بلتستانی
 
وبلاگ شخصی ارشاد حسين مطهري

محل درج آگهی و تبلیغات
 
نوشته شده در تاريخ سه شنبه نوزدهم شهریور ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

دفاع وطن کنونشن میں دہشت گردوں کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور کراچی سمیت ملک بھر میں بھرپورآپریشن کرنے کی قراردادیں منظور
اسلام ٹائمز:مجلس وحدت مسلمین مسلمانان عالم کو شام کے مسئلے پر آگاہ رہنے، شعور اور فکر کے ساتھ ظالم اور مظلوم کی شناخت رکھنے، اتحاد اور وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کی جانب سے ہر قسم کی سازش سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتی ہے اور پاکستان کی تما م سیاسی و مذہبی جماعتوں کو وحدت کے لیے حقیقی کردار ادا کرنے کے لیے دعوت دیتی ہے۔
دفاع وطن کنونشن میں دہشت گردوں کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور کراچی سمیت ملک بھر میں بھرپورآپریشن کرنے کی قراردادیں منظور
اسلام ٹائمز۔ دفاع وطن کنونشن میں متفقہ طور پر قراردارتیں منظور کی گئیں جن کی حاضرین نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے تائید کی۔ منظور کی گئی گئیں قراردادوں کے مطابق، شیعیان پاکستان کا اسلام آباد میں منعقدہ عظیم الشان وفاع وطن کنونشن کے شرکاء عہد کرتے ہیں کہ تمام تر قربانیوں اور دہشت گردی کے باجود ملک عزیز پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی اپنی جان و مال سے حفاظت کریں گے، اس لیے کہ پاکستان بنایا تھا اور پاکستان کو بچائیں گے۔

دفاع وطن کنونشن کے شرکا عہد کرتے ہیں کہ مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی قیادت میں ملک میں اتحاد وحدت کا پرچم سربلند رکھیں گے اور ہر اس قوت کے خلاف قیام کریں گے جو مسلمانان عالم کے مابین استعماری قوتوں کے ایما پر تفرقہ اور نفرت پھیلانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پوری پاکستانی قوم کو دعوت دیتی ہے کہ ملک میں عدل کے نفاذ اور مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف مجلس کا ساتھ دیں اور ملک سے ظلم و استبداد کے نظام کے خاتمے کے لیے مجلس وحدت مسلمین کے دست وبازو بنیں۔

مجلس وحدت مسلمین تمام محب وطن مذہبی و سیاسی قوتوں کو اپنے شانہ بشانہ چلنے اور ملک سے فرسودہ نظام کے خاتمے اور ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ہم آواز ہونے کی دعوت دیتی ہے۔ ہمارے دروازے ہر وطن دوست قوت سے مذاکرات کے لیے کھلے ہیں۔

حکمران دہشت گردوں، فوج اور قوم کے قاتلوں سے مذاکرات کے بجائے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کرے۔

ملک دشمن اسلام دشمن قوتوں کے چہروں سے اب نقاب اتر چکی ہے، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل اساس اور سنہری اصولوں کو پامال کرنے والے چند مٹھی بھر دہشت گردوں کے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں اور اب پوری قوم ان مٹھی بھر دہشت گردوں کے عزائم سے آگاہ ہو چکی ہے، وقت ہے کہ ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے لیے ملکر جدوجہد کریں۔

ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے قوم اب سیاسی جماعتوں سے مایوس ہوچکی ہے، آل پارٹیز کانفرنس بھی فقط نشستن، خوردن اور برخاستن ثابت ہوگی، اگر حکمران جماعت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخلص ہے تو مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر دہشت گرد مٹھی بھر گروہ کے خلاف جرات مندانہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی حکمت عملی کے لیے عملی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

مجلس وحدت مسلمین اپنے بھرپور سیاسی تشخص کے ساتھ تمام سیاسی قوتوں کو وطن میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے اقدار کی بحالی اور ان کے استحکام کے لیے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

مجلس وحدت مسلمین حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ وزیر اعظم نوازشریف سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شام پر ممکنہ امریکی جارحیت اور وہاں جاری دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرے اور اپنا بھرپور کردار ادا کرے ایسے کسی بھی فیصلے سے گریز کیا جائے جو اسلام اور مسلمین کے خلاف ہو۔

مجلس وحدت مسلمین غاصب اور جارح امریکا اور اس کے حواریوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ مسلمان ممالک پر جارحیت سے گریز کریں اور اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے جھوٹ کا سہارا لیکر شام پر حملے سے اجتناب کریں ورنہ شام پوری امت مسلمہ کا نکتہ اتحاد بن کر ابھرے گا اور ان ظالم صیہونی قوتوں کا غرور خاک میں ملادے گا۔

مجلس وحدت مسلمین مسلمانان عالم کو شام کے مسئلے پر آگاہ رہنے، شعور اور فکر کے ساتھ ظالم اور مظلوم کی شناخت رکھنے، اتحاد اور وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کی جانب سے ہر قسم کی سازش سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتی ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو وحدت کے لیے حقیقی کردار ادا کرنے کے لیے دعوت دیتی ہے۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه نوزدهم شهریور ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: ایس یو سی اور کربلا فاونڈیشن کے زیراہتمام یوم شہداء کا انعقاد، علما کرام، تنظیمی کارکنان اور شہداء کے ورثا کی شرکت، امدادی چیک تقسیم۔
ملک دشمن عالمی سطح پر مسائل پیدا کر رہا ہے اور ہمیں آپس میں لڑانا چاہتا ہے، شیخ مرزا علی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن اور کربلا فاونڈیشن کے زیراہتمام ایک تقریب ’’یوم شہداء‘‘ کے نام سے صوبائی سیکرٹریٹ گلگت میں منعقد ہوئی، جسمیں شہداء کے ورثاء علماء کرام، اسلامی تحریک کے کارکنان، جے ایس او کے نوجوانوں اور جعفریہ یوتھ کے اراکین نے شرکت کی۔ یوم شہداء سے خطاب کرتے ہوئے صدر شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن علامہ شیخ مراز علی نے کہا کہ آج معاشرے میں انسانوں کے حقوق نہیں ہیں، معاشرہ میں معمولی نوعیت کے جھگڑوں میں انسان قتل ہوتا ہے، گویا انسان کی جان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ نہ ہمسایے آپس میں حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور نہ دو قبیلوں یا بستیوں کے درمیان قوت برداشت ہے اور نہ دین کی تابعداری اور نہ اُصولوں کی پاسداری ہے، جو انسان کو مشکلات سے نکالتی ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ آج کا ماحول دیکھیں کہ کبھی لسانیت کے نام پر، کبھی علاقائیت کے نام پر تو کبھی مسلک کی بنیاد پر لوگ قتل کئے جاتے ہیں اور اس وقت ملک دشمن عالمی سطح پر مسائل پیدا کر رہا ہے اور ہمیں آپس میں لڑانا چاہتا ہے، بغیر کسی جرم و خطا کے ملت جعفریہ کے بے گناہ مومینن کو بسیوں سے اتار کر شناخت کرکے شہید کیا جاتا ہے اور دشمن اسطرح مذہبی گشیدگی پھیلا کر مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے، جو معاشرے کیلئے بگاڑ کا سبب بنتا جا رہا ہے، ان مسائل کو دور کرنے کیلئے علماء ہی کردارا دا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے قائد مرحوم علامہ محمد حسین دہلوی، قائد مرحوم علامہ مفتی جعفرحسین، قائد شہید علامہ سید عار ف حسین الحسینی کی قومی و ملی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی آج قومی سطح پر وہی کردار ادا کر رہیں ہے جو کردار گذشتہ قائدین نے انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج قومی سطح پر ملت جعفریہ کی جو شناخت ہے وہ قائد محترم علامہ سید ساجد علی نقوی کی حکمت عملی ہی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کی قوم کا قائد وہی ہوگا جسکو ولی فقیہ کی حمایت حاصل ہے اور ولی فقیہ کے حکم کی اطاعت نہ کرنا خیانت ہے۔ 

یوم شہداء سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے راہنما شیخ اقبال توسلی نے کہا کہ شہداء اور اسیروں کے مسائل بے شمار ہیں مگر آج ان مسائل کو حل کرنے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید علامہ سید ضیاءالدین رضوی کے دور میں شہداء اور اسیروں کے مسائل کے حل کیلئے خاص خیال رکھا جاتا تھا مگر اب وہ سلسلہ بند ہوچکا ہے، جس کے وجہ سے اسیروں کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن اور کربلا فاونڈیشن نے شہداء اور اسیروں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بیڑہ اُٹھایا ہے، انشاءاللہ مومینن کا ساتھ رہا تو جلد ہی ان مسائل کو حل کیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ بلال رہبری نے شہداء کے درجات اور یتیموں اور اسیروں کے حقوق بیان کئے۔ تقریب کے اختتام پر شہداء کے ورثاء میں مالی معاونت کیلئے امداد تقسیم کی گئی۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه نوزدهم شهریور ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: ایوان صدر میں منعقدہ تقریب حلف برداری میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے نو منتخب صدر سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
نومنتخب صدر ممنون حسین نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

قصر صدارت میں نیا مکین آباد ہوگیا، ممنون حسین نے ملک کے بارھویں صدر کا حلف اٹھا لیا، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نئے صدر سے حلف لیا۔ پروقار تقریب میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، تمام صوبوں کے وزرائے اعلٰی، گورنرز اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ سفراء اور ممنون حسین کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ تیس جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ممنون حسین 432 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے بارھویں صدر منتخب ہوئے تھے۔۔ ان کے مدِمقابل تحریکِ انصاف کے ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین نے 77 ووٹ حاصل کئے تھے۔


نوشته شده در تاريخ شنبه نهم شهریور ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

مالک بن انس: «ما رَأَتْ عَیْنٌ وَلا سَمِعَتْ اذُنٌ وَ لا خَطَرَ عَلى‏ قَلْبِ بَشَرٍ افْضَلُ مِنْ جَعْفَرِبْنِ مُحَمَّدٍ فی علم و عبادۃ و تقویٰ»علم، عبادت اور پرہیزگاری میں جعفر بن محمد سے برتر نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں خطور کیا 

بقلم: سید افتخار علی جعفری


 امام صادق(ع) کا علمی مقام اور ائمہ اہلسنت کے اعترافات اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام صادق علیہ السلام کی شخصیت کا ایک اہم پہلو آپ کا علمی کمال تھا۔ اہلسنت و الجماعت کے بڑے بڑے اماموں نے آپ کے آگے زانو ادب تہہ کئے اور آپ کی شاگردی کا شرف حاصل کر کے اس پر فخر کیا اور امام علیہ السلام کے علمی مقام کی تعریف و تمجید کی۔ ذیل میں اہلسنت کے دو اماموں کے اعترافات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اس کے بعد دیگر علماء اہلسنت کے اقوال بھی اس سلسلے میں بیان کرتے ہیں:
۱: ابو حنیفہ
 فرقہ حنفی کے بانی ابو حنیفہ کہتے ہیں: میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ عالم کسی کو نہیں دیکھا۔(۱)
انہوں نے ایک اور مقام پر کہا: جب منصور دوانیقی نے جعفر بن محمد کو اپنے دربار میں بلوایا تو مجھے طلب کیا اور کہا: لوگ جعفر بن محمد کے گرویدہ ہو گئے ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں ان کی اہمیت کو ختم کرنے کے لیے تم مشکل سے مشکل سوال تیار کرو۔ میں نے چالیس مشکل سوال تیار کئے۔ پھر ایک دن منصور نے مجھے بلایا۔ جب میں مجلس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ جعفر بن محمد بھی اس کے دائیں طرف بیٹھے ہیں۔ جب میری نگاہ ان پر پڑی تو میں ان کی عظمت اور جلالت سے اس قدر متاثر ہوا کہ اتنا کبھی کسی سے نہیں ہوا تھا۔
میں نے سلام کیا اور منصور کے اشارے سے بیٹھ گیا۔ منصور نے ان کی طرف رخ کیا اور کہا: یہ ابو حنیفہ ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں میں انہیں جانتا ہوں۔
اس کے بعد منصور نے میری طرف مڑ کر کہا: اے ابو حنیفہ! اپنے سوالات ابو عبد اللہ سے پوچھو۔
میں نے سوالات کرنا شروع کئے، جو مسئلہ میں بیان کرتا تھا جعفر بن محمد اس کے جواب میں فرماتے تھے: تمہارا عقیدہ اس سلسلے میں یہ ہے اہل مدینہ کا عقیدہ یہ ہے اور ہمارا عقیدہ یہ ہے۔
بعض مسائل میں وہ ہمارے عقیدے سے موافق، بعض میں اہل مدینہ کے عقیدہ سے موافق اور بعض میں دونوں کے ساتھ مخالف تھے۔
میں نے چالیس سوال پیش کئے اور انہوں نے سب کے قانع کنندہ جواب دئے۔
اس کے بعد ابو حنیفہ کا کہنا ہے: ’’امام صادق تمام علماء سے زیادہ عالم اور فقہی مسائل میں علماء کے اختلافات سے بھی آگاہ تھے‘‘۔(۲)
تاریخ میں ہے کہ دسیوں مقامات پر ابو حنیفہ نے امام صادق علیہ السلام کی شاگردی پر فخر کرتے ہوئے اسے اپنی نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کا یہ جملہ معروف ہے ’’لولا سنتان لھلک نعمان‘‘( اگر نعمان دو سال جعفر بن محمد کی شاگردی نہ کرتا تو ہلاک ہو گیا ہوتا)۔(۳)
۲: مالک بن انس
 اہلسنت کے معروف چار اماموں میں سے ایک اور فرقہ مالکی کے بانی مالک بن انس کہتے ہیں: ایک مدت تک میری جعفر بن محمد کے پاس رفت و آمد رہی، میں نے ہمیشہ انہیں تین حالتوں میں سے ایک میں دیکھا یا نماز کی حالت میں یا روزے کی حالت میں یا تلاوت قرآن کی حالت میں۔ اور کبھی میں نے انہیں نہیں دیکھا کہ وہ بغیر وضو کے حدیث کہیں(۴)۔
اس کے بعد انہوں نے کہا: «ما رَأَتْ عَیْنٌ وَلا سَمِعَتْ اذُنٌ وَ لا خَطَرَ عَلى‏ قَلْبِ بَشَرٍ افْضَلُ مِنْ جَعْفَرِبْنِ مُحَمَّدٍ فی علم و عبادۃ و تقویٰ»علم، عبادت اور پرہیزگاری میں جعفر بن محمد سے برتر نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں خطور کیا(۵)۔
۳: ابن حجر ہیثمی لکھتے ہیں کہ جعفر بن محمد سے اس قدرعلوم نشر ہوئے کہ آپ ہر انسان کا ورد زباں ہو گئے اور ہر جگہ آپ کا چرچا ہو گیا اور فقہ و حدیث کے بزرگترین علماء جیسے یحییٰ بن سعید، ابن جریح، مالک، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، ابو حنیفہ، شعبہ اور ایوب سجستانی نے آپ سے حدیثیں نقل کرتے تھے۔(۶)
۴: ابو بحر جاحظ: تیسری صدی ہجری کے معروف دانشمند ابو بحر جاحظ کہتے ہیں: جعفر بن محمد وہ شخص ہیں جن کا علم پوری دنیا پر چھا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابو حنیفہ اور سفیان ثوری ان کے شاگرد تھے اور ان دو افراد کا جعفر بن محمد کا شاگرد ہونا ان کے علمی مقام کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے(۷)۔
۵: ابن خلکان: معروف مورخ لکھتے ہیں: جعفر بن محمد فرقہ امامیہ کے بارہ اماموں میں سے ایک اور خاندان پیغمبر(ص) کے بزرگان میں سے ہیں کہ آپ کی سچائی اور صداقت کی بنا پر آپ کو صادق کہا جاتا ہے۔(۸)

حوالہ جات
۱:  ذهبى، شمس الدین محمد، تذکرة الحفاظ، بیروت، داراحیا، التراث العربى، ج 1، ص 166
۲: مجلسى، بحارالانوار، ط2، تهران، المکتبة الاسلامیه، 1395 ه'.ق ج 47، ص 217- حیدر، اسد، الامام الصادق و المذاهب الاربعة، ط 2، بیروت، دارالکتاب العربى، 1390 ه'.ق، ج 4، ص 335
۳: مختصر التحفه الاثني عشريه، ص 8، الامام صادق عليه‏السلام، ج 1، ص 58، اعلام الهدايه، ج 8، ص 23.
۴: ابن حجر العسقلانى، تهذیب التهذیب، ط 1، بیروت، دارالفکر، 1404 ه'.ق ج 1، ص 88
۵: حیدر، اسد، الامام الصادق و المذاهب الاربعة ، ج 1، ص 53
۶: الصواعق المحرقه، ط 2، قاهره، مکتبة القاهره، 1385 ه'.ق، ص 201
۷: حیدر، اسد، الامام الصادق و المذاهب الاربعة ، ج 1، ص 55(به نقل از رسائل جاحظ)
۸؛ وفیات الاعیان، تحقیق: دکتر احسان عباس، ط 2، قم، منشورات الشریف الرضى، 1364 ه'.ش، ج 1، ص 327
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲


نوشته شده در تاريخ شنبه نهم شهریور ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

شیعہ دینی مرجع تقلید آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ امریکہ اسلامی ممالک میں اپنے عربی اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ ملکر تباہی پھیلانا چاہتا ہے اور شام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی یلغار انکے کے لئے بہت مہنگی ثابت ہوگی۔ 

 شام پر امریکی جارحیت خود امریکہ کے لیے مہنگی ثابت ہو گی اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ شیعہ دینی مرجع تقلید آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ امریکہ اسلامی ممالک میں اپنے عربی اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ ملکر تباہی پھیلانا چاہتا ہے اور شام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی یلغار انکے کے لئے بہت مہنگی ثابت ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ شام کے مسئلہ کا فوجی حل نہیں ہے اور شام کے مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے انھوں نے کہا کہ شام کے خلاف جو نام نہاد اسلامی ممالک امریکہ کا تعاون کر رہے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کا ارتکاب کررہے ہیں۔
 واضح رہے کہ امریکہ بڑا شیطان ہے اور اس کے حامی بعض عرب اور غیر عرب ممالک چھوٹے شیطان ہیں اور چھوٹے شیطانوں میں سعودی عرب، قطر اور ترکی بھی شامل ہیں جو شام کے خلاف امریکہ کا تعاون کررہے ہیں۔


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و هفتم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


دھشتگرد گروپوں جیسے طالبان اور القاعدہ کے نظریات کو قریب سے بھانپنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے شدت پسندانہ کارناموں کی توجیہ کے لیے اسلامی جہاد کے مفہوم سے متمسک ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ اسلام میں جہاد کے واقعی معنی اور مفہوم کو پہچانیں اور اس کے بعد یہ دیکھیں کہ کیا فریضہ جہاد اس طرح کے دہشت گردانہ اور تشدد پسندانہ اقدامات انجام دینے کا جواز فراہم کرتا ہے یا نہیں؟ 

بقلم: افتخار علی جعفری


 جہاد اور دہشت گردی میں فرق
دھشتگرد گروپوں جیسے طالبان اور القاعدہ کے نظریات کو قریب سے بھانپنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے شدت پسندانہ کارناموں کی توجیہ کے لیے اسلامی جہاد کے مفہوم سے متمسک ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ اسلام میں جہاد کے واقعی معنی اور مفہوم کو پہچانیں اور اس کے بعد یہ دیکھیں کہ کیا فریضہ جہاد اس طرح کے دہشت گردانہ اور تشدد پسندانہ اقدامات انجام دینے کا جواز فراہم کرتا ہے یا نہیں؟
ہم اس مقالے میں کوشش کریں گے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں شیعہ و سنی علماء کے نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاد کے واقعی معنی اور مفہوم کو پہچانیں اور دھشتگرد گروپوں کے جہادی دعووں کی صحت یا عدم صحت کی علمی تحقیق کریں۔
الف: جہاد کے معنی
جہاد لغت میں مادہ " جھد" سے مشتق ہے کہ جس کے معنی "نہایت مشقت اور کوشش کرنا" کے ہیں۔ فقہ کی اصطلاح میں اس کی یوں تعریف ہوئی ہے:" کلمہ اسلام کی سر بلندی اور شعائر ایمان کی سرفرازی کے راستے میں جان و مال قربان کر دینا"۔
مجاہد اسے کہتے ہیں جو اپنی تمام تر طاقت، توانائی اور قدرت کو آخری لمحہ تک اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف کر دے۔
بطور کلی جہاد کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: تمام امکانات اور سہولیات کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جان اور مال و ثروت کو صرف کرنے کے تلاش و کوشش کرنا۔
دوسری صورت: کسی مقصد کو حاصل کرنے کی راہ میں مشکلات کا تحمل کرنا اور  اپنی طاقت و توانائی کو صرف کرنا۔
لیکن ہر صورت میں شرعی لحاظ سے جہاد یہ ہے کہ انسان اپنی جان و ثروت کو قربان کرنے کےساتھ کلمہ توحید اور اسلام کی سر بلندی اور اسلامی رسالت اور شریعت کے نفاذ کی راہ میں ممکنہ تلاش و کوشش کرے۔
ب: جہاد کی اقسام
کلی طور پر جہاد کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے: جہاد اکبر اور جہاد اصغر۔ اسلام کی سربلندی اور کلمہ حق کی سرفرازی کی خاطر کفار و مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے کو جہاد اصغر کہتے ہیں جبکہ معنوی درجات کی بلندی کےلیے اپنے نفس امارہ اور لوامہ کے ساتھ جہاد کرنے کو جہاد اکبر کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم (صلّي الله عليه و آله و سلّم) سے مروی اس روایت کے مطابق جو آپ نے ایک غزوہ سے کامیابی کے ساتھ واپس آئے بعض اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائی: “ رجعتم من الجهاد الاصغر عليكم بالجهاد الاكبر”. قاہرہ یونیورسٹی کے سابقہ چانسلر علامہ شیخ محمود شلتوت ان قرآنی آیات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے جو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جنگ کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: ایک مسلمانوں کی مسلمانوں سے جنگ اور دوسری مسلمانوں کی غیر مسلمانوں سے جنگ۔
ان کی نظر میں مسلمانوں کی مسلمانوں کے ساتھ جنگ امت کے داخلی اور حیاتی امور میں سے ہے اور قرآن نے طغیان اور سر کشی کے وقت سزا معین کی ہے تا کہ سماج میں نظم و انتظام باقی رہے اور ملک کی طاقت کمزور نہ ہو اور ظلم و ستم کا سد باب کیا جائے۔ قرآن میں سورہ حجرات کی نویں اور دسویں آیتوں میں آیا ہے کہ اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو انہیں صلح کی طرف دعوت دو اور اگر ان میں سے ایک ظلم کی جانب بڑھے اور قتل و غارت سے باز نہ آئے تو اس کے ساتھ جنگ کرو جب تک کہ صلح کے طرف نہ لوٹ آئیں۔ واضح ہے کہ اس جنگ کا فلسفہ مطلقہ عدالت کی برقراری، آزادی اور حریت کو پامال ہونے سے بچانا اور ظلم و سرکشی سے روکنا اور سماج میں نظم و نسق قائم کرنا ہے۔
انہوں نے جنگ کی دوسری قسم یعنی مسلمانوں کی غیر مسلمانوں سے جنگ کے بارے میں، مکہ میں مسلمانوں کی سختیوں اور ظالم حکمرانوں کی طرف سے ان پر ڈھائے جانے والے مصائب و آلام کا تذکرہ کرنے اور پیغمبر اکرم (ص) کے صبر و بردباری سے کام لینے کے بارے میں سفارشات بیان کرنے اور جنگ کے سلسلے میں سورہ حج کی ۴۰ ویں اور ۴۱ ویں آیات میں خدا کی طرف سے بیان شدہ سب سے پہلے حکم جنگ کے ذیل میں لکھا ہے کہ یہ آیتیں جنگ کو جائز قرار دینے پر دلالت کرتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھایا، انہیں جلا وطنی کیا گیا اور انہیں اپنا عقیدہ بدلنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ جوازیت دفاعی سنت اور ظالم حکمرانوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ سازگار ہے۔ اس جنگ کا مقصد یہ ہے کہ اجتماعی توازن برقرار رہے اور سرکش افراد کو سرنگوں کیا جائے اور لوگوں کو عقیدے اور ایمان کے اعتبار سے آزاد رہنے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے قرآن کریم کی کچھ دوسری آیتوں سے جنگ کے بارے میں مثالیں پیش کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ آیات اس کے باوجود کہ ان میں جنگی اصول، جنگی وجوہات اور اغراض و مقاصد کا تذکرہ ہوا ہے لیکن ہر گز  جنگ کے ذریعے دین کو زبردستی قبول کرنے کی دعوت نہیں دی رہی ہیں اور جنگ کی جوازیت کا عمدہ سبب مسلمانوں پر کیے جانے والا ظلم و ستم کا دفاع ہے۔
انہوں نے جنگ اور جہاد کو قرآن اور اسلام کی نگاہ سے بیان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات اور نتائج  اخذ کئے ہیں: قرآن کریم میں ایک آیت بھی تلاش نہیں کی جا سکتی جو یہ کہتی ہو کہ جنگ کے لیے اٹھ  کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں کا قتل عام کر کے انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کرو۔ اسلام میں جنگ کی جوازیت صرف ظلم و ستم کا مقابلہ کرتے ہوئے دفاعی حیثیت رکھتی ہے ۔جہاں کہیں بھی اسلام نے جنگ کو جائز قرار دیا ہے صرف مستضعفین کی حمایت میں استعمار اور استکبار کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے اور جنگ کے دوران بھی ضعیف افراد کو دبانے سے منع کیا ہے اور تاکید کی ہے کہ آپس میں صلح کو ترجیح دی جائے اور کافروں سے ان کے خون کے بدلے جزیہ  اسی وجہ سے قرار دیا گیا ہے تا کہ اسلامی سماج میں کوئی ان کی طرف انگلی نہ اٹھائے اور انہیں اذیت و آزار نہ پہنچائے۔ یہ اسلامی حکومت کا اصول ہے کہ سماج میں رہنے والے کسی طبقہ کو کسی قسم کی اذیت نہ دی جائے۔ ہر انسان عقیدہ کے اعتبار سے آزاد رہے۔
ایک اور اعتبار سے جہاد کو نیز دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں؛ ۱: دفاعی جہاد: یعنی جب اسلامی معاشرہ دشمنوں کی طرف سے تہدید یا حملے کا نشانہ بنے تو اس صورت میں اپنا دفاع کرنا واجب ہے اسے دفاعی جہاد کہتے ہیں۔ ۲: ابتدائی جہاد : یعنی جہاد میں پہل کرنا بغیر اس کے کہ دشمن کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق ہو۔  اسلام کو وسعت دینے، مذہبی شعائر کو دنیا میں پھیلانے اور بشریت کو ضلالت اور گمراہی سے نجات دینے کی غرض سے جنگ کی جائے۔ جہاد کی صورت صرف حکم نبی یا امام معصوم(ع) سے لازم الاجرا ہے ان کے علاوہ کوئی دوسرا ابتدائی جہاد کرنے کا حکم نہیں دے سکتا۔
استاد شہید مطہری جہاد کی حقیقت اور ماہیت کو دفاعی صورت میں سمجھتے ہیں۔ آپ معتقد ہیں کہ محققین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جہاد کی ماہیت دفاعی ہے۔ یعنی اسلام میں کسی عنوان سے جنگ و جدال، مد مقابل کا مال و ثروت چھیننے یا دشمن پر حکومت کرنے کی غرض سے ہر گز جائز نہیں ہے۔ اس طرح کی جنگ اسلام کی نظر میں تشدد اور جارحیت کہلاتی ہے۔ وہ جہاد جو صرف دفاع کے عنوان سے ہو اور تجاوز کا مقابلہ کرنے کی خاطر ہو اسلام میں مشروعیت رکھتا ہے۔ آپ اس کے باوجود کہ دفاع کو ایک مقدس امر سمجھتے ہیں لیکن تقدس کا ملاک حق و حقاینت کا دفاع اور انسانی حقوق اور انسانی آزادی کا دفاع قرار دیتے ہیں۔
شہید مطہری سورہ بقرہ کی ۱۹۰ ویں آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ استدلال کرتے ہیں کہ تجاوز کرنے والوں اور شر پھیلانے والوں سے جنگ کرو اس سے پہلے کہ ان کا شر ہم تک پہنچے لیکن اگر غیر متجاوز افراد کے ساتھ جنگ کی جائے تو یہ خود تجاوز اور غیر شرعی عمل اور ظلم ہے۔ آپ اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ قرآن جہاد کو دفاعی صورت میں منحصر کرتا ہے اور کسی پر بھی جارحیت  کی اجازت نہیں دیتا۔ البتہ ان کی نظر میں تجاوز اور جارحیت ایک عام معنی رکھتا ہے اور جان و مال عزت و آبرو، زمین اور آزادی میں محدود نہیں ہے۔ اگر انسانی اقدار کو پامال کیا جائے، انسانی قدروں کو روندا جائے تو اسے بھی تجاوز کہاجائے گا۔
شیخ محمود شلتوت بھی صدر اسلام کی جنگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ استدلال کرتے ہیں کہ صدر اسلام میں مسلمانوں نے کبھی ابتداً کسی پر حملہ نہیں کیا اور اپنی آزادی اور استقلال کا دفاع کرنے کے علاوہ انہوں نے کبھی قیام نہیں کیا۔
ج: اسلام اور صلح
اسلام امن و شانتی کا دین ہے اور اسلام نے ہمیشہ صلح اور سلامتی کو جنگ وجدال پر برتری دی ہے۔ اور پیغمبر اسلام (ص) اور امیر المومنین (ع) نے ہمیشہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دشمنوں کو صلح کی دعوت دی ہے قرآن کریم میں بھی صلح قبول کرنے پر واضح دستورات موجود ہیں:
ان جنحوا للسلم فاجنح لها و توكل علي الله انه هوالسميع العليم و ان يريد و ان يخدعوك فان حسبك الله هو الذي ايدك بنصره و بالمومنين(سورہ انفال،۶۱،۶۲)
اور اگر یہ لوگ صلح کرنے کی طرف مائل ہوں آپ بھی صلح کی طرف مائل ہو جائیں اور خدا پر توکل کریں بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے اور اگر یہ آپ کو دھوکہ و فریب دینا چاہیں تو خدا آپ کے لیے کافی ہے وہ وہی خدا ہے جس نے اپنی اور مومنین کی مدد سے آپ کو تقویت بخشی۔
سورہ نساء، آیت ۹۰ میں بھی آیا ہے کہ اگر " کافر اور ظالم جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لیں اور آپ کے ساتھ صلح کی  پیشکش کریں تو ان کی طرف جنگ کے لیے ہاتھ نہ بڑھانا ۔۔۔
شیخ محمود شلتوت بھی اس سلسلے میں سورہ انفال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بھی دشمن جنگ سے ہاتھ کھینچ لے اور قتل و غارت سے پرہیز کرے اور صلح کی پیشکش کرے اور اس پیشکش میں کوئی دھوکا اور فریب نہ ہو تو ان کی پیشکش کو قبول کرنا چاہیے بغیر کسی وجہ کے ان پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔
ان کی نظر میں جنگ صرف اس لیے ہے کہ ظلم اور تجاوز کا دفاع کیا جائے اور در حقیقت جنگ کا مقصد صلح اور عدالت قائم کرنا ہوتا ہے انہوں نے سورہ انفال کی ۶۴ ویں آیت کی تفسیر میں لکھا ہے" اور ان کے لیے جتنی طاقت جمع کر سکتے ہیں کریں" جنگ کا ساز و سامان مہیا کرنا صرف ظلم کا مقابلہ کرنے اور صلح اور عدالت برقرار کرنے کی خاطر درست ہے۔ انہوں نے آیت کے لفظ "سلم" کو تاکید  کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کلمہ کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں صلح کا بیج بوئیں تاکہ سماج میں امن و شانتی برقرار رہے۔
متفکر اسلام شہید مطہری نیز آیات صلح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ منجملہ آیات" والصلح خیر (نساء ۱۲۸) یا “يا ايها الذين آمنوا و ادخلو في المسلم كافه (بقره، 208) اس بات پر تاکید کرتی ہیں کہ اسلام میں صلح، جنگ سے کئی گناہ زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
البتہ آپ ظلم و جور کے نیچے دھبنے کو صلح نہیں کہتے لہذا اسی وجہ سے آپ کا یہ کہنا ہے کہ اسلام کبھی بھی ذلت کو تحمل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
د: جنگ و جہاد میں انسانی اقدار کا لحاظ
اسلام صلح کی تاکید کرنے اور ہر طرح کے تجاوز سے روکنے کے ساتھ ساتھ دفاعی جنگوں میں بھی انسانی اقدار اور حرمتوں کی رعایت کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ انسانی اقدار اور حرمتوں سے مراد وہ اخلاقی اصول اور قواعد ہیں جن کی ہر مذہب و ملت کے افراد کے ساتھ جنگ میں رعایت کرنا ضروری ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اصول انسانی فطرت سے وجود پاتے ہیں اور دین اسلام بھی ان قواعد اور اصول کو محترم سمجھتا ہے۔ اور جنگ میں بھی ان کی رعایت کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل موارد کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:
جنگ سے پہلے اسلام کی طرف دعوت
چونکہ اسلامی جہاد کا مقصد انسانوں کو توحید کی دعوت دینا ہے لہذا جہاد میں سب سے پہلے مشرکوں کو اسلام کی طرف دعوت دی جاتی ہے اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو جنگ در کار نہیں ہوتی۔ امیر المومنین (ع) نے پیغمبر اسلام سے ایک روایت میں نقل کیا ہے کہ جب آپ(ع) کو یمن میں جنگ کے لیے بھیجا تو فرمایا کہ جب تک انہیں اسلام کی دعوت نہ کر لو ان کے ساتھ جنگ مت کرنا اور اگر خدا تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت کر لے تو یہ تمہارے لیے ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج چمکتا ہے۔ لہذا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صلح اور مذاکرات کی دعوت جنگ پر مقدم ہے۔
پناہ مانگنے والوں کو پناہ دینا
اگر کوئی کافر کسی مسلمان یا اسلامی حاکم سے پناہ کا تقاضا کرے اور امان چاہے تو اسے امان دینا ضروری ہے اس سلسلے میں ہر مسلمان کچھ شرائط کے ساتھ اسے پناہ دینے کا حق رکھتا ہے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ امان دی گئی مدت میں امان حاصل کردہ افراد کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرے۔
جنگ میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں وغیرہ کی حفاظت
مذکورہ افراد کی اسلامی جہاد میں حفاظت کرنا اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہ پہچانا اسلام کے اندر منجملہ انسانی اقدار میں سے ہے۔ اسلامی فوج کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ان افراد کو نشانہ بنائیں۔
پیمان شکنی ممنوع
اسلام کا حکم ہے کہ اگر دشمن کے ساتھ کوئی عہد و پیمان باندھا جائے تو جب تک وہ خود خیانت نہ کرےاور اسے نہ توڑے آپ کو توڑنے کا حق نہیں ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) اور علی علیہ السلام بہت سختی سے اس قانون کے پابند تھے۔
خلاف انسانیت اعمال انجام دینا ممنوع
اسلام دشمن کو مثلہ کرنے ( یعنی اس کے کان، ناک وغیرہ کاٹنے ) سے سخت منع کرتا ہے اور پیغمبر اکرم (ص) جنگ پر بھیجنے سے پہلے یہ تاکید کرتے تھے کہ کوئی بھی ایسا اقدام کرنے کی جرات نہ کرے۔ اسلام اس طریقے کے غیر انسانی اعمال انجام دینے سے منع کرتا ہے۔
قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک
قیدی بنانے کا مقصد دشمن کی طاقت کو کمزور بنانا اور اسیروں کو اسلام سے آشنا کرنا ہے۔ اسلام اسیروں کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھ کر ان کی آزادی کے راستے فراہم کرنے کی سفارش کرتا ہے۔
ہ: جہاد اور دہشت گردی
اسلام میں جہاد کے معنی اور مفہوم کو جاننے کے بعد یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کو ہر گز جہاد کا عنوان نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اولا: جہاد اسلام میں سب سے پہلے ایک دفاعی امر ہے یعنی دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں مسلمان اور اسلامی ملک اپنی عزت و آبرو  کا دفاع کر سکتے ہیں۔ ثانیا: پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ آپ ابتدائی صورت میں جنگ حتی دفاع کرنے سے بھی منع کرتے تھے جب تک کہ دفاع کے لیے بھی خدا کا حکم نازل نہ ہو جائے آپ دفاع کے لیے بھی نہیں نکلتے تھے۔ آپ ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ دشمنوں کو صلح اور گفتگو کی دعوت دیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ظاہری دشمن کے ساتھ جہاد سے پہلے باطنی دشمن کے ساتھ جہاد کرنا اسلام کی نگاہ میں زیارہ قابل اہمیت ہے اس جہاد میں انسان کو پہل کرنے کا حق حاصل ہے اور ہر انسان اس جنگ میں دشمن پر پہلا وار کر سکتا ہے۔ جہاں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ پہلے دشمن حملہ آور ہو پھر ہم اس کا مقابلہ کریں اور اپنا دفاع کریں بلکہ یہاں ابتدائی جہاد ہی زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے  اسلیے کہ باطنی دشمن کے حملے کے بعد انسان کے ایمان کا گلہ کٹ جائے گا پھر اس دشمن پر حملہ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہ ہو گا اور پھر جب ایمان کا گلہ کٹ گیا تو دفاع کس بات کا ہوگا؟ اسی وجہ سے اس جہاد کا جہاد اکبر کہا گیا ہے۔
اور دوسری طرف سے اسلام دین صلح و سلامتی ہے اور سماج میں صلح اور سالمیت قائم رکھنے پر بہت زیادہ تاکید کرتا ہے اور جنگ کے دوران بھی جیسا کہ ذکر کیا گیا انسانی قدروں کی رعایت کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ اسلام کی نظر میں بے گناہ افراد کو قتل کرنا خواتین، بچوں بوڑھوں کو نقصان پہنچانا قطعا جائز نہیں ہے۔
 لہذا کیسے بعض لوگ جہاد کے نام پر دہشت گردانہ اقدامات انجام دے کر بچوں، عورتوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل کا سامان فراہم کرتے ہیں اور اسے بعد بڑی آسانی سے اسے ’’جہاد اسلامی‘‘ کا عنوان دے دیتے ہیں؟! واضح ہے کہ یہ کام کسی بھی صورت میں اسلام کی نظر میں جائز نہیں ہے اور کسی بھی عنوان سے انسانی قتل عام ، بے گناہ لوگوں کو خون میں رنگین کرنا اور بچوں عورتوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانا  ’’اسلامی جہاد‘‘ نہیں کہلاتا۔ اور از خود ایسے حملے کرکے انہیں جہاد کی طرف نسبت دے دینا بالکل شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔
قرآن کریم سورہ تحریم کی آیت میں پیغمبر اکرم (ص) کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: “ يا ايها النبي جاهد الكفار و المنافقين و اغلظ عليهم “:  اے رسول کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ دوسری طرف پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: میں مامور ہوا ہوں کہ اس وقت تک مشرکین کے ساتھ جنگ کروں جب تک کہ وہ توحید کا اقرار نہ کر لیں کہ خدائے واحد و لاشریک کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
اس آیت اور روایت دونوں کا مضمون بظاہر ابتدائی جہاد پر دلالت کرتا ہے لیکن ابتدائی جہاد کا اختیار ہرگز مسلمانوں کو نہیں دیا گیا ہے بلکہ یہ خطاب پیغمبر اکرم (ص) کی ذات سے مخصوص ہے کہ جو معصوم ہیں جو ہر طرح کی خطا اور اشتباہ سے محفوظ ہیں۔ چونکہ پیغمبر اکرم (ص) انسانی اور اخلاقی کمالات کے بلند ترین مراتب پر فائز ہیں اس لحاظ سے کچھ اوامر اور تکالیف ان کی ذات سے مخصوص ہیں کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں ابتدائی جہاد کا اختیار صرف امام معصوم(ع) کو حاصل ہے غیر معصوم ابتدائی طور پر جنگ کا حکم نہیں دے سکتا۔ لہذا جب ابتدائی جہاد کی اسلام ہر انسان کو اجازت نہیں دیتا تو ٹروریزم اور دہشت گردی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ جس سے بے گناہ لوگوں کی بوٹیاں اڑائی جائیں اور انسانی حرمتوں کو پامال کیا جائے۔ یقینا جو لوگ اس قسم کے اقدامات کرتے ہیں جن کی نظر میں انسانی کی کوئی قدر نہیں ہے ان کا تعلق دین اسلام سے نہیں ہے چاہے وہ خود کو کسی بھی فرقے سے منسوب کرتے رہیں چاہے وہ خود کو بظاہر کتنے بھی مقدس و چوکدس پیش کرتے ہیں۔ ایسے افراد اسلام مخالف ایجنسیوں کی طرف سے اسلام کو بدنام کرنے کے لیے مسلمانوں کی صفوں میں لا کر کھڑے کئے گئے ہیں ورنہ دین مقدس اسلام سے ایسے افراد اور ان کے شرپسندانہ اقدامات کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و هفتم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری



مرحوم آیة اللہ میرزا محمد باقر فقیہ ایمانی کو عالمِ خواب میں امام حسن مجتبیٰ(ع) فرماتے ہیں:
''منبروں سے لوگوں کو کہیں اور انہیں حکم دیں کہ توبہ کریں اور امام زمانہ کے تعجیلِ ظہور کے لئے دعا کریں، آنحضرت کے لئے دعا نماز میت کی طرح واجب کفائی نہیں ہے کہ جو بعض کے انجام دینے سے باقی لوگوں سے ساقط ہو جائے ۔بلکہ پنجگانہ نمازوں کی طرح(واجب عینی) ہے کہ جو ہر بالغ شخص کے اوپر واجب ہے کہ وہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا کرے۔ (مکیال المکارم ،١،٤٣٨،بہ نقل منتخب صحیفہ مھدیہ،ص٢٤) 

بقلم: افتخار علی جعفری


 ہر مشکل کا راہ حل ’’دعا‘‘ انسان اگر اپنے وجود میں تھوڑی سی دقت کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ وہ اس عالم بیکراں کے اندر تن تنہا اُس صفر کے مانند ہے جسکا تعلق کسی ہندسہ سے نہ ہو۔ صفر اگر تنہا ہو تو اس کی کوئی حیثیت اور قیمت نہیں ہوتی ۔ صفر کا وجودمحض احتیاج ہے۔ صفر اپنی حیثیت بنانے اور اپنے وجود کو ظاہر کرنے میں ہندسہ کا محتاج ہے۔ اگر ہندسہ سے اپنا تعلق برقرار رکھے تو یہ صفر نہیں رہے گا بلکہ دس اور بیس کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ یہی حال ہے انسان کا۔ انسان بذات خود فقر محض اور احتیاج محض ہے انسان فقیر الی اللہ ہے''یا ایھا الناس  انتم الفقراء الی اللہ واللہ ھو الغنی''(سورہ فاطر،١٥)بذات خود اس کی کوئی حیثیت اور قیمت نہیں ۔اس لیے کہ اس کے پاس اپنا کچھ نہیں ۔سب کچھ اس کے مالک کا دیا ہوا ہے اگر اپنے مالک سے تعلق اور رابطہ برقرار رکھے گا تو اس کی قیمت یہ ہو گی کہ وہ کائنات کی ہر شے سے اشرف اور برتر ہو گا اور اگر اپنے اس رابطہ کو منقطع کر دیا تو ''بل ھم اضل'' اور '' اسفل السافلین '' کی منزل میں آجائے گا اور اس کی کوئی ارزش و قیمت نہیں رہے گی۔
اپنے خالق اور پالنے والے سے رابطہ اور تعلق برقرار رکھنے کے ذرایع میں سے ایک عمدہ ذریعہ ''دعا'' ہے۔ دعا کو ''کلام صاعد''کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ دعا بندہ کا وہ کلام ہوتا ہے جو خدا کی طرف صعود کرتا ہے۔ دعا خدا سے ہم کلام ہونے اور اس سے راز و نیاز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
دعا انسان کا فطری تقاضا ہے۔دعا یعنی مانگنا،طلب کرنا ۔ایک بچہ دنیا میں قدم  رکھتے ہی رو کر ماں سے دودھ مانگتا ہے اور اپنی محتاجی کا اعلان کرتا ہے۔ اور مرتے دم تک دوسروں کا محتاج بنا رہتا ہے۔ اس دنیوی زندگی میں انسان کے پاس اورکوئی چارہ بھی نہیں ہے اگر کوئی باغیرت انسان پیدا ہو جائے جو یہ چاہے کہ بغیر کسی کی محتاجی اور کسی سے کچھ مانگے اس دنیا میں زندگی گذار لے تو شاید پیدا ہونے کے بعد ایک بھی دن زندہ نہ رہ سکے۔ اس لئے کہ کم سے کم زندہ رہنے کے لئے ماں کا محتاج ہونا پڑے گا۔غرض یہ کہ انسان ایسے عالم میں زندگی گذار رہا ہے جہاں ہر کام اسباب اور وسائل کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ رزق مختلف ذرایع اور اسباب کے واسطے انسان تک پہنچتا ہے مریض ہوتا ہے تو ڈاکٹر اور دوا کے ذریعے شفا ملتی ہے۔ پیاس لگتی ہے تو پانی کے ذریعے بجھتی ہے۔لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ اسباب اور وسائل اصل نہیں ہیں ۔ان اسباب کو سببیت دینے والا اور اسباب فراہم کرنے والا کوئی اور ہے۔ رزق اور دوا کے اندر تاثیر پیدا کرنے والا کوئی اور ہے۔ وہ نہ چاہے تو کھیت کے اندر بوئے ہوئے دانے کو دنیا کی کوئی طاقت اگا نہیں سکتی ۔وہ ہمیں سیر کرنا نہ چاہے تو ہم کتنا کھاتے رہیں سیر نہیں ہو سکتے ۔پانی پیتے رہیں کبھی پیاس نہیں بجھ سکتی ۔دوا ڈاکٹر نے دی مگر شفا دینے والا کوئی اور ہے۔ وہ شفا نہ دینا چاہے تو دوا کوئی اثر نہیں کر سکتی۔نازک مسئلہ یہ ہے کہ انسان ظاہری اسباب اور وسائل میں کھو جاتا ہے اور ان کے حقیقی مؤثر کی طرف متوجہ نہیں ہوتا جبکہ ’’لا موثر فی الوجود الا اللہ‘‘۔کمال تو یہ ہے کہ انسان ڈاکٹر سے دوا لے لیکن شفا خدا سے طلب کرے۔کھیت میں کام کرے لیکن رزق خدا سے طلب کرے۔ہر چیز کا مطالبہ اس سے کرے۔ اسے اچھا نہیں لگتا کہ اس کا بندہ اس کے علاوہ کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ خداوند عالم نے جناب موسیٰ  (ع) سے کہا:
''یا موسیٰ سلنی کل ما تحتاج الیہ حتی علف شاتک و ملح عجینک''۔(بحار،٩٣،٣٠٣)اے موسیٰ اپنی ہر چیز حتی بکری کے لیے چارا اور اپنے کھانے کا نمک بھی مجھ سے مانگو۔
رسول خدا (ص) فرماتے ہیں : ''  لیسأل احدکم ربہ حاجتہ کلھا حتی یسألہ شسع نعلہ اذا انقطع''(بحار ،٩٣،٢٩٥) تم میں سے ہر کوئی اپنی حاجت کو خدا سے طلب کرے حتی اگر جوتے کے تسمے ٹوٹ جائیں تو وہ بھی خدا سے مانگے۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ جب سب کچھ دینے والا وہی ہے تو انسان کیوں نہ  ہر چیز اس سے مانگے ۔ اس سے مانگنے میں نہ کوئی عار ہے اور نہ کوئی ننگ۔ بلکہ انسان کے لئے باعث کمال اور فضیلت ہے کہ انسان ہمیشہ اپنا رابطہ اس سے برقرار رکھے اور اس کی بارگاہ میں دعا کرے۔ اور وہ سننے والا بھی ایسا ہے جو سب سے زیادہ انسان کے قریب ہے۔''اذا سألک عبادی عنی فانی قریب''( بقرہ،١٨٦) وہ انسان کی رگ گردن سے زیادہ اس کے قریب ہے۔''نحن اقرب الیہ من حبل الورید''(ق،١٦) وہ انسان اور اس کے قلب کے بیچ حائل  ہو جاتا ہے''انّ اللہ یحول بین المرء وقلبہ''(انفال ٢٤) اس نے وعدہ دیا ہے کہ تم مجھے پکارو میں جواب دوں گا '' ادعونی استجب لکم'' (مومن۔٦٠) ،اجیب دعوت الداع اذا دعان (بقرہ،١٨٦)۔ جب اس نے استجابت دعا کا وعدہ دیا ہے تو ہم کیوں نہ اس سے دعا مانگیں کیوں نہ ہر حال میں اسی کے آگے ہاتھ پھیلائیں اور رسول اسلام(ص) سے منقول ہے کہ ''دعا مغز عبادت ہے''(بحار ،ج٩٣ ص ٣٠٢) دعا کے بغیر عبادت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔دعا نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے ہمیں خدا سے مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ چیز عین کفر و استکبار ہے۔
دعا کی فضیلت
پیغمبر اکرم ۖفرماتے ہیں ''الدعاء افضل من قرائة القرآن''(المیزان ٢ ،٣٤)دعا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔قرآن کی تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ خداہم سے ہم کلام ہو رہا ہے اس لئے کہ قرآن اس کا کلام ہے۔ لیکن دعا کا مطلب یہ ہے کہ ہم خدا سے اپنا رابطہ برقرار کرنا چاہتے ہیں ہم خدا سے ہم کلام ہونا چاہتے ہیں اور یقینا یہ عمل فضیلت کا حامل ہے۔ دوسری روایت میں آنجناب ۖسے منقول ہے ''الدعاء سلاح المومن وعمود الدین ونور السموات والارض''(کافی،٢،٤٦٨)دعا مومن کا اسلحہ ہے، دین کا ستون ہے اور زمین اور آسمانوں کا نور ہے۔امیر المومنین  فرماتے ہیں:'' نعم السلاح الدعاء''(غرر الحکم)سب سے بہترین اسلحہ دعا ہے۔
آج کے اس پیشرفتہ دور میں جہاں ایٹمی اسلحہ موجود ہو دعا کو ایک اسلحہ کے طور پر باور کرانا بہت سخت بات ہے اس لئے کہ اس اسلحے سے نہ شہروں کے شہر برباد کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہزاروں جانیں لی جاسکتی ہیں ۔(مگر یہ کہ بدعا کا سہارا لیا جائے جس کی مثالیں طوفان نوح ،عذاب بنی اسرائیل وغیرہ) آج کے دور میں بہترین اسلحہ اسی کو کہا جاتا ہے جو ایک دفعہ کے وار سے ہزاروں جانیں اپنی لپیٹ میں لے اور دسیوں بستیاں اجاڑ دے۔ مگر آج دنیا والوں کو یہ حقیقت باور کر لینا چاہیے کہ ایک مومن اور خدا پرست انسان کے لئے سب سے بہترین اسلحہ ''دعا'' ہے۔جسکا مشاھدہ چند سال پہلے لبنان میں ہو چکا ہے۔ لبنان کی مقاوت اگر ایٹمی اسلحوں کے زور پر ہوتی تو اسرائیل ایٹمی اسلحے کے اعتبار سے دنیا میں چوتھا ملک ہے۔ لبنان تو اس کے مقابلے میں مٹھی بھر بھی نہیں تھا۔ مگر لبنان نے ایک عظیم کامیابی سے ہمکنار ہو کر اسرائیل کو یہ دکھلا دیا کہ جنگ صرف ایٹمی اسلحوں کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی،ہمارے پاس وہ اسلحہ موجود ہے جسکے سامنے تمہارے بڑے بڑے ایٹمی اسلحہ ماند پڑ جاتے ہیں،جسے ہمارے عظیم الشان پیغمبر(ص) نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیا ہے اور وہ ہے ''دعا''۔
دعا کے مستجاب ہونے کے شرائط
آیات کی نگاہ میں
الف:دعا خوف اور رجاء کے ساتھ کی جائے۔
''وادعوہ خوفا وطمعا انّ رحمة اللہ قریب من المحسنین''(شوریٰ،٢٦)
انسان کو ہمیشہ خوف اور رجا کے بیچ میں رہنا چاہیے نہ خدا سے صرف خوفزدہ اچھی چیز ہے اور نہ فقط رجاء اور امید رکھنا اور اس کے عذاب سے نہ ڈرنا۔  دعا کرتے وقت بھی انسان کو ان دو حالتوں کے بیچ کی حالت اختیار کرنا چاہیے۔
ب:دعا تضرع اور گریہ کی حالت میں اور تنھائی میں ہونا چاہیے۔
''ادعوا ربکم تضرعا و خفیة''(اعراف ،٥٥)
اپنے پروردگار کو پکارو تضرع کے ساتھ اور تنہائی میں۔
ج: دعا کے ساتھ ساتھ ایمان اور عمل صالح بھی ضروری ہے۔
''و یستجیب الذین آمنوا وعملوا الصالحات ویزید ھم من فضلہ''(شوریٰ ،٢٦)
وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں ان کی درخواست (خدا) قبول کرتا ہے اور ان پر اپنا فضل اضافہ کرتا ہے۔
د: اخلاص
''فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین''(مومن،١٤)
خدا کو پکارو اپنے دین کو اس کے لئے خالص کر کے۔
اخلاص قبولیت اعمال کی شرط ہے وہ عمل جسمیں اخلاص اور للٰہیّت نہ ہو خدا اس کو پسند نہیں کرتا ۔

روایات کی نگاہ میں
الف:معرفت خداوند
قال قوم للصادق  ''ندعوا فلا یستجاب لنا؟'' ''قال  لانکم تدعون من لا تعرفونہ''(بحار ٩٣،٣٧٦)
ایک گروہ نے امام صادق(ع) سے کہا : ہم دعا کرتے ہیں قبول نہیں ہوتی؟ امام نے فرمایا:تم اسے پکارتے ہو جس کی نسبت تمہیں معرفت نہیں ہے۔
انسان کے پاس خدا کی معرفت جتنی زیادہ ہوتی ہے اتنا اسے اپنا فقیر ہونا اورخدا کا محتاج ہونا زیادہ محسوس ہوتا ہے جس کی بنا پر زیادہ خدا سے متوسل ہوتا ہے اور دعا مانگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور آئمہ معصومین (ع) زیادہ خدا سے دعا مانگتے رہے ہیں۔ انہیں جتنی خدا کی معرفت ہوتی ہے اتنا اس سے اپنا رابطہ اور رشتہ محکم کرتے ہیں ۔اور جب وہ ہمیشہ خدا سے اپنا رشتہ جوڑے رکھتے ہیں تو خدا بھی ان کی باتوں کو سنتا ہے اور ان کی دعاوں کو مستجاب کرتا ہے۔
ب:عمل صالح
قال رسول اللہ ۖ:''یکفی من الدعا ء مع البرّ ما یکفی الطعام من الملح''(بحار٩٣،٣٧٦)
پیغمبر اکرم ۖفرماتے ہیں:دعا نیک عمل کے ساتھ ایسے ہے جیسے کھانے میں نمک ہو۔
ج:حلال رزق
قال رسول اللہ(ص) لمن قال لہ احب ان یستجاب دعائی''طھر مأکلک و لا تدخل فی بطنک الحرام''(وہی)
پیغمبر اکرم ۖ نے اس شخص کو جو یہ کہہ رہا تھا میں چاہتا ہوں کہ میری دعا قبول ہو،ارشاد فرمایا:اپنی غذا کو پاک کرو اور اپنے پیٹ میں حرام کو داخل مت کرو۔
لقمہ حرام انسان کی زبان کو بے تاثیر بنا دیتا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ ایک لقمہ حرام کھانے سے چالیس دن تک انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی اور اگر انسان زندگی بھر مال حرام کھاتا رہے تو ایسے شخص کی دعا تو بالکل قبول نہیں ہو سکتی ۔وہ افراد جو سالانہ خمس نہیں نکالتے سہم امام اور سہم سادات کو اپنے مال سے الگ نہیں کرتے اور ان کے غاصب بنے رہتے ہیں وہ لقمہ حرام اپنے پیٹ میں بھرتے ہیں ایسے افراد کو کبھی بھی قبولیت دعا کی توقع نہیں رکھنا چاہیے۔
د:حضور قلب
''ان اللہ لا یستجیب دعاء بظھر قلب ساہ فاذا دعوت فاقبل بقلبک ثم استیقن بالاجابہ''(کافی ٢،٣٧٣)
اس شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی جس کا دل خدا کی طرف متوجہ نہ ہو جب بھی خدا کو پکارو تو حضور قلب سے پکارو پھر یقین کر لو کہ دعا قبول ہو گی۔

چار طرح کے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی
امام صادق  فرماتے ہیں : چار گروہ ایسے ہیں جن کی دعا قبول نہیں ہوتی:
پہلا گروہ وہ لوگ ہیں جو گھر میں بیٹھے ہوں اور دعا کریں خدایا ہمیں رزق عطا کر۔ خدا ان سے کہتا ہے کیا میں نے تمہیں کام کرنے کا حکم نہیں دیا؟۔
دوسرا گروہ وہ لوگ  ہیں جن کی بیویاں صالح نہ ہوں اور وہ ان کو برا بھلاکہتے اور مار پیٹ کرتے ہوں ۔خدا ان سے کہتا ہے کیا میں نے تمہیں ایسے موقع پر طلاق کا حکم نہیں دیا؟۔
تیسرا گروہ وہ افراد ہیں جو مال وثروت رکھتے ہیں لیکن اس کو اسراف اور حرام کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر دعا کرتے ہیں خدایا ہمیں رزق عطا کر۔خدا ان سے کہتا ہے کیا میں نے قناعت سے کام لینے کو نہیں کہا تھا؟۔
اور چوتھا گروہ وہ لوگ ہیں جو اپنا مال بغیر گواہ کے قرض دیتے ہیں (اور جب واپس نہیں ملتا تو پریشان ہوتے ہیں اور دعا کرتے ہیں)خدا ان سے کہتا ہے کیا میں نے گواہ بنانے کا حکم نہیں دیا تھا ؟۔

کون سی دعا کرنا چاہیے؟
آج کے دور میں سب سے اہم دعا امام زمانہ (ع) کے ظہورکی دعا ہے۔ آقائے تہرانی ایرانی ٹیلیویژن سے آیة اللہ بہجت سے یہ واقعہ نقل کر رہے تھے:مسجد کوفہ میں ایک شخص بہت تضرع ،گریہ و زاری اور خلوص کے ساتھ دعا کر رہا تھا اور اپنی ایک ایک مشکل کو بارگاہ خداوندی میں عرض کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک جوان اس شخص کی پیٹھ کی پیچھے آکر کھڑا ہو گیا اور اس کا شانہ ہلا کر کہتا ہے ''اے بندہ خدا اتنی سب مشکلات گنوانے کے بجائے میرے ظہور کے لئے دعا کر تو تمہاری یہ تمام مشکلات حل ہو جائیں گی''۔یقینا ایسا ہی ہے امام زمانہ (ع) کا ظہور ہی تمام مشکلات کا حل ہے اور بس۔
صاحب ''مکیال المکارم ''امام زمانہ (ع) کے ظہور کیلئے دعا کرنے کے سلسلے میں فرماتے ہیں :جیسا کہ آیات اور روایات سے ثابت ہے دعا عبادتوں کی ایک قسم ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اہم ترین اور باعظمت ترین دعا،اس شخص کے لئے دعا ہے جس کے حق اور اس کے ظہور کے لئے دعا کرنے کو ہمارے اوپر واجب قراردیا ہے اور جسکے وجود کی برکتوں سے خداوند عالم کی نعمتیں اس کی مخلوقات تلک پہنچتی ہیں ۔(مکیال المکارم،١،٤٣٨)
مرحوم آیةاللہ میرزا محمد باقر فقیہ ایمانی کو عالمِ خواب میں امام حسن مجتبیٰ(ع)  فرماتے ہیں:
''منبروں سے لوگوں کو کہیں اور انہیں حکم دیں کہ توبہ کریں اور امام زمانہ کے تعجیلِ ظہور کے لئے دعا کریں، آنحضرت کے لئے دعا نماز میت کی طرح واجب کفائی نہیں ہے کہ جو بعض کے انجام دینے سے باقی لوگوں سے ساقط ہو جائے ۔بلکہ پنجگانہ نمازوں کی طرح(واجب عینی) ہے کہ جو ہر بالغ شخص کے اوپر واجب ہے کہ وہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا کرے۔ (مکیال المکارم ،١،٤٣٨،بہ نقل منتخب صحیفہ مھدیہ،ص٢٤)
اس روایت کی روشنی میں مومنین کے اوپر واجب ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے آقا و مولا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ۔خدایا اپنی آخری حجت کے صدقے میں ان کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہمیں ان کے اعوان و انصار میں شامل فرما۔ آمین


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و هفتم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


اقتباس از کتاب : المیہ جمعرات
مصنف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)


حضرت علی علیہ السلام کے طرز زندگی کے بعد ہمیں اس بات کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان کے حریفوں کے کردار کا تذکرہ کریں کیونکہ "تعرف الاشیاء باضدادھا "چیزوں کی پہچان ا ن کے متضاد سے ہوتی ہے ۔
اسی قاعدہ کے پیش نظر ہم امیر المومینین کے بد ترین مخالف کے کردار کی تھوڑی جھلکیاں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔کیونکہ اگر شب تاریک کی ہولناکی نہ ہو تو روز روشن کی عظمت واضح نہیں ہوسکتی اور اگر کسی نے تپتی ہوئی دھوپ کو سرے سے دیکھا ہی نہ ہو تو اس کے لئے نخلستان کی ٹھنڈی چھاؤں کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل ہوجائے گا ۔
اسی طرح سے جس کو ابو جہل کی خباثت کا علم نہ ہو اسے محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وآلہ سلم رافت کا صحیح علم نہ ہوسکے گا اور جب تک کردار معاویہ پیش نظر نہ ہو اس وقت تک علی علیہ السلام کی عدالت اجتماعی کی قدر منزلت کاپتہ نہیں لگ سکے گا ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ علی کا معاویہ سے موازنہ کرنا ضدین کے مابین موازنہ قرار پاتا ہے اور حضرت علی (ع) اور معاویہ کے کردار میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔
مختصر الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی جس قدر عدل اجتماعی کے لئے وقف تھی ۔ویسے ہی معاویہ کی پوری زندگی بے اصولی اور لوٹ مار اور بے گناہوں کے قتل عام کے لئے وقف تھی ۔ حضرت علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحیح جانشین تھے ۔ اسی طرح سے معاویہ اپنے باپ کے کردار وفضائل کا صحیح جانشین تھا ۔حضرت علی علیہ السلام حضرت فاطمہ بنت اسد (رض) اور حضرت خدیجہ (رض) کی صفات جمیلہ کے وارث تھے جبکہ معاویہ اپنی ماں ہند جگر خوار کی خوانخوار عادات کا وارث تھا ۔
معاویہ نے مکر وفریب سے اپنا مقصد کیا اور امت اسلامیہ آج تک اس کے منحوس اثرات سے نجات حاصل نہیں کرسکی ۔
معاویہ نے قبائلی عصبیتوں کو ازسرنو زندہ کیا اور مجرمانہ ذہنیت کو جلا بخشی جس کے شعلوں کی تپش آج بھی امت اسلامیہ اپنے بدن میں محسوس کررہی ہے ۔ ہم نے اس فعل میں اس کے کردار کی چند جھلکنا پیش کی ہیں تاکہ انصاف پسند اذہان علی علیہ السلام اور معاویہ کی سیاست کے فرق کو سمجھ سکیں
وبضدّھا تتبین الاشیاء

حضرت حجر بن عدی کا المیہ
مورخ ابن اثیر تاریخ کامل لکھتے ہیں :-
51 ہجری میں حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا ۔ اور اس کا سبب یہ کہ معاویہ نے 41 ہجری میں مغیرہ بن شعبہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے ہدایت کی کہ :- " میں تجھے بہت سی نصتیںہں کرنا چاہتا تھا لیکن تیری فہم وفراست پر اعتماد کرتے ہوئے میں زیادہ نصحیتیں نہیں کروں گا لیکن ایک چیز کی خصوصی طور پر تجھے نصیحت کرتا ہوں ۔ علی کی مذمت اور سبّ وشتم سے کبھی باز نہ آنا اور عثمان کے لئے دعا ئے خیر کو کبھی ترک نہ کرنا اور علی کے دوستوں پر ہیشہا تشدد کرنا اور عثمان کے دوستوں کو اپنا مقرب بنانا اور انہیں عطیات سے نوازنا "
مغیرہ نے معاویہ کے حکم پر پورا عمل کیا وہ ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کرتا تھا اور حضرت حجر بن عدی اسے برملا ٹوک کر کہتے تھے کہ لعنت اور مذمت کا حق دار تو اور تیرا امیر ہے اور جس کی تم مذمت کررہے ہو وہ فضل وشرف کا مالک ہے ۔مغیرہ نے حجر بن عدی اور اس کے دوستوں کے وظائف بند کردئیے حضرت حجر کہا کرتے تھے کہ بندہ خدا ! تم نے ہمارے عطیات ناحق روک دئیے ہیں تمہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ہمارے عطیات بحال کرو ۔
مغیرہ مرگیا اور اس کی جگہ زیاد بن ابیہ کوفہ کا گورنر مقرر ہوا ۔ زیادہ نے بھی معاویہ اور مغیرہ کی سنت پر مکمل عمل کیا اور وہ بد بخت امیرالمومنین علیہ السلام پر سبّ وشتم کرتا تھا ۔ حجر بن عدی ہمیشہ حق کا دفاع کرتے تھے ۔زیاد نے حجر بن عدی اور ان کے بارہ ساتھوئں کو گرفتار کرکے زندان بھیج دیا اور ان کے خلاف ان کے "جرائم" کی تفصیل لکھی اور چار گواہوں کے دستخط لئے اور حضرت حجر بن عدی کی مخالفت میں جن افراد نے دستخط کئے تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اکے دو بیٹے استحاق اور موسی اور زبیر کا بیٹا منذرعماد بن عقبہ بن ابی معیط سر فہرست تھے پھر زیادہ نے قیدیوں کو وائل بن حجر الحضرمی اور کثیر بن شہاب کے حوالے کرکے انہیں شام بھیجا۔
زیاد کے دونوں معتمد قیدیوں کو لے کر شام کی طرف چل پڑے جب "مقام غریین" پر یہ قافلہ پہنچا تو شریح بن بانی ان سے ملا اور وائل کو خط لکھ کر دیا کہ یہ خط معاویہ تک پہنچا دینا ۔ قیدیوں کا قافلہ شام سے باہر" مرج عذرا" کے مقام پر پہنچا تو قیدیون کو وہاں ٹھہرایا گاع اور وائل اور کثیر زیاد کا خط لے کر معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ کو زیاد کا خط دیا جس میں زیاد نے تحریر کیا تھا کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھی آپ کے شدید دشمن ہیں اور ابو تراب کے خیر خواہ ہیں اور حکومت کے کسی فرمان کو خاطر میں نہیں لاتے یہ لوگ کوفہ کی سرزمین کو آپ کے لئے تلخ بنانا چاہتے ہیں لہذا آپ جو مناسب سمجھیں انہیں سزا دیں تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہوسکے ۔اس کے بعد وائل نے شریح بن ہانی کا خط معاویہ کے حوالے کیا جس میں تحریر تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے زیاد نے اپنے محضر نامہ میں میری گواہی بھی لکھی ہے اور حجر کے متعلق میری گواہی یہ ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکواۃ دیتے ہیں اور حج وعمرہ کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ اس کا خون اور مال تم پر حرام ہے ۔
زیادنے جن محبان علی کو گرفتار کیا تھا ان کے نام درج ذیل ہیں
(1):- حجر بن عدی کندی (2):- ارقم بن عبداللہ کندی (3):- شریک بن شداد حضرمی (4):- صیفی بن فسیل شیبانی (5):- قبیصہ بن صنیع عبسی (6):- کریم بن عفیف خثمی (7):- عاصم بن عوف بجلی (8) :- ورقا بن سمی بجلی (9):- کدام بن حسان عنزی (10):- عبدالرحمن بن حسان غزی (11):- محرر بن شہاب تمیمی (12:- عبداللہ بن حویہ سعدی ۔
درج بالا بارہ افراد کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا اس کے بعد دو افراد عتبہ بن اخمس سعد بن بکر اور سعد بن نمران ہمدانی کو گرفتار کرے کے شام بھیجا گیا تو اس طرح سے ان مظلوموں کی تعداد چودہ ہوگئی ۔
حضرت حجر بن عدی کے واقعہ کو مورخ طبری نے یوں نقل کیا ہے :-
قیس بن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام میں ایک شخص بنام صیفی بن فسیل اصحاب حجر کا سرگروہ ہے اور آپ کا شدید ترین دشمن ہے ۔زیاہ نے اسے بلایا ۔جب وہ آیا تو زیاد نے اس سے کہا کہ "دشمن خدا تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے "؟
اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا ۔
زیاد نے کہا!کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟
صیفی نے کہا:- جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں ۔زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے ۔
صیفی نے کہا!ہرگز نہیں وہ حسن اور حسین کے والد ہیں ۔
پولیس افسر نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے؟ حضرت صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کردوں ؟
زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کررہے ہو ۔میرا عصا لایا جائے ۔
جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو؟
صیفی نے فرمایا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے ۔
یہ سن کر زیادہ نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جب زیاد ظلم کرکے تھک گیا تو پھر حضرت صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیاکہتے ہو؟
انہوں نے فرمایا ! اگرمیرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردئیے جائں تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں ۔ زیاد نے کہا تم باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گا ۔
حضرت صیفی نے فرمایا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہوگا اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی ۔
زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کردیا ۔چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا ۔بعد از اں زیاد نے حضرت حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کئے ۔ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ " میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے ۔
زیادہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں ۔میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں ۔
عناق بن شر جیل بن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو ۔مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لئے قریش کے خاندان سے ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو ۔
چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق بن طلحہ بن عبیداللہ اور موسی بن طلحہ اور اسماعیل بن طلحہ اور منذر بن زبیر اور عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط ،عبدالرحمان بن ہناد ،عمربن سعد بن ابی وقاص ،عامر بن سعود بن امیہ ،محرز بن ربیعہ بن عبدالعزی ابن عبدالشمس ،عبیداللہ بن مسلم حضرمی ، عناق بن وقاص حارثی نے دستخط کئے
ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح بن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے ۔
شریح بن ہانی حارثی کو علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کردی ہے میں دنیا وآخرت میں اس گواہی سے بری ہوں ۔ پھروہ قیدیوں کے تعاقب میں آیا اور وائل بن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط معاویہ تک ضرور پہچانا ۔اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ نے حجر بن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ،زکواۃ دیتا ہے ، حج وعمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان ومال انتہائی محترم ہے ۔
قیدیوں کو دمشق کے قریب "مرج عذرا " میں ٹھہرا یا گیا اور معاویہ کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کردیاگیا ۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں –
(1):- حجربن عدی رضی اللہ عنہ (2):- شریک بن شداد حضرمی (3):- صیفی بن فسیل شیبانی (4):- قبیصہ بن ضبیعہ عبسی(5):- محرز بن شہاب السعدی (6):- کدام بن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین ۔
اس کے علاوہ عبدالرحمن بن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کےپاس بھیجا گیا اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو ۔زیاد نے انہیں زندہ دفن کرادیا (1)۔

خدا کی رحمت کند این عاشقان پاک طینت را
حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر ہند بنت زید نے یہ مرثیہ پڑھا تھا :-
ترفع ایھا القمر المنیر ۔۔۔ تبصر ھل تری حجر الیسیر
یسیر الی معاویۃ بن حرب ۔۔۔ لیقتلہ کما زعم الامیر
الا یا حجر حجر بن عدی ۔۔۔ ترفتک السلامۃ والسرور
یری قتل الخیار علیہ حقا ۔۔۔ لہ شر امتہ وزیر
"اے قمر منیر! دیکھو تو سہی حجر جارہا ہے ۔حجر معاویہ بن حرب کے پاس جارہا ہے ۔امیر زیاد کہتا ہے کہ معاویہ اسے قتل کرےگا ، اے حجر بن عدی !تجھے ہمیشہ سلامتی اور خوشیاں نصیب ہوں ،معاویہ شریف لوگوں کو قتل کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے اور امت کا بد ترین شخص اس کا وزیر ہے ۔"
ڈاکٹر طہ حسین لکھتے ہیں :-
ایک مسلمان حاکم نے اس گناہ کامباح اور اس بدعت کو حلال سمجھا اپنے لئے کہ ایسے لوگوں کو موت کی سزا دیدے جس کے خون کی اللہ نے حفاظت چاہی تھی اور پھر موت کا حکم بھی حاکم نے ملزموں کو بلا دیکھے اور ان کی کچھ سنے اور ان کو اپنے دفاع کا کچھ حق دیئے بغیر دیدیا ۔حالانکہ انہوں نے باربار مطلع کیا کہ انہوں نے حاکم کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا ۔
اس سانحہ نے دور دور کے مسلمانوں کے دل ہلادیئے ۔حضرت عائشہ کو جب معلوم ہوا کہ اس جماعت کو شام بھیجا جا رہا ہے تو انہوں نے عبدالرحمن بن حارث ابن ہشام کو معاویہ کے پاس بھیجا کہ ان کے بارے میں اس سے گفتگو کریں ۔ لیکن جب عبدالرحمن پہنچے تو یہ جماعت شہید ہوچکی تھی ۔
اسی طرح عبداللہ بن عمر کو جب اس دردناک واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے عمامہ سر سے اتارکر لوگوں سے اپنا رخ پھیر لیا اور رونے لگے اور لوگوں نے ان کے رونے کی آواز سنی ۔
حجر کا قتل ایک سانحہ ہے ۔ اس دور کے بزرگوں میں سے کسی نے اس بات پر شک نہیں کیا کہ کہ یہ قتل اسلام کی دیوار میں ایک شگاف تھا اور معاویہ کو بھی اس کا اعتراف تھا چنانچہ وہ اسے اپنے آخری دنوں تک حجر کو نہ بھول سکا اور مرض الموت میں سب سے زیادہ اسے یاد کیا ۔مورخوں اور راویوں کا بیان ہے کہ معاویہ مرض الموت میں کہتا تھا :-حجر تو نے میری آخرت خراب کردی ۔ ابن عدی کے ساتھ میرا حساب بہت لمبا ہے ۔"(2)

غدر معاویہ کے دیگر نمونے
معاویہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے انسانی قدروں کو پامال کرنےمیں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا ۔
اس نے حضرت مالک اشتر کے متعلق سنا کہ حضرت علی نے انہیں محمد بن ابی بکر کی جگہ مصر کا گورنر مقررکیا ہے تو اس نے ایک زمین دار سے ‎سازش کی کہ اگر تو نے مصر پہنچنے سے پہلے مالک کو قتل کردیا تو تیری زمین کا خراج نہیں لیا جائے گا ۔
چنانچہ جب حضرت مالک اس علاقے سے گزرے تو اس نے انہیں طعام کی دعوت دی اور شہد میں زہر ملا کر انہیں پیش کیا ۔جس کی وجہ سے حضرت ومالک شہید ہوگئے۔
اس واقعہ کے بعد معاویہ اور عمرو بن العاص کہا کرتے تھے کہ شہد بھی اللہ کا لشکر ہے ۔امام حسن مجتبی علیہ السلام سے معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور حضرت حسن عیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعث سے ساز باز کی کہ اگر وہ انہیں زہر دے کر شہید کردے تو اسے گراں قدر انعام دیاجائے گا اور اس کی شادی یزید سے کی جائے گی ۔
امام حسن علیہ السلام کی بیوی نے معاویہ کی انگیخت پر انہیں زہر دیا جس کی وجہ سے وہ شہید ہوئے ۔
مورخ مسعودی لکھتے ہیں کہ ابن عباس کسی کام سے شام گئے ہوئے تھے اور مسجد میں بیٹھے تھے کہ معاویہ کے قصر خضرا ء
سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی ۔آواز سن کر معاویہ فاختہ بنت قرظہ نے پوچھا کہ آپ کو کونسی خوشی نصیب ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے تم نے تکبیر کہی ہے ؟ تو معاویہ نے کہا ! حسن کی موت کی اطلا ع ملی ہے ۔ اسی لئے میں نے باآواز بلند تکبیر کہی ہے ۔(3)

زیاد بن ابیہ کا الحاق
زیاد ایک ذہین اور ہوشیار شخص تھا ۔ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ان کا عامل تھا ۔ معاویہ اپنی شاطرانہ سیاست کے لئے زیاد کو اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا اور اس نے زیاد کو خط لکھا کہ تم حضرت علی علیہ السلام کو چھوڑ کر میرے پاس آجاؤ کیونکہ تم میرے باپ ابو سفیان کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہو ۔
زیاد کے نسب نامہ میں اس کی ولدیت کا خانہ خالی تھا ۔اسی لئے لوگ اسے زیاد بن ابیہ ۔یعنی زیاد جو اپنے باپ کا بیٹا ہے ، کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔
حضرت علی علیہ السلام کو جب معاویہ کی اس مکاری کا علم ہوا تو انہوں نے زیاد کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا ۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ معاویہ تمہاری طرف خط لکھ کر تمہاری عقل کو پھسلانا اور تمہاری دھار کو کند کرنا چاہا ہے ۔ تم اس سے ہوشیار رہو کیونکہ وہ شیطان ہے جو مومن کے آگے پیچھے اور داہنی بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے غافل پاکر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کی عقل پر چھاپہ مارے ۔واقعہ یہ ہے کہ عمر بن خطاب کے زمانہ میں ابو سفیان کے منہ سے بے سوچے سمجھے ایک بات نکل گئی تھی جو شیطان وسوسوں مںہ سے ایک وسوسہ تھی ۔ جس سے نہ نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ وارث ہونے کا حق پہنچتا ہے ۔ جو شخص اس بات کا سہارا لے کر بیٹھے وہ ایسا ہے جیسے بزم مے نوشی میں مبتلا بن بلائے آنے والا کہ اسے دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے یا زین فرس میں لٹکے ہوئے اس پیالے کی مانند جو ادھر سے ادھر تھرکتا رہتا ہے (4)۔
مسعودی ذکر کرتے ہیں کہ :-
40 ہجری میں معاویہ نے زیاد کو اپن بھائی بنا لیا اور گواہی کے لئے زیاد بن اسماء مالک بن ربیعہ اور منذر بن عوام نے معاویہ کے دربار میں زیاد کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے ابو سفیان کی زبانی سنا تھا کہ زیاد نے میرے نطفہ سے جنم لیا ہے ۔اور ان کے بعد ابومریم سلولی نے درج ذیل گواہی دی کہ زیاد کی ماں حرث بن کلدہ کی کنیز تھی اور عبید نامی ایک شخص کے نکاح میں تھی طائف کے محلہ "حارۃ البغایا" میں بدنام زندگی گزار تی تھی اور اخلاق باختہ لوگ وہاں آیا جایا کرتے تھے اور ایک دفعہ ابو سفیان ہماری سرائے میں آکر ٹھہرا اور میں اس دور میں مے خانہ کا ساقی تھا ۔ ابو سفیان نے مجھ سے فرمائش کی کہ میرے لئے کوئی عورت تلاش کرکے لے آؤ ۔
میں نے بہت ڈھونڈھا مگر حارث کی کنیز سمیہ کے علاوہ مجھے کوئی عورت دستیاب نہ ہوتی ۔ تو میں نے ابو سفارن کو بتایا کہ ایک کالی بھجنگ عورت کے علاوہ مجھے کوئی دوسری عورت نہیں ملی ۔ تو ابو سفیان نے کہا ٹھیک ہے وہی عورت ہی تم لاؤ ۔
چنانچہ میں اس رات سمیہ کو لے کر ابو سفیان کے پاس گیا اور اسی رات کے نطفہ سے زیادکی پیدائش ہوئی ۔ اسی لئے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ معاویہ کا بھائی ہے ۔ اس وقت سمیہ کی مالکہ صفیہ کے بھائی یونس بن عبید نے کھڑے ہو کر کہا ۔
معاویہ ! اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے کہ " بچہ اسی کا ہے جس کے گھر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں " اور تو فیصلہ کررہا ہے کہ بیٹا زانی کا ہے ۔یہ صریحا کتاب خدا کی مخالفت ہے ۔عبدالرحمن بن ام الحکم نے اس واقعہ کو دیکھ کریہ شعر کہے تھے :-
الا بلغ معاویہ بن حرب ۔۔۔ مغلغۃ من الرجل الیمانی
اتغضب ان یقال ابوک عف--- وترضی ان یقال ابوک زانی
فاشھد ان رحمک من زیاد ۔۔۔ کرحم الفیل من ولد الاتان
" ایک یمنی آدمی کا پیغام معاویہ بن حرب کو پہنچادو ۔ کیا تم اس بات پر غصّہ ہوتے ہو کہ تمہارے باپ کو پاک باز کہا جائے اور اس پر خوش ہوتے ہو کہ اسے زانی کہا جائے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا زیاد سے وہی رشتہ ہے جو ہاتھی کا گدھی کے بچے سے ہوتا ہے ۔"
ابن ابی الحدید نے اپنے نے اپنے شیخ ابو عثمان کی زبانی ایک خوبصورت واقعہ لکھا ہے :
"جب زیاد معاویہ کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا اور تازہ تازہ ابو سفیان کا بیٹا بنا تھا اس دور میں زیاد کا گزر ایک محفل سے ہوا جس میں ایک فصیح وبلیغ نابینا ابو العریان العددی بیٹھا تھا ۔ ابو العریان نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ گزرے ہیں ؟
تو لوگوں نے اسے بتایا زیاد بن ابی سفیان اپنے مصاحبین کے ساتھ گزرا ہے ۔ تو اس نے کہا ! اللہ کی قسم ابو سفیان نے تو یزید ،معاویہ ،عتبہ، عنبہ ،حنظلہ اور محمد چھوڑے ہیں ۔ یہ زیاد کہاں سے آگیا ؟
اس کی یہی بات زیاد تک پہنچی تو زیاد ناراض ہوا ۔کسی مصاحب نے اسے مشورہ دیاکہ تم اسے ‎سزا نہ دو بلکہ اس کا منہ دولت سے بند کردو۔
زیاد نے دوسو دینار اس کے پاس روانہ کئے ۔ دوسرے دن زیاد اپنے مصاحبین سمیت وہاں سے گزرا اور اہل محفل کو سلام کیا ۔
نابینا ابو العریان اسلام کی آواز سن کر رونے لگا۔ لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ! زیاد کی آواز بالکل ابو سفیان جیسی ہے (5)۔
حسن بصری کہا کرتے تھے کہ معاویہ میں چار صفات ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے اس میں ایک بھی ہوتی تو بھی تباہی کے لئے کافی تھی ۔
1:- امت کے دنیا طلب جہال کو ساتھ ملاکر اقتدار پر قبضہ کیا جبکہ اس وقت صاحب علم و فضل صحابہ موجود تھے ۔
2:- اپنے شرابی بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا جو کہ ریشم پہنتا تھا اور طنبور بجاتا تھا ۔
3:- زیاد کو اپنا بھائی بنایا ۔ جب کہ رسول خدا کا فرمان ہے کہ لڑکا اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں ۔
4:- حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کیا (6)۔

اقوال معاویہ
معاویہ نے اپنی مرض موت میں یزید کو بلایا اور کہا کہ دیکھو میں نے تمہارے لئے زمین ہموار کردی ہے ار سرکشان عرب وعجم کی گردنوں کو تمہارے لئے جھکا دیا ہے اور میں نے تیرے لئے وہ کچھ کیا جو کوئی باپ بھی اپنے بیٹے کے لئے نہیں کرسکتا ۔مجھے اندیشہ ہے کہ امر خلافت کے لئے قریش کے یہ چار افراد حسین بن علی ۔عبداللہ بن عمر ،عبدالرحمن بن ابو بکر اور عبداللہ بن زبیر تیری مخالفت کریں گے ۔
ابن عمر سے زیادہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر باقی لوگ بیعت کرلیں گے تو وہ بھی تیری بیعت کرے گا ۔
حسین بن علی کو عراق کے لوگ اس کے گھر سے نکالیں گے اور تجھے ان سے جنگ کرنا پڑے گی ۔
عبد الرحمن بن ابو بکر کی ذاتی رائے نہیں ہے وہ وہی کچھ کرے گا جو اس کے دوست کریں گے ، وہ لہو ولعب اور عورتوں کا دلدادہ ہے ۔ لیکن ابن زبیر سے بچنا وہ شیر کی طرح تجھ پر حملہ کرے گا اور لومڑی کی طرح تجھے چال بازی کرے گا ۔ اگر تم اس پر قابو پاؤ تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردینا (7)۔
2:- طبری نے مختلف اسناد سے ابو مسعودہ فرازی کی روایت نقل کی ہے کہ :- معاویہ نے مجھ سے کہا :- ابن مسعدہ ! اللہ ابو بکر پر رحم کرے نہ تو اس نے دناب کو طلب کیا اور نہ ہی دنیا نے اسے طلب کیا اور ابن حنتمہ کو دنیا نے چاہا لیکن اس نے دنیا کو نہ چاہا ۔عثمان نے دنیا طلب کی اور دنیا نے عثمان کو طلب کیا اور جہاں تک ہمارا معاملہ ہے تو ہم تو دنیا میں لوٹ پوٹ چکے ہیں ۔
3:- جب معاویہ کی سازش سے حضرت مالک اشتر شیدا ہوگئے تو معاویہ نے کہا! علی کے دو بازو تھے ایک ( عمّار یاسر) کو میں نے صفین میں کاٹ دیا اور دوسرے بازو کو میں نے آج کاٹ ڈالا ہے ۔
4:-معاویہ کو رسولخدا (ص) نے بد دعا دی تھی کہ اللہ اس کے شکم کو نہ بھرے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا نے پورا اثر دکھایا تھا ۔ چنانچہ معاویہ دن میں سات مرتبہ کھانا کھاتا تھا اور کہتا تھا کہ خدا کی قسم پیٹ نہیں بھرا البتہ میں کھاتے کھاتے تھک گیا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- تاریخ طبری ۔جلد ششم –ص 155
(2):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص 243
(3):- مروج الذہب ومعادن الجوہر ۔جلد دوم ۔ص 307
(4):- نہج البلاغہ مکتوب 44
(5):- شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص 68
(6):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص 248
(7):-الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ ص 259-260
 


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و هفتم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

(1)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
انا یحیط علمنا با نبائکم ، ولا یعزب عنا شئی من اخبارکم (۱)

ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
تمھارے سارے حالات ھمارے علم میں ھیں اور تمھاری کوئی بات ھم سے پوشیدہ نھیں ھے ۔

(۲)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
اکثر و الدعا بتعجیل الفرج فان ذالک فرجکم (۲)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
تعجیل ظھور کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرو ، اس لئے کہ یہ دعا تمھارے ھی لئے حل مشکلات کو باعث ھے ۔

(۳)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
فا غلقوا ابواب السوال عما لا یعنیکم (۳)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں
وہ چیز جوتم سے متعلق نھیں ھے� اس کے بارے میں سوال نہ کرو ۔

(۴)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
انا خاتم الاوصیاء و بی یدفع اللہ البلاء عن اھلی و شیعتی (۴)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں :� میں سلسلہ ٴ اوصیا ء کی آخری کڑی ھوں۔ خدا وند عالم میرے وسیلہ سے میرے اھل اور میرے شیعوں سے بلاؤں کو دور کرتا ھے ۔

(۵)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
ان الارض لا تخلوا من حجة اما ظاھرا و ما مغمورا (۵)

ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں
زمین حجت خدا سے خالی نھیں ھے ، وہ حجت یاظاھر ھوتی ھے یا پوشیدہ ۔

(۶)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
کلما غاب علم بدا علم ، و اذا افل نجم طلع نجم (۶)

ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
جب کسی علم پرپردہ پڑ جاتا ھے تو دوسرا علم ظاھر ھو جاتا ھے اور جب کوئی ستارہ غروب ھو جاتا ھے تو دوسرا اسکی جگہ طلوع ھو جاتا ھے ۔

(۷)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
فا ما السجود علی اقبر فلا یجوز (۷)

ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
کسی کی قبر پر سجدہ جائز نھیں ھے ۔


قال الامام المھدی علیہ السلام:
ارخص نفسک و اجعل مجلسک فی الدھلیز و اقض حوائج الناس (۸)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں :
اپنے کو لوگوں کے حوالے کر دو اور اپنے بیٹھنے کی جگہ دھلیز قرار دو اور ولوگوں کی حاجتوں کو پورا کرو

(۹)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
انی امان لاھل الارض کما ان النجوم امان لاھل السماء (۹)

ترجمہ:
حضرت امام مھدیعلیہ السلام فرماتے ھیں :
میں اھل زمین کے لئے اسی طرح سبب راحت و امان ھوں جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے باعث امان ھیں ۔

(۱۰)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
سجدة الشکر من الزم السنن و اوجبھا (۱۰)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں :
سجدہ ٴشکر واجب ترین مستحبات میں سے ھے ۔

حوالہ:
۱۔ بحار الانوار ج /۵۳ ص/۱۷۵
۲۔ کمال الدین صدوق ج/۲ ص /۴۸۵
۳۔بحار الانوار ج /۵۲ ص /۹۲
۴۔ بحار الانوار ج/ ۵۲ ص/۹۲
۵۔ کمال الدین صدوق ج/۲ ص/ ۵۱۱
۶۔بحار الانوار ج ۵۳ ص ۱۸۵
۷۔ احتجاج طبرسی ج۲ ص ۴۹۰
۸۔ فرما یشان حضرت بقیة اللہ ص ۱۷۰
۹۔ بحار الانوار ج ۷۸ ص ۳۸۰
۱۰۔احتجاج طبرسی ج۲ ص ۴۸۷
 


نوشته شده در تاريخ جمعه بیست و پنجم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: المیادین ٹی وی چینل کے میزبان غسان بن جدو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ حزب اللہ ایک مزاحمتی تحریک ہے اور مزاحمت کو جاری رکھنا چاہتی ہے، میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایمان اور اصول کا معاملہ ہے۔
ہم تیار ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ ہر موقع پر اور ہر جگہ پر مقابلہ کریں، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ دن رات مضبوط اور طاقتور ہو رہی ہے، اسرائیل کی جانب سے اپنے وطن کی سرحدوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے المیادین ٹی وی چینل کے میزبان غسان بن جدو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوچکی ہے اور یہ سب کچھ حزب اللہ نے جولائی سنہ 2006ء میں غاصب اسرائیل کے ساتھ ہونے والی تینتیس روزہ جنگ کے بدلے میں سیکھا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے گذشتہ دنوں لبنان کے جنوبی علاقے لبونہ میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے نوجوان اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں اور لبونہ میں دو دھماکوں کا ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جب غاصب اسرائیلی دشمن نے سرحد پار آکر جاسوسی انجام دینے کی کوشش کی تو پہلے سے نصب شدہ دو بم ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے پھٹے جس کے نتیجے میں غاصب اسرائیلی دشمن کے کئی فوجی زخمی ہوئے جبکہ ہلاک بھی ہوئے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد اسرائیلی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور ان کے حواس باختہ ہوگئے کیونکہ وہ اس کاروائی کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ لبونہ ایک سرحدی علاقہ ہے اور حزب اللہ کے جوان ہر وقت وہاں پر موجود رہتے ہیں تاہم یہ حزب اللہ کے جوانوں کی ایک حکمت عملی کا حصہ تھا کہ انہوں نے اس مرتبہ زمین میں Land Mines نہیں لگائیں جبکہ اس کے بدلے میں IEDs کا استعمال کیا اور جیسے ہی اسرائیلی فوجی وہاں داخل ہوئے وہ اس کا نشانہ بنے۔

سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان کے علاقے لبونہ میں اسرائیل کی طرف سے ہونے والی خلاف ورزی کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایک مضحکہ خیز بات ہے کہ اسرائیل نے پینسٹھ برس گزر جانے کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا اور آج اقوام متحدہ کی افواج کا سہارا لیتا ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ وہ ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کرے اور ہمارے لوگوں کا قتل عام کرے تاہم لبونہ میں ہونے والی خلاف ورزی بھی اسرائیلی منصوبہ بندی کا ایک حصہ تھی اور حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کو یہ پہلا اور آخری جواب نہیں تھا، ہم اسرائیل کی طرف سے اپنی سرزمین کی خلاف ورزی پر ذرہ برابر بھی خاموش نہیں رہیں گے اور مزاحمت کرتے رہیں گے۔ ہم اسرائیل کے سامنے کھڑے رہیں گے اور اس کو اسی طرح جواب دیں گے جس طرح وہ ہماری زمین کی خلاف ورزی کرے گا، ہم اپنے وطن کی سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔ سید المجاہدین سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم تیار ہیں کہ اسرائیل
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ امریکی اور سعودی نہیں چاہتے کہ حزب اللہ لبنان میں حکومت کا حصہ رہے۔
کے ساتھ ہر موقع پر اور ہر جگہ پر مقابلہ کریں لیکن اسرائیل کو کسی صورت اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری سرزمین کی خلاف ورزی کرے یا لبنان میں داخل ہو۔

سید حسن نصر اللہ نے لبنان کے سیاستدانوں اور فوج کی جانب سے اسرائیلی خلاف ورزیوں پر خاموشی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ لبنان کے سیاست دان اور فوج اس معاملے پر خاموش رہتی ہے، لبنان میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو اسرائیل کو اپنا دشمن ہی تصور نہیں کرتی ہیں، حتیٰ لبنانی صدر کی کی جانب سے اقوام متحدہ میں دی گئی اسرائیل مخالف درخواست بھی نہایت کمزور ہے۔ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ہم مانتے ہیں کہ عالمی برادری ہمیں اور اسرائیل کو برابر دیکھے اور فیصلہ کرے کہ کون غلط ہے، اگر ہم غلط ہوں تو ہماری مذمت کی جائے اور اگر غلطی اسرائیل کی ہو تو پھر چشم پوشی نہیں ہونی چاہئیے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے وطن کا دفاع کریں اور اپنی سر زمین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر خاموش نہ رہیں اور ان کے خلاف اسی طرح کاروائی کریں جس طرح وہ ہمارے لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ وہ ہمیں تنہاء نہیں چھوڑنا چاہتے تو ہم کیوں ان کے سامنے تر نوالہ بن جائیں، ہماری مزاحمت کا بنیادی مقصد امت کا مفاد اور امت کو متحد کرنا ہے اور ہم نے ہمیشہ لبنان کی حفاظت کی ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم سے سب سے بڑا مسئلہ امریکہ اور مغرب کو یہ ہے کہ اور خطے کی عرب ریاستوں کو بھی کہ ہم ایک مزاحمتی تحریک ہیں جبکہ ان کا ہمارے ساتھ کوئی اندرونہ مسئلہ نہیں، بلکہ صرف یہی مسئلہ ہے کہ ہم ایک مزاحمتی تحریک ہیں اور اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک ایسے ہیں جو ہمیں ہمارے اسلحہ کے بدلے میں کئی مراعات دینے کی بات کرتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں مسئلہ فلسطین کا کیا ہوگا؟ اور پھر غاصب اسرائیلی دشمن ہمارے وطن کو تباہ و برباد کر دے گا۔ حزب اللہ کے عظیم مجاہد سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ ماضی میں امریکی صدر جارج بش کے نائب صدر ڈک چینی نے لبنان میں ایک امریکی کے ذریعے ہمیں مراعات دینے کی آفر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ حزب اللہ کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرے گا، امریکہ ہمارے اسلحے کی بات ترک کر دے گا، امریکہ حزب اللہ کو امریکہ کی بنائی گئی دہشت گردی کی فہرست سے بھی خارج کر دے گا لیکن ہم نے امریکیوں کی ڈیل کو یکسر مسترد کر دیا۔ ہم کچھ نہیں دیں گے، ہم امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہیں چاہتے۔ سید حسن نصر اللہ نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ مجھے بتائیں کہ ایسے اسلحے کی کیا قدر و قیمت ہوگی کہ جو اپنے وطن اور وطن کی حمیت و عزت کی حفاظت نہ کر سکے؟ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جب ہم نے مزاحمت کی راہ کا انتخاب کیا ہے تو ہم یہ بات جانتے
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم نے جولائی 2006ء میں اسرائیل سے ہونیوالی تینتیس روزہ جنگ میں ایران سے کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں لیا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ہیں کہ یہ شہادت کا راستہ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ کسی مذاکرات کا محتاج نہیں ہے۔ عالم مغرب اور ہمارے خطے کی عرب ریاستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حزب اللہ ایک مزاحمتی تحریک ہے اور مزاحمت کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایمان اور اصول کا معاملہ ہے۔

اسرائیل کے ساتھ تینتیس روزہ جنگ:
سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کو مئی 2000ء میں ایک تاریخی شکست سے دوچار کیا تھا اور ہم جانتے تھے کہ اسرائیل اس تاریخی اور ذلت آمیز شکست کے آثار سے مشکل سے باہر نکلے گا کیونکہ حزب اللہ نے سنہ 2000ء میں اسرائیل کے تمام تر دعووں کو خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا اور ایک عظیم الشان فتح اور لبنان کو آزادی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے تھے کہ اسرائیل ضرور لبنان پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے حملہ آور ہوگا۔ سید حسن نصر اللہ نے 12 جولائی 2006ء کو اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کا مسئلہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اللہ کے کامیاب آپریشنوں میں سے ایک کامیاب ترین آپریشن تھا اور حزب اللہ اس بات کے لئے آمادہ تھی کہ اسرائیل ان پر جنگ تھونپ دے گا، حزب اللہ اس وقت انتظار کر رہی تھی لیکن اسرائیل نے تھوڑی دیر کی، حزب اللہ بالکل پریشان نہ تھی اور نہ کنفیوز تھی۔

سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سنہ 2006ء جولائی میں ہونے والی جنگ میں ہمارا سب سے اہم ترین کام یہ تھا کہ دشمن کے فوجیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں قتل کریں، اس کے لئے ہم نے اپنے ان جوانوں پر فیصلہ چھوڑ دیا کہ جنہوں نے اپنے خون کے آخری قطرے تک مارون الراس کے مقام پر اسرائیلیوں کے خلاف جہاد کیا۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ ہمیں خبر ملی کہ ایتا الشعب کے مقام پر ہمارے بہت سے جوان شہید ہوگئے ہیں اور ہمارا رابطہ ان سے قطع ہو چکا تھا، تاہم اسی اثناء میں سید المجاہدین المقاومۃ شہید حاج عماد مغنیہ نے مجھے بتایا کہ ہمارے تمام جوان ابھی تک محاذ پر موجود ہیں اور بفضل خدا زندہ و سلامت ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ بنت جبیل میں اسرائیلی دشمن بڑی تیزی دے اندر تک داخل ہوتا چلا گیا اور حزب اللہ نے اس وقت کئی مہینوں تک جنگ لڑنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کئے جانے والے راکٹوں کی ایک قلیل تعداد استعمال کی گئی تھی جبکہ اس سے بڑھ کر ہمارے پاس موجود تھے اور ہم اس پوزیشن میں تھے کہ ہم اس سے کہیں زیادہ راکٹ اسرائیلیوں پر برسا سکتے تھے لیکن زیادہ لمبے عرصے تک جنگ لڑتے رہنے کے خیال سے ہم نے جنگ کی حکمت عملی اسی طرح وضع کی تاکہ کئی مہینوں تک جاری رہنے والی جنگ میں راکٹوں کا مسلسل استعمال جاری رہے۔ اسی طرح اس جنگ میں دیگر عناصر کی طرح ہمارے مرکزی اور نیچے بنائے گئے رابطے کے مقامات کا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رہنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری اس جنگ میں حزب اللہ نے درجنوں اسرائیلی جاسوسوں کو گرفتار کرکے لبنانی سیکورٹی اداروں کے حوالے کیا۔ سید حسن نصر اللہ نے
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جولائی 2006ء میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی شامی افواج نے اسلحہ ڈپو حزب اللہ کے لئے کھول دئیے تھے، ہم نے کورنٹ میزائل شام سے حاصل کیا اور ہم نے کئی ایک ہتھیار جو کہ جنگ میں استعمال کئے شام سے لئے تھے۔
کہا کہ یاد رکھیں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کی شکست کا ایک بنیادی نقطہ یہ تھا کہ ان کے پاس معلومات کمزور اور ذرائع کمزور ترین تھے۔ خصوصاً اس وقت کہ جب اسرائیلی افواج نے بعلبک میں قائم دارالحکمہ اسپتال میں اپنے فوجی اتارنے کی غلطی کی۔

سید حسن نصر اللہ نے المیادین ٹی وی کے غسا ن بن جدو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسرائیلی دو فوجیوں کو اغوا کے بعد بعلبک لے جایا ہی نہیں گیا تھا جبکہ اسرائیل کے پاس معلومات یہ تھیں کہ دونوں اغوا شدہ اسرائیلی فوجی بعلبک میں موجود ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ اسرائیل کسی قسم کے سیاسی دباؤ میں نہیں تھا جبکہ ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا، اسرائیل نے بیروت شہر میں قائم دھایہ کے علاقے کو بمباری کرکے تباہ کر دیا، حزب اللہ یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ وہ تل ابیب پر بمباری کرکے بڑا نقصان پہنچا دے لیکن ہم یہ دیکھ رہے تھے کہ اگر اسرائیل مزید کچھ دن اس طرح کے حملے جاری رکھتا تو پھر حزب اللہ بھی اسرائیل کی شہری آبادی تل ابیب کو نشانہ بناسکتی تھی اور ایسے موقع پر اسرائیل کے ہزاروں ٹینکوں کو تباہ کر سکتے تھے۔

شام نے حزب اللہ کے لئے بے پناہ اسلحہ کے ذخیرے فراہم کئے:
المیادین پر جاری طویل انٹرویو کے دوران حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یقین کریں کہ کوئی اسرائیل ٹینک سلامت نہیں رہ سکتا تھا جو ہمارے کورنٹ میزائل کی زد میں آتا تھا، اسی طرح اسرائیل کی طرف سے ہم پر بحری جہاز سے جاری حملے ہمارے لئے حیرت انگیز تھے اور اس کو نشانہ بنانا مشکل کام تھا۔ ہمارے مجاہدین نے اس کام کو بھی انجام دیا اور اسرائیل کے اس بحری جہاز کو نشانہ بنایا جو سمندر میں موجود تھا اور لبنان پر بمباری کر رہا تھا۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ میرے ایک فون میسج کے ختم ہونے سے بھی پہلے مجاہدین نے اس پر میزائل حملہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ اسرائیل بحری جنگی جہاز بھی نابود ہوگیا۔ ایک سوال کے جواب میں سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ اسرائیل نے بیروت میں واقع دھایہ کے علاقے میں شہری عمارتوں کو یکے بعد دیگرے بمباری کا نشانہ بنایا، اس عمارت کے ہر کمرے میں حزب اللہ کا کوئی آدمی نہیں تھا اور نہ ہی پوری عمارتوں میں حزب اللہ کے رہنما رہتے تھے، یہ ایک غیر منطقی بات ہے کہ جنگ کے دوران حزب اللہ کی پوری قیادت ایک ہی علاقے میں جمع ہو جائے۔

سید حسن نصر اللہ نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا کہ حزب اللہ نے جولائی 2006ء کی جنگ میں اور اس جنگ سے قبل شام سے بڑی تعداد میں اسلحہ وصول کیا ہے اور حزب اللہ نے اس جنگ میں شام سے ملنے والے اسلحے کے ساتھ بہت استفادہ کیا ہے۔ جنگ میں استعمال کئے جانے والے متعدد ہتھیار شامی ساختہ تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جولائی 2006ء میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی شامی افواج نے اسلحہ ڈپو حزب اللہ کے لئے کھول دئیے تھے۔ ہم نے کورنٹ میزائل شام سے حاصل کیا اور ہم نے کئی ایک ہتھیار جو کہ جنگ میں استعمال کئے شام سے لئے تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ وہ بھی اس جنگ میں شریک ہونا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ جنگ صرف خطے یا کسی ایک مزاحمتی تحریک کے خلاف نہیں بلکہ
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جب ہم نے مزاحمت کی راہ کا انتخاب کیا ہے تو ہم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ شہادت کا راستہ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ کسی مذاکرات کا محتاج نہیں ہے۔
اس جنگ کا مقصد پورے مشرق وسطیٰ پر اسرائیلی تسلط ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ اگر صیہونی حسبیہ اور المسناء کے مقام پر شامی سرحدوں سے لبنان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے تو اس سے پہلے ہی شامی افواج نے اپنے یونٹس کو چاک و چوبند کر دیا تھا تاکہ اسرائیلی فوجیوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ میں نے بشار الاسد کو بتایا کہ حزب اللہ کی پوزیشن مستحکم ہے اور ہم جنگ کو فتح کرنے کے قریب ہیں جبکہ اسرائیل اس جنگ میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کے ناپاک عزائم بھی خاک میں ملا دئیے گئے ہیں۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں بالکل پریشان نہیں ہوں اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ شام کو اسرائیل سے اب کوئی خطرہ ہے۔ میں نے بشار الاسد سے کہا کہ میں نے یہ فون آپ کو حوصلہ دینے کے لئے کیا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ جنگ پوری خطے میں پھیلے بلکہ ہم اس جنگ کو فتح کرنے کے قریب ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم نے جولائی 2006ء میں اسرائیل سے ہونیوالی تینتیس روزہ جنگ میں ایران سے کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں لیا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

تینتیس روزہ جنگ کے بعد مذاکراتی عمل:
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جنگ کے اختتام پر میں نے ہرگز فواد السینورا کو یہ اتھارٹی نہیں دی تھی کہ سیاسی سطح پر جنگ کے بارے میں مذاکرات کرے اور وہ بھی امریکی اور یورپی سیاست دانوں کے ساتھ۔ اگر ہم ان کو اپنی گردن پیش کریں تو وہ ذرا بھی دیر نہ کریں گے اور ہماری گردنوں کا کاٹ ڈالیں گے۔ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ جولائی 2006ء میں جاری جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہم سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ ہم اپنا اسلحہ پھینک دیں، ہم سے یہ بھی کہا گیا کہ شامی اور فلسطین سرحدوں کے ساتھ کثیر ملکی افواج کے دستے نافذ کر دئیے جائیں گے تاہم حزب اللہ اسلحہ سے دستبردار ہو جائے اور ہم سے یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کے دو فوجی جو حزب اللہ کی قید میں ہیں انہیں رہا کیا جائے لیکن ہم نے ان تمام مطالبات کو مسترد کر دیا۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یہ عرب ممالک ہی تھے جو حزب اللہ کے خلاف جنگ چاہتے تھے، ہم نے واضح کر دیا تھا کہ ہم اس جنگ کو لبنانی مطالبات کے پورا ہونے پر ختم کریں گے نہ کہ کسی خیانت کا حصہ بنیں گے، البتہ اس موقع پر اندرونی سطح پر سیاست کی بڑی کشمکش جاری تھی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ میں بالکل بھی حیرت زدہ نہیں تھا کہ لبنانی وزیر اعظم نے خود کو اس جنگ سے تنہا رکھا تھا، ان کا یہ فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ تھا۔

حزب اللہ کے بغیر کوئی حکومت نہیں بن سکتی:
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ امریکی اور سعودی نہیں چاہتے کہ حزب اللہ لبنان میں حکومت کا حصہ رہے اسی لئے وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایسی کوششیں کرتے رہتے ہیں جس سے وہ اس بات کے لئے تیار ہو جائیں کہ حزب اللہ سے ہٹ کر حکومت بنا لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے بغیر لبنان میں کوئی حکومت نہیں بن سکتی کیونکہ حزب اللہ ایک حقیقت ہے اور اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ان تمام تر باتوں کے باوجود میں بتانا چاہتا ہوں کہ حزب اللہ مزید طاقتور ہو چکی ہے اور حزب اللہ کی موجودہ طاقت جولائی 2006ء جنگ کی طاقت سے کئی گنا زیادہ ہے۔


نوشته شده در تاريخ جمعه بیست و پنجم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


عراق میں آج بھی مختلف شیعہ نشین علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں جن کے باعث متعدد شیعہ شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ 

  ابنا: عراق میں تکفیری دہشتگردوں کی غیر انسانی کاروائياں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آج بغداد کے مختلف علاقوں میں سترہ کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں درجنوں جاں بحق اور سکیڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بغداد کے مشرق میں حسینیہ علاقے میں دہشتگردانہ بم دھماکے میں آٹھ افراد شہید ہوئے ہیں۔ البلدیات کے علاقے میں ایک شہری جاں بحق ہوگئے جبکہ باب المعظم میں بیس افراد مارے گئے۔ الکرادہ میں بھی تین کاربم دھماکے ہوئے ہیں۔ دہشتگردانہ واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں کا محاصرہ کرلیا جہاں جہاں بم دھماکے ہوئے تھے۔ عراق میں یہ بم دھماکے ایسے عالم میں ہورہے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف وسیع کاروائياں کررہی ہیں۔



نوشته شده در تاريخ جمعه بیست و پنجم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


لبنان کے شہر بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ لبنان کے ایک اہم مرکز سید الشہداء(ع) کے قریب ہونے والے بھیانک دھماکے میں ۱۲ افراد شہید اور ۱۲۰ زخمی ہو گئے ہیں۔ 

 حزب اللہ لبنان کے اہم مرکز کے پاس بھیانک دھماکہ، ۱۳۲ شہید اور زخمی+تصاویر
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ المنار ٹی وی کے مطابق لبنان کے شہر بیروت کے علاقے ضاحیہ میں کچھ گھنٹے پہلے ایک بھیانک کار بم دھماکہ ہوا ہے جس کے باعث ۱۲ افراد شہید جبکہ ۱۲۰ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ضاحیہ میں ’’مجتمع سید الشھدا(ع)‘‘ کے قریب بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں آج عصر کے وقت ہونے والا یہ بھیانک دھماکہ اتنا خطرناک تھا جس سے اطراف کی کئی عمارتوں کو آگ لگ گئی اوربتایا جاتا ہے کہ ایک عمارت مکمل طور پر نذر آتش ہو گئی ہے جبکہ متعدد گاڑیاں بھی جل کر راکھ ہو گئیں۔
واضح رہے کہ ضاحیہ کا علاقہ حزب اللہ کی سیاسی سرگرمیوں کا علاقہ ہے اور مجتمع سید الشھدا(ع) سید حسن نصر اللہ کے ان اہم مراکز میں سے  ایک ہے جہاں وہ خطاب کرتے ہیں۔
ضاحیہ میں یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حزب اللہ کل ۳۳ روزہ جنگ کی کامیابی کی سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ 
شام میں سرگرم دھشتگرد گروہ جبہۃ النصرہ نے اس دھماکہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔



نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هفدهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


ماہ مبارک رمضان کے اخر ایام اور عید سعید فطر کے قریب، قم ایران کے مراجع تقلید اور علماء کرام نے فطرہ کے مقدار مقرر کی۔ 

 مراجع تقلید قم نے فطرہ کی مقدار مقرر کی

ابنا: حضرات آیات ناصر مکارم شیرازی، جعفر سبحانی، لطف‌ الله صافی گلپائگانی، حسین نوری ہمدانی، حسین وحید خراسانی، شبیری زنجانی، محمد امامی کاشانی اور عبد الله جوادی آملی نے عید سعید فطر کے قریب فطرہ کی مقدار کا اعلان کیا ۔
اس رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے حرم مطھر حضرت معصومہ قم ‌(س) میں ہونے والی اپنی سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی نشست میں، غالبی غذاء کے تحت امسال ھر ادمی کا فطرہ 3  ھزار تومان معین کیا ۔
انہوں نے زکات فطرہ کو روز عید کے واجبات اور وظائف میں سے شمار کرتے ہوئے کہا: زکات فطرہ کا پہلا اثر ماہ مبارک رمضان کی عبادتوں کی قبولی اور دوسرا اثر پورے سال مصیبتوں اور بلاوں سے انسان کی حفاظت ہے ۔
 اس مرجع تقلید نے امسال کے فطرہ کی مقدار بتاتے ہوئے کہا: گیہوں کی لحاظ سے فطرہ کی مقدار 3 هزار تومان ہے اور چونکہ تہران میں گیہوں مہنگا ہے وہاں کے لوگ 3500 تومان فطرہ کی رقم ادا کریں گے و نیز چاول کے لحاظ سے فطرہ کی مقدار 15 هزار تومان ہے ۔
حضرت آیت ‌الله جعفر سبحانی نے بھی مدرسہ حجتیہ قم میں ہونے والے اپنے درس تفسیر قران کریم میں یہ کہتے ہوئے کہ بظاھر ائندہ جمعہ کو عید سعید فطر ہے کہا : امسال فطرہ کی مقدار 3600 تومان ہے اور فطرہ کے ادائگی ایک قسم کی شکر گزاری ہے  ۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ فقیروں اور نیازمندوں کی مدد، خداوند متعال کا شکر ادا کرنا ہے کہ اس نے ماہ مبارک رمضان میں روزہ رکھنے کی مہلت دی ہے کہا: اگر انسان اپنی ذمہ داری کو بخوبی ادا کرنا چاہتا ہو تو غالبی غذاوں کے تحت ہر انسان 3 کیلو اچھے گیہوں کی 3600 تومان قمیت فطرہ کے طور پر ادا کرے ۔
اس مرجع تقلید نے یاد دہانی کی : مارکیٹ میں 1000 تومان کیلو کا گیہوں بھی موجود ہے جو بہت اچھا گیہوں نہیں ہے، لھذا بہتر کے انسان اچھے گیہوں کا فطرہ ادا کرکے خود کو ایک سال تک کی بلاوں سے محفوظ کر لے ، اور اچھے گیہوں کے لحاظ سے فطرہ کی مقدار 3600 تومان بنتی ہے  ۔
حضرات آیات نوری همدانی اور وحید خراسانی نے بھی روٹیوں کا استعمال کرنے والوں کے لئے ہر ادمی کا 3500 تومان اور چاول کے استعمال والوں کے لئے ہر ادمی کا 15000 تومان امسال کے فطرہ کی مقدار معین کی ۔
حضرت آیت ‌الله سیستانی نے امسال گیہوں کے لحاظ سے فطرہ کی مقدار 3500 تومان اور چاول کے حوالہ سے فطرہ  کی مقدار 13500 تومان اعلان کی ہے ۔
حضرت آیت‌ الله شبیری زنجانی نے گیہوں کی بنیاد پر امسال فطرہ کی مقدار فی کس 5000 تومان اور چاول کی بنیاد پر 3 کیلو 600 گرام چاول بتایا ۔
و نیز حضرت آیت ‌الله جوادی آملی نے بھی گیہوں کو غالبی غذاء قرار دیتے ہوئے ہر انسان کا فطرہ 3000 تومان قرار دیا اور کہا:  چاول کھانے والے استمال کئے جانے والے تین 3 کیلو چاول کی بازار میں موجود قیمت ادا کرے ۔
آیت ‌الله محمد امامی کاشانی نے ہمارے رپورٹر سے گفتگو میں شھر تہران میں فطرہ کی مقدار معین کرتے ہوئے کہا کہ اگر غالبی غذا چاول ہے تو فطرہ کی مقدار 15000 تومان ہے اور اگر غالبی غذا گیہوں ہو تو ہر انسان کے  فطرہ کی مقدار 3500 تومان ہے  ۔
تہران کے عارضی امام جمعہ نے ماہ مبارک رمضان میں روزہ نہ رکھنے والے کے لئے کفارہ کی مقدار بتاتے ہوئے کہا: اگر انسان روزہ رکھنے سے معذور رہا ہو تو ہر دن روزہ نہ رکھنے کا کفارہ 1200 تومان اور جان بوجھ کر روزہ نہ رکھنے کا کفارہ 60000 تومان ہے  ۔


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هفدهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


ایران کے صوبہ زنجان کے محکمہ اسلامی تبلیغات کے سربراہ نے عید فطر کی آمد کی مناسبت سے مسلمانوں کومبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید فطر،گناہوں سے انسان کی نجات کا جشن ہے۔ 

 عید فطر، گناہوں سے انسان کی نجات کا جشن ہے

ابنا: حجۃ الاسلام علی دشتکی نے کہا ہے کہ ایک جامع اورکلی نگاہ میں تمام اوقات،زمانے،مہینے اورایام اللہ تعالیٰ سے متعلق ہیں اوران کا آپس میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن ایک لحاظ سے اللہ تعالیٰ اورائمہ اطہارعلیہم السلام نے خود بعض زمانوں کی اہمیت کی ضرورت پرزوردیا ہے جن میں ایک فجرکا وقت ہے کہ جس کی اللہ تعالی نے قسم کھائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ، پیغمبراکرم اورائمہ اطہارعلیہم السلام نے مہینوں کی اہمیت کی ضرورت پرزوردیا ہے اوربعض مہینے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اوررسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجب،شعبان اورمضان کے مہینوں کی اہمیت بیان کی ہے یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک میں اس مہینے کی اہمیت پرایک خطبہ بیان فرمایا ہے ۔
حجۃ الاسلام علی دشتکی نے کہا ہے کہ پہلی بات یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ رحمت ہے اوراس کا تسلسل برکت ہے اوربرکت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی انسانوں پرخصوصی عنایات ہیں جیسا کے ائمہ اطہارعلیہم السلام کے فرامین کے مطابق اس مہینے میں سونا بھی عبادت ہے اورایک آیت کی تلاوت کرنا،ختم قرآن کریم کے برابر ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ رمضان المبارک میں اللہ کی رحمت اورنجات کے دروازے انسان پرکھل جاتے ہیں اوررمضان المبارک کے آخری ایام مغفرت کے ہیں اوراللہ تعالی ٰ اس مہینے کے اختتام پر انسانوں کی مغفرت کرتا ہے لہذا انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بھی اس مقدس مہینے کے مغفورین میں شامل ہوجائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ عید فطر، انسان کی کامیابی اورخوشی اورانسانی کمال کے مراتب پرپہنچنے کا دن ہے جبکہ دوسری جانب شیطان نے قسم کھائی ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرے گااورانہیں حقیقی سعادت تک نہیں پہنچنے دےگا لیکن اللہ تعالیٰ نےبھی فرمایا ہے کہ میں اپنے مومن بندوں کی اس طرح ہدایت کروں گا کہ وہ اپنے حقیقی مقام کوپالیں گے۔

.....


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هفدهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

ایران عراق سمیت بعض عربی ممالک میں کل جمعرات کو ماہ مبارک رمضان کی تیسویں تاریخ ہے 

 آیت اللہ سیستانی: عراق میں جمعہ کو عید فطر ہو گی
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے کل جمعرات کو ماہ مبارک کی تیسویں تاریخ قرار دیتے ہوئے جمعہ کو عید فطر منانے کا اعلان کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بعض عربی ممالک؛ سعودی عرب، عرب امارات، قطر، کویت، فلسطین، شام، اردن، مصر اور لبنان میں کل جمعرات کو عید فطر منانے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ عمان، عراق اور دیگر عربی ممالک میں کل ماہ مبارک رمضان کی تیسویں تاریخ رہے گی۔ 


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


.....


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری



آج کا مسلمان بیدار ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ ہمارا مرکز اور ہماری بقاء صرف اور صرف اسلام سے ہے اور ہمیں اتحاد بین المسلمین کے جھنڈے تلے جمع ہو کر روسی اور امریکی گماشتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ آج مسئلہ شیعہ سنی کا نہیں ہے بلکہ اسلام و کفر کا مسئلہ درپیش ہے۔ مسلمان متحد ہوکر ہی قومیتوں کے بتوں کو توڑ سکتے ہیں۔ ہمیں ناصرف سازشی عناصر پر کڑی نظر رکھنا ہوگی بلکہ فسادات برپا کرنے والوں کے ہاتھ کاٹنا ہوں گے۔ 

 علامہ سید عارف حسین الحسینی شہید، اتحاد امت کے عظیم داعی اتحاد امت کے عظیم داعی، ارضِ پاکستان پر وحدت بین المسلمین کے لئے عظیم خدمات پیش کرنے والی بلند مرتبہ علمی و عرفانی شخصیت علامہ سید عارف حسین الحسینی کو ہم سے جدا ہوئے پچیس برس بیت گئے ہیں۔ آپ 5 اگست 1988ء بروز جمعہ پشاور میں اپنے مدرسہ جامعہ معارف الاسلامیہ میں دم فجر اسلام و پاکستان دشمنوں کی گولی کا نشانہ بنائے گئے، آپ نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور قیادت میں اس ملک و ملت کیلئے بھرپور خدمات انجام دیں اور ان کی رہنمائی کا حق اس طرح ادا کیا کہ آج اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی انہیں ایسے یاد کیا جاتا ہے جیسے کل کی ہی بات ہو۔ میرا نہیں خیال کہ آپ کی کمی کو کوئی اور پورا کرسکے۔
 
شہید قائد نے اپنے دور قیادت میں ملک کے کونے کونے میں جا کر لوگوں کی فکری، شعوری، مذہبی، اجتماعی، ملی تربیت و بیداری کیلئے دن رات ایک کیا اور مسلسل عوامی رابطہ کے ذریعے ان میں ایک درد، ایک احساس پیدا کر دیا، علامہ عارف الحسینی کی یہ خوبی کسی طور بھلائی نہیں جاسکتی کہ وہ اپنے ساتھ مختلف دورہ جات میں اہل سنت علماء کو بھی لے کر جاتے اور اتحاد کی فضا کو عوامی سطح پر نمایاں کرنے کی کوشش کرتے، جن لوگوں نے انہیں دیکھا ہے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ان کا یہ عمل دکھاوا یا مجبوری نہیں تھی بلکہ وہ اتحاد بین المسلمین پر پختہ یقین رکھتے تھے اور امت کو ایک لڑی میں پرونے کے شدید خوہش مند تھے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے پشاور کے مولانا عبدالقدوس اور جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ ملک اکبر ساقی تو اکثر ان کے ہمراہ دیکھے جاتے اور اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے برپا کانفرنسز میں نمایاں طور پر شریک ہوتے۔

علامہ عارف الحسینی نے ملک میں مارشل لاء دور میں قیادت کی ذمہ داری سرانجام دی، یہ بڑا سخت دور تھا، جب جنرل ضیاءالحق نوے دن کے وعدے پر برسر اقتدار آیا تھا اور ملک میں مختلف انداز میں تفریق و انتشار عروج پکڑ رہا تھا، کہیں صوبائیت کی بو پھیل رہی تھی تو کہیں لسانیت کا بیج بویا جا رہا تھا، کہیں علاقائیت کا دور دورہ تھا تو کہیں فرقہ واریت کو دوام بخشا جا رہا تھا، افغان روس جنگ کی وجہ سے ملک میں کلاشنکوف کلچر در آیا تھا اور اسی کے باعث منشیات فروشی، خصوصی طور پر ہیروئن نے تباہی مچا رکھی تھی، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں لگی تھیں اور سیاسی ورکرز کو شاہی قلعہ لاہور میں سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ ایسے ماحول میں MRD کے نام سے بحالی جمہوریت کی تحریک چل رہی تھی، علامہ عارف حسین الحسینی نے اس تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا اور اس کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، اپنے تعاون کا بھرپور یقین دلایا، جو سیاسی جماعتوں کیلئے بہت حوصلہ افزائی کا باعث تھا۔ علامہ عارف الحسینی نے اپنے ہر خطاب میں مارشل لاء حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور امریکہ نواز پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔

اس کے ساتھ ساتھ اپنے دور قیادت میں انہوں نے مختلف قومی و بین الاقوامی مسائل پر اپنا مؤقف بڑی صراحت کے ساتھ پیش کیا، انہوں نے پہلی بار اپنی ملت کو دوسری اقوام و ملل کے مقابل لانے کی جدوجہد کی اور 6 جولائی 1987ء کے دن مینار پاکستان کے وسیع گراؤنڈ میں عظیم الشان قرآن و سنت کانفرنس منعقد کرکے اپنی سیاسی طاقت و قوت کا بھرپور اظہار کیا اور ایک سیاسی منشور کا اعلان بھی کیا۔۔۔۔۔ آپ کے افکار پر عمل پیرا ہو کر ملت پاکستان کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگایا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔

 آپکی خدمت میں شہید علامہ عارف الحسینی کے چند منتخب افکار پیش کرتے ہیں، جو ہمارے اس موقف کی گواہی دیں گے کہ شہید علامہ عارف الحسینی ایک درد مند ملت تھے، جنہیں اتحاد بین المسلمین کی پاکستان میں جاری تحریک کا سرخیل اور بانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ کلمات و اقتباسات ان کی مختلف تقاریر سے حاصل کردہ ہیں، جو انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں عوامی اجتماعات میں کیں۔۔۔!
مشترکہ دشمن:۔
شیعہ اور سنی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تاریخی اختلافات کو حدود میں رکھیں، ہمارے مشترکہ دشمن امریکہ، روس اور اسرائیل ہیں، جو ہمیں نابود کرنے کے درپے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے فروعی اختلافات کو بھلا کر اسلام کے دشمنوں کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔
(شیعہ جامع مسجد بھکر میں خطاب "مارچ 1994ء")
اپنی اپنی فقہ پر قائم رہتے ہوئے اتحاد:۔
درحقیقت اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے بھی زندگی میں مل جل کر رہا جاسکتا ہے۔ آخر یہ کیوں ضروری ہے کہ میں کسی کے یا کوئی میرے مذہبی جذبات مجروح کرے۔ اسلام میں اسی وجہ سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ممانعت ہے کہ اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ نفرت ہی موجب فساد بنتی ہے، البتہ کسی کی دل آزاری کئے بغیر اپنے عقائد پر سختی سے کاربند رہنا اسلام میں بہت ضروری ہے۔ ایران میں شروع شروع میں بعض بیرونی طاقتوں نے کرد قبائل کو عقائد کی بنا پر بغاوت پر ابھارا لیکن جب دوسری طرف سے ان کے مذہبی جذبات کے احترام کا وطیرہ اختیار کیا گیا تو شیعہ سنی اتحاد کی شاندار مثال دیکھنے میں آئی۔
(شہید باقر الصدر ؒ اور سیدہ بنت الہدیٰ کی چوتھی برسی کے موقع پر پیغامات "اپریل1984ء")
 
ہمارا پیغام اخوت:۔
وقت آگیا ہے کہ وحی الٰہی کے ذریعے پہنچے ہوئے ہمارے عظیم پیغام حیات اسلام کی صداقتوں پر یقین رکھنے والے تمام انسان باہم متحد ہوکر اُٹھ کھڑے ہوں، تاکہ انسانوں کو فریب دے کر لوٹنے والی استعماری اور شیطانی قوتوں پر بھرپور ضرب لگائی جاسکے اور دنیا میں عدل و انصاف، الفت و محبت اور حقیقی امن و آشتی کی فضا قائم کی جاسکے۔ بندوں پر بندوں کی حکمرانی ختم کرکے فقط مالک حقیقی کی حکمرانی کا نفاذ ہی ان شہدائے راہ حق کی تمنا ہے اور یہ انسانی کامرانیوں کی منزل ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پیغام شہداء کے امین بنیں اور ہر طرح کی قربانی دے کر اس امانت کی حفاظت کریں۔ وطن عزیز پاکستان میں حقیقی اسلامی معاشرے کا قیام ہماری اولین خواہش بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اس مقصد کے حصول کیلئے میں ہر مسلمان محب وطن پاکستانی کو دعوت اتحاد عمل دیتا ہوں۔
 
آج اتحاد اُمت کی اشد ضرورت ہے:۔
آج کا مسلمان بیدار ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ ہمارا مرکز اور ہماری بقاء صرف اور صرف اسلام سے ہے اور ہمیں اتحاد بین المسلمین کے جھنڈے تلے جمع ہو کر روسی اور امریکی گماشتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ آج مسئلہ شیعہ سنی کا نہیں ہے بلکہ اسلام و کفر کا مسئلہ درپیش ہے۔ مسلمان متحد ہوکر ہی قومیتوں کے بتوں کو توڑ سکتے ہیں۔ ہمیں ناصرف سازشی عناصر پر کڑی نظر رکھنا ہوگی بلکہ فسادات برپا کرنے والوں کے ہاتھ کاٹنا ہوں گے۔
 
وہ دن دور نہیں جب بین الاقوامی استحصالی قوتوں کو امت مسلمہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ ہوسکے گی:۔
اسلام کے دشمنوں پر عیاں کر دینا چاہیے کہ فلسطین، لبنان، افغانستان، ہندوستان، اری ٹیریا اور دنیا کے دیگر ممالک میں مسلمانوں پر جو وحشت و بربریت کا بازار گرم کیا جا رہا ہے اور اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران اور لیبیا کے خلاف جو دیدہ و دانستہ اشتعال انگیز کارروائیاں کی جا رہی ہیں، وہ اس بات کی متقاضی ہیں کہ پوری امت مسلمہ ایک جسد واحد کی طرح اپنے تمام وسائل کے ساتھ دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے، اور اگر ایسا ممکن ہوسکا اور انشاءاللہ ایک دن ضرور ایسا ہوگا تو پھر کسی بین الاقوامی استحصالی قوت کو امت مسلمہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ ہوسکے گی۔ ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرم عمل ہوجائیں گے اور باطل قوتوں کے خلاف ایک مشترکہ لائحہ عمل کو اپنانے کیلئے عملی اقدامات کی طرف توجہ فرمائیں گے، نہ یہ کہ بعض حکومتوں کے ایماء پر آپ اسلامی کانفرنس کی طرف سے ایسی کانفرنس کا انعقاد کروائیں جو امت مسلمہ کے مفادات کو زک پہنچانے کے درپے ہو۔
(اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل شریف الدین پیرزادہ
کے نام کھلا خط 21"فروری 1986ء")
 
وقت کے تقاضے:۔
میں تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وقت کے تقاضوں کا ادراک حاصل کریں، جو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مسلمان متحد ہوکر عالمی سامراج کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ سامراجی قوتوں کی کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر موجود فروعی اختلافات کو ہوا دے کر انہیں کمزور کریں۔
(گلزار صادق بہاولپور میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب
"مارچ 1986ء")
 
شرعی و ایمانی فریضہ:۔
میں تمام مسلمانوں سے بار بار یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر ممکن طریقے سے امریکہ، روس اور اسرائیل کی اسلام دشمن پالیسیوں کی بھرپور مذمت اور ان سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے رہیں کہ یہ ان کا شرعی و ایمانی فریضہ ہے۔
( گلگت، بلتستان کے دورے کے موقع پر خطاب "جون1986ء")

تنگ نظری کی بجائے وسعت نظری:۔
بعض عناصر نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے فتویٰ سازی کے کارخانے قائم کر لئے ہیں، تنگ نظری اہل تشیع میں ہو یا اہل تسنن میں اس سے فقط اسلام کو نقصان پہنچے گا۔ فتویٰ سازی اور تعصب بیرونی جارحیت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا فائدہ صرف اسلام دشمن قوتیں ہی اُٹھا سکتی ہیں۔ دنیا بھر کے باضمیر اور حریت پسند مسلمان متحد ہوکر ہی سامراجی تسلط، تنگ نظری اور تعصب سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔
(لاہور میں قرآن و سنت کانفرنس سے خطاب
6" جولائی 1986ء")
 
پاکستان سب کا ہے:۔
پاکستان کے قیام کیلئے تمام مکتب فکر کے مسلمانوں نے بھرپور جدوجہد کی ہے۔ آج کسی ایک مکتب فکر کے نظریئے کو دوسروں پر مسلط کرنے کا مقصد نظریہ پاکستان سے انحراف کے مترادف ہوگا۔
(بھکر میں عظیم الشان اجتماع سے خطاب "جولائی 1986ء")
 
25 نومبر 1946ء کے دن پاراچنار کے افغان سرحدی گاؤں پیواڑ میں روشن ہونے والا یہ ستارہ، آسمان پاکستان پر ساڑھے چار سال تک ملت کی رہنمائی کرتے ہوئے انتہائی جراءت و شجاعت کے مظاہرے کرتا ہوا 5 اگست 1988ء کو اسلام و پاکستان دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو کر بظاہر ڈوب دیا مگر جاتے جاتے قوم میں ایسی روشنی بکھیر گیا، جس کے طفیل آج بھی حق و صداقت کا پھریرا لہرا رہا ہے اور جمہوریت کے سائے تلے سبز ہلالی پرچم سربلند دکھائی دے رہا ہے۔
تحریر:  ارشاد حسین ناصر


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری



 

 

 ..............


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر فوج کے دو افسروں اور ایک پولیس افسر کو قتل کر دیا ۔ 

 گلگت میں تین سکیورٹی افسروں کا قتل ابنا: پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر فوج کے دو افسروں اور ایک پولیس افسر کو قتل کر دیا ۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کا ایک کرنل، ایک کیپٹن اور پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ ہلال احمد ایک سرکاری میٹنگ سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے جب نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔حملے میں چار اہلکار زخمی ہو گئے جن میں سے تین نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ فی الحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه نهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شب قدر کے بارے میں اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی سے پوچھے گئے چند سوالوں کے جوابات ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔ 

 شب قدر سے متعلق چند سوالوں کے جوابات
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شب قدر کے بارے میں اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی سے پوچھے گئے چند سوالوں کے جوابات ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں۔

۱: کیوں شب قدر کو ’’شب قدر‘‘ کہا جاتا ہے؟
جواب: شب قدر کو شب قدر کہنے کے سلسلے میں بہت سارے اقوال بیان ہوئے ہیں لیکن ہم یہاں پر تفسیر نمونہ سے چند اقوال نقل کرتے ہیں:
الف: شب قدر کو اس لیے ’’قدر‘‘ کہا گیا ہے چونکہ اس رات بندوں کے آئندہ سال تک کے امور مقدر کئے جاتے ہیں۔ اس بات کی دلیل سورہ دخان کی یہ آیت ہے: إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةٍ مُبارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيها يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ‏: " ہم نے اس قرآن کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے ہم بیشک عذاب سے ڈرانے والے ہیں، اس رات میں تمام حکمت و مصلحت کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔(سورہ دخان، ۲،۳)
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ امر حکیم سے مراد سال بھر کے مقدرات کا فیصلہ ہے کہ انسان کے رزق اور صحت و مرض، راحت و تکلیف سب کا فیصلہ اسی شب قدر میں ہو جاتا ہے اور یہ رب العالمین اپنے علم کی بنا پر کرتا ہے کہ بندہ ایسے اعمال انجام دینے والا ہے۔ ورنہ سب کا وجود انسانی اعمال کے زیر اثر ہوتا ہے اور خدا بلا سبب کسی کو مبتلائے زحمت و تکالیف نہیں کرتا ہے۔
یہ بیان متعدد روایات کے ساتھ بھی ہم آہنگی رکھتا ہے چنانچہ روایات میں وارد ہوا ہے: شب قدر وہ شب ہے جس میں انسانوں کے ایک سال کے امور کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
ب: بعض نے کہا ہے کہ شب قدر کو اس لیے شب قدر کہتے ہیں چونکہ یہ قدر و منزلت کی رات ہے۔ جیسا کہ سورہ حج کی ۷۴ ویں آیت میں ہے: ما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ‏" ان لوگوں نے خدا کی واقعی قدر نہیں پہچانی۔
ج: بعض نے کہا ہے کہ چونکہ قرآن کو اس کی قدر و منزلت کے ساتھ رسول گرانقدر پر صاحب قدر فرشتے کے ذریعے اس رات نازل کیا گیا اس لیے اسے شب قدر کہا جاتا ہے۔
د: چونکہ یہ ایسی رات ہےجس میں جو بھی احیاء اور شب بیداری کرے گا صاحب قدر و منزلت ہو گا۔
ھ: چونکہ شب قدر میں اس قدر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ زمین تنگ پڑ جاتی ہے اس لیے کہ تقدیر کے ایک معنی تنگ ہو جانے کے ہیں: جیسا کہ سورہ طلاق کی ساتویں آیت میں ہے:’’ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ‘‘ اور جس کے رزق میں تنگی ہو۔
ان اقوال کو بیان کرنے کے بعد آیت اللہ مکارم شیرازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ پہلا قول لیلۃ القدر کے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔( تفسیرنمونہ، ج۲۷، ص ۱۸۷۔۱۸۸)

۲: شب قدر دقیق طور پر کون سی رات ہے؟
جواب: یہ بات یقینی ہے کہ شب قدر ماہ مبارک کی شبوں میں سے ایک شب ہے اور یہ بات قرآن کریم سے قابل اثبات ہے۔ قرآن کریم میں ایک مقام پر ارشاد ہے:  "شَهْرُ رَمَضانَ‏ الَّذي أُنْزِلَ فيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَ بَيِّناتٍ مِنَ الْهُدى‏ وَ الْفُرْقانِ ... (بقره 185)" اس آیت کی بنا ہر ماہ رمضان، نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ دوسری جگہ پر ارشاد ہے: "إِنَّا أَنْزَلْناهُ في‏ لَيْلَةِ الْقَدْرِ" (قدر 1) شب قدر، شب نزول قرآن ہے۔ ان آیتوں سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ شب قدر ماہ رمضان میں ہے۔ لیکن ماہ رمضان کی کون سے رات شب قدر ہے؟ اس سوال کا جواب قرآن کریم میں بیان نہیں ہوا ہے۔ اہلبیت علیہم السلام کی روایات میں تین راتوں کو شبہائے قدر کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ ماہ رمضان کی ۱۹، ۲۱ اور ۲۳ ویں رات۔ البتہ ۲۱ ویں اور ۲۳ویں پر زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ علامہ طباطبائی نے بھی ۲۳ ویں شب کو شب قدر ہونے کا قوی احتمال دیا ہے۔ لیکن اس کے مخفی ہونے کا کیا راز ہے اسے اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔( رجوع کریں، المیزان، ج۲۰، ص۳۳۳)

۳: اگر شب قدر کو انسان کی زندگی کے آئندہ ایک سال تک کے امور مقدر ہو جاتے ہیں تو ایسے میں ہم ایک سال تک بے اختیار ہو جائیں گے چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے انہی امور کو انجام دینا ہو گا۔
جواب: انسان جب تک اس دنیا میں ہے مکلف ہے اور تکلیف کے معنی یہ ہے کہ وہ اختیار رکھتا ہے اور خیر و شر میں سے کسی ایک کو اپنے اختیار سے انتخاب کر سکتا ہے۔ شب قدر میں ہر انسان کی تقدیر اس کے ارادے اور اختیار سے معین ہوتی ہے اس تقدیر کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس کے بعد مجبور ہو جائے گا جبکہ ہر انسان اپنے اعمال اور کردار کے مقابلے میں مسئول ہے یعنی ان کے بارے میں اس سے پرس و جو کی جائے گی اسے ثواب و عقاب دیا جائے گا واضح ہے کہ اگر انسان مجبور ہو گا تو ثواب و عقاب بے معنی ہو جاتا ہے۔ اور نتیجۃ جنت و جہنم کا بھی کوئی مفہوم نہیں رہ جاتا۔
شب قدر میں ہر انسان کے گزشتہ اعمال و کردار سے اس کی سرنوشت معین ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ طے ہو جاتا ہے کہ آئندہ سال تک وہ کن امور کے ذریعے مورد امتحان واقع ہو گا۔ اور وہ اہنے ارادے اور اختیار سے کن امور کو انجام دے گا لہذا انسان کی سرنوشت اور تقدیر اس کے اعمال اور کردار سے وابستہ ہے اور یہ انسان ہے کہ جو اپنے ارادے اور اچھے یا برے انتخاب سے اپنی تقدیر کو شب قدر میں معین کرتا ہے۔

۴: کیا وہ سرنوشت اور تقدیر جو شب قدر معین ہوتی ہے قابل تغییر ہے؟
جواب: بالکل، تقدیر قابل تغییر ہے، بطور کلی یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیک کردار اور نیک اعمال جیسے توبہ، استغفار، دعا، نماز، صدقہ اور صلہ رحم وغیرہ انسان کی تقدیر بدلنے میں مثبت اثر رکھتے ہیں۔ اور اسی طرح برا کردار اور ناشائستہ رفتار جیسے گناہ، جھوٹ، تہمت، بخل، قطع رحم وغیرہ منفی اثر رکھتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں تقدیر کے بدلنے کو ’’بداء‘‘ کہا جاتا ہے۔

۵: کیا کوئی انسان اگر شب قدر بخشا نہ جائے یا ماہ رمضان میں اس کی مغفرت نہ ہوئی تو اس کے بعد پورا سال اس کی بخشش نہیں ہو گی؟
جواب: یہ بات بعض روایات میں وارد ہوئی ہے جیسا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مَنْ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ إِلَى قَابِلٍ إِلَّا أَنْ يَشْهَدَ عَرَفَةَ." (الکافی، ج ، ص 66.) جو شخص ماہ رمضان میں بخشا نہ جائے وہ آئندہ سال تک بخشا نہیں جائے گا مگر یہ کہ روز عرفہ کو درک کرے اور اس دن توبہ کر لے۔
بظاہر امام علیہ السلام کی مراد درج ذیل نکات پر تاکید ہے:
الف: ماہ رمضان کی فضیلت، اس مہینے میں توبہ کی قبولیت کے لیے شرائط کا فراہم ہونا اور گناہوں کا آسانی سے بخشا جانا۔
ب: ماہ رمضان کے بعد روز عرفہ کی اہمیت کو درک کرنا اور اس دن مغفرت الہی کے حصول کے لیے زمینہ فراہم ہونا۔
ج: دیگر اوقات میں توبہ کا سختی سے قبول ہونا چونکہ دیگر اوقات میں توبہ کے لیے شرائط معمولا مہیا نہیں ہو پاتے۔
در نتیجہ، مذکورہ روایت کے معنی ہر گز یہ نہیں ہیں کہ ماہ رمضان اور روز عرفہ کے علاوہ کبھی بھی انسان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ دیگر اوقات میں واقعی توبہ کا تحقق پانا مشکل ہے اس لیے کہ دیگر اوقات میں معنوی فضا کے شرائط مہیا نہیں ہو پاتے۔ لہذا ہر گز ناامید نہیں ہونا چاہیے، چونکہ خدا مہربان، تواب، غفار الذنوب اور سریع الرضا ہے وہ جب چاہے اپنے بندے کی توبہ قبول کر سکتا ہے اس کے گناہ معاف کر سکتا ہے۔


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه نهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

حضرت علی (ع)خدا کی بندگی، رسول اسلام (ص) کی جانشینی کے لحاظ سے کامل ترین انسان نظر آتے ہیں چنانچہ 19 ماہ رمضان المبارک کو وقت سحر سجدۂ معبود میں جس وقت امیرالمومنین کی پیشانی خون میں غلطاں ہوئی خدا کے معتمد اور رسول اسلام (ص) کے امین ، فرشتوں کے امیر ، جنگ احد میں ” لافتی الّا علی لاسیف الّا ذوالفقار ” کا نعرہ بلند کرنے والے جبرئیل نے تڑپ کر آواز بلند کی تھی :” ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ” خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے۔ 

 

عالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی مفتخرترین ہستیوں میں مرسل اعظم ، نبی رحمت حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد سب سے پہلا نام امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب (ع) کا آتا ہے۔

 لیکن آپ سے متعلق محبت و معرفت کی تاریخ میں بہت سے لوگ عمدا” یا سہوا” افراط و تفریط کا بھی شکار ہوئے ہیں اور شاید اسی لئے ایک دنیا دوستی اور دشمنیوں کی بنیاد پر مختلف گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم ہو گئی ہے خود امیرالمومنین نے نہج البلاغہ کے خطبہ ایک سو ستائیس میں ایک جگہ خبردار کیا ہے کہ : ” جلد ہی میرے سلسلے میں دو گروہ ہلاک ہوں گے ایک وہ دوست جو افراط سے کام لیں گے اور ناحق باتیں میری طرف منسوب کریں گے اور دوسرے وہ دشمن جو تفریط سے کام لے کر کینہ و دشمنی میں آگے بڑھ جائیں گے اور باطل کی راہ اپنا لیں گے ۔میرے سلسلے میں بہترین افراد وہ ہیں جو میانہ رو ہیں اور راہ حق و اعتدال سے تجاوز نہیں کرتے ۔

وہ سچے مسلمان جو اہلبیت رسول (ص) سے محبت کرتے ہیں اور ان کواپنے لئے ” اسوہ ” اور” نمونۂ عمل ” سمجھتے ہیں صرف اس لئے ایسا نہیں کرتے کہ وہ ہمارے نبی (ص) کی اولاد ہیں اور ان کی نسل اور خاندان سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ اس لئے محبت و اطاعت کرتے ہیں کہ وہ خدا کی نگاہ میں عزیز و محترم ہیں اور ان کو اللہ نے اپنا نمائندہ اورعالم بشریت کا امام و پیشوا قراردیا ہے ۔البتہ جن کو اہلبیت (ع) کی صحیح معرفت نہیں ہے وہ ان کو یا تو اولاد رسول (ص) سمجھ کر مانتے اور احترام کرتے ہیں یا پھر ایسے بھی لوگ ہیں جو ایک اچھا انسان سمجھ کر ان کی تعریف و ستائش کرتے اور عقیدت و ارادت کا اظہار کرتے ہيں ۔ لیکن مسلمانوں کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ خدا نے ان کو امام و رہنما بنایاہے اور اسوہ و نمونہ قرار دے کر ان کی اطاعت و پیروی واجب قرار دی ہے ۔ان کی سیرت سے سبق حاصل کرنا اور ان کے آئینۂ کردار میں خود کو ڈھالنا ہمارا فریضہ ہے ۔چنانچہ حضرت علی (ع) کی محبت اور معرفت میں اس پہلو کو سامنے رکھنا بے حد ضروری ہے مسلمانوں کو دراصل اپنی رفتار و گفتار کے ذریعہ ثابت کرنا چاہئے کہ جب ہم ” علی کی پیروی ” کی بات کرتے ہيں تو یہ اوروں کی پیروی سے الگ ، خدا و رسول (ص) کی پیروی کے مترادف ہے ایک مسلمان حضرت علی (ع) سے محبت و اطاعت عبادت سمجھ کر انجام دیتا ہے ۔جس طرح قرآن کی تلاوت رسول اسلام (ص) کی پیروی ،نماز و روزہ کی ادائگی ، حج کے اعمال اور راہ خدا میں جہاد و سر فروشی عبادت ہے علی ابن ابی طالب (ع) کی محبت اور پیروی بھی عبادت ہے ۔ظاہر ہے محبت و اطاعت اسی وقت کارساز ہے جب ان کی امامت و رہبری کی معرفت کے ساتھ ہو ۔
ورنہ محبت کی ایک وہ صورت بھی ہے جو درویشوں اور فقیروں کے یہاں پائی جاتی ہے وہ بھی حضرت علی (ع) کو اپنا قطب اور پیشوا مانتے ہیں مگر حضرت علی (ع) کی عملی زندگی سے خود کو دورکئے ہوئے ہیں عیسائي دانشور جارج جرداق ادعا کرتے ہیں کہ “میں خداؤں کی پرستش کرتا ہوں میرے لئے علی ابن ابی طالب کمال اور عدالت و شجاعت کے پروردگار ہیں ” ۔ظاہر ہے اس عیسائي دانشور کی محبت اور اس کا اظہار الگ عنوان رکھتا ہے وہ عیسائي تھے اور عیسائي رہے ہیں انہوں نے” انسانی عدل و انصاف کی آواز” کے عنوان سے حضرت علی (ع) کی مدح و ستائش میں ایک پوری کتاب کئی جلدوں میں لکھ دی مگر ان کی محبت اسلام کی نظر میں کسی دینی معیار پر پوری نہیں اترتی ۔اسلام میں وہی محبت کارساز ہے جو معرفت کےساتھ ہو ورنہ محبت میں سہی اگر کوئی حضرت علی (ع) کو الوہیت یا نبوت و رسالت کی منزل میں پہنچانے کی کوشش کرے تو یہ غلو اورشرک ہے جس کی طرف حدیث میں آیا ہے :
” ہلک فیہ رجلان مبغض قال و محب غال“
“مبغض قال ” سے مراد وہ کینہ توز دشمن ہیں جو جان بوجھ کر علی (ع) کے فضائل چھپاتے یا انکار کرتے ہیں ۔ اور ” محب غال ” سے مراد محبت کے وہ جھوٹے دعویدار ہیں جو حضرت علی (ع) کو خدا کی منزل تک پہنچا دیتے ہیں ۔ایک مسلمان کی حیثیت سے جب ہم علی ابن ابی طالب (ع) کی سیرت اورکردار کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ خدا کی بندگی رسول اسلام (ص) کی جانشینی اور مسلمانوں کی امامت و پیشوائی کے لحاظ سے بہتریں مسلمان اور کامل ترین انسان نظر آتے ہیں ۔اسی لئے ان کی شخصیت اور کردار ابدی اور جاوداں ہے چنانچہ 19 ماہ رمضان المبارک کو وقت سحر سجدۂ معبود میں جس وقت امیرالمومنین کی پیشانی خون میں غلطاں ہوئی خدا کے معتمد اور رسول اسلام (ص) کے امین ، فرشتوں کے امیر ، جنگ احد میں ” لافتی الّا علی لاسیف الّا ذوالفقار ” کا نعرہ بلند کرنے والے جبرئیل نے تڑپ کر آواز بلند کی تھی :
” ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ” خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے
اور مسجد کوفہ میں جب سارے مسلمان اپنے امام وپیشوا کے غم میں نوحہ و ماتم کرنے میں مصروف تھے خدا کا مخلص بندہ اپنے معبود سے ملاقات کااشتیاق لئے آواز دے رہا تھا” فُزتُ وَ رَبّ الکَعبہ ” رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا اور علی (ع) آج بھی کامیاب ہیں کیونکہ ان کی سیرت ،ان کا کردار ،ان کے اقوال و ارشادات ان کی حیات اور شہادت کاایک ایک پہلو نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم بشریت کی کامیابی و کامرانی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اسی لئے علی ابن ابی طالب (ع) سے محبت اور معرفت رکھنے والے کل بھی اور آج بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ علی (ع) کی شہادت تاریخ بشریت کے لئے ایک عظیم خسارہ اورایسی مصیبت ہے کہ اس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے ۔نبی اکرم (ص) کی رحلت کے بعد ملت اسلامیہ جب حضرت علی (ع) کی ولایت و امامت پر متفق ہوا اور حکومت و اقتدار امیرالمومنین کے حوالے کردیا گیا تو 18 ذی الحجّہ سنہ 35 ہجری سے 21 ماہ رمضان المبارک سنہ 40 ہجری تک چار سال دس مہینہ کی مختصر مدت میں علی ابن ابی طالب نے وہ عظیم کارنامے قلب تاریخ پر ثبت کردئے کہ اگر ظلم و خیانت کی شمشیر نہ چلتی اور جرم و سازش کا وہ گھنونا کھیل نہ کھیلا جاتا جو عبدالرحمن ابن ملجم اور اموی خاندان کے جاہ طلبوں نے مل کر کھیلا تھا تو شاید دنیائے اسلام کی تقدیر ہی بدل جاتی پھر بھی علی ابن ابی طالب (ع) نبی اکرم (ص) کی 23 سالہ زندگی کے ساتھ اپنی پانچ سالہ حکومت کے وہ زریں نقوش تفسیر و تشریح کی صورت میں چھوڑ گئے ہیں کہ رہتی دنیا تک کے لئے اسلام کی حیات کا بیمہ ہوچکا ہےاور قیامت تک روئے زمین پرقائم ہونے والی ہر حکومت اس کی روشنی میں عالم بشریت کی ہر ضرورت کی تکمیل کرسکتی ہے ، چونکہ 21 رمضان المبارک کو علوی زندگی کا وہ صاف و شفاف چشمہ جو دنیائے اسلام کو ہمیشہ سیر و سیراب کرسکتا تھا ہم سے چھین لیا گيا لہذا یہ مصیبت ایک دائمی مصیبت ہے اورآج بھی ایک دنیا علی (ع) کے غم میں سوگوار اورماتم کناں ہے ۔
19 رمضان:سن40 ھ ق : حضرت علی علیہ السلام مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ سے شدید زخمی ہوئے ۔
عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، خوارج میں سے تھا اور ان تین آدمیوں میں سے تھا کہ جنہوں نے مکہ معظمہ میں قسم کھا کر عہد کیا تھا کہ تین افراد یعنی امام علی بن ابیطالب (ع) معاویہ بن ابی سفیان اور عمرو عاص کو قتل کرڈالیں گے ۔ہر کوئی اپنے منصوبے کے مطابق اپنی جگہ کی طرف روانہ ہوا اور اس طرح عبدالرحمن بن ملجم مرادی بیس شعبان سن چالیس کو شھر کوفہ میں داخل ہوا۔
انیسویں رمضان سن چالیس کی سحر کو کوفہ کی جامعہ مسجد میں امیرالمومنین علی (ع) کے آنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ دوسری طرف قطامہ نے ” وردان بن مجالد” نامی شخص کے ساتھ اپنے قبیلےکے دو آدمی اسکی مدد کیلۓ روانہ کیے.
اشعث بن قیس کندی جو کہ امام علی (ع) کے ناراض سپاہیوں اور اپنے زمانے کا زبردست چاپلوس اور منافق آدمی تھا ،حضرت امام علی (ع) کو قتل کرنے کی سازش میں ان کی رہنمائی کی اور انکا حوصلہ بڑھاتا رہا ۔ حضرت علی علیہ السلام انیسویں رمضان کے شب اپنی بیٹی ام کلثوم کے ہاں مہمان تھے .
روایت میں آیا ہے کہ آپ اس رات بیدار تھے اور کئی بار کمرے سے باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھ کر فرماتے تھے :خدا کی قسم ، میں جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ کہا گيا ہے ۔ یہی وہ رات ہے جس میں مجھے شھادت کا وعدہ دیا گيا ہے ۔
بہر حال نماز صبح کیلۓ آپ کوفہ کی جامعہ مسجد میں داخل ہوئے اور سوئے ہوے افراد کو نماز کیلۓ بیدار کیا، من جملہ خود عبد الرحمن بن ملجم مرادی کو بیدار کیا جو پیٹ کے بل سویا ہوا تھا ۔اور اسے نماز پڑھنے کوکہا ۔
جب آپ محراب میں داخل ہوئے اور نماز شروع کی تو پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ شبث بن بجرہ نے شمشیر سے حملہ کیا مگر وہ محراب کے طاق کو جالگی اوراسکے بعد عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے نعرہ لگایا :” للہ الحکم یاعلی ، لا لک و لا لاصحابک ” ! اور اپنی شمشیر سے حضرت علی علیہ السلام کے سر مبارک پر حملہ کیااور آنحضرت کا سر سجدے کی جگہ( ماتھے ) تک زخمی ہوگیا .
حضرت علی علیہ السلام نےمحراب میں گر پڑے اسی حالت میں فرمایا : بسم اللہ و بااللہ و علی ملّۃ رسول اللہ ، فزت و ربّ الکعبہ ؛ خدای کعبہ کی قسم ، میں کامیاب ہو گيا ۔
کچھ نمازگذار شبث اورا بن ملجم کو پکڑنے کیلئےباھر کی طرف دوڑ پڑے اور کچھ حضرت علی (ع) کی طرف بڑے اور کچھ سر و صورت پیٹتے ماتم کرنے لگۓ ۔
حضرت علی (ع) کہ جن کے سر مبارک سے خون جاری تھا فرمایا: ھذا وعدنا اللہ و رسولہ ؛یہ وہی وعدہ ہے جو خدا اور اسکے رسول نے میرے ساتھ کیا تھا ۔
حضرت علی (ع) چونکہ اس حالت میں نماز پڑھانے کی قوت نہیں رکھتے تھے اس لۓ اپنے فرزند امام حسن مجتبی (ع) سے نماز جماعت کو جاری رکھنے کو کہا اور خود بیٹھ کر نماز ادا کی ۔
روایت میں آيا ہے کہ جب عبدالرحمن بن ملجم نے سرمبارک حضرت علی (ع) پر شمشیر ماری زمین لرز گئ ، دریا کی موجیں تھم گئ اور آسمان متزلزل ہوا کوفہ مسجد کے دروازے آپس میں ٹکراۓ آسمانی فرشتوں کی صدائيں بلند ہوئيں ، کالی گھٹا چھا گئ ، اس طرح کہ زمین تیرہ و تار ہو گی اور جبرئيل امین نے صدا دی اور ھر کسی نے اس آواز کو سنا وہ کہہ رہا تھا: تھدمت و اللہ اركان الھدي، و انطمست اعلام التّقي، و انفصمت العروۃ الوثقي، قُتل ابن عمّ المصطفي، قُتل الوصيّ المجتبي، قُتل عليّ المرتضي، قَتَلہ اشقي الْاشقياء؛ خدا کی قسم ارکان ھدایت منہدم ہوگئے علم نبوت کے چمکتے ستارے کو خاموش کیا گيا اور پرہیزگاری کی علامت کو مٹایا گيا اور عروۃ الوثقی کو کاٹا گيا کیونکہ رسول خدا(ص) کے ابن عم کو شھید کیا گيا۔ سید الاوصیاء ، علی مرتضی کو شھید کیا گيا، انہیں شقی ترین شقی [ابن ملجم ] نے شھید کیا۔
اس طرح بہترین پیشوا ، عادل امام ، حق طلب خلیفہ ، یتیم نواز اور ھمدرد حاکم ، کاملترین انسان ، خدا کا ولی ، رسول خدا حضرت محمد مصطفے (ص) کے جانشین، کو روی زمین پر سب سے شقی انسان نے قتل کرڈالا اور وہ لقاء اللہ کو جاملے ، پیغمبروں اور رسول خدا (ص) کے ساتھ ہمنشین ہوئے اور امت مہربان ، عادل اوربابرکت امام کے وجود سے محروم ہوگئی۔


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه نهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

عراق کے مختلف شیعہ نیشن علاقوں میں گزشتہ ۲۴ گھنٹوں میں ہوئے ۱۶ بم دھماکوں میں ۲۲۳ افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ 

 بغداد کے شیعہ نشین علاقوں میں ۱۶ دھماکے، ۲۲۳ شیعہ خاک و خوں میں غلطاں+تصاویر
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’’این‘‘ نے آج صبح ۔۲۹،۷ ۔ کو فوری خبر کے عنوان سے رپورٹ دی ہے کہ عراق کے شیعہ نشین علاقوں میں کے گئے۱۶ دھماکوں کے باعث ۲۲۳ افراد خاک و خوں میں غلطاں ہوئے ہیں۔
بغداد؛ مدینۃ الصدر
بغداد کےعلاقے مدینۃ الصدر میں دو دھماکوں کے نتیجے میں ۲۸ افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
بغداد؛ الشرطہ الرابعہ
اس علاقے میں ہوئے دھماکے میں ۲ افراد شہید جبکہ ۱۱ زخمی ہوئےہیں۔
بغداد؛ الشعب
اس علاقے میں جو بغداد کے شمال مشرق میں واقع ہے الزھرا(س) ہسپتال کے قریب ہوئے بم دھماکے میں ایک آدمی شہید اور ۱۴ زخمی ہوئے ہیں۔
بغداد؛ البیاع
بغداد کے جنوب میں واقع اس علاقے میں سڑک پر ہوئے ایک بم دھماکے میں ایک آدمی جانبحق اور ۱۱ زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ واسط
بغداد ٹرمینل کے قریب واقع اس علاقے میں تین بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں سے ایک میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد معلوم نہیں ہوئی جبکہ دوسرے دو دھماکوں میں ۵ افراد شہید اور ۳۸ زخمی ہوئے ہیں۔
صوبہ المثنی
اس صوبہ کے شہر سماوہ میں ہوئے دو بم دھماکوں میں ۲ افراد شہید اور ۱۷ زخمی ہوئے ہیں۔
بصرہ
بصرہ کے علاقے خمسہ میل میں ایک بم دھماکے کے باعث ایک آدمی شہید اور ۱۳ زخمی ہوئےہیں۔
بغداد؛ کاظمین
کاظمین میں ہوئے ایک بم دھماکے میں ایک شخص شہید اور ۱۰ زخمی ہوئےہیں۔
بغداد؛ الحریہ
اس علاقے میں ہوئے بم دھماکوں میں ۴ افراد شہید اور ۲۱ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بغداد؛ طوبجی
اس علاقے میں ہوئے دھماکے میں تین افراد شہید اور ۹ زخمی ہوئے ہوئے۔



نوشته شده در تاريخ چهارشنبه نهم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


آج کے دور کے حالات وھی ھیں جو حضرت علی (ع) کے دور میں موجود تھے ھم موجودہ دور میں آپ(ع) کی نظر سے دنیا کی حقیقت اور سماج کی واقعیت کو دیکھتے ھوئے بے شمار مسائل کا حل کر سکتے ھیں اور یھی وجہ ھے کہ میں سمجھتا ھوں اس زمانے میں ھم ھر وقت سے زیادہ نھج البلاغہ کے محتاج ھیں۔ 

 امام علی(ع) اور آج کے مسلمانوں کے مسائل اور ان کا حل اس حقیقت سے انکار نھیں کیا جا سکتا ھے کہ ان مسلمانوں کا درخشاں دور ختم ھوگیا۔ کل یورپ کے گھٹتے ھوئے ماحول میں علم و حکمت کے چراغ روشن کرنے والے آج اپنے گھروں سے تاریکی کو دور کرنے کے لئے دیئے کے محتاج ھیں۔ کل جنھوں نے اپنے کرشماتی ذھنوں کو بروئے کار لاکر مغربی ممالک کو نور کی لھروں سے نھلا دیا تھا۔ آج وھی اپنے سماج کی تاریکیوں کو ختم کرنے کے لئے انھیں ممالک کے محتاج ھیں۔
ایک زمانہ تھا جب اھل یورپ جھل و ظلمت بھرے معاشروں میں حیران و سرگرداں تھے اور مسلمانوں کو لالچ بھری نظروں سے دیکھتے تھے، وہ مسلمانوں کی کتب کا ترجمہ کرتے جو ان کی درسگاھوں کی زینت بنتی لیکن آج مسلم معاشرے کی ثقافتی و تعلیمی پسماندگی، اخلاقی بدحالی اور معاشی استحصال کو فراموش نھیں کیا جاسکتا اور نہ ھی اغیار کی طرف سے سیاسی اور فوجی یلغار کو نظر انداز کیا جاسکتا ھے۔ بقول علاّمہ اقبال
دیروز مسلم از شرف علم سر بلند
امروز پشت مسلم و اسلامیاں خم است
اب سوال یہ ھے کہ یہ سب کیسے اور کیوں ھوا؟ اس کا علاج کیوں کر ممکن ھے؟
اس لئے کہ جو ھوا سو ھوا، اس کی وجہ ھماری غفلت رھی ھو یا اسلام سے دوری رھی ھو یا آپسی اختلافات لیکن اب اس کا علاج کیا ھے؟ آج کل کے دور میں جو حالات ھیں وہ بھت ھی سنگین صورت حال اختیار کر چکے ھیں۔ آیة اللہ العظمیٰ خامنہ ای آج کل کے حالات کا تقابل حضرت علی (ع) کی حکومت سے کرتے ھوئے فرماتے ھیں: آج کے دور کے حالات وھی ھیں جو حضرت علی (ع) کے دور میں موجود تھے ھم موجودہ دور میں آپ کی نظر سے دنیا کی حقیقت اور سماج کی واقعیت کو دیکھتے ھوئے بے شمار مسائل کا حل کر سکتے ھیں اور یھی وجہ ھے کہ میں سمجھتا ھوں اس زمانے میں ھم ھر وقت سے زیادہ نھج البلاغہ کے محتاج ھیں۔ (1)
حضرت آیة اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی اس فرمائش کو مدنظر رکھتے ھوئے کوشش کی گئی ھے کہ مسلمانوں کو درپیش بنیادی مسائل کا ایک سرسری جائزہ لیا جائے اور پھر نھج البلاغہ اور سیرت امیر الموٴمنین (ع) کی روشنی میں ان مسائل کا قابل قبول حل پیش کیا جاسکے جو آج کے مسلمانوں کو درپیش ھیں۔
مسلمانوں کے موجودہ مسائل
(1) تعلیمی پس ماندگی اور جھالت
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ھے کہ قوموں کے عروج و زوال میں جو چیز کلیدی حیثیت کی حامل ھے وہ ان کی تعلیم ھے۔ اور ھمارا مشاھدہ یہ بتاتا ھے کہ جس قوم نے تعلیمی میدان میں قدم آگے بڑھائے ھیں اس نے اپنی تعلیم کی روشنی میں ترقی کی منزلوں کو بھی یکے بعد دیگرے طے کیا ھے اور جو قوم جھالت کا شکار رھی ھے وہ ھمیشہ ماندہ رھی ھے، تعلیم کی کس قدر اھمیت ھے؟ اور تعلیم قوموں کے لئے کون سا سرمایہ حیات ھے؟ اس کو بیان کرنے کی ضرورت نھیں اس لئے کہ خود قرآن مجید کی بے شمار آیات اس کے والا مقام کا پتہ دے رھی ھیں، تعلیم کی اھمیت اور اس کی افادیت کو جس قدر مکتب اسلام نے بیان کیا ھے شاید ھی کوئی ایسا دین ھو جس نے تعلیم کے سلسلے میں اس قدر تاکید کی ھو(2) لیکن افسوس جس قدر تعلیم کی تاکید اسلام کے اندر ھے اسی قدر مسلمان تعلیم سے بیگانہ ھیں۔
(2)فقر و ناداری
تعلیمی پسماندگی اور جھالت کے علاوہ دوسرا مسلمانوں کا سب سے اھم مسئلہ فقر و ناداری ھے۔ یہ ایک ایسا مرض ھے جو دھیرے دھیرے پورے مسلم معاشرہ کے بدن میں سرایت کر رھا ھے اور اگر جلد اس کا علاج نھیں کیا گیا تو اس کے نتائج بھت ھی زیادہ سنگین ھونگے اس لئے کہ علم اقتصاد کے ماھرین کا خیال ھے کہ جس معاشرہ کی اکثریت ھو وہ معاشرہ کبھی ترقی نھیں کرسکتا۔ (3)
(3) اختلاف و افتراق
کسی بھی قوم کی نابودی کے لئے اب اس سے زیادہ عذاب اور کیا ھوسکتا ھے کہ ایک طرف تو وہ جھالت اور غربت و افلاس سے جوجہ رھی ھو اور دوسری طرف آپس میں اختلاف و افتراق کا شکار ھو، وہ چیز جس نے آج مسلمانوں کو بالکل بے بس بنا دیا ھے وہ آپس کا اختلاف ھے، سچ ھے قرآن نے کتنی اچھی تعبیر استعمال کی ھے: ”اگر تمھارے اندر اختلاف رھا تو اس کا نتیجہ یہ ھے کہ ضعف و سستی تمھارے اندر پیدا ھوجائے گی اور تم کسی قابل نہ رھو گے۔“ (4) مگر آج ھمارا حال یہ ھے کہ ھم نے قرآنی دستورات کو سرے سے نظر انداز کرتے ھوئے اس قدر اپنے اندر اختلاف پیدا کر لیا ھے کہ ھمارے اختلاف کی آگ میں استعمار اپنی روٹیاں سیک رھا ھے اور ھمیں دکھا دکھا کر کھا رھا ھے اور ھم فقر و ناداری میں میں تڑپ رھے ھیں اور یہ نھیں سمجھتے کہ یہ سب اختلاف کی وجہ سے ھورھا ھے۔ بقول سید جمال الدین اسدآبادی: ”اسلامی ممالک کو جو مرض لاحق ھے اس کی تشخیص کے لئے میں نے بھت فکر کی اور بھت سوچا آخر انجام میں نے پایا کہ مھلک ترین مرض تفرقہ ھے لیکن گویا مسلمانوں نے تنھا اس سلسلہ میں اتحاد کیا ھے کہ متحد نہ ھوں۔“( 5)
امام خمینیۺ اسی تفرقہ کے سلسلے میں فرماتے ھیں: ”تفرقہ آج کے دور میں اسلام سے خیانت ھے چاھے وہ کسی بھی عنوان کے تحت ھو۔ “(6)
(4)قرآنی تعلیمات سے دوری
قرآنی تعلیمات کی فراموشی نے ھی آج مسلمانوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ھے کہ انھیںخود بھی نھیں معلوم واپس جانے کا راستہ کیا ھے چنانچہ امام خمینیۺ مسلمانوں کی مشکلات بیان کرتے ھوئے فرماتے ھیں: ”مسلمانوں کی سب سے بڑی مشکل اسلام اور قرآنی تعلیمات سے دوری ھے۔“ (7)
(5) بدعتوں کا رواج
مسلم معاشرہ آج جن انگنت مسائل سے دوچار ھے ان میں ایک اھم مسئلہ یہ ھے کہ بدعتوں کو ھم نے اپنے پورے سماج میں یوں رچا بسا لیا ھے گویا ھمارے لئے کوئی ایسی کتاب نازل ھی نھیں ھوئی جو ھمارے لئے آئین زندگی کی حیثیت رکھتی ھو، جو ھمارے لئے مشعل راہ ھو بلکہ جو کچھ ھے وہ تمام کی تمام وہ چیزیں ھیں جنھیں ھمارا تقلیدی ذھن ھمیں انجام دینے پر اکساتا ھے اور ھم دین سے بے خبر بنا ساچے سمجھے انھیں شریعت کا جز بنا کر انجام دیتے رھے ھیں چنانچہ شھید مطھری اسی مشکل کی طرف اشارہ کرتے ھوئے فرماتے ھیں: ”انواع تحریف میں سب سے خطرناک تحریف، دینی اسناد، آسمانی کتب، احادیث اور سیرھٴ پیمبر (ص) میں تحریف ھے۔ “(8)
لیکن ھمارا حال یہ ھے کہ جس جگہ بھی کسی بھی عنوان کے تحت کوئی ایسا نعرہ بلند ھوتا ھے جو ھمیں اچھا لگتا ھو تو فوراً اسے اپنا شعار بنا لیتے ھیں حتیٰ دین میں داخل کرنے سے بھی گریز نھیں کرتے اور بے جا تحلیل اور تفسیر کرکے یہ ثابت کرنے پر تلے رھتے ھیں کہ یہ چیز تو پھلے سے ھی اسلام میں موجود تھی کوئی نئی چیز نھیں جبکہ اسلام اس طرح کی چیزوں کی شدت کے ساتھ مخالفت کرتا ھے۔( 9)
ان تمام مسائل کو دیکھنے کے بعد ھر احساس رکھنے والا انسان جو ایسے سماج اور معاشرہ سے تعلق رکھتا ھے کہ جس کے اندر لاتعداد ایسے مسائل ھیں جو سماج کو آگے بڑھنے سے روک رھے ھیں لیکن ان کا کوئی حل کھیں نظر نھیں آرھا، حیران و سرگرداں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور ھے کہ کل کیا ھوگا؟ اور ھمارا یہ معاشرہ اور سماج یوں افسردہ و ساکت ھے جیسے فرشتھٴ موت کے گھرے گھرے سانسوں نے اسے کھر آلود بنا دیا ھو، کسی جنگ کے دیوتا نے بڑہ کر اپنی خونخوار انگلیوں سے اس کی نبض تھام لی ھو، دور دور تک سناٹا چھایا ھوا ھے! ظلمت و تاریکی کے امنڈتے ھوئے بادل ماحول کو خوفناک بنانے پر تلے ھیں ساتھ ھی ظلم و استبداد کی آندھیاں گو کہ ھر شیٴ کو متلاشی کر دینے کے در پئے ھیں ایسے میں کھیں کوئی ٹمٹماتا دیا بھی تو نھیں جس کی روشنی میں اپنی منزل کا پتہ لگایا جاسکے لیکن اسی تاریکی و ظلمت کے مھیب سناٹے میں ایک آواز ھے جو بار بار ھمیں اپنی طرف متوجہ کررھی ھے گوکہ کوئی چراغ تاریخ اور زمانے کے دبیز پردوں کے پیچھے سے ھماری حالت دیکھ رھا ھو اور اپنے نور سے ھمیں ھدایت کا راستہ دکھانا چاھتا ھو۔۔۔۔“ میں تمھارے درمیان اس چراغ کی مانند ھوں کہ تاریکی میں بھی اگر کوئی اس سے قریب ھوتا ھے تو اس کے نور سے استفادہ کرتا ھے اے لوگو! میری باتوں کو سنو اور یاد رکھو اور دل کے کانوں کو کھول کر سامنے لاوٴ تاکہ سمجہ سکو۔ )10(“ یہ آواز کسی اور کی نھیں بلکہ اس چراغ ھدایت کی ھے کہ ظلمتوں نے مل کر جس کا گلا گھوٹنا چاھا لیکن ناکام رھیں لیکن افسوس کا مقام اس وقت ھوگا جب اس چراغ ھدایت سے ھم کچھ حاصل نہ کرسکیں تو آئیے چلتے ھیں در باب العلم پر اور اپنے مسائل کا حل ڈھونڈتے ھیں۔

ھمارے مسائل کا حل
1۔ تحصیل علم
یھی وہ راہ ھے جس پر عمل پیرا ھوکر ھم اپنی تعلیمی پس ماندگی کو دور کرسکتے ھیںاور معاشرے میں سر اٹھا کر جی سکتے ھیں حضرت علی(ع) فرماتے ھیں:
العلم اصل کل خیر (11) علم ھر اچھائی کی بنیاد ھے
اکتسبوا العلم یکسبکم الحیات (12) تم علم حاصل کرو علم تمھیں زندگی عطا کرے گا
ایھا الناس اعلموا انّ کمال الدین طلب العلم و العمل بہ (13) اے لوگو! جان لو کہ دین کا کمال یہ ھے کہ علم حاصل کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے
الحکمة ضالة الموٴمن فخذ الحکمة و لو من اھل النفاق (14) حکمت مومن کی گمشدہ چیز ھے پس حکمت کو لے لو چاھے اھل نفاق سے ھی کیوں نہ ھو۔
اور خود حضرت علی (ع) کی سیرت یہ رھی ھے کہ آپ نے بے شمار شاگردوں کی تربیت کی۔ بقول ابن ابی الحدید: ”علوم کے سارے سرچشمہ آپ ھی کی ذات پر منتھی ھوتے ھیں۔“ (15) آپ تعلیم و تعلم کے اس قدر شیدا تھے کہ تاریخی کتب میں ملتا ھے کہ میدان جنگ میں بھی اگر کوئی سپاھی آپ سے کوئی سوال کرتا تو آپ اسے فوراً جواب دیتے اور اس کے فکری شبھات کا ازالہ کرتے(16) حتی اگر ایک ھی سوال آپ سے کئی بار بھی ھوتا تو بھی آپ جواب دینے میں کوئی تامل نھیں کرتے اور جس حالت میں ھوتے اسی حالت میں جواب دیتے چنانچہ جنگ جمل میں ایک سپاھی نے آپ سے خدا کی وحدانیت کے بارے میں سوال کیا تو لشکریوں نے اسے ٹوکا اور کھا یہ کون سی سوال کرنے کی جگہ ھے؟ تو امام نے جواب دیا: ”دعوہ فانّ الّذی یریدہ الا عرابی ھو الّذی نریدہ من القوم“(17)
”سلونی سلونی قبل ان تفقدونی“ یہ وہ جملہ ھے جسے تاریخ کبھی بھلا نھیں پائے گی، آپ کی نظر میں تعلیم کس قدر اھمیت ھے اس کا اندازہ ان روایات سے لگایا جاسکتا ھے۔
(الف) اے لوگو! ایک حق میرا تمھارے اوپر ھے اور ایک حق تمھارا میرے اوپر ھے۔ تمھارا حق جو میرے اوپر ھے وہ یہ کہ میں تمھیں نصیحت کروں اور تمھاری معیشت کو نظم بخشوں اور تمھیں تعلیم دوں تاکہ تم جاھل نہ رہ جاوٴ (19)ان روایات سے بخوبی اس بات کا اندازہ ھوجاتا ھے کہ علی کی زندگی میں تعلیم اولین درجہ کی اھمیت رکھتی ھے نیز یہ بات بھی ثابت ھو جاتی ھے کہ حاکم کا جس طرح اپنی رعیت پر حق ھوتا ھے اسی طرح رعیت کا حاکم پر بھی حق ھوتا ھے، جس میں ایک تعلیم ھے، علم کی اس قدر تاکید کی وجہ شاید یہ رھی ھو کہ ایک عالم انسان کا علم اسے افراط و تفریط کا شکار ھونے سے روکتا ھے کیونکہ افراط و تفریط دو ایسی آفات ھیں جو دین کو اس کی اصلی راہ سے ھٹاکر دین کی نابودی کا باعث بنتی ھیں اور افراط و تفریط وھیں ھوتی ھے جھاں جھل ھوتا ھے لاتری الجاھل الّا مفرطاً اٴو مفرّطا (20)
تعلیم کے لئے سب سے مفید وقت
نہ صرف یہ کہ مولائے کائنات (ع) نے تعلیم کی افادیت کے پیش نظر اپنے حکیمانہ اقوال سے بنی نوع بشر کو تعلیم کی طرف متوجہ کیا ھے بلکہ بتایا ھے کہ تعلیم و تربیت کے لئے سب سے اچھا وقت کون سا ھوسکتا ھے چنانچہ آپ فرماتے ھیں: ”جوان کا دل ایک خالی زمین کی مانند ھے جو دانہ بھی اس میں ڈالیں وہ اسے قبول کر لیگا۔“ (21)
امام حسن مجتبیٰ (ع) سے خطاب کرتے ھوئے آپ فرماتے ھیں:” میں نے تمھاری تعلیم و تربیت میں جلدی کی اس سے قبل کہ تمھارا قلب سخت ھوجائے تمھاری عقل فکر کو دوسرے امور میں مشغول کردے۔۔“ (22) حضرت علی (ع) کے دھان مبارک سے نکلے ھوئے یہ کلمات ان تمام افراد کے لئے مشعل راہ ھیں جو اپنے بچوں کے لئے ایک خوشگوار مستقبل کا خواب دیکھ رھے ھیں اس سے قبل کہ ان کے بچوں کے دل سخت ھوجائیں دینی معارف اور تمام وہ باتیں جو ان کے مستقبل کے لئے مفید ثابت ھوسکتی ھیں انھیں تعلیم دے دینی چاھئیں۔
2۔ سالم اور بھتر معیشت کے لئے جد و جھد
آج ھمارے سماج اور معاشرے میں کچھ ایسے افراد بھی ھیں کہ جو معیشت کو بھتر بنانے کے لئے بھاگ دوڑ کو دنیاداری سے تشبیہ دیتے ھیں اور ان کا خیال یہ ے کہ اس چند روزہ زندگی کے لئے بھاگ دوڑ کرنے کا کیا مطلب ھے؟ جبکہ ھم جانتے ھیں کہ یہ دنیا فانی ھے تو جو کچھ بھی روکھی سوکھی ملے اسی پر گزر بسر کرلینا بھتر ھے اور اپنے زعم میں یہ سمجھتے ھیں کہ یھی زھد ھے جبکہ ان کے لئے بھترین ذریعھٴ معاش کا فراھم ھے اگر وہ چاھیں تو ایک خوشحال زندگی گزار سکتے ھیں لیکن وہ اسے دنیاداری سے تعبیر کرتے ھوئے فرار اختیار کرتے ھیں ایسے لوگوں کے لئے امام (ع) ارشاد فرماتے ھیں لیس منا من ترک الدنیا لآخرہ ۔(23) اور حقیقی زھد کی تعریف کرتے ھوئے فرماتے ھیں: الزھد بین کلمتین من القرآن قال اللہ سبحنہ لکی لاتاٴسوا علی مافاتکم و لا تفرحوا بما آتاکم و من لم یائس علی الماضی و لم یفرح بالآتی فقد اخذ الزھد بطرفیہ )24( بلکہ ان افراد کی طرف اشارہ کرتے ھوئے جنھوں نے دنیا کی نعمتوں سے بھی استفادہ کیا اور اپنی آخرت بھی سنوار لی آپ فرماتے ھیں: ان المتقین ذھبوا بعاجل الدنیا آجل الاجل الآخرہ۔۔ سکنوا الدنیا فافضل ماسکنت و اکلوھا مااکلت فحظوا من الدنیا بما حظی بہ المعترفون (25)
جھاں کچھ ایسے متدین افراد ھیں کہ جو زھد کے معنی کی غلط تفسیر کرتے ھوئے دنیا کی نعمتوں کو خود پر حرام کرلیتے ھیں اور نتیجةً فقر و ناداری میں زندگی بسر کرتے ھیں وھیں کچھ ایسے بھی لوگ ھیں کہ جو اپنے لئے بڑے بڑے افعال و امور کا تصور ذھن میں لئے بیٹھے رہ جاتے ھیں اور معیشت کی طرف توجہ نھیں دے پاتے کیونکہ وہ چھوٹے موٹے کاموںکو اپنے لئے بے عزتی کا سبب سمجھتے ھیں نتیجہ یہ ھوتا ھے کہ بڑے کام کی تلاش میں یوں ھی بیٹھے بیٹھے عمر گزر جاتی ھے اور کوئی بھی کام ھاتہ نھیں آتا ھے جب کہ یھی افراد اگر حضرت علی (ع) کی سیرت کا مطالعہ کریں تو انھیں معلوم ھوگا کہ آپ معیشت کو بھتر سے بھتر بنانے کے لئے کیا کچھ نھیں کرتے تھے۔
جب ھم حضرت علی (ع) کی زندگی کا مطالعہ کرتے ھیں تو ھمیں ملتا ھے:
حضرت علی (ع) بیلچہ چلاتے اور زمین کی نعمتوں کو آشکار کرتے تھے (26)
درخت کاری و زراعت کرتے تھے اور کنوئیں کھودتے تھے (27)
کسی نے آپ کے ھاتھوں ایک من خرمے کی گھٹلیاں دیکھیں تو سوال کیا کہ اے امیر المومنین!(ع) ان کا کیا مصرف ھے؟ آپ نے جواب دیا خداوند متعال کے اذن سے ان گھٹلیوں سے خرمے کے درخت تیار کرونگا اور پھر آپ نے ان سے ایک نخلستان بنایا اور اسے راہ خدا میں وقف کردیا۔“(28)
ایک بوڑھا شخص فقیری کر رھا تھا آپ نے پوچھا کون ھے؟ جواب ملا نصرانی ھے آپ نے حکم دیا اسے بیت المال سے کچھ خرچ کے لئے دے دو (29)
آپ کی حکومت کے دوران عمومی رفاہ کا یہ حال تھا کہ کوفے میں رھنے والا غریب سے غریب شخص بھی گیھوں کی روٹی کھاتا اور اس کے سر پر چھت کا سایہ رھتا تھا (30)
فقر و ناداری کے بارے میں آپ کے اقوال یقیناً ھمارے معاشرے کے لئے رہ گشا ثابت ھوسکتے ھیں۔ کھیں آپ نے فقیری کو موت سے تعبیر کیا ھے تو کھیں فقیری کو اپنے وطن میں غربت قرار دیا ھے۔ آپ کی نظروں میں معیشت اس قدر اھمیت کی حامل ھے کہ جھاں آپ نے اپنی وصیت میں اور دوسری باتوں کی طرف اپنے فرزندوں کو متوجہ کیا ھے وھیں اس طرف بھی ان کو متوجہ کیا ھے کہ ان کی معیشت کبھی خراب نہ ھو۔(31)
فقیری سے کیسے بچا جائے؟
آپ فرماتے ھیں کہ جو شخص بھی میانہ روی اختیار کرتا ھے میں اس کی ضمانت لیتا ھوں کہ وہ کبھی فقیر نھیں ھوسکتا
آپ فقیری سے بچنے کا علاج بیان کرتے ھوئے فرماتے ھیں کہ اتجروا بارک اللہ لکم (32)
تجارت کرو کہ تجارت تمھیں لوگوں سے بے نیاز کردیگی حتیٰ ذریعھٴ معاش کی اقسام کو بیان کرتے ھوئے آپ ذریعھٴ معاش کو پانچ حصوں میں تقسیم کرتے ھیں(33)
حضرت علی (ع) کی نگاہ میں فقر کے عوامل
کوئی بھی فقیر اپنے معاش سے محروم نھیں ھوتا مگر یہ کہ ایک غنی اس کے مال میں تصرف کرلیتا ھے (34)
جو شخص اپنے کام کی زحمت کو نھیں برداشت کرسکتا وہ فقیری کو تحمل کرنے کے لئے آمادہ ھوجائے (35)
اوقات کو تنظیم نہ کرنا اور کسی وقت جو دل میں آئے وہ کام کرنا )36(
سوء تدبیر فقر پیدا کرتی ھے (37)
حضرت علی (ع) کی نگاہ میں غربت کے اثرات
حقارت! لوگ فقیر کو فقیر کی بناپر حقیر سمجھتے ھیں (38)
فقیر کو بھت چھوٹا سمجھا جاتا ھے اور اس کی بات ان سنی کردی جاتی ھے۔ (39)
فقیری ایک انسان کو استدلال کے وقت گنگ بنا دیتی ھے (40)
جھاں حضرت علی (ع) کی پوری زندگی فقر و ناداری کے خلاف جھاد میں گزری وھیں آج مسلم معاشرے کی اکثریت فقر و ناداری کا شکار ھے جس کی ایک وجہ خود ھماری سستی اور کام سے فرار ھوسکتی ھے جب کہ حضرت علی (ع) معیشت کو سدھارنے کے لئے طاقت فرسا کام انجام دینے سے گریز نھیں کرتے تھے اور آپ لوگوں کی معیشت کو سنوارنا خود پر لوگوں کا حق سمجھتے تھے (41)
اب یہ ھمارے معاشرے کے پڑھے لکھے طبقے کا کام ھے کہ آئے اور بیٹھ کر اپنے معاشرے میں فقیری کی وجوھات تلاش کرے اور انھیں حل کرنے کی کوشش کرے اس لئے کہ جب تک یہ مشکل حل نھیں ھوجاتی معاشرہ مزید فقر و ناداری کے دلدل میں پھنسا جائے گا۔ ماھرین اقتصادیات کے بقول فقر، فقر پیدا کرتا ھے (42) لھٰذا اس کا ایک حل ھونا چاھئے جب کہ فقیری ضعف ایمان کا باعث بھی ھے (43) اس لئے کہ اگر اس کا حل خود قوم کے افراد نھیں کریں گے تو پھر کون کرے گا؟ خدا نہ کرے علی (ع) کی آواز صدا بہ صحرا ھو کر رہ جائے جس میں انھوں نے فقراء کی دسترسی اور ان کی دیکھ بھال کے لئے فرمایا: اللہ اللہ فی الطبقہ السفلیٰ من الذین لا حیلة لھم (44)
3۔ اتحاد و ھم دلی
امام خمینی (رہ) فرماتے ھیں: ”اگر مسلمان خداوند متعال کے اس فرمان کے مطابق کہ جس میں کھا گیا ھے و اعتصموا بحبل اللہ جمیعاً و لاتفرقوا پر عمل کرے تو ان کی تمام مشکلات حل ھو جاتیں اور کوئی بھی طاقت ان کا مقابلہ نھیں کر سکتی تھی (45) اپنی تمام صفوف کے اندر یک جھتی پیدا کرکے اور آپسی رواداری کو فروغ دے کر بھی ھم آپس کے اختلافات کو ختم کر سکتے ھیں اس لئے کہ افتراق و اختلافات کسی بھی طرح ھمارے فائدے میں نھیں ھیں اور اگر ھم حضرت علی (ع) کی سیرت کا اس زاویہ سے جائزہ لیں کہ آپ نے اس سلسلے میں کیا اقدامات کئے تو ھمیں آپ کی زندگی سراپا جھاد نظر آئے گی۔ آخر ھم کب تک تشنھٴ اتحاد عروس زندگی کو آپسی اختلافات کے نتیجے میں بھنے والے لھو کی سرخی و غازہ لگاتے رھیں گے؟ کیا ھماری زندگی یوں ھی اختلافات میں گزر جائے گی؟ اگر ھم علی (ع) کے ماننے والے ھیں تو ھمارا تعلق چاھے جس مسلک سے ھو اگر ھم آپ کی زندگی سے کچھ حاصل کرنا چاھتے ھیں تو ھمیں دشمن کی نیرنگی چالوں سے بچنے کے لئے اپنے اندر اتحاد پیدا ھی کرنا ھوگا ورنہ ھم اسی طرح دنیا کو متحرک رکھنے کے لئے اپنا قیمتی سرمایا لٹاتے رھیں گے اور دشمن ھمیں گروھوں اور فرقوں میں بانٹتا رھے گا اور ھمارے درمیان اپنے تخت و تاج کی خاطر بغض و عناد کی اونچی دیواریں چنتا رھے گا اور ھمیں اس قدر بے بس کردے گا کہ ھم اسی میں محصور ھوکر رہ جائیں اس لئے کہ اتحاد وہ طاقت ھے جس کے ذریعہ ھم دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کی ھر دھمکی کا جواب دے سکتے ھیں چنانچہ حضرت علی (ع) فرماتے ھیں: ”دیکھو وہ آپ میں متحد تھے تو ان کی حالت کتنی بھتر تھی مضبوط ارادے تھے آیا اس وقت وہ دنیا پر حاکم نھیں تھے؟“ (46)
گذشتہ امتوں کی عزت و شوکت کا راز بیان کرتے ھوئے فرماتے ھیں: تم پر لازم ھے کہ تفرقہ و اختلاف سے دوری اور ایک دوسرے کو اتحاد کی ترغیب اور ان تمام امور سے اجتناب جن سے قدرت ضعیف ھو جائے و۔۔۔ (47) حتیٰ ایک جگہ آپ فرماتے ھیں: جو تفرقہ اندازی کرے وہ قتل کا سزاوار ھے چاھے یہ تفرقہ اندازی مجہ سے ھی کیوں نہ سرزد ھو 48 خود اپنی عملی زندگی میں اتحاد کی خاطر جو فداکاریں انجام دیں وہ کسی بھی صاحب بصیرت کے لئے پوشیدہ نھیں۔ آپ کا 52سال تلخ سکوت خود پکار پکار کر آواز دے رھا ھے کہ میری خاموشی کا راز اتحاد ھے۔ چنانچہ جب ابوسفیان نے آپ سے کھا کہ علی (ع) اپنے حق کے لئے کھڑے ھو کر کھو تو میں مدینہ کی گلیوں کو سواروں اور پیادوں سے بھر دوں تو آپ نے جواب دیا کہ مجھے تمھاری مدد کی کوئی ضرورت نھیں ھے)49( حضرت علی(ع) کی سیرت اور آپ کے اقوال کی روشنی میں یہ تو واضح ھوگیا کہ اتحاد کس قدر اھمیت کا حالم ھے اور یہ بھی معلوم ھوا کہ آپ نے اتحاد کے لئے کس قدر قربانیاں دیں ھیں اب یہ ھمارے اوپر موقوف ھے کہ ھم علی (ع) کی قربانیوں کو کس قدر محترم رکھتے ھیں؟ اگر ھمیں علی (ع) کی قربانیوں کا کچھ پاس و لحاظ ھے تو آج ھمیں ایک پرچم تلے جمع ھوکر علی (ع) سے وفاداری کا اعلان کرنا چاھئے اور اس کے لئے ضروری ھے کہ ھمارے پاس ایک مرکزیت ھو، امام(ع) فرماتے ھیں: ”امت میں حاکم کا مقام دھاگے کی طرح ھے جو سارے دانوں کو پروئے ھوئے اور متحد کئے ھوئے ھے لیکن جب یہ رشتھٴ اتحاد ٹوٹ جاتا ھے تو سارے دانے بکھر جاتے ھیں اور پھر کسی صورت جمع نھیں ھوسکتے۔“ (50) حضرت علی (ع) کے اس حکیمانہ قول سے یہ واضح ھوتا ھے کہ معاشرہ و سماج ایک سرپرست و رھبر کا محتاج ھے جو لوگوں کو نظریاتی و طبقاتی اختلاف اور تفرقہ و جدائی کے عوامل سے نجات دلاکر ایک مرکز پر جمع کرسکے اور افتراق و اختلاف کے شگافوں کو پر کرکے طبقاتی دیواروں کو تدبیر کے تیشوں سے ڈھاکر توحید کے پرتو میں اتحاد کا پرچم لھرا سکے۔ راہ حل مل گیا لیکن اب ھمیں یہ سوچنا چاھئے کہ ایسا شخص کون ھوسکتا ھے؟
4۔ قرآنی تعلیمات پر عمل
آج جس قرآن کو ھم نے غلافوں میں بند کرکے الماریوں اور طاقوں کی زینت بنا دیا ھے اس کے بارے میں ھمارے دشمن کا خیال یہ ھے: ”ھمارے اوپر واجب ھے کہ ھم اسلام کے مھلک ترین اسلحے، قرآن کی خدمات حاصل کرسکیں تاکہ اسلام کو مٹایا جاسکے۔“ (51) گلادسٹرون برطانیہ کا یھودی النسل سابق وزیر اعظم پالمینٹ میں یہ جملے کھتا نظر آتا ھے: اسلامی دنیا پر تسلط کے لئے ضروری ھے کہ ھم دو چیزوں کو نابود کریں 1۔ قرآن 2۔ کعبہ ۔“ (52) وہ کتاب جس کے لئے خداوند متعال فرما رھا ھے <کتاب انزلناہ علیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور> (53) آج دشمن اسی کتاب کو اسلام کو مٹانے کے لئے استعمال کررھا ھے اور ھم اسلام بچانے کے لئے اس کتاب کا صحیح استعمال نھیں کرپا رھے ھیں جب کہ اگر ھم اس کا صحیح استعمال کریں تو ھمارے معاشرے سے برائیاں خود بخود ختم ھوجائیں گی اس لئے کہ قرآن ھر درد کی دوا ھے۔ امام (ع) فرماتے ھیں: قرآن سے اپنی بیماریوں کے لئے شفا طلب کرو اور اس کی مدد سے اپنی مشکلات حل کرو اس لئے کہ قرآن بڑے بڑے دردوں کی دوا ھے قرآن درد کفر و ضلالت اور درد گمراھی کی دوا ھے (54) دوسری جگہ فرماتے ھیں: <اللہ اللہ فی القرآن لایسبقکم بالعمل بہ غیرکم>( 55)
5۔ بدعتوں سے مقابلہ
آپ نے اس وقت بدعتوں سے مقابلہ کے لئے کمر ھمت باندگی جب عالم یہ تھا کہ دین اشرار کے ھاتھوں میں کٹھپتلی بنا ھوا تھا (56) آپ بدعت کے بارے میں فرماتے ھیں: کوئی بھی بدعت پیدا نھیں ھوتی مگر یہ کہ ایک سنت ترک کرنے کا باعث ھوتی ھے(57) حسن بصری کو حضرت علی (ع) نے بدعتوں کے رواج ھی کی بنیاد پر مسجد سے خارج کیا تھا اور اسی بنیاد پر آپ نے اسے اپنی امت کا سامری اور شیطان کا بھائی کھا تھا۔ (58)
بدعتوں کو کیسے ختم کیاجائے؟
امر بالمعروف و نھی از منکر اسلام کا ایسا حکم ھے جس پر اگر صحیح صورت میں عمل ھو تو ھمارے سماج سے بدعتوں کا رواج ختم ھوسکتا ھے اس لئے کہ یہ وہ فریضہ ھے جس کے بارے میں مولا فرماتے ھیں کہ امر بالمعروف و نھی از منکر کو ترک نہ کرو! اس لئے کہ یہ فریضہ اگر ترک ھوگیا تو اشرار تمھارے اوپر مسلط ھوجائیں گے اور پھر تمھاری دعائیں قبول نہ ھوں گی 49 ایک اور جگہ فرماتے ھیں کہ خداوند متعال نے گذشتہ قوم پر اس لئے ملامت کی کہ انھوں نے امر بالمعروف و نھی از منکر کو ترک کردیا تھا۔
یہ چند وہ بنیادہ مسائل تھے جن کا حل سیرت امیر المومنین (ع) اور ان کے اقوال کی روشنی میں پیش کیا گیا لیکن اگر دیکھا جائے تو مسلمانوں کے مسائل اس سے کھیں زیادہ ھیں جنھیں بیان کیا جاسکے لیکن اگر مسلمانوں کے تمام مسائل کی اصل وجہ ڈھونڈی جائے تو شاید جستجو اور تحقیق کے بعد یھی وجہ کھل کر سامنے آئے کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کی اصل وجہ مکتب اھل بیت علیھم السلام سے دوری ھے اسی لئے کسی اور کے پاس جانے کے بجائے ھم اپنے تمام مسائل کا حل اس ذات کی زندگی کے اندر تلاش کریں جس کی نمونہ عمل زندگی کی ھر سانس زندگی بخش ھے اور جس کا کلار رھتی دنیا تک بنی نوع بشر کے زخموں کے لئے مرھم بنتا رھے گا۔
اب تک جن مسائل کا تذکرہ کیا گیا وہ ایسے بنیادی مسائل تھے جن کا تدارک سیرت امیر المومنین (ع) کی روشنی میں خود باآسانی کیا جاسکتا ھے لیکن چند ایسے مسائل بھی ھیں جن کے تدارک کے لئے ضروری ھے کہ ھم اپنی صفوں کو آمادہ کریں ان ظالم حکام سے جھاد کے لئے جو اسلامی معاشروں کی زبوں حالی کے اصل ذمہ دار ھیں اگر ان کے سیاہ کرتوت نہ ھوتے تو شاید ھمارے مسائل اتنے زیادہ نہ ھوتے کچھ ایسے افراد کے بارے میںمولائے کائنات فرماتے ھیں:” ۔۔۔۔ لیکن مجھے افسوس ھے اس بات کا کہ اپنی املاک اور اس کے بندوں کو اپنا غلام بنالیں گے خدا کے صالح بندوں سے برسر پیکار رھیں گے اور بدکرداروں کے ساتھ اپنا گروہ تشکیل دیں گے“ (59)
مولا کے ان حکیمانہ کلمات سے واضح ھوتا ھے کہ خیانت کار حاکموں کی دو خصلتیں ھونگی، جھالت و سفاھت، فسق و فجور اور یہ افراد قوم کو تاراج کرنے کے بعد بیت المال کو اپنا مال سمجھیں گے اور بساط عیش طرب بچھا کر اپنے آقاوٴں کے حضور سجدہ ریز دنیا کی تباہ کاریوں کے ترانہ گائیں گے اور خدا کے ناتواں بندے ان کے غلام ھوں گے اب ھمیں سوچنا چاھئے کہ ایسے افراد کیوں کر مسند حکومت پر پھونچے؟ ! اور ھم ان کے خلاف کیا کرسکتے ھیں اس لئے کہ اگر ھم نے ایسے ظالموں کو خلاف کوئی ردّ عمل نھیں کیا تو اس کے کیا نتائج ھو سکتے ھیں کھیں ایسا نہ ھو کہ ایک بار پھر مولا کی یہ تعبیر عملی ھوجائے جس کے لئے آپ نے فرمایا:” اس زمانے کے لوگ بھیڑیے ھوجائیں گے اور بادشاہ و حکام درندے، متوطہ طبقہ شکم پرور ھوگا اور غریب و پست طبقہ کے افراد مردہ ھونگے، صداقت ناپید ھوجائے گی اور جھوٹ کا بول بالا ھوگا۔۔۔ اور لوگوں کے قلوب ایک دوسرے سے کشیدہ ھونگے۔“ (60)
راہ حل
جب ماحول اس قدر سنگین صورت حال اختیار کر جائے گا تو اس کا حل کیا ھوگا؟ امام (ع) راہ حل کی طرف اشارہ کرتے ھوئے فرماتے ھیں:” دیکھو! ایسے بے غیرتوں کی اطاعت سے گریز کرو کہ اپنے صاف پانی کے ساتھ تم نے جن کا گندا پانی پیا اور ان کی خرابیوں کو اپنی اچھائیوں میں ملا دیا اور ان کے باطل کو اپنے حق کے ھمراہ شامل کرلیا یہ فسق و فجور کی بنادیں اور ان کا منبع ھیں اور عصیان و نافرمانی کے دلدادہ ھیں۔ ابلیس نے انھیں اپنی سواری اور گمراھی کا جانور بنا لیا ھے اور ان سے فوج درست کرلی ھے جن کے ذریعہ وہ لوگوں پر حملے کرتا ھے، ان کی زبانوں سے حملے کرتا ھے تاکہ تمھاری عقل اور تمھارے افکار تم سے چھین لے اور تمھاری آنکھوں میں اتر جائے اور تمھارے کانوں میں وسوسے پھونک دے اور اس کے بعد اپنے زھر آنگیں تیروں سے تمھیں نشانہ بنائے تمھارے سروں پر اپنے قدم رکھے اور آخر کار تمھیں اپنا آلہ کار بنالے۔“ (61)
طغیان پیشہ حاکموں کی ناھنجاریوں کے اثرات بیان کرتے ھوئے آپ فرماتے ھیں کہ یہ لوگ کس طرح انسانیت کو نابود کرسکتے ھیں لھذا آپ فرماتے ھیں کہ لوگوں کا فریضہ ھے کہ ذلت و خواری اختیار نہ کریں اور ایسے افراد کے آگے سرتسلیم خم نہ کریں بلکہ ایسے غاصبوں کے حلق میں اپنا ھاتہ ڈال کر اپنا حق نکال لیں۔ یھی اس مسئلہ کا حل ھے۔
نتیجہ
حضرت علی (ع) کی سیرت آئینہ کی طرح شفاف ھے جس میں ھم اپنے اندر جو موجودہ نقائص کو آسانی کے ساتھ تلاش کرسکتے ھیں لیکن صرف تلاش کرنا ھی کافی نھیں ھوگا جب تک ھم انھیں دور کرنے کی کوشش نہ کریں اس لئے کہ آئینہ صرف نقائص کی طرف متوجہ کرتا ھے اب اگر ھم متوجہ ھوکر بھی کوئی اقدام نہ کریں اور اپنے مسائل کے حل کرنے کے لئے تگ و دو نہ کریں تو پھر اپنی تمام بدبختیوں کے ذمہ دار ھم خود ھونگے۔ کھیں ایسا نہ ھو کہ ھم بھی انھیں افراد کی طرح ھوجائیں جن کے بارے میں مولا نے فرمایا:” جب میں نے تمھیں تمھارے بھائیوں کو دعوت کے لئے بلایا تو تم زخم خوردہ شتر کی طرح نالہ و شیون کرنے لگے اور مجروح اونٹ کی طرح حرکت سے باز آئے اور زمین سے چپک کر بیٹھ گئے اور پھر چند متزلزل و ناتواں افراد کہ گویا جنھیں موت کے منہ میں ڈھکیل دیا گیا ھو اس طرح انھوں نے حرکت کی (اور یہ بھی کیا حرکت تھی) کہ انھوں نے محض دیکھنے پر اکتفا کیا۔۔۔!“ (62) اس سے پھلے کہ سب کچھ دیکھنے اور کف افسوس ملنے میں ختم ھوجائے، اٹھیں اور کمر ھمت باندہ کر اپنے مولا کی سیرت کو اپنا آئینہ بناکر تمام مسائل کو خود ھی حل کریں۔ اس لئے کہ انّ اللہ لا یغیر ما بقومٍ حتّی یغیّروا ما بانفسھم (63)
حوالے و حواشی
1 ۔ کنگرہ بین المللی نھج البلاغہ مباحث و مقالات آیة اللہ خامنہ ای صفحہ 52
2۔ ھل یستوی الذین یعلمون و الذین لا یعلمون۔۔ زمر 9
3۔ نگاھی بہ فقر و فقر زدائی از دیدگاہ اسلام نقل از انتھونی کربلا سٹر ظھور و سقوط لیبرالیزم صفحھ 374
4۔ و اطیعوا اللہ و لا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم۔۔۔ انفال 46
5۔ یادنامہ سید جمال الدین، ج1 مقالہ دکتر عثمان امین، ص 239
6۔ صحیفہ نور ج8 ص 43
7 ۔ شناخت کشورھای اسلامی، غلام رضا، ص36
8۔ آسیب شناسی فرھنگی جوامع اسلامی ص 29
9 ۔ اذا ظھرت البدعة فی امتی فلیظھر العالم علمہ و الاّ فعلیہ لعنة اللہ و الملائکة و الناس اجمعین، آسیب شناسی فرھنگی جوامع اسلامی نقل از سفینة البحار ج1 ص63
10۔ انما مثلی بینکم مثل السراج فی الظلمة یستضیئی بہ من ولجھا فاسمعوا ایھا الناس و عوا و احضروا آذان قلوبکم تفھموا۔ شرح نھج البلاغہ علامہ محمد تقی جعفری ج9، نھج البلاغہ ترجمہ و حواشی علامہ مفتی جعفر حسین ص 514
11۔ 12۔ 13۔ غرر الحکم، باب علم
14۔ کافی ج1، ص 35
15۔ ابن ابی الحدید شرح نھج البلاغھ
16۔ امام علی (ع) و مباحث اعتقادی، محمد دشتی ص 32
17۔ وھی مدرک
18۔ سئل عن الخیر ما ھو فقال علیہ السلام لیس الخیر ان یکثر مالک و ولدک و لکنّ الخیر ان یکثر علمک۔ نھج البلاغھ، حکمت 94
19۔ ایھا الناس انّ لی علیکم حقا و لکم علیّ حق فامّا حقکم علیّ فالنصیحة لکم و توفیر فیئکم علیکم و تعلیمکم کی لا تجھلوا و تاٴدیبکم کیما تعلموا۔ نھج البلاغھ، خطبھ 34
20۔ نھج البلاغھ، حکمت70
21۔ و انّما قلب الحدیث کالارض الخالیة ماالقی فیھا من شیٴ قبلتھ۔ اما م علی(ع) و امور معنوی و عبادی، محمد دشتی ص 28
22۔ فبادرتک بالادب قبل ان یقسو قلبک و یشتغل لبّک لتستقبل بجدّ راٴیک من الاٴمر (وھی مدرک)
23۔ من لا یحضرہ الفقیہ ج3، ص156
24۔ نھج البلاغہ فیض الاسلام، حکم
25۔ نھج البلاغہ فیض الاسلام، مکتوب 27
26۔ کان اٴمیر الموٴمنین یضرب بالمرّ و یستخرج الاٴرضین، فروع کافی ج5، ص74
27۔ فروع کافی، ج5، ص 75
28۔ وسائل الشیعھ، ج13، ص 203
29۔ مناقب، ج1، ص 321
30۔ استعملتموہ حتیّ اذا کبر و عجز منعتموہ اٴنفقوا علیہ من بیت المال، تجلی امامت نقل از المصدر، ص 206
31۔ مااصبح بالکوفة اٴحد الاّ ناعما اٴنّ اٴدنی ھم منزلة لیاٴکل البرّ و یجلس فی الظلّ و یشرب من ماء الفرات، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص 99
32۔ الفقر موت الاٴکبر۔ نھج البلاغھ، کلمھ 163
33۔ وسائل الشیعھ، ج12، ص4 (انّ معایش الخلق خمسة الامارة، و التجارة، الاجارة، و الصدقات۔۔۔)
34۔ مامنع فقیر الاّ متّع بہ غنی علامہ محمد تقی جعفری شرح نھج البلاغھ، ج10، ص 26
35۔ الحیات، ج4، ص 319
36۔ الحیات، ج4، ص 33
37۔ الحیات، ج4، ص 32
38۔ 39۔ 40۔ الحیات، ج4، ص 286
41۔ علامہ تقی جعفری، شرح نھج البلاغھ، ج9، ص 25
42۔ نگاھی بہ فقر زدائی از دیدگاہ اسلام ص 34
43۔ الحیات، ج4، ص 309
44۔ نھج البلاغہ مکتوب 53
45۔ شناخت کشور ھائے اسلامی ص36
46۔ فانظروا کیف کانوا حیث کانت الاٴملاء مجتمعة و الاٴھواء موٴتلفة و القلوب معتدلة۔۔ اٴ لم یکونوا اٴربابا فی اقطار الاٴرضین و ملوکا علیٰ رقاب العلمین؟ نھج البلاغہ خطبہ 192
47۔ (۔۔۔ من الاجتناب الفرقة و اللزوم الاٴلفة و التخاض علیھا و التواصی بھا و الجتنبوا کلّ اٴمر کسر فقرتھم ۔۔۔) وھی مدرک
48۔ (۔۔۔ فاقتلوہ و لو کان تحت عما متی ھذہ ۔۔۔) نھج البلاغہ خطبھ127
49۔ طبری ج2 ص449، خلافت و ملوکیت، ابو العلاء مودودی ص104
50۔ نھج البلاغہ خطبہ 146
51۔ التبشیر و الاستعمار فی البلاد العربیہ ص40
52۔ شناخت قرآن، سید علی کمالی ص18
53۔ ابراھیم 1
54۔ (۔۔۔ فاستشفوہ من عدوائکم و استعینوا بہ علیٰ الآوئکم فانّ فیہ شفاء من اکبر الداء و ھو الکفر و النفاق الغیّ و الضلال۔۔۔) نھج البلاغہ خطبھ174
55۔ نھج البلاغہ خطبہ 174
56۔ (۔۔۔ فانّ ھذا الدین کان اسیرا فی اٴیدی الاشرار یعمل فیہ بالھواء و تطلب بہ الدنیا۔۔۔) نھج البلاغہ خطبہ 122
57۔ (۔۔۔ و ما اٴحدثت بدعة الاّ ترک بھا السنّة ۔۔۔) علامہ تقی جعفری نھج البلاغہ ج24، ص166
58۔ الکتّانی التراتیب الاداریة۔ ص272۔ نگرشی بہ تصوّف محمد باقر لائینی
59۔ (۔۔۔ و لکن آسی اٴن یلی اٴمر ھذہ الاٴمة سفھاء ھا و فجّارھا فیتخذوا مال اللہ دولا و عبادہ خولا و الصالحین حربا و الفاسقین حزبا فانّ منھم الذی قد شرب فیکم الحرام۔۔۔) نھج البلاغہ مکتوب62
60۔ (۔۔۔ و کان اٴھل ذٰلک الزمان ذئابا و سلاطین سباعا و اٴوساب اٴکلالا و فقراء امواتا۔۔۔) خطبھ108
61۔ (۔۔۔ و لاتطیعوا الاٴدعاء الذین شربتم یصفوکم کدرھم و خلطتم بصحتکم مرضھم و اٴدخلتم فی حقّکم باطلھم و ھم اساس الفسوق و احلاس العقوق اتّخذھم ابلیس مطایا ضلال۔۔۔) خطبھ192
62۔ (۔۔۔ فما یدرک بکم ثار و لایبلغ مران دعوتکم الیٰ نصر اٴخوانکم فجررتم جرجرة الجمل الاٴسرّ و تثاقلتم۔۔۔) علامہ تقی جعفری شرح نھج البلاغہ ج9، ص210
63۔ قرآن مجید رعد 11
                                                    بقلم: حجۃ الاسلام مولانا نجیب الحسن صاحب


نوشته شده در تاريخ شنبه پنجم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

پارا چنار کے مرکزی بازار میں ہونے والے خودکش حملوں کے 12 شدید زخمیوں کو پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔





















نوشته شده در تاريخ شنبه پنجم مرداد ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

پارا چنار کی مرکزی امام بارگاہ کے نزدیک یکے بعد دیگرے دو خودکش حملے ہوئے ہیں۔ جس کے باعث 48 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ 130 سے زائد زخمی ہیں۔ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت اب بھی تشویشناک ہے۔














نوشته شده در تاريخ یکشنبه سی ام تیر ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری

ایم ڈبلیو ایم بلتستان کے تحت مرکزی مسجد امامیہ اسکردو سے یادگار شہدا اسکردو تک نکالی گئی ریلی میں شریک ہزاروں عزاداران حضرت زینب (س) نے نوحہ خوانی، سوز خوانی اور سینہ زنی کی۔ اس موقع پر اسکردو کی فضاء عزاداران حضرت زینب (س) کے فلک شگاف نعروں اور لبیک یا زینب (س) کی صداؤں سے گونج رہی تھی۔







































نوشته شده در تاريخ یکشنبه سی ام تیر ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


پاکستان کے بیشتر علاقوں میں آج شیعہ سنی مسلمانوں نے مل کر شام میں حضرت زینب سلام اللہ علہا کے روضہ پر دھشتگروں کے ہاتھوں ہونے والے حملے کی مذمت میں احتجاجی ریلیاں نکالیں۔ 

 روضہ حضرت زینب(ع) پر حملے کی مذمت میں پاکستان کے مسلمانوں کے احتجاجی مظاہرے اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں آج اس ملک کے شیعہ سنی مسلمانوں نےمل کر شام میں حضرت زینب سلام اللہ علہا کے روضہ پر دھشتگروں کے ہاتھوں ہونے والے حملے کی مذمت میں احتجاجی ریلیاں نکالیں ہیں۔
احتجاجی ریلیوں میں پاکستان کے شیعہ سنی تمام مسلمانوں نے شرکت کی اور شام میں سرگرم مسلح افراد کے خلاف نعرے لگا کر حرم رسول خدا(ص) کی کی گئی بے حرمتی کی مذمت کی۔
پاکستان کے اہلسنت و الجماعت مسلمانوں کی ایک تنظیم کے سربراہ شیر حیدر نے مظاہرے میں خطاب کر کے کہا کہ خاندان رسول (ص) کی بے حرمتی دھشتگردوں کا بزدلانہ اقدام ہے اور جو لوگ ایسے اقدامات کرتے ہیں وہ اسلام تو اسلام دائرہ انسانیت سے بھی خارج ہیں۔
شیر حیدر نے مظاہرے میں تقریر کرتے ہوئے کہا: تکفیری دھشتگرد اگر چہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اہلسنت میں سے ہیں حالانکہ ان کا اہلسنت و الجماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لئے کہ ان کے  اعمال کسی دین اور اصول کے  پابند نہیں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ شام میں تکفیری دھشتگردوں نے گزشتہ روز دمشق کے مضافات میں واقع روضہ حضرت زینب(س) پر ماٹر گولوں سے حملہ کیا اور حرم کے مینیجر ’’انس رومانی‘‘ صحنِ حرم میں پڑنےوالے ماٹر گولےسے شہید ہو گئے۔
شامی دھشتگرد مغربی اور عربی طاقتوں کے بل بوتے پر شام میں موجود تمام مذہبی مقامات کو منہدم کرنا چاہتے ہیں قبل از ایں یہ تکفیری گروہ صحابی رسول (ص) حضرت حجر بن عدی کی قبر کھود کر ان کی نعش مبارک کو قبر سے نکال کر کسی نامعلوم جگہ دفن کرنے کے بھیانک جرم کا مرتکب ہو چکا ہے۔   


نوشته شده در تاريخ یکشنبه سی ام تیر ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


جہان تشیع کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے شام میں روضہ حضرت زینب سلام اللہ الیہا پر ہونے والے حملے کی مذمت کی ہے۔ 

 حرم حضرت زینب (س) کی بے حرمتی کی مذمت میں آیت اللہ نوری ہمدانی کا پیغام اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی نے ایک پیغام جاری کرتے ہوئے حرم مطھر حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا پر دھشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
اس مرجع تقلید کے پیغام کا ترجمہ درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عصر حاضر میں عالم اسلام کودرپیش سب سے بڑی مصیبت اور آفت اس سلفی تکفیری مسلک کا وجود ہے کہ جو بے بنیاد اور انتہائی مضحکہ خیز منطق اختیار کرکے اسلامی مقدسات کی توہین، مسلمانوں کا قتل عام اور ان جیسے دوسرے اقدامات کر کے عالم اسلام کے لیے مشکلات کھڑی کرنےمیں مشغول ہے جبکہ اس کے ان اقدامات سے دشمنان اسلام کو تقویت مل رہی ہے۔
ہم اس تکفیری گروہ کے شام میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے روضے پر خطرناک حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
وَسَیعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَی مُنقَلَبٍ ینقَلِبُونَ
 
حسین نوری همدانی


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه بیست و هفتم تیر ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


 ماہ مبارک رمضان کی خصوصیات اللہ کا مہینہ
- قال رسول الله‏ صلى‏ الله ‏عليه ‏و‏آله: شَعبانُ شَهري، و شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ اللهِ(1)؛
 شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔
- قال رسول الله صلى‏ الله ‏عليه ‏و‏آله: شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ اللهِ، و شَهرُ شَعبانَ شَهري؛ شَعبانُ المُطَهِّرُ، و رَمَضانُ المُكَفِّرُ (2)؛
 رمضان کا مہینہ اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے۔ شعبان پاک کرنے والا اور رمضان گناہوں کو ڈھانپنے والا ہے۔
- قال رسول الله صلى ‏الله ‏عليه‏ و‏آله: رَمَضانُ شَهرُ اللهِ، و هُوَ رَبيعُ الفُقَراءِ (3)؛‌
 رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور یہ مہینہ فقیروں کی بہار ہے۔
- الإمام عليّ عليه‏السلام: شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ الله‏ِ، و شَعبانُ ‏شَهرُ رَسولِ ‏الله صلى‏الله‏عليه‏و‏آله، و رَجَبٌ شَهري(4)؛
 رمضان اللہ کا مہینہ ہے شعبان پیغمبر کا اور رجب میرا مہینہ ہے۔

ضیافت الہی کا مہینہ
- قال رسول الله صلى ‏الله ‏عليه‏ و‏آله ـ في وَصفِ شَهرِ رَمَضانَ ـ : هُوَ شَهرٌ دُعيتُم فيهِ إلى ضِيافَةِ اللهِ، و جُعِلتُم فيهِ مِن أهلِ كَرامَةِ اللهِ، أنفاسُكُم فيهِ تَسبيحٌ، و نَومُكُم فيهِ عِبادَةٌ، ...(5)
پیغمبر اکرم (ص) نے ماہ رمضان کی تعریف میں فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں ضیافت الہی پر دعوت دی گئی ہے اس میں تمہاری سانسیں تسبیح اور تمہاری نیندیں عبادت ہیں۔ اس میں تمہارا عمل مقبول ہے اور تمہاری دعائیں مستجاب۔
- قال رسول الله صلى‏ الله‏ عليه ‏و‏آله: إذا كانَ يَومُ القِيامَةِ يُنادِي المُنادي: أينَ أضيافُ اللّه‏ِ؟ فَيُؤتى بِالصّائِمينَ ... فَيُحمَلونَ عَلى نُجُبٍ مِن نورٍ، و عَلى رُؤوسِهِم تاجُ الكَرامَةِ، و يُذهَبُ بِهِم إلَى الجَنَّةِ (6)؛ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: جب قیامت ہو گی تو ایک منادی ندا دے گا: کہاں ہیں اللہ کے مہمان؟ پس روزے داروں کو لایا جائے گا ۔۔۔ انہیں بہترین سواریوں پر سوار کیا جائے گا اور ان کے سروں پر تاج سجایا جائے گا اور انہیں بہشت میں لے جایا جائے گا۔
- قال الامام عليّ عليه‏السلام ـ مِن خُطبَتِهِ في أوَّلِ يَومٍ مِن شَهرِ رَمَضانَ ـ : أيُّهَا الصّائِمُ، تَدَبَّر أمرَكَ؛ فَإِنَّكَ في شَهرِكَ هذا ضَيفُ رَبِّكَ، اُنظُر كَيفَ تَكونُ في لَيلِكَ و نَهارِكَ؟ و كَيفَ تَحفَظُ جَوارِحَكَ عَن مَعاصي رَبِّكَ؟ اُنظُر ألاّ تَكونَ بِاللَّيلِ نائِما و بِالنَّهارِ غافِلاً؛ ... (7)؛
امام علی علیہ السلام نے ماہ رمضان کے پہلے دن خطبے میں فرمایا: اے روزہ دارو! اپنے امور میں تدبر کرو، کہ تم اس مہینہ میں اللہ کے مہمان ہو دیکھو کہ تمہاری راتیں اور دن کیسے ہیں؟ اور کیسے تم اپنے اعضاء و جوارح کو اپنے پروردگار کی معصیت سے محفوظ رکھتے ہو؟ دیکھو ایسا نہ ہو کہ تم رات کو سو جاو اور دن  میں اس کی یاد سے غافل رہو۔ پس یہ مہینہ گزر جائے گا اور گناہوں کا بوجھ تمہاری گردنوں پر باقی رہ جائے گا۔ اور جب روزے دار اپنی جزا حاصل کریں گے تو تم سزا پانے والوں میں سے ہو گے۔ اور جب انہیں انکا مولا انعام سے نوازے گا تو تم محروم ہو جاو گے اور جب انہیں خدا کی ہمسائگی نصیب ہو گی تو تمہیں دور بھگا دیا جائےگا۔
- قال الإمام الباقر عليه‏السلام: شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ رَمَضانَ، وَالصّائِمونَ فيهِ أضيافُ اللّه‏ِ و أهلُ كَرامَتِهِ، مَن دَخَلَ عَلَيهِ شَهرُ رَمَضانَ فَصامَ نَهارَهُ و قامَ وِردا مِن لَيلِهِ وَاجتَنَبَ ما حَرَّمَ الله‏ُ عَلَيهِ، دَخَلَ الجَنَّةَ بِغَيرِ حِسابٍ (8) ؛
 ماہ رمضان، ماہ رمضان، اس میں روزہ دار اللہ کے مہمان اور اس کے کرم کے سزاوار ہیں۔ جس شخص پر ماہ رمضان وارد ہو اور وہ روزہ رکھے اور رات کے  ایک حصے میں اللہ کی عبادت کرے نماز پڑھے اور جو کچھ اللہ نے اس پر حرام کیا ہےاس سے پرہیز کرے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گا۔

تمام مہینوں کا سردار
- قال رسول الله صلى‏ الله ‏عليه‏ و‏آله: شَهرُ رَمَضانَ سَيِّدُ الشُّهورِ (9)؛
‌ ماہ رمضان تمام مہینوں کا سردار ہے۔
- قال الإمام الرضا عليه‏السلام: إذا كانَ يَومُ القِيامَةِ زُفَّتِ الشُّهورُ إلَى الحَشرِ يَقدُمُها شَهرُ رَمَضانَ عَلَيهِ مِن كُلِّ زينَةٍ حَسَنَةٍ، فَهُوَ بَينَ الشُّهورِ يَومَئِذٍ كَالقَمَرِ بَينَ الكَواكِبِ، فَيَقولُ أهلُ الجَمعِ بَعضُهُم لِبَعضٍ: وَدِدنا لَو عَرَفنا هذِهِ الصُّوَرَ! ...(10)
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو گا تو تمام مہینوں کو محشر میں لایا جائے گا اس حال میں کہ ماہ رمضان زیورات سے آراستہ سب سے آگے ہو گا۔ اس دن ماہ رمضان بقیہ مہینوں میں ایسے ہو گا جیسے چاند باقی ستاروں کے درمیان ہے۔ پس محشر میں لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: ہم ان چہروں کو پہچاننا چاہتے تھے۔
خدا کی جانب سے ایک منادی ندا دے گا : اے مخلوق خدا! یہ مہینوں کے چہرے ہیں کہ جو اس وقت سے اللہ کی بارگاہ میں موجود تھے جب سے زمین و آسمان خلق ہوئے کہ ان کی تعداد بارہ ہے اور انکا سردار ماہ رمضان ہے۔ میں نے اسے ظاہر کیا ہے تاکہ اس کی برتری کو دیگر مہینوں پر دکھلا سکوں تاکہ وہ مردوں اور عورتوں میں سے جو میرے بندے ہیں انکی شفاعت کرے اور میں اس کی شفاعت قبول کروں ۔

شب قدر ماہ رمضان میں ہے
- قال رسول الله صلى ‏الله ‏عليه ‏و‏آله: قَد جاءَكُم شَهرُ رَمَضانَ؛ شَهرٌ مُبارَكٌ ... فيهِ لَيلَةُ القَدرِ خَيرٌ مِن ألفِ شَهرٍ، مَن حُرِمَها فَقَد حُرِمَ(11)؛
‌ ماہ رمضان تمہارے پاس آ چکا ہے جو برکتوں والا مہینہ ہے۔۔۔ کہ جس میں شب قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ محروم وہ شخص ہے جو اس رات محروم رہ جائے۔
- سُئِلَ رَسولُ الله‏ِ صلى‏ الله ‏عليه ‏و‏آله عَن لَيلَةِ القَدرِ، فَقالَ: «هِيَ في كُلِّ رَمَضانَ»(12) ؛
‌ پیغمبر خدا (ص) سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: شب قدر ہر رمضان میں پائی جاتی ہے۔
- مسند ابن حنبل عن أبي مرثد: سَأَلتُ أباذَرٍّ قُلتُ: كُنتَ سَأَلتَ رَسولَ الله صلى‏ الله ‏عليه‏ و‏آله عَن لَيلَةِ القَدرِ؟ قالَ: أنَا كُنتُ أسأَلَ النّاسِ عَنها يعني أشدّ الناس مسألةً عنها. قالَ: قُلتُ: يا رَسولَ اللهِ، أخبِرني عَن لَيلَةِ القَدرِ أ في رَمَضانَ هِيَ أو في غَيرِهِ؟ قالَ: «بَل هِيَ في رَمَضانَ.»
قالَ: قُلتُ: تَكونُ مَعَ الأَنبِياءِ ما كانوا فَإِذا قُبِضوا رُفِعَت، أم هِيَ إلى يَومِ القِيامَةِ؟ قالَ: «بَل هِيَ إلى يَومِ القِيامَةِ.»(13)
میں نے ابوذر سے پوچھا: کیا آپ نے رسول خدا(ص) سے شب قدر کےبارے میں معلوم کیا ہے؟
کہا: میں سب سے زیادہ اس کے سلسلے میں پوچھتا رہا ہوں۔
( جناب ابوذر نے کہا) میں نے رسول خدا(ص) سے پوچھا: اے رسول خدا(ص)! مجھےشب قدر کےبارےمیں آگاہ کریں کہ کیا شب قدر رمضان میں ہے یا کسی اور مہینےمیں؟
فرمایا: ماہ رمضان میں۔
میں نے کہا: کیا جب تک پیغمبر زندہ ہیں تب تک ہے یا انکی رحلت کے بعد بھی شب قدر قیامت تک ماہ رمضان میں رہے گی؟
فرمایا: شب قدر قیامت تک باقی رہے گی۔

حوالہ جات
1- فضائل الأشهر الثلاثة: 44/20، الأمالي للصدوق:71/38 ، تحف العقول: 419 ، الإقبال: 3 / 293، روضة الواعظين:441، دعائم الإسلام: 1/283، بحارالأنوار: 97/68/4 .
2- كنز العمّال: 8 / 466 / 23685 نقلاً عن ابن عساكر و ج 12 / 323 / 35216 نقلاً عن الديلمي وكلاهما عن عائشة .
3- ثواب الأعمال: 84 / 5، النوادر للأشعري: 17/2 ، فضائل الأشهر الثلاثة: 58/37، الجعفريّات: 58، النوادر للراوندي: 134/ ، بحارالأنوار: 97/75/26.
4- المقنعة: 373، مسارّ الشيعة: 56، مصباح المتهجّد: 797 .
5- فضائل الأشهر الثلاثة: 77/61، الأمالي للصدوق: 84/4، عيون أخبار الرضا عليه‏السلام:1/295/53، الإقبال:1/26، بحارالأنوار: 96/356/25.
6- مستدرك الوسائل: 4/22/4079 نقلاً عن تفسير أبي الفتوح الرازي.
7- فضائل الأشهر الثلاثة: 108 / 101 .
8- فضائل الأشهر الثلاثة: 123/130.
9- شرح الأخبار : 1/ 223 / 207، الفضائل: 125، بحارالأنوار:40/54/89؛ فضائل الأوقات للبيهقي: 89/205، شُعَب الإيمان:3/314/3637 و ص 355/3755 ، كنز العمّال: 8/482/23734 .
10- فضائل الأشهر الثلاثة: 110/102 عن عبدالله‏ بن عامر عن أبيه.
11- تهذيب الأحكام: 4/152/422، الأمالي للمفيد: 112/2 و301 /1 ، الأمالي للطوسي: 74 / 108و ص 149/ 246 ، بحارالأنوار: 97/17/34؛ سنن النسائي: 4/129، مسند ابن حنبل: 3/8/7151 و ص 412/9502.
12- سنن أبي داود: 2/54/1387، السنن الكبرى: 4/506/8526 .
13- مسند ابن حنبل: 8/117/ 21555، المستدرك على الصحيحين:1/603/1596و ج2/578/3960، السنن الكبرى: 4/505/ 8525 .


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه بیست و هفتم تیر ۱۳۹۲ توسط ارشادحسین مطهری


رمضان کے لغوی اور اصطلاحی معنی کیا ہیں؟ روزہ کب سے مسلمانوں پر واجب ہوا؟ کیا روزہ گزشتہ امتوں میں بھی تھا؟ 

بقلم: افتخار علی جعفری


 رمضان کے لغوی اور اصطلاحی معنیرمضان کے لغوی اور اصطلاحی معنی
لفظ رمضان مادہ’’ رَمَضَ‘‘ سے ہے۔ رمض کے معنی سورج کا شدت کے ساتھ ریت پر چمکنا کے ہیں۔(۱) ’’ ارض رمضا‘‘ اس زمین کو کہا جاتا ہے جو سورج کی طمازت سے انگارا بنی ہوئی ہو۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے فرمایا: «افرأیتم جزع احرکم من الشوکة تعبه و الرمضاء تحرقه...؛ کیا تم لوگوں نے اس وقت اپنی کمزوری اور بے تابی کا احساس کیا ہے جب تم ایسی زمین پر چل رہے ہو کہ جو سورج کی طمازت سے انگارا بنی ہوئی ہو؟ پس کیا حال ہو گا تمہارا اس وقت جب آگ کے دو شعلوں کے درمیان ہو گے؟(۲) کہا جاتا ہے کہ رمضان اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے(۳)
رمضان اصطلاح میں قمری مہینوں میں کا نواں مہینہ ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے:
«شهر رمضان الذی انزل فیه القرآن».(۴) اس مہینہ کو رمضان کا نام کیوں دیا گیا اس کی وجہ یوں بیان کی گئی ہے: چونکہ جب اس مہینہ کا نام رکھا گیا اس وقت یہ مہینہ شدید گرمی کے عالم میں واقع ہوا تھا(۵)۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا: رمضان، گناہوں کو جلا دینے والا مہینہ ہے خداوند عالم اس مہینے میں اپنے بندوں کے گناہوں کو جلا دیتا ہے اور انہیں بخش دیتا ہے اس وجہ سے اس مہینہ کا نام رمضان رکھا گیا‘‘۔(۶)
رمضان تنہا وہ مہینہ ہے جس کا نام قرآن کریم میں ذکر ہوا ہے۔
اسلام کے تمام احکام اور دستورات بتدریج اور دھیرے دھیرے نازل ہوئے ہیں۔ اس بنا پر ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال دو شعبان کو نازل ہوا۔(۷)
روزوں کے واجب ہونے کی دلیل خود قرآن کریم کی آیت ہے: «یا ایها الذین آمنوا کتب علیکم الصیام؛ اے صاحبان ایمان تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں پس تم میں سے جو حضر(وطن) میں ہے وہ روزے رکھے(۸)۔
روزے گزشتہ امتوں پر بھی واجب تھے۔ قرآن کریم نے صراحت سے اس بات کو بیان کیا ہے: کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم؛ تم پر روزے فرض کر دئے گئے ہیں جیسا کہ تم میں سے پہلی امتوں پر فرض کئے تھے‘‘۔(۹)
موجودہ توریت اور انجیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود و نصارا کے درمیان بھی روزے پائے جاتے تھے۔
بعض قومیں اس وقت روزہ رکھا کرتی تھی جن ان پر کوئی مصیبت یا بلا نازل ہوتی تھی۔ جیسا کہ کتاب قاموس میں آیا ہے:
روزہ گزشتہ تمام قوموں اور ملتوں میں پایا جاتا تھا وہ قومیں غیر متوقع غم و اندوہ کے نازل ہوتے وقت روزہ رکھتی تھیں۔
توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب موسی نے چالیس دن روزے رکھے۔ جیساکہ توریت میں ہے: جب میں طور سینا پر پہنچا کہ خدا سے صحیفے حاصل کروں تو میں چالیس دن اس پہاڑ پر رہا نہ کھانا کھایا نہ پانی پیا۔(۱۰)
مرحوم علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: روزے کا عبادت ہونا ایک ایسا امر ہے جو انسانی فطرت کے ساتھ سازگار ہے اور وہ قومیں جو ادیان آسمانی کے تابع نہیں تھیں جیسے مصر، یونان اور روم کی قدیم امتیں یا ہندوستان کے بت پرست وہ لوگ بھی اپنے اپنے عقائد کے مطابق روزہ رکھتے تھے اور ابھی بھی رکھتے ہیں۔ (۱۱)
حوالہ جات
1. مجمع البحرین،‌ج2، ص 223، واژه رمض.
2. بحارالانوار،‌ج8، ص 306.
3. مفردات راغب، واژه رمض.
4. بقره (2) آیه 185.
5. مجمع البحرین، ج2، ص 223 ، واژه رمض.
6. مستدرک الوسائل، ج7، ص 487 و 546.
7. محمد ابراهیم آیتی، تاریخ اسلام، ص 298.
8. بقره (2) آیه 183 تا 185.
9 . وہی حوالہ.
10 . تفسیر نمونه، ج1، ص 633، بنقل از قاموس کتاب مقدس ، ص 28 ؛ تورات، سفر تثنیه،‌فصل 9 ، شماره 9.
11. تفسیر المیزان، ج2، ص 7.


.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک