عقائد توحید کے بنیادوں اصولوں سے متصادم تھے۔
صقر بن ابى دلف امام ہادی (علیہ السلام) سے توحید کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور آپ (ع) فرماتے ہیں:
«إنَّهُ لَيسَ مِنّا مَنْ زَعَمَ أنَّ اللّه‏َ عَزَّوَجَلَّ جِسْمٌ وَنَحْنُ مِنْهُ بَراءٌ فِى الدُّنْيا وَالاْخِرَةِ، يَابْنَ [أبى] دُلَفِ إنَّ الْجِسْمَ مُحْدَثٌ واللّه‏ مُحدِثُهُ وَمُجَسِّمُهُ؛ (35)
"جو شخص گمان کرے کہ خداوند عزّو جلّ خداوند جسم ہے، اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم ایسے افراد سے دنیا اور آخرت میں، بیزار ہیں۔ اے ابن ابی دلف! جسم مخلوق ہے اور اس کو وجود میں لانے والا اور اس کو جسم بخشنے والا خدا ہے"۔
نیز سہل بن زیاد ابراہیم بن محمد ہمدانی کہتے ہیں: میں نے امام ہادی (علیہ السلام) کو لکھا:
"اس  شہر میں آپ کے پیروکاروں کے درمیان توحید کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خداوند متعال جسم ہے اور بعض دیگر کہتے ہیں کہ وہ صورت ہے"۔
امام (علیہ السلام) نے میرے سوال کے جواب میں تحریر فرمایا:
"سُبْحَانَ مَنْ لَا يُحَدّ وَلَا يُوصَفُ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْ‏ءٌ وَهُوَ السّمِيعُ الْعَلِيمُ أَوْ قَالَ الْبَصِيرُ"۔ (36)
"پاک ہے وہ ذات کہ محدود ہوجائے یا وصف و بیان میں سمائے اور کوئی چیز اس کی مانند نہیں ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے یا (سہل کہتے ہیں کہ ہمدانی نے کہا: جاننے والا یا) کہا: دیکھنے والا"۔
نیز بعض دوسروں کا خیال تھا کہ خداوند متعال کی ذات قابل رؤیت ہے اور اس کے سر کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ائمہ طاہرین (علیہم السلام) نے اس تصور کا بھی مقابلہ کیا اور اس سلسلے میں امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا:
"جاءَ حِبْرٌ إلى أميرِ الْمُؤْمِنينَ عليه‏السلام فَقالَ: يا أَميرَ الُؤْمِنينَ هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ حينَ عَبَدْتَهُ؟ فَقالَ وَيْلَكَ ما كُنْتُ اَعْبُدُ رَبّا لَمْ اَرَهُ۔ قالَ: وَكَيْفَ رَأَيْتَهُ؟ قالَ وَيْلَكَ لاَ تُدْرِكُهُ الْعُيُونُ فى مُشاهِدَةِ الاَْبْصارِ وَلكِنْ رَأَتْهُ الْقُلُوبُ بِحَقائِقِ الاْيمانِ"۔ (37)
یہودی احبار میں سے ایک حبر امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے پاس آیا اور پوچھا: کیا آپ نے اپنے خدا کو دیکھا ہے؟ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: وائے ہو تم پر! میں نے ایسے خدا کی بندگی نہيں کی ہے جس کو میں نے دیکھا نہ ہو۔
حبر نے دوبارہ پوچھا: خدا کو دیکھنے کی کیفیت کیا تھی؟
امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا: وائے ہو تم پر! آنکھیں نظر ڈالتے وقت اس کا ادراک نہيں کرسکتیں بلکہ دل ہیں جو حقیقت ایمان سے اس کو دیکھتا ہے"۔  
امام ہادی (علیہ السلام) سے پروردگار کی رؤیت کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ (ع) نہایت مدلل اور منطقی انداز خدا کی رؤیت کی نفی کرتے ہیں اور رؤیت کے قائل ہونے کو تشبیہ قرار دیتے ہیں؛ دیکھئے:
"عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ الثّالِثِ (عليه السلام) أَسْأَلُهُ عَنِ الرّؤْيَةِ وَ مَا اخْتَلَفَ فِيهِ النّاسُ فَكَتَبَ لَا تَجُوزُ الرّؤْيَةُ مَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ الرّائِي وَ الْمَرْئِيّ هَوَاءٌ لَمْ يَنْفُذْهُ الْبَصَرُ فَإِذَا انْقَطَعَ الْهَوَاءُ عَنِ الرّائِي وَ الْمَرْئِيّ لَمْ تَصِحّ الرّؤْيَةُ وَ كَانَ فِي ذَلِكَ الِاشْتِبَاهُ لِأَنّ الرّائِيَ مَتَى سَاوَى الْمَرْئِيّ فِي السّبَبِ الْمُوجِبِ بَيْنَهُمَا فِي الرّؤْيَةِ وَجَبَ الِاشْتِبَاهُ وَ كَانَ ذَلِكَ التّشْبِيهُ لِأَنّ الْأَسْبَابَ لَا بُدّ مِنِ اتّصَالِهَا بِالْمُسَبّبَاتِ"۔ (38)
احمد بن اسحق کہتے ہیں: میں نے ابوالحسن ثالث (حضرت امام ہادی علیہ السلام) کو خط لکھا اور آپ (ع) سے خدا کو دیکھنے کے سلسلے میں لوگوں کے اختلاف کے بارے میں دریافت کیا؛ تو آپ (ع) نے جواب میں تحریر فرمایا: جب تک دیکھنے والے اور دیکھے جانے والے (رائی اور مرئی) کے درمیان ایسی ہوا موجود نہ ہو جس میں بصارت نفوذ کرتی ہے، دیکھنے کا عمل انجام نہیں پاتا۔ پس اگر اس قسم کی ہوا دیکھنے والے اور دید کے ہدف (مرئی) کے درمیان منقطع ہوجائے، دیکھنا ممکن نہ ہوگا۔ اور اگر رائی مرئی کو دیکھے تو وہ دونوں ایک دوسرے کی مانند اور شبیہ ہونگے (کیونکہ وہ دونوں ایک خاص سمت میں واقع ہوئے ہیں) کیونکہ دیکھنے والا جب دیکھے جانے والے دید کے سامنے قرار پائے گا تو دید کی شرط کے لحاظ سے ان کے درمیان تشابہ اور اشتباہ واقع ہوگا اور یہ وہی تشبیہ ہے جو ممتنع ہے (کہ خدا کی کوئی مثل ہو) کیونکہ سبب اور مسبب کے درمیان اتصال حتمی ہے"۔
امام ہادی (علیہ السلام) سے ـ جن سے زیارت جامعہ کبیرہ بھی منقول ہے ـ خالق کائنات اور معرفت امام کے بارے میں بھی نورانی جملے نقل ہوئے ہیں۔ سہل بن زیادہ کہتے ہیں:

«إلهى تاهَتْ اَوْهامُ الْمُتَوَهِّمينَ وَقَصُرَ طُرَفُ الطّارِفينَ وَتَلاشَتْ اَوْصافُ الْواصِفينَ وَاضْمَحَلَّتْ اَقاويلُ الْمُبْطِلينَ عَنِ الدَّرَكِ لِعَجيبِ شَأْنِكَ أَوِ الْوُقُوعِ بِالْبُلُوغِ اِلى عُلُوِّكَ، فَاَنْتَ فىِ الْمَكانِ الَّذى لا يَتَناهى وَلَمْ تَقَعْ عَلَيْكَ عُيُونٌ بِاِشارَةٍ وَلا عِبارَةٍ هَيْهاتَ ثُمَّ هَيْهاتَ يا اَوَّلىُّ، يا وَحدانىُّ، يا فَرْدانِىُّ، شَمَخْتَ فِى الْعُلُوِّ بِعِزِّ الْكِبْرِ، وَارْتَفَعْتَ مِنْ وَراءِ كُلِّ غَوْرَةٍ وَنَهايَةٍ بِجَبَرُوتِ الْفَخْرِ؛(39)
پروردگارا! توہم زدہ لوگوں کے گمان خطا سے دوچار ہوئے ہیں اور دیکھنے والوں کی نگاہ کا عروج [حتی کہ تیرے اوصاف کے قریب بھی] بھی نہ پہنچ سکی؛ اور وصف کرنے والوں کے اوصاف ناکارہ ہوچکے ہیں اور باطل دعوے کرنے والوں کے اقوال اور دعوے تیری شان کی بلندی اور حیرت انگيزی کے سامنے بےبس اور مضمحل ہوئے؛ کیونکہ تیر شوکت و عظمت اس سے کہیں بالاتر ہے کہ [انسانی عقل کا] اس تک پہنچنا تصور کیا جاسکے۔ تو اس بلندی پر ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہے اور کوئی بھی آنکھ تجھے نہیں دیکھ سکتی اور کسی بھی عبارت میں تیری توصیف کی اہلیت نہیں ہے۔ کتنے دور ہیں [انسانی افکار تیرے مقام والا کے ادراک سے] اے سرچشمۂ وجود! ایک یگانہ! اے یکتا! تو اپنی کبریائی کے لباس میں ہر قوت سے بالاتر ہے اور اپنی جبروت کی بنا پر ہر تیز بین مفکر کی دید و ادراک کی زد سے ماوراء ہے"۔ (40)
________________________________________
مآخذ:
1۔ ارشاد، شیخ مفيد، ج 2 ص 297 ـ مناقب آل ابى‏طالب ـ ابن شهر آشوب، ـ ج 3 ص505۔  
2۔ مناقب آل ابى‏طالب، انتشارات ذوى‏القربى، ج1، 1379، ج4، ص432۔
3۔ جلاء العيون، ملامحمدباقر مجلسى، انتشارات علميه اسلاميه، ص568۔
4۔ مناقب، ص432۔
5۔ ارشاد، همان۔
6۔ مناقب، ص433۔
7۔ مناقب، ص433۔
8۔ مناقب، ص433؛ ارشاد، ص297۔
9۔ ارشاد، ص297۔
10۔ اعلام الورى، طبرسى، دارالمعرفه، ص339۔
11۔ مناقب، ص433۔
12۔ عيون اخبار الرضا (ع) ـ شیخ صدوق ـ ج 1 ص 114۔
13۔ تحف العقول، ابن شعبه حرّانى، مؤسسة الاعلمى للمطبوعات، صص339 ـ 338۔
14۔ تحف العقول ، ص340۔
15۔ تحف العقول۔ انسان نہ مجبور ہے نہ ہی اللہ نے اپنے اختیارات اس کو سونپ دیئے ہیں بلکہ امر ان دو کے درمیان ہے یا درمیانی رائے درست ہے۔
16۔ تحف العقول۔
17۔ اس کلام کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم جبر کے قائل ہوجائیں تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ ـ العياذ باللّه‏ ـ خداوند متعال ظالم ہے حالانکہ وہ خود ارشاد فرماتا ہے: {وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَداً} سورہ کہف (18) آیت 49۔ واضح رہے کہ مرجئہ اور اشاعرہ جو جبر کے قائل ہیں عدل کو ایک اصول کے طور پر تسلیم نہیں کرتے اور ان کے خیال میں خدا (معاذاللہ) اگر ظلم بھی کرے، درست ہے۔
18۔ تحف العقول ۔ ابن شعبہ حرانی ـ ص 371۔
19۔ سورہ کہف (18) آیت 49۔
20۔ سورہ حج (22) آیت 10۔
21۔ تحف العقول، ص461۔
22۔ همان، ص 463۔
23۔ همان، ص 464۔
23۔ همان۔ ص 465۔
25۔ اختيار معرفة الرجال ـ شیخ طوسى، تصحيح وتعليق المعلم الثالث ميرداماد الاستربادي تحقيق السيد مهدي الرجائي مؤسسة آل البيت عليهم السلام ۔ ص 336۔
26۔ الطبقات الكبرى، ابن سعد، دار صادر بيروت، ج5، ص214۔
27۔ بحار الانوار ـ علامہ مجلسی ـ ج25، ص 346۔
28۔ وہی ماخذ۔
29۔ اختيار معرفة الرجال ص 806۔
30۔ وہی ماخذ ص 803۔
31۔ وہی ماخذ، ص 804۔
32۔ وہی ماخذ۔
33۔ وہی ماخذ، ص 807۔
34۔ التوحید ـ شیخ صدوق ـ ص 18۔
35۔ التوحید شیخ صدوق ص104، ح20۔
36۔ همان، ص100، ح9 ـ اصول كافى جلد 1 ص 136 حدیث 5۔
37۔ توحيد، ص109، ح6۔
38۔ همان، ص109، ح7۔ اصول كافى جلد 1 ص :130 رواية: 4۔ وضاحت از مترجم و شارح اصول کافی، جناب حاج سيد جواد مصطفوي: "طبیعی دان کہتے ہیں کہ آنکھ میں کسی چیز کے منعکس ہونے کے لئے تین چیزیں ضروری ہیں: 1۔ دید کا ہدف (مرئی) کثیف ہونا چاہئے (اور جگہ گھرنا چاہئے) تا کہ روشنی کو منعکس کرکے منتشر کردے؛ اسی بنا پر اجسام لطیف ـ جیسے ہوا، فرشتے اور جن وغیرہ نہیں دیکھے جاتے سوائے اس وقت کہ جب وہ جسم کثیف کے سانچے میں ڈھل جائیں۔ 2۔ رائی اور مرئی کے درمیان فاصلہ معین ہو جو نہ زیادہ دور ہو اور نہ ہی حد سے زیادہ قریب اور فاصلہ موجود ہو۔ 3۔ دیکھنے والے اور دیکھے جانے والے کے درمیان لطیف ہوا بھی موجود ہو ایک شعاعی جسم کو حمل کر منتقل کرے"۔ امام ہادی (علیہ السلام) نے ان ہی میں سے بعض شرائط کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور فرمایا ہے: اگر خدا دیکھا جائے تو تو ان ہی حالات میں ہونا چاہئے۔ کیونکہ شرط اور مشروط اور سبب اور مسبب کے درمیان اتصال اور رابطہ حتمی ہے اور اس کا لازمہ یہ ہوگا کہ خدا بھی مخلوق کی طرح ہو کیونکہ وہ دید کا ہدف قرار پایا ہے اور ہدف دید کو ـ جیسا کہ کہا گیا ـ جسم کثیف ہونا چاہئے اور خداوند متعال اس سے کہیں بالاتر ہے۔
39۔ التوحید، 66 ح19۔
40۔ حسین مطہری محب نے یہ اقتباس مرحوم علامہ باقر شریف قرشی کی کتاب "حياة امام علي الهادي عليه‏السلام" دفتر انتشارات اسلامى، ص112۔ سے اخذ کرکے اس کا فارسی میں ترجمہ کیا تھا اور بندہ ناچيز ف۔ح۔مہدوی نے اسے انٹرنیٹ سے اخذ کیا اور اس کا اردو میں ترجمہ کیا۔ اس مضمون کی بعض عبارات میں مختصر تبدیلی لائی گئی اور اس کے مآخذ کو دوبارہ دیکھا گیا اور ان کی تطبیق کی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم:حسين مطهري محب ترجمہ: ف۔ح۔ مہدوی



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : جمعه هجدهم مهر ۱۳۹۳

 

امام دہم حضرت امام علی بن محمد النقی الہادی علیہ السلام 15 ذوالحجہ سنہ 212 ہجری، مدینہ منورہ کے محلے صریا میں پیدا ہوئے.

 ولادت باسعادت

شیخ مفید کا کہنا ہے کہ امام ہادی علیہ السلام مدینہ کے قریب صریا نامی قریئے ميں پیدا ہوئے ہیں۔ (ارشادص ۴۹۴) ۔

اسم گرامی، کنیت، اور القاب

آپ کااس گرامی علی، آپ کے والدماجدحضرت امام محمدتقی نے رکھا،اسے یوں سمجھنا چاہئے کہ سرورکائنات (ص) نے جواپنے بارہ جانشین اپنی ظاہری حیات کے زمانہ میں معین فرمائے تھے، ان میں سے ایک آپ کی ذات گرامی بھی تھی آپ کے والدماجدنے اسی معین اسم سے موسوم کردیا علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ چہاردہ معصومین(ع) کے اسماء لوح محفوظ پر لکھے ہوئے ہیں۔ سرورکائنات نے اسی کے مطابق سب کے نام معین فرمائے ہیں اورہرایک کے والدنے اسی کی روشنی میں اپنے فرزندکوموسوم کیاہے (اعلام الوری ص ۲۲۵) ۔

کتاب کشف الغطاء ص ۴ میں ہے کہ آنحضرت نے سب کے نام حضرت عائشہ کولکھوا دئیے تھے آپ کی کنیت ابوالحسن تھی … آپ کے القاب بہت کثیرہیں جن میں نقی،ناصح ،متوکل مرتضی اورعسکری زیادہ مشہورہیں (کشف الغمہ ص ۱۲۲ ، نورالابصار ۱۴۹ ، مطالب السؤل ص ۲۹۱) ۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کاعلم لدنی

بچپن کاواقعہ

یہ ہمارے مسلمات میں سے ہے کہ ہمارے آئمہ کو علم لدنی ہوتاہے یہ خداکی بارگاہ سے علم وحکمت لے کرکامل اورمکمل دنیامیں تشریف لاتے رہے ہیں انہیں کسی سے علم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، اورانہوں نے کسی دنیاوالے کے سامنے زانوئے ادب تہ نہیں فرمایا ”ذاتی علم وحکمت کے علاوہ مزیدشرف کمال کی تحصیل اپنے آباؤاجدادسے کرتے رہے یہی وجہ ہے کہ انتہائی کمسنی میں بھی یہ دنیاکے بڑے بڑے عالموں کوعلمی شکست دینے میں ہمیشہ کامیاب رہے اورجب کسی نے اپنے کو ان کی کسی فردسے مافوق سمجھا تووہ ذلیل ہوکررہ گیا،یاپھر سرتسلیم خم کرنے پرمجبورہوگیا۔

علامہ مسعودی کابیان ہے کہ حضرت امام محمدتقی علیہ السلام کی وفات کے بعدامام علی نقی علیہ السلام جن کی اس وقت عمر ۷ ۔ ۶/ سال کی تھی مدینہ میں مرجع خلائق بن گئے تھے، یہ دیکھ کروہ لوگ جو آل محمد (ص) سے دلی دشمنی رکھتے تھے یہ سوچنے پرمجبور ہو گئے کہ کسی طرح ان کی مرکزیت کوختم کیاجائے اورکوئی ایسامعلم ان کے ساتھ لگادیاجائے جوانہیں تعلیم بھی دے اوران کی اپنے اصول پرتربیت کرنے کے ساتھ ان کے پاس لوگوں کے پہونچنے کاسدباب کرے، یہ لوگ اسی خیال میں تھے کہ عمربن فرج رجحی فراغت حج کے بعدمدینہ پہنچا لوگوں نے اس سے عرض مدعاکی بالآخر حکومت کے دباؤ سے ایساانتظام ہوگیا کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام کو تعلیم دینے کے لیے عراق کاسب سے بڑاعالم، ادیب عبیداللہ جنیدی معقول مشاہرہ پرلگایاگیا یہ جنیدی آل محمدکی دشمنی میں خاص شہرت رکھتاتھا۔

الغرض جنیدی کے پاس حکومت نے امام علی نقی علیہ السلام کورکھ دیااورجنیدی کوخاص طورپراس امرکی ہدایت کردی کہ ان کے پاس روافض نہ پہنچنے پائیں جنیدی نے آپ کوقصرصربامیں اپنے پاس رکھا ہوتا یہ تھا کہ جب رات ہوتی تھی تودروازہ بندکردیاجاتاتھا اوردن میں بھی شیعوں کے ملنے کی اجازت نہ تھی اس طرح آپ کے ماننے والوں کی آمدکاسلسلہ منقطع ہوگیااورآپ کافیض جاری بندہوگیا لوگ آپ کی زیارت اورآپ سے استفادہ سے محروم ہوگئے ۔

راوی کابیان ہے کہ میں نے ایک دن جنیدی سے کہا غلام ہاشمی کاکیاحال ہے اس نے نہایت بری صورت بناکر کہا انہیں غلام ہاشمی نہ کہو، وہ رئیس ہاشمی ہیں ، خداکی قسم وہ اس کمسنی مین مجھ سے کہیں زیادہ علم رکھتے ہیں سنو میں اپنی پوری کوشش کے بعد جب ادب کاکوئی باب ان کے سامنے پیش کرتاہوں تو وہ اس کے متعلق ایسے ابواب کھول دیتے ہیں کہ میں حیران رہ جاتاہوں ”یظن الناس اتی اعلمہ واناواللہ اتعلم مہ“ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ میں انہیں تعلیم دے رہاہوں لیکن خداکی قسم میں ان سے تعلیم حاصل کررہاہوں میرے بس میں یہ نہیں کہ میں انھیں پڑھا سکوں ”ہذاواللہ خیراہل الارض وافضل من بقاء اللہ“ خداکی قسم وہ حافظ قرآن ہی نہیں وہ اس کی تاویل وتنزیل کوبھی جانتے ہیں اورمختصر یہ ہے کہ وہ زمین پربسنے والوں میں سب سے بہتراورکائنات میں سب سے افضل ہیں (اثبات الوصیت ودمعہ ساکبہ ص ۱۲۱) ۔

حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے کرامات اورآپ کاعلم باطن 

امام علی نقی علیہ السلام تقریبا ۲۹/ سال مدینہ منورہ میں قیام پذیررہے آپنے اس مدت عمرمیں کئی بادشاہوں کازمانہ دیکھا تقریبا ہرایک نے آپ کی طرف رخ کرنے سے احترازکیا یہی وجہ ہے کہ آپ امورامامت کوانجام دینے میں کامیاب رہے یعنی تبلیغ دین اورتحفظ بنائے مذہب اور رہبری ہو اخواہاں میں فائزالمرام رہے آپ چونکہ اپنے آباؤاجدادکی طرح علم باطن اورعلم غیب بھی رکھتے تھے اسی لیے آپ اپنے ماننے والوں کو ہونے والے واقعات سے باخبرفرمادیاکرتے تھے اورسعی فرماتے تھے کہ حتی الوسع مقدورات کے علاوہ کوئی گزند نہ پہنچنے پائے اس سلسلہ میں آپ کے کرامات بے شمارہیں جن میں سے ہم اس مقام پرکتاب کشف الغمہ سے چندکرامات تحریرکرتے ہیں۔

۱ ۔ محمدبن فرج رجحی کابیان ہے کہ حضرت امام علی نقی نے مجھے تحریرفرمایا کہ تم اپنے تمام امور ومعاملات کو راست اورنظام خانہ کودرست کرلو اور اپنے اسلحوں کوسنبھال لو، میں نے ان کے حکم کے بموجب تمام درست کرلیا لیکن یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ حکم آپ نے کیوں دیاہے لیکن چنددنوں کے بعد مصرکی پولیس میرے یہاں آئی اورمجھے گرفتارکرکے لے گئی اورمیرے پاس جوکچھ تھا سب لے لیا اورمجھے قیدخانہ میں بندکردیا میں آٹھ سال اس قیدخانہ میں پڑارہا، ایک دن امام علیہ السلام کاخط پہنچا، جس میں مرقوم تھا کہ اے محمدبن فرج تم اس ناحیہ کی طرف نہ جانا جومغرب کی طرف واقع ہے خط پاتے ہی میری حیرانی کی کوئی حدنہ رہی میں سوچتارہا کہ میں توقیدخانہ میں ہوں میراتوادھرجاناممکن ہی نہیں پھرامام نے کیوں یہ کچھ تحریرفرمایا آپ کے خط آنے کوابھی دوچاریوم ہی گذرے تھے کہ میری رہائی کاحکم آگیا اورمیں ان کے حسب الحکم مقام ممنوع کی طرف نہیں گیا قیدخانہ سے رہائی کے بعدمیں نے امام علیہ السلام کولکھا کہ حضورمیں قیدسے چھوٹ کرگھرآگیاہوں، اب آپ خداسے دعاء فرمائیں کہ میرامال مغصوبہ واپس کرادے آپ نے اس کے جواب میں تحریرفرمایاکہ عنقریب تمہاراسارامال تمہیں واپس مل جائے گا چنانچہ ایساہی ہوا۔

۲ ۔ ایک دن امام علی نقی علیہ السلام اورعلی بن حصیب نامی شخص دونوں ساتھ ہی راستہ چل رہے تھے علی بن حصیب آپ سے چندگآم آگے بڑھ کرلولے آپ بھی قدم بڑھاکرجلدآجائیے حضرت نے فرمایاکہ اے ابن حصیب ”تمہیں پہلے جاناہے“ تم جاؤ اس واقعہ کے چاریوم بعدابن حصیب فوت ہوگئے۔ ۳ ۔ ایک شخص محمدبن فضل بغدادی کابیان ہے کہ میں نے حضرت امام علی نقیعلیہ السلام کولکھا کہ میرے پاس ایک دکان ہے میں اسے بیچنا چاہتاہوں آپ نے اس کاکوئی جواب نہ دیا جواب نہ ملنے پرمجھے افسوس ہوا لیکن جب میں بغداد واپس پہنچا تووہ آگ لگ جانے کی وجہ سے جل چکی تھی۔

۴ ۔ ایک شخص ابوایوب نامی نے امام علیہ السلام کولکھا کہ میری زوجہ حاملہ ہے، آپ دعا فرمائیے کہ لڑکاپیداہو،آپ نے فرمایاانشاء اللہ اس کے لڑکاہی پیداہوگا اورجب پیداہوتو اس کانام محمدرکھنا چنانچہ لڑکاہی پیداہوا، اوراس کانام محمدرکھاگیا۔

۵ ۔ یحی بن زکریاکابیان ہے کہ میں نے امام علی نقی علیہ السلام کولکھاکہ میری بیوی حاملہ ہے آپ دعافرمائیں کہ لڑکاپیداہوآپ نے جواب میں تحریرفرمایا، کہ بعض لڑکیاں لڑکوں سے بہترہوتی ہیں، چنانچہ لڑکی پیداہوئی۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : دوشنبه هفتم مهر ۱۳۹۳

 

پاکستان با نام رسمی «جمهوری اسلامی پاکستان» (به اردو: اسلامی جمهوریۂ پاکستان)، کشوری در جنوب غربی آسیا است و پایتخت آن اسلام‌آباد نام دارد.

به گزارش سرويس بين‌ الملل باشگاه خبرنگاران ،

پاکستان
این کشور در جنوب مرز آبی هزار کیلومتری با دریای عرب دارد و از غرب با ایران، از شمال با افغانستان، از شرق با هندوستان، و از شمال شرق با جمهوری خلق چین هم‌مرز است. ناحیه کشمیر مورد ادعای هندوستان و پاکستان است. هر دو کشور هند و پاکستان به طور جداگانه بخش‌هایی از این منطقه را اداره می‌کنند و این مناطق توسط خط کنترل از هم جدا شده‌اند.



پرچم كشور پاكستان


دین رسمی پاکستان اسلام است و در میان کشورهای اسلامی، دومین کشور از نظر تعداد مسلمانان محسوب می‌شود. این کشور در سال ۱۹۴۷ به عنوان یک دولت و کشور جدید از هند مستقل شد. در سال ۱۹۷۱ جنگ داخلی به جدایی پاکستان شرقی با نام بنگلادش از این کشور منجر شد. این منطقه تاریخچه کهنی از زندگی و تمدن را داراست که شامل تمدن دره سند می‌شود. از زمان استقلال، پاکستان دوره‌های رشد نظامی و اقتصادی و هم‌چنین بی‌ثباتی را همگام با جدا شدن بنگلادش از خود، تجربه کرده‌است. پاکستان از لحاظ بزرگی نیروهای مسلح در رده هفتم جهان است و تنها کشور اسلامی دارنده جنگ‌افزار هسته‌ای می‌باشد.

پاکستان بر اساس برآورد سال ۲۰۱۲ با بیش از ۱۸۰ میلیون نفر جمعیت ششمین کشور پرجمعیت دنیاست. نوع حکومت این کشور جمهوری پارلمانی فدرال است و از ۴ ایالت و چهار قلمرو فدرالی تشکیل می‌شود. پاکستان هم از نظر زبانی و قومی و هم از نظر جغرافیایی کشور متنوع است. اردو و انگلیسی زبان‌های رسمی این کشور، اسلام آباد پایتخت و کراچی بزرگترین شهر پاکستان است.

نام

نام پاکستان (paːkɪst̪aːn) (پاک + ستان) به زبان‌های اردو و فارسی یعنی سرزمین پاکی. این نام نخستین بار در سال ۱۳۱۲ (۱۹۳۳) توسط چودهاری رحمت علی که آن را در نشریه «امروز» یا «هرگز» منتشر کرد، به کار برده شد.[۱] این نام به عنوان سرواژه از نام‌های سرزمین‌های اصلی اسلامی مربوط به هند غربی ساخته شده‌است. به طور رسمی این کشور به عنوان قلمرو پاکستان در سال ۱۳۲۶ (۱۹۴۷) بنا نهاده شد و در سال ۱۳۳۶ (۱۹۵۷) به «جمهوری اسلامی پاکستان» تغییر نام داد. پاکستان را بخصوص در شبه قاره هند معمولاً با نام مخفف «پاک» می‌شناسند.

جمهوری اسلامی پاکستان از ترکیب حروف ایالت‌های زیر به دست آمده‌است:

۱- پ از حرف اول ایالت پنجاب
۲- ا از حرف اول ایالت سرحد شمال غرب (که حالا بنام خیبر پختونخوا مبدل کردیده است)
۳- ک از حرف اول ایالت کشمیر
۴- س از حرف اول ایالت سند
۵- تان از حروف انتهایی ایالت بلوچستان

تاریخ

در هنگام قیام گاندی علیه استعمار انگلیس، پاکستان به رهبری محمدعلی جناح (از یاران گاندی) پیش از استقلال هند، استقلال خود را بازیافت. پاکستان دارای تمدن آسیایی بوده‌است و یکی از تمدن‌ها بزرگ جهان به حساب میآید که پس از میان‌رودان و مصر تمدن دوره سِند (۲۵۰۰ تا ۱۵۰۰ قبل از میلاد) است. کشور کنونی پاکستان در تاریخ ۱۲ اوت (۱۹۴۷) تأسیس شد. اما ناحیه‌ای که دربرمی گیرد تاریخچه گسترده‌ای دارد که با تاریخ هندوستان، اشتراک دارد. این منطقه محل تقاطع راه‌های تجاری تاریخی مانند راه ابریشم بوده‌است و در هزاران سال توسط گروههای مختلفی به عنوان سرزمین سکونت به کار برده شد. این گروه‌ها دراویدیها، هندواروپایی، مصریها، سکاها، پارتها، کوشانها، افغان‌ها، ترکتباران، مغولها و اعراب بودند. این منطقه را بیشتر به نام موزه اقوام و نژادها می‌شناسند.



تندیسی متعلق به ۲۵۰۰ سال پیش از میلاد در موزه ملی کراچی


مورخ و جغرافی دان دو بلیج مولر هنگامی که گفت: «اگر آنگونه که می‌گویند مصر موهبتی از سوی نیل است، پاکستان نیز موهبتی از سند است.» اهمیت تاریخی این منطقه را آشکار ساخت. نخستین نشانه وجود آدمیان در این منطقه ابزارهای سنگی هستند که در استان پنجاب از فرهنگ سوان برجای مانده‌اند و مربوط به ۱۰۰ هزار تا ۵۰۰ هزار سال پیش هستند. رود سند (ایندوس) محل فرهنگ‌های باستانی متعددی از قبیل مهرگره (یکی از اولین شهرهای شناخته شده جهانی) و تمدن دره سند در هاراپا و موهنجودارو است. تمدن دره سند در اواسط هزاره دوم پیش از میلاد دچار انحطاط شد و پس از آن تمدن ودابی پدید آمد که در بیشتر شمال هند و پاکستان گسترده شد.

پادشاهی هندویونانی که توسط دمتریوس اول باختری تأسیس شد، شامل گاندهارا و ناحیه پنجاب از ۱۸۴ قبل از میلاد می‌شد و در زمان حکومت مناندر اول که با پیشرفت‌های تجاری و فرهنگی دوره یونانی–بودائیسم همراه بود را بنا نهاد و به بیشترین رشد و پیشرفت خود رسید. شهر تاکسیلا مرکز مهم آموزشی در دوران باستانی شد. بقایای شهر که در غرب اسلام آباد واقع هستند، یکی از مکان‌های باستان‌شناسی عمده کشور است.

در سال ۷۱۲ میلادی، فرمانده عرب به نام محمد بن قاسم، سند و مولتان در جنوب پنجاب (پاکستان) را فتح کرد و بنای حکومتهای بعدی مسلمانان را که شامل حکومت غزنویان پادشاهی محمد غر پادشاهی (سلطان نشین) دهلی و حکومت موغال می‌شدند ایجاد کردند. در طول این دوره مروجان دینی صوفی نقش محوری را در تغییر دین اکثریت جمعیت منطقه به اسلام ایفا نمودند. انحطاط تدریجی حکومت مغول در اوایل سده هیجدهم موقعیت‌هایی را برای جمعیت افغانستان، بلوچها و سیکها برای اعمال قدرت و کنترل خود بر نواحی گسترده‌ای را فراهم نهاد تا زمانی که کمپانی هند شرقی بریتانیا سلطه خود را بر جنوب آسیا گسترانید.



مسجد پادشاهی؛ که در سده هفدهم میلادی توسط اورنگ زیب امپراتور مغولها در لاهور ساخته شد.


جنگ استقلال هند در ۱۲۳۶ هجری خورشیدی (۱۸۵۷) آخرین نبرد مسلحانه منطقه برضد راج بریتانیا بود و زمینه‌های نبرد آزادی خواهانه غیرمسلحانه که توسط مجلس ملی هند رهبری می‌شد را بنا نهاد. با این وجود لیگ مسلمانان هند در نیمه دوم دهه ۱۹۳۰ در میان ارسی از نادیده گرفتن مسلمانان در سیاست به محبوبیت رسید در ۲۹ دسامبر ۱۹۳۰ خطابه مربوط به ریاست جمهوری علامه اقبال لاهوری خواهان ایجاد یک کشور مسلمان مجزا در شمال غربی و آسیای جنوب شرقی شد. محمد علی جناح تئوری دو ملت را حمایت کرد و لیگ مسلمانان را به سوی پذیرش «قطعنامه لاهور» مربوط به ۱۹۴۰ هدایت کرد که سرانجام به ایجاد کشور پاکستان انجامید.

پاکستان در ۱۴ اوت ۱۹۴۷ با دو جناح دارای اکثریت مسلمان در قسمت شرقی و شمال غربی مناطق آسیای جنوبی تشکیل شد که توسط هند که اکثریت آن هندو بودند ازهم جدا شد و از استان‌های بلوچستان (پاکستان)، بنگلادش شرقی، استان مرزی شمال غرب، پنجاب غربی، و سند تشکیل می‌شد. تقسیم تقسیم هند تحت کنترل بریتانیا به شورش‌های فرقه‌ای منجر گردید.

در سراسر هند و پاکستان و میلیون‌ها مسلمان به جامو و کشمیر بالا گرفت و به اولین جنگ کشمیر (۱۹۴۸) منتهی شد که در آن پاکستان و هند هریک قسمتهای عظیمی از جمهوری که در سال ۱۹۵۸ به رسمیت اعلام شده بود با کودتایی توسط ایوب خان (۶۹-۱۹۵۸) که در طول یک دوره ناآرامی داخلی و همچنین در دوره جنگ ۱۹۶۵ هند–پاکستان رئیس جمهور بود. جانشین او یحیی خان (۷۱-۱۹۶۹) با طوفان - بهولا ۱۹۷۰ - مواجه شد که باعث مرگ ۵۰۰ هزار تن شد.

تفرقه‌های اقتصادی و سیاسی در پاکستان شرقی (بنگلادش امروزی) منجر به سرکوبی‌ها و تنش‌های شدید سیاسی گردید، که نهایتاً به جنگ آزادسازی بنگلادش و جنگ ۱۹۷۱ هند و پاکستان و نهایتاً جدا شدن پاکستان شرقی به عنوان کشور مستقل بنگلادش انجامید. حکومت غیر نظامی از سال ۱۹۷۲ تا ۱۹۷۷ توسط ذوالفقار علی بوتو تا زمانی که خلع شد و توسط یک جنایت قضایی در سال ۱۹۷۹ به دست ژنرال محمد ضیا الحق اعدام شد، از سرگرفته شد. ضیاء الحق سومین رئیس جمهور نظامی شد. سیاست‌های سکولار (غیر دینی) پاکستان با معرفی قوانین اسلامی شریعت توسط ضیاء از بین رفتند و این روند تأثیرات مذهبی و دینی بر جامعه شهریب، و همچنین نظامی را افزایش داد. با مرگ ژنرال ضیاء در حادثه سقوط هواپیما در سال ۱۳۶۷ (۱۹۸۸)، بی نظیر بوتو دختر ذوالفقار علی بوتو به عنوان اولین نخست‌وزیر زن پاکستانی انتخاب شد. در طول دهه بعد با خرابتر شدن اوضاع سیاسی و اقتصادی کشور، او قدرت را به نواز شریف واگذار کرد.

تنش‌های نظامی در جنگ کارگیل که پاکستان و هند در سال ۱۹۹۹ با آن مواجه بودند، با یک کودتای نظامی دنبال شد که در این کودتا ژنرال پرویز مشرف توانست قدرت اجرایی را به دست گیرد. در سال ۲۰۰۱ مشرف توانست با استعفای رفیق ترار، رئیس جمهور پاکستان شود. پس از انتخابات مجلس ۲۰۰۲، مشرف قدرت‌های اجرایی را به نخست وزیر تازه منتخب ظفرالله خان جمالی واگذار کرد که او نیز در انتخابات نخست وزیری ۲۰۰۴ پاکستان، جای خود را به شوکت عزیز داد. براساس اطلاعات منتشر شده توسط سازمان سیا و کتابخانه کنگره آمریکا و برآورد آنها در سال ۲۰۱۱، هم‌اکنون پاکستان از نظر توان نظامی در رده پانزدهم قدرت‌های نظامی جهان قرار دارد.

بر اساس اطلاعات عنوان شده از سوی سازمان اطلاعات مرکزی آمریکا (سیا) و کنگره آمریکا، پاکستان که جمعیت آن ۱۸۷ میلیون و ۳۴۲ هزار نفر است، هم‌اکنون دارای ۶۱۷ هزار پرسنل فعال نظامی است و تعداد نیروهای ذخیره فعال این کشور ۵۱۵ هزار نفر است.

نیروی زمینی پاکستان دارای ۲۶۴۰ دستگاه تانک، ۴۶۲۰ دستگاه نفربر، ۱۰۸۶ عراده توپ کششی، ۵۹۵ عراده توپ خودکششی، ۲۰۰ سامانه پدافند موشکی، ۳۲۰۰ خمپاره انداز، ۳۴۰۰ سامانه ضد تانک، ۲۵۰۰ سامانه پدافند هوایی و ۱۱۵۰۰ وسیله نقلیه لجستیکی است.

نیروی هوایی پاکستان نیز دارای ۱۴۱۴ فروند جنگنده و هواپیما، ۵۳۵ فروند هلیکوپتر و ۱۴۸ فرودگاه عملیاتی است. نیروی دریایی پاکستان نیز دارای یازده فروند کشتی، دو بندر، ۵ زیر دریایی، ۱۵ قایق نظامی گشت زنی، ۱۱ ناوچه، یک ناوشکن و یک قایق جنگی خشکی آبی است. نیروی دریایی پاکستان دارای ناو هواپیمابر نیست.

بودجه نظامی پاکستان در سال ۲۰۱۱، شش میلیارد و ۴۱۰ دلار بوده‌است. کشور پاکستان دارای مساحت ۷۹۶ هزار و ۹۵ کیلومتر مربع، ۱۰۴۶ کیلومتر خط ساحلی و ۶ هزار و ۷۷۴ کیلومتر مرز مشترک است.

تقسیمات کشوری

پاکستان از پنج ایالت، یک منطقهٔ خودمختار قبایلی، یک منطقه فدرال پایتخت(اسلام آباد) و دو منطقه مربوط به جامو و کشمیر تشکیل شده‌است.



نقشهٔ سیاسی پاکستان


منطقه زرد رنگ (شماره ۱) ایالت بلوچستان به مرکزیت کویته

منطقه بنفش رنگ (شماره ۲) ایالت خیبر پختونخوا به مرکزیت پیشاور (NWFP)

منطقه آبی زنگ (شماره ۳) ایالت پنجاب به مرکزیت لاهور

منطقه سرخ رنگ (شماره ۴) ایالت سند به مرکزیت بندر کراچی

منطقه سفید رنگ (شماره ۵) منطقه فدرال پایتخت (ناحیه پایتختی اسلام‌آباد) (IST)

منطقه سبز رنگ (شماره ۶) منطقه خودمختار قبایلی به مرکزیت میران شاه (FATA)

منطقه فیروزه‌ای رنگ (شماره ۷) منطقه کشمیر پاکستان (جامو و کشمیر آزاد) به مرکزیت مظفرآباد (AJK)

منطقه سیاه رنگ (شماره ۸) ایالت گلگت بلتستان به مرکزیت گلگت

ایالت بلوچستان و ایالت خیبر پختونخوا (سرحد شمال غربی)، خود نیز دارای مناطق خودمختار قبایلی هستند که آنها را (Provincially Administered Tribal Areas (PATA گویند.

جغرافیا و آب و هوا

پهناوری پاکستان معادل ۸۰۳، ۹۴۰ کیلومتر مربع است که حدوداً معادل مجموع پهناوری کشورهای فرانسه و انگلستان است. نواحی شرق آن بر روی فلات هند و نواحی غربی و شمالی بر روی فلات ایران و سرزمین اوراسیا قرار گرفته‌است. ۱۰۴۶ کیلومتر (۶۵۰ مایل) مرز آبی با دریای عرب از طرف شمال دارد و از سوی غرب با افغانستان ۵۲۳ کیلومتر (۳۲۵ مایل) و از طرف شمال شرق با چین ۲۹۱۲ کیلومتر (۱۸۰۹ مایل) از طرف شرق با هند و ۹۰۹ کیلومتر (۵۶۵ مایل) از طرف جنوب غرب با ایران مرز دارد.



دومین كوه بلند جهان، کی ۲


در این کشور انواع ویژگی‌های طبیعی از سواحل شنی مردابی و باتلاق‌های دارای حرا در ساحل جنوبی گرفته تا جنگل‌های معتدل و مرطوب حفاظت شده و قلمروهای یخی کوه‌های (هیمالیا) قراقوروم، هندوکش در شمال همگی به چشم می‌خورند. به طور تقریبی ۱۰۸ قله با بلندی بیش از ۷۰۰۰ متر (۲۳۰۰۰ فوت) وجود دارد که با برف و یخچال پوشیده شده‌اند. پنج کوه در پاکستان ازجمله کی۲ (در بلتستان) و نانگا پاربات بیش از ۸۰۰۰ متر (۲۶۰۰۰ فوت) ارتفاع دارند. در قسمتی از کشمیر که توسط هند اداره می‌شود تا نواحی شمالی پاکستان رودخانه سند در طول کشور جریان دارد. هر ساله قسمت‌های شمالی پاکستان شمار زیادی جهانگرد خارجی را به خود جلب می‌کنند. کوهنوردان از سراسر دنیا بلتستان در پاکستان را به عنوان مقصد نهایی خود می‌دانند. در غرب رود سند بیابان‌های خشک و تپه‌ای بلوچستان پاکستان وجود دارند؛ در قسمت شرق هم شن‌های روان داده‌های سرشماری نشان می‌دهند که ٪۹۶ جمعیت کشور مسلمان هستند که ٪۸۰ آن‌ها سنی و ٪۱۹ آن‌ها شیعه هستند. پاکستان پس از ایران دومین کشور دارای جمعیت شیعه در جهان است. بقیه جمعیت پاکستان را مسیحیت، هندوئیسم، یهودیها، سیکها، زرتشتی‌ها، احمدی‌ها و آنیمیست‌ها (که عمدتاً کالاش‌های چیترال هستند) تشکیل می‌دهند. تعداد کمی بودایی نیر در آمار پاکستان وجود دارند؛ البته این افراد در قسمت لداخ که توسط هند اداره می‌شود و پاکستان ادعای مالکیت آن را دارد زندگی می‌کنند. ساختار جمعیتی پاکستان در سال ۱۹۴۷ با ورود مسلمانان به پاکستان و هندوها و سیک‌ها به هندوستان به‌شدت تحت تأثیر قرار گرفت. از سال ۲۰۰۵ به بعد بیش از ۳ میلیون مهاجر (که تقریباً ٪۸۱ آنها را پشتونها تشکیل می‌دهند) به علت جنگ‌های جاری در افغانستان در پاکستان باقی مانده‌اند و براساس کمیسیون عالی مهاجران سازمان ملل، ٪۸۳ مهاجران هدف خود را اقامت دائم در پاکستان می‌دانند.بیابان تار وجود دارد. بیشتر نواحی پنجاب و قسمت‌هایی از سند دشت‌های حاصل‌خیزی هستند که کشاورزی در آنجا از اهمیت زیادی برخوردار است.

اب و هوا نیز به همین روال متفاوت است؛ زمستان‌های سرد و تابستان‌های گرم در شمال و آب و هوای معتدل درجنوب که متأثر از تأثیر اقیانوس هند است. نواحی مرکزی تابستان‌های بسیار گرم دارند و دمای آنها به بیش از ۴۵ درجه سانتی گراد (۱۱۳ درجه فارنهایت) می‌رسد و زمستان‌های سردی که دمای هوا کمتر از دمای انجماد می‌رسد. میزان بارش باران نیز کم است و از ۲۵۰ میلی متر و تا ۱۲۵۰ میلی متر که بیشتر با دمای موسم (مونسون) غیر قابل اطمینان جنوب غربی در اواخر تابستان همراه هستند در نوسان است. مسئله کمبود آب نیز توسط ساخت سدها بر روی رودخانه‌ها و استفاده از آب چاه‌ها در مناطق خشک‌تر تا حدی حل شده‌است.

مردم

پاکستان بر اساس آمار تخمینی ۱۳۸۷ (۲۰۰۸)، جمعیتی حدود ۱۷۲٬۸۰۰٬۰۰۰ تن دارد. پاکستان ششمین جمعیت بزرگ جهان را داراست که بیشتر از روسیه و کمتر از برزیل است. به علت نرخ رشد بالای جمعیت پاکستان انتظار می‌رود جمعیت آن در سال ۲۰۲۰ از جمعیت برزیل فراتر رود. نشان دادن جمعیت پاکستان نسبتاً مشکل است و این به علت تفاوت‌های آشکار در دقت هر سرشماری و عدم هماهنگی بین بررسی‌های گوناگون مربوط به نرخ رشد جمعیت است اما احتمالاً بتوان گفت نرخ رشد جمعیت در دهه ۱۹۸۰ به اوج خود رسید. جمعیت این کشور تاریخ ۱ ژوئیه ۲۰۰۵ حدود ۱۶۲، ۴۰۰، ۰۰۰ تن و نرخ رشد جمعیت نیز ۳۴ در هزار و نرخ مرگ و میر حدود ۱۰ در هزار و نرخ رشد طبیعی جمعیت حدود ٪۴/۲ تخمین زده شد. منابع غیر دولتی و بین‌المللی گزارش می‌دهند که جمعیت کنونی پاکستان حدود ۱۷۰ تا ۱۹۰ میلیون تخمین زده می‌شود.



گروه های قومی اصلی پاکستان؛ بلوچ(صورتی)، پشتون(سبز)، پنجابی(قهوه‌ای)، سندی(زرد)


زبان اردو زبان پاکستانی و زبان مشترک این کشور است، اما زبان انگلیسی زبان رسمی است که در قانون اساسی پاکستان و در تجارت و همچنین طبقه خاص و تحصیل کرده و شهری و بسیاری از دانشگاه‌ها به کار برده می‌شود. زبان پنجابی نیز زبان بیش از ۶۰ میلیون نفر است، اما رسمیتی از سوی کشور ندارد. پاکستانی‌ها از نژادها و گروه‌های قومی متعددی تشکیل یافته‌اند که بیشتر آنها از نوع مردم هندواروپایی هستند و به همین دلیل بسیار متفاوت از افراد بومی ساکن این بخش از شبه قاره هند هستند.

اکثریت پاکستانی‌ها به گروه قومی هندوآریایی تعلق دارند. در حالی که تعداد قابل توجهی از نژادهای ایرانی و تعداد کمتری از دراویدیان‌ها نیز به چشم می‌خوردند. این گروههای قومی عمده به گروههای قومی کوچکتری تقسیم می‌شوند. پنجابیها ۴۴٫۶۸٪، پشتونها ۱۵٫۴۲٪، سندیها ۱۴٫۱٪، سرائیکی‌ها ۸٫۳۸٪، مهاجر اردو ۷٫۵۷٪، بلوچها ۳٫۵۷٪ و سایرین ۶٫۲۸٪ جمعیت را تشکیل می‌دهند.

بيشتر جمعیت پاکستان مسلمان هستند (۷۷٪ سنی و ۱۹٪ شیعه). به علاوه ۱٫۸۵٪ هندو، ۱٫۶٪ مسیحی و ۰٫۰۴٪ سیک نیز در کشور می‌زیند.

سیاست

پاکستان عضو سازمان ملل متحد، سازمان کنفرانس اسلامی، سازمان همکاری منطقه‌ای جنوب آسیا (سارک)، و سازمان اکو می‌باشد. همچنین از دوران استقلال پاکستان و هند از بریتانیای کبیر، این کشور عضوی از اتحادیه کشورهای همسود (مشترک‌المنافع) بوده‌است. گرچه عضویت پاکستان در این اتحادیه سه بار لغو شده‌است؛ نخستین بار در سال ۱۳۵۱ (۱۹۷۲) پس از آنکه اتحادیه کشورهای همسود استقلال بنگلادش (پاکستان شرقی) را از پاکستان به رسمیت شناخت، دولت پاکستان به نشانهٔ اعتراض این اتحادیه را ترک کرد، که البته مجدداً در سال ۱۹۸۹ به اتحادیه بازگشت. عضویت پاکستان از سال ۱۹۹۹ تا ۲۰۰۴ به دلیل کودتای غیرقانونی ژنرال پرویز مشرف از طرف اتحادیه لغو شد. سومین بار در نوامبر ۲۰۰۷، عضویت پاکستان به دلیل اعلام وضعیت فوق‌العاده توسط پرویز مشرف از طرف اتحادیه لغو شده‌است.



یوسف رضا گیلانی، نخست وزیر کنونی پاکستان


مسلم لیگ، اولین دولت پاکستان را به رهبری محمد علی جناح و لیاقت علی خان تشکیل داد. رهبری سیاست پاکستان به دست مسلم لیگ با ظهور احزاب سیاسی دیگر و با ظهور حزب مردم پاکستان در غرب پاکستان و عوامی لیگ در شرق پاکستان که نهایتاً به ایجاد بنگلادش منجر شد، به میزان زیادی رو به افول گذاشت. اولین قانون اساسی پاکستان در سال ۱۳۳۵ (۱۹۵۶) اتخاذ شد، اما در سال ۱۹۵۸ توسط ایوب خان به حال تعلیق در آمد. قانون اساسی مصوب ۱۹۷۳ توسط ضیاءالحق در سال ۱۹۷۷ به تعلیق درآمد و دگربار در سال ۱۹۹۱ به تصویب رسید و این مهم‌ترین سندی است که پایه‌های دولت و حکومت را بنا می‌نهد. پاکستان یک جمهوری فدرال است و اسلام به عنوان دین رسمی کشور محسوب می‌شود. سیستم نیمه–رئیس جمهوری شامل قوه مقننه‌ای متشکل از دو مجلس است که خود شامل سنای پاکستان که شامل ۱۰۰ عضو است و مجمع ملی پاکستان که دارای ۳۴۲ عضو است، می‌شود.

رئیس جمهور پاکستان، رئیس دولت و همچنین فرمانده کل نیروهای مسلح است و توسط کالج الکترولال پاکستان انتخاب می‌شود. نخست وزیر معمولاً رهبر بزرگترین حزب در مجمع ملی است. هر ایالت، سیستم حکومتی مشابهی دارد و دارای یک مجمع اسالتی است که مستقیما انتخاب می‌شود؛ در مجمع ایالتی، رهبر بزرگترین حزب یا ائتلاف به عنوان وزیر انتخاب می‌شود. رؤسای ایالت نیز توسط مجامع ایالتی و به پیشنهاد وزراء انتخاب می‌شوند.

ارتش پاکستان نقش مؤثری را در سیاست‌های عمده کشور در طول تاریخ این کشور ایفا کرده است؛ رؤسای جمهور نظامی از ۱۹۵۸ و ۷۱، ۱۹۷۷ و ۸۸ و از ۱۹۹۹ تا به امروز رهبری کشور را به عهده داشتند. حزب چپ گرای مردم پاکستان (PPP) که توسط ذوالفقار علی بوتو رهبری می‌شد، به عنوان یک بازیگر سیاسی مهم در دهه ۱۹۷۰ ظهور کرد. تحت رهبری نظامی محمد ضیاءالحق پاکستان سیاست خود را از سیاست سکولار بریتانیایی جدا کرد و به سوی شریعت و دیگر قوانین اسلام پایه تغییر موضع داد. در طول دهه ۱۹۸۰ جنبش متحد قومی (MQM) که ضد فئودالی و طرفدار مهاجر اردو |مهاجر بود توسط ساکنان شهری تحصیل کرده و غیرسنتی ایالت سند و به‌ویژه کراچی آغاز به کار کرد. سالهای دهه ۱۹۹۰ شاهد سیاست‌های ائتلافی که توسط حزب مردم و مسلم لیگ احیا شده رهبری می‌شد بود.

در انتخابات عمومی اکتبر ۲۰۰۲، مسلم لیگ پاکستان (PML –Q) تعداد زیادی از کرسی‌های مجلس ملی را با قرار گرفتن در رده دوم از میان دیگر گروهها از آن خود کرد و به عنوان حزب مجلس ملت پاکستان که شاخه‌ای از حزب PPP بود شناخته شد. ظفراللّه خان جمالی از PML –Q به عنوان نخست وزیر شناخته شد، اما درتاریخ ۲۶ ژوئن ۲۰۰۴ استعفا داد و رهبر PML –Q چادهری مبثوجات (شجاعت) حسین به عنوان نخست وزیر موقت جایگزین او شد. در ۲۸ اوت ۲۰۰۴ مجمع ملی به وزیر اقتصاد پاکستان و قائم مقام پیشین سیتی بانک، شوکت عزیز رای داد و او را به عنوان نخست وزیر انتخاب کرد. مجلس متحده عمل که ائتلاف احزاب مذهبی اسلامی بود درانتخابات ایالت مرزی شمال غرب پیروز شد و حضور خود را در مجمع ملی پاکستان افزایش داد.

پاکستان عضو فعالی از سازمان ملل و سازمان کنفرانس اسلامی است و OIC را به عنوان محلی برای گروه اعتدال روشنفکران به کار برده است؛ که برنامه‌ای برای ایجاد یک رنسانس و عنصر روشنگری در دنیای اسلام است. پاکستان همچنین یکی از اعضا سازمانهای مهم منطقه‌ای سازمانهای همکاری‌های منطقه‌ای جنوب آسیا (سارک) و سازمان همکاری‌های اقتصادی (اکو) است. پاکستان در گذشته روابط گوناگونی را با آمریکا به خصوص در اوایل دهه ۱۹۵۰ هنگامی که پاکستان مهم‌ترین متحد آسیایی بود رقم زده‌است.

پاکستان همچنین عضو سازمان پیمان مرکزی (سنتو) و سازمان پیمان جنوب شرقی آسیا (SEATO) بود. در طول جنگ شوروی–افغانستان در دهه ۱۹۸۰ پاکستان یکی از متحدان اصلی آمریکا بود. اما روابط آنها هنگامی که آمریکا به‌خاطر سوءظن‌هایی نسبت به استفاده پاکستان از فعالیت‌های هسته‌ای تحریم‌هایی را بر او اعمال کرد، روبه سردی گذاشت. پس از حملات ۱۱ سپتامبر وجنگ بر سر تروریسم روابط آمریکا و پاکستان به‌ویژه پس از اینکه پاکستان حمایت خود را از رژیم طالبان در کابل ظاهراً متوقف نمود، بهبود یافته‌است. در ژانویه ۲۰۰۴، مؤسس برنامه هسته‌ای پاکستان عبدالقدیر خان به موضوع گسترش نیروی هسته‌ای به لیبی، ایران و کره شمالی اعتراف کرد. در ۵ فوریه ۲۰۰۴ پرزیدنت پرویز مشرف اعلام کرد که او عبدالقدیر خان را بخشوده‌است.

پاکستان مدتهای زیادی روابط ناآرامی را با همسایه اش هند داشته‌است. اختلاف بلندمدت بر سر کشمیر به جنگهای تمام عیاری در جنگ هند – پاکستان در ۱۹۴۷ و جنگ هند و پاکستان در ۱۹۶۵ انجامید. جنگ داخلی در ۱۹۷۱ به جنگ آزادی خواهانه بنگلادش که خودجوش بود و جنگ ۱۹۷۱ هند– پاکستان تبدیل شد. پاکستان برای نشان دادن برابری خود با آزمایش‌های هسته‌ای Pokhran-II هند در سال ۱۹۹۸ آزمایش‌های سلاحهای هسته‌ای را انجام داد و تنها کشور مسلمان دارای سلاح‌های هسته‌ای به طور رسمی گردید. روابط این کشور با هند پس از آغاز مذاکرات صلح در ۲۰۰۲ رو به بهبودی است. پاکستان روابط نزدیک اقتصادی نظامی و سیاسی را با جمهوری خلق چین دارا می‌باشد.

پاکستان همچنین در نواحی قبیله‌ای که به صورت فدرال اداره می‌شوند و رهبران قبیله‌ای از طالبان حمایت می‌کنند با بی ثباتی‌هایی روبه‌رو است. پاکستان برای سرکوبی ناآرامی‌های محلی مجبور به استقرار نیروهای ارتش خود در این نواحی شده‌است. این در حالی است که آتش بس اعلام شده بین رهبران قبیله‌ای و دولت پاکستان ثبات لازم را به منطقه باز نگردانده‌است.

اضافه بر این، پاکستان مدت زیادی است که در بزرگترین ایالت خود، بلوچستان (پاکستان) دچار بی ثباتی است. ارتش برای جنگ با شورش جدی در این استان از سال ۱۹۷۳ تا سال ۱۹۷۶ مستقر شد. ثبات اجتماعی پس از اینکه رحیم الدین خان به عنوان مجری حکومت نظامی که آغاز آن در سال ۱۹۷۷ بود منصوب شد. در پاکستان ازسرگرفته شد. پس از صلح و آرامش نسبی در طول دهه‌های ۱۹۸۰ و ۱۹۹۰ برخی از رهبران قبیله‌ای بانفوذ بلوچ بازهم یک جنبش جدایی طلبانه را پس از اینکه پرویز مشرف در ۱۹۹۹ به قدرت رسید آغاز کردند.

اقتصاد

پاکستان کشوری در حال توسعه‌است که در جبهه‌های سیاسی و اقتصادی با چالش‌هایی روبه‌رو بوده‌است. با وجود اینکه در سال ۱۹۴۷ این کشور بسیار فقیر بود نرخ رشد اقتصادی پاکستان در طول ۴ دهه بعد از آن بهتر از میانگین جهانی بوده‌است. اما سیاست‌های ناآگاهانه به پایین آمدن این نرخ در دهه ۱۹۹۰ منجر شد.

اخیراً تغییرات گسترده اقتصادی به اقتصادی قدرتمندتر منجر شده‌اند و به نرخ رشد به‌ویژه در زمینه‌های ساخت و تولید و بخش‌های خدمات مالی (اقتصادی) سرعت بخشیده‌اند. پیشرفت‌های بزرگی نیز در موقعیت ارز خارجی و رشد سریع در منابع ارز ثابت در سالهای اخیر شاهد بوده‌ایم. تخمین بدهی خارجی در سال ۲۰۰۵ در حدود ۴۰ میلیارد دلار آمریکا بود. با این حال این بدهی با کمک‌های صندوق بین‌المللی پول و بخشودگی بدهی از طرف ایالات متحده آمریکا کاهش یافته‌است. تولید ناخالص داخلی در سال ۲۰۰۵ حدود ۶/۴۰۴ میلیارد دلار برآورد شد و تولید سرانه ناخالص ملی آن ۲۴۰۰ دلار آمریکا بود.

نرخ‌های رشد تولید ناخالص ملی پاکستان در ۵ سال اخیر شاهد یک افزایش ثابت بوده‌اند. در سال ۲۰۰۱ نرخ رشد تولید ناخالص داخلی کشور ٪۸/۱ بود ولی در سال مالی که ۳۰ ژوئن ۲۰۰۵ پایان یافت، نرخ رشد تولید ناخالص داخلی اسمی به حدود ٪۴/۸ رسید. این نرخ رشد پاکستان را پس از چین دارنده دومین نرخ رشد اقتصادی در میان پرچمعیت‌ترین کشورهای جهان قرار داد. با این حال فشارهای تورمی و میزان ذخیره کمتر از مقدار لازم و همچنین عوامل اقتصادی دخیل دیگر امر نگه داشتن نرخ رشد به این میزان را مشکل می‌سازد.

رشد بخشهای غیرکشاورزی ساختار اقتصاد را تغییر داده‌است و اکنون اقتصاد تنها ٪۲۰ تولید ناخالص داخلی را تشکیل می‌دهد. بخش خدماتی حدود ٪۵۳ تولید ناخالص داخلی کشور که تجارت عمده و خرد کشور حدود ۳۰٪ این بخش را تشکیل می‌دهد. اخیراً بازار بورس کراچی همراه با دیگر بازارهای در حال ایجاد دنیا اوج گرفته‌است. مقادیر هنگفتی از سرمایه گذاری‌های خارجی در صنایع متعددی به کار گرفته شده‌اند. با این حال سرانه بازار بورس همچنان مخابرات، نرم‌افزار، خودرو، نساجی، سیمان، کود، فولاد و ساخت کشتی هستند.

صنعت مهم دیگری که در گذشته از دسترسی خارجی محروم مانده‌است، هوافضا است. تیپ‌های مختلف توپخانه در ارتش از پیش به گسترده شدن میزان مهمات نظامی پاکستان کمک کرده‌اند. خبرهایی از احتمال مشارکت عمومی یا خصوصی در برنامه‌های آینده موشکی به گوش می‌خورد که می‌تواند با برنامه فضایی پاکستان همراه شود؛ زیرا توانایی‌های کنونی این کشور شامل موشک‌های بالستیک میان برد و تحقیقاتی بر روی موشکهای بالستیک قاره‌پیما می‌شوند. رویکرد ساختاری برای استفاده از این توانایی‌های هوافضایی ممکن است باعث رونق سریعتر اقتصادی پاکستان شود زیرا صنعت هوانوردی پیش تر هم شاهد رشد چشمگیری در سالهای گذشته بوده‌است که با حضور شرکت‌های هواپیمایی متعددی همراه بوده‌است.

جانوران و گیاهان

گونه‌های مختلف مناظر و آب و هوا در پاکستان به این ناحیه اجازه می‌دهد تا از گونه‌های مختلف حیوانات و پرندگان وحشی برخوردار باشد. در جنگلها درخت‌های سوزنی‌شکل آلپی و شبه آلپی از قبیل کاج فرنگی و کاج و سدر دیودار در کوههای شمالی و درختان پهن‌برگ مانند جگ و توت– شکل در رشته‌کوه‌های سلیمان در جنوب وجود دارند. تپه‌های غربی دارای سرو کوهی و تمرسیک و علفهای خشن و گیاهان خاردار هستند. در طول ساحل جنگل‌های پوشیده از منگرو که بیشتر زمین‌های مرطوب ساحلی را تشکیل می‌دهند به چشم می‌خورد.

در جنوب در آبهای تیره در دهانه رودخانه سند تمساح نیز وجود دارند. در حالی که در سواحل رودخانه گراز، آهو، خارپشت و جوندگان کوچک به چشم می‌خورند، در زمین‌های شنی پوشیده از خار مرکز پاکستان شغال، کفتار، گربه وحشی، پلنگ و در آسمان‌های آبی شاهین، قوش (قرقی)، باز و عقاب دیده می‌شوند. در بیابان‌های جنوب غربی چیتای کمیاب آسیایی نیز وجود دارد.

در کوه‌های شمالی گونه‌هایی از حیوانات در حال خطر از قبیل قوچ و میش مارکوپولو، قوچ و میش اوریال، مارخور، بز کوهی، خرس سیاه آسیایی، خرس قهوه‌ای هیمالیایی و پلنگ برفی وجود دارند. در اوت ۲۰۰۶ پاکستان یک بچه پلنگ برفی یتیم کمیاب را که لئو نام داشت به آمریکا هدیه کرد. گونه کمیاب دیگری دلفین رودخانه سند است که تصور می‌شود ۱۰۰۰ عدد دیگر از آن باقی باشد که در ۲ منطقه حفاظت شده نگهداری می‌شوند. در سال‌های اخیر شمار حیوانات وحشی که برای بازرگانی خز و چرم کشته می‌شدند به ایجاد قانون منع شکار حیوانات و پرندگان وحشی در مناطق حفاظت شده حیات وحش منجر شد.



مارخور، حیوان ملی پاکستان

فرهنگ و تمدن

پاکستان دارای فرهنگ منحصر به فرد و غنی است که سنت‌های خود را در طول تاریخ حفظ کرده‌است. واقعیت پیش از ورود اسلام بسیاری از پنجابیها و سندیها، هندو و بودایی بودند؛ اما این روند در طول دوره توسعه اسلام، توسط حاکمان اموی، محمد بن قاسم، سلطان محمود غزنوی و دیگران تغییر یافت. بسیاری از فعالیت‌ها، غذاها بقایای تاریخی و مکان‌های مقدس از حکومت موغل مسلمان و فرمانروایان افغان‌ها برجای مانده که شامل لباس ملی شلوار کمیز (تمیز) می‌شود. زنان نیز شلوار قمیز با رنگ‌های شاد می‌پوشند.



مسجد شاه فیصل در اسلام آباد که از بزرگترین مسجدهای جهان است.


در حالی که مردان شلوارهایی با رنگ‌های تیره تر می‌پوشند و معمولاً شیروانی یا اچکان (نوعی کت بلند) که برروی لباس‌ها می‌آید برتن می‌کنند. انواع موسیقی پاکستانی متنوع است؛ موسیقی محلی و گونه‌های سنتی مانند قوالی و غزل گایاکی و گونه‌های جدید که موسیقی سنتی و غربی را در هم می‌آمیزند مانند اجرای همزمان قوالی و موسیقی غربی که توسط نصرت فاتح علی خان مشهور انجام می‌شود. دیگر خوانندگان عمده غزل، مهدی حسن، غلام علی و فریده خانم طاهره، سید عبید پروین و اقبال بانو هستند.

ورود مهاجران افغان در استان‌های غربی، موسیقی پشتو و فارسی را مجدداً زنده کرده‌است و پیشاور را به عنوان محلی برای موسیقی دانای افغان و محلی برای گسترش موسیقی افغان به خارج از کشور مبدل ساخته‌است. تا دهه ۱۹۹۰ شرکت تلویزیون پاکستان که توسط دولت اداره می‌شد (PTV) و شرکت خبرگزاری پاکستان رسانه‌های عمده کشور بودند. اما اکنون کانال‌های تلویزیونی شخصی متعددی از قبیل Geo TV، تلویزیون ایندوس، Hum TV و گروه ARY نیز وجود دارند. کانال‌ها و فیلم‌های متعدد آمریکایی، اروپایی و آسیایی نیز برای اکثریت جمعیت پاکستان از طریق Cask TV و ماهواره قابل دسترسی هستند. همچنین صنایع فیلم‌سازی بومی کوچکی نیز در لاهور و پیشاور (که اغلب با نام لالی وود و پولی وود آنها را می‌شناسند) وجود دارند. با وجود اینکه فیلم‌های بالیوود امروزه ممنوع هستند ستاره‌های سینمای هند در پاکستان بسیار محبوب هستند.



آرامگاه اقبال لاهوری


جامعه پاکستان عمدتاً چند زبانه و مسلمان است، و اغلب آنها احترام خاصی را به ارزشهای خانوادگی سنتی دارند. با وجود اینکه خانواده‌های شهری به سیستم خانواده هسته‌ای تغییر یافته‌اند و این به دلیل محدودیت‌های اجتماعی–اقتصادی است که توسط سیستم سنتی خانواده مشترک بر آن تحمیل می‌شود. دهه‌های اخیر حضور طبقه متوسط را در شهرهایی نظیر کراچی، لاهور، راولپندی، حیدرآباد پاکستان، فیصل آباد، سوکور و پیشاور شاهد بوده‌است که خواهان حرکت در سوی یک جهت آزادی خواهانه تر هستند و این در مقابل نواحی قبیله‌ای شمال غربی است که با افغانستان هم مرز هستند و سنتهای دیرینه و روش محافظه کارانه را پیش می‌گیرند. افزایش فرایند جهانی شدن تأثیر فرهنگ غربی را افزایش داده و اکنون پاکستان رتبه ۴۶ را در ایندکس جهانی شدن دارا است. در حدود ۴ میلیون پاکستانی در خارج از کشور زندگی می‌کنند و حدود نیم میلیون نفر مقیم خارج نیز در ایالات متحده آمریکا زندگی می‌کنند.



باغ شالیمار لاهور


گردشگری یک صنعت در حال رشد در پاکستان است و بر فرهنگ‌ها و ملل و مناظر متنوع آن استوار است. یازمانده‌های تمدن باستانی از قبیل موهنجودارو و هاراپا و تاکسیلا تا بخش‌های تپه‌ای هیمالیا همه جهانگردانی را به خود جذب می‌کنند. پاکستان چندین رشته کوه با ارتفاع بیش از ۷۰۰۰ متر دارد که ماجراجویان و کوهنوردانی را از سراسر دنیا به خود جذب می‌کند، به‌ویژه کی۲.



دانشگاه پنجاب


قسمتهای شمالی پاکستان دژها و برج‌ها و دیگر آثار معماری کهن و همچنین دره هونزا و دره‌های چیترال را دارا است. دره‌های چیترال محل جامعه کوچک پیش از اسلام آنیمیست کلشه است که از تباری هندوایرانی هستند. شهر لاهور دارای نمونه‌های بسیاری از معماری مغول مانند مسجد بدشاهی، باغهای شالیمار (لاهور)، مقبره جهانگیر و دژ لاهور است.

روزهای تعطیل

روزهای تعطیل و جشنوارههای بسیاری سالانه در پاکستان جشن گرفته می‌شوند. در حالی که پاکستان یک ملت مسلمان است روزهای تعطیل غیر مذهبی نیز در پاکستان وجود دارد که عبارتند از: روز پاکستان (۲۳ مارس)، روز استقلال (۱۴ اوت)، روز دفاع پاکستان ۶ سپتامبر، روز نیروی هوایی پاکستان ۷ دسامبر سالگرد تولد (۵ دسامبر)، و مرگ (۱۱ سپتامبر) محمد علی جناح، علامه اقبال لاهوری (۹ نوامبر) و تولد (۳۰ ژوئیه) و فوت (۸ ژوئیه) فاطمه جناح (مادر ملت) و همچنین سند کارگر (که به نام سندمی هم شناخته می‌شود) در روز ۱ می.

چند جشنواره مهم توسط مسلمان‌های پاکستانی در طول سال گرامی داشته می‌شوند که وابسته به تقویم اسلامی است. در رمضان که نهمین ماه تقویم است ۲۹ یا ۳۰روز را روزه می‌گیرند و سپس جشن عید فطر است. در یک جشن دیگر عید قربان را به یاد قربانی حضرت ابراهیم انجام قربانی می‌کنند و گوشت آنرا بین دوستان و خانواده و فقرا تقسیم می‌کنند. هر دو عید از تعطیلات عمومی هستند و مردم می‌توانند در این دو روز از خانواده و دوستان دیدن کنند و بچه‌ها لباس نو هدیه و شیرینی می‌گیرند. بعضی از مسلمانان تولد محمد، پیامبر اسلام را در سومین ماه تقویم ربیع‌الاول جشن می‌گیرند. مسلمان‌های شیعه روز عاشورا را در روزهای نهم و دهم اولین ماه تقویم (ماه محرم) گرامی می‌دارند.

هندوها، بوداییها، سیکها و مسیحیان پاکستان نیز جشن‌های خودشان را برگزار می‌کنند. سیک‌ها از سراسر جهان می‌آیند تا مکان‌های مقدسی را در پنجاب، مانند آرامگاه گورو ننک مؤسس سیکسیم در حسن عبدلی واقع در ناحیه اتوک و زادگاه او نانکانا صاحب را دیدن کنند. جشنواره‌های محلی و منطقه‌ای نیز مانند جشنواره بسنت در پنجاب که آغاز بهار را نشان می‌دهد و با هوا کردن بادبادک‌ها همراه است، نیز جشن گرفته می‌شوند.

ورزش

ورزش رسمی و ملی پاکستان هاکی روی چمن است، با وجود اینکه اسکواش و کریکت نیز بسیار محبوب هستند. تیم ملی کریکت پاکستان یکبار جام جهانی را در مسابقات جهانی کریکت ۱۹۹۲ از آن خود کرد. یکبار هم در جام جهانی کریکت ۱۹۹۹ نایب قهرمان شد و دوبار میزبان بازی‌های جام جهانی کریکت ۱۹۸۷ و جام جهانی کریکت ۱۹۹۶ شده‌اند. این تیم همچنین جام استرالیا را در سالهای ۱۹۸۶ و ۱۹۹۰ و ۱۹۹۴ از آن خود کرده‌است.



کریکت، محبوب‌ترین ورزش در پاکستان است.


حقوق بشر

اساس آمار سازمان ملل متحد در سال ۲۰۰۵ میلادی، بین ۱،۲ میلیون تا ۱،۵ میلیون کودک در خیابان‌های پاکستان زندگی می‌کنند. در پاکستان اقلیت‌های دینی و مذهبی در موارد زیادی مورد حملات انتقام‌جویانه قرار می‌گیرند. در بسیاری از موارد گروه‌های تندروی سُنی، غالبا پیروان مذهب شیعه را به ویژه در کویته، مرکز ایالت بلوچستان هدف قرار می‌دهند . در پاکستان هم‌چنین پیروان فرقه احمدیه که اواخر سده ۱۹ میلادی در آن کشور بنیان نهاده شد ، مورد اذیت و آزار گاه و بی‌گاه قرار دارند.

شهرها

کراچی

کراچی( آوا راهنما·اطلاعات) بزرگ‌ترین شهر جمهوری اسلامی پاکستان و مرکز استان سند این کشور است. این شهر در ناحیه جنوب شرقی پاکستان بر کرانه دریای عرب واقع شده و در شمال غربی دلتای سند قرار گرفته‌است. طبق آمار منتشره از سازمان ملل متحد، جمعیت کراچی در سال ۲۰۰۵ میلادی ۱۱٬۸۱۹٬۰۰۰ نفر بوده‌است که از این لحاظ پرجمعیت‌ترین شهر پاکستان و سیزدهمین شهر پرجمعیت جهان محسوب می‌گردد.

لقب این شهر «شهر قائد» است که منظور از قائد، محمدعلی جناح بنیانگذار پاکستان است. کراچی مرکز مالی و بازرگانی و بزرگ‌ترین بندر پاکستان است.

جمعیت

جمعیت شهر کراچی مانند بسیاری از شهرهای دیگر پاکستان در ابتدا کم بود و پس از این که به پایتختی پاکستان برگزیده شد، جمعیتش چند برابر شد. همان طور که در جدول پایین می‌بینید، جمعیت این شهر از حدود ۵۷ هزار نفر در سال ۱۸۵۶ میلادی به حدود ۱۲٫۵ میلیون نفر در سال ۲۰۰۸ رسیده‌است. یعنی در طی ۱۵۲ سال بیش از ۱۲ میلیون نفر به جمعیت این شهر (عمدتا به دلیل مهاجرت) افزوده شده‌است. نتیجه این مهاجرت‌های بی‌رویه چیزی جز آوارگی میلیون‌ها تن از مردم شهر به دلیل نداشتن مسکن در خیابان‌ها و کوچه‌ها نیست.

جغرافیا

کراچی شهری در جنوب استان سند است که در سواحل جنوبی این استان و در ساحل دریای عرب واقع شده‌است. مساحت این شهر ۳٬۵۲۷ کیلومتر مربع می‌باشد که شامل قسمت بزرگی از جلگه و اطراف جلگه‌است و با تپه‌هایی در شمال و غربش، شهرنشینی پراکنده را به وجود آورده‌است. دو رود وجود دارد که در همهٔ فصل‌های سال جاری هستند و از ابتدا تا انتها شهر را می‌پیمایند. یکی رودخانه مالیر است که از شرق به سوی جنوب و مرکز شهر کراچی و دیگری رودخانه لیاری است که از شمال تا جنوب و غرب شهر جریان دارد. بندر کراچی با داشتن ماسه سنگ‌های ساحلی در جنوب غرب شهر از بسیاری از طوفان‌ها و سیلاب‌ها در امان است. جزیره‌ای با نام مانورا در حومه کراچی وجود دارد که صدف خوراکی و تخته سنگ‌های فراوان دارد.

آب و هوا

قرار گرفتن کراچی در ساحل، این شهر را به داشتن یک نسبت معتدل آب و هوا با پستی سطوح تبدیل کرده‌است و میانگین بارش در این شهر در سال به نزدیکی 4/25 سانتی متر می‌رسد. اکثر اوقات به دلیل وزیدن باد موسمی در ماه‌های ژوئیه و اوت هوا معتدل می‌شود. در این شهر زمستان‌ها، معتدل و تابستان‌ها، گرم هستند. هرچند به دلیل قرار گرفتن در مجاورت دریا، رطوبت هوا، آب و هوا را یکسان نگه می‌دارد و هوای معتدل را به سوی یک منطقه نزدیک، مرتفع و خنک در دریا می‌برد. بادهای شمالی گرمای هوا در ماه‌های تابستان را تغییر می‌دهند. دمای هوا از 30 درجه در آوریل به 44 درجه در اوت می‌رسد. ماه‌های زمستان(نوامبر تا فوریه) معمولاً بهترین زمان برای دیدن از کراچی هستند. ماه‌های ژوئیه، دسامبر و ژانویه آب و هوای خوش دارند و هوا در هنگامی که جمعیت زیاد می‌شود، ابری می‌گردد. گروه‌هایی در اطراف صندوق‌های صدقه حلقه می‌زنند تا بار دیگر به این مکان زیبا بیایند. گردشگران و مهاجران از کراچی در این ماه‌ها دیدن می‌کنند.

لاهور

لاهور( آوا راهنما·اطلاعات) یکی از شهرهای جمهوری اسلامی پاکستان و مرکز ایالت پنجاب این کشور است. این شهر پس از کراچی دومین شهر بزرگ پاکستان محسوب می‌شود.



نمايي از شهر سيل خيز لاهور


شهر لاهور در لیست بزرگ‌ترین شهرهای پاکستان قرار دارد و در افکار مردم به عنوان قلب پاکستان مطرح می‌گردد. حق با مردم است و ریشهٔ تاریخ خلقت در پاکستان به همین شهر باز می‌گردد و نیز محیطی فرهنگی دارد. کارشناسان ثروت و آموزش و پرورش در میان شهرهای پاکستان بیشتر این شهر را انتخاب می نمایند و در این شهر مسکن می‌گزینند؛ چرا که هم برای در آوردن پول محیطی بازرگانی و هم برای آموزش محیطی فرهنگی دارد. شهر لاهور بیشتر اوقات باغ شهر خوانده می‌شود و نیز میراث امپراتوری مغولی هند در این شهر بر جای مانده است. این شهر مکانی در نزدیکی رودخانه‌های راوی و وگاه است و به همین دلیل باغات سرسبز و زیبای فراوانی دارد. شهر لاهور به دلیل قرار گرفتن در مرز جمهوری اسلامی پاکستان با هند از اهمیت ویژه‌ای برخوردار است.

جغرافیا

شهر لاهور در ۳۱°۴۵′ شمال عرض جغرافیایی و ۷۴°۳۹′ شرق طول جغرافیایی قرار گرفته است.

این شهر از سمت شمال و غرب به ناحیه شیخ اوپورا، از سمت جنوب به ناحیه کاسور و از سمت شرق به رودخانه وگاه محدود شده است.

رودخانه راوی که در شمال لاهور جریان دارد، سنگ‌های رسوبی فراوانی را به وجود آورده است و در این منطقه منظره‌ای بسیار زیبا حاکم شده است. گرداگرد شهر لاهور ۴۰۴ کیلومتر مربع می‌باشد.

آب و هوا

آب و هوای لاهور در طی ماه‌های مه، ژوئن و ژوئیه خیلی گرم است. وقتی که درجه گرما در این شهر زیاد می‌شود، به ۴۰ تا ۴۵ درجهٔ سانتی گراد می‌رسد.

در اوت باد موسمی بر لاهور می‌وزد. بارش سنگین باران کل شهر و حتی استان را در این ماه فرا می‌گیرد. دسامبر، ژانویه و فوریه سردترین ماه‌های لاهور هستند.

فیصل‌آباد

فیصل‌آباد یکی از شهرهای استان پنجاب در کشور پاکستان است. این شهر در گذشته لیال‌پور نامیده می‌شد. فیصل آباد با جمعیت حدود ۲٫۶ میلیون نفر (بر اساس سرشماری سال ۲۰۰۶) سومین شهر بزرگ پاکستان است.



برج ساعت در فیصل‌آباد


این شهر به‌عنوان یک مرکز مهم صنعتی در باختر لاهور در استان پنجاب به شمار می‌آید.

راولپندی

شهر راولپندی ( آوا راهنما·اطلاعات) در فلات پوتوار، در نزدیکی پایتخت جمهوری اسلامی پاکستان (اسلام‌آباد) و در ۲۷۵ کیلومتری شمال غرب لاهور قرار گرفته و یکی از شهرهای استان پنجاب است.

این شهر، مهم‌ترین شهر نظامی پاکستان محسوب می‌شود و پس از سال ۱۹۶۰ که اسلام‌آباد بنا گردید، به همین منظور انتخاب گردید. شهر راولپندی یکی از مهم‌ترین شهرهای صنعتی پاکستان می‌باشد و تعداد زیادی از شهرک‌ها و کارخانجات صنعتی را در خود جای داده است. فرودگاه بین‌المللی اسلام‌آباد، در واقع در داخل این شهر واقع شده است و این امر، راولپندی را به یک شهر مهم تبدیل کرده است. این شهر یکی از مراکز مهم تجاری در کل کشور است. جمعیت شهر راولپندی نزدیک به۳٬۰۳۹٬۵۵۰ نفر برآورد شده است که پس از شهرهای کراچی، لاهور و فیصل‌آباد چهارمین شهر پرجمعیت پاکستان است.

مولتان

مولتان (در اردو: ملتان) یکی از شهرهای استان پنجاب در کشور پاکستان و مرکز ناحیه مولتان است. این شهر در بخش جنوبی استان جای دارد.



نماي یکی از خیابان‌های مولتان


این شهر با جمعیت ۱٬۴۲۳٬۹۱۹ نفر (برآورد سال ۲۰۰۷) ششمین شهر بزرگ پاکستان به شمار می‌آید. جمعیت ناحیه مولتان در سال ۱۹۹۸ بالغ بر ۳٫۸ میلیون نفر بوده است.

مولتان به عنوان شهر صوفیان بزرگ و زیارتگاه‌ها شناخته می‌شود.

حیدرآباد (پاکستان)

حیدرآباد یکی از شهرهای استان سند در کشور پاکستان است. این شهر در گذشته به نام «نرون کوت» شناخته می‌شد.



آرامگاه میر در حیدرآباد


حیدرآباد در گذشته مرکز استان سند بود و لقب «شهر عطرها» را داشت. هم‌اکنون مرکز ناحیه حیدرآباد است. این شهر پیش از تشکیل کشور پاکستان «پاریس هند» نامیده می‌شد، چرا که خیابان‌های آن هر روز با عطر شستشو داده می‌شد.

این شهر با جمعیت ۱٬۴۲۳٬۹۱۹ نفر (در سال ۲۰۰۷) دومین شهر بزرگ استان سند و هشتمین شهر بزرگ پاکستان است. جمعیت این شهر در سال ۲۰۰۰، بالغ بر ۱٬۳۴۸٬۲۸۸ بود.

گوجرانواله

گوجرانواله (در اردو: گوجرانوالہ) یکی از شهرهای استان پنجاب در کشور پاکستان و مرکز ناحیه گجران واله است. این شهر با جمعیت بیش از ۱٬۱ میلیون نفر پنجمین شهر بزرگ پاکستان است.

نام پیشین این محل «خانپور شانسی» بوده که پس از قدرت گرفتن قوم گُجَر در این ناحیه این شهر به گوجرانواله معروف شده‌است.

پیشاور

پیشاوُر (در زبان پشتو: پښور، در اردو: پشاور) پایتخت استان مرزی شمال غربی کشور پاکستان است.

شهر پیشاور در کناره گردنه معروف خیبر قرار دارد و مرکز بازرگانی، سیاسی و فرهنگی مناطق مرزی و پشتون‌نشین پاکستان بشمار می‌آید.در کتیبه کعبه زرتشت شاپور یکم این شهر را جز قلمرو ایران می خواند.



نمای درونی مسجد محبت‌خان در پيشاور


شهر پیشاور با قدمتی طولانی و باستانی، حدود ۲۰ کیلومتر طول و ۱۰ کیلومتر عرض از جمله شهرهای مهم پاکستان می‌باشد. فاصله این شهر تا پایتخت ۱۷۰ کیلومتر می‌باشد. پیشاور به شهر گل‌ها نیز معروف است و در هر چهار فصل سرسبز و دارای گل‌های متنوع است. این شهر دردهانه ورودی دره خیبر که شاهراه قدیمی ارتباط آسیای میانه به شبه قاره هند است واقع شده‌است.

شهر پیشاور از دو بخش قدیمی و امروزی تشکیل شده‌است. بخش قدیمی آن که دارای ۲۰ دروازه و به سبک شهرهای پرجمعیت آسیای میانه ساخته شده خانه‌هایی از خشت با کوچه‌های تنگ و پرپیچ و خم دارد. بخش نوساز شهر که در واقع یک منطقهٔ نظامی است، دارای خانه‌هایی بزرگ و خیابان‌هایی منظم و پردرخت است و تأسیساتی متعلق به نیروی هوایی ارتش پاکستان در آن قرار دارد.

جمعیت پیشاور از دو گروه عمدهٔ قومی پشتوها ــ که‌اکثریت جمعیت شهر را تشکیل می‌دهند ــ و پیشاوریها ــ که از مردمان بومی این منطقه هستند ــ تشکیل شده‌است. افزون بر این دو گروه قومی، اقوام تاجیک، هزاره و همچنین کولی‌ها نیز در این شهر به سر می‌برند. بیشتر مردم این شهر به زبان پشتو سخن می‌گویند؛ در عین حال، زبان‌های فارسی، هندکو، پنجابی و اردو نیز در پیشاور گویشورانی دارد.

فاصلهٔ پیشاور تا گذرگاه مرزی تورخم چهل و پنج کیلومتر و از شهرک مرزی تورخم تا کابل، دوصد و بیست و چهار کیلومتر است. روزانه صدها افغان و ده‌ها کارگر پاکستانی در بزرگراه پیشاور- کابل، رفت و آمد می‌کنند.

پیشینه

نام پیشاور از زبان‌های ایرانی است و به قولی از نام شاپور یکم پادشاه ساسانی که بر این شهر دست یازید و امپراتوری کوشان را پیوست امپراتوری ساسانی کرد اقتباس شده باشداین نام در گویش شمال شرقی پشتو به گونه پَیخاوَر تلفظ می‌شود. در آغاز بنیادش در دوره کوشانی‌ها نام آن به گونه پوروشاپورا تلفظ می‌شد و از همان آغاز از کانون‌های مهم بازرگانی در جاده ابریشم و همچنین چهارراهی برای گذر فرهنگ شبه قاره هند به آسیای میانه بوده‌است. پایتخت تابستانی پادشاهان کوشانی در «کاپیچی» (= کاپیسی یا بگرام) و کابل و پایتخت زمستانی آنان شهر پیشاور بوده‌است.



کاوش در صومعهٔ کانیشکا در مرکز پیشاور


کویته

کُویته  مرکز استان بلوچستان در کشور پاکستان است. کویته که در نزدیک مرز افغانستان در قندهار است، دارای جمعیت مختلط قومی بوده که عمدتاً اقوام هزاره، پشتون و بلوچ دران زنگی نموده و تعداد اقوام هزاره که در زمان امیر عبد الرحمان خان از افغانستان مهاجرت نموده بودند، نیز درآنجا سکونت داند که تا امروز به زبان فارسی تکلم مینمایند. نظام حکومتی به شکل فدرالی بیشتر بدست بلوچها بوده و پشتو زبانان از اختیارات کمی برخورداراند.



ايستگاه راه اهن شهر كويته


اما در سالهای اخیر دهه ۹۰ میلادی اتحاد پشتونها به‌وسیله تحرک پشتون‌گرایی که در رأس آن محمود خان اچگزی قرار دارد، تا اندازه آنها حضور خودشان را متجلی نموده‌اند. البته این حزب سیاسی قومی موسوم به پشتونخواه ملی عوامی پارتی، از حکومت افغانستان به رهبری حامد کرز به علت پشتون بودن آن حمایت مینماید. بزرگ‌ترین اغتشاشات را در بلوچستان درین اواخیر پشتونها و به تعقیب آن در سال ۲۰۰۶ بلوچها داشتند که حکومت مشرف را به چالشهای سختی درگیر ساخت. قتل رهبر بلوچها توسط ارتش پاکستان در درگیریهای اخیر در این ولایت، خشم این طایفه را نسبت به نخبگان پنجاب بر انگیخته‌است. بلوچستان دارای شهرستان‌های کوچک و بزرگ است که عمده‌ترین آنها، پشین، مستونگ، کچلاک، نورالهی است.

اسلام‌آباد

اسلام‌آباد ( آوا راهنما·اطلاعات) شهری در شمال جمهوری اسلامی پاکستان و پایتخت این کشور است.

جغرافیا

شهر اسلام‌آباد در لبه گود فلاتی و در جنوب تپه‌های مار قلعه واقع شده‌است. شهر نو و شهر قدیمی اسلام‌آباد که نام شهر قدیمی گاخار ( این شهر در گذشته قسمت‌هایی از شهر راولپندی محسوب می‌شده‌است که در حال حاضر به عنوان شهر قدیم اسلام آباد مطرح می‌شود ) است و در کنار هم واقع شده‌اند و کشور گذشته و کشور کنونی را نشان می‌دهند . در حومه شهر اسلام‌آباد سه دریاچه با نام‌های سنارس، سیملی و خانپور واقع شده‌اند که در زیبایی و خوش آب و هوایی شهر تاًثیر فراوانی دارند.

این شهر با جمعیت ۵۳۰٬۰۰۰ نفر در شمال شرقی و در ناحیه‌ای به نام «پایتخت اسلام‌آباد» واقع شده‌است. البته از نظر تاریخی این منطقه بخشی از ناحیه پنجاب به‌شمار می‌آید.

شهر اسلام‌آباد در ۳۳°۴۰' شمالی و ۷۳°۱۰' شرقی قرار دارد و در کناره فلات پوتوهار، در جنوب تپه‌های مرگالا واقع شده است.

سه دریاچه سد ساخته‌شده به دست انسان به نامهای راول، سیملی و خانپور هوای این منطقه را تعدیل کرده‌اند. تابستان‌های آن گرم است و باران‌های شدید موسمی در ماه‌های مرداد و شهریور می‌بارد. در زمستان هوای شهر سرد و گاه زیر صفر است و در تپه‌های اطراف، مانند پیر سوهوا و مرگالا برف نیز می‌بارد.

پوشش گیاهی

اسلام‌آباد در منطقه‌ای حاصل‌خیز با جنگل‌های انبوه واقع شده و درختانی نظیر اوکالیپتوس، انجیر هندی و بلوط، این شهر و نواحی پیرامون آن را پوشانده‌اند. پوشش گیاهی اسلام‌آباد هیچ‌گونه کمبودی از لحاظ مواد نیتروژنی و فسفری در طی مراحل رشد و شکوفایی از خود نشان نمی‌دهد.

اسلام‌آباد محل رویش گیاهان مختلف و کم‌یاب نظیر ماش وحشی و قاصدک است؛ هم‌چنین گیاهان غیربومی مانند گل‌های سرخ و یاسمن نیز در این شهر پرورش پیدا می‌کنند. گونه‌ای از درختان برگ‌ریز به شهر جلوهٔ پاییزی می‌بخشند.

درختان اسلام‌آباد سازگار با دمای بالا و بارش اندک باران در فصل تابستان هستند و رشد آن‌ها در زیر آفتاب سوزان سریع‌تر است. هجوم گیاهانی نظیر توت کاغذی از جنوب شرق آسیا به این منطقه و افزایش روزافزون استفاده از آن‌ها که به سرعت تکثیر می‌شوند، به همراه موریانه‌ها، زندگی گیاهان بومی این منطقه را به خطر انداخته‌است.

پوشش گیاهی اسلام‌آباد به سرعت در حال نابودی است و بیم آن می‌رود که در صورت عدم‌کشت مجدد گیاهان بومی و غیربومی در این منطقه، اسلام‌آباد مناظر طبیعی خود را از دست بدهد. رشد جمعیت این شهر که با قطع درختان جنگلی و گیاهان بومی همراه است، نابودی پوشش گیاهی را سبب شده‌است.

جمعیت

مطابق سرشماری سال ۱۹۹۸، از مجموع کل جمعیت شهر اسلام آباد، ۶۵٪ را اقوام پنجاب، ۱۰٪ را مهاجران اردو، ۱۰٪ را مهاجران پشتو و نیز ۱۵٪ را سایر اقوام (شامل سندی، بلوچی و کشمیری) تشکیل می‌دهند.

سرگودها

سرگودها (به اردو: سرگودھا)‏ (به انگلیسی: Sargodha)‏، مرکز ضلع (بخش) سرگودها، شهری در ایالت پنجاب در شمال غرب پاکستان، با بیش از یک میلیون جمعیت دوازدهمین شهر بزرگ پاکستان و به عنوان بهترین تولید کننده مرکبات پاکستان است. این شهر دارای جمعیت شیعه نشین نیز می‌باشد.

بهاولپور

بهاولپور (به اردو: بہاولپور)‏ شهری در ایالت پنجاب (پاکستان) کشور پاکستان است که در سرشماری سال ۲۰۰۶ میلادی، ۵۷۶٫۲۰۳ نفر جمعیت داشته است.

سیالکوت

سیالکوت (به اردو: سیالکوٹ)‏ شهری در ایالت پنجاب (پاکستان) کشور پاکستان است که در سرشماری سال ۲۰۰۶ میلادی، ۴۸۴٫۶۹۶ نفر جمعیت داشته است.

لارکانه

لارکانه شهری بزرگ در شمال غربی استان سند پاکستان است. رود سند از این شهر می‌گذرد. جمعیت این شهر در سال ۱۹۹۸ برابر با ۲۷۰٬۲۸۳ نفر بوده است.

شیخوپوره

شیخوپوره (به اردو: شیخوپورہ)‏ شهری در ایالت پنجاب (پاکستان) کشور پاکستان است که در سرشماری سال ۲۰۰۶ میلادی، ۳۷۴٫۰۱۱ نفر جمعیّت داشته است.

مردان

مَردان یکی از شهرهای کشور پاکستان است.

این شهر در ایالت مرزی شمال غربی واقع شده‌است.

قبیله اصلی ساکن منطقه مردان قبیله پشتون یوسفزی است. شمار کمی از تیره‌های سیدها، غُرغُشت، کاکَر، داوی، ختک، عثمان‌خیل، تانولی، پنجابی و هندوکوان نیز در این محل ساکنند.

بیشتر مردم مردان مربوط به دو طایفه کمال‌زی و بی زی و امازی از قبیله یوسفزی هستند. ۹۸.۴۴ درصد مردم شهر مردان پشتوزبانند.

گجرات

گُجَرات (به زبان گجراتی: ગુજરાત) ایالتی در غرب هندوستان است. مساحت آن ۱۹۶٬۰۲۴ کیلومتر مربع و طبق سرشماری سال ۲۰۰۱ جمعیت این ایالت ۵۰٬۶۷۱٬۰۱۷ نفر بوده‌است.

گجرات صنعتی‌ترین منطقه در کشور بزرگ هند محسوب می‌شود: ۱۹٫۸ درصد کل تولیدات صنعتی هند از این ایالت است. همچنین ۱۰ درصد محصولات معدنی، ۲۰ درصد صادرات، ۲۵ درصد تولید منسوجات، ۴۰ درصد تولیدات دارویی، ۴۷ درصد تولیدات پتروشیمی از این ایالت است.

گجرات با ۱۶۷۰ کیلومتر مربع طولانی‌ترین ساحل این کشور را دارد. گجرات از سوی شمال غربی به کشور پاکستان و از شمال شرقی به ایالت راجستان، از سوی شرق به مادیا پرادش و از جنوب به مهاراشترا محدود می‌شود. دریای عرب ساحل غربی این ایالت را تشکیل می‌دهد.

مرکز ایالت گجرات شهر گاندی‌نگر است. این شهر با طرح و برنامه‌ریزی شهری ساخته‌شده است.

مرکز پیشین ایالات یعنی احمدآباد که هنوز مرکز تجاری گجرات بشمار می‌آید نزدیک به گاندی‌نگر است. گجرات یکی از مراکز مهم زرتشتیان یا پارسیان هند است.



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : دوشنبه هفتم مهر ۱۳۹۳

 

بسم الله الرحمن الرحيم

منطقه بلتستان درناحيه شمالي پاكستان واقع گرديده است كه در زاويه24 درجه شمالي و 45 درجه شرقي قرار دارد.
بلتستان مجموعه اي است متشكل از مرتفع تر ين قلل جهان و نقاط ييلاقي باكوههاي خيال انگيز پر از گلهاي گوناگون و داراي دريا چه هاي زمردين و جويبارهاي شفاف مملو از ماهي قذل آلا، كه در منطقه اي از سلسله كوه "قراقرم" و "هيماليا" رود "سند" به وسعت 13635 كيلومترمربع ميل مربع پراكنده شده است . مردم محلي اين منطقه را "بلتي يل" مي نامند كه ترجمه فارسي "بلتي يل" بلتستان مي باشد. نخستين بار در تاريخ " بطليموس" يكي از ژنرال هاي "اسكندر اعظم"(Byalta) ياد كرده است . جهانگر دان قديم چين اين منطقه را پلو، پلور، و بلور خوانده و اهالي تبت آن را به نام " ننگ گون" ياد كرده اند. بلتستان در زمان گذشته "تبت خرد" نيز خوانده شده كه در تاريخ " مغولها" از آن ياد شده است . بعضي ها نيز بنام " سوي بوتان" از آن ذكر كرده اند كه ترجمه آن به زبان اردو " سرزمين زرد آلوها" است.

    

جمعیت بلتستان بالغ بر 4 ميليون نفر تخمين زده شده.

تعداد مناطق بلتستان عبارتند از:
1- اسكردو 2- روندو 3- شيگر 4-خپلو 5 – كهرمنگ 6 گلتري

تعداد روستاهاي مناطق بلتستان:

     منطقه                  روستا ها
     اسكردو                    44
     روندو                      23
     شيگر                      53
     خپلو                        56
     كهرمنگ                  43
     گلتري                    10

آب و هوا:
منطقه بلتستان با آب و هوائي سرد و خشك داراي چهار فصل از جمله : بهار، تابستان ، پائيز و زمستان است .
منطقه كشمير در جنوب ، لداخ و كر گل مناطق اشغالي هند در شرق و بخشداري گلگيت و مناطق ديامر در غرب بلتستان واقع شده است . كوههاي سر به فلك كشيده و پوشيده از برف قرارم ، در شمال ، بلتستان را از استان "سنكيانگ چين " جدا مي كند . معروف ترين قله جهان بنام "كي تو"(K.2) در همين منطقه واقع است كه ارتفاع اين قله 28250فوت مي باشد . تمام مناطق و نقاط ييلاقي بلتستان بر سطح مرتفعي در حدود 7500 الي 8500 فوت از سطح دريا واقع است . مرتفع ترين قلل جهان را نيز ميتوان از بلتستان تماشا كرد و همچنين نقاطي با توده هاي عظيم برف و رود خانه هاي كوهستاني و دريا چه ها و حوضهاي طبيعي فراوان در اين منطقه وجود دارد.

ميانگين بارندگي در اين منطقه 762 الي 1270 مليمتر مي باشد . از 21 مارس تا سومين هفته ماه ژوئن فصل بهار است و تا ماه اوت فصل تابستان و از اويل سپتامبر الي اواخر اكتبر فصل پائيز و از ماه نوامبر تاماه مارس فصل زمستان است. در فصل بهار هواي اين منطقه 10 الي 20 درجه بالاي صفر و در فصل تابستان به 43 درجه بالاي صفر مي رسد. در فصل پائيز و ماه ژانويه و فوريه به حد اقل 21 درجه زير صفر تنزل مي يابد.
همه مناطق بلتستان كوهستاني است علاوه بر قله كي تو K-II ماشه بروم ، گاشه بروم، براد پيك ، و هدن پيك معروفترين قلل در بلتستان واقع مي باشند.
در سلسله كوه قراقرم در حدود چهل "گليشير" واقع است كه بزرگترين آن سياچين مي باشد . در جنوب بلتستان و دركنار سطح مرتفع "ديوسائي" و " غبيارسه " ميدانهاي گسترده سرسبز و شاداب واقع است . سنگي كهابب يا سينگي چهو (رود سند) بزرگترين رودخانه پاكستان مي باشد كه از درياچه مانسرور تبت آغاز شده و از مناطق بلتستان مي گذرد . علاوه بر رود شيوق و شيگر صدها رود خانه و جويبار ديگر به رود سند مي ريزند . ارتفاع مناطق بلتستان از سطح دريا به شرح ذيل است.

منطقه ارتفاع از سطح دريا (متر)
اسكردو       2300
شيگر         2330
خپلو          2560
كهرمنگ     2450
قله ها 4000 الي 8500متر
ميدان 1830 الي 3350 متر

نژاد:
اغلب مردم بلتستان از لحاظ نژادي "منگول" و "تبتي" هستند منگول و تبتي دو شاخه از يك نژاد مي باشد. 95 در صد ساكنان بلتستان تبتي و قبائل ديگر از جمله : مقپون، پيگو، اماچه، بروشوكي، يشكن، و كشمير مهاجران ترك، آريايي، ايراني و كشميري نژاد هستند كه در طول تاريخ به آنجا سفر كرده و مقيم شده اند اما از نظر زبان همه بلتي هستند.
زبان و خط:
بلتستاني ها به زبان بلتي صحبت مي كنند . زبان شناسان بلتي را از گروه زبان لداخ، تبت، كرگل، بهوتان، سكم، مستنگ، نيپال و استهان هاي چين از جمله : سيچهوان، گانسو و ژهينگايي مي دانند. قدمت زبان بلتي خيلي زياد است . تا قرن ششم ميلادي خط زبان بلتي رايج نبود اما وقتي در سال 615 ميلادي "اسرونگ ستن "زگمبر" حاكم معروف تبت حكومت را به دست گرفت سمبوتا پسر يكي از وزيران به نام لونپوانو را (روحاني برجسته مذهب بودا در آن زمان) جهت كسب علوم و مطالعه زبان هاي مختلف هندوستان فرستاد. وي چهارده سال علم مربوط به زبانهاي مختلف را از مراكز مختلف بودايي ها سانسكريت فراگرفت و خط تبتي را ترتيب داد كه بنام رسم الخط تبتي در جهان معروف است . اما تبتي هاي فعلي اين خط را " بدايك" (خط بودايي ها) مي شناسند و بين مردم لداخ و بلتستان بنام اگي معروف است . خط اگي 24 حرف و چهار علامت اعراف دارد . در قرن 653 ميلادي مردي بنام "تهونمي پاانو" نخستين كتاب دستور زبان تبتي را در بلتستان تاليف كرد . كتب مذهبي و ديني ، شاهنامه ها ، غزلها و نامه هاي بودايي هايي به اين زبان و خط نوشته شده است.
در قرن 12 ميلادي " ابراهيم شاه مقپون " سلطنت مستقلي را در بلتستان بنيان نهاد . درباره ابراهيم شاه مقپون مي گويند كه وي از ايران و يا مصر به بلتستان آمده و مقيم شده بود . بعد از تشكيل حكومت بلتستان تماس اين منطقه با تبت قطع شد و در بلتستان اين زبان بنام بلتي معروف شد . در اثر تردد اقوام و طايفه هاي مختلف در بلتستان و استقرار ايشان، دين اسلام در اين منطقه ظاهر شد و در نتيجه بر زبان و خط بلتي نيز تاثير بسيار گذاشت و خط بلتي به شكل خط فارسي در آمد و در زمان حكومت حكمرانان " دوگرها" زبان رسمي اين منطقه هندي و فارسي اعلام شد. بنابر اين خط اگي كم كم از بين رفت. در حال حاضر خط اگي تنها در لداخ و تبت رايج است .
مذهب :
مردم بلتستان صدر در صد مسلمان اند و پيروان شيعه اثنا عشري گروهي از آنان نو بخشيه اماميه (مقلدين سيد محمد نور بخش) و بقيه اهل تسنن بوده و اهل حديث (وهايي) مي باشند.
پيش از اسلام اغلب مردم بلتستان بودايي و شماري از آنها هندو مسلك بوده اند . به اعتقاد محققين و مورخان مردم بلتستان، قبل از قرن چهاردهم ميلادي " ديو" و "ماده ديو" را مي پرستيد ند كه به نام " بون چهوس" معروف بود . در قرن چهاردهم ميلادي توسط مبلغين ايراني دين مبين اسلام در مناطق بلتستان ظهور كرد به اعتقاد مورخان ، اسلام بوسيله امير كبير مير سيد علي همداني به بلتستان وارد شد. شاه همدان از سال 774 هجري قمري مقيم كشمير بوده و در اين زمان او در بلتستان (تبت خرد) هم مشغول فعاليتهاي اصلاحي و تبليغي بوده است و بسياري از مساجد و يادگارهاي ديگر آن سامان كه منسوب به وي مي باشد هنوز هم در بلتستان و نواحي و نقاط همجوار نگهداري مي شود . وي در بلتستان مسجد " امبروك" و مسجد "چه برونجي" (شش برج) را بنا كرد . مولوي حشمت الله خان مولف تاريخ جامو ورود امير كبير مير سيد علي همداني را به منطقه بلتستان بعيد مي داند و حال آنكه در "مشجر الاوليا" كتاب سيد محمد نور بخش آمده است كه سيد علي همداني به تبت و تركستان رفته و اينجا مراد از تبت همان تبت خرد يعني بلتستان مي باشد . علاوه برآن اخبار و آثار تاريخي و باستاني بلتستان گوياي آنست كه:
امير كبير مير سيد علي همداني از اولين كساني بوده كه وارد بلتستان شده و جهت دين اسلام تبليغ نموده است . سيد علي همداني در توسعه زبان فارسي در بلتستان و كشمير بسيار موثر و نافذ بوده است.

   

وي خانقاه هايي بوجود آورد كه در آن زمان از مراكز مهم اجتماعي بوده اند . نفوذ فرهنگي خانقاا در زندگاني مردم يك امر بارز بوده است . حكمرانان مقپون اسكردو نيز علماء و مبلغين را به سوي مناطق همجوار بلتستان جهت تبليغ دين اعزام مي كردند از آن به بعد غالب علما و فقها از جمله : سيد محمد نور بخش ، مير شمس الدين عراقي بت شكن ، سيد ناصر طوسي و سيد علي طوسي وغيره براي ترويج و تبليغ اسلام به اين منطقه واردشده اند كه توسط آنها و مبلغين ايراني دين اسلام در اين سرزمين رشد كرده است و همچنين به مرور زمان آثار ايرانيان و زبان فارسي بر فرهنگ و تمدن ، زبان و ادبيات ، موسيقي ، آداب و رسوم ، آداب مجلس و چگونگي صحبت بلتستان اثر عميقي گذاشت به همين دليل است كه سبك قديم ايراني بر اشعار و ادبيات بلتي غالب شده و تغييراتي در خط بلتستان بوجود آمد كه بلتستاني ها خط و لباس ملي خود را رها كردند و همچنين لغات و كلمات زيادي كه از فارسي گرفته شده در زبان بلتي امروز مورد استفاده قرار مي گيرند. مردم بلتستان نسبت به اجراي احكام اسلامي تعصب خاصي دارند در اكثر نقاط مسجد وجود دارد و زنان و مردان همراه باكودكان و نوجوانان خود نماز را با جماعت برپاي مي دارند. چون غالب مردم شيعه هستند بنا بر اين مراسم ديني، مناسبتها و ايام ولادت و شهادت ائمه و چهارده معصوم (ع) با احترام خاصي برگزار مي شوند.
سابقه تاريخي بلتستان:
در رابطه با تاريخ بلتستان مدارك معتبري وجود ندارد چون در زمان فرمانروايي ظفر خان پدر بزرگ احمد شاه دركتابخانه پادشاهي در كهر نوجهي ( اسكردو فعلي) آتش سوزي شده و در نتيجه كتابهاي زيادي از جمله گلزار بلتستان ، نسخ خطي تاريخ بلتستان نيز در آن سوخته شد . با توجه به مدارك و سوابق تاريخي بلتستان نيز در آن سوخته شد . با توجه به مدارك و سوابق تاريخي بلتستان كه در دست است ، در سال 1200 ميلادي شهزاده اي بنام ابراهيم شاه از كشور ايران و يا مصر وارد بلتستان شده و با تنها دختر خانواده حكمران اسكردو آن زمان ازدواج مي كند و بعد از گذشت چندين سال به حكومت رسيده و حكومت مقپونها آزاد گردد در مناطق همجوار بلتستان حكومت هاي مستقل و كوچكي تشكيل شده بودند در منطقه روندو خانواده لون چهي در شيگر خانواده عماچه در خپلو يبگو در كهرمنگ انتهوك و در وادي پوريگ خانواده گاشوپا حكمراني ميكردند در زمانداري غوطه چوسنگي نهمين فرمانرواي خانواده مقپون امير كبير مير سيد علي همداني وارد بلتستان شده و انقلاب عظيمي كه منجر به ظهور اسلام در اين منطقه شد ، برپا نمود . بودايها دين اسلام را پذيرفتند. بهرام چو فرزند غوطه سنگي در سال 1463 الي 1490 ميلادي منطقه بشوتك را اشغال كرده و از دست لون چهي اوت حكمران آن منطقه خارج نمود و به سلطنت اسكردو اضافه كرد و از اينجاست كه گسترش سلطنت اسكردو آغاز مي گردد. مقپون بوخا فرزند بهرام چو در سالها 1490 تا 1515 ميلادي شهر فعلي اسكردو را آباد كرده و قلعه معروف كرپوچهي را در آن زمان بنا مي نمايد وسپس پايتخت را از شيگر به اسكردو انتقال مي دهد. در زمامداري مقپون بوخا ، مير شمس الدين عراقي بت شكن ، از كشمير وارد بلتستان مي شود و از 901 الي 908 هجري قمري 7 سال در بلتستان مستقر مي گردد و در همين زمان بود كه دين مبين اسلام رشد پيدا كرد و بجاي خط بلتي خط فارسي جايگزين گرديد در زمان حكمران شير شاه فرزند مقپون بوخا سلطان سعيد خان والي كاشغر (سال 939 هجري) بر عليه بلتستان حمله كرد . راجه عبدالله خان فرمانرواي شيگر در آن زمان بود و بلتستان بنام تبت و بلتي معروف بوده است.
حكومت خانواده مقپون تخت زمانداري علي خان فرزند شير شاه از سال 1540 تا 1565 ميلادي گسترش پيدا كرده به اوج خود رسيد علي خان مناطقي از جمله شغر و دراس را به تصرف خود در آورد . در زمان حكمراني غازي مير فرزند علي خان از سال 1565 تا 1595 ميلادي سلطنت اسكردو گسترش پيدا مي كند و در اين زمان آخرين خانواده لون چهي در روندو فوت كرده بود. بنا بر اين غازي مير حكومت روندو را نيز بدست گرفت پايتخت روندو، "سنق" بود غازي مير روندو را به اسكردو پيوست و علي شير خان وليعهد خود را براي فتح كهرمنگ ماموريت داد علي شير خان كه بنام انچن (اعظم) معروف شد نخست كوته را فتح كرده، لداخيون را نيز شكست داده كهرمنگ را بدست آورد و كهرمنگ را نيز به سلطنت اسكردو پيوند دادعلي شير خان مناطق ديگر از جمله : سوت و بودا گهر بو وغيره را نيز فتح كرد و به با سلطنت اسكردو به پيوست و جشن بزرگي براي فتح در اسكردو برگزار گرد. در همان زمان در سال 1586 ميلادي اكبر پادشاه مغول كشمير را فتح كرده و به دهلي متصل كرده بود و سپس در سال 1592ميلادي براي گردش به كشمير مي رود و مراسم ازدواج فرزندش بنام شهزاد سليم را با دختر علي شير خان انچن برپا مي كند . بنا بر اين نسبتي بين سلطنت دهلي و بلتستان ايجاد مي گردد.
بعد از آن علي شير خان مناطقي از جمله: استوار ، چيلاس، گلگيت و چترال را نيز فتح مي نمايد وي در فتوحاتي ميدان چوگان بازي را در نزديكي سنگم رود گلگيت و سند بنا كرد كه هنوز نيز بنام مقپوني شغرن (ميدان چوگان بازي مقپون) معروف است.
علي شير خان انچن سه تا فرزند داشت كه اسامي آنها عبارتند از : آدم خان ( ولي عهد) ، عبدال خان و احمد خان ، بعد از در گذشت علي شير خان بين آدم خان درگيري ايجاد شد . عبدال خان برتخت حكومت اسكردو نشست و آدم خان به دهلي فرار كرد.
علي شير خان ثاني در سال 1787 الي 1800 ميلادي آخرين حكمران خانواده مقپون در بلتستان بوده است . بعد از آن سلطنت اسكردو رو به زوال گذاشته است. و به چندين قسمت تقسيم مي شود و آنگاه دوره دوگراها در بلتستان آغاز مي گردد. دوگراها بر عليه بلتستان حمله كرده بودند و حكومت بلتستان را اشغال كرده بودند. آنها مدت 800 سال در بلتستان حكمراني كرده ظلم وستم فراواني بر مردم اين ديار نموده بودند . مردم بلتستان هرگز حكومت دوگراها را قلباً نپذيرفتند و هميشه براي استقلال و نجات از ظلم و ستم دوگراها مي كوشيد ند . در سال 1947 ميلادي پاكستان استقلال يافت و در ماه يكم نوامبر 1948 مردم گلگيت به سرپرستي راجه بابر خان و سرهنگ ميرزا حسن خان در گلگيت استقلال يافتند. مردم بلتستان نهضت استقلال و جنگ آزادي را آغاز كردند مرد و زن كودك و نوجوان و سالمندان همه با هم درجنگ استقلال بر عليه دوگراها شركت كردند و در نتيجه در 14 اوت 1948 بعد از گذشت يكسال از استقلال پاكستان مردم بلتستان نيز دوگراها را شكست داده، استقلال يافتند. هزاران بلتستاني در اين جنگ شهيد شدند. در سال 1948 ميلادي منطقه پوريگ نيز استقلال يافت اما در نتيجه سياست و مصلحت آن زمان پاكستان اين مناطق آزاد را از دست داد.

  

بلتستان بعد از استقلال به عنوان يك بخشداري تحت كنترل حكومت مركزي پاكستان قرار گرفت و در سال 1972 به دو بخشداري گانگچهي و اسكردو تقسيم شد . بلتستان را مناطق شمالي پاكستان نيز مي گويند. حيثيت آئيني بلتستان هنوز زير سوال است.
منطقه بلتستان كه مانند بهشتي در زمين است وضعيت تاسف آور و وخيمي دارد. خداوند سبحان اين منطقه را به جمال دل آرايي آراسته كرده است يك طرف اين منطقه كوههاي بلند همچون فصيلها لباسهاي برف پوشيده اند كه بلندي آنها به آسمان و ستاره ها مي رسد . دومين و بلندترين قله دنيا بنام كيتو K-II نيزدر همين منطقه قرار دارد مرتفع ترين ميدان جنگ جهان بنام سياچن نيز در اين منطقه واقع است اين منطقه باكوههاي بلند وضع زندگي پست و اسفباري دارد . شكي نيست كه برف سفيد حسن كوهها را افزايش مي دهد ولي براي مردم منطقه مشكلاتي بوجود مي آورد، مخصوصاً در فصل زمستان تماس اين منطقه با ساير مناطق جهان قطع ميشود بعلت ريزش كوهها جاده هاي بزرگ منتهي به اين منطقه بسته مي شوند تنها خط هوايي از اين خطر نسبتاً محفوظ است ولي اين هم بعلت خرابي هوايي منطقه اكثر بسته ميشود و پروازهاي هوا پيما هفته ها به تاخير مي افتد.
پانوشت ها:
1- Dani A.H. History of Northern Area of Pakistan.
2- Francke A.H. Baltistan & Ladakh, A. history.
3- Biddulph Jhon, Tribes of Hindoo Koosh
4- Ministry of in Promotion & Broadcasting facts about Pakistan



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه پنجم مهر ۱۳۹۳

 

محفل مناقبہ میں پروفیسر حشمت کمال الہامی، بشارت حسین ساقی، طالب مجروح، نثار علی یاور، کاظم اثر شگری، ابراہیم جعفری اور دیگر شعراء نے امام عالی مقام کے حضور کلام عقیدت پیش کیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه پنجم مهر ۱۳۹۳

 

نہج البلاغہ اپنے دامن میں بلاغت کے نمایاں جوہر اور فصاحت کے بہترین مرقعے رکھتی ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ وہ ایسے شخص کا کلام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام خلق میں سب سے زیادہ فصیح البیان سب سے زیادہ قدرتِ کلام کا مالک اور قوت استدلال میں زیادہ اور الفاظِ لغت عربی پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والا تھا کہ جس صورت سے چاہتا انہیں گردش دے دیتا تھا اور وہ بلند مرتبہ حکیم کہ جس کے بیان سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

امیرالمومنین حضرت علی (ع) ابن ابی طالب کی فصاحت و بلاغت
تحریر: علامہ محمد رمضان توقیر
خاتم المرسلین رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفی (ص) کی ذات گرامی قدر ’’افصح العرب ‘‘ کے نام سے مشہور ہے، یعنی فصاحت و بلاغت آپ کی ذات پر ختم ہے۔ آپ (ص) نے انتہائی مختصر الفاظ میں معانی و مفاہیم کو اپنے کلام میں پرو دیا ہے۔ کلام میں اختصار آپ (ص) کی ذات کا خاصہ ہے۔ صحن کعبہ اس بات کا گواہ ہے کہ جب امیرالمومنین (ع) کی ولادت باسعادت ہوئی اور آپ نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے پہلے جس شخصیت کا دیدار کیا وہ پیغمبر اکرم (ص) کی ذات والا صفات ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) نے علی (ع) سے ملنے اور انہی دیکھنے کے بعد سب سے پہلے جو حسین عمل انجام فرمایا وہ یہ تھا کہ اپنی زبان وحی لسان علی (ع) کے دہن میں دے دی اور بہت دیر تک علوم جہانی و قرآنی وجود رسالت سے وجود امامت میں منتقل فرماتے رہے۔ یہ عمل فقط دو بھائیوں کی محبت اور قربت کا مظہر نہیں تھا بلکہ دنیا پر واضح کرنا تھا کہ بعد از نبی (ص) اگر علوم نبوی و علوم الٰہی کا وارث ہے تو صرف اور صرف علی (ع) ہے۔ خود امیرالمومنین (ع) نے کئی مواقع پر اس حقیقت کا بیان کیا کہ انہیں حاصل ہونے والے الہی و نبوی علوم اسی زبان رسالت کی عطیہ ہیں۔

شاید اس قول کی اصلیت بھی علی علیہ السلام کے ساتھ وابستہ ہے جس میں کلام الامام کو امام الکلام کہا گیا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کو کائنات میں یہ عجیب فوقیت حاصل ہے کہ ایک ہی وقت میں جہاں شجاعت و بہادری کا پیکر اور تلوار زنی میں بےمثال ہیں وہاں فصاحت و بلاغت اور علم و دانش کا لاثانی نمونہ ہیں۔ ایسی شخصیت کائنات میں اور کوئی نہیں جسے ایک ہی وقت میں مختلف یا متضاد میدانوں پر قبضہ حاصل ہو۔ حیرت کی انتہاء اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنین نے فصاحت و بلاغت کے اکثر جواہر اپنی ظاہری خلافت کے کٹھن ترین دنوں میں ظاہر کئے ہیں، جب جنگ و جدل اور سازشوں کا عروج تھا۔ یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ آپ (ص) کے علوم اور فصاحت کسی موسم مزاج یا حالات کے تابع نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مستقل ودیعت تھی جو آپ نے کسی قسم کے حالات کا دباؤ قبول نہ کرتے ہوئے لوگوں تک پہنچائی۔

دنیا کے اہل علم، اہل فن، اہل زبان، اہل ادب اور صاحبان فصاحت نے صدر اسلام سے اب تک یہ بات اصول کے طور پر طے کر دی ہے کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اکرم (ص) کے بعد اگر کسی کلام کی کوئی حیثیت یا مقام ہے تو وہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کا کلام ہے، جس میں سے چند نمونے نہج البلاغہ کے نام سے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ علی (ع) کی فصاحت و بلاغت پر سب بڑی شہادت اور گواہی خود افصح العرب رسول اکرم (ص) کی ذات مبارکہ ہے جنہوں نے علوم و فنوں اور فصاحت و بلاغت پر مشتمل جتنی احادیث فرمائی ہیں، سب میں علی (ع) کو اپنے ساتھ شریک رکھا ہے۔ انا مدینۃ العلم کے نبوی فرمان سے لے کر ذکّاً ذکّاً کے علوی اقرار تک ہر مقام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ علی (ع) کی ذات ہی علوم و فصاحت کا مرکز و محور ہے۔ اہل اسلام میں سے متعدد اہل علم نے علی (ع) کی فصاحت و بلاغت کا ببانگ دہل اقرار کیا ہے۔

علامہ شیخ کمال الدین محمد ابن طلحہ قریشی شافعی اعتراف حقیقت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ علی (ع) علم فصاحت و بلاغت میں امام کا درجہ رکھتے ہیں، جن کے قدموں کی خاک تک پہنچنا ناممکن ہے۔ وہ ایسے پیش رو تھے جن کے نشان قدم کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کہتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں حضرت (ع) کے خطبے اور موعظے اپنے اوامر و نواہی کو مکمل طور پر ظاہر کرتے ہیں اور فصاحت و بلاغت کے انوار کو اپنے الفاظ و معانی سے تابندہ شکل میں نمودار کرتے اور فن معانی و بیان کے اصول اور اسرار کو مختلف انداز بیان میں ہمہ گیر صورت سے ظاہر کرتے ہیں۔ علامہ ابو حامد عبدالحمید ابن ہبتہ اللہ المعروف بابن ابی الحدید مدائنی بغدادی فرماتے ہیں کہ علی (ع) کی فصاحت کا یہ عالم تھا کہ آپ فصحاء کے امام اور اہل بلاغت کے سرگروہ ہیں۔ آپ (ع) ہی کے کلام کے متعلق یہ مقولہ ہے کہ وہ خالق کے کلام کے نیچے اور تمام مخلوق کے کلام سے بالاتر ہے اور آپ ہی سے دنیا نے خطابت و بلاغت کا فن سیکھا۔

محمد بن علی بن طباطبا معروف بہ ابن طقطقی کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کتاب نہج البلاغہ کی طرف توجہ کی جو امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا کلام ہے کیونکہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس سے حکم اور مواعظ اور توحید اور زہد کی تعلیم حاصل ہوتی ہے اور اس کا سب سے ادنٰی فیض فصاحت و بلاغت ہے۔ علامہ محدث ملّا طاہر فتنی گجراتی اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم آپ علی (ع) کی فصاحت کے سامنے تمام فصحا کی فصاحت اور بلیغوں کی بلاغت اور حکماء روزگار کی حکمت مفلوج و معطل ہوکر رہ جاتی ہے۔ علامہ یعقوب لاہوری کہتے ہیں کہ جو شخص آپ (ع) کی فصاحت کو دیکھنا اور آپ کی بلاغت کو سننا چاہتا ہو وہ نہج البلاغہ پر نظر کرے اور ایسے فصیح و بلیغ کلام کو کسی شیعہ عالم کی طرف منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔

ملک عرب کے مشہور مصنف، خطیب اور انشاء پرداز شیخ مصطفٰی غلائنی فرماتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں بلیغ کلام اور ششدر کر دینے والے طرز بیان اور خوش نما مضامین اور مختلف عظیم الشان مطالب ایسے ہیں کہ مطالعہ کرنے والا اگر ان کی صحیح مزادلت کرے تو وہ اپنی انشاء پردازی اپنی خطابت اور اپنی گفتگو میں بلاغت کے معیار پر پورا اتر سکتا ہے۔ استاد محمد کرد علی رئیس مجمع علمی دمشق نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر بلاغت کا اس کے مکمل ترین مظاہرات کے ساتھ مشاہدہ مطلوب ہو اور اس فصاحت کو جس میں ذرہ بھر بھی زبان کی کوتاہی شامل نہیں ہے، دیکھنا ہو تو تم کو نہج البلاغہ کا مطالعہ کرنا چاہیئے، جو امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کے خطب و مکاتیب کا مجموعہ ہے۔

استاد محمد محی الدین مدرس جامعہ الازہر کہتے ہیں کہ نہج البلاغہ اپنے دامن میں بلاغت کے نمایاں جوہر اور فصاحت کے بہترین مرقعے رکھتی ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ وہ ایسے شخص کا کلام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام خلق میں سب سے زیادہ فصیح البیان، سب سے زیادہ قدرتِ کلام کا مالک اور قوت استدلال میں زیادہ اور الفاظِ لغت عربی پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والا تھا کہ جس صورت سے چاہتا انہیں گردش دے دیتا تھا اور وہ بلند مرتبہ حکیم کہ جس کے بیان سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ عبدالمسیح انطاکی صاحب جریدہ، العمران، مصر کہتے ہیں کہ اس میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا کہ سیدنا حضرت علی امیرالمومنین فصیحوں کے امام اور بلیغوں کے استاد اور عربی زبان میں خطابت اور کتابت کرنے والوں میں سب سے زیادہ عظیم المرتبت ہیں اور ان کے کلام کے بارے میں بالکل صحیح کہا گیا ہے کہ یہ کلام خلق سے بالا اور خالق کے کلام سے نیچے ہے۔

غرض یہ کہ جس اہل علم کے قلب کی کیفیت دریافت کریں ہر ایک یہی پکار اٹھے گا کہ میرا امام علی (ع) ہے۔ علی (ع) کے کلام کی فصاحت کا ثبوت ان کے زیر بیان موضوعات ہیں۔ توحید الٰہی سے لے کر انسانی رویئے تک کوئی بھی موضوع نہیں ہے، جس میں علی (ع) نے اپنی بلاغت لسانی اور فصاحت بیانی کے جوہر نہ دکھائے ہوں۔ حتی کہ جنگ کے دوران پڑھے گئے رجز و اشعار بھی فصاحت و بلاغت سے مرصع ہیں۔ مشکل سے مشکل ترین اور آسان سے آسان ترین موضوع کو بھی آپ (ع) نے فصاحت و بلاغت سے مزین کر دیا ہے۔ ایک عام موضوع سے آپ (ع) نے ایسے ایسے بلیغ نکات نکالے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ کے کلام میں ادب اور انشاء پردازی اس قدر نمایاں ہے کہ اہل ادب و اہل عرب میں یہ بات مسلمہ سمجھی جاتی ہے کہ اگر کسی نے فنِ تحریر و تقریر میں کمال حاصل کرنا ہو تو اسے امیرالمومنین کے کلام عالی مقام کا مطالعہ و مشاہدہ کرنا چاہیئے اس کے بغیر کبھی بھی انسان ایک ادیب و شاعر و انشا پرداز و خطیب نہیں بن سکتا۔

ہم علی (ع) کی فصاحت و بلاغت پر جتنا لکھیں اور بیان کریں وہ ایک قطرے کی حیثیت کا حامل بھی نہیں ہو سکتا، علی (ع) کی فصاحت و بلاغت کا اقرار و اظہار بھلا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ علی (ع) کا کلام خالق کے کلام کے نیچے اور تمام مخلوق کے کلام سے بالا و فوقیت کا حامل ہے۔ یقیناً ایسا ہی ہے کہ صدیوں سے موجود نہج البلاغہ اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتی چلی آ رہی ہے اور تاقیامت کرتی رہے گی اور علی (ع) کا کلام قیامت تک مخلوق کے کلام سے افضل و برتر رہے گا۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری

 

 

ایرانی قوم کی استقامت نے دنیا کی بہت سی شخصیات کو "خالی ہاتھ سے مقتدرانہ دفاع" کا معتقد بنا دیا

 تہران میں فوجی کمانڈروں کیساتھ ہونیوالی ملاقات مِیں رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ ایران نے وسائل و ذرائع کی شدید قلّت کے باوجود 8برس تک دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا اور انھیں ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے کسی بھی مذموم مقصد میں کامیابی حاصل کرسکیں۔
خدا پر توکل اور عزم راسخ کے ذریعے منہ زور اور سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، رہبر انقلاب
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ آٹھ سالہ مقدس دفاع کے تجربے نے ثابت کر دکھایا ہے کہ تمام تر مشکلات اور دباؤ کے باوجود، پختہ عزم و ارادے اور خدا پر توکل کے ساتھ عالمی طاقتوں کی بے جا توقعات اور منہ زوری کے مقابلے ميں ڈٹا جاسکتا ہے۔ اسلامی جمہوری ایران میں ہفتۂ دفاع مقدس کی مناسبت سے فوجی کمانڈروں سے اپنے خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی نے دفاع مقدس کے دور کو ملت ایران کی عزت و آبرو کا باعث قرار دیا اور کہا کہ آٹھ سالہ مقدس دفاع میں ملت ایران کی استقامت و پائمردی کے سبب، مسلم اور غیر مسلم ممالک کی بہت سی بااثر شخصیات اور  فعال ذہنوں نے، ایرانی عوام کے خالی ہاتھ مقتدرانہ دفاع پر بھرپور اعتقاد پیدا کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ آٹھ سالہ مقدس دفاع، ایک ایسا جاری و ساری سرچشمہ ہے کہ جسے جتنا صحیح طریقے سے سمجھا جائے گا، اتنا ہی ایرانی قوم اور ایران کے مستقبل کیلئے مفید واقع ہوگا۔ انہوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے وسائل و ذرائع کی شدید قلّت کے باوجود آٹھ برسوں تک دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا اور انھیں ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے کسی بھی طرح کے مذموم مقصد میں کامیابی حاصل کرسکیں۔
 
انقلاب اسلامی کے سپریم لیڈر نے مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران کے خلاف، مشرق و مغرب اور ان سے وابستہ عناصر کے محاذ کی تشکیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم محاذ کی تشکیل کا مقصد اسلامی نظام کو کمزور کرنا، اندرونی مشکلات میں گرفتا کرنا اور آخر کار ایران کے اسلامی جمہوری نظام کا شیرازہ بکھیرنا تھا لیکن ایران کی قوم اور حکومت نے تمام تر وسائل و ذرائع کی کمی اور بے پناہ مشکلات کے باوجود، اس محاذ کے مقابلے میں استقامت کی اور سربلندی و افتخار کے ساتھ میدان سے سرخرو نکلی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلط کردہ جنگ کے اخراجات خاص طور پر انقلاب اسلامی کے لئے شہداء کی عظیم قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلط کردہ جنگ کے مادی اور معنوی نقصانات اور اخراجات بہت زيادہ تھے لیکن اس کے باوجود ایرانی قوم نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں عظیم نتائج اور تجربات حاصل کئے۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه پنجم مهر ۱۳۹۳
 
جو انسان کسی بھی گفتگو کرنے والے کی باتوں کو توجہ اور دھیان سے سنے اور اس کی جانب مائل ہو، اُس کی بات توجہ سے سننے کے بعد کہنے والے کو دل دے بیٹھے اور اسے پسند کرنے لگے تو وہ سننے والا اُس کا غلام، بندہ اور عبادت کرنے والا بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ گفتگو کرنے والا اللہ کی طرف و بارگاہ سے اُس کی مرضی و منشا اور خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بات کرے اور دین کی شریعت و احکامات کو بیان کرے تو گویا اُس سننے والے نے اللہ کی عبادت کی اور اگر وہ بولنے والا شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر زبان شیطان کا ترجمان بن جائے اور مادیت اور خواہشاتِ نفسانی کی باتیں کرے تو وہ دھیان اور توجہ سے سننے والا اور اس کی باتوں کو دل دینے والا شیطان کا غلام، بندہ اور اس کی پرستش کرنے والا ہو جائے گا۔
حضرت امام تقی جواد (ع) کی چند خوبصورت تربتیی احادیث
ترجمہ و تشریح: علامہ صادق تقوی 
مشاور خانوادہ و جوانان


الف۔ مومن کو کن اہم چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے؟!
1۔ الْمُؤمِنُ يَحْتاجُ إلى ثَلاثِ خِصالٍ: تَوْفيقٍ مِنَ اللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ، وَ واعِظٍ مِنْ نَفْسِهِ، وَقَبُولٍ مِمَّنْ يَنْصَحُهُ.
ترجمہ: مومن کو تین خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے:
1۔ اللہ کی جانب سے عمل کیلئے ملنے والی توفیق
2۔ نفس کا نصیحت کرنا
3۔ کسی نصیحت کرنے والے کی نصیحت کا قبول کرنا
تربیتی نکات:
1۔ مومن انسان کو اپنے ایمان کی سلامتی، اس ایمان کے نتیجے میں انجام دیئے جانے والے عمل کی بہتری، دنیوی ترقی اور اخروی نجات کیلئے تین صفات کا اپنانا لازمی و ضروری ہے!
2۔ انسان کو نیک عمل، کامیاب زندگی اور اچھے کام کرنے کیلئے توفیق کی ضرورت ہوتی ہے۔
3۔ اللہ تمام بندوں کو یکساں توفیق عطا کرتا ہے، یہ بندے ہوتے ہیں جو نعمت، وقت اور فرصت کے لمحات کو ضائع کرکے بے توفیق ہو جاتے ہیں۔
4۔ اللہ کی عطا کردہ توفیق ہی سے انسان عمل کرتا ہے تو وہ اللہ کی جانب سے مزید توفیقات کو حاصل کرنے کا حقدار قرار پاتا ہے۔
5۔ ایک کامیاب انسان کیلئے جہاں بیرونی نصیحت، ناصح اور خیر خواہ کی ضرورت وہتی ہے، وہیں لازمی ہے کہ انسان کے اندر سے اس کا قلب و ذہن اور فکر و سوچ اُسے نصیحت کرنے والی ہو۔ بیرونی نصحیت یقیناً راہ گُشا ہوتی ہے لیکن اندرونی نصیحت انسان کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
6۔ نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو سننا انسان کی نجات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ب: کس کی بات کیسے سنیں؟!
 مَنْ أصْغىٰ إلىٰ ناطِقٍ فَقَدْ عَبَدَهُ، فَإنْ كَانَ النّاطِقُ عَنِ اللّٰہِ فَقَدْ عَبَدَ اللّهَ، وَ اِنْ كانَ النّاطِقُ يَنْطِقُ عَنْ لِسانِ إبليس فَقَدْ عَبَدَ إبليسَ.
ترجمہ: جو کسی بھی گفتگو کرنے والے کی باتوں کو توجہ اور دھیان سے سنے (اس کی جانب مائل ہو اور اسے پسند کرنے لگے) تو وہ اُس کا غلام اور بندہ ہے، اور اگر وہ گفتگو کرنے والا اللہ (اور اس کی شریعت و احکام دین) کی باتیں کرے تو (گویا) اُس (سننے والے) نے اللہ کی عبادت کی اور اگر وہ بولنے والا زبان شیطان کا ترجمان ہو (اور مادیت اور ہوا و ہوس کی باتیں کرے) تو وہ (دھیان اور توجہ سے سننے والا) شیطان کا غلام اور بندہ کہلائے گا!!

تربیتی نکات:
1۔ اصغیٰ یعنی بات کرنے والے کی بات کو نہ صرف دھیان و توجہ سے سننے والا لیکن ساتھ ہی اُسے اپنا دل دینے والا۔
2۔ اصغیٰ فعل ماضی ہے یعنی جس نے بھی ایک بار کسی کو بات کو دھیان و توجہ سے سنا اور اپنا دل دے بیٹھایا، ممکن ہے کہ ایسے سننے والے کم ہوں لیکن بولنے والے بہت سے مل سکتے ہیں۔ یہاں امام نے ''ناطق'' کا لفظ استعمال کیا ہے، جس کا معنٰی یہ ہوگا کہ بولنے والا! یہ بولنے اور گفتگو کرنے والا ہر دور اور زمانے میں پایا جاتا ہے، ماضی میں بھی، حال میں بھی اور مستقبل میں بھی۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ بولنے والا ہر عہد و زمانے میں پایا جاسکتا ہے لیکن دھیان و توجہ سے سننے والا اور اُسے دل دینے والا اپنے ارادے سے یہ کام کرے گا!
3- ''عَبَدَ'' کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ اُس نے عبادت کی یعنی بات کو دل دینے والے نے خود کو اس بات کرنے والے کا غلام بنا دیا اور اُس کا بندہ اور پرستش کرنے والا بن گیا۔
4۔ ''عَنِ اللّهِ'' کا اشارہ اس جانب ہے کہ یعنی اللہ کی جانب سے، اس کے حکم و منشاء کے مطابق، اگر ''مِنْ'' کا لفظ استعمال کیا جاتا تو جملے میں وہ خوبصورتی پیدا نہ ہوتی۔ ''عَنِ اللّهِ'' یعنی بظاہر اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ جو اللہ تک پہنچے اور پھر اللہ کی طرف اور اس کی بارگاہ سے اس کے حکم و فرمان کے مطابق کوئی بات کرے۔
5۔ جب ''عَنِ اللّهِ'' یعنی اللہ کی طرف و بارگاہ سے اس کی مرضی و منشا کے مطابق کہہ دیا تو اس کا لازمی معنٰی یہ ہوگا کہ ایسا انسان ایسی ہی بات کرے گا جو اللہ کی مرضی کے عین مطابقت رکھتی ہوگی۔

6۔ اللہ کی باتوں کو بیان کرنے والے کا گرویدہ ہونے والا ایسا ہے جیسے اس نے اللہ کی عبادت کی۔ یہاں سے اللہ کی جانب سے بات کرنے والے کا مرتبہ سامنے آتا ہے، یعنی دل و جان سے خدائی مرضی و منشا کے مطابق کلام کرنے والا سننے والے انسان کو خدا کی عبادت تک پہنچا سکتا ہے۔
7۔ ''النّاطِقُ يَنْطِقُ'' کے الفاظ اِس بات کی حکایت کر رہے ہیں کہ ابلیس و شیطان کی جانب سے، وسوسے، خواہشاتِ نفسانی، دنیا پرستی اور مادیت نیز اللہ سے دور ہوجانے کی باتیں کرنے والا۔
8۔ ''يَنْطِقُ'' کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ کہ ابلیس و شیطان کی جانب سے بولنے والا ایسا نہیں ہے کہ وہ ھمیشہ ابلیس ہی کی جانب سے کلام کرے۔
9۔ ''عَنْ لِسانِ إبليس''، اوپر فرمایا تھا کہ "عَنِ اللہ" یعنی اللہ کے پاس سے کلام کرنے والا لیکن ''عَنْ لِسانِ إبليس'' یعنی ابلیسی زبان بولنے والا کا جملہ یہ بتا رہا ہے کہ شیطان و ابلیس انسان تک نہیں آسکتے، وہ صرف وسوسہ کرتا ہے، بہکاتا اور گمراہ کرتا ہے، یعنی بات کرنے والا ضروری نہیں ہے کہ ابلیس تک پہنچے یا ابلیس اس تک آئے بلکہ گمراہ کرنے کا کام وسوسوں، برے اور شیطانی خیالات سے بھی ممکن ہے۔
10۔ یہاں سے شیطانی وسوسوں کا شکار ہونے والے انسان کی پستی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، یعنی شیطانی و ابلیسی وسوسوں سے لبریز بات کرنے والا انسان اپنی بات کے سننے والے کو شیطان و ابلیس کی عبادت تک پہنچا سکتا ہے۔

پس اِن تمام تربیتی نکات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام محمد تقی (ع) یہ فرمانا چاہتے ہیں:
جو انسان کسی بھی گفتگو کرنے والے کی باتوں کو توجہ اور دھیان سے سنے اور اس کی جانب مائل ہو، اُس کی بات توجہ سے سننے کے بعد کہنے والے کو دل دے بیٹھے اور اسے پسند کرنے لگے تو وہ سننے والا اُس کا غلام، بندہ اور عبادت کرنے والا بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ گفتگو کرنے والا اللہ کی طرف و بارگاہ سے اُس کی مرضی و منشا اور خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بات کرے اور دین کی شریعت و احکامات کو بیان کرے تو گویا اُس سننے والے نے اللہ کی عبادت کی اور اگر وہ بولنے والا شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر زبان شیطان کا ترجمان بن جائے اور مادیت اور خواہشاتِ نفسانی کی باتیں کرے تو وہ دھیان اور توجہ سے سننے والا اور اس کی باتوں کو دل دینے والا شیطان کا غلام، بندہ اور اس کی پرستش کرنے والا ہو جائے گا۔

ج: بامقصد و بامعرفت عبادت!!
امام تقی الجواد علیہ السلام کی ایک پُر معنٰی حدیث:
القَصدُ إلَى اللّه ِ تعالي بِالقُلُوبِ ، أبلَغُ مِن إِتعابِ الجَوارِحِ بِالأعمالِ ؛
(کتابخانہ احادیث شیعہ حدیث نمبر: 200680)
امام جواد علیہ السلام: دل سے خدا کے نزدیک ہونا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اِس بات کے کہ انسان اپنے اعضاء و جوارح کو (بے مقصد و خالی و کھوکھلے) اعمال سے خستہ حال کر دے۔
وضاحت: دل یعنی غور و فکر اور تدبر سے خدا کے نزدیک ہونا اعضاء و جوارح کو تھکانے والے ان اعمال سے زیادہ بہتر ہے جو خالی اور کھوکھلے ہوتے ہیں۔ انسان بعض اوقات بے مقصد، معرفت سے خالی اور بے ہدف اعمال بجا لا کر سمجھتا ہے کہ وہ اللہ سے قریب ہو رہا ہے، لیکن امام فرماتے ہیں کہ ایسا انسان صرف اپنے اعضاء و جوارح کو تھکاتا اور اپنے آپ کو خستہ حال اور ہلکان کرتا ہے۔
اسی لئے حدیث میں ہے: ایک گھنٹہ غور و فکر ستر سال کی (معرفت سے خالی اور بے ہدف) عبادت سے افضل ہے۔ اس لئے کہ یہ غور و فکر انسان کو ایسی بامعرفت عبادت کی جانب لے جاتا ہے جو ہزاروں سال سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں بامقصد و بامعرفت عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

د: برے دوست کے اثرات!!
إيّاكَ وَ مُصاحَبَةُالشَّريرِ، فَإنَّهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ، يَحْسُنُ مَنْظَرُهُ وَ يَقْبَحُ اءثَرُهُ.
ترجمہ: خبردار! ہوشیار! شریر، برے اور برائی رکھنے والے افراد سے دوستی نہ کرو، اِس لئے کہ وہ ایک ایسی زہریلی اور تیز دھار تلوار کی مانند ہے کہ جس کا ظاھر خوبصورت اور اثر انتہائی برا اور خطرناک ہے۔
تربیتی نکات:
1۔ مصاحبت یعنی صحبت، ساتھ دینا، نشست و برخاست؛ یعنی تم پر لازمی ہے کہ تم ہوشیار و خبردار رہو کہ کسی برے دوست کے ہمنشین بنو!
2۔ ایسا برا دوست بظاہر چمکنے والی برندہ تلوار کی مانند ہوتا ہے کہ جس کا ظاہر اور چمک دمک انسان کیلئے دلربا کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اس کا اثر دوستی کرنے والے انسان کے ایمان کیلیے تیز دھار والی تلوار سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
3۔ برا دوست کبھی اہنے آپ کو برا نہیں کہے گا بلکہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو آپ کو خیر خواہ اور ناصح بنا کر پیش کرے گا۔

ھ: برادران دینی سے ملاقات کا فائدہ!
ملاقاةُ الاِخوانِ نَشْرَةٌ، وَ تَلْقيحٌ لِلْعَقْلِ وَ إ نْ كانَ نَزْرا قَليلا.
ترجمہ: اچھے دوستوں اور برادران دینی سے ملاقات دل کی نوراینت کا سبب نیز عقل و دانائی کے بڑھنے کا عامل بھی ہے، خواہ کم اور مختصر وقت ہی کیلئے کیوں نہ ہو۔
تربیتی نکات:
1۔ دینی برادران سے ملاقات اتنی ہی ضروری ہے جتنا کم عقل، کند ذھن، برے دوستوں اور مکار اور جھوٹوں سے اجتناب۔
2۔ ہر ملاقات کا اپنا فائدہ ہوتا ہے، اچھے دوست اور برادران دینی سے ملاقات کا اچھا فائدہ اور برے دوستوں سے ملاقات کا اپنا منفی اثر۔
3۔ دل کی نورانیت کی حفاظت کیلئے ضروری ہے کہ انسان ایسے گناہگار افراد سے میل جول ترک کر دے جن کے گناہوں کا انسان پر اثر ہوتا ہے۔ اِسی طرح نورانیت قلب کو بڑھانے کیلئے برادران دینی سے ملاقات ضروری ہے، تاکہ ان کی اچھی باتیں، نیک نیتی، پاکیزہ عمل و کردار کا اثر ہوسکے۔
4۔ عقل اور عقلی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ دوسروں کے مفید تجربات سے استفادہ کیا جائے، نیک اور اچھے کردار کے حامل افراد نیک نیتی کی بنا پر دوسروں تک اپنے تجربات کو منتقل کرتے ہیں، تاکہ وہ زندگی میں شکست سے دوچار نہ ہوں۔
5۔ ضروری نہیں کہ اچھے دوستوں سے ملاقات کیلئے کوئی لمبا چوڑا وقت نکالا جائے اور زیادہ دیر تک ان کی نشست کو اختیار کیا جائے، بلکہ عقلمند انسان دوسروں کی اچھائیوں کو اپنا کر اپنا حصہ لے لیتا ہے اور غور و فکر کے ذریعہ اس میں وسعت و عمق پیدا کرتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اِن احادیث پر عمل کرنے والا قرار دے اور ہمیں امام جواد (ع) کے سچے پیروکاروں میں سے قرار دے۔ آمین


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : سه شنبه بیست و پنجم شهریور ۱۳۹۳
 

ایران کے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کی صحت و سلامتی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آپکی طول عمر اور مکمل صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کا وجود اسلامی نظام کے ترقی و پیشرفت کا ضامن ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور ۱۳۹۳

ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک نئے میزائل اور دو راڈار سسٹمز کو متعارف کرایا ہے۔ان کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ ان سے ملک کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
ایرانی فضائیہ کے سربراہ جنرل فرزاد اسماعیلی نے کہا ہے کہ تلاش 3 میزائل سے فورسز دشمن کے کسی بھی ہدف کو نشانہ بناسکیں گی۔انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میزائل کا حال ہی میں کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے اس کی رینج نہیں بتائی ہے۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور ۱۳۹۳
 

اقوام متحدہ کی ایڈ ایجنسی نے آج ایک تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ غزہ پٹی پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے سبب ایک لاکھ آٹھ ہزار فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق غزہ پٹی کی قریب 18 ہزار ہاؤسنگ یونٹس جو اس علاقے میں قائم گھروں کا تیرہ فیصد ینتے ہیں، اسرائیلی بمباری سے یا تو نیست و نابود ہو چُکے ہیں یا انہیں بُری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اس بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے تعاون کے دفتر کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ پٹی میں امدادی کام کرنے والے اداروں نے کہا ہے کہ اس علاقے میں آنے والی تباہی بہت زیادہ ہے۔ یو این ایجنسی کے ترجمان جینس لائیرک نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین ایک ہفتے کی فائر بندی پر رضا مندی کے بعد غزہ پٹی میں آنے والی تباہی کا اندازہ لگانا ممکن ہوا۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور ۱۳۹۳

 

جی بی کے قوم پرست رہنما نے کہا ہے کہ عوام پر ریاستی اداروں کی طرف سے ظلم و بربریت کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اگر ہمیں اس نظام میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا تو ہمارا کیا بنے گا۔

گلگت بلتستان کی عوام  آزادی و انقلاب مارچ سے سبق حاصل کریں، منظور پروانہ
اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے رہنماء نے کہا ہے کہ پاکستان میں مقیم گلگت بلتستان کی عوام اپنے جان و مال کی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے دھرنوں اور احتجاجی پرگراموں میں شرکت سے گریز کریں۔ اسلام آباد میں حکومت اور عوام کے درمیان تصادم اور پر تشدد ہنگامہ آرائی نے ریاست میں ہیجانی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے، یہ تصادم آئینی حقوق کے حامل پاکستان کے عوام کا حکمرانوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے چیئرمین منظور پروانہ نے گلگت بلتستان کے عوام کے نام ایک پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس ریاست میں حقوق مانگنے والوں کو گولی مار دی جاتی ہو، اور آئین کی تقدس اور اطلاق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو تشدد اور ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہو ایسی ریاست میں اپنے لئے آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو اب اپنے مطالبے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو لوگ ایک آزاد قوم کو ظلم و بربریت سے بھرے نظام کے حوالے کرنا چاہتے ہیں وہ قوم کے غدار ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام انقلاب اور آزادی مارچ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی تشخص کو بحال رکھنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔

منظور پروانہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 35 سیٹیں رکھنے والی جماعت کے سربراہ کے مطالبات پر توجہ دینے والا کوئی نہیں۔ ان کے کارکنوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں اور موت کے گھاٹ اتارے جا رہے ہیں ایسے حالات میں گلگت بلتستان کے لئے قومی اسمبلی میں سیٹوں کا مطالبہ کرنے والے گلگت بلتستان کے مذہبی و سیاسی نمائندے ہمیں یہ بتائیں کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو کس عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے کروڑوں عوام موجودہ نظام حکومت کے خلاف بغاوت کر رہی ہے ان حالات میں گلگت بلتستان کے عوام کے گردن میں اس نظام کا طوق پہنانے کے لئے الٹے پلٹے تجاویز دینے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ عمران خان اور قادری کے دھرنوں میں شریک عوام پر ریاستی اداروں کی طرف سے ظلم و بربریت کو اپنے آنکھوں سے دیکھنے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اگر ہمیں اس نظام میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا تو ہمارا کیا بنے گا۔ نواز حکومت عوام میں پاکستان کا اچھا امیج پیدا کرے تاکہ پاکستان کے عوام کی حب الوطنی متزلزل نہ ہو سکے، طاقت کے استعمال سے لوگوں کی وطن پرستی کو آزمانے کا سلسلہ نہیں روکا گیا تو پشیمانی اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور ۱۳۹۳

 

تقریب سے صدر ٹیچر ایسوسی ایشن نے کہا کہ اساتذہ کے جرات کو سلام پیش کرتے ہیں جہنوں نے 67 سال سے بے آئین سرزمین کے باسی ہونے کے ناطے کبھی آواز بلند نہیں کی۔

گلگت، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے زیراہتمام تقریب کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے یوم دفاع کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی ڈائیریکٹر محکمہ تعیلم فرید اللہ خان تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائیریکٹر نے کہا کہ اساتذہ محنت اور لگن سے پڑھائی پر توجہ دیں۔ اساتذہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے اپنے آپ کو تیار کرے کہ شاگردوں کو کس طرح کے برتاو کرے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹیچر ایسوسی ایشن حاجی شاہد حسین نے کہا کہ پاک فوج ملک کے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اساتذہ نظریاتی سرحدوں کی حفاطت کرتے ہیں۔ اساتذہ کے جرات کو سلام پیش کرتے ہیں جہنوں نے 67 سال سے بے آئین سرزمین کے باسی ہونے کے ناطے کبھی آواز بلند نہیں کی۔ تقریب سے ڈائیریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی دالدار حسین اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ طلباء و طالبات نے ملی نغمے گایے آخر میں مہمان خصوصی نے طلباء وطالبات میں اسناد تقسیم کیے۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری

 

بی این ایف کے رہنماء نے کہا ہے کہ 67 سال کی تاریخ نے ثابت کر دیا کہ کشمیری جی بی سے مخلص نہیں بلکہ جہاں بھی موقع ملا کشمیریوں نے جی بی کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

آزاد کشمیر میں گلگت بلتستان کے طلباء کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، عبدالحمید
اسلام ٹائمز۔ بالاورستان نیشنل فرنٹ کے چیئرمین عبدالحمید خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جس طرح ریاست جموںو کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اسی طرح ریاست گلگت بلتستان بھی متنازعہ علاقہ ہے۔ ایک خصوصی بیان میں عبدالحمید خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کو جبر و طاقت سے آزاد کشمیر نہ ہی پاکستان کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اس لئے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق یہ دونوں کا حصہ نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا چوتھا فریق ہے جس کی اپنی شناخت، پہچان، زبان اور تاریخ ہے۔ عبدالحمید خان نے کہا کہ 67 سال کی تاریخ نے ثابت کر دیا کہ کشمیری گلگت بلتستان سے مخلص نہیں بلکہ جہاں بھی موقع ملا کشمیریوں نے گلگت بلتستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کیا، نیٹکو بس کو آزاد کشمیر میں نہیں چلنے دیا اور اب کوٹلی آزاد کشمیر میں گلگت بلتستان کے طلبہ کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایسا پہلی بار نہیں ہوا ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے لیکن گلگت بلتستان کے عوام نے صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا لیکن تازہ واقعہ نے تو ثابت کر دیا کہ کشمیری اپنی سر زمین پر گلگت بلتستان کے طلبہ کا وجود بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ دہشت گردی میں ملوث کشمیری طلبہ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کا نہ ہونا بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ بھی اس حملے میں ملوث ہے۔ عبدالحمید خان نے کہا کہ یہ واقعہ ان گروہوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے جو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ایک اکائی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور ۱۳۹۳

 

: کشمیری طلبہ کے ڈنڈوں اور چاقوں کے وار سے گلگت بلتستان کے ساتوں اضلاع کے 15 سے زائد طلبہ شدید زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں طلبہ اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

کوٹلی آزاد کشمیر میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کے طلبہ پر کشمیریوں کا دھاوا
رپورٹ: میثم بلتی

یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آزاد کشمیر کوٹلی میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کے ساتوں اضلاع سے تعلق رکھنے والے 25 سے زائد طلبہ پر اسلحہ سے لیس 200 سے زائد ڈنڈا بردار کشمیری طلبہ نے حملہ کر دیا۔ حملہ کے دوران گلگت بلتستان کے طلبہ اور کشمیری طلبہ میں شدید تصادم ہوا۔ تصادم کے نتیجے میں کشمیری طلبہ کے ڈنڈوں اور چاقوں کے وار سے گلگت بلتستان کے ساتوں اضلاع کے 15 سے زائد طلبہ شدید زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں طلبہ اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ زخمی طلبہ کو پولیس نے فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کوٹلی منتقل کر دیا ہے جہاں ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ طلبہ کے دنوں گروپوں کے مابین تصادم اس وقت پیش آیا جب گلگت بلتستان کے طلبہ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک عقب کی جانب سے ہاتھ میں ڈنڈے اور چاقو لیے 200 سے زائد کشمیری طلبہ نے ان پر اندھا دھند حملہ کیا اور آدھے گھنٹے تک گلگت بلتستان کے طلبہ کو حراست میں لے کر ان کی خوب پٹائی کر ڈالی اور لہولہان کر دیا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ تصادم میں گلگت بلتستان کے 15 سے زائد طلبہ شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں کاشف اسکردو، مہتاب الرحمان چلاس، اشرف اسکردو، لیاقت اسکردو، فدا اللہ داریل، جاوید غذر، سہیل عباس ہنزہ، مرتضیٰ داریل، کاشف اسکردو، ظہور اسکردو، نظیر احمد اسکردو، ساجد اسکردو شامل ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ پر حملہ کرنے والے کشمیری طلبہ پر کشمیر کی انتظامیہ نے ایف آئی آر درج کر دی ہے تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور ۱۳۹۳

 

پولیس کیجانب سے مظاہرین پر شدید شیلنک کی گئی جس میں تین افراد شہید اور چھ سو سے زائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو اسلام آباد کے پولی کلینک اور پمز اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں زخمیوں کی بڑی تعداد کو ابتدائی طبی امداد دیکر ڈسچارج کر دیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد ۱۳۹۳
 

اگرچہ ہماری اب تک کی ہونے والی بات سے مذہبی ایمان کے آثار کسی حد تک واضح ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہم نے اس معنوی دنیا اور زندگی کے اس قیمتی ترین سرمایہ کے بابرکت آثار سے آشنائی کے لئے ایک الگ موضوع بحث قرار دیا ہے۔

ایک روسی مفکر "ٹالسٹائے" کہتے ہیں:

"ایمان وہ چیز ہے جس کے ساتھ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں۔"

حکیم ناصر خسرو علوی بیٹے سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

زدنیا روی زدین کروم ایراک

مرا بی دین جھان چہ بود و زندان

مرا پور از دین ملکی است در دل

کہ آن ہرگز نخواہد گشت ویران

" میں نے دنیا سے دین کی طرف رخ اس لئے کیا ہے کہ بغیر دین کے دنیا میرے لئے ایک زندان کے سوا کیا ہے اے بیٹے میرے دل پر دین کی حکومت ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔"

مذہبی ایمان بہت سارے بابرکت اور نیک آثار کا حامل ہے۔

یہ سرودوشادمانی اجتماعی روابط کی اصلاح اوران پر یشانیوں کے خاتمہ کا باعث بنتی ہے جو اس کائنات کی بودو باش کا لازمہ ہیں۔ مذہبی ایمان کے آثار تین عناوین کے تحت درج ذیل ہیں:

(الف) سرور و انبساط

سرور خوشی اور مسرت پیدا کرنے کے حوالے سے مذہبی ایمان کا سب سے پہلا اثر یہ ہے کہ ایمان کائنات خلقت اور ہستی کے بارے میں انسان کو خوش بین بنا دیتا ہے۔ مذہبی ایمان کائنات کے بارے میں انسان کو ایک خاص نقطہ نظر عطا کرتا ہے۔

اس طرح سے خلقت کو بامقصد قرار دیتا ہے اور یہ مقصد اس کے نزدیک خیر سعادت اور کمال کی طرف بڑھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نظام ہستی کو بحیثیت مجموعی اور اس پر حاکم قوانین کے بارے میں انسان کو خوش بین بنا دیتا ہے اس نظام ہستی میں موجود ایک باایمان شخص کی حالت ایک ایسے فرد کی سی ہوتی ہے جو ایک ایسے ملک میں رہتا ہے جس کے قوانین اداروں اور نظام کو وہ صحیح اور عادلانہ سمجھتا ہے۔ ملکی حکام کے حسن نیت پر بھی ایمان رکھتا ہے اپنی اور دوسروں کی ترقی و پیش رفت کے لئے راہیں ہموار سمجھتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اس کی اور اس جیسے مکلف اور ذمہ دار افراد کی پسماندگی کا باعث اگر کوئی چیز ہو سکتی ہے تو وہ ان کی اپنی سستی اور ناتجربہ کاری ہی ہے۔

ایسے شخص کی نظر میں پسماندگی کا باعث وہ خود ہے اس میں ملک کے نظام اور اداروں کا کوئی قصور نہیں۔ جو بھی کمی ہو گی اس کا سبب وہ خود ہوگا اور اس جیسے دوسرے وہ تمام لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ یہ غور و فکر اسے غیرت دلاتا ہے اور اسے خوش بینی اور اچھی امیدوں کے ساتھ حرکت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

لیکن ایک تہی ایمان آدمی کی نظام ہستی میں مثال یوں ہے جیسے کوئی فرد کسی ایک ایسے ملک میں رہتا ہو جس کے نظام یا قانون قاعدے ضابطے اور اداروں وغیرہ سب کو وہ غلط اور ظالم سمجھتا ہے۔ لیکن ان سب کو قبول کرنے پربھی مجبور ہے۔ ایسے فرد کے باطن ہمیشہ ناپسندیدگی کی ایک گرہ کی سی کیفیت بھی رہتی ہے۔ وہ کبھی اپنی اصلاح کے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ خیال کرتا ہے کہ جہاں زمین و آسمان سب ناہموار ہیں سب عالم ہستی ظلم و جور اور بے انصافیوں کا مجسمہ وہاں مجھ جیسے ایک ذرے کی اصلاح کا کیا فائدہ ہو گا؟

ایسا فرد دنیا سے کبھی لذت نہیں پاتا اس کے لئے دنیا ہمیشہ ایک ہولناک زندان کی مانند ہوتی ہے اسی پر قران کریم نے کہا ہے کہ

ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکا (سورہ طہ آیت ۱۲۴)

"جو کوئی میری یاد میرے ذکر سے رو گردانی کرے گا تو اس کی زندگی بہت تنگی اور دباؤ میں بسر ہو گئی۔"

یقینا ایمان ہی ہمارے اندر ہماری جانوں میں زندگی کو وسعتیں عطا کرتا ہے اور ہمیں روحانی امور کے دباؤ سے بچاتا ہے۔

خوشی و مسرت کے حوالے سے مذہبی ایمان کا دوسرا اثر روشن دلی ہے انسان جونہی دنیا کو مذہبی ایمان کے تحت حق و حقیقت کے نور سے روشن و منور دیکھتا ہے۔ تو یہی روشن بینی اس کے روح کو بھی منور کر دیتی ہے۔ روشن بینی ایک ایسا چراغ بن جاتی ہے جو اس کی ذات کے اندر جل رہا ہوتا ہے۔

ایمان سے خالی آدمی کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ دنیا اس کی نظروں میں ہیچ و پوچ بے معنی اور تاریک ہوتی ہے۔ اسی لئے دنیا میں جسے اس نے تاریک و اندھیر فرض کیا ہوا ہے اس کا دل بھی تاریک رہتا ہے۔

خوشی و مسرت ہی کے حوالے سے مذہبی ایمان کا تیسرا اثر اچھے نتیجے اور اچھی جدوجہد کے بارے میں پرامید ہونا ہے۔

مادی فکر کے اعتبار سے یہ جہان لوگوں کے بارے میں غیر جانبدار اور لاتعلق ہے۔ لوگ خواہ حق پر ہوں یا باطل پر عدل و انصاف کا دامن تھامیں یا ظلم و ستم کو پیشہ بنائیں صحیح راستے پر ہوں یا غلط راہوں پر چل نکلیں۔ ان کا نتیجہ صرف ایک ہی چیز پر منحصر ہے اور وہ ہے مقدار کوشش اور بس۔ لیکن باایمان شخص کی نظر و فکر میں یہ کہ اس جہاں میں دونوں گروہوں کی کوشش و جدوجہد کے حوالے سے کائنات کا ردعمل ایک جیسا نہیں ہوتا بلکہ نظام خلقت ان لوگوں کا حامی ہے جو حق و حقیقت عدالت و خیرخواہی اور صحیح و درست راستوں پر محنت و کوشش کرتے ہیں۔

ان تنصرو اللّٰہ ینصرکم

"اگر آپ خدا کی مدد کریں (حق کے راستے میں قدم بڑھائیں) تو خدا بھی آپ کی مدد کرے گا۔"( سورہ محمد آیت ۷)

ان اللّٰہ لا یضیع اجر المحسنین

"بے شک خدا نیک لوگوں کا اجر و صلہ کبھی ضائع نہیں کرتا۔"( سورہ توبہ ۱۲۰)

خوشی و مسرت ہی کے اعتبار سے مذہبی ایمان کا چوتھا اثر "سکون قلب" ہے۔ انسان فطرتاً اپنی سعادت کا خواہاں ہے۔ سعادت کے حصول کے تصور ہی سے شہرت و خوشی میں غرق ہو جاتا ہے۔ ہولناک تاریک اور محرومیوں سے مستقبل کی سوچ ہی سے اس کے تن بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ انتہائی پریشان و مضطرب ہو جاتا ہے۔ دو چیزیں انسان کی سعادت کا باعث ہوتی ہیں:

۱۔ جدوجہد ۲۔ موافق حالات پر اطمینان

طالب علم کی کامیابی دو چیزوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔ پہلی اس کی اپنی کوشش اور جدوجہد۔ دوسری چیز مدرسے کا اچھا مدد کرنے والا ماحول اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنا شوق و رغبت دلانا۔ اگر کوئی محنتی اور لائق طالب علم اپنی پڑھائی کے ماحول سے مطمئن نہ ہو اور سال کے آخر میں نمبر دینے والے استاد پر اعتماد نہ رکھتا ہو اور غیر عادلانہ روش سے پریشان ہو تو سارا سال خوف و اضطراب میں مبتلا رہے گا۔

انسان اپنی ذمہ داری سے تو آگاہ ہوتا ہے۔ اس طرف سے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ اضطراب شک و شبہ سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ سے مربوط کسی چیز میں متذبذب و متردد نہیں ہوتا۔ جو چیز انسان کو شک و شبہ میں ڈالتی ہے اور انسان جس چیز سے متعلق اپنی ذمہ داری سے بے خبر ہوتا ہے وہ کائنات ہے۔

کیا اچھے کاموں کا کوئی فائدہ ہوتا ہے؟ کیا صداقت اور امانت بے کار چیزیں ہیں؟ کیا تمام تر محنت اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد نتیجہ محرومی ہی ہے؟ یہی مقام ہے جہاں اضطراب و پریشانی اپنی ہولناک ترین صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔

مذہبی ایمان تصویر کے دونوں رخ "انسان اور جہان" کو سامنے رکھتے ہوئے اعتماد اور اطمینان بخشتا ہے۔ دنیا کے سلوک سے متعلق انسان کی فکر و پریشانی ختم کرتا ہے اس کے بدلے انسان کو سکون قلب عطا کرتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ مذہبی آثار میں سے ایک سکون قلب ہے۔

مذہبی ایمان کا ایک اور مسرت بخش پہلو معنوی اور روحانی لذت کا حاصل ہے۔ انسان دو طرح کی لذت سے آشنا ہے۔ بعض لذتیں وہ ہیں جن میں انسان کی کوئی حس کسی خارجی چیز سے ایک خاص رابطہ قائم کرتی ہے۔ جیسے آنکھ دیکھنے سے کان سننے سے منہ چکھنے سے اور ہاتھ چھونے سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ ایک طرح کی لذتیں بھی ہیں جو انسان کے وجدان و روح سے متعلق ہیں اور کسی ایک خاص عضو سے مربوط نہیں ہوتیں۔ جیسے انسان نیکی اور خدمت کرنے سے لذت حاصل کرتا ہے۔ محبوب اور محترم ہو کر سرور پاتا ہے یا پھر اپنی اولاد کی کامیابی و کامرانی سے خوش ہوتا ہے ایسی لذتیں کسی خاص عضو سے متعلق نہیں ہوتیں اور نہ ہی براہ راست کسی ایک خارجی عامل کے زیراثر ہوتی ہیں۔

معنوی لذات مادی لذتوں کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور اور دیرپا بھی ہوتی ہیں۔ حق پرست عرفاء کو عبادت و بندگی خدا سے حاصل ہونے والی لذت ایک ایسی ہی لذت ہے۔ وہ عارف و عابد لوگ جن کی عبادت خضوع و خشوع اور حضور و استغراق سے مالا مال ہو وہ عبادت سے عظیم ترین لذتیں حاصل کرتے ہیں جسے دینی اصطلاح میں "طعم ایمان" اور "حلاوت ایمان" سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایمان کی حلاوت و شیرینی ہر حلاوت سے بڑھ کر ہے۔ لذت معنونی اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب علم احسان خدمت کامیابی و کامرانی جیسے امور دینی احساس کے ساتھ پھوٹیں۔ خدا کے لئے انجام پائیں اور عبادت کے زمرے میں آئیں۔

(ب) اجتماعی روابط کی اصلاح میں ایمان کا کردار

انسان بعض دوسرے جانداروں کی طرح اجتماعی طبیعت پر پیدا کیا گیا ہے۔ فرد اکیلا اپنی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ زندگی ایک کمپنی یا سوسائٹی کی صورت میں ہونی چاہئے جس میں حقوق و فرائض کے اعتبار سے ہر ایک حصہ دار ہو افراد میں ایک طرح کی تقسیم کار ہو۔ شہد کی مکھیوں میں ذمہ داریوں اور کام کی تقسیم ان کی سرشت اور فطرت کے حکم پر ہوتی ہے ان میں کام سے انکار یا نافرمانی کی طاقت نہیں ہوتی۔ ان کے برعکس انسان ایک آزاد اور خود مختار جاندار ہے اپنے کام کو ذمہ داری اور مسئولیت کے عنوان سے انجام دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اگرچہ دوسرے جانداروں کی ضروریات اجتماعی ہیں لیکن یہ اپنے جبلی و طبیعی امور کی انجام دہی پر مجبور ہیں۔ انسان کی ضرورتیں بھی اجتماعی ہیں۔ بغیر اس کے کہ ویسے جبلی تقاضے اس پر حکم فرما ہوں۔ انسان کی جبلی و فطری اجتماعی خواہشات اس کے اندر ایک "تقاضے" کی صورت میں ہوتی ہیں جنہیں تعلیم اور تربیت کے سائے میں پروان چڑھنا چاہئے۔

صحیح و سالم اجتماعی زندگی وہی ہے کہ افراد ایک دوسرے کے لئے قوانین حدود اور حقوق کا احترام کریں۔ عدل و انصاف کو ایک مقدس امر جانیں ایک دوسرے سے مہر و محبت سے پیش آئیں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کریں جسے خود نہیں چاہتے اسے دوسروں کے لئے بھی نہ چاہیں ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور اطمینان رکھیں دوسروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر ان کے لئے روحانی تکلیف کا باعث نہ بنیں۔ ہر شخص اپنے کو معاشرے کا ذمہ دار اور معقول فرد سمجھے۔ کھلے بندوں جس تقویٰ و پاکدامنی کا مظاہرہ کرتا ہے اپنی انتہائی خلوت میں بھی اسی تقویٰ و پاکدامنی کو تھامے رکھے۔ سب لوگ بغیر کسی لالچ کے ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کریں۔ ظلم و ستم کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں ظالم اور فاسد لوگوں کو من مانی نہ کرنے دیں اخلاقی قدروں کا احترام کریں ہمیشہ ایک جسم کے اعضاء کی مانند متحد و متفق رہیں۔

یہ مذہبی ایمان ہی ہے جو ہر چیز سے بڑھ کر حقوق کا احترام کرتا ہے عدالت کو مقدس سمجھتا ہے دلوں میں الفت و مہربانی ڈالتا ہے۔ ایک دوسرے کے دل میں اعتماد پیدا کرتا ہے انسان کے قلب و روح پر تقویٰ و پرہیزگاری کی حکومت قائم کر دیتا ہے۔ اخلاقی قدروں کو معتبر اور قابل قدر بناتا ہے ظلم و زیادتی کے مقابلے کے لئے شجاعت بخشتا ہے۔ تمام افراد کو ایک جسم کی مانند قرار دے کر متحد رکھتا ہے۔

حوادث سے انسانی تاریخ میں آسمانی ستاروں کی مانند انسان کی جو انسانی تجلیاں دکھائی دیتی ہیں یہ درحقیقت مذہبی احساسات کی کوکھ سے ہی جنم لئے ہوئے ہیں۔

(ج) پریشانیوں میں کمی

جہاں انسانی زندگی میں خوشی مسرت سرور و شادمانی کامیابی و کامرانی جابجا دکھائی دیتی ہے وہاں یہ زندگی مصیبت رنج ناکامی تلخی شکست اور محرومی کو بھی بہرحال اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ ان میں سے بہت سی مصیبتوں اور مشکلوں کو روکا جا سکتا ہے یا دور کیا جا سکتا ہے اگرچہ اس کے لئے بہت کوشش کرنا پڑے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ عالم طبیعت کے ساتھ پنجہ آزمائی کرنا اور تلخی کو شیرینی میں بدلنا انسان کی ذمہ داری ہے لیکن دنیا کے بعض واقعات اور حوادث ایسے ہیں جنہیں انسان روک سکتا ہے نہ انہیں دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے مثلاً بڑھاپا۔ انسان چاہے نہ چاہے اسے بڑھاپے کی طرف بڑھنا پڑتا ہے اور اس کی زندگی کا چراغ آہستہ آہستہ بجھتا چلا جاتا ہے۔ بڑھاپے کی ناتوانی کمزوری اور اس کے دیگر لوازمات زندگی کے چہرے کو مرجھا دیتے ہیں اس کے علاوہ موت اور نابودی کا خیال زندگی کو خیرباد کہنے کی فکر اپنے جانے اور دنیا دوسرے کے حوالے کرنے کی پریشانی انسان کو تڑپائے رکھتی ہے۔

مذہبی ایمان انسان میں استقامت پیدا کرتا ہے۔ تلخیوں کو میٹھا و شیریں بناتا ہے۔ باایمان شخص جانتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا باقاعدہ ایک حساب کتاب ہے اگر مشکلات اور مصیبتوں میں اس کا ردعمل درکار اصولوں کے مطابق ہو تو اس کا نقصان ممکن ہے ناقابل تلافی ہو لیکن خدا تعالیٰ کسی اور طریقے سے اس کا ازالہ کر دیتا ہے۔ بڑھاپا اختتام نہیں ہے بلکہ باایمان آدمی تو ہمیشہ فرصت کے لمحات کو عبادت اور ذکر خدا سے محبت کر کے گزارتا ہے۔ اس نظریے سے بڑھاپا اس قدر محبوب و مطلوب بن جاتا ہے کہ خدا پرستوں کو جوانی سے زیادہ بڑھاپے کی زندگی میں مزہ آتا ہے۔ تہی از ایمان آدمی کی نظر میں موت کا جو چہرہ مہرہ ہوتا ہے وہ باایمان آدمی کی نظروں میں بدل جاتا ہے۔ ایسے شخص کی نظروں میں اب موت فنا و نابودی نہیں ہوتی بلکہ یہ فانی دنیا سے پائیدار اور باقی رہنے والی دنیا کی طرف منتقلی کا نام بن جاتی ہے۔ یہ ایک چھوٹے جہاں سے بڑے جہاں کی طرف روانگی ہوتی ہے عمل اور بیج بونے کے میدان سے نتیجہ اور پھل حاصل کرنے کے میدان میں جانا ہوتا ہے اس طرح باایمان آدمی نیک کاموں جنہیں دینی اصطلاح میں "اعمال صالح" کہا جاتا ہے میں حصہ لے کر موت کے خیال سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کو دور کر لیتا ہے۔ ماہر نفسیات کے نزدیک یہ بات قطعی اور مسلم ہے کہ اکثر نفسیاتی بیماریاں جو زندگی کی تلخیوں اور روحانی پریشانیوں سے پیدا ہوتی ہیں غیر مذہبی لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ مذہبی لوگوں کا ایمان جتنا زیادہ مضبوط اور محکم ہوتا ہے اتنا زیادہ وہ ان بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور میں ایمان کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے عوارض میں سے ایک نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں کی افزائش بھی ہے۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری