تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه پنجم مهر 1393

 

محفل مناقبہ میں پروفیسر حشمت کمال الہامی، بشارت حسین ساقی، طالب مجروح، نثار علی یاور، کاظم اثر شگری، ابراہیم جعفری اور دیگر شعراء نے امام عالی مقام کے حضور کلام عقیدت پیش کیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه پنجم مهر 1393

 

نہج البلاغہ اپنے دامن میں بلاغت کے نمایاں جوہر اور فصاحت کے بہترین مرقعے رکھتی ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ وہ ایسے شخص کا کلام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام خلق میں سب سے زیادہ فصیح البیان سب سے زیادہ قدرتِ کلام کا مالک اور قوت استدلال میں زیادہ اور الفاظِ لغت عربی پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والا تھا کہ جس صورت سے چاہتا انہیں گردش دے دیتا تھا اور وہ بلند مرتبہ حکیم کہ جس کے بیان سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔

امیرالمومنین حضرت علی (ع) ابن ابی طالب کی فصاحت و بلاغت
تحریر: علامہ محمد رمضان توقیر
خاتم المرسلین رحمت للعالمین حضرت محمد مصطفی (ص) کی ذات گرامی قدر ’’افصح العرب ‘‘ کے نام سے مشہور ہے، یعنی فصاحت و بلاغت آپ کی ذات پر ختم ہے۔ آپ (ص) نے انتہائی مختصر الفاظ میں معانی و مفاہیم کو اپنے کلام میں پرو دیا ہے۔ کلام میں اختصار آپ (ص) کی ذات کا خاصہ ہے۔ صحن کعبہ اس بات کا گواہ ہے کہ جب امیرالمومنین (ع) کی ولادت باسعادت ہوئی اور آپ نے جب اس دنیا میں آنکھ کھولی تو سب سے پہلے جس شخصیت کا دیدار کیا وہ پیغمبر اکرم (ص) کی ذات والا صفات ہے۔

پیغمبر اکرم (ص) نے علی (ع) سے ملنے اور انہی دیکھنے کے بعد سب سے پہلے جو حسین عمل انجام فرمایا وہ یہ تھا کہ اپنی زبان وحی لسان علی (ع) کے دہن میں دے دی اور بہت دیر تک علوم جہانی و قرآنی وجود رسالت سے وجود امامت میں منتقل فرماتے رہے۔ یہ عمل فقط دو بھائیوں کی محبت اور قربت کا مظہر نہیں تھا بلکہ دنیا پر واضح کرنا تھا کہ بعد از نبی (ص) اگر علوم نبوی و علوم الٰہی کا وارث ہے تو صرف اور صرف علی (ع) ہے۔ خود امیرالمومنین (ع) نے کئی مواقع پر اس حقیقت کا بیان کیا کہ انہیں حاصل ہونے والے الہی و نبوی علوم اسی زبان رسالت کی عطیہ ہیں۔

شاید اس قول کی اصلیت بھی علی علیہ السلام کے ساتھ وابستہ ہے جس میں کلام الامام کو امام الکلام کہا گیا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام کو کائنات میں یہ عجیب فوقیت حاصل ہے کہ ایک ہی وقت میں جہاں شجاعت و بہادری کا پیکر اور تلوار زنی میں بےمثال ہیں وہاں فصاحت و بلاغت اور علم و دانش کا لاثانی نمونہ ہیں۔ ایسی شخصیت کائنات میں اور کوئی نہیں جسے ایک ہی وقت میں مختلف یا متضاد میدانوں پر قبضہ حاصل ہو۔ حیرت کی انتہاء اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنین نے فصاحت و بلاغت کے اکثر جواہر اپنی ظاہری خلافت کے کٹھن ترین دنوں میں ظاہر کئے ہیں، جب جنگ و جدل اور سازشوں کا عروج تھا۔ یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ آپ (ص) کے علوم اور فصاحت کسی موسم مزاج یا حالات کے تابع نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مستقل ودیعت تھی جو آپ نے کسی قسم کے حالات کا دباؤ قبول نہ کرتے ہوئے لوگوں تک پہنچائی۔

دنیا کے اہل علم، اہل فن، اہل زبان، اہل ادب اور صاحبان فصاحت نے صدر اسلام سے اب تک یہ بات اصول کے طور پر طے کر دی ہے کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اکرم (ص) کے بعد اگر کسی کلام کی کوئی حیثیت یا مقام ہے تو وہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کا کلام ہے، جس میں سے چند نمونے نہج البلاغہ کے نام سے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ علی (ع) کی فصاحت و بلاغت پر سب بڑی شہادت اور گواہی خود افصح العرب رسول اکرم (ص) کی ذات مبارکہ ہے جنہوں نے علوم و فنوں اور فصاحت و بلاغت پر مشتمل جتنی احادیث فرمائی ہیں، سب میں علی (ع) کو اپنے ساتھ شریک رکھا ہے۔ انا مدینۃ العلم کے نبوی فرمان سے لے کر ذکّاً ذکّاً کے علوی اقرار تک ہر مقام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ علی (ع) کی ذات ہی علوم و فصاحت کا مرکز و محور ہے۔ اہل اسلام میں سے متعدد اہل علم نے علی (ع) کی فصاحت و بلاغت کا ببانگ دہل اقرار کیا ہے۔

علامہ شیخ کمال الدین محمد ابن طلحہ قریشی شافعی اعتراف حقیقت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ علی (ع) علم فصاحت و بلاغت میں امام کا درجہ رکھتے ہیں، جن کے قدموں کی خاک تک پہنچنا ناممکن ہے۔ وہ ایسے پیش رو تھے جن کے نشان قدم کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔ پھر کہتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں حضرت (ع) کے خطبے اور موعظے اپنے اوامر و نواہی کو مکمل طور پر ظاہر کرتے ہیں اور فصاحت و بلاغت کے انوار کو اپنے الفاظ و معانی سے تابندہ شکل میں نمودار کرتے اور فن معانی و بیان کے اصول اور اسرار کو مختلف انداز بیان میں ہمہ گیر صورت سے ظاہر کرتے ہیں۔ علامہ ابو حامد عبدالحمید ابن ہبتہ اللہ المعروف بابن ابی الحدید مدائنی بغدادی فرماتے ہیں کہ علی (ع) کی فصاحت کا یہ عالم تھا کہ آپ فصحاء کے امام اور اہل بلاغت کے سرگروہ ہیں۔ آپ (ع) ہی کے کلام کے متعلق یہ مقولہ ہے کہ وہ خالق کے کلام کے نیچے اور تمام مخلوق کے کلام سے بالاتر ہے اور آپ ہی سے دنیا نے خطابت و بلاغت کا فن سیکھا۔

محمد بن علی بن طباطبا معروف بہ ابن طقطقی کہتے ہیں کہ بہت سے لوگوں نے کتاب نہج البلاغہ کی طرف توجہ کی جو امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا کلام ہے کیونکہ یہ وہ کتاب ہے کہ جس سے حکم اور مواعظ اور توحید اور زہد کی تعلیم حاصل ہوتی ہے اور اس کا سب سے ادنٰی فیض فصاحت و بلاغت ہے۔ علامہ محدث ملّا طاہر فتنی گجراتی اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم آپ علی (ع) کی فصاحت کے سامنے تمام فصحا کی فصاحت اور بلیغوں کی بلاغت اور حکماء روزگار کی حکمت مفلوج و معطل ہوکر رہ جاتی ہے۔ علامہ یعقوب لاہوری کہتے ہیں کہ جو شخص آپ (ع) کی فصاحت کو دیکھنا اور آپ کی بلاغت کو سننا چاہتا ہو وہ نہج البلاغہ پر نظر کرے اور ایسے فصیح و بلیغ کلام کو کسی شیعہ عالم کی طرف منسوب کرنا بالکل غلط ہے۔

ملک عرب کے مشہور مصنف، خطیب اور انشاء پرداز شیخ مصطفٰی غلائنی فرماتے ہیں کہ نہج البلاغہ میں بلیغ کلام اور ششدر کر دینے والے طرز بیان اور خوش نما مضامین اور مختلف عظیم الشان مطالب ایسے ہیں کہ مطالعہ کرنے والا اگر ان کی صحیح مزادلت کرے تو وہ اپنی انشاء پردازی اپنی خطابت اور اپنی گفتگو میں بلاغت کے معیار پر پورا اتر سکتا ہے۔ استاد محمد کرد علی رئیس مجمع علمی دمشق نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ اگر بلاغت کا اس کے مکمل ترین مظاہرات کے ساتھ مشاہدہ مطلوب ہو اور اس فصاحت کو جس میں ذرہ بھر بھی زبان کی کوتاہی شامل نہیں ہے، دیکھنا ہو تو تم کو نہج البلاغہ کا مطالعہ کرنا چاہیئے، جو امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کے خطب و مکاتیب کا مجموعہ ہے۔

استاد محمد محی الدین مدرس جامعہ الازہر کہتے ہیں کہ نہج البلاغہ اپنے دامن میں بلاغت کے نمایاں جوہر اور فصاحت کے بہترین مرقعے رکھتی ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ وہ ایسے شخص کا کلام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد تمام خلق میں سب سے زیادہ فصیح البیان، سب سے زیادہ قدرتِ کلام کا مالک اور قوت استدلال میں زیادہ اور الفاظِ لغت عربی پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والا تھا کہ جس صورت سے چاہتا انہیں گردش دے دیتا تھا اور وہ بلند مرتبہ حکیم کہ جس کے بیان سے حکمت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ عبدالمسیح انطاکی صاحب جریدہ، العمران، مصر کہتے ہیں کہ اس میں کوئی کلام نہیں ہو سکتا کہ سیدنا حضرت علی امیرالمومنین فصیحوں کے امام اور بلیغوں کے استاد اور عربی زبان میں خطابت اور کتابت کرنے والوں میں سب سے زیادہ عظیم المرتبت ہیں اور ان کے کلام کے بارے میں بالکل صحیح کہا گیا ہے کہ یہ کلام خلق سے بالا اور خالق کے کلام سے نیچے ہے۔

غرض یہ کہ جس اہل علم کے قلب کی کیفیت دریافت کریں ہر ایک یہی پکار اٹھے گا کہ میرا امام علی (ع) ہے۔ علی (ع) کے کلام کی فصاحت کا ثبوت ان کے زیر بیان موضوعات ہیں۔ توحید الٰہی سے لے کر انسانی رویئے تک کوئی بھی موضوع نہیں ہے، جس میں علی (ع) نے اپنی بلاغت لسانی اور فصاحت بیانی کے جوہر نہ دکھائے ہوں۔ حتی کہ جنگ کے دوران پڑھے گئے رجز و اشعار بھی فصاحت و بلاغت سے مرصع ہیں۔ مشکل سے مشکل ترین اور آسان سے آسان ترین موضوع کو بھی آپ (ع) نے فصاحت و بلاغت سے مزین کر دیا ہے۔ ایک عام موضوع سے آپ (ع) نے ایسے ایسے بلیغ نکات نکالے ہیں کہ عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ آپ کے کلام میں ادب اور انشاء پردازی اس قدر نمایاں ہے کہ اہل ادب و اہل عرب میں یہ بات مسلمہ سمجھی جاتی ہے کہ اگر کسی نے فنِ تحریر و تقریر میں کمال حاصل کرنا ہو تو اسے امیرالمومنین کے کلام عالی مقام کا مطالعہ و مشاہدہ کرنا چاہیئے اس کے بغیر کبھی بھی انسان ایک ادیب و شاعر و انشا پرداز و خطیب نہیں بن سکتا۔

ہم علی (ع) کی فصاحت و بلاغت پر جتنا لکھیں اور بیان کریں وہ ایک قطرے کی حیثیت کا حامل بھی نہیں ہو سکتا، علی (ع) کی فصاحت و بلاغت کا اقرار و اظہار بھلا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ علی (ع) کا کلام خالق کے کلام کے نیچے اور تمام مخلوق کے کلام سے بالا و فوقیت کا حامل ہے۔ یقیناً ایسا ہی ہے کہ صدیوں سے موجود نہج البلاغہ اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتی چلی آ رہی ہے اور تاقیامت کرتی رہے گی اور علی (ع) کا کلام قیامت تک مخلوق کے کلام سے افضل و برتر رہے گا۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری

 

 

ایرانی قوم کی استقامت نے دنیا کی بہت سی شخصیات کو "خالی ہاتھ سے مقتدرانہ دفاع" کا معتقد بنا دیا

 تہران میں فوجی کمانڈروں کیساتھ ہونیوالی ملاقات مِیں رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ ایران نے وسائل و ذرائع کی شدید قلّت کے باوجود 8برس تک دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا اور انھیں ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے کسی بھی مذموم مقصد میں کامیابی حاصل کرسکیں۔
خدا پر توکل اور عزم راسخ کے ذریعے منہ زور اور سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، رہبر انقلاب
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ آٹھ سالہ مقدس دفاع کے تجربے نے ثابت کر دکھایا ہے کہ تمام تر مشکلات اور دباؤ کے باوجود، پختہ عزم و ارادے اور خدا پر توکل کے ساتھ عالمی طاقتوں کی بے جا توقعات اور منہ زوری کے مقابلے ميں ڈٹا جاسکتا ہے۔ اسلامی جمہوری ایران میں ہفتۂ دفاع مقدس کی مناسبت سے فوجی کمانڈروں سے اپنے خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی نے دفاع مقدس کے دور کو ملت ایران کی عزت و آبرو کا باعث قرار دیا اور کہا کہ آٹھ سالہ مقدس دفاع میں ملت ایران کی استقامت و پائمردی کے سبب، مسلم اور غیر مسلم ممالک کی بہت سی بااثر شخصیات اور  فعال ذہنوں نے، ایرانی عوام کے خالی ہاتھ مقتدرانہ دفاع پر بھرپور اعتقاد پیدا کیا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ آٹھ سالہ مقدس دفاع، ایک ایسا جاری و ساری سرچشمہ ہے کہ جسے جتنا صحیح طریقے سے سمجھا جائے گا، اتنا ہی ایرانی قوم اور ایران کے مستقبل کیلئے مفید واقع ہوگا۔ انہوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے وسائل و ذرائع کی شدید قلّت کے باوجود آٹھ برسوں تک دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کیا اور انھیں ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے کسی بھی طرح کے مذموم مقصد میں کامیابی حاصل کرسکیں۔
 
انقلاب اسلامی کے سپریم لیڈر نے مسلط کردہ جنگ کے دوران ایران کے خلاف، مشرق و مغرب اور ان سے وابستہ عناصر کے محاذ کی تشکیل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم محاذ کی تشکیل کا مقصد اسلامی نظام کو کمزور کرنا، اندرونی مشکلات میں گرفتا کرنا اور آخر کار ایران کے اسلامی جمہوری نظام کا شیرازہ بکھیرنا تھا لیکن ایران کی قوم اور حکومت نے تمام تر وسائل و ذرائع کی کمی اور بے پناہ مشکلات کے باوجود، اس محاذ کے مقابلے میں استقامت کی اور سربلندی و افتخار کے ساتھ میدان سے سرخرو نکلی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلط کردہ جنگ کے اخراجات خاص طور پر انقلاب اسلامی کے لئے شہداء کی عظیم قربانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلط کردہ جنگ کے مادی اور معنوی نقصانات اور اخراجات بہت زيادہ تھے لیکن اس کے باوجود ایرانی قوم نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں عظیم نتائج اور تجربات حاصل کئے۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : شنبه پنجم مهر 1393
 
جو انسان کسی بھی گفتگو کرنے والے کی باتوں کو توجہ اور دھیان سے سنے اور اس کی جانب مائل ہو، اُس کی بات توجہ سے سننے کے بعد کہنے والے کو دل دے بیٹھے اور اسے پسند کرنے لگے تو وہ سننے والا اُس کا غلام، بندہ اور عبادت کرنے والا بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ گفتگو کرنے والا اللہ کی طرف و بارگاہ سے اُس کی مرضی و منشا اور خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بات کرے اور دین کی شریعت و احکامات کو بیان کرے تو گویا اُس سننے والے نے اللہ کی عبادت کی اور اگر وہ بولنے والا شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر زبان شیطان کا ترجمان بن جائے اور مادیت اور خواہشاتِ نفسانی کی باتیں کرے تو وہ دھیان اور توجہ سے سننے والا اور اس کی باتوں کو دل دینے والا شیطان کا غلام، بندہ اور اس کی پرستش کرنے والا ہو جائے گا۔
حضرت امام تقی جواد (ع) کی چند خوبصورت تربتیی احادیث
ترجمہ و تشریح: علامہ صادق تقوی 
مشاور خانوادہ و جوانان


الف۔ مومن کو کن اہم چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے؟!
1۔ الْمُؤمِنُ يَحْتاجُ إلى ثَلاثِ خِصالٍ: تَوْفيقٍ مِنَ اللّهِ عَزَّ وَ جَلَّ، وَ واعِظٍ مِنْ نَفْسِهِ، وَقَبُولٍ مِمَّنْ يَنْصَحُهُ.
ترجمہ: مومن کو تین خوبیوں کی ضرورت ہوتی ہے:
1۔ اللہ کی جانب سے عمل کیلئے ملنے والی توفیق
2۔ نفس کا نصیحت کرنا
3۔ کسی نصیحت کرنے والے کی نصیحت کا قبول کرنا
تربیتی نکات:
1۔ مومن انسان کو اپنے ایمان کی سلامتی، اس ایمان کے نتیجے میں انجام دیئے جانے والے عمل کی بہتری، دنیوی ترقی اور اخروی نجات کیلئے تین صفات کا اپنانا لازمی و ضروری ہے!
2۔ انسان کو نیک عمل، کامیاب زندگی اور اچھے کام کرنے کیلئے توفیق کی ضرورت ہوتی ہے۔
3۔ اللہ تمام بندوں کو یکساں توفیق عطا کرتا ہے، یہ بندے ہوتے ہیں جو نعمت، وقت اور فرصت کے لمحات کو ضائع کرکے بے توفیق ہو جاتے ہیں۔
4۔ اللہ کی عطا کردہ توفیق ہی سے انسان عمل کرتا ہے تو وہ اللہ کی جانب سے مزید توفیقات کو حاصل کرنے کا حقدار قرار پاتا ہے۔
5۔ ایک کامیاب انسان کیلئے جہاں بیرونی نصیحت، ناصح اور خیر خواہ کی ضرورت وہتی ہے، وہیں لازمی ہے کہ انسان کے اندر سے اس کا قلب و ذہن اور فکر و سوچ اُسے نصیحت کرنے والی ہو۔ بیرونی نصحیت یقیناً راہ گُشا ہوتی ہے لیکن اندرونی نصیحت انسان کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
6۔ نصیحت کرنے والے کی نصیحت کو سننا انسان کی نجات میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

ب: کس کی بات کیسے سنیں؟!
 مَنْ أصْغىٰ إلىٰ ناطِقٍ فَقَدْ عَبَدَهُ، فَإنْ كَانَ النّاطِقُ عَنِ اللّٰہِ فَقَدْ عَبَدَ اللّهَ، وَ اِنْ كانَ النّاطِقُ يَنْطِقُ عَنْ لِسانِ إبليس فَقَدْ عَبَدَ إبليسَ.
ترجمہ: جو کسی بھی گفتگو کرنے والے کی باتوں کو توجہ اور دھیان سے سنے (اس کی جانب مائل ہو اور اسے پسند کرنے لگے) تو وہ اُس کا غلام اور بندہ ہے، اور اگر وہ گفتگو کرنے والا اللہ (اور اس کی شریعت و احکام دین) کی باتیں کرے تو (گویا) اُس (سننے والے) نے اللہ کی عبادت کی اور اگر وہ بولنے والا زبان شیطان کا ترجمان ہو (اور مادیت اور ہوا و ہوس کی باتیں کرے) تو وہ (دھیان اور توجہ سے سننے والا) شیطان کا غلام اور بندہ کہلائے گا!!

تربیتی نکات:
1۔ اصغیٰ یعنی بات کرنے والے کی بات کو نہ صرف دھیان و توجہ سے سننے والا لیکن ساتھ ہی اُسے اپنا دل دینے والا۔
2۔ اصغیٰ فعل ماضی ہے یعنی جس نے بھی ایک بار کسی کو بات کو دھیان و توجہ سے سنا اور اپنا دل دے بیٹھایا، ممکن ہے کہ ایسے سننے والے کم ہوں لیکن بولنے والے بہت سے مل سکتے ہیں۔ یہاں امام نے ''ناطق'' کا لفظ استعمال کیا ہے، جس کا معنٰی یہ ہوگا کہ بولنے والا! یہ بولنے اور گفتگو کرنے والا ہر دور اور زمانے میں پایا جاتا ہے، ماضی میں بھی، حال میں بھی اور مستقبل میں بھی۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امام یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ بولنے والا ہر عہد و زمانے میں پایا جاسکتا ہے لیکن دھیان و توجہ سے سننے والا اور اُسے دل دینے والا اپنے ارادے سے یہ کام کرے گا!
3- ''عَبَدَ'' کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ اُس نے عبادت کی یعنی بات کو دل دینے والے نے خود کو اس بات کرنے والے کا غلام بنا دیا اور اُس کا بندہ اور پرستش کرنے والا بن گیا۔
4۔ ''عَنِ اللّهِ'' کا اشارہ اس جانب ہے کہ یعنی اللہ کی جانب سے، اس کے حکم و منشاء کے مطابق، اگر ''مِنْ'' کا لفظ استعمال کیا جاتا تو جملے میں وہ خوبصورتی پیدا نہ ہوتی۔ ''عَنِ اللّهِ'' یعنی بظاہر اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ جو اللہ تک پہنچے اور پھر اللہ کی طرف اور اس کی بارگاہ سے اس کے حکم و فرمان کے مطابق کوئی بات کرے۔
5۔ جب ''عَنِ اللّهِ'' یعنی اللہ کی طرف و بارگاہ سے اس کی مرضی و منشا کے مطابق کہہ دیا تو اس کا لازمی معنٰی یہ ہوگا کہ ایسا انسان ایسی ہی بات کرے گا جو اللہ کی مرضی کے عین مطابقت رکھتی ہوگی۔

6۔ اللہ کی باتوں کو بیان کرنے والے کا گرویدہ ہونے والا ایسا ہے جیسے اس نے اللہ کی عبادت کی۔ یہاں سے اللہ کی جانب سے بات کرنے والے کا مرتبہ سامنے آتا ہے، یعنی دل و جان سے خدائی مرضی و منشا کے مطابق کلام کرنے والا سننے والے انسان کو خدا کی عبادت تک پہنچا سکتا ہے۔
7۔ ''النّاطِقُ يَنْطِقُ'' کے الفاظ اِس بات کی حکایت کر رہے ہیں کہ ابلیس و شیطان کی جانب سے، وسوسے، خواہشاتِ نفسانی، دنیا پرستی اور مادیت نیز اللہ سے دور ہوجانے کی باتیں کرنے والا۔
8۔ ''يَنْطِقُ'' کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ کہ ابلیس و شیطان کی جانب سے بولنے والا ایسا نہیں ہے کہ وہ ھمیشہ ابلیس ہی کی جانب سے کلام کرے۔
9۔ ''عَنْ لِسانِ إبليس''، اوپر فرمایا تھا کہ "عَنِ اللہ" یعنی اللہ کے پاس سے کلام کرنے والا لیکن ''عَنْ لِسانِ إبليس'' یعنی ابلیسی زبان بولنے والا کا جملہ یہ بتا رہا ہے کہ شیطان و ابلیس انسان تک نہیں آسکتے، وہ صرف وسوسہ کرتا ہے، بہکاتا اور گمراہ کرتا ہے، یعنی بات کرنے والا ضروری نہیں ہے کہ ابلیس تک پہنچے یا ابلیس اس تک آئے بلکہ گمراہ کرنے کا کام وسوسوں، برے اور شیطانی خیالات سے بھی ممکن ہے۔
10۔ یہاں سے شیطانی وسوسوں کا شکار ہونے والے انسان کی پستی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، یعنی شیطانی و ابلیسی وسوسوں سے لبریز بات کرنے والا انسان اپنی بات کے سننے والے کو شیطان و ابلیس کی عبادت تک پہنچا سکتا ہے۔

پس اِن تمام تربیتی نکات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام محمد تقی (ع) یہ فرمانا چاہتے ہیں:
جو انسان کسی بھی گفتگو کرنے والے کی باتوں کو توجہ اور دھیان سے سنے اور اس کی جانب مائل ہو، اُس کی بات توجہ سے سننے کے بعد کہنے والے کو دل دے بیٹھے اور اسے پسند کرنے لگے تو وہ سننے والا اُس کا غلام، بندہ اور عبادت کرنے والا بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ گفتگو کرنے والا اللہ کی طرف و بارگاہ سے اُس کی مرضی و منشا اور خوشنودی کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بات کرے اور دین کی شریعت و احکامات کو بیان کرے تو گویا اُس سننے والے نے اللہ کی عبادت کی اور اگر وہ بولنے والا شیطانی وسوسوں کا شکار ہو کر زبان شیطان کا ترجمان بن جائے اور مادیت اور خواہشاتِ نفسانی کی باتیں کرے تو وہ دھیان اور توجہ سے سننے والا اور اس کی باتوں کو دل دینے والا شیطان کا غلام، بندہ اور اس کی پرستش کرنے والا ہو جائے گا۔

ج: بامقصد و بامعرفت عبادت!!
امام تقی الجواد علیہ السلام کی ایک پُر معنٰی حدیث:
القَصدُ إلَى اللّه ِ تعالي بِالقُلُوبِ ، أبلَغُ مِن إِتعابِ الجَوارِحِ بِالأعمالِ ؛
(کتابخانہ احادیث شیعہ حدیث نمبر: 200680)
امام جواد علیہ السلام: دل سے خدا کے نزدیک ہونا زیادہ بہتر ہے بہ نسبت اِس بات کے کہ انسان اپنے اعضاء و جوارح کو (بے مقصد و خالی و کھوکھلے) اعمال سے خستہ حال کر دے۔
وضاحت: دل یعنی غور و فکر اور تدبر سے خدا کے نزدیک ہونا اعضاء و جوارح کو تھکانے والے ان اعمال سے زیادہ بہتر ہے جو خالی اور کھوکھلے ہوتے ہیں۔ انسان بعض اوقات بے مقصد، معرفت سے خالی اور بے ہدف اعمال بجا لا کر سمجھتا ہے کہ وہ اللہ سے قریب ہو رہا ہے، لیکن امام فرماتے ہیں کہ ایسا انسان صرف اپنے اعضاء و جوارح کو تھکاتا اور اپنے آپ کو خستہ حال اور ہلکان کرتا ہے۔
اسی لئے حدیث میں ہے: ایک گھنٹہ غور و فکر ستر سال کی (معرفت سے خالی اور بے ہدف) عبادت سے افضل ہے۔ اس لئے کہ یہ غور و فکر انسان کو ایسی بامعرفت عبادت کی جانب لے جاتا ہے جو ہزاروں سال سے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں بامقصد و بامعرفت عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

د: برے دوست کے اثرات!!
إيّاكَ وَ مُصاحَبَةُالشَّريرِ، فَإنَّهُ كَالسَّيْفِ الْمَسْلُولِ، يَحْسُنُ مَنْظَرُهُ وَ يَقْبَحُ اءثَرُهُ.
ترجمہ: خبردار! ہوشیار! شریر، برے اور برائی رکھنے والے افراد سے دوستی نہ کرو، اِس لئے کہ وہ ایک ایسی زہریلی اور تیز دھار تلوار کی مانند ہے کہ جس کا ظاھر خوبصورت اور اثر انتہائی برا اور خطرناک ہے۔
تربیتی نکات:
1۔ مصاحبت یعنی صحبت، ساتھ دینا، نشست و برخاست؛ یعنی تم پر لازمی ہے کہ تم ہوشیار و خبردار رہو کہ کسی برے دوست کے ہمنشین بنو!
2۔ ایسا برا دوست بظاہر چمکنے والی برندہ تلوار کی مانند ہوتا ہے کہ جس کا ظاہر اور چمک دمک انسان کیلئے دلربا کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اس کا اثر دوستی کرنے والے انسان کے ایمان کیلیے تیز دھار والی تلوار سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔
3۔ برا دوست کبھی اہنے آپ کو برا نہیں کہے گا بلکہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو آپ کو خیر خواہ اور ناصح بنا کر پیش کرے گا۔

ھ: برادران دینی سے ملاقات کا فائدہ!
ملاقاةُ الاِخوانِ نَشْرَةٌ، وَ تَلْقيحٌ لِلْعَقْلِ وَ إ نْ كانَ نَزْرا قَليلا.
ترجمہ: اچھے دوستوں اور برادران دینی سے ملاقات دل کی نوراینت کا سبب نیز عقل و دانائی کے بڑھنے کا عامل بھی ہے، خواہ کم اور مختصر وقت ہی کیلئے کیوں نہ ہو۔
تربیتی نکات:
1۔ دینی برادران سے ملاقات اتنی ہی ضروری ہے جتنا کم عقل، کند ذھن، برے دوستوں اور مکار اور جھوٹوں سے اجتناب۔
2۔ ہر ملاقات کا اپنا فائدہ ہوتا ہے، اچھے دوست اور برادران دینی سے ملاقات کا اچھا فائدہ اور برے دوستوں سے ملاقات کا اپنا منفی اثر۔
3۔ دل کی نورانیت کی حفاظت کیلئے ضروری ہے کہ انسان ایسے گناہگار افراد سے میل جول ترک کر دے جن کے گناہوں کا انسان پر اثر ہوتا ہے۔ اِسی طرح نورانیت قلب کو بڑھانے کیلئے برادران دینی سے ملاقات ضروری ہے، تاکہ ان کی اچھی باتیں، نیک نیتی، پاکیزہ عمل و کردار کا اثر ہوسکے۔
4۔ عقل اور عقلی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے ضروری ہے کہ دوسروں کے مفید تجربات سے استفادہ کیا جائے، نیک اور اچھے کردار کے حامل افراد نیک نیتی کی بنا پر دوسروں تک اپنے تجربات کو منتقل کرتے ہیں، تاکہ وہ زندگی میں شکست سے دوچار نہ ہوں۔
5۔ ضروری نہیں کہ اچھے دوستوں سے ملاقات کیلئے کوئی لمبا چوڑا وقت نکالا جائے اور زیادہ دیر تک ان کی نشست کو اختیار کیا جائے، بلکہ عقلمند انسان دوسروں کی اچھائیوں کو اپنا کر اپنا حصہ لے لیتا ہے اور غور و فکر کے ذریعہ اس میں وسعت و عمق پیدا کرتا ہے۔
اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں اِن احادیث پر عمل کرنے والا قرار دے اور ہمیں امام جواد (ع) کے سچے پیروکاروں میں سے قرار دے۔ آمین


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : سه شنبه بیست و پنجم شهریور 1393
 

ایران کے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کی صحت و سلامتی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آپکی طول عمر اور مکمل صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کا وجود اسلامی نظام کے ترقی و پیشرفت کا ضامن ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور 1393

ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے ایک نئے میزائل اور دو راڈار سسٹمز کو متعارف کرایا ہے۔ان کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ ان سے ملک کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔
ایرانی فضائیہ کے سربراہ جنرل فرزاد اسماعیلی نے کہا ہے کہ تلاش 3 میزائل سے فورسز دشمن کے کسی بھی ہدف کو نشانہ بناسکیں گی۔انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میزائل کا حال ہی میں کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے اس کی رینج نہیں بتائی ہے۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور 1393
 

اقوام متحدہ کی ایڈ ایجنسی نے آج ایک تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ غزہ پٹی پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملوں کے سبب ایک لاکھ آٹھ ہزار فلسطینی بے گھر ہو گئے ہیں۔ اندازوں کے مطابق غزہ پٹی کی قریب 18 ہزار ہاؤسنگ یونٹس جو اس علاقے میں قائم گھروں کا تیرہ فیصد ینتے ہیں، اسرائیلی بمباری سے یا تو نیست و نابود ہو چُکے ہیں یا انہیں بُری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اس بارے میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے تعاون کے دفتر کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ پٹی میں امدادی کام کرنے والے اداروں نے کہا ہے کہ اس علاقے میں آنے والی تباہی بہت زیادہ ہے۔ یو این ایجنسی کے ترجمان جینس لائیرک نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین ایک ہفتے کی فائر بندی پر رضا مندی کے بعد غزہ پٹی میں آنے والی تباہی کا اندازہ لگانا ممکن ہوا۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور 1393

 

جی بی کے قوم پرست رہنما نے کہا ہے کہ عوام پر ریاستی اداروں کی طرف سے ظلم و بربریت کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اگر ہمیں اس نظام میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا تو ہمارا کیا بنے گا۔

گلگت بلتستان کی عوام  آزادی و انقلاب مارچ سے سبق حاصل کریں، منظور پروانہ
اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے رہنماء نے کہا ہے کہ پاکستان میں مقیم گلگت بلتستان کی عوام اپنے جان و مال کی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے دھرنوں اور احتجاجی پرگراموں میں شرکت سے گریز کریں۔ اسلام آباد میں حکومت اور عوام کے درمیان تصادم اور پر تشدد ہنگامہ آرائی نے ریاست میں ہیجانی کیفیت پیدا کی ہوئی ہے، یہ تصادم آئینی حقوق کے حامل پاکستان کے عوام کا حکمرانوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے چیئرمین منظور پروانہ نے گلگت بلتستان کے عوام کے نام ایک پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس ریاست میں حقوق مانگنے والوں کو گولی مار دی جاتی ہو، اور آئین کی تقدس اور اطلاق کے لئے آواز بلند کرنے والوں کو تشدد اور ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہو ایسی ریاست میں اپنے لئے آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو اب اپنے مطالبے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے جو لوگ ایک آزاد قوم کو ظلم و بربریت سے بھرے نظام کے حوالے کرنا چاہتے ہیں وہ قوم کے غدار ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام انقلاب اور آزادی مارچ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی تشخص کو بحال رکھنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھ جائیں۔

منظور پروانہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 35 سیٹیں رکھنے والی جماعت کے سربراہ کے مطالبات پر توجہ دینے والا کوئی نہیں۔ ان کے کارکنوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں اور موت کے گھاٹ اتارے جا رہے ہیں ایسے حالات میں گلگت بلتستان کے لئے قومی اسمبلی میں سیٹوں کا مطالبہ کرنے والے گلگت بلتستان کے مذہبی و سیاسی نمائندے ہمیں یہ بتائیں کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو کس عذاب میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے کروڑوں عوام موجودہ نظام حکومت کے خلاف بغاوت کر رہی ہے ان حالات میں گلگت بلتستان کے عوام کے گردن میں اس نظام کا طوق پہنانے کے لئے الٹے پلٹے تجاویز دینے والے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ عمران خان اور قادری کے دھرنوں میں شریک عوام پر ریاستی اداروں کی طرف سے ظلم و بربریت کو اپنے آنکھوں سے دیکھنے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام کو فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اگر ہمیں اس نظام میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہوا تو ہمارا کیا بنے گا۔ نواز حکومت عوام میں پاکستان کا اچھا امیج پیدا کرے تاکہ پاکستان کے عوام کی حب الوطنی متزلزل نہ ہو سکے، طاقت کے استعمال سے لوگوں کی وطن پرستی کو آزمانے کا سلسلہ نہیں روکا گیا تو پشیمانی اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور 1393

 

تقریب سے صدر ٹیچر ایسوسی ایشن نے کہا کہ اساتذہ کے جرات کو سلام پیش کرتے ہیں جہنوں نے 67 سال سے بے آئین سرزمین کے باسی ہونے کے ناطے کبھی آواز بلند نہیں کی۔

گلگت، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے زیراہتمام تقریب کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے یوم دفاع کے حوالے سے ایک تقریب کا اہتمام کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی ڈائیریکٹر محکمہ تعیلم فرید اللہ خان تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائیریکٹر نے کہا کہ اساتذہ محنت اور لگن سے پڑھائی پر توجہ دیں۔ اساتذہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے اپنے آپ کو تیار کرے کہ شاگردوں کو کس طرح کے برتاو کرے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹیچر ایسوسی ایشن حاجی شاہد حسین نے کہا کہ پاک فوج ملک کے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور اساتذہ نظریاتی سرحدوں کی حفاطت کرتے ہیں۔ اساتذہ کے جرات کو سلام پیش کرتے ہیں جہنوں نے 67 سال سے بے آئین سرزمین کے باسی ہونے کے ناطے کبھی آواز بلند نہیں کی۔ تقریب سے ڈائیریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی دالدار حسین اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ طلباء و طالبات نے ملی نغمے گایے آخر میں مہمان خصوصی نے طلباء وطالبات میں اسناد تقسیم کیے۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری

 

بی این ایف کے رہنماء نے کہا ہے کہ 67 سال کی تاریخ نے ثابت کر دیا کہ کشمیری جی بی سے مخلص نہیں بلکہ جہاں بھی موقع ملا کشمیریوں نے جی بی کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔

آزاد کشمیر میں گلگت بلتستان کے طلباء کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، عبدالحمید
اسلام ٹائمز۔ بالاورستان نیشنل فرنٹ کے چیئرمین عبدالحمید خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جس طرح ریاست جموںو کشمیر متنازعہ علاقہ ہے اسی طرح ریاست گلگت بلتستان بھی متنازعہ علاقہ ہے۔ ایک خصوصی بیان میں عبدالحمید خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کو جبر و طاقت سے آزاد کشمیر نہ ہی پاکستان کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اس لئے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق یہ دونوں کا حصہ نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا چوتھا فریق ہے جس کی اپنی شناخت، پہچان، زبان اور تاریخ ہے۔ عبدالحمید خان نے کہا کہ 67 سال کی تاریخ نے ثابت کر دیا کہ کشمیری گلگت بلتستان سے مخلص نہیں بلکہ جہاں بھی موقع ملا کشمیریوں نے گلگت بلتستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کیا، نیٹکو بس کو آزاد کشمیر میں نہیں چلنے دیا اور اب کوٹلی آزاد کشمیر میں گلگت بلتستان کے طلبہ کو بیہمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایسا پہلی بار نہیں ہوا ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہوئے لیکن گلگت بلتستان کے عوام نے صبر و برداشت کا مظاہرہ کیا لیکن تازہ واقعہ نے تو ثابت کر دیا کہ کشمیری اپنی سر زمین پر گلگت بلتستان کے طلبہ کا وجود بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ دہشت گردی میں ملوث کشمیری طلبہ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کا نہ ہونا بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت اور انتظامیہ بھی اس حملے میں ملوث ہے۔ عبدالحمید خان نے کہا کہ یہ واقعہ ان گروہوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے جو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ایک اکائی بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور 1393

 

: کشمیری طلبہ کے ڈنڈوں اور چاقوں کے وار سے گلگت بلتستان کے ساتوں اضلاع کے 15 سے زائد طلبہ شدید زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں طلبہ اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔

کوٹلی آزاد کشمیر میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کے طلبہ پر کشمیریوں کا دھاوا
رپورٹ: میثم بلتی

یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آزاد کشمیر کوٹلی میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کے ساتوں اضلاع سے تعلق رکھنے والے 25 سے زائد طلبہ پر اسلحہ سے لیس 200 سے زائد ڈنڈا بردار کشمیری طلبہ نے حملہ کر دیا۔ حملہ کے دوران گلگت بلتستان کے طلبہ اور کشمیری طلبہ میں شدید تصادم ہوا۔ تصادم کے نتیجے میں کشمیری طلبہ کے ڈنڈوں اور چاقوں کے وار سے گلگت بلتستان کے ساتوں اضلاع کے 15 سے زائد طلبہ شدید زخمی ہو گئے جبکہ درجنوں طلبہ اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ زخمی طلبہ کو پولیس نے فوری طور پر ڈی ایچ کیو ہسپتال کوٹلی منتقل کر دیا ہے جہاں ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

ذرائع نے میڈیا کو بتایا کہ طلبہ کے دنوں گروپوں کے مابین تصادم اس وقت پیش آیا جب گلگت بلتستان کے طلبہ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک عقب کی جانب سے ہاتھ میں ڈنڈے اور چاقو لیے 200 سے زائد کشمیری طلبہ نے ان پر اندھا دھند حملہ کیا اور آدھے گھنٹے تک گلگت بلتستان کے طلبہ کو حراست میں لے کر ان کی خوب پٹائی کر ڈالی اور لہولہان کر دیا۔ ذرائع نے مزید کہا کہ تصادم میں گلگت بلتستان کے 15 سے زائد طلبہ شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں کاشف اسکردو، مہتاب الرحمان چلاس، اشرف اسکردو، لیاقت اسکردو، فدا اللہ داریل، جاوید غذر، سہیل عباس ہنزہ، مرتضیٰ داریل، کاشف اسکردو، ظہور اسکردو، نظیر احمد اسکردو، ساجد اسکردو شامل ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے طلبہ پر حملہ کرنے والے کشمیری طلبہ پر کشمیر کی انتظامیہ نے ایف آئی آر درج کر دی ہے تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه دوازدهم شهریور 1393

 

پولیس کیجانب سے مظاہرین پر شدید شیلنک کی گئی جس میں تین افراد شہید اور چھ سو سے زائد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو اسلام آباد کے پولی کلینک اور پمز اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں زخمیوں کی بڑی تعداد کو ابتدائی طبی امداد دیکر ڈسچارج کر دیا گیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد 1393
 

اگرچہ ہماری اب تک کی ہونے والی بات سے مذہبی ایمان کے آثار کسی حد تک واضح ہو جاتے ہیں لیکن پھر بھی ہم نے اس معنوی دنیا اور زندگی کے اس قیمتی ترین سرمایہ کے بابرکت آثار سے آشنائی کے لئے ایک الگ موضوع بحث قرار دیا ہے۔

ایک روسی مفکر "ٹالسٹائے" کہتے ہیں:

"ایمان وہ چیز ہے جس کے ساتھ لوگ زندگی بسر کرتے ہیں۔"

حکیم ناصر خسرو علوی بیٹے سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:

زدنیا روی زدین کروم ایراک

مرا بی دین جھان چہ بود و زندان

مرا پور از دین ملکی است در دل

کہ آن ہرگز نخواہد گشت ویران

" میں نے دنیا سے دین کی طرف رخ اس لئے کیا ہے کہ بغیر دین کے دنیا میرے لئے ایک زندان کے سوا کیا ہے اے بیٹے میرے دل پر دین کی حکومت ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔"

مذہبی ایمان بہت سارے بابرکت اور نیک آثار کا حامل ہے۔

یہ سرودوشادمانی اجتماعی روابط کی اصلاح اوران پر یشانیوں کے خاتمہ کا باعث بنتی ہے جو اس کائنات کی بودو باش کا لازمہ ہیں۔ مذہبی ایمان کے آثار تین عناوین کے تحت درج ذیل ہیں:

(الف) سرور و انبساط

سرور خوشی اور مسرت پیدا کرنے کے حوالے سے مذہبی ایمان کا سب سے پہلا اثر یہ ہے کہ ایمان کائنات خلقت اور ہستی کے بارے میں انسان کو خوش بین بنا دیتا ہے۔ مذہبی ایمان کائنات کے بارے میں انسان کو ایک خاص نقطہ نظر عطا کرتا ہے۔

اس طرح سے خلقت کو بامقصد قرار دیتا ہے اور یہ مقصد اس کے نزدیک خیر سعادت اور کمال کی طرف بڑھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نظام ہستی کو بحیثیت مجموعی اور اس پر حاکم قوانین کے بارے میں انسان کو خوش بین بنا دیتا ہے اس نظام ہستی میں موجود ایک باایمان شخص کی حالت ایک ایسے فرد کی سی ہوتی ہے جو ایک ایسے ملک میں رہتا ہے جس کے قوانین اداروں اور نظام کو وہ صحیح اور عادلانہ سمجھتا ہے۔ ملکی حکام کے حسن نیت پر بھی ایمان رکھتا ہے اپنی اور دوسروں کی ترقی و پیش رفت کے لئے راہیں ہموار سمجھتا ہے اور اسے یقین ہے کہ اس کی اور اس جیسے مکلف اور ذمہ دار افراد کی پسماندگی کا باعث اگر کوئی چیز ہو سکتی ہے تو وہ ان کی اپنی سستی اور ناتجربہ کاری ہی ہے۔

ایسے شخص کی نظر میں پسماندگی کا باعث وہ خود ہے اس میں ملک کے نظام اور اداروں کا کوئی قصور نہیں۔ جو بھی کمی ہو گی اس کا سبب وہ خود ہوگا اور اس جیسے دوسرے وہ تمام لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ یہ غور و فکر اسے غیرت دلاتا ہے اور اسے خوش بینی اور اچھی امیدوں کے ساتھ حرکت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

لیکن ایک تہی ایمان آدمی کی نظام ہستی میں مثال یوں ہے جیسے کوئی فرد کسی ایک ایسے ملک میں رہتا ہو جس کے نظام یا قانون قاعدے ضابطے اور اداروں وغیرہ سب کو وہ غلط اور ظالم سمجھتا ہے۔ لیکن ان سب کو قبول کرنے پربھی مجبور ہے۔ ایسے فرد کے باطن ہمیشہ ناپسندیدگی کی ایک گرہ کی سی کیفیت بھی رہتی ہے۔ وہ کبھی اپنی اصلاح کے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ خیال کرتا ہے کہ جہاں زمین و آسمان سب ناہموار ہیں سب عالم ہستی ظلم و جور اور بے انصافیوں کا مجسمہ وہاں مجھ جیسے ایک ذرے کی اصلاح کا کیا فائدہ ہو گا؟

ایسا فرد دنیا سے کبھی لذت نہیں پاتا اس کے لئے دنیا ہمیشہ ایک ہولناک زندان کی مانند ہوتی ہے اسی پر قران کریم نے کہا ہے کہ

ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشة ضنکا (سورہ طہ آیت ۱۲۴)

"جو کوئی میری یاد میرے ذکر سے رو گردانی کرے گا تو اس کی زندگی بہت تنگی اور دباؤ میں بسر ہو گئی۔"

یقینا ایمان ہی ہمارے اندر ہماری جانوں میں زندگی کو وسعتیں عطا کرتا ہے اور ہمیں روحانی امور کے دباؤ سے بچاتا ہے۔

خوشی و مسرت کے حوالے سے مذہبی ایمان کا دوسرا اثر روشن دلی ہے انسان جونہی دنیا کو مذہبی ایمان کے تحت حق و حقیقت کے نور سے روشن و منور دیکھتا ہے۔ تو یہی روشن بینی اس کے روح کو بھی منور کر دیتی ہے۔ روشن بینی ایک ایسا چراغ بن جاتی ہے جو اس کی ذات کے اندر جل رہا ہوتا ہے۔

ایمان سے خالی آدمی کی حالت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ دنیا اس کی نظروں میں ہیچ و پوچ بے معنی اور تاریک ہوتی ہے۔ اسی لئے دنیا میں جسے اس نے تاریک و اندھیر فرض کیا ہوا ہے اس کا دل بھی تاریک رہتا ہے۔

خوشی و مسرت ہی کے حوالے سے مذہبی ایمان کا تیسرا اثر اچھے نتیجے اور اچھی جدوجہد کے بارے میں پرامید ہونا ہے۔

مادی فکر کے اعتبار سے یہ جہان لوگوں کے بارے میں غیر جانبدار اور لاتعلق ہے۔ لوگ خواہ حق پر ہوں یا باطل پر عدل و انصاف کا دامن تھامیں یا ظلم و ستم کو پیشہ بنائیں صحیح راستے پر ہوں یا غلط راہوں پر چل نکلیں۔ ان کا نتیجہ صرف ایک ہی چیز پر منحصر ہے اور وہ ہے مقدار کوشش اور بس۔ لیکن باایمان شخص کی نظر و فکر میں یہ کہ اس جہاں میں دونوں گروہوں کی کوشش و جدوجہد کے حوالے سے کائنات کا ردعمل ایک جیسا نہیں ہوتا بلکہ نظام خلقت ان لوگوں کا حامی ہے جو حق و حقیقت عدالت و خیرخواہی اور صحیح و درست راستوں پر محنت و کوشش کرتے ہیں۔

ان تنصرو اللّٰہ ینصرکم

"اگر آپ خدا کی مدد کریں (حق کے راستے میں قدم بڑھائیں) تو خدا بھی آپ کی مدد کرے گا۔"( سورہ محمد آیت ۷)

ان اللّٰہ لا یضیع اجر المحسنین

"بے شک خدا نیک لوگوں کا اجر و صلہ کبھی ضائع نہیں کرتا۔"( سورہ توبہ ۱۲۰)

خوشی و مسرت ہی کے اعتبار سے مذہبی ایمان کا چوتھا اثر "سکون قلب" ہے۔ انسان فطرتاً اپنی سعادت کا خواہاں ہے۔ سعادت کے حصول کے تصور ہی سے شہرت و خوشی میں غرق ہو جاتا ہے۔ ہولناک تاریک اور محرومیوں سے مستقبل کی سوچ ہی سے اس کے تن بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔ انتہائی پریشان و مضطرب ہو جاتا ہے۔ دو چیزیں انسان کی سعادت کا باعث ہوتی ہیں:

۱۔ جدوجہد ۲۔ موافق حالات پر اطمینان

طالب علم کی کامیابی دو چیزوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔ پہلی اس کی اپنی کوشش اور جدوجہد۔ دوسری چیز مدرسے کا اچھا مدد کرنے والا ماحول اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنا شوق و رغبت دلانا۔ اگر کوئی محنتی اور لائق طالب علم اپنی پڑھائی کے ماحول سے مطمئن نہ ہو اور سال کے آخر میں نمبر دینے والے استاد پر اعتماد نہ رکھتا ہو اور غیر عادلانہ روش سے پریشان ہو تو سارا سال خوف و اضطراب میں مبتلا رہے گا۔

انسان اپنی ذمہ داری سے تو آگاہ ہوتا ہے۔ اس طرف سے اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ اضطراب شک و شبہ سے پیدا ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ سے مربوط کسی چیز میں متذبذب و متردد نہیں ہوتا۔ جو چیز انسان کو شک و شبہ میں ڈالتی ہے اور انسان جس چیز سے متعلق اپنی ذمہ داری سے بے خبر ہوتا ہے وہ کائنات ہے۔

کیا اچھے کاموں کا کوئی فائدہ ہوتا ہے؟ کیا صداقت اور امانت بے کار چیزیں ہیں؟ کیا تمام تر محنت اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد نتیجہ محرومی ہی ہے؟ یہی مقام ہے جہاں اضطراب و پریشانی اپنی ہولناک ترین صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔

مذہبی ایمان تصویر کے دونوں رخ "انسان اور جہان" کو سامنے رکھتے ہوئے اعتماد اور اطمینان بخشتا ہے۔ دنیا کے سلوک سے متعلق انسان کی فکر و پریشانی ختم کرتا ہے اس کے بدلے انسان کو سکون قلب عطا کرتا ہے۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ مذہبی آثار میں سے ایک سکون قلب ہے۔

مذہبی ایمان کا ایک اور مسرت بخش پہلو معنوی اور روحانی لذت کا حاصل ہے۔ انسان دو طرح کی لذت سے آشنا ہے۔ بعض لذتیں وہ ہیں جن میں انسان کی کوئی حس کسی خارجی چیز سے ایک خاص رابطہ قائم کرتی ہے۔ جیسے آنکھ دیکھنے سے کان سننے سے منہ چکھنے سے اور ہاتھ چھونے سے لذت حاصل کرتے ہیں۔ ایک طرح کی لذتیں بھی ہیں جو انسان کے وجدان و روح سے متعلق ہیں اور کسی ایک خاص عضو سے مربوط نہیں ہوتیں۔ جیسے انسان نیکی اور خدمت کرنے سے لذت حاصل کرتا ہے۔ محبوب اور محترم ہو کر سرور پاتا ہے یا پھر اپنی اولاد کی کامیابی و کامرانی سے خوش ہوتا ہے ایسی لذتیں کسی خاص عضو سے متعلق نہیں ہوتیں اور نہ ہی براہ راست کسی ایک خارجی عامل کے زیراثر ہوتی ہیں۔

معنوی لذات مادی لذتوں کے مقابلے میں زیادہ طاقت ور اور دیرپا بھی ہوتی ہیں۔ حق پرست عرفاء کو عبادت و بندگی خدا سے حاصل ہونے والی لذت ایک ایسی ہی لذت ہے۔ وہ عارف و عابد لوگ جن کی عبادت خضوع و خشوع اور حضور و استغراق سے مالا مال ہو وہ عبادت سے عظیم ترین لذتیں حاصل کرتے ہیں جسے دینی اصطلاح میں "طعم ایمان" اور "حلاوت ایمان" سے یاد کیا جاتا ہے۔ ایمان کی حلاوت و شیرینی ہر حلاوت سے بڑھ کر ہے۔ لذت معنونی اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب علم احسان خدمت کامیابی و کامرانی جیسے امور دینی احساس کے ساتھ پھوٹیں۔ خدا کے لئے انجام پائیں اور عبادت کے زمرے میں آئیں۔

(ب) اجتماعی روابط کی اصلاح میں ایمان کا کردار

انسان بعض دوسرے جانداروں کی طرح اجتماعی طبیعت پر پیدا کیا گیا ہے۔ فرد اکیلا اپنی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ زندگی ایک کمپنی یا سوسائٹی کی صورت میں ہونی چاہئے جس میں حقوق و فرائض کے اعتبار سے ہر ایک حصہ دار ہو افراد میں ایک طرح کی تقسیم کار ہو۔ شہد کی مکھیوں میں ذمہ داریوں اور کام کی تقسیم ان کی سرشت اور فطرت کے حکم پر ہوتی ہے ان میں کام سے انکار یا نافرمانی کی طاقت نہیں ہوتی۔ ان کے برعکس انسان ایک آزاد اور خود مختار جاندار ہے اپنے کام کو ذمہ داری اور مسئولیت کے عنوان سے انجام دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اگرچہ دوسرے جانداروں کی ضروریات اجتماعی ہیں لیکن یہ اپنے جبلی و طبیعی امور کی انجام دہی پر مجبور ہیں۔ انسان کی ضرورتیں بھی اجتماعی ہیں۔ بغیر اس کے کہ ویسے جبلی تقاضے اس پر حکم فرما ہوں۔ انسان کی جبلی و فطری اجتماعی خواہشات اس کے اندر ایک "تقاضے" کی صورت میں ہوتی ہیں جنہیں تعلیم اور تربیت کے سائے میں پروان چڑھنا چاہئے۔

صحیح و سالم اجتماعی زندگی وہی ہے کہ افراد ایک دوسرے کے لئے قوانین حدود اور حقوق کا احترام کریں۔ عدل و انصاف کو ایک مقدس امر جانیں ایک دوسرے سے مہر و محبت سے پیش آئیں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کریں جسے خود نہیں چاہتے اسے دوسروں کے لئے بھی نہ چاہیں ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور اطمینان رکھیں دوسروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر ان کے لئے روحانی تکلیف کا باعث نہ بنیں۔ ہر شخص اپنے کو معاشرے کا ذمہ دار اور معقول فرد سمجھے۔ کھلے بندوں جس تقویٰ و پاکدامنی کا مظاہرہ کرتا ہے اپنی انتہائی خلوت میں بھی اسی تقویٰ و پاکدامنی کو تھامے رکھے۔ سب لوگ بغیر کسی لالچ کے ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کریں۔ ظلم و ستم کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں ظالم اور فاسد لوگوں کو من مانی نہ کرنے دیں اخلاقی قدروں کا احترام کریں ہمیشہ ایک جسم کے اعضاء کی مانند متحد و متفق رہیں۔

یہ مذہبی ایمان ہی ہے جو ہر چیز سے بڑھ کر حقوق کا احترام کرتا ہے عدالت کو مقدس سمجھتا ہے دلوں میں الفت و مہربانی ڈالتا ہے۔ ایک دوسرے کے دل میں اعتماد پیدا کرتا ہے انسان کے قلب و روح پر تقویٰ و پرہیزگاری کی حکومت قائم کر دیتا ہے۔ اخلاقی قدروں کو معتبر اور قابل قدر بناتا ہے ظلم و زیادتی کے مقابلے کے لئے شجاعت بخشتا ہے۔ تمام افراد کو ایک جسم کی مانند قرار دے کر متحد رکھتا ہے۔

حوادث سے انسانی تاریخ میں آسمانی ستاروں کی مانند انسان کی جو انسانی تجلیاں دکھائی دیتی ہیں یہ درحقیقت مذہبی احساسات کی کوکھ سے ہی جنم لئے ہوئے ہیں۔

(ج) پریشانیوں میں کمی

جہاں انسانی زندگی میں خوشی مسرت سرور و شادمانی کامیابی و کامرانی جابجا دکھائی دیتی ہے وہاں یہ زندگی مصیبت رنج ناکامی تلخی شکست اور محرومی کو بھی بہرحال اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ ان میں سے بہت سی مصیبتوں اور مشکلوں کو روکا جا سکتا ہے یا دور کیا جا سکتا ہے اگرچہ اس کے لئے بہت کوشش کرنا پڑے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ عالم طبیعت کے ساتھ پنجہ آزمائی کرنا اور تلخی کو شیرینی میں بدلنا انسان کی ذمہ داری ہے لیکن دنیا کے بعض واقعات اور حوادث ایسے ہیں جنہیں انسان روک سکتا ہے نہ انہیں دور کرنے کی طاقت رکھتا ہے مثلاً بڑھاپا۔ انسان چاہے نہ چاہے اسے بڑھاپے کی طرف بڑھنا پڑتا ہے اور اس کی زندگی کا چراغ آہستہ آہستہ بجھتا چلا جاتا ہے۔ بڑھاپے کی ناتوانی کمزوری اور اس کے دیگر لوازمات زندگی کے چہرے کو مرجھا دیتے ہیں اس کے علاوہ موت اور نابودی کا خیال زندگی کو خیرباد کہنے کی فکر اپنے جانے اور دنیا دوسرے کے حوالے کرنے کی پریشانی انسان کو تڑپائے رکھتی ہے۔

مذہبی ایمان انسان میں استقامت پیدا کرتا ہے۔ تلخیوں کو میٹھا و شیریں بناتا ہے۔ باایمان شخص جانتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز کا باقاعدہ ایک حساب کتاب ہے اگر مشکلات اور مصیبتوں میں اس کا ردعمل درکار اصولوں کے مطابق ہو تو اس کا نقصان ممکن ہے ناقابل تلافی ہو لیکن خدا تعالیٰ کسی اور طریقے سے اس کا ازالہ کر دیتا ہے۔ بڑھاپا اختتام نہیں ہے بلکہ باایمان آدمی تو ہمیشہ فرصت کے لمحات کو عبادت اور ذکر خدا سے محبت کر کے گزارتا ہے۔ اس نظریے سے بڑھاپا اس قدر محبوب و مطلوب بن جاتا ہے کہ خدا پرستوں کو جوانی سے زیادہ بڑھاپے کی زندگی میں مزہ آتا ہے۔ تہی از ایمان آدمی کی نظر میں موت کا جو چہرہ مہرہ ہوتا ہے وہ باایمان آدمی کی نظروں میں بدل جاتا ہے۔ ایسے شخص کی نظروں میں اب موت فنا و نابودی نہیں ہوتی بلکہ یہ فانی دنیا سے پائیدار اور باقی رہنے والی دنیا کی طرف منتقلی کا نام بن جاتی ہے۔ یہ ایک چھوٹے جہاں سے بڑے جہاں کی طرف روانگی ہوتی ہے عمل اور بیج بونے کے میدان سے نتیجہ اور پھل حاصل کرنے کے میدان میں جانا ہوتا ہے اس طرح باایمان آدمی نیک کاموں جنہیں دینی اصطلاح میں "اعمال صالح" کہا جاتا ہے میں حصہ لے کر موت کے خیال سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کو دور کر لیتا ہے۔ ماہر نفسیات کے نزدیک یہ بات قطعی اور مسلم ہے کہ اکثر نفسیاتی بیماریاں جو زندگی کی تلخیوں اور روحانی پریشانیوں سے پیدا ہوتی ہیں غیر مذہبی لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔ مذہبی لوگوں کا ایمان جتنا زیادہ مضبوط اور محکم ہوتا ہے اتنا زیادہ وہ ان بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے دور میں ایمان کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے عوارض میں سے ایک نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں کی افزائش بھی ہے۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد 1393
 

مؤلف :محمدسبحاني
ترجمه

اس مقالے کي سندنہج البلاغہ کا خط ۳۱ ہے۔ سيدرضي کے بقول صفين سے واپسي پر”حاضرين“ کے مقام پرحضرت نے يہ خط اپنے فرزند امام حسن بن علي عليہ السلام کے نام تحرير فرمايا۔ حضرت اس کے حکيمانہ کلام کا مخاطب امام حسن عليہ السلام کے توسط سے حقيقت کا متلاشي ہرجوان ہے۔ ہم يہاں فقط چنداہم بنيادي اصولوں کوبيان کريں گے۔

۱۔ تقوي اورپاک دامني :

امام فرماتے ہيں : ”واعلم يابني ان اجب ماانت آخذبہ الي من وصيتي تقوي اللہ“۔

بيٹاجان لوکہ ميرے نزديک سب زيادہ محبوب چيزاس وصيت نامے ميں تقوي الہي ہے جس سے تم وابستہ رہو۔مضبوط حصار(قلعہ)

جوانوں کے لئے تقوي کي اہميت اس وقت اجاگرہوتي ہے جب زمانہ جواني کے تمايلات،احساسات اورترغيبات کو مدنظر رکھاجائے۔ وہ جوان جوغرائز، خواہشات نفساني، تخيلات اورتندوتيزاحساسات کے طوفان سے دوچارہوتاہے ايسے جوان کے لئے تقوي ايک نہايت مضبوط ومستحکم قلعے کي مانندہے جواسے دشمنوں کي تاخت وتاراج سے محفوظ رکھتاہے ياتقوي ايک ايسي ڈھال کي طرح ہے جوشياطين کے زہرآلودتيروں سے جسم کومحفوظ رکھتي ہے۔

امام فرماتے ہيں :اعلمواعباداللہ ان التقوي دارحصن عزيز۔[1]

ترجمہ : اے اللہ کے بندوجان لوکہ تقوي ناقابل شکست قلعہ ہے۔

شہيدمطہري فرماتے ہيں ”يہ خيال نہيں کرناچاہئے کہ تقوي نمازوروزے کي طرح دين کے مختصات ميں سے ہے بلکہ يہ انسانيت کالازمہ ہے انسان اگرچاہتے ہے کہ حيواني اورجنگل کي زندگي سے نجات حاصل کرے تو مجبورہے کہ تقوي اختيارکرے“۔[2]

جوان ہميشہ دوراہے پرہوتاہے دومتضادقوتيں اسے کھينچتي ہيں ايک طرف تواس کا اخلاقي اورالہي وجدان ہے جواسے نيکيوں کي طرف ترغيب دلاتاہے دوسري طرف نفساني غريزے،نفس امارہ اورشيطاني وسوسے اسے خواہشات نفساني کي تکميل کي دعوت ديتے ہيں عقل وشہوت،نيکي وفساد،پاکي وآلودگي اس جنگ اورکشمکش ميں وہي جوان کامياب ہوسکتاہے جوايمان اورتقوي کے اسلحہ سے ليس ہو۔

يہي تقوي تھا کہ حضرت يوسف عزم صميم سے الہي امتحان ميں سربلندہوئے اورپھرعزت وعظمت کي بلنديوں کوچھوا۔ قرآن کريم حضرت يوسف کي کاميابي کي کليددواہم چيزوں کوقرارديتاہے ايک تقوي اوردوسراصبر۔ ارشادہے:”انہ من يتق و يصبر فان اللہ لايضيع اجرالمحسنين“ يوسف۹۰۔

ترجمہ: وکوئي تقوي اختيارکرے اورصبر(واستقامت) سے کام لے تواللہ تعالي نيک اعمال بجالانے والوں کے لئے اجرکوضائع نہيں فرماتا۔

ارادہ کي تقويت :

بہت سے جوان ارادے کي کمزوري اورفيصلہ نہ کرنے کي صلاحيت کي شکايت کرتے ہيں۔ کہتے ہيں : کہ ہم نے بري عادات کوترک کرنے کابارہافيصلہ کياليکن کامياب نہيں ہوئے امام علي عليہ السلام کي نظرميں تقوي اردے کي تقويت نفس پرتسلط،بري عادات اورگناہوں کے ترک کرنے کابنيادي عامل ہے آپ فرماتے ہيں ”آگاہ رہوکہ غلطياں اور گناہ اس سرکش گھوڑے کے مانندہيں جس کي لگام ڈھيلي ہواورگناہ گاراس پرسوارہوں يہ انہيں جہنم کي گہرائيوں ميں سرنگوں کرے گااورتقوي اس آرام دہ سواري کي مانند ہيں جس کي لگام ڈھيلي اور گناہ گاراس پرسوارہوں يہ انہيں جہنم کي گہرائيوں ميں سرنگوں کرے گا اور تقوي اس آرام دہ سواري کي مانندہے جس کامالک اس پر سوار ہے اس کي لگام ان کے ہاتھ ميں ہے اوريہ سواري اس کوبہشت کي طرف لے جائے گي“۔[3]

متوجہ رہناچاہئے کہ يہ کام ہونے والاہے،ممکن ہے۔ جولوگ اس وادي ميں قدم رکھتے ہيں اللہ تعالي کي عنايات اورالطاف ان کے شامل ہوجاتے ہيں جيساکہ ارشادہے: ”والذين جاہدوافينالنھدينھم سبلنا“ عنکوبت۶۹۔

ترجمہ : اوروہ لوگ جوہماري راہ ميں جدوجہدکرتے ہيں ہم باليقين وبالضرور ان کو اپنے راستوں کي طرف ہدايت کريں گے۔

۲۔ جواني کي فرصت اورغنيمت :

بلاشک کاميابي کے اہم ترين عوامل ميں سے ايک فرصت اورفراغت کے اوقات سے صحيح اوراصولي استفادہ ہے۔ جواني کازمانہ اس فرصت کے اعتبارسے انتہائي اہميت کاحامل ہے۔معنوي اورجسماني قوتيں وہ عظيم گوہرناياب ہے جواللہ تعالي نے جوان نسل کوعنايت فرماياہے۔ يہي سبب ہے کہ ديني پيشواؤں نے ہميشہ جواني کو غنيمت سمجھنے کي طرف توجہ اورتاکيدکي ہے۔ اس بارے ميں امام علي فرماتے ہيں:

بادرالفرصة قبل ان تکون غصة

۔[4]

ترجمہ : قبل اس کے کہ فرصت تم سے ضائع ہو اور غم و اندوہ کاباعث بنے اس کو غنيمت جانو۔

اس آيہ مبارکہ ”لاتنس نصيبک من الدنيا“قصص۷۷۔

(دنيا سے اپنا حصہ فراموش نہ کر) کي تفسيرميں فرماتے ہيں : لاتنس صحتک وقوتک وفراغک وشبابک نشاطک ان تطلب بھاالاخرة[5]

ترجمہ : اپني صحت، قوت، فراغت، جواني اورنشاط کو فراموش نہ کرو اور ان سے اپني آخرت ک لئے استفادہ کرو۔

جو لوگ اپني جواني سے صحيح استفادہ نہيں کرتے امام ان کے بارے ميں فرماتے ہيں :

انہوں نے بدن کي سلامتي کے دنوں ميں کئي سرمايہ جمع نہ کيا،اپني زندگي کي ابتدائي فرصتوں ميں درس عبرت نہ ليا۔ جو جوان ہے اس کوبڑھاپے کے علاوہ کسي اور چيزکا انتظارہے[6]

جواني کے بارے ميں سوال

جواني اورنشاط اللہ کي عظيم نعمت ہے جس کے بارے ميں قيامت کے روز پوچھا جائے گا۔ پيغمبراسلام (صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم) سے ايک روايت ہے آپ فرماتے ہيں: قيامت کے دن کوئي شخص ايک قدم نہيں اٹھائے گامگريہ کہ اس سے چارسوال پوچھے جائيں گے :

۱۔ اس کي عمرکے بارے ميں کہ کيسے صرف کي اورکہاں اسے فنا کيا؟

۲۔ جواني کے بارے ميں کہ اس کاکياانجام کيا؟

۳۔ مال ودولت کے بارے ميں کہ کہاں سے حاصل کي اورکہاں کہاں خرچ کيا؟

۴۔ اہل بيت کي محبت ودوستي کے بارے سوال ہوگا۔[7]

يہ جوآنحضرت نے عمرکے علاوہ جواني کا بطورخاص ذکرفرماياہے اس سے جواني کي قدر و قيمت معلوم ہوتي ہے۔ امام علي فرماتے ہيں: شيئان لايعرف فضلھما الامن فقدھماالشباب والعافية۔[8]

انسان دوچيزوں کي قدروقيمت نہيں جانتا مگريہ کہ ان کو کھودے ايک جواني اور دوسرے تندرستي ہے۔

۳۔ خودسازي :

خودسازي کابہترين زمانہ جواني کادورہے۔ امام اپنے فرزند عزيز امام حسن سے فرماتے ہيں :

انماقلب الحدث کالارض الخالية ماالقي فيھامن شئي قبلتہ فبادرتک بالادب قبل ان يقسواقلبک ويشتغل لبک۔[9]

ترجمہ : نوجوان کادل خالي زمين کے مانندہے جواس ميں بوياجائے قبول کرتي ہے پس قبل اسکے کہ تو قسي القلب (سنگدل) ہوجائے اورتيري فکرکہيں مشغول ہو جائے ميں نے تمہاري تعليم وتربيت ميں جلدي کي ہے۔

ناپسنديدہ عادات جواني ميں چونکہ ان کي جڑيں مضبوط نہيں ہوتيں اس لئے ان سے نبردآزمائي آسان ہوتي ہے۔ امام خميني فرماتے ہيں ”جہاداکبرايک ايساجہادہے جو انسان اپنے سرکش نفس کے ساتھ انجام ديتاہے۔ آپ جوانوں کو ابھي سے جہادکوشروع کرناچاہئے کہيں ايسانہ ہوکہ جواني کے قوي تم لوگ ضائع کربيٹھو۔

جيسے جيسے يہ قوي ضائع ہوتے جائيں کے ويسے ويسے برے اخلاقيات کي جڑيں انسان ميں مضبوط اورجہادمشکل تر ہوتاجاتا ہے ايک جوان اس جہادميں بہت جلد کامياب ہوسکتاہے جب کہ بوڑھے انسان کي اتني جلدي کاميابي نہيں ہوتي۔

ايسانہ ہونے ديناکہ اپني اصلاح کوجواني کي بجائے بڑھاپے ميں کرو)۔[10]

اميرالمومنين ارشادفرماتے ہيں : غالب الشہوة قبل قوت ضراوتھا فانھا ان قويت ملکتک واستفادتک ولم لقدرعلي مقاومتھا۔[11]

ترجمہ:اس سے قبل کہ نفساني خواہشات جرائت اورتندرستي کي خواپناليں ان سے مقابلہ کروکيونکہ اگر تمايلات اور خواہشات اگرخودسر اورمتجاوز ہوجائيں تو تم پر حکمراني کريں گي پھرجہاں چاہيں تمہيں لے جائيں گي يہاں تک کہ تم ميں مقابلے کي صلاحيت ختم ہوجائے گي۔

۴۔ بزرگ منشي۔

اپنے خط ميں اميرالمومنين جوانوں کو ايک اور وصيت ارشادفرماتے ہيں : اکرم نفسک عن کل دنيہ وان ساقتک الي الرغائب فانک لن تعتاض بماتبذل من نفسک عوضاولاتکن عبدغيرک وقدجعلک اللہ اجرا۔[12]

ترجمہ : ہرپستي سے اپنے آپ کو بالاتر رکھ (اپنے وقارکابھرپورخيال رکھ) اگرچہ يہ پستياں تجھے تيرے مقصدتک پہنچاديں پس اگرتونے اس راہ ميں اپني عزت وآبرو کھودي تو اس کاعوض تجھے نہ مل پائے گا اور غيرکا غلام نہ بن کيونکہ اللہ تعالي نے تجھے آزادخلق فرماياہے۔عزت نفس انسان کي بنيادي ضروريات ميں سے ہے۔

اس کابيج اللہ تعالي نے انسان کي فطرت ميں بوياہے البتہ اس کي حفاظت، مراقبت اوررشدوتکامل کي ضرورت ہے۔ فرعون کے بارے ميں قرآن کريم ميں ارشادہے :

فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانواقوما فاسقين(زخرف۵۴)۔

فرعون نے اپني قوم کي تحقيرکي پس انہوں نے اس کي اطاعت کي کيونکہ يہ لوگ فاسق تھے۔

عزت نفس اوروقارکے لئے مندرجہ ذيل امورضروري ہيں:

الف۔ گناہ کاترک کرنا۔

مختلف موارد ميں سے ايک گناہ اورپليدي ہے جو انسان کي عزت نفس کونقصان پہنچاتے ہيں۔ پس گناہ اور آلودگي سے اجتناب شرافت نفس اور وقارکاباعث ہوتاہے۔ امام فرماتے ہيں :

من کرمت عليہ نفسہ لم يھنھابالمعصية

۔[13]

جواپنے لئے کرامت و وقار کا کا قائل ہو خود کو گناہ کے ذريعے ذليل نہيں کرتا۔

ب۔ نيازي

دوسروں کے اموال پر نظر رکھنااوراضطراري مواردکے علاوہ کمک مانگناعزت نفس اور وقارکو تباہ کرديتاہے۔ امام (ع) فرماتے ہيں:

المسئلة طوق المذلة تسلب العزيزعزہ والحسب حسبہ

۔[14]

لوگوں سے مانگنا ذلت کا ايسا طوق ہے جو عزيزوں کي عزت اورشريف النسب انسانوں کے حسب ونسب کي شرافت کوسلب کرليتاہے۔

ج۔ صحيح رائے۔

عزت وشرافت نفس کابہت زيادہ تعلق انسان کي اپنے بارے ميں رائے سے ہے۔ جو کوئي خود کو ناتوان ظاہرکرے تولوگ بھي اسے ذليل و خوار سمجھتے ہيں اس لئے امام فرماتے ہيں :

الرجل حيث اختارلنفسہ ان صانھاارتفعت وان ابتذلھااتضعت۔[15]

ہرانسان کي عزت اس کي اپني روش سے وابستہ ہے جواس نے اختيارکي ہے اگراپنے آپ کوپستي وذلت سے بچاکے رکھے تو بلندياں طے کرتاہے اور اگرخود کوذليل کرے توپستيوں اورذلتوں کاشکارہوجاتاہے۔

د۔ ذلت آميز گفتاروکردارسے پرہيز:

اگرکوئي چاہتاہے کہ اس کا وقار اورعزت نفس محفوظ رہے تواسے چاہئے کہ ہر ايسي گفتگو اور عمل ميں کمزوري کاباعث بنے اس سے اجتناب کرے اسي لئے اسلام نے چاپلوسي، زمانے سے شکايت،اپني مشکلات کولوگوں کے سامنے بيان کرنے،بے جا بلند و بانگ دعوے کرنا يہاں تک کہ بے موقع تواضع وانکساري کے اظہار سے منع فرمايا ہے امام علي فرماتے ہيں:

کثرة الثناملق يحدث الزھوويدني من العزة۔

[16]

تعريف وتحسين ميں زيادہ روي چاپلوسي ہے اس سے ايک طرف تومخاطب ميں غرور و تکبر پٍيدا ہوتاہے جب کہ دوسري طرف عزت نفس سے دورہوجاتاہے۔

اسي طرح فرماتے ہيں:رضي بالذل من کشف ضرہ لغيرہ۔[17]

جوشخص اپني زندگي کي مشکلات کودوسروں کے سامنے آشکارکرتاہے دراصل اپني ذلت وخواري پرراضي ہوجاتاہے۔

۵۔ اخلاقي وجدان :

امام اپنے فرزند سے فرماتے ہيں :يابني اجعل نفسک ميزانا فيمابينک وبين غيرک۔[18]

اپنے بيٹے ! خودکواپنے اوردوسروں کے درميان فيصلے کامعيارقراردو۔ اگرمعاشرے ميں سب لوگ اخلاقي وجدان کے ساتھ ايک دوسرے سے روابط رکھيں، ايک دوسرے کے حقوق، مفادات اورحيثيت کااحترام کريں تومعاشرتي روابط ميں استحکام،سکون اور امن پيدا ہوگا ايک حديث ميں ہے کہ ايک شخص پيغمبراسلام کي خدمت ميں حاضرہوا ۔ اور عرض کيا : يارسول اللہ ميں اپنے تمام فرائض کوبخوبي انجام ديتاہوں ليکن ايک گناہ ہے جوترک نہيں کرپاتا اوروہ ناجائز تعلقات ہيں يہ بات سن کر اصحاب بہت غصے ميں آگئے ليکن آنحضرت نے فرماياآپ لوگ اس کوکچھ نہ کہيں ميں خوداس سے گفتگوکرتاہوں اس کے بعدارشادفرمايا: اے شخص کياتمہاري ماں بہن يا اصلاکياتمہاري آبرو،ناموس ہے؟

عرض کيا: جي ہاں يارسول اللہ !

آنحضرت نے فرماياکيا تو يہ چاہتاہے کہ لوگ بھي تيري ناموس کے ساتھ ايسے ہي روابط رکھيں ؟

عرض کياہرگزنہيں توحضرت نے فرمايا پس تو تم خودکيسے آمادہ ہوتيہو کہ اس طرح کا گناہ بجالاؤ؟

اس شخص نے سرجھکاليااورعرض کيا آج کے بعدميں وعدہ کرتاہوں کہ يہ گناہ انجام نہ دوں گا۔[19]

امام سجادفرماتے ہيں لوگوں کايہ حق ہے کہ ان کواذيت و آزار دينے سے اجتناب کرو۔ اوران کے لئے وہي پسندکروجواپنے لئے پسندکرتے ہواوروہي جواپنے لئے نا پسند کرتے ہوان کے لئے ناپسندکرو۔ قرآن حکيم ميں جونفس لوامہ کي قسم کھائي گئي ہے يہ وہي انسان وجدان ہے ارشادہے :

”لااقسم بيوم القيامة ولااقسم بالنفس اللوامة (القيامة،۱۔۲)۔

قسم ہے روزقيامت کي اورقسم ہے اس نفس کي جو انسان کوگناہ کرنے پر سخت ملامت اورسرزنش کرتاہے۔

۴۔ تجربات حاصل کرنا۔

امام اپنے مذکورہ وصيتنامے ميں امام حسن سے فرماتے ہيں:

اعرض عليہ اخبارالماضين وذکرہ بمااصاب من کان قبلک من الاولين و سرفي ديارہم وآثارہم فانظرفيمافعلواوعماانتقلواواين حلواونزلوا

اپنے دل پرگذشتہ لوگوں کي خبريں اوراحوال پيش کروجوکچھ گذشتگان پرتم سے پہلے گزرگياہے اس کويادکروان کے دياروآثاراورويرانوں ميں گردش کرواورديکھوکہ انہوں نے کيا کيا۔ وہ لوگ کہاں سے منتقل ہوئے کہاں گئے اورکہاں قيام کيا۔

ايک جوان کوچاہئے کہ وہ تاريخ کي معرفت حاصل کرے اورتجربات کوجمع کرے کيونکہ :

اول : جوان کيونکہ کم عمر،اس کاذہن خام اورتجربات سے خالي ہوتاہے اس نے زمانے کے سرودگرم نہيں ديکھے ہوتے اوراسي طرح زندگي کي مشکلات کاسامنانہيں کياہوتا۔ يہي وجہ ہے کہ بعض اوقات ايک جوان کاقلبي سکون تباہ ہوجاتاہے اوروہ افسردگي يااس کے برعکس طبيعت کي تندي اورتيزي کاشکار ہوجاتاہے۔

دوم : تخيلات اورتوہمات جواني کے زمانے کي خصوصيات ہيں جوبسااوقات جوان کوحيقيت کي شناخت سے محروم کرديتے ہيں جب کہ تجربہ انساني توہمات کے پردوں کوپارہ پارہ کرديتاہے،امام فرماتے ہيں : التجارب علم مستفاد۔[20]

انساني تجربات ايک مفيدعلم ہے ۔

سوم : باوجود اس کے کہ جوان کي علمي استعداداورقابليت اسي طرح مختلف فنون اورمہارتيں سيکھنے کي صلاحيت بہت زيادہ ہوتي ہے ليکن زندگي کے تجربات نہ ہونے کي بناپرغيرسنجيدہ فيصلے کرتاہے اوريہ چيزاس کودوسروں کے جال ميں پھانس ديتي ہے۔امام فرماتے ہيں:

من قلت تجربتہ خدع۔

[21]

جس کاتجربہ کم ہووہ فريب کھاتاہے۔ امام فرماتے ہيں ۔ تجربہ کارانسانوں کے ہمنشين رہوکيونکہ انہوں نے اپني متاع گرانبھايعني تجربات کواپني انتہائي گران قيمت چيزيعني زندگي کوفداکرکےحاصل کياہے جب کہ تواس گرانقدرمتاع کوانتہائي کم قيمت سے حاصل کرتاہے۔[22]

تجربات کي جمع آوري کايک بہت بڑاذريعہ سابقہ امتوں کي تاريخ کامطالعہ ہے۔ تاريخ،ماضي اورحال کے درميان رابطہ ہے جبکہ مستقل کے لئے چراغ راہ ہے ۔ امام علي فرماتے ہيں گذشتہ صديوں کي تاريخ تمہارے لئے عبرتوں کے بہت بڑے بڑے درس ہيں۔[23]

۷۔آداب معاشرت اوردوستي۔

اس ميں شک نہيں کہ دوستي کي بقااس ميں ہے کہ دوستي کي حدود اور معاشرتي آداب کاخيال رکھاجائے۔ دوست بناناآسان اوردوستي نبھانامشکل ہے۔

اميرالمومنين عليہ السلام امام حسن عليہ السلام سے فرماتے ہيں : کمزورترين انسان وہ ہے جودوست نہ بناسکے اوراس سے بھي عاجزتروہ ہے جودوست کو کھو دے۔[24]

بعض جوان دوستانہ تعلقات ميں ناپائيداري اورعدم ثبات کي شکايت کرتے ہيں اس کي سلسلے ميں اگرہم امام علي عليہ السلام کي نصيحتوں پرعمل کريں تويہ مشکل حل ہوسکتي ہے۔

امام کي گفتگوکے اہم نکات مندرجہ ذيل ہيں:

الف:دوستي ميں اعتدال ضروري ہے:

جواني کے زمانے ميں معمولاديکھاگياہے کہ جوان دوستي کے حدودسے تجاوز کرجاتے ہيں اوراس کي دليل زمانہ،جواني کے عواطف اوراحساسات ہيں بعض جوان دوستي اوررفاقت کے زمانے ميں حدسے زيادہ محبت کا اظہارکرتے ہيں جب کہ جدائي کے ايام ميں اس کے برعکس شديدمخالفت اوردشمني کامظاہرہ کرتے ہيں يہاں تک کہ بغض خطرناک کام انجام ديتے ہيں۔

حضرت فرماتے ہيں اپنے دوست سے اعتدال ميں رہتے ہوئے دوستي اورمحبت کا اظہار کرو ہوسکتاہے وہ کسي دن تمہارادشمن بن جائے اوراسي طرح اس پہ بے مہري اور غصہ کرتے ہوئے بھي نرمي وعطوفت کامظاہرہ کروچونکہ ممکن ہے وہ دوبارہ تمہارا دوست بن جائے۔[25]

موردبحث خط ميں امام ارشادفرماتے ہيں:اگرتم چاہتے ہوکہ اپنے بھائي سے تعلقات منقطع کرلوتوکوئي ايک راستہ اس کے لئے ضرورچھوڑدوکہ اگرکسي روزہ لوٹنا چاہے تولوٹ سکے۔

شيخ سعدي اس بارے ميں کہتے ہيں اپنے ہررازکواپنے دوست کے سامنے بيان نہ کرکيامعلوم کہ ايک دن وہ تمہارادشمن بن جائے اورتمہيں نقصان پہنچائے جودشمن بھي نہيں پہنچا سکتا۔ جب کہ يہ بھي ممکن ہے کہ کسي وقت دوبارہ تم سے دوستي اختيارکرجائے۔[26]

ب : بالمقابل محبت کااظہار:

دوستي اوررفاقت کي بنيادايک دوسرے سے محبت کے اظہارپرہے اگردوطرف ميں سے ايک طرف روابط کي برقراري کاخواہشمندہوجب کہ دوسري طرف سے بے رغبتي کااظہارہوتواس کانتيجہ سوائے ذلت کے کچھ نہيں۔

اسي لئے اميرالمومنين عليہ السلام اپنے مذکورہ خط ميں امام حسن سے فرماتے ہيں :

لاترغبن فيمن زھدعنک

جوکوئي تجھ سے تعلق نہيں رکھناچاہتااس سے محبت کااظہارنہ کر۔

ج : دوستانہ روابط کي حفاظت کرنا۔

امام علي دوستانہ روابط کي حفاظت کي تاکيدفرماتے ہيں اوران عوامل کا ذکر فرماتے ہيں جودوستي کے استحکام کاباعث بنتے ہيں اس سلسلے ميں فرماتے ہيں اگر تيرا دوست تجھ سے دوري اختيارکرے توتجھے چاہئے عطاوبخشش اختيارکر اورجب وہ دورہو توتم نزديک ہوجاؤجب وہ سخت گيري کرے توتم نرمي سے کام لو۔ جب غلطي، خطا يا گناہ کامرتکب ہوتواس کے عذرکوقبول کرو۔

بعض لوگ چونکہ بہت کم ظرف ہوتے ہيں اوراحسان کانتيجہ دوسرے کي حقارت اور اپني ذہانت خيال کرتے ہيں اسي لئے حضرت مزيدارشادفرماتے ہيں : ان سب موارد ميں موقعيت کوپہچانواوربہت احتياط کروکہ جوکچھ کہاگياہے اس کوفقط اپنے موقع ومحل پرانجام دواسي طرح اس شخص کے بارے ميں انجام نہ دوجو اہميت نہيں رکھتا۔

امام اسي طرح ايک اورنصيحت ارشادفرماتے ہيں:

اپني خيرخواہي کواپنے دوست کے ساتھ مخلصانہ بنيادپرانجام دواگرچہ يہ بات اسے پسندآئے ياناگوارگزرے۔

[1] نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۶۔
[2] دہ گفتارص۱۴۔
[3] نہج البلاغہ خطبہ۱۶۔
[4] نہج البلاغہ خط ۳۱۔
[5] بحارالانوارج۶۸ص۱۷۷۔
[6] نہج البلاغہ خطبہ۔۸۲۔
[7] بحارالانوراج۷۴ص۱۶۰۔
[8] غررالحکم ودررالحکم ج۴ص۱۸۳۔
[9] نہج البلاغہ خط ۳۱
[10] آئين انقلاب اسلامي ص۲۰۳۔
[11] غررالحکم ودررالحکم ج۴ص۳۹۲۔
[12] نہج البلاغہ خط ۳۱۔
[13] غررالحکم ودررالحکم ج۵ص۳۵۷۔
[14] غررالحکم ودررالحکم ج۲ص۱۴۵۔
[15] غررالحکم ودررالحکم ج۲ص۷۷۔
[16] غررالحکم ودررالحکم ج۴ص۵۹۵۔
[17] غررالحکم ودررالحکم ج۴ص۹۳۔
[18] نہج البلاغہ خط ۳۱۔
[19] اخلاق وتعليم وتربيت اسلامي مؤلف زين العابدين قرباني ص۲۷۴۔
[20] غررالحکم ودررالحکم ج۱ص۲۶۰۔
[21] دررالکلم ج۵ص۱۸۵۔
[22] شرح نہج البلاغہ ابن ابي الحديد،ج۲۰ص۳۳۵۔
[23] نہج البلاغہ خطبہ۱۸۱۔
[24] بحارالانوارج۷۴ص۲۷۸۔
[25] نہج البلاغہ کلمات قصار۲۶۰۔
[26] گلستان سعدي باب ۸۔

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد 1393
 

خطبے کے تیسرے حصے کا متن

امام نے فرمایا:

ثُمَّ اَنْتُمْ أیَّتُھا الْعِصٰابَةُ عِصٰابَةٌ بِالْعِلْمِ مَشْھُوْرَةٌ وَ بِالْخَیْرِ مَذْکُوْرَةٌ وَ بِالنَّصِیْحَةِ مَعْرُوْفَةٌ وَ بِاللَّہِ فی اَنْفُسِ النّٰاسِ مَھٰابَةٌ یَھٰابُکُمُ الشَّرِیفُ وَ یُکْرِمُکُمُ الضَّعِیفُ وَ یُؤْثِرُکُمْ مَنْ لاٰ فَضْلَ لَکُمْ عَلَیْہِ وَ لاٰ یَدَ لَکُمْ عِنْدَہُ تُشَفِّعُوْنَ فی الْحَوٰائجِ اِذٰا امْتُنِعَتْ مِنْ طُلاّٰبِھٰا وَ تَمْشُوْنَ فی الطَّرِیْقِ بِھَیْبَةِ الْمُلُوْکِ وَ کَرٰامَةِ اْلاَ کٰابِرِ ، اَلَیْسَ کُلَّ ذٰلِکَ اِنَّمٰا نِلْتُمُوہُ بِمٰا یُرْجٰی عِنْدَکُمْ مِنَ الْقِیٰامِ بِحَقِّ اللّٰہِ وَ اِنْ کُنْتُمْ عَنْ اَکْثَرِ حَقِّہِ تُقَصِّرُوْنَ فَاسْتَخْفَفْتُمْ بِحَقِّ اْلاَئِمَّةِ فَاَمّٰا حَقَّ الضُّعَفٰاءِ فَضَیَّعْتُمْ وَ اَمّٰا حَقَّکُمْ بِزَعْمِکُمْ فَطَلَبْتُمْ فَلاٰ مٰالاً بَذَلْتُمُوْہُ وَ لاٰ نَفْساً خٰاطَرْتُمْ بِھٰا لِلَّذی خَلَقَھٰا وَ لاٰ عَشِیْرَةً عٰادَیْتُمُوْھٰا فی ذٰاتِ اللّٰہِ

اَنْتُمْ تَتَمَنَّوْنَ عَلیَ اللّٰہَ جَنَّتَہُ وَ مُجٰاوَرَةَ رُسُلِہِ وَ اَمٰاناً مَنْ عَذٰابِہِ لَقَدْ خَشِیْتُ عَلَیْکُمْ اَیُّھا الْمُتَمَنُّوْنَ عَلیَ اللّٰہِ اَنْ تَحِلَّ بِکُمْ نِقْمَةٌ مِنْ نَقِمٰاتِہِ لاَنَّکُمْ بَلَغْتُمْ مِنْ کَرٰامَةِ اللّٰہِ مَنْزِلَةً فُضِّلْتُمْ بِھٰا وَ مَنْ یُعْرَفُ بِاللّٰہِ لاٰ تُکْرِمُوْنَ وَ اَنْتُمْ بِاللّٰہِ فی عِبٰادِہِ تُکْرَمُوْنَ وَ قَد تَرَوْنَ عُھودَ اللّٰہِ مَنْقُوْضَةً فَلاٰ تَفْزَعُوْنَ وَ اَنْتُمْ لِبَعْضِ ذِمَمِ آبٰائِکُمْ تَفْزَعُوْنَ وَ ذِمَةُ رَسُوْلِ اللّٰہِ مَخْفُوْرَةٌ مَحْقُوْرَةٌ وَ الْعُمْیُ وَ الْبُکْمُ وَ الزَّمْنیٰ فی الْمَدائِنِ مُھْمَلَةٌ لاٰ تُرْحَمُوْنَ وَ لاٰ فی مَنْزِلَتِکُمْ تَعْمَلُوْنَ وَ لاٰ مَنْ عَمِلَ فیھٰا تُعِیْنُوْنَ

وَ بالاِدِّھٰانِ وَ الْمُصٰانَعَةِ عِنْدَ الظَّلَمَةِ تٰامَنُوْنَ کُلُّ ذٰلِکَ مِمّٰا اَمَرَکُمُ اللّٰہُ بِہِ مِنَ النَّھْیِ وَ التَّنٰاھی وَ اَنْتُمْ عَنْہُ غٰافِلُوْنَ وَ اَنْتُمْ اَعْظَمُ النّٰاسِ مُصِیْبَةً لِمٰا غُلِبْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ مَنٰازِلِ الْعُلَمٰاءِ لَوْ کُنْتُمْ تَشْعُرُوْنَ ذٰلِکَ بِاَنَّ مَجٰارِیَ اْلاُمُوْرِ وَ اْلاَحْکٰامِ عَلیٰ اَیدي الْعُلَمٰاءِ بِاللّٰہِ اْلاُمَنٰاءِ عَلیٰ حَلاٰلِہِ وَ حَرٰامِہِ فَاَنْتُمُ الْمَسْلُوْبُوْنَ تِلْکَ الْمَنْزِلَةَ وَ مٰا سُلِبْتُمْ ذٰلِکَ اِلاّٰ بِتَفَرُّقِکُمْ عَنِ الْحَقِّ وَ اخْتِلاٰفِکُمْ فی السُّنَّةِ بَعْدَ الْبَیِّنَةِ الْوٰاضِحَةِ وَ لَوْ صَبَرْتُمْ عَلیٰ الاَذٰی وَ تَحَمَّلْتُمْ الْمَؤُوْنَةَ فی ذٰاتِ اللّٰہِ کٰانَتْ اُمُوْرُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ تَرِدُ وَ عَنْکُمْ تَصْدُرُ وَ اِلَیْکُمْ تَرْجِعُ وَ لَکِنَّکُمْ مَکَّنْتُمُ الظَّلَمَةَ مِنْ مَنْزِلَتِکُمْ وَ اسْتَسلَمتُم اُمُوْرَ اللّٰہِ فی اَیْدِیْھِمْ یَعْمَلُوْنَ بالشُّبَھٰاتِ وَ یَسِیْرُوْنَ فی الشَّھَوٰاتِ سَلَّطَھُمْ عَلیٰ ذٰلِکَ فِرٰارُکُمْ مِنَ الْمَوْتِ وَ اِعْجٰابُکُمْ بِالْحَیٰاتِ الَّتی ھِیَ مُفٰارِقَتُکُمْ فاَسْلَمْتُمْ الضُعَفٰاءَ فی اَیْدیھِمْ فَمِنْ بَیْنِ مُسْتَعْبَدٍ مَقْھُوْرٍ وَ بَیْنِ مُسْتَضْعَفٍ عَلیٰ مَعِیْشَتِہِ مَغْلُوْبٍ یَتَقَلَّبُوْنَ فی الْمُلْک بِآرٰائِھِمْ وَ یَسْتَشْعِرُوْنَ الْخِزْیَ بِاَھْوٰائِھِمْ اِقْتِدٰاءً بِاْلاَشْرٰارِ وَ جُرْأَةً عَلیٰ الْجَبّٰارِ فی کُلِّ بَلَدٍ مِنْھُمْ عَلیٰ مِنْبَرِہِ خَطِیْبٌ مِصْقَعٌ فَاْلاَرْضُ لَھُمْ شٰاغِرَةٌ وَ اَیدیھِمْ فیھٰا مَبْسُوْطَةٌ وَ النّٰاسُ لَھُمْ خَوَلٌ لاٰیَدْفَعُوْنَ یَدَ لاٰمِسٍ فَمِنْ بَیْنِ جَبّٰارٍ عَنِیْدٍ وَ ذی سَطْوَةٍ عَلیٰ الضَّعْفَةِ شَدِیدٍ مُطٰاعٍ لاٰ یَعْرِفُ الْمُبْدِءُ المُعیدَ فَیٰا عَجَباً وَمٰالی لاأعْجَبُ وَاْلأرضُ مِنْ غٰاشٍّ غَشُومٍ وَِمُتَصِدّقٍ ظلومٍ وعامِلٍ عَلی المُؤمِنینَ بِھِمْ غَیْرُ رَحیمٍ، فَاللهُ الْحٰاکِمُ فیما فیہِ تَنٰازَعْنٰا وَالقٰاضی بِحُکْمِہِ فیما شجَرَ بَیْنَنا۔

اَللَّھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنَّہُ لَمْ یَکُنْ مٰا کٰانَ مِنّٰا تَنٰافُساً فی سُلْطٰانٍ وَ لاٰالْتِمٰاساً مِنْ فُضُولِ الْحُطٰامِ و لَکِنْ لِنُرِیَ الْمَعٰالِِمَ مِنْ دِیْنِکَ وَنُظْھِرَ اْلاصْلاٰحَ فی بِِلاٰدِکَ وَ یَأْمَنَ الْمَظْلُوْمُوْنَ مِنْ عِبٰادِکَ وَ یُعْمَلَ بِفَرٰائِضِکَ وَ سُنَنِکَ وَ اَحْکٰامِکَ فَاِنَّکُمْ اِنْ لاتَنْصُرُوْنٰا وَ تَنْصِفُوْنٰا قَوِيَ الْظَّلَمَةُ عَلَیْکُمْ وَ عَمِلُوْا فی اِطْفٰاءِ نُوْرِ نَبِیِّکُم وَ حَسْبُنٰا اللَّہُ وَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْنٰا وَ اِلَیْہِ اَنَبْنٰا وَ اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ

اہم الفاظ کی تشریح

جیسا کہ ہم پہلے بھی ذکر کر چکے ہیں کہ اس خطبے کے اس حصے کے بعض جملات کچھ فرق کے ساتھ امیر المومنین کے خطبوں میں بھی ملتے ہیں۔(۱)

۱ ۔ دیکھئے نہج البلاغہ خطبہ نمبر۱۰۴ اور ۱۲۹۔

فاستخففتم بحق الائمہ : کتاب ((تحف العقول ))اور(( وافی)) کے موجودہ نسخوں میں بحق الائمہ درج ہے۔ اس صورت میں امیر المومنین، امام حسن اور امام حسین کے حقوق کا غصب ہونا مرادہے۔ لیکن ممکن ہے کہ دراصل بحق الامہ ہو اور کتابت میں اضافہ ہو گیا ہو اور بعد میں آنے والا جملہ فاما حق الضعفاء بھی اس امکان کی تائید کرتا ہے۔ ( امام خمینی نے اس جملے کا ترجمہ بحق الامہ کے تحت کیا ہے)

ومن یعرف بالله لا تکرمون وانتم بالله فی عبادہ تکرمون :جملے کی ابتداء میں آنے والا یعرف اور آخر میں آنے والا تکرمون دونوں مجہول کے صیغے ہیں جبکہ درمیان میں آنے والا لاتکرمون معلوم کا صیغہ ہے۔ یعنی بندگان خدا ، الله والا ہونے کی بنا پر تمہارا احترام کرتے ہیں لیکن تم ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے جو الله کی معرفت کے لئے مشہور ہیں۔

العمی و البکم والزمنی : تینوں الفاظ بالترتیب أعمی، ابکم اور زمن کی جمع ہیں۔

لاترحمون اور غلبتم بہ : مجہول کے صیغے ہیں۔

مجاری الا مور والا حکام علی ایدی العلماء بالله الا مناء علی حلا لہ و حرامہ : مجاری، مجری کی جمع مصدر میمی یا پھر اسم مکان ہے۔ یعنی مسلمانوں اور مملکت اسلامی کے مختلف امور و معاملات میں مرکزی مقام علما کو حاصل ہونا چاہئے اور مسلمانوں کے مابین پھوٹ پڑنے والے تنازعات کا حل و فصل ان ربانی علما کے احکام کے مطابق ہونا چاہئے ،جو حلال و حرام الہی کے امین اور آسمانی قوانین کو تحریف و تبدیلی سے محفوظ رکھنے والے ہوں۔

یہ جملہ ولایت فقیہ کوثابت کرنے والے ان بے شمار دلائل میں سے ایک دلیل ہے جنہیں بزرگ شیعہ علما اور فقہا نے ذکر کیا ہے۔

والارض لھم شاغرہ : عرب کہتے ہیں شغرت الارض یعنی اس سرزمین کا کوئی محافظ و نگہبان نہیں ہے۔

خطیب مصقع :( میم پر زیر اور باقی حروف پر زبر)۔ بلند آواز والے خطیب کو کہتے ہیں۔ عصر حاضر میں دشمنوں کے ہاتھوں میں موجود ذرائع ابلاغ جیسے ریڈیو، ٹیلی ویژن وغیرہ اسکے نمایاں مصداق ہیں۔

اس حصے کے جملوں کا علیحدہ علیحدہ ترجمہ

ثُمَّ اَنْتُمْ أیَّتُھا الْعِصٰابَةُ عِصٰابَةٌ بِالْعِلْمِ مَشْھُوْرَةٌ وَ بِالْخَیْرِ مَذْکُوْرَةٌ وَ بِالنَّصِیْحَةِ مَعْرُوْفَةٌ وَ بِاللَّہِ فی اَنْفُسِ النّٰاسِ مَھٰابَةٌ یَھٰابُکُمُ الشَّرِیفُ وَ یُکْرِمُکُمُ الضَّعِیفُ وَ یُؤْثِرُکُمْ مَنْ لاٰ فَضْلَ لَکُمْ عَلَیْہِ وَ لاٰ یَدَ لَکُمْ عِنْدَہُ تُشَفِّعُوْنَ فی الْحَوٰائجِ اِذٰا امْتُنِعَتْ مِنْ طُلاّٰبِھٰا وَ تَمْشُوْنَ فی الطَّرِیْقِ بِھَیْبَةِ الْمُلُوْکِ وَ کَرٰامَةِ اْلاَ کٰابِرِ ،

اے وہ گروہ جو علم وفضل کے لئے مشہور ہے، جس کاذکر نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا جاتا ہے ، وعظ و نصیحت کے سلسلے میں آپ کی شہرت ہے اور الله والے ہونے کی بنا پر لوگوں کے دلوں پر آپ کی ہیبت و جلال ہے ،یہاں تک کہ طاقتور آپ سے خائف ہے اور ضعیف و ناتواں آپ کا احترام کرتا ہے، حتیٰ وہ شخص بھی خود پر آپ کو ترجیح دیتا ہے جس کے مقابلے میں آپ کو کوئی فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں ۔جب حاجت مندوں کے سوال رد ہو جاتے ہیں تو اس وقت آپ ہی کی سفارش کارآمد ہوتی ہے ( آپ کو وہ عزت و احترام حاصل ہے کہ) گلی کوچوں میں آپ کا گزر بادشاہوں کے سے جاہ و جلال اور اعیان و اشراف کی سی عظمت کے ساتھ ہوتا ہے۔

اَلَیْسَ کُلَّ ذٰلِکَ اِنَّمٰا نِلْتُمُوہُ بِمٰا یُرْجٰی عِنْدَکُمْ مِنَ الْقِیٰامِ بِحَقِّ اللّٰہِ وَ اِنْ کُنْتُمْ عَنْ اَکْثَرِ حَقِّہِ تُقَصِّرُوْنَ فَاسْتَخْفَفْتُمْ بِحَقِّ اْلاَئِمَّةِ فَاَمّٰا حَقَّ الضُّعَفٰاءِ فَضَیَّعْتُمْ وَ اَمّٰا حَقَّکُمْ بِزَعْمِکُمْ فَطَلَبْتُمْ فَلاٰ مٰالاً بَذَلْتُمُوْہُ وَ لاٰ نَفْساً خٰاطَرْتُمْ بِھٰا لِلَّذی خَلَقَھٰا وَ لاٰ عَشِیْرَةً عٰادَیْتُمُوْھٰا فی ذٰاتِ اللّٰہِ

یہ سب عزت و احترام صرف اس لئے ہے کہ آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ الہٰی احکام کا اجراء کریں گے ،اگرچہ اس سلسلے میں آپ کی کوتاہیاں بہت زیادہ ہیں۔ آپ نے امت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا ہے، (معاشرے کے) کمزور اوربے بس افراد کے حق کو ضائع کردیا ہے اور جس چیز کو اپنے خیال خام میں اپنا حق سمجھتے تھے اسے حاصل کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ نہ اس کے لئے کوئی مالی قربانی دی اور نہ اپنے خالق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی اور نہ الله کی خاطر کسی قوم وقبیلے کا مقابلہ کیا۔

اَنْتُمْ تَتَمَنَّوْنَ عَلیَ اللّٰہَ جَنَّتَہُ وَ مُجٰاوَرَةَ رُسُلِہِ وَ اَمٰاناً مَنْ عَذٰابِہِ لَقَدْ خَشِیْتُ عَلَیْکُمْ اَیُّھا الْمُتَمَنُّوْنَ عَلیَ اللّٰہِ اَنْ تَحِلَّ بِکُمْ نِقْمَةٌ مِنْ نَقِمٰاتِہِ لاَنَّکُمْ بَلَغْتُمْ مِنْ کَرٰامَةِ اللّٰہِ مَنْزِلَةً فُضِّلْتُمْ بِھٰا وَ مَنْ یُعْرَفُ بِاللّٰہِ لاٰ تُکْرِمُوْنَ وَ اَنْتُمْ بِاللّٰہِ فی عِبٰادِہِ تُکْرَمُوْن

(اسکے باوجود ) آپ جنت میں رسول الله کی ہم نشینی اور الله کے عذاب سے امان کے متمنی ہیں، حالانکہ مجھے تو یہ خوف ہے کہ کہیں الله کا عذاب آپ پر نازل نہ ہو،کیونکہ الله کی عزت و عظمت کے سائے میں آپ اس بلند مقام پر پہنچے ہیں، جبکہ آپ خود ان لوگوں کا احترام نہیں کرتے جو معرفت خدا کے لئے مشہور ہیں جبکہ آپ کو الله کے بندوں میں الله کی وجہ سے عزت و احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

وَ قَد تَرَوْنَ عُھودَ اللّٰہِ مَنْقُوْضَةً فَلاٰ تَفْزَعُوْنَ وَ اَنْتُمْ لِبَعْضِ ذِمَمِ آبٰائِکُمْ تَفْزَعُوْنَ وَ ذِمَةُ رَسُوْلِ اللّٰہِ مَخْفُوْرَةٌ مَحْقُوْرَةٌ وَ الْعُمْیُ وَ الْبُکْمُ وَ الزَّمْنیٰ فی الْمَدائِنِ مُھْمَلَةٌ لاٰ تُرْحَمُوْنَ وَ لاٰ فی مَنْزِلَتِکُمْ تَعْمَلُوْنَ وَ لاٰ مَنْ عَمِلَ فیھٰا تُعِیْنُوْنَ وَ بالاِدِّھٰانِ وَ الْمُصٰانَعَةِ عِنْدَ الظَّلَمَةِ تٰامَنُوْنَ کُلُّ ذٰلِکَ مِمّٰا اَمَرَکُمُ اللّٰہُ بِہِ مِنَ النَّھْیِ وَ التَّنٰاھی وَ اَنْتُمْ عَنْہُ غٰافِلُوْن

آپ دیکھتے رہتے ہیں کہ الله سے کئے ہوئے عہدو پیمان کو توڑاجا رہا ہے، اسکے باوجود آپ خوفزدہ نہیں ہوتے، اس کے برخلاف اپنے آباؤ اجداد کے بعض عہد و پیمان ٹوٹتے دیکھ کر آپ لرز اٹھتے ہیں ، جبکہ رسول الله کے عہد و پیمان(۱) نظر انداز ہو رہے ہیں اور کوئی پروا نہیں کی جا رہی ۔ اندھے ، گونگے اور اپاہج شہروں میں لاوارث پڑے ہیں اور کوئی ان پررحم نہیں کرتا۔ آپ لوگ نہ تو خود اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو کچھ کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں نے خوشامد اور چاپلوسی کے ذریعے اپنے آپ کو ظالموں کے ظلم سے بچایا ہوا ہے جبکہ خدا نے اس سے منع کیا ہے اور ایک دوسرے کو (بھی)منع کرنے کے لئے کہا ہے ۔اور آپ ان تمام احکام کو نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔

وَ اَنْتُمْ اَعْظَمُ النّٰاسِ مُصِیْبَةً لِمٰا غُلِبْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ مَنٰازِلِ الْعُلَمٰاءِ لَوْ کُنْتُمْ تَشْعُرُوْنَ ذٰلِکَ بِاَنَّ مَجٰارِیَ اْلاُمُوْرِ وَ اْلاَحْکٰامِ عَلیٰ اَیدي الْعُلَمٰاءِ بِاللّٰہِ اْلاُمَنٰاءِ عَلیٰ حَلاٰلِہِ وَ حَرٰامِہِ فَاَنْتُمُ الْمَسْلُوْبُوْنَ تِلْکَ الْمَنْزِلَةَ وَ مٰا سُلِبْتُمْ ذٰلِکَ اِلاّٰ بِتَفَرُّقِکُمْ عَنِ الْحَقِّ وَ اخْتِلاٰفِکُمْ فی السُّنَّةِ بَعْدَ الْبَیِّنَةِ الْوٰاضِحَةِ

آپ پر آنے والی مصیبت دوسرے لوگوں پر آنے والی مصیبت سے کہیں بڑی مصیبت

۱۔ اس سے مراد وہ عہد و پیمان ہیں جو بیعت کے وقت رسول گرامی, نے لئے تھے۔ اسی طرح ولایت اور جانشینی کے لئے غدیر خم کے موقع پر رسول الله سے جو عہد و پیمان کئے گئے تھے، وہ بھی مراد ہیں۔

ہے ، اس لئے کہ (اگر آپ سمجھیں تو) علما کے اعلیٰ مقام و منزلت سے آپ کومحروم کر دیا گیا ہے ،کیونکہ مملکت کے نظم و نسق کی ذمہ داری علمائے الہٰی کے سپرد ہونی چاہئے، جو الله کے حلال و حرام کے امانت دار ہیں۔ اور اس مقام و منزلت کے چھین لئے جانے کا سبب یہ ہے کہ آپ حق سے دور ہو گئے ہیں اور واضح دلائل کے باوجود سنت کے بارے میں اختلاف کا شکار ہیں۔

وَ لَوْ صَبَرْتُمْ عَلیٰ الاَذٰی وَ تَحَمَّلْتُمْ الْمَؤُوْنَةَ فی ذٰاتِ اللّٰہِ کٰانَتْ اُمُوْرُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ تَرِدُ وَ عَنْکُمْ تَصْدُرُ وَ اِلَیْکُمْ تَرْجِعُ وَ لَکِنَّکُمْ مَکَّنْتُمُ الظَّلَمَةَ مِنْ مَنْزِلَتِکُمْ وَ اسْتَسلَمتُم اُمُوْرَ اللّٰہِ فی اَیْدِیْھِمْ یَعْمَلُوْنَ بالشُّبَھٰاتِ وَ یَسِیْرُوْنَ فی الشَّھَوٰاتِ

اگر آپ اذیت و آزار جھیلنے اور الله کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتے تو احکام الہٰی (اجراء کے لئے) آپ کی خدمت میں پیش کئے جاتے، آپ ہی سے صادر ہوتے اور (معاملات میں) آپ ہی سے رجوع کیا جاتا لیکن آپ نے ظالموں اور جابروں کو یہ موقع دیا کہ وہ آپ سے یہ مقام و منزلت چھین لیں اور الله کے حکم سے چلنے والے امور ( وہ امور جن میں حکم الہٰی کی پابندی ضروری تھی) اپنے کنٹرول میں لے لیں تاکہ اپنے اندازوں اور وہم و خیال کے مطابق فیصلے کریں اور اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کریں۔

سَلَّطَھُمْ عَلیٰ ذٰلِکَ فِرٰارُکُمْ مِنَ الْمَوْتِ وَ اِعْجٰابُکُمْ بِالْحَیٰاتِ الَّتی ھِیَ مُفٰارِقَتُکُمْ فاَسْلَمْتُمْ الضُعَفٰاءَ فی اَیْدیھِمْ فَمِنْ بَیْنِ مُسْتَعْبَدٍ مَقْھُوْرٍ وَ بَیْنِ مُسْتَضْعَفٍ عَلیٰ مَعِیْشَتِہِ مَغْلُوْبٍ یَتَقَلَّبُوْنَ فی الْمُلْک بِآرٰائِھِمْ وَ یَسْتَشْعِرُوْنَ الْخِزْیَ بِاَھْوٰائِھِمْ اِقْتِدٰاءً بِاْلاَشْرٰارِ وَ جُرْأَةً عَلیٰ الْجَبّٰارِ

وہ حکومت پر قبضہ کرنے میں ا س لئے کامیاب ہو گئے کیونکہ آپ موت سے ڈرکر بھاگنے والے تھے اور اس فانی اور عارضی دنیا کی محبت میں گرفتار تھے۔ پھر ( آپ کی یہ کمزوریاں سبب بنیں کہ) ضعیف اور کمزور لوگ ان کے چنگل میں پھنس گئے اور (نتیجہ یہ ہے کہ) کچھ تو غلاموں کی طرح کچل دیئے گئے اور کچھ مصیبت کے ماروں کی مانند اپنی معیشت کے ہاتھوں بے بس ہو گئے۔ حکام اپنی حکومتوں میں خودسری، آمریت اور استبداد کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی میں ذلت وخواری کا سبب بنتے ہیں، بدقماش افراد کی پیروی کرتے ہیں اور پروردگار کے مقابلے میں گستاخی دکھاتے ہیں۔

فی کُلِّ بَلَدٍ مِنْھُمْ عَلیٰ مِنْبَرِہِ خَطِیْبٌ مِصْقَعٌ فَاْلاَرْضُ لَھُمْ شٰاغِرَةٌ وَ اَیدیھِمْ فیھٰا مَبْسُوْطَةٌ وَ النّٰاسُ لَھُمْ خَوَلٌ لاٰیَدْفَعُوْنَ یَدَ لاٰمِسٍ فَمِنْ بَیْنِ جَبّٰارٍ عَنِیْدٍ وَ ذی سَطْوَةٍ عَلیٰ الضَّعْفَةِ شَدِیدٍ مُطٰاعٍ لاٰ یَعْرِفُ الْمُبْدِءُ المُعید

ہر شہر میں ان کا یک ماہر خطیب منبر پر بیٹھا ہے ۔ زمین میں ان کے لئے کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور ان کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں (یعنی جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں) عوام ان کے غلام بن گئے ہیں اور اپنے دفاع سے عاجز ہیں۔ حکام میں سے کوئی حاکم تو ظالم، جابر اور دشمنی اور عناد رکھنے والا ہے اور کوئی کمزوروں کو سختی سے کچل دینے والا ،ان ہی کا حکم چلتا ہے جبکہ یہ نہ خدا کو مانتے ہیں اور نہ روز جزا کو ۔

فَیٰا عَجَباً وَمٰالی لاأعْجَبُ وَاْلأرضُ مِنْ غٰاشٍّ غَشُومٍ وَِمُتَصِدّقٍ ظلومٍ وعامِلٍ عَلی المُؤمِنینَ بِھِمْ غَیْرُ رَحیمٍ، فَاللهُ الْحٰاکِمُ فیما فیہِ تَنٰازَعْنٰا وَالقٰاضی بِحُکْمِہِ فیما شجَرَ بَیْنَنا۔

تعجب ہے اور کیوں تعجب نہ ہو! ملک ایک دھوکے باز ستم کار کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے مالیاتی عہدیدار ظالم ہیں اور صوبوں میں اسکے (مقرر کردہ) گورنر مومنوں کے لئے سنگ دل اور بے رحم۔ (آخر کار) الله ہی ان امور کے بارے میں فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں ہمارے اور ان کے درمیان نزاع ہے اور وہی ہمارے اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلاف پر اپنا حکم صادر کرے گا۔

اَللَّھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ اَنَّہُ لَمْ یَکُنْ مٰا کٰانَ مِنّٰا تَنٰافُساً فی سُلْطٰانٍ وَ لاٰالْتِمٰاساً مِنْ فُضُولِ الْحُطٰامِ و لَکِنْ لِنُرِیَ الْمَعٰالِِمَ مِنْ دِیْنِکَ وَنُظْھِرَ اْلاصْلاٰحَ فی بِِلاٰدِکَ وَ یَأْمَنَ الْمَظْلُوْمُوْنَ مِنْ عِبٰادِکَ وَ یُعْمَلَ بِفَرٰائِضِکَ وَ سُنَنِکَ وَ اَحْکٰامِکَ فَاِنَّکُمْ اِنْ لاتَنْصُرُوْنٰا وَ تَنْصِفُوْنٰا قَوِيَ الْظَّلَمَةُ عَلَیْکُمْ وَ عَمِلُوْا فی اِطْفٰاءِ نُوْرِ نَبِیِّکُم وَ حَسْبُنٰا اللَّہُ وَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْنٰا وَ اِلَیْہِ اَنَبْنٰا وَ اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ

(امام نے اپنے خطاب کا اختتام ان الفاظ پر فرمایا)

بارالہا! تو جانتا ہے کہ جوکچھ ہماری جانب سے ہوا (بنی امیہ اور معاویہ کی حکومت کی مخالفت میں) وہ نہ تو حصول اقتدار کے سلسلے میں رسہ کشی ہے اورنہ ہی یہ مال دنیا کی افزوں طلبی کے لئے ہے بلکہ صرف اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکار کر دیں اور تیری مملکت میں اصلاح کریں ، تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو اور جو فرائض ، قوانین اور احکام تو نے معین کئے ہیں ان پر عمل ہو۔ اب اگر آپ حضرات (حاضرین سے خطاب) نے ہماری مدد نہ کی اور ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا تو ظالم آپ پر (اور زیادہ) چھا جائیں گے اور(( نور نبوت)) کو بجھانے میں اور زیادہ فعال ہو جائیں گے۔ ہمارے لئے تو بس خدا ہی کافی ہے، اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف ہماری توجہ ہے اور اسی کی جانب پلٹنا ہے۔

یہ وہ خطبہ تھا جو امام حسین علیہ السلام نے منیٰ میں ارشاد فرمایا اور تمام حاضرین کو تاکید ی حکم دیا کہ یہ پیغام دوسروں تک پہنچانے کی حتیٰ الامکان کوشش کریں تاکہ رفتہ رفتہ تمام مسلمان، پیکر اسلام کو پہنچنے والے ان نقصانات سے آگاہ ہو جائیں جن کے نتیجے میں اسلام کی اساس کو خطرہ لاحق ہے۔

اس خطبے میں موجود اہم نکات اور نتائج

امام حسین علیہ السلام نے اس خطبے میں امیر المومنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد مختلف معاشرتی اور مذہبی پہلوؤں نیز اسلامی معاشرے پر معاویہ ابن ابی سفیان کے اقتدار کے اسباب اور ان وجوہات کا ذکر کیا ہے جن کے سبب مسلمانوں کے معاملات معاویہ کے ہاتھوں میں آ گئے۔ اس کے بعدآپ نے اسلام کے مستقبل کے لئے نقصان دہ خطرات کی جانب اشارہ کیا ، اور مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اگر اب بھی وہ خاموش اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور عمائدین قوم، اور ملت کے باشعور افراد نے ہوش کے ناخن نہ لئے اور اپنی ذمے داریوں کو ادا نہ کیا تو نہ صرف یہ کہ نور نبوت ماند پڑ جائے گا بلکہ خطرہ یہ ہے کہ کہیں یہ مشعل فروزاں، اسلام دشمنوں کے ہاتھوں ہمیشہ کے لئے بجھ ہی نہ جائے۔

فرزند رسول نے اس خطبے کے ذریعے حاضرین کے سامنے قرآن اور عترت کی مظلومیت کوبیان کیا اور یہ ذمے داری ان کے سپرد کی کہ جہاں تک ممکن ہے وہ اس پیغام کو مملکت اسلامی کے تمام باشعور اور دیندار افراد تک پہنچائیں اور انہیں اس خطرے سے آگاہ کریں۔

اگرچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خطبے کی مفصل تشریح کی جائے کیونکہ اس کا ایک ایک جملہ علمی اور تاریخی لحاظ سے تشریح طلب ہے(۱) لیکن فی الحال یہاں نتیجہ گیری کی

صورت میں ہم اپنے خیال اور سطح فکر کی حد تک صرف چند نکات قارئین کی خدمت میں پیش کریں گے۔

زمانی اور مکانی حالات

اس خطبے کے مضامین کی تشریح سے پہلے خطبہ ارشاد فرمانے کے زمان و مکان اور خطبے کے طرز بیان پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اس خطبے کے لئے خاص مقام (منیٰ) اور خاص وقت (ایامِ حج) کا انتخاب کیا گیا۔ مملکت اسلامی کی اہم ترین شخصیات بشمول خواتین کو دعوت دی گئی ، بنی ہاشم کے عمائدین اور مہاجر و انصار صحابہء کرام بھی مدعو تھے۔ خاص کر اس اجتماع میں ۲۰۰ ایسے افرادشریک تھے جنہیں رسول گرامی کی صحابیت اور ان سے براہ راست مستفیض ہونے کی سعادت حاصل تھی ۔ان ۲۰۰ کے علاوہ ۸۰۰ سے زائد افراد اصحاب رسولکی اولاد (تابعین) تھے۔

جلسہ گاہ : یہ جلسہ منیٰ میں تشکیل پایا ،جو بیت الله سے نزدیک ، توحید اور وحدانیت کے علمبردار حضرت ابراہیم سے منسوب اور قربانی و ایثار کی مثال حضرت اسماعیل کی قربانگاہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہر قسم کے امتیازات سے دستبردار ہو کر خدا کے سوا ہر چیز کو بھلاد یا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان شیطان اور طاغوتوں پر کنکر برسا کے ندائے حق پر لبیک کہتا ہے اور راہ خدا میں قربانی اور ایمان اور اسلام کے راستے میں تن، من، دھن کی بازی لگانے

۱۔ جیسا کہ علما اور فقہا نے اس خطبے کے صرف ایک جملے ذلک بان مجاری الامور والا حکام علی ایدی العلماء پر فقہ کی استدلالی کتب میں تفصیلی بحث کی ہے۔

کے لئے حضرت اسماعیل کے یاابت افعل ماتومر (۱) سے درس لیتا ہے اور ستجدنی انشاء الله من الصابرین(۲) کو نمونہء عمل قرار دے کر الله کی راہ میں سختیوں، مشکلات اور حتیٰ ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کے عزم کا اعلان کرتا ہے۔

زمانہ : یہ جلسہ ایام تشریق میں منعقد ہوا۔ یہ وہ وقت ہے جب یہاں پہنچنے والے الله تعالیٰ کی عبادت و ریاضت، خداسے ارتباط اور عمرے کے اعمال انجام دے کر، منزل عرفات سے گزر کر، مشعر کے بیابان میں رات بسر کر کے، اور قربانی انجام دینے کے بعد فرزند رسول کا حیات آفرین پیغام قبول کرنے کے لئے معنویت اور روحانیت کی ایک منزل پر پہنچ چکے ہیں۔

خطبے سے مربوط اہم نکات

۱ - ولایت سے انحراف

اس خطبے میں امام حسین نے جس بات کی طرف سب سے پہلے اشارہ کیا وہ (لوگوں کا) حق سے منحرف ہوجانا ، ولایت اورحکومت کو اس کے صحیح راستے سے ہٹا دینا اور اس بنیادی ترین مسئلے کے بارے میں رسول گرامی کی وصیت کو بھلا دینا تھا۔

رسول گرامی صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے اعلان نبوت کے ابتدائی ایام سے لے کر اپنی نبوت کی پوری ۲۳ سالہ مدت میں متعدد مرتبہ امامت اور ولایت کے موضوع پر گفتگو کی اور اس سلسلے میں مختلف موقعوں پر، مختلف طریقوں سے لوگوں کے سامنے حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب کا تعارف کرایا۔ انہی مواقع میں سے ایک نمایاں اور محسوس موقع سد ابواب ( گھروں کے دروازے بند کروانے) والا واقعہ ہے۔ مدینہ تشریف لانے کے

۱۔ اے والد گرامی وہ کیجئے جس کا حکم دیا گیا ہے۔ (سورہ صافات ۳۷ ۔آیت۱۰۲)

۲۔ الله نے چاہا تو آپ مجھے صبرکرنے والوں میں سے پائیں گے۔ (سورہ صافات ۳۷ ۔ آیت ۱۰۲)

بعد رسول کریم نے مسجد تعمیر کروائی اور پھر اسکے اطراف مکانات اور حجرے بنوانے کے دوران سدالابواب الاباب علی (۱) کا دو ٹوک حکم صادر فرمایا اور اسکے بعد وضاحت فرمائی : ما انا سددت ابوابکم ولکن الله امرنی بسدابوابکم و فتح بابہ (میں نے اپنی طرف سے دروازے بند نہیں کروائے ہیں بلکہ مجھے الله نے حکم دیا ہے کہ تمہارے دروازے بندکرا دوں اوران (علی) کا دروازہ کھلا رکھوں۔

یہ تعارف اسکے بعد بھی انت ولی کل مومن بعدی (۲) اور ایسے ہی دوسرے ارشادات کے ذریعے جاری رہا۔ یہاں تک کہ رسول کریم نے اپنی زندگی کے آخری مہینوں اور آخری ایام میں اس حساس اور اہم موضوع کو عوام الناس کے درمیان انتہائی کھلے لفظوں میں ، غدیر خم کے موقع پر اور مسجد ومنبر سے بیان کیا تاکہ پھراسکے بعد کسی کے لئے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے اور کسی کو تاویل وتفسیر کا کوئی راستہ نہ ملے۔ منیٰ کے جلسے میں موجود متعدد افراد خود ان مواقع کے شاہد و ناظر تھے یا انہوں نے قابل اعتماد اصحاب اور عینی شاہدوں سے سنا تھا ۔لہذا امام حسین علیہ السلام کے ہر بیان کے بعد ان کاجواب یہی تھا کہ اللھم نعم۔

بہر صورت وجہ کوئی بھی ہو (رسول اکرم کی تمام تر کوششوں کے باوجود) یہ انحراف وجود میں آیااور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا گیا۔ کیونکہ خلافت کا پہلا مرحلہ (رسول اکرم کی) وصیت کی نفی کر کے اصحاب کے اجماع اور فیصلے کو دلیل بنا کر طے کر لیا گیا جبکہ صرف دو سال بعد دوسرا مرحلہ اجماع کو پس پشت ڈال کے، صاحب نظر افراد کے کسی قسم کے اظہار نظر کے بغیر ،ارباب حل و عقد اور ماہرین کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے

۱۔ علی کے سوا سب کے دروازے بند کر دو۔

۲۔ (اے علی) آپ میرے بعد تمام مومنوں کے سرپرست ہوں گے۔

وصیت کی بنیاد پر طے کیا گیا، اور اسکے دس سال بعد خلیفہ ء سوم کے انتخاب کے لئے گزشتہ دو خلفاء کے انتخاب کے طریقے کے برخلاف شوریٰ کے نام سے ایک تیسرا راستہ اپنایا گیا ۔

خلیفہ کے انتخاب کے سلسلے میں اختیار کئے جانے والے یہ تین مختلف اورمتضاد راستے اور راہ حق کے مقابلے میں ایجاد ہونے والا یہ انحراف شاید بعض افراد کے نزدیک صرف ماضی کی ایک داستان اور انجام پا چکنے والا عمل ہولیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے جوتلخ نتائج اورنقصانات سامنے آئے ،وہ اتنے گہرے اور وسیع ہیں کہ نہ

ہی اجتماعی امور کا کوئی ماہر ان کا مکمل تجزیہ و تحلیل کر سکتا ہے اور نہ ہی حتیٰ کوئی محقق اور مورخ انہیں کماحقہ بیان کر سکتا ہے۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد 1393
 

اس زمانے کی بعض معاشرتی اور مذہبی مشکلات کو امیر المومنین کے درج ذیل کلام میں محسوس کیا جا سکتا ہے اور یوں احساس ہوتا ہے کہ گویا امام حسین کا خطبہ امیر المومنین کے اسی کلام کی تشریح ہو۔

اس کلام میں خلفائے اول اور دوم کے طریقہ ء انتخاب اور اس دوران اپنی صورتحال اور مقام کو بیان کرنے کے بعد، امیر المومنین نے ان واقعات ، غلطیوں ، خامیوں اور مصیبتوں کی طرف اشارہ کیا جو خلیفہ ء ثانی اور ثالث کے زمانے میں پیش آئیں ،جس نے مسلمانوں کو مجبور کیا کہ وہ امیر المومنین سے رجوع کریں۔ اسی طرح اس کلام میں ان قبیح اعمال کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے ، جو نفسانی خواہشات ، حب دنیا ، جاہ ومقام اور مال و منال کی خاطر بعض مسلمانوں نے انجام دیئے۔ آپ فرماتے ہیں:

(( خدا کی قسم لوگ ان (خلیفہء دوم) کے زمانے میں کج روی، سرکشی ،متلون مزاجی اوربے راہ روی میں مبتلا ہو گئے۔ میں نے اس طویل مدت اور شدید مصیبت پر صبر کیا، یہاں تک کہ انہوں نے بھی اپنی راہ لی اور خلافت کو ایک جماعت میں محدود کر گئے اور مجھے بھی اس جماعت کا ایک فرد خیال کیا۔ لله مجھے اس شوریٰ سے کیا واسطہ ؟ ان میں کے سب سے پہلے ہی کے مقابلے میں میرے استحقاق اور فضیلت میں کب شک و شبہ تھا، جو اب ان لوگوں میں، میں بھی شامل کر لیا گیا ۔ مگر میں نے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب وہ زمین کے نزدیک ہوکے پرواز کرنے لگیں تو میں بھی ایسا ہی کرنے لگوں اور جب وہ اونچے اڑنے لگیں تو میں بھی اسی طرح پرواز کروں (یعنی حتیٰ الامکان کسی نہ کسی صورت میں نباہ کرتا رہوں) ۔

ان (اراکین شوریٰ) میں سے ایک شخص تو کینہ و عناد کی وجہ سے میرا مخالف ہواا وردوسرا دامادی اور بعض ایسی باتوں کی وجہ سے ادھر جھک گیا جن کا بیا ن مناسب نہیں ۔ یہاں تک کہ اس قو م کا تیسرا پیٹ پھلائے سرگین اور چارے کے درمیان کھڑا ہوا اور اسکے ساتھ ساتھ اس کے بھائی بند بھی اٹھ کھڑے ہوئے ،جو الله کے مال کو اس طرح نگلتے تھے جس طرح اونٹ فصل بہار کا چارہ چرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آگیا جب اس کی بٹی ہوئی رسی کے بل کھل گئے اور اس کی بد اعمالیوں نے اس کا کا م تمام کردیا اور شکم پری نے اسے منھ کے بل گرادیا ۔اس وقت مجھے لوگوں کے ہجوم نے دہشت زدہ کر دیا جو میری طرف بجو کے ایال کی طرح ہر طرف سے مسلسل بڑھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ صورت یہ ہوگئی تھی کہ حسن اور حسین کچلے جارہے تھے اور میری چادر کے دونوں کنارے پھٹ گئے تھے۔ وہ سب میرے گرد اس طرح گھیرا ڈالے ہوئے تھے جیسے بکریاں بھیڑئیے کے حملے کی صورت میں اپنے چرواہے کے گرد جمع ہوجاتی ہیں ۔لیکن اس کے باوجود جب میں نے خلافت کی ذمے داریاں سنبھالیں تو ایک گروہ نے بیعت توڑ ڈالی اور دوسرا دین سے نکل گیا اور تیسرے گروہ نے فسق اختیار کیا ۔گویا ان لوگوں نے الله کا یہ ارشاد سنا ہی نہ تھا کہ :یہ آخرت کا گھر ہم نے ان لوگو ں کیلئے قرار دیا ہے جو دنیا میں نہ (بے جا) بلندی چاہتے ہیں، نہ فساد پھیلاتے ہیں اور اچھا انجام پرہیز گار وں کے لئے ہے ۔ہاں ہاں! خدا کی قسم ان لوگوں نے اس آیت کو سنا تھا اور یاد کیا تھا لیکن ان کی نگاہوں میں دنیا کا جمال کھب گیا تھا اور اس کی سج دھج نے انہیں دیوانہ کردیا تھا۔))(۱)

امیرالمومنین کے مذکورہ بالا خطبے کے آخری الفاظ میں آپ کا درد دل ملا حظہ کیا جاسکتا ہے ۔لہذا جب آپ نے زمام خلافت کواپنے ہاتھ میں لیا اور اسلام کے صحیح قوانین کا نفاذ اور عدل وانصاف کا بول بالا ہوا اور جب انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اپنے پروگرام کا اعلان کیاکہ :والله لو وجدتہ قدتزوج بہ النساء وملک بہ الاماء لرددتہ فان فی العدل سعة ومن ضاق علیہ العدل فالجور بہ اضیق ۔۔(خدا کی قسم !اگر مجھے کوئی مال اس حالت میں مل جاتا جسے عورتوں کا مہر بنایا دیا گیا ہے، یا اسے کنیز کی قیمت کے طور پر دیا گیا ہے تو بھی اسے واپس کرادیتا ۔اس لئے کہ انصاف میں بڑی وسعت پائی جاتی ہے اور جس کے لئے انصاف میں تنگی ہو اسکے لئے ظلم میں تو اور بھی تنگی ہوگی۔ نہج البلاغہ خطبہ نمبر۱۵) تو ۲۵ سال کی بے راہ روی، رسول الله کی سیرت سے دوری اور قانون شکنی اور حق تلفی کا عادی ہوجانے کی وجہ سے ،لوگ حق وعدالت کے قیام کے لئے امیر المومنین کی کوششوں کو جرم سمجھنے لگے اور آپ کی مخالفت میں کھڑے ہوگئے اور آپ کے خلاف ایک داخلی جنگ کا آغاز کر دیا۔

کچھ لوگ اگرچہ براہ راست اس جنگ میں شامل نہیں تھے لیکن انہوں نے اپنی خاموشی کے ذریعے دشمن کو مضبوط کیا۔ اس کے نتیجے میں بجائے یہ کہ امیرالمومنین کی طاقت

۱۔ نہج البلاغہ ۔خطبہ نمبر ۳

عدل وانصاف کے اجراء اور قرآن وسنت کے اہداف ومقاصد کو جامہء عمل پہنانے کے سلسلے میں صرف ہوتی، آپ کی تمام تر تو جہات اسلام کی بنیادوں کے تحفظ اور اسلامی معاشرے کی حفاظت پر مرکوز ہوگئیں۔ حد یہ ہے کہ ان داخلی جنگوں اور اندرونی اختلافات کے نتیجے میں لشکر حق اتنا کمزور اور بے اثر ہوگیا اور اس صورتحال نے امیرالمومنین کو ایسا آزردہ خاطر کیا کہ آپ نے بارگاہ الہی میں التجا کرتے ہوئے یوں عرض کی :

اللھم انی قد مللتہم وملونی وسئمتھم وسئمونی، فابدلنی

بہم خیرا منہم، وابدلھم بی شرامنی۔

((اے پروردگار! میں ان سے تنگ آگیا ہوں اور یہ مجھ سے تنگ آگئے ہیں۔ میں ان سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتاگئے ہیں لہذا مجھے ان سے بہتر قوم عنایت کر دے اور انہیں مجھ سے بد تر حاکم دے دے۔ ))

نیز فرمایا :

والله لا ظن ان ھولاء القوم سید الون منکم با جتماعھم علی باطلھم ،وتفرقکم عن حقکم وبمعصیتکم اما مکم فی الحق، وطاعتھم امامھم فی الباطل، وبادائھم الامانة الی صاحبھم و خیانتکم ،وبصلاحھم فی بلاد ھم وفساد کم۔

((اور خدا کی قسم میرا خیال یہ ہے کہ عنقریب یہ لوگ تم سے اقتدار چھین لیں گے ۔اس لئے کہ یہ اپنے باطل پر متحد ہیں اور تم اپنے حق پر متحد نہیں ہو۔ یہ اپنے پیشوا کی باطل میں اطاعت کرتے ہیں اور تم اپنے امام کی حق میں بھی نافرمانی کرتے ہو۔ یہ اپنے مالک کی امانت اس کے حوالے کردیتے ہیں اور تم خیانت کرتے ہو۔ یہ اپنے شہروں میں امن وامان رکھتے ہیں اور تم اپنے شہروں میں بھی فساد کرتے ہو ۔))(نہج البلاغہ ۔ خطبہ نمبر ۲۵)

ساتھ ہی پیش گوئی فرمائی کہ پیش آمدہ حالات میں( جبکہ تم اپنے رہبر اور امام کی طرف سے عائد ہونے والے فریضے کی ادائیگی میں سستی کرتے اور نافرمانی برتتے ہو اور دشمن اپنے مکرو فریب میں ہر روز موثر قدم بڑھا رہا ہے) جلد ہی معاویہ اور اس کے طرفدار کامیاب ہو کر تم پر مسلط ہو جائیں گے اور یوں ایک تاریک مستقبل اور ہولناک مقدر تمہارے انتظار میں ہے۔

اما انکم ستلقون بعدی ذلا شاملا و سیفا قاطعا واثرةیتخذھا الظالمون فیکم سنة(۱)

((مگر آگاہ رہو کہ میرے بعد تمہیں ہر طرف سے چھا جانے والی ذلت اور کاٹنے والی تلوار کا سامنا کرنا ہے اور ظالموں کے اس وتیرے سے سابقہ پڑنا ہے کہ وہ تمہیں محروم کر کے ہر چیز اپنے لئے مخصوص کر لیں ۔ ))

اور آخر کار امیرالمومنین کی دعا :فابدلنی خیرا منھم (ان کی بجائے ان سے بہتر افراد مجھے عنایت فرما)پوری ہوئی اور ان افراد کی بجائے جن سے امیرالمومنین رنجیدہ تھے الله تعالیٰ نے انہیں رسول الله، انبیاء اور اولیاء کے ہمراہ اپنے جوار خاص میں مقام عنایت فرمایا اور آپ نے اپنی خون آلود اور مجروح پیشانی کے ساتھ آخری کامیابی کا استقبال کیا اور فزت ورب الکعبہ (۲) کہتے ہوئے اپنے رب سے ملاقات کے لئے روانہ ہوئے۔

امام حسن کا طریقہ ء کار

امیرالمومنین علی علیہ السلام کے بعد ان کے فرزند اور نواسہء رسول (امام حسن

مجتبیٰ)نے فیصلہ کیاکہ بنی امیہ کے فسادوانحراف اور معاویہ کے ساتھ مقابلے کے سلسلے

۱۔ نہج البلاغہ ۔ خطبہ نمبر ۵۸

۲۔ عربی لغت نامے اقرب الموارد میں ہے کہ ((فاز بخیر ای ظفربہ ویقال لمن اخذحقہ من غریمة:فاز)) اس طرح کلمہء فوز کے اصلی معنی کامیابی ہیں نہ کہ ہدایت اور اصلاح جیسا کہ بعض لوگوں نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی کسی مقابلے میں جیتنے والے کو فائز کہا جاتا ہے ۔

میں وہ بھی امیرالمومنین ہی کے راستے پر قدم بڑھائیں گے اور ماضی کے کفر اور آج کی منافقت کی مخالفت کو امامت اور رہبری کی بنیادی ذمہ داری قرار دیں گے، کیونکہ وہ بھی برحق

امام تھے اور جوانان جنت کے سردار تھے ،ان کا راستہ اور منصوبہ وہی تھا جو امیرالمومنین کا راستہ اور منصوبہ تھا ۔

لہذا آپ نے معاویہ کے خلاف جنگ کا حکم صادر فرمایا اور لشکر کوفہ کو جمع کرتے ہوئے، خود فوج کے سپاہ سالار اورقائد کے طور پر محاذ کی طرف روانہ ہوئے۔

لیکن جنگ کے آغاز ہی میں ایک طرف تو خود اپنے لشکر میں موجود بے وفا افراد کی وجہ سے ،جن کی تن آسانی اور سستی کی امیرالمومنین بھی ہمیشہ مذمت کیا کرتے تھے اور ان کی بے وفائی اور غیر ذمے داری کا درگاہ الہیٰ میں شکوہ کرتے تھے اور دوسری طرف ابوسفیان کے بیٹے کی چالاکی کی وجہ سے امام حسن اپنے قلبی رجحان کے برخلاف جنگ بندی قبول کرنے اور ایسے معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور ہوئے جس پر عمل درآمد کی انہیں امیر حمزہ کاجگر چبانے والی ہندہ کے بیٹے معاویہ ا بن ابو سفیان سے کوئی امید نہ تھی ۔

امام حسن بن علی نے اس تاریخی سانحے اور بظاہراپنے نرم رویے کے بنیادی اسباب کا مختلف موقعوں پر ذکر فرمایا ہے اور اپنے زمانے کے لوگوں کے سامنے اس سلسلے میں اپنی اندرونی غم انگیز کیفیت کا متعدد مواقع پر اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے ایک تقریر کے دوران جبکہ معاویہ بھی وہاں موجود تھے یوں ارشاد فرمایا :

(( اے لوگو ! معاویہ یوں ظاہر کرتے ہیں جیسے صلح کی قرارداد قبول کر کے میں نے انہیں مقام خلافت کا مستحق سمجھا ہے ۔ ان کا یہ کہنا درست نہیں کیونکہ الله کی کتاب اور سنت نبی کے مطابق لوگوں کی رہبری اور قیادت ہمارے خاندان کے لئے ہے (یعنی یہ کیسے ممکن ہے کہ میں کتاب و سنت کے برخلاف عمل کروں) اور خدا کی قسم اگر لوگ ہمارے ساتھ کی جانے والی بیعت میں وفادار رہتے اور ہماری اطاعت کرتے اور ہماری مدد کرتے تو خداوند متعال زمین و آسمان کی برکتیں ان پر نازل کرتا۔

(پھر معاویہ سے مخاطب ہو کے فرمایا) اور پھر تم لوگوں پر حکومت اور بالادستی کا خواب نہ دیکھ سکتے۔ اے معاویہ ! تم رسول الله کے اس فرمان سے باخبر ہو کہ جو قوم بھی اپنی حکومت اور سرپرستی آگاہ اور باخبر افراد کے ہوتے ہوئے بے خبر اور بے صلاحیت لوگوں کے سپرد کر دے توتباہی اور بربادی اس قوم کا مقدر ہو جائے گی اور وہ قوم بچھڑوں کی عبادت (یا گوسالہ پرستی) کا شکار ہو جائے گی۔))

پھر فرمایا :

((بنی اسرائیل نے یہ جاننے کے باوجود کہ ہارون، موسیٰ کے جانشین اور خلیفہ ہیں ،انہیں ترک کر دیا اور بچھڑے کی عبادت میں مشغول ہو گئے۔ مسلمانوں کے درمیان بھی ایسا ہی انحراف پیش آیا اور حضرت علی کے بارے میں رسول الله کی اس ہدایت کے ہوتے ہوئے کہ : یا علی ! انت منی بمنزلة ھارون من موسی (اے علی! آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی) مسلمانوں نے علی کو چھوڑ دیا اور اس کے برے نتائج کا شکار ہو گئے۔))

پھر امام حسن نے معاویہ کو مخاطب کر کے فرمایا :

((جس زمانے میں رسول الله لوگوں کو الله اور توحید کی دعوت دے رہے تھے، انہوں نے غار میں پناہ لی تھی اور اگر ان کے انصار و اعوان ہوتے تو وہ ہرگز لوگوں سے دور نہ ہوتے ۔اے معاویہ ! اگر میرے اعوان و انصار ہوتے تو میں بھی کبھی صلح کا معاہدہ قبول نہ کرتا۔))

پھر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :

((الله تعالیٰ نے ہارون کا عذر قبول کیا، جب ان کی قوم نے انہیں چھوڑ دیا تھا اور ان کے قتل کے منصوبے بنا رہے تھے۔ اسی طرح الله نے نبی اکرم کے عذر کو بھی قبول کیا جب وہ اپنا کوئی مددگار نہیں پاتے تھے اور اپنی قوم سے دوری اختیار کرتے تھے۔ الله تعالیٰ میرے اور میرے والد علی کے عذر کو بھی قبول کرے گا کیونکہ ہمیں بھی اپنے اردگرد اعوان و انصار نظر نہیں آتے تھے ۔لہذا (ہم نے) دوسروں کے ساتھ گزارہ کیا۔ اور یہ سب تاریخ کے قوانین اور ایک جیسے واقعات ہیں جو ایک کے بعد ایک واقع ہوتے ہیں۔))

امام نے اپنی تقریر کے آخر میں فرمایا :

(( لوگو! اگر مشرق و مغرب میں تلاش کرو تب بھی میرے اور میرے بھائی کے علاوہ تمہیں کوئی فرزند نبی نہیں ملے گا۔))(۱)

اسی طرح جب امام کے جاننے والوں میں سے کسی نے صلح کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے جواب میں یوں فرمایا:

(( خدا کی قسم میں نے یہ صلح اور معاہدہ صرف اس وقت قبول کیا جب دیکھا کہ کوئی ساتھ دینے والا نہیں ہے۔ اور اگر اس مقصد کے لئے میرے پاس طاقت و قوت (انصار و اعوان) ہوتی تو دن رات معاویہ سے جنگ کرتا یہاں تک کہ جو خدا کو منظور ہوتا وہ انجام پاتا : وَالله، ماٰ سَلَّمْتُ اْ لأ مَر الیہِ الاّ اَنی لَم اَجِد اَنْصاراً وَلَوْ وَجدَتُ اَنْصاراً لَقاتَلْتُہُ لَیلی وَنَھٰاری

حَتیَّ یَحْکُمَ الله بینی وَبَینَہ۔)) (۲)

۱۔ احتجاج طبرسی ۔ ج ۲۔ ص ۸ ۲۔ احتجاج طبرسی ۔ ج ۲۔ص ۱۲

خلاصہء کلام یہ کہ اگر امیر المومنین علیہ السلام اپنے اہداف و مقاصد کو حاصل نہ کر سکے اور امام حسن، معاویہ کے ساتھ صلح پر مجبور ہوئے اوراگر معاویہ کو اتنی قدرت ملی کہ وہ مسلمانوں پر اپنے اقتدار کے حصول میں کامیاب ہوں اور انہیں ذلت و رسوائی سے دوچار کر دیں، انہیں اسلام و قرآن سے دور کر دیں اور یہاں تک کہ امت اسلامی کی تقدیر یزید جیسے خطرناک شخص کے سپرد کر دیں، تو اس کا ایک اہم ترین سبب یہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنے امام اورولی کی اطاعت میں کوتاہی کی اورمعاشرے کے بعض سرکردہ ترین افراد نے اپنے رہبر اور امام کے سلسلے میں اپنی ذمے داریوں پرتوجہ نہیں دی۔یہ افراد نہ صرف یہ کہ امام کے احکام و فرامین کی اطاعت پر تیار نہ تھے اور ان کی معنوی اور روحانی رہبری میں قدم بڑھانے سے گریز کرتے تھے بلکہ اس کے برخلاف ایسے بے جا اعتراضات، بہانے اور چوں و چرا کیاکرتے تھے کہ آخر کار ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے پڑے۔

۲ -امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی اہمیت

امام حسین نے اپنے اس نورانی اور تاریخی خطبے کے دوسرے حصے میں بالعموم تمام مسلمانوں اور بالخصوص مہاجرین اور انصار کو مخاطب کیا ہے اور فریضہ ء امر بالمعروف اور نہی

عن المنکر (جس پر اسلامی معاشرے کی اساس استوار ہے) کی انجامدہی کے سلسلے میں ان کی

نوٹ : معاویہ سے جنگ ترک کرنے کے بارے میں امام حسن کے اس واضح بیان کو پیش نظر رکھا جائے تو رسول مقبول سے منسوب کی جانے والی یہ حدیث : اِنَّ ابنی ھًذا سَیدَّ وَلَعَل الله اَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئتَین مِنَ المُسلِمینَ (میرا یہ فرزند (حسن ) سیدو سالار ہے اور امید ہے کہ خداوند عالم اسکے توسط سے مسلمانوں کے دوگروہوں کی اصلاح کرے گا) جو امام حسن کی فضیلت کے عنوان سے صحیح بخاری اور اہل سنت کے دوسرے منابع حدیث میں نقل کی گئی ہے اور شیعہ کتب میں بھی داخل ہوئی ہے، جعلی حدیث محسوس ہوتی ہے، جسے بنی امیہ کے حدیث سازی کے کارخانے میں تیار کیاگیا ہے تاکہ تاریخی حقائق کو الٹ پلٹ دیں اور امام حسن کے مخالف لشکر کو مسلمانوں میں شمار کریں اور ان کا خون بہانے (بقیہ اگلے صفحہ پر)

سستی اوربے توجہی کی مذمت اوران کی سرزنش فرمائی ہے، اور معاشرے میں ظلم و ستم پھوٹ پڑنے اور مسلمانوں کے مقدر پر ظالم اور ستمگر افراد کے تسلط (جس کا ذکر آپ نے اپنے اس خطبے کے تیسرے حصے میں کیا ہے ) کا ایک سبب اس اہم فریضے کے سلسلے میں مسلمانوں کی کوتاہی کوقرار دیا ہے۔

امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا اہم ترین پہلو

لیکن امام کے خطاب کے اس حصے میں جو بات انتہائی قابل توجہ اور اہمیت کی حامل ہے، وہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے وسیع مفہوم اور اس کے مختلف پہلوؤں کی تشریح اور اس بنیادی مسئلے کے اہم ترین رخ اور عملی پہلو کی جانب اشارہ ہے ۔ کیونکہ امام نے قرآن کریم کی دو آیات کو بطور سند پیش کرتے ہوئے فرمایا : اگر معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر برقرار ہو توچھوٹے بڑے تمام واجبات پرعمل ہو اور تمام مشکلات حل ہو جائیں ۔اس کے بعد نمونے اور مصداق کے طور پر پانچ امور کو نکتہ وار درج ذیل صورت میں بیان کیا :

۱-وذلک ان الامر بالمعروف و النھی عن المنکر دعاء الی الاسلام: امربالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی طرف دعوت (فکری اور عقیدتی جہاد کے مساوی ) ہے۔

۲ - مع رد المظالم : مظلوموں کو ان کے حقوق لوٹانا ہے۔

۳- ومخالفة الظالم : ظالم کے خلاف جد و جہد ہے۔

۴- وقسمة الفی ء والغنائم : مال غنیمت اور عوامی دولت کی عادلانہ تقسیم ہے۔

(بقیہ پچھلے صفحے کا حاشیہ)کو حرام اور صلح کے مسئلے کو ایک واجب عمل اور امام حسن کی نسبت سے ایک اولی حکم ظاہر کریں۔ لیکن امام حسن کی گفتار سے واضح ہے کہ آپ نے بحالت مجبوری صلح قبول کی تھی اور اگر آپ کو جانثار اصحاب و انصار کی خاطرخواہ تعداد میسر ہوتی اور حالات آپ کے حق میں ساز گار ہوتے تو آپ حتمی کامیابی تک معاویہ کے خلاف جنگ جاری رکھتے اور آپ معاویہ کے پیروکاروں کو فئتین من المسلمین شمار نہیں کرتے تھے۔

۵- واخذ الصدقات من مواضعھاووضعھافی حقھا : زکات اور دوسرے مالی واجبات کی صحیح جمع آوری اور ٹھیک ٹھیک مقامات پر انہیں خرچ کرنا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وسیع سطح پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا انجام دینا، (جس میں ظالم کا مقابلہ، حقوق کی بازیابی ، ظلم وستم کا جڑ سے خاتمہ اور معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام شامل ہے) حکومت اسلامی کے قیام اور ان امور کے اجراء کے لئے قوت ہاتھ میں لئے بغیرمحض انفرادی سطح پر تلقین اور زبانی طور پر اچھائیوں کی تاکید سے ممکن نہیں۔

امام حسین علیہ السلام کا یہ بیان درحقیقت ان لوگوں کے لئے واضح جواب ہے جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے اہم اور بنیادی فریضے کو انتہائی محدود پیمانے میں، انفرادی سطح پر اور عمل کی بجائے محض زبانی کلامی تلقین میں منحصر سمجھتے ہیں۔

اسی طرح یہ خطاب اسلامی حکومت کے قیام کے واجب ہونے اور معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عملی اجراء کے لئے ایک مضبوط دلیل فراہم کرتا ہے۔

اسی بنا پر اور ایسے ہی متعدد دلائل کی روشنی میں بعض بزرگ شیعہ فقہا نے جہاد جیسے فریضے کو اس کی تمام تر عظمت ، وسعت اور احکام کے باوجود امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی ایک شاخ قرار دیا ہے اور اسے ان دو اشد اہم فرائض کا ایک حصہ شمار کرتے ہیں۔

زیارت امام حسین میں درج ہونے والا جملہ: اشھد انک قد اقمت الصلاةوآتیت الزکاة وامرت بالمعروف و نھیت عن المنکر بھی اس حقیقت کا گواہ ہے اور اس مفہوم کی وضاحت کرتا ہے کہ حکومت یزید کی مخالفت میں امام حسین علیہ السلام کا جہاد اور مبارزہ درحقیقت فرائضِ الہیٰ کی ادائیگی ، نماز وزکات کے قیام اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی انجام دہی کے لئے تھا۔

مختصر یہ کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا صحیح ، وسیع اور جامع مفہوم معاشرے میں عدل و انصاف کا رواج اور سماج سے ظلم و فساد کا مکمل خاتمہ ہے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی حکومت قائم ہو، اور اگر کسی معاشرے میں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا اس کے اس مفہوم میں اجراء نہ ہو اور اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت قائم نہ کی جائے تو پھر قدرتی طور پر یہ ہو گا کہ اسکی جگہ ظالم و ستمگر اور بدقماش افراد معاشرے پر چھا جائیں گے۔ اسی بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امیر المومنین نے اپنی آخری وصیت میں فرمایا:

ولا تترکواالأمربالمعروف و النھی عن المنکر فیولی علیکم اشرار کم فتدعون فلا یستجاب لکم ۔

((امربالمعروف اور نہی عن المنکرکو کسی صورت میں ترک نہ کرنا ،ورنہ تمہارے برے تم پر حاکم ہو جائیں گے ،پھر دعائیں بھی مانگو گے تو پوری نہیں ہوں گی۔))(۱ )

۳ -تاریخ کے پست سرشت افراد

امام حسین علیہ السلام کے اس اہم خطبے کے یہ تین حصے ایک اعتبار سے فلسفہ ء تاریخ کے درس اور علم اجتماعیات کے و ہ گہرے نکات ہیں جن میں اسلام کے ابتدائی۵۰ سال کے دوران مسلمانوں کی معاشرتی تبدیلیوں کے اسباب بیان ہوئے ہیں، اسلام کی عظمت کے ابتدائی دور ہی میں ظالموں اور ستمگروں کے قابض ہونے کی وجوہات ذکر ہوئی ہیں، اہل بیت اطہار کی حق تلفی اور معاویہ ابن ابی سفیان کے حاکم ہو جانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور تین مختلف پہلوؤں سے ان مسائل کا جائزہ لیا گیا ۔

اس خطبے میں درحقیقت آیت قرآن :ان الله لا یغیر مابقوم حتی یغیروا

مابانفسھمکی تاریخی شواہد اور انتہائی محسوس دلائل کی روشنی میں انتہائی خوبصورت اور

۔ نہج البلاغہ ۔ مکتوب نمبر ۴۷

دلنشین انداز میں تفسیر کی گئی ہے۔ نیز اسی خطبے میں امام حسین علیہ السلام کے اندرونی رنج و اندوہ اور ان کی تشویش کا اظہار بھی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ یہ خطبہ تاریخ اسلام میں آنے والے تمام مسلمانوں بالخصوص علما کے لئے تنبیہ اور بیداری کا پیغام بھی ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے خطبے کے تیسرے حصے میں اس اہم اور تاریخی اجتماع میں

موجود مسلمانوں ، اصحاب رسول اور ان کی اولادوں کو مخاطب قرار دیا۔ یہ لوگ مذہبی اور سماجی مقام کے حامل ایسے سرکردہ افراد تھے جو اپنے کردار کے ذریعے معاشرے میں ایک تحریک ایجاد کرسکتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کا قول و عمل، گفتار و کردار حرکت اور سکون افراد ملت کے لئے نمونہ ء عمل اور لائق تقلید تھا۔

انہیں چاہئے تھا کہ اپنی شخصیت کی اہمیت اور اس کے مرتبے کو پہچانتے اور اپنی صحیح حیثیت کا اندازہ لگاتے اور مظلوموں کی نجات اور معاشرے کو حقیقی معنوں میں فلاح و سعادت سے ہمکنار کرنے کے لئے تدبیر کرتے۔ لیکن دنیاوی زندگی کی محبت، مادی لذتوں کی حرص، آسائش طلبی اور سختیوں سے بچنے کی خواہش اور بعض اوقات اپنے جمود اور سادہ لوحی کی وجہ سے ان افراد نے بزدلی کی راہ اختیار کی اور زمین پر ہمیشہ باقی رہنے کی بچکانہ خواہش نے انہیں ان کی ذمے داریوں سے غافل کر دیا۔ ان لوگوں نے خدائی احکامات کی ایسی من مانی تفسیریں کیں جن سے ان کے ذاتی مقاصد حاصل ہو سکیں اور اپنی اس بے راہ روی پر مسلسل گامزن رہے۔

یہ وہ لوگ تھے جنہیں حق اور فضیلت کا محافظ سمجھا جانے کی وجہ سے معاشرے میں خصوصی عظمت اور مقام حاصل تھا، کمزور اور قدر ت مند، سب کے دلوں میں ان کی ہیبت اور دبدبہ قائم تھا اور ہر ایک انہیں خاص احترام کی نظر سے دیکھتا تھا۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کی ان سے ساری امیدیں اور توقعات ضائع ہو گئیں۔ ان لوگوں نے دین اور قرآن کی حفاظت کے لئے کچھ نہیں کیا، کسی مالی نقصان کاسامنا نہیں کیا اور نہ ہی کسی پابندی، قید و بند اور اذیت و آزار کو جھیلا۔ ان کے اقربا اور رشتے دار اسلامی مقدسات کا مذاق اڑاتے رہے اور انہوں نے ان کی کوئی مخالفت نہیں کی اوردین وقرآن کے حامیوں ، اسلام کی راہ میں اذیت و آزار جھیلنے والوں اور اس راہ میں جلا وطنی برداشت کرنے والوں کو کوئی اہمیت نہ دی۔ ان کی موجودگی میں اسلام و قرآن کی حرمت کو پامال کیا گیا اور یہ خاموش رہے بلکہ عملًا اسلام کے دشمنوں کی چاپلوسی اور ان سے ساز باز کی روش اخیتار کی اور یوں ظالموں کی حاکمیت اور مظلوموں کے حقوق کی پامالی کا راستہ ہموار کیا۔

لیکن اگر یہ غورکرتے تو جان لیتے کہ ایسا کر کے انہوں نے درحقیقت اپنے ہی لئے ایک بڑی مصیبت کا سامان کیا ہے، اورخود اپنے ہی ہاتھوں اپنی ذلت و رسوائی کی بنیادیں رکھی ہیں۔ کیونکہ اگر وہ حق کاساتھ نہ چھوڑتے، خط ولایت اور فرمان نبوت کے بارے میں اختلاف کا شکار نہ ہوتے، راہ خدا میں مارے جانے سے نہ کتراتے ، چندروزہ دنیاوی زندگی کی لالچ میں مبتلا نہ ہوتے اورالله کے راستے میں عارضی مصیبت، مشقت اور محرومیت پر صبر کرتے،تو اسلامی معاشرے کی سربراہی اور زمام امور ان ہی کے ہاتھ میں ہوتی اور الله کے احکام اور فرامین ان ہی کے ذریعے جاری ہوتے، مظلوم اورستم رسیدہ افراد ان ہی کے ہاتھوں نجات پاتے، محروموں اور مشکل کے ماروں کی داد رسی ہوتی اور ظالم و جابر ان کے ہاتھوں کچل دیئے جاتے۔

لیکن ان کی سستی اور کوتاہی نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا،اسلام سے ان کی دوری نے انہیں ذلیل و خوار کر دیا ،اورقدرت و حاکمیت دشمنوں کے ہاتھوں میں آ گئی، وہ جس طرح چاہتے ہیں مظلوموں کے ساتھ پیش آتے ہیں اور جس طرف ان کی شقی طبیعت کا میلان ہوتا ہے معاشرے کو اسی طرف لے جاتے ہیں، الله کے احکام کی تحقیر کرتے ہیں اور سنت رسول کی اہانت ۔ نابیناؤں، محتاجوں ،فقرا اور مساکین کو بنیادی ترین انسانی حقوق سے محروم کرتے ہیں۔ مملکت اسلامی کے ہر گوشے میں ایک مستبد فرد حاکم ہے اور ہر علاقے پر ایک خود خواہ شخص فرمانروا ہے۔ یہ لوگ اسلام کی قدرت اور مسلمانوں کی عزت و شوکت کو پامال کرنے کے لئے اپنے پاس موجود ہر قسم کے تبلیغاتی حربے استعمال کررہے ہیں، اسلامی دستور میں تحریف اور اسلامی قوانین کو الٹ پلٹ رہے ہیں، حدود کی سزاؤں کو انسانی حقوق کی پامالی ، قصاص کو ظلم اور تعزیرات کو قساوت کے طور پر متعارف کرا رہے ہیں ۔

یہ وہ خطاب ہے جو حسین ابن علی نے ارشاد فرمایا، حسین جو نواسہ ء رسول ہیں، فرزند امیر المومنین علی ابن ابی طالب ہیں اور فاطمہ زہرا کے لخت جگر ہیں۔ یہ صرف حسین ابن علی ہی کا کلام نہیں ہے بلکہ یہی تمام انبیاء کا کلام اور تمام ائمہ و اولیائے خدا کا درد دل ہے ،حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، اور خاتم الانبیاء کا کلا م ہے ، حضرت علی ، اما م حسن اور بقیہ ائمہ ء اطہار کا کلام ہے۔

خطبے کا عملی جواب

جس طرح یہ خطبہ اور یہ کلام انبیاء ، اولیاء اور ائمہء ہدیٰ کا کلام ہے، اسی طرح اس کاعملی جواب بھی سب سے پہلے انبیاء اور ائمہء ہدیٰ نے دیا، ا ور وہی تھے جنہوں نے تاریخ انسانی کے ہر دور میں اس حیات بخش ندا پر لبیک کہا۔

جی ہاں! یہی لوگ منادی بھی تھے اور لبیک کہنے والے بھی، خود ہی خطاب کرنے والے بھی تھے، خود ہی اس خطاب کو سننے والے بھی، خودہی دعوت دینے والے بھی اور خود ہی اس کا جواب دینے والے بھی۔ انہوں نے اس دعوت کے جواب میں ایسی استقامت اور ثابت قدمی کا ثبوت دیا کہ شوق و اشتیاق کے ساتھ آگ میں کود پڑے، اورآخر کار اپنے زمانے کے سرکش نمرودیوں پر غالب آ ئے، اورتوحید کی بنیادیں قائم کر دیں اور اپنے اہداف و مقاصد کے سلسلے میں ایسی پائیداری دکھائی کہ دشمن کو سمندر کی موجوں میں غرق کر کے اپنی قوم کو ذلت و غلامی سے نجات دلائی ۔یہ لوگ اپنے عہد و پیمان سے اس قدر وفادار تھے کہ جب ان کے کٹے ہوئے سر طشت میں رکھ کر دشمنوں کو پیش کئے گئے تو اس عالم میں بھی انہوں نے شمشیر پر خون کی فتح کا نعرہ بلند کیا۔

اور بالآخر تشیع کو یہ اعزاز اور افتخار حاصل ہوا کہ اس کے ائمہ اور اس کے رہنماؤں نے دینِ اسلام کی سربلندی اور تعلیمات ِقرآنی کے عملی نفاذ کی راہ میں( جس کاایک مظہر عادلانہ اسلامی حکومت کی تشکیل و تاسیس ہے) کبھی پس زنداں اور کبھی جلاوطنی کی زندگی بسر کی اور آخر کار اپنے زمانے کے ظالموں اور طاغوتوں کی حکومتوں کے خاتمے کے لئے جد و جہد کے دوران شہید ہوئے(۱)۔ جہاں تک حالات اور وسائل نے اجازت دی ائمہ نے مسلحانہ جد و جہد کی اور اپنی تلواریں سونت کر دشمنان اسلام کی صفوں پر حملے کئے۔ درحقیقت امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کے زمانے کی تین جنگیں اور(معاویہ ابن ابی سفیان اور یزید ابن معاویہ کے مقابلے میں) امام حسن اور امام حسین کی معرکہ آرائی تاریخ انسانیت اور تاریخ اسلام میں ظلم و ناانصافی کے خلاف کی جانے والی جد و جہد کے سنہرے اوراق ہیں۔

اما م حسین اور ان کے اصحاب کا عملی جواب

اگرچہ اس خطبے کا مضمون حاضرین اور سامعین کے سامنے امام حسین کے آئندہ اقدامات اور حکمت عملی کا اجمالی خاکہ پیش کر رہا تھا اور امام علیہ السلام کی جانب سے عملی امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی خبر دے رہا تھا اور سامعین کو آئندہ کے حالات کے لئے تیار رہنے اور اس قیام سے تعاون کرنے کی دعوت دے رہا تھا لیکن خطبے کے آخری جملات میں یہ حقیقت انتہائی کھلے الفاظ کے ساتھ بیان کر دی گئی اور ایک بھرپور اور تاریخی تحریک کی وضاحت کرتے ہوئے امام نے فرمایا :

اللھم انک تعلم انہ لم یکن ماکان منا منافسة فی سلطان۔۔۔ فانکم ان لم تنصروناو تنصفونا قوی الظلمة

۔ امام خمینی کے الہیٰ و سیاسی وصیت نامے سے اقتباس

علیکم و عملوا فی اطفاء نور نبیکم۔

(( بارالہاٰ ! تو جانتا ہے کہ جو کچھ ہماری جانب سے ہوا (بنی امیہ اور معاویہ کی حکومت کی مخالفت میں ) وہ نہ تو حصول اقتدار کے سلسلے میں رسہ کشی ہے اور نہ ہی یہ مال دنیا کی افزوں طلبی کے لئے ہے بلکہ یہ صرف اس لئے ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تیرے دین کی نشانیوں کو آشکارا کر دیں اور تیری مملکت میں اصلاح کریں، تیرے مظلوم بندوں کو امان میسر ہو اور جو فرائض ، قوانین اور احکام تو نے معین کئے ہیں ان پر عمل ہو۔ اب اگر آپ حضرات (حاضرین سے خطاب) نے ہماری مدد نہ کی اور ہمارے ساتھ انصاف نہ کیا تو ظالم آپ پر اور زیادہ چھا جائیں گے اور (( نور نبوت )) کو بجھانے میں اور زیادہ فعال ہو جائیں گے ۔ ہمارے لئے تو بس خدا ہی کافی ہے، اسی پر ہم نے بھروسہ کیا ہے اسی کی طرف ہماری توجہ ہے اور اسی کی جانب پلٹنا ہے۔))

اس خطبے میں امام حسین نے اپنے جس مقصد کو بیان کیا یہ وہی مقصد ہے جس کی جانب آپ نے اس خطاب کے تین سال بعد(۲۸ رجب ۶۰ھ میں) مدینہ سے روانگی کے وقت اپنے تاریخی وصیت نامے میں اشارہ فرمایا تھا۔

وانی لم اخرج اشراً ولا بطراً ولا مفسداً ولا ظالماً وانما

خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی، اریدان آمر بالمعروف و انھی عن المنکر۔۔۔

((میرا مدینہ سے نکلنا خود غرضی کے تحت ہے نہ تفریح کی غرض سے اور نہ ہی میں ظلم و فساد برپا کرنا چاہتا ہوں۔ میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ نیکیوں اور بھلائیوں کا حکم دوں اوربرائیوں سے روکوں اور امت کے امور کی اصلاح کروں۔))

اور حقیقت یہ ہے کہ ائمہء اطہار کے پیروکار علما اور فضلا نے ہمیشہ انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسلام کے احیاء کے لئے نہ صرف شہید اول ، دوم اور سوم قربان کئے بلکہ شھداء الفضیلہ(۱) کی ایک عظیم الشان صف تشکیل دی۔ تاریخ کے اوراق ایسے ہزاروں شہدا کے ناموں سے سجے ہوئے ہیں۔ان کے علاوہ ایسے گم نام شہدا بھی ہیں ،جن کے نام کتاب علیین میں دیکھے جاسکتے ہیں اور جو ایسے ہی بیش قیمت الفاظ میں خراج عقیدت کے مستحق ہیں کہ:

(( سلام ہو ان زندئہ جاوید جانباز علمائے دین پر جنہوں نے اپنا رسالہء عملیہ و علمیہ دم شہادت اپنے خون کی روشنائی سے تحریر کیا، اور وعظ ونصیحت و خطاب کے منبر پر اپنی شمع حیات سے چراغ روشن کیا۔ حوزئہ علمیہ اور صف علما کے ان شہدا پر آفرین و مرحبا جنہوں نے جنگ و جہاد کا موقع آ پڑنے پر مدرسے اور درس وبحث سے اپنارشتہ منقطع کیا اور حقیقت علم کے پیروں میں پڑی خواہشات ِدنیاوی کی زنجیروں کو کاٹ ڈالا اور سرعت سے پرواز کر کے فرشتوں کے مہمان ہوئے اور ملکویتوں کے اجتماع میں اپنی حاضری کے نغمے بکھیرے۔ درود و سلام ان شہداء پر جو تفقہ کی حقیقت پا لینے کی حد تک آگے بڑھے اور اپنی قوم و ملت کے لئے ایسے مخبر صادق بنے جن کے ہر ہر لفظ کی صداقت کی گواہی ان کے خون کے قطروں اور جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں نے دی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور تشیع کے سچے علماسے اس کے علاوہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ دعوت حق اور اپنی قوم کی خاطر جہاد کی راہ میں

۱۔ شھداء الفضیلہ کتاب ((الغدیر)) کے مصنف علامہ امینی کی ایک مشہور کتاب ہے، جس میں چوتھی صدی ہجری کے بعد کے ایسے ۱۲۰ معروف علمائے کرام کے حالات درج ہیں جنہوں نے اسلام کی راہ میں جام شہادت نوش کیا۔

سب سے پہلی قربانی وہ خود پیش کریں گے اور ان کی کتاب زندگی کااختتام

شہادت پر ہو گا۔))(۱)

مترجم : جیسا کہ قارئین محترم نے ملاحظہ فرمایا، اس تاریخی خطبے میں امام حسین علیہ السلام کے مخاطب خاص کر وہ افراد ہیں جودینی رہنماؤں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں اور امام علیہ السلام نے انہی افراد کو معاشرے کے انحراف اور غفلت کا ذمے دار قرار دیا ہے۔ لیکن

ساتھ ہی یہ بیان فرمایا ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر وہ بنیادی ترین فریضہ ہے جس کے ذریعے معاشرے کی بقا ہے اور اگر اس پر عمل نہ ہو تو معاشرے کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں ، عدل و انصاف کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور ظالم و ستمگر زمام امور اپنے ہاتھوں میں لے کر معاشرے کو تباہی اور بربادی سے دوچار کردیتے ہیں اوراسے اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بناتے ہیں۔ ایسے موقع پر معاشرے کے ہر فرد کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے وظیفے اور فریضے کا شعور حاصل کرے اور حتیٰ المقدور اس فریضے کو انجام دے جس کا ترک کرنا ان آفات و بلیات کا باعث بنا۔

آج صدیوں کے بعد دنیا ایک بار پھر اسلام کی نشات ثانیہ کا دور دیکھ رہی ہے اور امام خمینی کی قیادت میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد مسلمانوں میں شعور اور بیداری کی ایک ایسی لہر اٹھی ہے جس کی قدرت نے ایران کی ڈھائی ہزار سالہ بادشاہت کو پاش پاش کر دیا اور اس کے سچے ماننے والوں نے نہتے ہاتھوں اور وسائل کی کمیابی کے باوجود اسرائیل جیسے غاصب اور دشمن دین مبین کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

آج ہر صاحب شعور اس اعتراف پر مجبور ہے کہ آئندہ صدی اسلام کی صدی ہو گی اور دنیا کے موجودہ سیاسی اور تمدنی نظاموں کی تباہی اور ان کا کھوکھلا پن ثابت ہونا اور اس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی مایوسی نیز تبلیغی ذرائع کی فراوانی اوروسعت اور سب سے بڑھ کر

۔ دینی مدارس کے نام امام خمینی کے تاریخی پیغام مورخہ ۲۲ فروری ۱۹۸۹ء سے اقتباس۔

مسلمانوں کے اندر اٹھتی ہوئی بیداری کی لہرکو دیکھتے ہوئے بآسانی کہا جا سکتا ہے کہ اکیسویں صدی اسلام کی صدی ہو گی ۔لیکن ان تمام مثبت عوامل کے باوجودحتمی کامیابی کے لئے مسلمانوں کا اپناعزم ، ارادہ اور شعور و آگہی بنیادی عوامل ہیں۔ لہذا اگر مسلمان اس موقع پر بیداری اور ہوشیاری سے کام لیں تو یقینا یہ پیش گوئی صحیح ثابت ہو سکتی ہے۔

اس کامیابی میں دو عوامل اہم ترین کردار ادا کریں گے۔ پہلا یہ کہ مسلمان دوسروں کے سامنے کسی بھی وعظ و نصیحت اور تبلیغ سے پہلے اپنی عملی زندگی میں اسلام کا نمونہ ء عمل پیش کریں کیونکہ اس بے زبان تبلیغ میں جو تاثیر ہے، وہ کسی بھی وعظ و نصیحت اور دعوت و ارشاد سے بڑھ کر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ دعوت وتبلیغ منظم اور معیاری انداز میں کی جائے ۔ اسلام کی نظریاتی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اس کی عملی تعلیمات اور دنیا کی موجودہ مشکلات کے حل کے سلسلے میں اسکی قابلیت کو واضح طور پر بیان کیا جائے۔

امام علیہ السلام کے زیر گفتگو خطبے کی آفاقیت یہ ہے کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا احیاء درحقیقت وہ تمام عوامل فراہم کرتا ہے جن کے ذریعے نہ صرف مسلمانوں کا اندرونی معاشرہ تعمیر نو کے مراحل طے کرتا ہے اور ہر قسم کے حوادث اور انحرافات کے مقابلے میں محفوظ ہو جاتا ہے بلکہ وہ اسلام کی موثر اور جامع تبلیغ کے تما م تر وسائل فراہم کرتا ہے۔ یوں یہ وہ شرعی وظیفہ ہے جس سے انسانیت حیات نو پاتی ہے اور اس کا ترک کرنا انسانیت کی پستی اور زوال و انحطاط کا اہم ترین سبب ہے ۔ اب اگر ایک عاقل مسلمان ہر قسم کے ظلم و استبداد،بے راہ روی اور انحطاط سے نجات کا خواہشمند ہے تو کلمات امام کی صورت میں اس کے لئے رہنمائی فراہم کر دی گئی ہے اور راہ حق پر مشعلیں نصب کر دی گئی ہیں اور یہی ائمہء حق کا وظیفہ تھا جس کے جواب میں لبیک کہنے والوں نے دنیا و آخرت کی سعادت حاصل کی اور

اس سے منہ موڑنے والے ابدی ذلت و خواری کا شکار ہوئے۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد 1393
 

دو بری عادتیں

حدیث :

قال رسول الله(ص) :ایاکم وفضول المطعم فانہ یسم القلب بالقسوة،ویبطیٴ باالجوارح عن طاعة،ویصم الہمم عن سماع الموعظة وایاکم وفضول النظر فان یبدر الہویٰ،ویولد الغفلة

ترجمہ :

حضرت رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں کہ زیادہ کھانے سے بچو، کیونکہ اس سے آدمی سنگدل بن   جاتا ہے اور اعضاء بدن میں سستی آ تی ہے۔ جو الله کے حکم پر عمل کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے اور زیادہ کھانا کانوں کو بہرہ   بنا دیتا ہے جس کی وجہ سے انسان نصیحت کو نہیں سنتا۔  اسی طرح ادھر ادھر دیکھنے سے پرہیز کرو کیونکہ آنکھوں کی یہ حرکت ہوا وحوس کو بڑھاتی ہے اور انسان کو غافل بنادیتی ہے ۔

حدیث کی شرح :

اوپر کی حدیث میں زیادہ کھانے اور ادھر ادھر فضول نگاہ کرنے سے منع کیاگیا ہے ۔

1.      زیادہ کھانا :

غذا میں اعتدال وہ مسلہ ہے جس کی اہمیت سے ہم واقف نہیں ہیں اور نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ اس سے جسم   اور روح پر کتنے اہم اثرات پڑتے ہیں۔

بس زیادہ کھانا جسمانی اورروحانی دونوں پہلوؤں سے قابل غور ہے ۔

الف:جسمانی پہلو

یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کی اکثر بیماریاں زیادہ کھانے کی وجہ سے ہے اسکے لئے کچھ طبیب یہ استدلال کرتے ہیں کہ:   جراثیم ہمیشہ چارمشہور طریقوں (ہوا،کھانا،پانی اور کبھی کبھی بدن کی کھال کے ذریعہ)سے بدن میں داخل ہوتے ہیں اور ان کو روکنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔

جس وقت بدن کی یہ کھال (جو جراثیم کو بدن میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے ایک مضبوط ڈھال کا کام انجام دیتی ہے ) زخمی ہو جائے تو ممکن ہے کہ اسی زخم کے ذریعہ جراثیم   بدن میںداخل ہو کر بدن کی دفاعی طاقت کو تباہ کردیں۔اس بنا پر ہم ہمیشہ مختلف قسموں کے جراثیموں وبیماریوںکے حملوں کی زد میں رہتے ہیں۔ اور ہمارا بد ن اسی صورت میںا ن سے دفاع کرسکتا ہے جب اس میں عفونت کے مرکز نہ پائے جاتے ہوں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بدن کی فالتو چربی جو بدن میں مختلف جگہوں پر اکٹھا ہو جاتی ہے وہی بہت سے جراثیموںکے پھلنے پھولنے کا ٹھکانہ بنتی ہے ۔ٹھیک اسی طرح جیسے کسی جگہ پر کافی دنوں تک پڑا رہنے والا کوڑا بیماری اور جراثیم کے پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔   جوچیزیں ان   بیماریوں کا علاج کرسکتی ہیں ان میںسے ایک یہ ہے کہ اس اضافی چربی کو پگھلایا جائے۔ اور چربی کو پگھلانے کا آسان طریقہ روزہ ہے اور یہ وہ استدلال ہے جس کاسمجھنا سب کے لئے آسان ہے ۔کیونکہ ہر انسان جانتا ہے کہ جب بدن میں فالتو غذا موجودہو اور وہ بدن میں جذب نہ ہو رہی ہو تو بدن میں اکٹھاہو جاتی ہے جس کے نیتجہ میں دل کا کام بڑھ جاتاہے ،بطور خلاصہ بدن کے تمام اجزا پر بوجھ بڑھ جاتا ہے جس کی بنا پر دل اور بدن کے دوسرے حصے جلد بیمار ہو جاتے ہیںاوراس سے آدمی کی عمر کم ہو جاتی ہے۔ اس بنا پر اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ صحت مند رہے تو اسے چاہئے کہ زیادہ کھانے سے پرہیز کرے اور کم کھانے کی عادت ڈالے خاص طور پر وہ لوگ جوجسمانی کام کم کرتے ہیں ۔

ایک طبیب کا کہنا ہے کہ میں بیس سال سے مریضوں کے علاج میںمشغول ہوں میرے تما م تجربوں کا خلاصہ اس ایک جملے میں ہے:”کھانے میںاعتدال اور ورزش “

ب: روحانی پہلو :

یہ حدیث زیادہ کھانے کے تین اہم روحانی اثرات کی طرف اشارہ کررہی ہے :

1.      زیادہ کھانا سنگدل بناتا ہے ۔

2.      زیادہ کھانا عبادت میں سستی کا سبب بنتا ہے۔یہ بات پوری طرح سے واضح ہے کہ جب انسان زیادہ کھاتا ہے تو پھر صبح کی نماز آسانی کے ساتھ نہیں پڑھ پاتااور اگرجاگ بھی جاتا ہے تو سست رہتا ہے ۔لیکن جب ہلکا و کم کھانا کھاتا ہے تو اذان کے وقت یا اس سے کچھ پہلے جاگ جاتا ہے خوش و خرم ہوتا ہے اور عبادت و مطالعہ کے لئے تازہ دم ہوتا ہے۔

3.      زیادہ کھانا انسان سے وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کی قوت چھیں لیتا ہے۔ جب انسان روزہ رکھتاہے تو اس کے اندر رقت قلب پیدا ہو ہوتی ہے اور اس کی معنویت بڑھ جاتی لیکن جب پیٹ بھر ا ہوتا ہے تو انسان کی فکر صحیح کام نہیں کرپاتی اور وہ اپنے آپ کوالله سے دور کرلیتا ہے۔

شاید آپ نے غور کیاہو کہ ماہ رمضان المبارک میں لوگوں کے دل وعظ و نصیحت کو قبول کرنے کے لئے زیادہ آمادہ رہتے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ بھوک اور روزہ دل کوپاکیزہ بناتے ہیں۔

۲ ۔ ادھرادھر دیکھنا :

روایت میں” نظر “سے کیا مرادہے؟

پہلے مرحلہ میں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ شاید مراد نامحرموں کا دیکھنا ہو،جو کہ ہوا پرستی کا سبب بنتا ہے ۔لیکن یہ بھی بعید نہیں ہے کہ اس سے بھی وسیع معنی مراد ہوںیعنی ہر وہ نظر جو انسان میں ہوائے نفس پیدا کرنے کا سبب بنے مثال کے طور پر ایک عالیشان گھر کے قریب سے گذرتے ہوئے اسے ٹکر ٹکر دیکھنا اور آرزو کرنا کہ کاش میرے پاس بھی ایسا ہی ہوتا یا کسی گاڑی کے آخری ماڈل کو دیکھ کر اس کی تمننا کرنا۔آروز و شوق ،طلب و چاہت کے ساتھ کسی چیز کو دیکھنا تیزی کے ساتھ غفلت کے طاری ہونے کاسبب بنتاہے کیونکہ اس سے انسان میں دنیا کی محبت پیدا ہوتی ہے ۔ورنہ نگاہ عبرت ،نگاہ توحیدی یا وہ نگاہ جو فقیروںکی مدد کے لئے ہو یا وہ نگاہ جو کسی مریض کے علاج کے لئے ہو ان کے لئے تو خاص تاکید کی گئی ہے اور یہ پسندیدہ بھی ہے ۔

نکتہ :

جیسا کہ روایات اور نہج البلاغہ میں بیان ہوا ہے کہ دنیاکے بہت سے مال اور مقام ایسے ہیں جو” کل شیٴ من الدنیا سماعہ اعظم من عیانہ“ کا   مصداق ہیں یعنی د نیا کی ہر چیز دیکھنے کے مقابلے سننے میں بڑی ہے بقول مشہور ڈھول کی آواز دور سے سننے میں اچھی لگتی ہے لیکن جب کوئی ڈھول کو قریب سے دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اندر سے خالی ہے اور اس کی آواز کانوںکے پردے پھاڑنے والی ہے ۔

مرحوم آیة الله العظمیٰ بروجردی رحمة الله علیہ نے ایک زمانہ میں اپنے درس میں نصیحت فرمائی کہ ”اگر کوئی طالب علم اس نیت سے در س پڑھتا ہے کہ وہ اس مقام پر پہونچے جس پر میںہوں تو اس کے احمق ہونے میں شک نہ کرو۔آپ لوگ فقط دور سے اس مرجعیت کو دیکھتے ہیں اور فکر کرتے ہیں (جب کہ وہ مرجع علی الاطلاق تھا اور ان کاکوئی ثانی نہیں تھا ) لیکن میں جس مقام پر ہوں نہ اپنے وقت کا مالک ہوں اور نہ اپنے آرام کا“تقریباً دنیا کی تمام بخششیں ایسی ہی ہیں ۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد 1393
 

محرم وہ مہینہ ہے جس میں حق وباطل کی وہ تاریخی جنگ لڑی گئی جو رہتی دنیا تک آزادی وحریت کے متوالوں کے لئے ظلم وجبر سے مقابلے کی راہ دکھاتی رہے گی۔
حقیت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی وشامی
کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا
حق وباطل کے اس معرکے میں ایک طرف فرزند رسول جگر گوشہ بتول (ع)حضرت امام حسین (ع)تھے ،تو دوسری طرف ظالم وجابر اور فاسق وفاجر حکمراں یزید پلیدتھا ۔حضرت امام حسین (ع) نے یزید کے خلاف علم جہاد اس لئے بلند کیا کہ اس نے بیت اللہ الحرام اور روضۂ نبوی کی حرمت کو پامال کرنے کے علاوہ اسلام کی زریں تعلیمات کا تمسخر اڑاتے ہوئے ہر قسم کی براوئیوں کوفروغ دیا ،اورایک بار پر دور جاہلیت کے باطل اقدارکو زندہ کر کے اس دین مبین اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی ،جس کی خاطر پیغمبر اکرم نے 23برس تک اذیت وتکلیف برداشت کی تھی ۔ حضرت امام حسین دین اسلام کے وہ محافظ ہیں جنہوں نے اپنے خون مطہر ہ سے اسلام کے درخت کی آبیاری کی ،اسی لئے ایک معاصر عربی ادیب نے کہا ہے:اسلام قیام کے لحاظ سے محمدی ہے اور بقا کے اعتبار سے حسینی مذہب ہے۔ آج ہم اپنے اس پروگرام میں احادیث رسول وسنت نبوی کی روشنی میں اہل سنت کے معتبر ماخذ سے حضرت امام حسین کے اعلی مقام ومنزلت پرروشنی ڈالیں گے۔

مقام حسین (ع) سنی مآخذ کی روشنی میں


محرم وہ مہینہ ہے جس میں حق وباطل کی وہ تاریخی جنگ لڑی گئی جو رہتی دنیا تک آزادی وحریت کے متوالوں کے لئے ظلم وجبر سے مقابلے کی راہ دکھاتی رہے گی۔
حقیت ابدی ہے مقام شبیری
بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی وشامی
کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا
حق وباطل کے اس معرکے میں ایک طرف فرزند رسول جگر گوشہ بتول (ع)حضرت امام حسین (ع)تھے ،تو دوسری طرف ظالم وجابر اور فاسق وفاجر حکمراں یزید پلیدتھا ۔حضرت امام حسین (ع) نے یزید کے خلاف علم جہاد اس لئے بلند کیا کہ اس نے بیت اللہ الحرام اور روضۂ نبوی کی حرمت کو پامال کرنے کے علاوہ اسلام کی زریں تعلیمات کا تمسخر اڑاتے ہوئے ہر قسم کی براوئیوں کوفروغ دیا ،اورایک بار پر دور جاہلیت کے باطل اقدارکو زندہ کر کے اس دین مبین اسلام کو مسخ کرنے کی کوشش کی ،جس کی خاطر پیغمبر اکرم نے 23برس تک اذیت وتکلیف برداشت کی تھی ۔ حضرت امام حسین دین اسلام کے وہ محافظ ہیں جنہوں نے اپنے خون مطہر ہ سے اسلام کے درخت کی آبیاری کی ،اسی لئے ایک معاصر عربی ادیب نے کہا ہے:اسلام قیام کے لحاظ سے محمدی ہے اور بقا کے اعتبار سے حسینی مذہب ہے۔ آج ہم اپنے اس پروگرام میں احادیث رسول وسنت نبوی کی روشنی میں اہل سنت کے معتبر ماخذ سے حضرت امام حسین کے اعلی مقام ومنزلت پرروشنی ڈالیں گے۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں ایک حدیث نقل کی ہے جس کو ان کے علاوہ دیگر اکابرین اہل سنت من جملہ ، ابن ماجہ ، ابو بکر سیوطی ۔ترمزی ، ابن حجر ، حاکم ، ابن عساکر ، ابن اثیر ، حموینی ، نسائی وغیرہ نے بھی مستند حوالوں کے ساتھ حضور اکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا :الحسن ولحسین سیدا شبا ب اہل الجنۃ’’ حسن وحسین جوانان جنت کے سردار ہیں۔
اس حدیث کے راویوں میں حضرت علی کے علاوہ اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شامل ہیں ،جن میں حضرت عمر وابو بکر ، ابن مسعود ، حذیفہ ، جابر بن عبداللہ ، عبد اللہ بن عمر ، قرہ ، مالک بن الحویرث بریدہ ، ابو سعید خذری ، ابوہریرہ ، انس ، اسامہ اور براء قابل ذکر ہیں۔
حضرت امام حسین کے بارے میں پیغمبر اکرم کی ایک اور مشہور حدیث ہے:
’’حسین منی وانا من حسین ‘‘(حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں)
اس حدیث میں آپ کے ساتھ امام حسین کے خونی رشتے کے علاوہ دونوں بستیوں کے روحانی اور معنوی روابط کی صراحت ملتی ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ دین اسلام جس کی بنیا د رسول خدا د نے رکھی تھی ، اس کا تحفظ حضرت امام حسین نے کیا۔ اس حدیث کو شیعہ مآخذ کے علاوہ تواتر کے ساتھ سنی مآخذ میں بیان کیاگیا ہے ،اور بعض مآخذ میں اس جملے کے ساتھ دیگر جملے بھی نقل کئے گئے ہیں ،جن میں حضرت امام حسین کے ساتھ حضور اکرم ﷺکی شدید محبت کا اظہار ہوتا ہے ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا ہے کہ ’’جس نے حسین سے محبت کی ،اس نے اللہ سے محبت کی ‘‘نیز فرمایا ہے:خدایا جس نے ان دونوں حسنین سے دشمنی کی میں بھی اس کا دشمن ہوں، بعض سنی مآخذ میں ایسے الفاظ بھی اس حدیث کے ساتھ نقل کئے گئے ہیں۔ جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضور ان لوگوں سے صلح وآشتی چاہتے ہیں جو حضرات حسنین کریمین کے ساتھ امن وسلامتی سے رہیں ،اور ان کے ساتھ آپ نے جنگ کا اعلان کیا ہے ،جو حسنین کے ساتھ جنگ وجدال کے لئے آمادہ ہوتے ہیں۔‘‘حسین مجھ سے ہے ،اور میں حسین سے ہوں‘‘والی حدیث کو نقل کرنے والے سنی اکابرین میں ابن ماجہ ، ترمزی ، ابوہریرہ ، نسائی ، ابن اثیر ، سیوطی ، امام احمد بن حنبل اور طبر ی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ حضرت امام حسین کی عظمت اور پیغمبر اکرم کی ان سے فرط محبت کا اندازہ ابو ہریرہ کی اس روایت سے بھی کر سکتے ہیں۔ ابن عبد البر قرطبی نے ابو ہریرہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:’’میںنے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اپنے کانوں سے سنا ہے ،کہ پیغمبر اکرم امام حسین کے دونوں ہاتھوں کو تھامے ہوئے تھے۔ اور امام حسین کے دونوں پاؤں پیغمبر اکرم کے پاؤںپرتھے ، آپ نے فرمایا :اوپر آمیر ا بیٹا، امام حسین اوپر چلے گئے ،اور آپ نے سینہ پیغمبر پر پاؤں رکھا ، اس وقت آپ نے فرمایا :حسین منہ کھولو ، اس کے بعد حضور نے امام نے حسین کو چوما اورفرمایا :پروردگار اس سے محبت کر ، اس لئے کہ میں اس کو چاہتا ہوں، اہل سنت کے مآخذ اور مشہور سنی محدثین ومؤ رخین کی روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حسنین سے دوستی مومنین پر فرض ہے اوران سے محبت کے بغیر کسی سخص کا ایمان کامل نہیں ہوتا، اور ان سے مقابلہ کرنے والا یا بغض رکھنے والا ان مآخذ کی روشنی میں خدا اور رسول خدا کا دشمن قرار پاتا ہے۔ ترمزی ، ابن ماجہ ، ابن حضر ، امام احمد بن حنبل ، حاکم ، ابوبکر سیوطی ، ابو سعید خدری ، سبط ان الجوزی ، عباس خلیفہ ہارون الرشید ، مؤ رخ طبری حضرات وغیرہ نے عبداللہ بن عمر ،یعلی بن مرہ ، سلمان فارسی وغیرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے ایسی احادیث نقل کی ہیں ،جن کا مفہوم یہ ہے کہ حضور نے ان لوگوں سے محبت ودوستی کا اظہار فرمایا ہے جو حسنین کریمین سے محبت ودوستی رکھتے ہیں ،اور ان لوگوںکے ساتھ نفرت وعناد کا اعلان فرمایا ہے ،جو امام حسن وامام حسین سے دشمنی رکھتے اور بغض کا اظہار کرتے ہیں۔ نیز ان احادیث میںان لوگوں کے لئے جنت نعیم کی بشارت دی گئی ہے جو حسنین سے محبت کرتے ہیں ،اور ان لوگوں کے جہنم واصل ہونے کی خبر دی گئی ہے جو ان دونوں سے بغض وعناد رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں سے بعض حوالوں میں حضرت حسین کے ماں باپ کا بھی ذکر ہے اور یہ ارشاد نبوی نقل کیا گیاہے کہ ’’جس نے مجھ سے محبت کی اور ان دونوں (حسنین )اور ان کے ماں باپ سے محبت کی ، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے برابر مقام پائے گا۔ ‘‘ان مفاہیم کی حامل احادیث میں ایک وہ حدیث بھی شامل ہے جس کے راوی حضرت عبد اللہ بن عمر ہیں اور اس کوابن عبد البر ، ابو حاتم اور محب طبری نے روایت کی ہے ۔ حدیث میںکہا گیا ہے کہ حضور نے امام حسن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
من احبنی فلیحب ہذین(جس نے مجھ سے محبت کی، اسکو چاہئے کہ ان دونوں سے بھی محبت کرے)
مذکورہ احادیث نبوی کی روشنی میںیہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اہل بیت رسول کے ساتھ دشمنی رسول خدا کے ساتھ دشمنی کے متردف ہے ،اور ان سے محبت کا مطلب خدا ورسو ل سے چاہت کا اظہار ہے۔ ان احادیث کے مفاہیم کوایمان کے اصول وشرائط کے تحت پرکھنا چاہئے ،کیوںکہ تکمیل ایمان کی شرط عشق رسول ہے، جس کے بغیر مسلمان اخروی فلاح نہیں پا سکتا چنانچہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں۔
اسی طرح آل محمد سے عشق ومحبت کے بغیر عشق رسول ادھورا ہے ،جس کا مقصد ایمان میں نقص ہے، لیکن کربلا میں یزید لعین نے ہزاروں افراد کا لشکر بھیج کر ، نہ صرف اہل بیت رسول کی توہین کی، بلکہ رسول اللہ کے اس نواسے کو بے دردی سے شہید کیا،جس کی محبت کو پیغمبر اسلام نے امت پر فرض قرار دیا تھا ،ہم محرم الحرام اور عزاداری حسین کے ساتھ ان ایام میں مسلمان عالم کے علاوہ حق وحقیقت او رحریت وآزادی کے علمبر دار وں کو تسلیت پیش کرتے ہیں۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد 1393
 

ہاسٹل میں پڑنا

 

ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی اے بھی پاس کرلیا، لیکن اس نصف صدی کے دوران میں جو کالج میں گزارنی پڑی۔ ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت ہمیں صرف ایک ہی دفعہ ملی۔

خدا کا یہ فضل ہم پر کب اور کس طرح ہوا؟ یہ سوال ایک داستان کا محتاج ہے۔ جب ہم نے انٹرنس پاس کیا تو مقامی اسکول کے ہیڈماسٹر صاحب خاص طور پر مبارکباد دینے کے ليے آئے۔ قریبی رشتہ داروں نے دعوتیں دیں۔ محلے والوں میں مٹھائی بانٹی گئی اور ہمارے گھر والوں پر یک لخت اس بات کا انکشاف ہوا کہ وہ لڑکا جسے آج تک اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے ایک بےکار اور نالائق فرزند سمجھتے رہے تھے، دراصل لامحدود قابلیتوں کا مالک ہے۔ جس کی نشوونما پر بےشمار آنے والی نسلوں کی بہبودی کا انحصار ہے۔ چنانچہ ہماری آئندہ زندگی کے متعلق طرح طرح کی تجویزوں پر غور کیا جانے لگا۔

تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے ہم کو وظیفہ دینا مناسب نہ سمجھا۔ چونکہ ہمارے خاندان نے خدا کے فضل سے آج تک کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا اس ليے وظیفے کا نہ ملنا خصوصاً ان رشتہ داروں کے ليے جو رشتے کے لحاظ سے خاندان کے مضافات میں بستے تھے، فخرومباہات کا باعث بن گیا۔ اور "مرکزی رشتے داروں" نے تو اس کو پاس وضع اور حفظ مراتب سمجھ کر ممتحنوں کی شرافت ونجابت کو بے انتہا سراہا۔ بہرحال ہمارے خاندان میں فالتوں روپے کی بہتات تھی۔ اس ليے بلاتکلف یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ نہ صرف ہماری بلکہ ملک وقوم اور شاید بنی نوع انسان کی بہتری کے ليے یہ ضروری ہےکہ ایسے ہونہار طالب علم کی تعلیم جاری رکھی جائے۔

اس بارے میں ہم سے بھی مشورہ کیا گیا۔ عمر بھر میں اس سے پہلے ہمارے کسی معاملے میں ہم سے رائے طلب نہ کی گئی تھی لیکن اب تو حالات بہت مختلف تھے۔ اب تو ایک غیرجانبدار اور ایماندار مصنف یعنی یونیورسٹی ہماری بیدار مغزی کی تصدیق کرچکی تھی۔ اب بھلا ہمیں کیونکہ نظرانداز کیا جاسکتا تھا۔ ہمارا مشورہ یہ تھا کہ ہمیں فوراً ولایت بھیج دیا جائے۔ ہم نے مختلف لیڈروں کی تقریروں سے یہ ثابت کیا کہ ہندوستان کا طریقہ تعلیم بہت ناقص ہے۔ اخبارات میں سے اشتہار دکھا دکھا کر یہ واضح کیا کہ ولایت میں کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ فرصت کے اوقات میں بہت تھوڑی تھوڑی فیسیں دے کر بیک وقت جرنلزم، فوٹو گرافی، تصنیف وتالیف، دندان سازی، عینک سازی، ایجنٹوں کا کام غرض یہ کہ بےشمار مفید اور کم خرچ بالانشیں پیشے سیکھے جاسکتے ہیں۔ اور تھوڑے عرصے کے اندر انسان ہرفن مولا بن سکتا ہے۔

لیکن ہماری تجویز کو فوراً رد کردیا گیا۔ کیونکہ ولایت بھیجنے کے ليے ہمارے شہر میں کوئی روایات موجود نہ تھیں۔ ہمارے گردونواح میں کسی کا لڑکا ابھی تک ولایت نہ گیا تھا اس لئے ہمارے شہر کی پبلک وہاں کے حالات سے قطعاً ناواقف تھی۔

اس کے بعد پھر ہم سے رائے طلب نہ کی گئی اور ہمارے والد، ہیڈماسٹر صاحب اور تحصیلدار صاحب ان تینوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ ہمیں لاہور بھیج دیا جائے۔

جب ہم نے یہ خبر سنی تو شروع شروع میں ہمیں سخت مایوسی ہوئی۔ لیکن جب ادھر اُدھرکے لوگوں سے لاہور کے حالات سنے تو معلوم ہوا کہ لندن اور لاہور میں چنداں فرق نہیں۔ بعض واقف کار دوستوں نے سینما کے حالات پر روشنی ڈالی۔ بعض نے تھیٹروں کے مقاصد سے آگاہ کیا۔ بعض نے ٹھنڈی سڑک وغیرہ کے مشاغل کو سلجھا کر سمجھایا۔ بعض نے شاہدرے اور شالامار کی ارمان انگیز فضا کا نقشہ کھینچا۔ چنانچہ جب لاہور کا جغرافیہ پوری طرح ہمارے ذہن نشین ہوگیا تو ثابت یہ ہوا کہ خوشگوار مقام ہے۔ اور اعلیٰ درجے کی تعلیم حاصل کرنے کے ليے بےحدموزوں۔ اس پر ہم نے اپنی زندگی کا پروگرام وضع کرنا شروع کردیا۔ جس میں لکھنے پڑھنے کو جگہ تو ضرور دی گئی، لیکن ایک مناسب حد تک، تاکہ طبعیت پر کوئی ناجائز بوجھ نہ پڑے۔ اور فطرت اپنا کام حسن وخوبی کے ساتھ کرسکے۔

لیکن تحصیلدار صاحب اور ہیڈماسٹر صاحب کی نیک نیتی یہیں تک محدود نہ رہی۔ اگر وہ ایک عام اور مجمل سا مشورہ دے دیتے کہ لڑکے کو لاہور بھیج دیا جائے تو بہت خوب تھا۔ لیکن انہوں نے تو تفصیلات میں دخل دینا شروع کردیا۔ اور ہاسٹل کی زندگی اور گھر کی زندگی کا مقابلہ کرکے ہمارے والد پر یہ ثابت کردیا کہ گھر پاکیزگی اور طہارت کا ایک کعبہ اور ہاسٹل گناہ ومعصیت کا ایک دوزخ ہے۔ ایک تو تھے وہ چرب زبان، اس پر انہوں نے بےشمار غلط بیانیوں سے کام لیا۔ چنانچہ گھر والوں کو یقین سا ہوگیا کہ کالج کا ہاسٹل جرائم پیشہ اقوام کی ایک بستی ہے۔ اور جو طلباء باہر کے شہروں سے لاہور جاتے ہیں اگر ان کی پوری طرح نگہداشت نہ کی جائے تو وہ اکثر یاتوشراب کے نشے میں چوُر سڑک کے کنارے کسی نالی میں گرے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ یا کسی جوئے خانہ میں ہزارہا روپے ہار کر خودکشی کرلیتے ہیں یا پھر فرسٹ ائیر کا امتحان پاس کرنے سے پہلے دس بارہ شادیاں کربیٹھے ہیں۔

چنانچہ گھر والوں کو یہ سوچنے کی عادت پڑ گئی کہ لڑکے کو کالج میں تو داخل کیا جائےلیکن ہاسٹل میں نہ رکھا جائے۔ کالج ضرور مگر ہاسٹل ہرگز نہیں۔ کالج مفید۔ مگر ہاسٹل مضر۔ وہ بہت ٹھیک مگر یہ ناممکن۔ جب انہوں نے اپنی زندگی کا نصب العین ہی یہ بنالیا کہ کوئی ایسی ترکیب سوچی جائے جس سے لڑکا ہاسٹل کی زد سے محفوظ رہے تو کسی ترکیب کا سوجھ جانا کیا مشکل تھا۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ چنانچہ ازحد غوروخوض کے بعد لاہور میں ہمارے ایک ماموں دریافت کئے گئے۔ اور ان کو ہمارا سرپرست بنادیا گیا۔ میرے دل میں ان کی عزت پیدا کرنے کے ليے بہت سے شجروں کی ورق گردانی سے مجھ پر یہ ثابت کیا کہ وہ واقعی میرے ماموں ہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ جب میں ایک شیرخوار بچہ تھا تو وہ مجھ سے بےانتہا محبت کیا کرتے تھے۔ چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ ہم پڑھیں کالج میں رہیں ماموں کے گھر۔

اس سے تحصیل علم کا جو ایک ولولہ سا ہمارے دل میں اُٹھ رہا تھا وہ کچھ بیٹھ سا گیا۔ ہم نے سوچا یہ ماموں لوگ اپنی سرپرستی کے زعم میں والدین سے بھی زیادہ احتیاط برتیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے دماغی اور روحانی قویٰ کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے گا۔ اور تعلیم کا اصلی مقصد فوت ہوجائے گا۔ چنانچہ وہی ہوا جس کا ہمیں خوف تھا۔ ہم روزبروز مرجھاتے چلے گئے۔ اور ہمارے دماغ پر پھپھوندی سی جمنے لگی۔ سینما جانے کی اجازت کبھی کبھار مل جاتی تھی لیکن اس شرط پر کہ بچوں کو بھی ساتھ لیتا جاؤں۔ اس صحبت میں، میں بھلا سینما سے کیا اخذ کرسکتا تھا۔ تھیٹر کے معاملے میں ہماری معلومات اندرسبھا سے آگے بڑھنے نہ پائیں۔ تیرنا ہمیں نہ آیا کیونکہ ہمارے ماموں کا ایک مشہور قول ہے کہ ڈوبتا وہی ہے جو تیراک ہو جسے تیرنا نہ آتا ہو وہ پانی میں گھستا ہی نہیں۔ گھر پر آنے جانے والے دوستوں کا انتخاب ماموں کے ہاتھ میں تھا۔ کوٹ کتنا لمبا پہنا جائے، اور بال کتنے لمبے رکھے جائیں۔ ان کے متعلق ہدایات بہت کڑی تھیں۔ ہفتے میں دوبار گھر خط لکھنا ضروری تھا۔ سگریٹ غسل خانے میں چھپ کر پیتے تھے۔ گانے بجانے کی سخت ممانعت تھی۔

یہ سپاہیانہ زندگی ہمیں راس نہ آئی۔ یوں تو دوستوں سے ملاقات بھی ہوجاتی تھی۔ سیر کو بھی چلے جاتے تھے۔ ہنس بول بھی لیتے تھے لیکن وہ جو زندگی میں ایک آزادی ایک فراخی، ایک وارفتگی ہونی چاہئے وہ ہمیں نصیب نہ ہوئی۔ رفتہ رفتہ ہم اپنے ماحول پر غور کرنا شروع کیا کہ ماموں جان عموماً کس وقت گھر میں ہوتے ہیں، کس وقت باہر جاتے ہیں، کس کمرے سے کس کمرے تک گانے کی آواز نہیں پہنچ سکتی، کس دروازے سے کمرے کے کس کونے میں جھانکنا ممکن ہے۔ گھر کا کون سادروزہ رات کے وقت باہر سے کھولا جاسکتا ہے، کون سا ملازم موافق ہے، کون سا نمک حلال ہے۔ جب تجربے اور مطالعے سے ان باتوں کا اچھی طرح اندازہ ہوگیا تو ہم نے اس زندگی میں بھی نشوونما کے ليے چند گنجائشیں پیدا کرلیں۔ لیکن پھر بھی ہم روز دیکھتے تھے کہ ہاسٹل میں رہنے و الے طلباء کس طرح اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر زندگی کی شاہراہ پر چل رہے ہیں۔ ہم ان کی زندگی پر رشک کرنے لگے۔ اپنی زندگی کو سدھارنے کی خواہش ہمارے دل میں روزبروز بڑھتی گئی۔ ہم نے دل سے کہا والدین کی نافرمانی کسی مذہب میں جائز نہیں۔ لیکن ان کی خدمت میں درخواست کرنا، ان کے سامنے اپنی ناقص رائے کا اظہار کرنا، ان کو صحیح واقعات سے آگاہ کرنا میرا فرض ہے۔ اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اپنے فرض کی ادائیگی سے باز نہیں رکھ سکتی۔

چنانچہ جب گرمیوں کی تعطیلات میں، میں وطن کو واپس گیا تو چند مختصر مگر جامع اور مؤثر تقریریں اپنے دماغ میں تیار رکھیں۔ گھروالوں کو ہاسٹل پر سب سے بڑا اعتراض یہ تھا کہ وہاں کی آزادی نوجوانوں کے ليے ازحد مضر ہوتی ہے۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے ليے ہزارہا واقعات ایسے تصنیف کئے جن سے ہاسٹل کے قواعد کی سختی ان پر اچھی طرح روشن ہوجائے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب کے ظلم وتششد کی چند مثالیں رقت انگیز اور ہیبت خیز پیرائے میں سنائیں۔ آنکھیں بند کرکے ایک آہ بھری اور بیچارے اشفاق کا واقعہ بیان کیا کہ ایک دن شام کے وقت بیچارا ہاسٹل کو واپس آرہا تھا۔ چلتے چلتے پاؤں میں موچ آگئی۔ دو منٹ دیر سے پہنچا۔ صرف دو منٹ۔ بس صاحب اس پر سپرنٹنڈنٹ صاحب نے فوراً تار دے کر اس کے والد کو بلوایا۔ پولیس سے تحقیقات کرنے کو کہا۔ اور مہینے بھر کے ليے اس کا جیب خرچ بند کروادیا۔ توبہ ہے الہیٰ!

لیکن یہ واقعہ سن کر گھر کے لوگ سپرنٹنڈنٹ صاحب کے مخالف ہوگئے۔ ہاسٹل کی خوبی ان پر واضح نہ ہوئی۔ پھر ایک دن موقع پا کر بیچارے محمود کا واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ شامت اعمال بیچارا سینما دیکھنے چلا گیا۔ قصور اس سے یہ ہوا کہ ایک روپے والے درجے میں جانے کی بجائے دو روپے والے درجے میں چلا گیا۔ بس اتنی سی فضول خرچی پر اسے عمر بھر کو سینما جانے کی ممانعت ہوگئی ہے۔

لیکن اس سے بھی گھر والے متاثر نہ ہوئے۔ ان کے روئے سے مجھے فوراً احساس ہوا کہ ایک روپے اور دو روپے کی بجائے آٹھ آنے اور ایک روپیہ کہنا چاہئے تھا۔

ان ہی ناکام کوششوں میں تعطیلات گزر گئیں اور ہم نے پھر ماموں کی چوکھٹ پر آکر سجدہ کیا۔

اگلی گرمیوں میں جب ہم پھر گھر گئے تو ہم نے ایک نیا ڈھنگ اختیار کیا۔ دو سال تعلیم پانے کے بعد ہمارے خیالات میں پختگی سی آگئی تھی پچھلے سال ہاسٹل کی حمایت میں جو دلائل ہم نے پیش کی تھیں، وہ اب ہمیں نہایت بودی معلوم ہونے لگی تھیں۔ اب کے ہم نے اس موضوع پر ایک لیکچر دیا کہ جو شخص ہاسٹل کی زندگی سے محروم ہو اس کی شخصیت نامکمل رہ جاتی ہے۔ ہاسٹل سے باہرشخصیت پنپنے نہیں پاتی۔ چند دن تو ہم اس پر فلسفیانہ گفتگو کرتے رہے۔ اور نفسیات کے نقطہ نظر سے اس پر بہت کچھ روشنی ڈالی۔ لیکن ہمیں محسوس ہوا کہ بغیر مثالوں کے کام نہ چلے گا۔ اور جب مثالیں دینے کی نوبت آئی، تو ذرا وقت محسوس ہوئی۔ کالج کے جن طلبا کے متعلق میرا ایمان تھا کہ وہ زبردست شخصیتوں کے مالک ہیں، ان کی زندگی کچھ ایسی نہ تھی کہ والدین کے سامنے بطور نمونے کے پیش کی جاسکے۔ ہر وہ شخص جسے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملاہے، جانتا ہے کہ "والدینی اغراض" کے ليے واقعات کو ایک نئے اور اچھوتے پیرائے میں بیان کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن اس پیرائے کا سوجھ جانا الہام اور اتفاق پر منحصر ہے۔ بعض روشن خیال بیٹے اپنے والدین کو اپنے حیرت انگیز اوصاف کا قائل نہیں کرسکتے اور بعض نالائق سے نالائق طالب علم والدین کو کچھ اس طرح مطمئن کردیتے ہیں کہ ہر ہفتے ان کے نام منی آرڈر چلا آتا ہے۔

بناداں آں چناں روزی رساند

کہ دانا اندراں حیراں بماند

جب ہم ڈیڑھ مہینے تک شخصیت اور ہاسٹل کی زندگی پر اس کا انحصار، ان پر مضمونوں پر وقتاًفوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے تو ایک والد نے پوچھا:

"تمہارا شخصیت سے آخر مطلب کیا ہے؟"

میں تو خدا سے یہی چاہتا تھا کہ وہ مجھے عرض ومعروض کا موقع دیں۔ میں نے کہا۔ "دیکھئے نا۔ مثلاً ایک طالب علم ہے، وہ کالج میں پڑھتا ہے۔ اب ایک تو اس کا دماغ ہے دوسرا اس کا جسم ہے۔ جسم کی صحت بھی ضروری ہے۔ اور دماغ کی صحت تو ضروری ہے ہی۔ لیکن ان کے علاوہ ایک اور بات بھی ہوتی ہے جس سے آدمی کو پہچانا جاتا ہے۔ میں اس کو شخصیت کہتا ہوں۔ اس کا تعلق نہ جسم سے ہوتا ہے نہ دماغ سے، ہوسکتا ہے کہ ایک آدمی کی جسمانی صحت بالکل خراب ہو اور اس کا دماغ بھی بالکل بیکار ہو، لیکن پھر بھی اس کی شخصیت۔۔۔ نہ خیر دماغ تو بیکار نہیں ہونا چاہئے ورنہ انسان خبطی ہوتا ہے لیکن پھر بھی اگر ہو بھی۔ تو بھی۔۔۔ گویا شخصیت ایک ایسی چیز ہے۔۔۔ ٹھہرئیے، میں ابھی ایک منٹ میں آپ کو بتاتا ہوں۔"

ایک منٹ کی بجائے والد نے مجھے آدھ گھنٹے کی مہلت دی جس کے دوران میں وہ خاموشی کے ساتھ میرے جواب کا انتظار کرتے رہے، اس کے بعد وہاں سے اُٹھ کر چلاآیا۔

تین چار دن کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا، مجھے شخصیت نہیں سیرت کہنا چاہئے۔ شخصیت ایک بےرنگ سا لفظ ہے۔ سیرت کے لفظ سے نیکی ٹپکتی ہے۔ چنانچہ میں نے سیرت کو اپنا تکیہ کلام بنالیا۔ لیکن یہ بھی مفید ثابت نہ ہوا۔ والد کہنے لگے۔ "کیا سیرت سے تمہارا مطلب چال چلن ہے یا کچھ اور؟" میں نے کہا "چال چلن کہہ لیجئے۔"

"تو گویا دماغی اور جسمانی صحت کے علاوہ چال چلن بھی اچھا ہونا چاہئے۔"

میں نے کہا۔ "بس یہی تو میرا مطلب ہے۔"

"اور یہ چال چلن ہاسٹل میں رہنے سے بہت اچھا ہوجاتا ہے!"

میں نسبتاً نحیف آواز سے کہا۔ "جی ہاں۔"

"یعنی ہاسٹل میں رہنے والے طالب علم نماز، روزے کے زیادہ پابند ہوتے ہیں، ملک کی زیادہ خدمت کرتے ہیں ، سچ زیادہ بولتے ہیں، نیک زیادہ ہوتے ہیں۔"

میں نے کہا۔ "جی ہاں"۔

کہنے لگے۔ "وہ کیوں؟"

اس سوال کا جواب ایک دفعہ پرنسپل صاحب نے تقسیم انعامات کے جلسے میں نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا، اے کاش میں نے اس وقت توجہ سے سنا ہوتا!

اس کے بعد پھر سال بھر میں ماموں کے گھر میں "زندگی ہے تو خزاں کے بھی گزر جائیں کے دن۔" گاتا رہا۔

ہر سال میری درخواست کا یہی حشر ہوتا رہا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ ہر سال ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ لیکن اگلے سال گرمی کی چھٹیوں میں پہلے سے بھی زیادہ شدومد کے ساتھ تبلیغ کا کام جاری رکھتا۔ ہر دفعہ نئی نئی دلیلیں پیش کرتا، نئی نئی مثالیں کام میں لاتا۔ جب شخصیت اور سیرت والے مضمون سے کام نہ چلا تو اگلے سال ہاسٹل کی زندگی کے انضباط اور باقاعدگی پر تبصرہ کیا۔ اس سے اگلے سال یہ دلیل پیش کی کہ ہاسٹل میں رہنے سے پروفیسروں کے ساتھ ملنے جلنے کے موقعے زیادہ ملتے رہتے ہیں۔ اور ان "بیرون از کالج" ملاقاتوں سے انسان پارس ہوجاتا ہے۔ اس سے اگلے سال یہ مطلب یوں ادا کیا کہ ہاسٹل کی آب وہوا بڑی اچھی ہوتی ہے۔ صفائی کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے۔ مکھیاں اور مچھر مارنے کے ليے کئی کئی افسر مقرر ہیں۔ اس سے اگلے سال یوں سخن پیرا ہوا کہ جب بڑے بڑے حکام کالج کا معائنہ کرتے آتے ہیں تو ہاسٹل میں رہنے والے طلباء سے فرداً فرداً ہاتھ ملاتے ہیں، اس سے رسوخ بڑھتا ہے لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا گیا، میری تقریروں میں جوش بڑھتا گیا، معقولیت کم ہوتی گئی۔ شروع شروع میں ہاسٹل کے مسئلے پر والد مجھ سے باقاعدہ بحث کیا کرتے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے یک لفظی انکار کا رویہ اختیار کیا۔ پھر ایک آدھ سال مجھے ہنس کے ٹالتے رہے۔ اور آخر میں یہ نوبت آن پہنچی کہ وہ ہاسٹل کا نام سنتے ہی طنز آمیز قہقہے کے ساتھ مجھے تشریف لے جانے کا حکم دے دیا کرتے تھے۔

ان کے اس سلوک سے آپ یہ اندازہ نہ لگائیے کہ ان کی شفقت کچھ کم ہوگئی تھی، ہر گز نہیں حقیقت صرف اتنی ہے کہ بعض ناگوار حادثات کی وجہ سے گھر میں میرا اقتدار کچھ کم ہوگیا تھا۔

اتفاق یہ ہوا کہ میں نے جب پہلی مرتبہ بی۔اے کا امتحان دیا، تو فیل ہوگیا۔ اگلے سال ایک مرتبہ پھر یہی واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد بھی جب تین چار دفعہ یہی قصہ ہوا تو گھر والوں نے میری امنگوں میں دلچسپی لینی چھوڑ دی۔ بی۔اے میں پےدرپے فیل ہونے کی وجہ سے میری گفتگو میں ایک سوز تو ضرور آگیا تھا، لیکن کلام میں وہ پہلے جیسی شوکت اور میری رائے وہ پہلی جیسی وقعت اب نہ رہی تھی۔

میں زمانۂ طالب علمی کے اس دور کا حال ذرا تفصیل سے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ اس سے ایک تو آپ میری زندگی کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہوجائیں گے اور اس کے علاوہ اس سے یونیورسٹی کی بعض بےقاعدگیوں کا راز بھی آپ پر آشکار ہو جائے گا۔

میں پہلے سال بی۔اے میں کیوں فیل ہوا؟ اس کا سمجھنا بہت آسان ہے۔ بات یہ ہوئی کہ جب ہم نے ایف۔اے کا امتحان دیا تو چونکہ ہم نے کام خوب دل لگا کر کیا تھا، اس ليے ہم اس میں "کچھ" پاس ہی ہوگئے۔ بہرحال فیل نہ ہوئے، یونیورسٹی نے یوں تو ہمارا ذکر بڑے اچھے الفاظ میں کیا لیکن ریاضی کے متعلق یہ ارشاد ہوا کہ صرف اس مضمون کا امتحان ایک آدھ دفعہ پھر دے ڈالو۔ (ایسے امتحان کو اصطلاحاً کمپارٹمنٹ کا امتحان کہا جاتا ہے۔ شاید اس ليے کہ بغیر رضامندی اپنے ہمراہی مسافروں کے اگر کوئی اس میں سفر کر رہے ہوں، نقل نویسی کی سخت ممانعت ہے۔)

اب جب ہم بی۔اے میں داخل ہونے لگے تو ہم نے یہ سوچا کہ بی۔اے میں ریاضی لیں گے۔ اس طرح سے کمپارٹمنٹ کے امتحان کے ليے فالتو کام نہ کرنا پڑےگا۔ لیکن ہمیں سب لوگوں نے یہ مشورہ دیا کہ تم ریاضی مت لو۔ جب ہم نے اس کی وجہ پوچھی تو کسی نے ہمیں کوئی معقول جواب نہ دیالیکن جب پرنسپل صاحب نے بھی مشورہ دیا تو ہم رضامند ہوگئے۔ چنانچہ بی۔اے میں ہمارے مضامین انگریزی، تاریخ اور فارسی قرار پائے۔ ساتھ ساتھ ہم ریاضی کے امتحان کی بھی تیاری کرتے رہے۔ گویا ہم تین کی بجائے چار مضمون پڑھ رہے تھے۔ اس طرح سے جو صورت حال پیدا ہوئی اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جنہیں یونیورسٹی کے امتحانات کا کافی تجربہ ہے۔ ہماری قوت مطالعہ منتشر ہوگئی اور خیالات میں پراگندگی پیدا ہوئی۔ اگر مجھے چار کی بجائے صرف تین مضامین پڑھنے ہوتےتو جو وقت میں فی الحال چوتھے مضمون کو دے رہا تھا۔ وہ بانٹ کر ان تین مضامین کو دیتا۔ آپ یقین مانئے اس سے بڑا فرق پڑ جاتا اور فرض کیا اگر میں وہ وقت تینوں کو بانٹ کر نہ دیتا بلکہ سب کا سب ان تینوں میں سے کسی ایک مضمون کے ليے وقف کردیتا تو کم از کم اس مضمون میں تو ضرور پاس ہو جاتا۔ لیکن موجودہ حالات میں تو وہی ہونا لازم تھا جو ہوا۔ یعنی یہ کہ میں کسی مضمون پر بھی کماحقہٗ  توجہ نہ کرسکا۔ کمپارٹمنٹ کے امتحان میں تو پاس ہوگیا لیکن بی۔اے میں ایک تو انگریزی میں فیل ہوا۔ وہ تو ہونا ہی تھا کیونکہ انگریزی ہماری مادری زبان نہیں۔ اس کے علاوہ تاریخ اور فارسی میں بھی فیل ہوگیا۔ اب آپ ہی سوچئے ناکہ جو وقت مجھے کمپارٹمنٹ کے امتحان پر صرف کرنا پڑا وہ اگر میں وہاں صرف نہ کرتا بلکہ اس کے بجائے۔۔۔ مگر خیر یہ بات میں پہلے عرض کرچکا ہوں۔

فارسی میں کسی ایسے شخص کا فیل ہونا جو ایک علم دوست خاندان سے تعلق رکھتا ہو لوگوں کے ليے ازحد حیرت کا موجب ہوا۔ اور سچ پوچھئے تو ہمیں بھی اس پر سخت ندامت ہوئی۔ لیکن خیر اگلے سال یہ ندامت دھل گئی۔ اور ہم فارسی میں پاس ہوگئے اور اس سے اگلے سال تاریخ میں پاس ہوگئے اور اس سے اگلے سال انگریزی میں۔

اب قاعدے کی رو سے ہمیں بی۔اے کا سرٹیفکیٹ مل جانا چاہئے تھا۔ لیکن یونیورسٹی کی اس طفلانہ ضد کا کیا علاج کہ تینوں مضمونوں میں بیک وقت پاس ہونا ضروری ہے۔ بعض طبائع ایسی ہیں کہ جب تک یکسوئی نہ ہو، مطالعہ نہیں کرسکتے۔ کیا ضروری ہے کہ ان کے دماغ کو زبردستی ایک کھچڑی سا بنا دیا جائے۔ ہم نے ہر سال صرف ایک مضمون پر اپنی تمام تر توجہ دی اور اس میں وہ کامیابی حاصل کی کہ بایدوشاید، باقی دو مضمون ہم نے نہیں دیکھے لیکن ہم نے یہ تو ثابت کردیا کہ جس مضمون میں چاہیں پاس ہوسکتے ہیں۔

اب تک تو دو دو مضمونوں میں فیل ہوتے رہے تھے لیکن اس کے بعد ہم نے تہیہ کرلیا کہ جہاں تک ہوسکا اپنے مطالعے کو وسیع کریں گے۔ یونیورسٹی کے بیہودہ اور بےمعنی قواعد کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بناسکتے تو اپنی طبعیت پر ہی کچھ زور ڈالیں۔ لیکن جتنا غور کیا اس نتیجے پر پہنچے کہ تین مضمونوں میں بیک وقت پاس ہونا فی الحال مشکل ہے۔ پہلے دو میں پاس ہونے کی کوشش کرنی چاہئے۔ چنانچہ ہم پہلے سال انگریزی اور فارسی میں پاس ہوگئے۔ اور دوسرے سال فارسی اور تاریخ میں۔

جن جن مضامین میں ہم جیسے جیسے فیل ہوئے وہ اس نقشے سے ظاہر ہیں:

(۱) انگریزی ۔۔۔ تاریخ۔۔۔ فارسی

(۲) انگریزی۔۔۔ تاریخ

(۳) انگریزی۔۔۔ فارسی

(۴) تاریخ۔۔۔ فارسی

گویا جن جن طریقوں سے ہم دو دو مضامین میں فیل ہوسکتے تھے وہ ہم نے سب پورے کر دئے۔ اس کے بعد ہمارے ليے دو مضامین میں فیل ہونا ناممکن ہوگیا۔ اور ایک ایک مضمون میں فیل ہونے کی باری آئی۔ چنانچہ اب ہم نے مندرجہ ذیل نقشے کے مطابق فیل ہونا شروع کردیا:

(۵) تاریخ میں فیل

(۶) انگریزی میں فیل

اتنی دفعہ امتحان دے چکنے کے بعد جب ہم نے اپنے نتیجوں کو یوں اپنے سامنے رکھ کر غور کیا تو ثابت ہوا کہ غم کی رات ہونے والی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اب ہمارے فیل ہونے کا صرف ایک ہی طریقہ باقی رہ گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فارسی میں فیل ہوجائیں۔ لیکن اس کے بعد تو پاس ہونا لازم ہے ہرچند کہ یہ سانحہ ازحد جانکاہ ہوگا۔ لیکن اس میں یہ مصلحت تو ضرور مضمر ہے کہ اس سے ہمیں ایک قسم کا ٹیکا لگ جائے گا۔ بس یہی ایک کسر باقی رہ گئی ہے۔ اس سال فارسی میں فیل ہوں گے اور پھر اگلے سال قطعی پاس ہوجائیں گے۔ چنانچہ ساتویں دفعہ امتحان دینے کے بعد ہم بیتابی سے فیل ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ یہ انتظار دراصل فیل ہونے کا انتظار نہ تھا بلکہ اس بات کا انتظار تھا کہ اس فیل ہونے کے بعد ہم اگلے سال ہمیشہ کے ليے بی۔اے ہوجائیں گے۔

ہر سال امتحان کے بعد جب گھر آتا تو والدین کو نتیجے کے ليے پہلے ہی سے تیار کردیتا۔ رفتہ رفتہ نہیں بلکہ یکلخت اور فوراً، رفتہ رفتہ تیار کرنے سے خواہ مخواہ وقت ضائع ہوتا ہے۔ اور پریشانی مفت میں طول کھینچتی ہے۔ ہمارا قاعدہ یہ تھا کہ جاتے ہی کہہ دیا کرتے تھے کہ اس سال تو کم از کم پاس نہیں ہوسکتے، والدین کو اکثر یقین نہ آتا۔ ایسے موقعوں پر طبعیت کو بڑی الجھن ہوتی ہے۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے میں پرچوں میں کیا لکھ کر آیا ہوں۔ اچھی طرح جانتا ہوں کہ ممتحن لوگ اگر نشے کی حالت میں پرچے نہ دیکھیں تو میرا پاس ہونا قطعاً ناممکن ہے۔ چاہتا ہوں کہ میرے تمام بہی خواہوں کو بھی اس بات کا یقین ہوجائے تاکہ وقت پر انہیں صدمہ نہ ہو۔ لیکن بہی خوا ہ ہیں کہ میری تمام تشریحات کو محض کسر نفسی سمجھتے ہیں۔ آخری سالوں میں والد کو فوراً یقین آجایا کرتا تھا کیونکہ تجربہ سے ان پر ثابت ہوچکا تھا کہ میرا انداز غلط نہیں ہوتا،لیکن ادھر اُدھر کے لوگ "اجی نہیں صاحب" اجی کیا کہہ رہے ہو"۔ "اجی یہ بھی کوئی بات ہے"۔ ایسے فقروں سے ناک میں دم کردیتے۔ بہرحال اب کے پھر گھر پہنچتے ہی ہم نے حسب دستور اپنے فیل ہونے کی پیشن گوئی کردی۔ دل کو یہ تسلی تھی کہ بس یہ آخری دفعہ ہے۔ اگلے سال ایسی پیش گوئی کرنے کی کوئی ضرورت نہ ہوگی۔

ساتھ ہی خیال آیاکہ وہ ہاسٹل کا قصہ پھر شروع کرنا چاہئے۔ اب تو کالج میں صرف ایک ہی سال باقی رہ گیا ہے۔ اب بھی ہاسٹل میں رہنا نصیب نہ ہواتو عمر بھر گویا آزادی سے محروم رہے۔ گھر سے نکلے تو ماموں کے ڈربے میں اور جب ماموں کے ڈربے سے نکلے تو شاید اپنا ایک ڈربا بنانا پڑےگا۔ آزادی کا ایک سال۔ صرف ایک سال اور یہ آخری موقعہ ہے۔

آخری درخواست کرنے سے پہلے میں نے تمام ضروری مصالحہ بڑی احتیاط سے جمع کیا، جن پروفیسروں سے مجھے اب ہم عمری کا فخر حاصل تھا، ان کے سامنے نہایت بےتکلفی سے اپنی آرزوؤں کا اظہار کیا اور ان سے والد کو خطوط لکھوائے کہ اگلے سال لڑکے کو ضرور آپ ہاسٹل میں بھیج دیں۔ بعض کامیاب طلباء کے والدین سے بھی اس مضمون کی عرضداشتیں بھجوائیں۔ خود اعدادوشمار سے ثابت کیا کہ یونیورسٹی سے جتنے لڑکے پاس ہوتے ہیں، ان میں سے اکثر ہاسٹل میں رہتے ہیں، اور یونیورسٹی کا کوئی وظیفہ یا تمغہ یا انعام تو کبھی ہاسٹل سے باہر گیا ہی نہیں۔ میں حیران ہوں کہ یہ دلیل مجھے اس سے پیشتر کبھی کیوں نہ سوجھی تھی۔ کیونکہ یہ بہت کارگر ثابت ہوئی۔ والد کا انکار نرم ہوتے ہوتے غورغوص میں تبدیل ہوگیا، لیکن پھر بھی ان کے دل سے شک رفع نہ ہوا۔ کہنے لگے۔ "میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جس لڑکے کو پڑھنے کا شوق ہو وہ ہاسٹل کی بجائے گھر پر کیوں نہیں پڑھ سکتا۔"

میں نے جواب دیا کہ ہاسٹل میں ایک علمی فضا ہوتی ہے، جو ارسطو اور افلاطون کے گھر کے سوا اور کسی کے گھر میں دستیاب نہیں ہوسکتی۔ ہاسٹل میں جسے دیکھو بحر علوم میں غوطہ زن نظر آتا ہے باوجود اس کے کہ ہر ہاسٹل میں دو دو تین تین سو لڑکے رہتے ہیں پھر بھی وہ خموشی طاری ہوتی ہے کہ قبرستان معلوم ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر ایک اپنے پنے کام میں لگا رہتا ہے۔ شام کے وقت ہاسٹل کے صحن میں جابجا طلبا علمی مباحثوں میں مشغول نظر آتے ہیں۔ علی الصبح ہر ایک طالب علم کتاب ہاتھ میں ليے ہاسٹل کے چمن میں ٹہلتا نظر آتا ہے۔ کھانے کے کمرے میں، کامن روم میں، غسل خانوں میں، برآمدوں میں، ہر جگہ لوگ فلسفے اور ریاضی اور تاریخ کی باتیں کرتے ہیں، جن کو ادب انگریزی کا شوق ہے وہ دن رات آپس میں شیکسپیئر کی طرح گفتگو کرنے کی مشق کرتے ہیں۔ ریاضی کے طلباء اپنے ہر ایک خیال کو الجبرے میں ادا کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں۔ فارسی کے طلباء رباعیوں میں تبادلہ خیالات کرتے ہیں۔ تاریخ کے دلدادہ۔۔۔"

والد نے اجازت دے دی۔

اب ہمیں یہ انتظار کہ کب فیل ہوں، اور کب اگلے سال کے ليے عرضی بھیجیں۔ اس دوران میں ہم نے ان تمام دوستوں سے خط وکتابت کی جن کے متعلق یقین تھا کہ اگلے سال پھر ان کی رفاقت نصیب ہوگی اور انہیں یہ مژدہ سنایا کہ آئندہ سال ہمیشہ کے ليے کالج کی تاریخ میں یادگار رہے گا کیونکہ ہم تعلیمی زندگی کا ایک وسیع تجربہ اپنے ساتھ ليے ہاسٹل میں آرہے ہیں۔ جس سے ہم طلباء کی نئی پود کو مفت مستفید فرمائیں گے۔ اپنے ذہن میں ہم نے ہاسٹل میں اپنی حیثیت ایک مادر مہربان کی سی سوچ لی جس کے اردگرد ناتجربہ کار طلباء مرغی کے بچوں کی طرح بھاگتے پھریں گے۔ سپرنٹنڈنٹ صاحب جو کسی زمانے میں ہمارے ہم جماعت رہ چکے تھے لکھ بھیجا کہ جب ہم ہاسٹل میں آئیں تو فلاں فلاں مراعات کی توقع آپ سے رکھیں گے، اور فلاں فلاں قواعد سے اپنےآپ کو مستثنیٰ سمجھیں گے۔ اطلاعاً عرض ہے۔ اور یہ سب کچھ کرچکنے کے بعد ہماری بدنصیبی دیکھئے کہ جب نتیجہ نکلا تو ہم پاس ہوگئے۔

ہم پہ تو جو ظلم ہوا سو ہوا، یونیورسٹی والوں کی حماقت ملاحظہ فرمائیے کہ ہمیں پاس کرکے اپنی آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ ہاتھ سے گنوا بیٹھے۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه بیست و نهم مرداد 1393
 

 بلتستان قدرت کی بے مثل صناع کا ایک ایسا لا جواب شاہکار  ہے۔ جس کو دیکھنے کے بعد کائنات کے تمام رنگ یکدم پھیکے پڑتے ہوۓ محسوس ہوتے ہیں۔ سارے مناظر اپنی دلکشی کھو دیتے ہیں اور قدیم قبائلی نقشیں عبائیں لپٹی ہوئی جدید طرز زندگی کو حیرت سے تکتی ہیں۔    سیدھی سادی ، پرسکون وادی بلتستان اپنے خیراکن جلوؤں سمیت ہنگاموں میں آبستی ہے۔ فلک بوس پہاڑوں کی ناقابل شکست آغوش میں محو خواب بلتستان کی سرسبز شاداب قدرتی حسن سے مالا مال پر فطرت نے اپنے خزانے وا کر دیۓ ہیں۔ پاکستان کی شمالی علاقہ جات میں شامل وادی بلتستان اپنے قدرتی حسن و دلکشی کی بنا پر ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ جس نے اپنے جلو میں جن فطرتی خزانوں کو سمیٹ رکھا ہے انہیں الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔شمالی علاقہ جات کا اطلاق گلگت، بلتستان، گانگچھے، دیامر اور غذر کے اضلاع پر ہوتا ہے ان کے شمال مغرب میں افغانستان، شمال میں چین ، اور مشرق و جنوب میں کشمیر و لداخ کے وہ علاقے ہیں جن پر بھارت نے ظالمانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ تقریبا ساڑھے ستائیس ہزار مربع میل رقبہ پر پھیلے ہوۓ ان علاقوں میں قدرت کے عجائبات صدیوں سے موجود ہیں ۔ وسیع و عریض گلیشئیر ، ہزاروں فٹ بلند پہاڑ، تنگ وادیاں ، گہری کھائیاں اور بل کھاتی پر جوش ندیاں اس علاقے کی خصوصی شناخت ہیں۔ جن کے درمیان زندگی سرکتی، چلتی، بہتی، لڑھکتی، کھسکتی اور آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔دنیاکے بعض بلند ترین چوٹیاں ان علاقوں میں متمکن ہیں۔ ان میں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی k2 کے علاوہ دنیا کا بلند ترین محاز جنگ سیاچن گلیشئیر ، کرگل، دراز کے مشہور محاز جنگ اور مشہ بروم ، ننگا پربت کے علاوہ 30 ایسی چوٹیاں ہیں جن کی بلندی چوبیس ھزار فٹ سے زیادہ ہے۔دس ھزار مربع میل پر پھیلی ہوئی وادی بلتستان کی رنگارنگ وسحر خیز وادی کی کل آبادی 400000 افراد پر مشتمل ہے۔ جو دور و دراز پہاڑوں ، کہساروں اور ہری بھری وادیوں کے دامن میں یکسانیت کے ساتھ حیران کن حد تک پر سکون زندگی گزارتی  چلی آرہی ہے۔محققین کے مطابق سکندر اعظم کے بر صغیر پر حملہ کے دوران ، اس کے کئی جرنیل بھٹک کر گلگت کے علاقے میں آگئے تھے، جن کے بعد انہوں نے واپس جانا منظور نہیں کیا اور یہان کے ہو رہے۔ انہی لوگوں سے بلتستان میں آبادی کا آغاز ہوا یہی لوگ موجودہ آبادی کے جد امجد تھے۔سولہویں صدی عیسوی سے بلتستان کی باقاعدہ اور مستند تاریخ کا آغاز ہوتا ہے جس نے کسی پراسرار داستان کی مانند بے شمار آفسانوی موڑ کاٹتے ہوۓ اپنے سفر کو آج کی منزل تک پہنچایا ہے۔ سولہویں صدی سے قبل بلتستان باقی ماندہ دنیا سے کٹا ہوا ایک چھوٹا سا علاقہ تھا۔ جس کے گرد تنے ہوۓ پہاڑ اس کے عوام کے ترقی کی راہ میں مزاحم تھے۔ تو دشمنوں سے محفوظ رہنے کے لیۓ مؤثر ترین حصار بھی تھے۔بلتستان کی لوک روایات کا عظیم ترین ہیرو علی شیر خان انچن نے مختصر عرصہ میں مشرق میں لداخ اور مغرب میں چترال کے علاقہ تک کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا۔ قبائلی روایات کے مطابق علی شیر خان انچن نے ان علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لیۓ بہت کام کیا ۔ لیکن اس سے زیادہ کارنامے اس کی مغل ملکہ میندوق رگیالمو{پھولوں کی شہزادی} نے سر انجام دیۓ اس نے بلتستان کی وادی کو جدید انداز سے آراستہ کیا لیکن یہی اس کی موت کا سبب بھی بنی۔ علی شیر خان انچن کا بیشتر وقت جنگ و جدل میں مصروف بلتستان سے باہر گزرتا تھا۔ اس کی غیر موجودگی میں ملکہ تعمیراتی کام کراتی تھی۔ ایک موقع پر علی شیر خان جب واپس آیا تو اس نے کہا ملکہ میندوق تم نے میرے وطن کو جنت بنا دیا ہے جس کے لیۓ انعام و اکرام کی بہترین حقدار ہو۔ لیکن ساتھ ہی تم نے میرے مضبوط قلعہ کھرفوچو تک راستہ بنوا کر دشمنوں کی رسائی کو آسان بنادی ہے جس کی سزا پھانسی ہے ۔ اگر چہ انہوں نے ملکہ کو پھانسی تو نہیں دی لیکن ملکہ کو اس تذلیل اور بے وقعتی کا اس قدر صدمہ ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ بعد مر گئی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جب تحریک آزادی اپنے عروج پر تھی ۔ بلتستان کی سو فیصد مسلم آبادی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا ۔ تاہم انہیں اس کا حق نہ دیا گیا۔ 1948 میں آزادی کشمیر کے لیۓ لڑی جانے والی جنگ کے دوران عوام نے بھارتی افواج کو رسوا کن شکست سے دوچار کیا۔اب سے کچھ عرصہ قبل تک فلک بوس پہاڑوں کے باعث یہ علاقہ کسی کی نظر میں نہیں آسکا تھا ۔ اور اس کا حسن ، عشاقان فطرت کے نگاہوں سے اوجھل تھا۔ لیکن پھر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بلتستان کے حسن کے افسانے عام ہوتے گۓ اور سیاح جوق در جوق ادھر کا رخ کرنے لگے۔ اس وقت سالانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں اور دلکش نظاروں کی لا زوال یاد اپنے ہمراہ لے جاتے ہیں۔ سیاحوں کی آمد و رفت نے اس علاقے کی قسمت کو تبدیل کر دیا ہے۔ چنانچہ اب تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ اب سے کچھ عرصہ قبل تک سڑکوں کی عدم موجودگی کے باعث بلتستان کے بلند و بالا پہاڑوں کو عبور کر کے پھتریلی چٹانوں کے درمیان سے یہاں تک پہنچنا بہت مشکل تھا۔اب یہاں سڑکوں کا جال سا بچھا ہوا ہے۔ جن پر بسیں ، ٹرک، جیپیں، کاریں اور فوجی گاڑیاں شب و روز رواں دواں نظر آتی ہے۔غربت و افلاس کی چکی میں پسی ہوئی یہاں کی عورتوں کی زندگی گھریلو کام کاج اور کاشتکاری پر منحصر ہے۔ ایک ہی گھر میں کئی کئی خواتین کی موجودگی کے باوجود یہاں کے گھریلو زندگی انتہائی پر سکون ہے اور گھروں کی تنگی ان کے دلوں کی وسعت پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔ یہاں تعلیم یافتہ عورتوں کا تناسب نہ ہونے کے برابر تھا لیکن اب رفتہ رفتہ عورتوں میں بھی تعلیم کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی شعور ابھی ارتقائی مراحل میں ہی ہے۔ لڑکیوں کی چھوٹی عمر میں شادی کرادی جاتی ہے اس سلسلے میں عمر کی تفریق یا جذباتی ہم آہنگی کو زیادو اہمیت نہیں دی جاتی۔ والدین اور بزرگوں کی راۓ کا احترام کیا جاتا ہے۔ عورتیں روایتی پردہ کا سختی سے احترام کرتی ہیں اور گلیوں ، بازاروں یا کھیتوں میں کسی مقامی عورت کا بے پردہ نظر آنا ناممکن ہے۔ فطری ماحول ، ذہنی سکون ، اور خالص خوراک میں یہاں کے رہنے والوں میں حسن و دلکشی کے رنگ بھر دیۓ ہیں، بجا طور پر بلتستانی عوام کو خوبصورتی کے اعتبار سے دینا کے مصنوعی حسن پر کمال فوقیت حاصل ہے۔بلتستان کے وسیع و عریض گلیشئیر اور پہاڑوں پر جہی ہوئی برف، بے شمار دریاؤں اور ندی نالوں کے منبع ہیں اور تازہ پانی کی ملگ گیر فراہمی کے مراکز ہیں۔ کوہ ہمالیہ اور سلسلہ قراقرم کے ساتھ ساتھ میلوں تکی پھیلے ہوۓ گلیشئیرز میں ہسپر ، بلترو، اور بیافو بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔اور ارض بلتستان ان دریاؤں کے اطراف میں بسی ہوئی حسین و جمیل بستیوں سے مرصع ہے۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے پانی سے فائدہ اٹھاتے ہوۓ یہاں کی تازہ فرحت بخش فضاؤں میں سیب ، خوبانی ، آڑو ، اخروٹ ، انگور ، زرشک ، انار، بادام اور چیری کے علاوہ دیگر انواع و اقسام کے فروٹ پیدا ہوتے ہیں۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم مرداد 1393
 

آٹھ سال قبل، صیہونی حکومت نے تیرہ جولائی دوہزار چھ میں لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ کا آغاز کیا تھا۔ صیہونی حکومت، لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ میں اپنا کوئی ایک مقصد بھی حاصل نہ کرسکی۔

 آٹھ سال قبل، صیہونی حکومت نے تیرہ جولائی دوہزار چھ میں لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ کا آغاز کیا تھا۔ صیہونی حکومت، لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ میں اپنا کوئی ایک مقصد بھی حاصل نہ کرسکی۔
یہ جنگ چودہ اگست دوہزارچھہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سترہ سوایک جاری ہونے کے بعد ختم ہوئی لیکن صیہونی حکومت، اس قرارداد کے بعد بھی لبنان کی ارضی سالمیت کی بارہا مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں لبنان کی شکایت کے باوجود اس ادارے کی جانب سے کوئی عملی قدم نہيں اٹھایاگیا ہے۔
دوہزار چھ میں تینتیس روزہ جنگ کے دوران صیہونی حکومت کے ایک سو انیس فوجی ہلاک ہوئے اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔
اس جنگ میں بارہ سو لبنانی شہری شہید ہوئے اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سیدحسن نصراللہ نے اس تینتیس روزہ جنگ کی مناسبت سے لبنانی اخبار، الاخبار کوانٹرویو دیا ہے جو آج شائع ہوا۔ حزب اللہ لبنان نے اس انٹرویو میں صیہونی حکومت کوعلاقے میں غاصبانہ قبضے اور جرائم کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
سیدحسن نصراللہ نے صیہونی حکومت کےمقابلے میں حزب اللہ لبنان کی مکمل آمادگی کا اعلان کر تے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا کہ مستقبل میں صیہونی حکومت کے خلاف جنگ میں کوئي ریڈ لائن نہیں ہوگي۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ صیہونی حکومت کے لئے جوچیز ہم نے تیار کررکھی ہے اس پر شام میں دہشتگردوں کےخلاف ہمارے کام کا کوئي اثر نہيں ہوگا اور اس کا صیہونیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے حزب اللہ کے ہتھیاروں پر بھی کوئي اثر نہيں پڑےگا۔
حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ شام میں استقامت کی موجودگی کا صیہونیوں کامقابلہ کرنے کے لئے حزب اللہ کی آمادگی پر کوئی اثر نہيں پڑےگا کہا کہ جس طرح ہم نے جنوب میں حزب اللہ کی سرحدوں کی حفاظت کی ہے اسی طرح شام سے ملحق اپنی سرحدوں اور ملک کا دفاع کریں گے۔
سیدحسن نصراللہ نے اپنے بیانات کے دوسرے حصے میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ وہ ہرگز دھمکی نہيں دے رہے ہيں کہا کہ ہم جو کام کرنے کی توانائی نہيں رکھتے اس کی بات نہیں کرتے۔
حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے صیہونی حکومت کی جانب سے آٹھ جولائی سے شروع کی جانے والی غزہ کی حالیہ جنگ کے بارے میں کہا کہ فلسطینی استقامت، غزہ میں اس حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے کا حق رکھتی ہے تاکہ ایک حقیقی کامیابی تک پہنچ سکے۔
سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ غزہ میں استقامت کوحق حاصل ہے کہ وہ حقیقی کامیابی تک پہنچ جائے اور یہ جنگ حزب اللہ اور حماس کےدرمیان تعلقات کے پرجوش ہونے کا باعث ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ ، جمعہ کے دن لبنان اورعلاقے کے اہم مسائلے کے بارے ميں ایک اہم خطاب کرنے والے ہيں۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم مرداد 1393
 

حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے علاقے میں جرائم و تسلط پسندی کے جاری رہنے کے حوالے سے صہیونی حکومت کو خبردار کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سید حسن نصراللہ نے لبنان سے شائع ہونے والے روزنامہ الاخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ مستقبل میں صہیونی ریاست کے ساتھ جنگ میں سیکیورٹی اعتبار سے کسی بھی قسم کی ریڈ لائن کا لحاظ نہیں رکھا جائے گا۔ حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت کے لئے ایسا منصوبہ تیار کیا ہے کہ دہشتگردوں کے خلاف شام میں جو کام انجام دیئے ہیں ان سے بالکل مخلتف ہوگا اور یہ مسئلہ صہیونیوں کے خلاف مقابلے کے لئے، منصوبوں اور مزاحمت کے ہتھیاروں پر اثرانداز نہیں ہوگا۔
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے غاصب صہیونی ریاست کے خلاف مزاحمت کے جاری رکھنے پر تاکید کی اور کہا کہ غزہ میں فلسطینی مزاحمت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے خلاف جنگ کرے تاکہ اسے حقیقی کامیابی حاصل ہو۔ واضح رہے کہ سید حسن نصراللہ کا یہ انٹرویو دو قسطوں میں جمعرات اور جمعہ کی اشاعت میںس شائع ہوگا۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم مرداد 1393
 

اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آيت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے مسلمانوں کے اتحاد کو آج کی اسلامی دنیا کی سیاسی، شرعی اور عقلی ضرورت قرار دیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آيت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے مسلمانوں کے اتحاد کو آج کی اسلامی دنیا کی سیاسی، شرعی اور عقلی ضرورت قرار دیا ہے۔ ایسنا خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے آج پاکستان کے شیعہ وفاق المدارس کے سربراہ اور جامعۃ المنتظر کے پرنسپل علامہ سید ریاض حسین نجفی سے تہران میں ملاقات کے دوران کہا کہ عصر حاضر میں اغیار مسلمانوں کے درمیان تشدد پسندی کی ترویج کرنے میں لگے ہوئے ہیں تو ایسی حالت میں بعض افراد قومی اور مذہبی اختلافات کو ہوا دےکر دشمن کی مدد کر رہے ہیں۔ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے پاکستانی عوام کی تاریخ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستانی عوام اغیار کے دباؤ اور پروپیگنڈے کے باوجود اپنے دین کے پابند ہیں۔ آیت اللہ رفسنجانی نے پاکستان کے دینی مدارس کو ان مدارس سے مختلف قرار دیا جن میں طالبان پروان چڑھتے ہیں اور کہا کہ طالبان وہی وہابی، سلفی، تکفیری، داعش، بوکوحرام اور القاعدہ ہیں اور ان سب کا مشترکہ کام دین اسلام کو بدنام کرنا ہے۔

اس ملاقات میں علامہ سید ریاض حسین نجفی نے پاکستان میں اپنے حوزہ ہائے علمیہ کی ایک مختصر رپورٹ پیش کرنے کے بعد آیت اللہ رفسنجانی کی انقلاب و ایران کے تئین خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: امید کی جاتی ہے کہ مسلمانوں کی بزرگ شخصیات اتحاد واتفاق کو قائم کرنے اور فرقہ واریت اور تفرقہ بازی سے اسلامی معاشرے کو دور رکھنے کے لیے ٹھوس اقدام کریں گی۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم مرداد 1393
 

سعودی عرب کی عدالت نے ایک شیعہ عالم دین کو آٹھ سال قید کی سزا کا حکم سنایا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جرمن نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ریاض کی ایک عدالت نے گذشتہ روز تین سال قبل گرفتار کئے جانے والے شعیہ عالم دین ’’توفیق العامر‘‘ کے خلاف غیر منصفانہ حکم جاری کرتے ہوئے، رائے عامہ کو مشتعل کرنے، بادشاہ کے خلاف فتوی دینے اور سعودی عرب کی قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کے بے بنیاد و خود ساختہ الزامات عائد کر کے آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سعودی عرب کی عدلیہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ ریاض کی عدالت نے آٹھ سال قید کی سزا کے پوری ہونے کے بعد توفیق العامر کو دس سال کے لئے ممنوع الخروج  قرار دیا ہے۔ العامر کے وکیل نے اس غیر منصفانہ حکم پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : پنجشنبه بیست و سوم مرداد 1393
 

صدر ممنون حسین نے یوم آزادی پر اپنے پیغام میں قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچم بلند رکھیں گے۔

ملک بھر میں یوم آزادی قومی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے
پاکستان کا 68 واں یوم آزادی آج 14 اگست 2014ء کو ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ملک میں ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں اور قوم میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے، شہر شہر ملی نغموں اور قومی ترانوں کی گونج نے سماں باندھ دیا ہے، یوم آزادی پر آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے، دن کے آغاز پر وفاقی دارالحکومت میں 31 جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی، یوم آزادی کے موقع پر تحریک آزادی پاکستان کے شہدا کیلیے قرآن خوانی کا اہتمام بھی کیا جائے گا جبکہ مرکزی تقریب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہوگی جہاں وزیراعظم نواز شریف پرچم کشائی کریں گے۔

ایوان صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے ہونے والی تقریب میں مسلح افواج کے دستے شرکت کریں گے اور مارچ پاسٹ کیا جائے گا، وزیراعظم نواز شریف مسلح افواج کے سربراہان کے ہمراہ پاکستان آرمی، پاک بحریہ اور فضائیہ کے دستوں اور فلائی مارچ پاسٹ کی سلامی لیں گے، جشن آزادی کے سلسلے میں چاروں صوبائی دارالحکومتوں، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور فاٹا سمیت ملک بھر میں تقریبات منعقد ہوں گی، یوم آزادی پرکسی بھی نا خوشگوار واقعے سے بچنے کیلیے ملک بھر میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

صدر ممنون حسین نے یوم آزادی پر اپنے پیغام میں قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ جمہوریت، آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچم بلند رکھیں گے، وزیراعظم نوازشریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان طویل اور کٹھن آئینی جدوجہد کے نتیجے میں قائم ہوا، تمام محب وطن پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ ہماری بہادر مسلح افواج کی پشت پر کھڑے ہوں، چیئرمین سینیٹ نیر بخاری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی اور دیگر سیاسی و مذہبی قائدین نے بھی قوم کو یوم آزادی کی مبارک باد دی ہے۔

علاوہ ازیں جشن آزادی کی تقریبات کیلیے جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا سبز ہلالی پرچم تیار کر لیا گیا جو اسلام آباد میں لہرایا جائے گا، 60 فٹ لمبے اور40 فٹ چوڑے جھنڈے کی تیاری میں 15 روز لگے ہیں اور اس کا حجم 2400 اسکوائر فٹ ہے، وزیراعظم نواز شریف سبز ہلالی پرچم جشن آزادی کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک پر 212 فٹ طویل پول پر لہرائیں گے، بڑے قومی پرچم کو کراچی میں تیار کیا گیا اور اسلام آباد بھیجنے سے قبل پرچم کو مزار قائد پر پاکستان کی بری، بحری اور فضائیہ کی جانب سے سلامی دی گئی۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
 

: تہران میں ایرانی وزیر خارجہ، بیرونی ممالک میں متعین سفراء اور سفارتی مراکز کے سربراہوں سے خطاب میں رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ جب تک امریکہ کی دشمنی، امریکی حکومت اور امریکی کانگریس کیجانب سے ایران کیخلاف دشمنانہ بیان بازی جاری رہے گی، امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون کرنیکا کوئی جواز نہیں ہے۔

امریکہ کیساتھ بات چیت کرنے سے اسکی دشمنی میں کوئی کمی نہیں آتی، سید علی خامنہ ای
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے نئے عالمی نظام میں داخل ہونے کے لئے فعال اور دانشمندی پر مبنی سفارتکاری کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ انہوں نے آج تہران میں ایرانی وزیر خارجہ، بیرونی ممالک میں متعین ایرانی سفیروں اور سفارتی مراکز کے سربراہوں سے خطاب میں کہا کہ دانشمندانہ اور فعال سفارتکاری سے نہایت ہی اہم سیاسی، اقتصادی، انسانی اور سماجی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں، جو کسی بھی دوسرے اقدامات منجملہ بڑی مہنگی اور خطرناک جنگوں سے بھی حاصل نہیں ہوسکتے۔ انقلاب اسلامی کے سربراہ نے علاقے میں حالیہ برسوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ طاقتوں نے پیسے اور ہتھیار کے بل بوتے پر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ ناکام رہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ممالک تھے جنہوں نے ہوشیاری، داشمندی اور محنت سے اپنے مفادات کی بخوبی حفاظت کی۔
 
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران کی خارجہ پالیسی کی خصوصیات میں مظلوم کا کھلم کھلا، بھرپور اور حقیقی معنی میں دفاع کرنا نیز دنیا پر حاکم تسلط پسند نظام کی مخالفت شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کے برسوں میں یہ خصوصیت فلسطین و لبنان کی عوام، ان کے مجاہدین اور اسی طرح دیگر اقوام کے دفاع میں جلوہ گر رہی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ساری دنیا کے ساتھ تعاون پر تاکید اور امریکی و صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ جب تک امریکہ کی دشمنی، امریکی حکومت اور امریکی کانگریس کی جانب سے ایران کے خلاف دشمنانہ بیان بازی جاری رہے گی، امریکہ اور صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض خاص موقعوں کے علاوہ ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہی پہنچے گا۔

آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ امریکیوں کے ساتھ حالیہ مذاکرات میں جو وزارت خارجہ کی سطح پر ہوئے ہیں، ایران کو کچھ فائدہ نہیں ہوا بلکہ امریکیوں کا لہجہ اور زیادہ تیز اور توہین آمیز ہوگیا اور پابندیوں میں بھی اضافہ ہوگيا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ البتہ ہم ایٹمی مذاکرات کو جاری رکھنے سے نہیں روک رہے ہیں اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم نے جو کام شروع کیا ہے اور جس میں انہیں پیشرفت حاصل ہوئی ہے، وہ جاری رہے گا، لیکن یہ سب کے لئے ایک گرانقدر تجربہ ہے، جس سے سب کو سمجھ لینا چاہیے کہ امریکیوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے ان کی دشمنی میں بالکل کوئی کمی نہیں آتی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
 
رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ میں صیہونی جرائم میں امریکہ کی شرکت کی بنا پر دنیا بھر کے عوام کے دلوں میں امریکہ کی نفرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں ہے جو غزہ میں  صیہونی حکومت کی نسل کشی اور مجرمانہ کارروائیوں میں  امریکہ کی شراکت کا منکر ہو۔ بنابریں یہ امریکہ ہے جو آج کمزور موقف کا حامل ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے غزہ کے مظلوم عوام کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ غزہ کا صیہونی محاصرہ ختم ہونا چاہیئے اور کوئی بھی انصاف پسند انسانی اس برحق مطالبے سے انکار نہیں کرسکتا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے امید ظاہر کی کہ عراق کے نئے وزیراعظم کے تعین سے عراق کی مشکلات حل ہوجائيں گی اور حکومت فتنہ پھیلانے والوں پر غلبہ حاصل کرلے گی۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : سه شنبه چهاردهم مرداد 1393

 

منطقه بلتستان درناحيه شمالي پاكستان واقع گرديده است كه در زاويه24 درجه شمالي و 45 درجه شرقي قرار دارد.
بلتستان مجموعه اي است متشكل از مرتفع تر ين قلل جهان و نقاط ييلاقي باكوههاي خيال انگيز پر از گلهاي گوناگون و داراي دريا چه هاي زمردين و جويبارهاي شفاف مملو از ماهي قذل آلا، كه در منطقه اي از سلسله كوه "قراقرم" و "هيماليا" رود "سند" به وسعت ۷۳635 كيلومترمربع ميل مربع پراكنده شده است . مردم محلي اين منطقه را "بلتي يل" مي نامند كه ترجمه فارسي "بلتي يل" بلتستان مي باشد. نخستين بار در تاريخ " بطليموس" يكي از ژنرال هاي "اسكندر اعظم"(Byalta) ياد كرده است . جهانگر دان قديم چين اين منطقه را پلو، پلور، و بلور خوانده و اهالي تبت آن را به نام " ننگ گون" ياد كرده اند. بلتستان در زمان گذشته "تبت خرد" نيز خوانده شده كه در تاريخ " مغولها" از آن ياد شده است . بعضي ها نيز بنام " سوي بوتان" از آن ذكر كرده اند كه ترجمه آن به زبان اردو " سرزمين زرد آلوها" است.

 

 جمعيت بلتستان بالغ بر دویست هزار نفر نفر تخمين زده شده.

 

تعداد مناطق بلتستان عبارتند از:

 

دو بخشاصلی

 

1- اسكردو۲-خپلو 
که هر کدام از این دو ناحیه از بخش های متعددی تشکیل یافته اند

 

اسکردو که شامل ۱- شیگر ۲ - روندو ۳- گلتری ۴- کهرمنگ می باشد

 

خپلو هم شامل بخش هایی همچون کریس و غواری می باشد

 

تعداد روستاهاي مناطق بلتستان:

 

     منطقه                  روستا ها
     اسكردو                      44
     روندو                         23
     شيگر                        53
     خپلو                         56
     كهرمنگ                     43
     گلتري                        10

 

آب و هوا:
منطقه بلتستان با آب و هوائي سرد و خشك داراي چهار فصل از جمله : بهار، تابستان ، پائيز و زمستان است .
منطقه كشمير در جنوب ، لداخ و كر گل مناطق اشغالي هند در شرق و بخشداري گلگيت و مناطق ديامر در غرب بلتستان واقع شده است . كوههاي سر به فلك كشيده و پوشيده از برف قرارم ، در شمال ، بلتستان را از استان "سنكيانگ چين " جدا مي كند . معروف ترين قله جهان بنام "كي تو"(K.2) در همين منطقه واقع است كه ارتفاع اين قله 28250فوت مي باشد . تمام مناطق و نقاط ييلاقي بلتستان بر سطح مرتفعي در حدود 7500 الي 8500 فوت از سطح دريا واقع است . مرتفع ترين قلل جهان را نيز ميتوان از بلتستان تماشا كرد و همچنين نقاطي با توده هاي عظيم برف و رود خانه هاي كوهستاني و دريا چه ها و حوضهاي طبيعي فراوان در اين منطقه وجود دارد.

 

ميانگين بارندگي در اين منطقه 762 الي 1270 مليمتر مي باشد . از 21 مارس تا سومين هفته ماه ژوئن فصل بهار است و تا ماه اوت فصل تابستان و از اويل سپتامبر الي اواخر اكتبر فصل پائيز و از ماه نوامبر تاماه مارس فصل زمستان است. در فصل بهار هواي اين منطقه 10 الي 20 درجه بالاي صفر و در فصل تابستان به 43 درجه بالاي صفر مي رسد. در فصل پائيز و ماه ژانويه و فوريه به حد اقل 21 درجه زير صفر تنزل مي يابد.
همه مناطق بلتستان كوهستاني است علاوه بر قله كي تو K-II ماشه بروم ، گاشه بروم، براد پيك ، و هدن پيك معروفترين قلل در بلتستان واقع مي باشند.
در سلسله كوه قراقرم در حدود چهل "گليشير" واقع است كه بزرگترين آن سياچين مي باشد . در جنوب بلتستان و دركنار سطح مرتفع "ديوسائي" و " غبيارسه " ميدانهاي گسترده سرسبز و شاداب واقع است . سنگي كهابب يا سينگي چهو (رود سند) بزرگترين رودخانه پاكستان مي باشد كه از درياچه مانسرور تبت آغاز شده و از مناطق بلتستان مي گذرد . علاوه بر رود شيوق و شيگر صدها رود خانه و جويبار ديگر به رود سند مي ريزند . ارتفاع مناطق بلتستان از سطح دريا به شرح ذيل است.

 

منطقه ارتفاع از سطح دريا (متر)
اسكردو       2300
شيگر         2330
خپلو          2560
كهرمنگ     2450
قله ها 4000 الي 8500متر
ميدان 1830 الي 3350 متر

 

نژاد:
اغلب مردم بلتستان از لحاظ نژادي آریایی و "تبتي" هستند  تبتي دو شاخه از يك نژاد مي باشد. 95 در صد ساكنان بلتستان تبتي و قبائل ديگر از جمله : مقپون، پيگو، اماچه، بروشوكي، يشكن، و كشمير مهاجران ترك، آريايي، ايراني و كشميري نژاد هستند كه در طول تاريخ به آنجا سفر كرده و مقيم شده اند اما از نظر زبان همه بلتي هستند.
زبان و خط:
بلتستاني ها به زبان بلتي صحبت مي كنند . زبان شناسان بلتي را از گروه زبان لداخ، تبت، كرگل، بهوتان، سكم، مستنگ، نيپال و استهان هاي چين از جمله : سيچهوان، گانسو و ژهينگايي مي دانند. قدمت زبان بلتي خيلي زياد است . تا قرن ششم ميلادي خط زبان بلتي رايج نبود اما وقتي در سال 615 ميلادي "اسرونگ ستن "زگمبر" حاكم معروف تبت حكومت را به دست گرفت سمبوتا پسر يكي از وزيران به نام لونپوانو را (روحاني برجسته مذهب بودا در آن زمان) جهت كسب علوم و مطالعه زبان هاي مختلف هندوستان فرستاد. وي چهارده سال علم مربوط به زبانهاي مختلف را از مراكز مختلف بودايي ها سانسكريت فراگرفت و خط تبتي را ترتيب داد كه بنام رسم الخط تبتي در جهان معروف است . اما تبتي هاي فعلي اين خط را " بدايك" (خط بودايي ها) مي شناسند و بين مردم لداخ و بلتستان بنام اگي معروف است . خط اگي 24 حرف و چهار علامت اعراف دارد . در قرن 653 ميلادي مردي بنام "تهونمي پاانو" نخستين كتاب دستور زبان تبتي را در بلتستان تاليف كرد . كتب مذهبي و ديني ، شاهنامه ها ، غزلها و نامه هاي بودايي هايي به اين زبان و خط نوشته شده است.
در قرن 12 ميلادي " ابراهيم شاه مقپون " سلطنت مستقلي را در بلتستان بنيان نهاد . درباره ابراهيم شاه مقپون مي گويند كه وي از ايران و يا مصر به بلتستان آمده و مقيم شده بود . بعد از تشكيل حكومت بلتستان تماس اين منطقه با تبت قطع شد و در بلتستان اين زبان بنام بلتي معروف شد . در اثر تردد اقوام و طايفه هاي مختلف در بلتستان و استقرار ايشان، دين اسلام در اين منطقه ظاهر شد و در نتيجه بر زبان و خط بلتي نيز تاثير بسيار گذاشت و خط بلتي به شكل خط فارسي در آمد و در زمان حكومت حكمرانان " دوگرها" زبان رسمي اين منطقه هندي و فارسي اعلام شد. بنابر اين خط اگي كم كم از بين رفت. در حال حاضر خط اگي تنها در لداخ و تبت رايج است .
مذهب :
مردم بلتستان صدر در صد مسلمان اند و پيروان شيعه اثنا عشري گروهي از آنان نو ربخشيه اماميه (مقلدين سيد محمد نور بخش) و بقيه اهل تسنن بوده و اهل حديث (وهايي) مي باشند.
پيش از اسلام اغلب مردم بلتستان بودايي و شماري از آنها هندو مسلك بوده اند . به اعتقاد محققين و مورخان مردم بلتستان، قبل از قرن چهاردهم ميلادي " ديو" و "ماده ديو" را مي پرستيد ند كه به نام " بون چهوس" معروف بود . در قرن چهاردهم ميلادي توسط مبلغين ايراني دين مبين اسلام در مناطق بلتستان ظهور كرد به اعتقاد مورخان ، اسلام بوسيله امير كبير مير سيد علي همداني به بلتستان وارد شد. شاه همدان از سال 774 هجري قمري مقيم كشمير بوده و در اين زمان او در بلتستان (تبت خرد) هم مشغول فعاليتهاي اصلاحي و تبليغي بوده است و بسياري از مساجد و يادگارهاي ديگر آن سامان كه منسوب به وي مي باشد هنوز هم در بلتستان و نواحي و نقاط همجوار نگهداري مي شود . وي در بلتستان مسجد " امبروك" و مسجد "چه برونجي" (شش برج) را بنا كرد . مولوي حشمت الله خان مولف تاريخ جامو ورود امير كبير مير سيد علي همداني را به منطقه بلتستان بعيد مي داند و حال آنكه در "مشجر الاوليا" كتاب سيد محمد نور بخش آمده است كه سيد علي همداني به تبت و تركستان رفته و اينجا مراد از تبت همان تبت خرد يعني بلتستان مي باشد . علاوه برآن اخبار و آثار تاريخي و باستاني بلتستان گوياي آنست كه:
امير كبير مير سيد علي همداني از اولين كساني بوده كه وارد بلتستان شده و جهت دين اسلام تبليغ نموده است . سيد علي همداني در توسعه زبان فارسي در بلتستان و كشمير بسيار موثر و نافذ بوده است.

 

وي خانقاه هايي بوجود آورد كه در آن زمان از مراكز مهم اجتماعي بوده اند . نفوذ فرهنگي خانقاا در زندگاني مردم يك امر بارز بوده است . حكمرانان مقپون اسكردو نيز علماء و مبلغين را به سوي مناطق همجوار بلتستان جهت تبليغ دين اعزام مي كردند از آن به بعد غالب علما و فقها از جمله : سيد محمد نور بخش ، مير شمس الدين عراقي بت شكن ، سيد ناصر طوسي و سيد علي طوسي وغيره براي ترويج و تبليغ اسلام به اين منطقه واردشده اند كه توسط آنها و مبلغين ايراني دين اسلام در اين سرزمين رشد كرده است و همچنين به مرور زمان آثار ايرانيان و زبان فارسي بر فرهنگ و تمدن ، زبان و ادبيات ، موسيقي ، آداب و رسوم ، آداب مجلس و چگونگي صحبت بلتستان اثر عميقي گذاشت به همين دليل است كه سبك قديم ايراني بر اشعار و ادبيات بلتي غالب شده و تغييراتي در خط بلتستان بوجود آمد كه بلتستاني ها خط و لباس ملي خود را رها كردند و همچنين لغات و كلمات زيادي كه از فارسي گرفته شده در زبان بلتي امروز مورد استفاده قرار مي گيرند. مردم بلتستان نسبت به اجراي احكام اسلامي تعصب خاصي دارند در اكثر نقاط مسجد وجود دارد و زنان و مردان همراه باكودكان و نوجوانان خود نماز را با جماعت برپاي مي دارند. چون غالب مردم شيعه هستند بنا بر اين مراسم ديني، مناسبتها و ايام ولادت و شهادت ائمه و چهارده معصوم (ع) با احترام خاصي برگزار مي شوند.
سابقه تاريخي بلتستان:
در رابطه با تاريخ بلتستان مدارك معتبري به دست ما نرسیده است چون در زمان فرمانروايي ظفر خان پدر بزرگ احمد شاه دركتابخانه پادشاهي در كهر نوجهي ( اسكردو فعلي) آتش سوزي شده و در نتيجه كتابهاي زيادي از جمله گلزار بلتستان ، نسخ خطي تاريخ بلتستان نيز در آن سوخته شد . با توجه به مدارك و سوابق تاريخي بلتستان نيز در آن سوخته شد . با توجه به مدارك و سوابق تاريخي بلتستان كه در دست است ، در سال 1200 ميلادي شهزاده اي بنام ابراهيم شاه از كشور ايران و يا مصر وارد بلتستان شده و با تنها دختر خانواده حكمران اسكردو آن زمان ازدواج مي كند و بعد از گذشت چندين سال به حكومت رسيده و حكومت مقپونها آزاد گردد در مناطق همجوار بلتستان حكومت هاي مستقل و كوچكي تشكيل شده بودند در منطقه روندو خانواده لون چهي در شيگر خانواده عماچه در خپلو يبگو در كهرمنگ انتهوك و در وادي پوريگ خانواده گاشوپا حكمراني ميكردند در زمانداري غوطه چوسنگي نهمين فرمانرواي خانواده مقپون امير كبير مير سيد علي همداني وارد بلتستان شده و انقلاب عظيمي كه منجر به ظهور اسلام در اين منطقه شد ، برپا نمود . بودايها دين اسلام را پذيرفتند. بهرام چو فرزند غوطه سنگي در سال 1463 الي 1490 ميلادي منطقه بشوتك را اشغال كرده و از دست لون چهي اوت حكمران آن منطقه خارج نمود و به سلطنت اسكردو اضافه كرد و از اينجاست كه گسترش سلطنت اسكردو آغاز مي گردد. مقپون بوخا فرزند بهرام چو در سالها 1490 تا 1515 ميلادي شهر فعلي اسكردو را آباد كرده و قلعه معروف كرپوچهي را در آن زمان بنا مي نمايد وسپس پايتخت را از شيگر به اسكردو انتقال مي دهد. در زمامداري مقپون بوخا ، مير شمس الدين عراقي بت شكن ، از كشمير وارد بلتستان مي شود و از 901 الي 908 هجري قمري 7 سال در بلتستان مستقر مي گردد و در همين زمان بود كه دين مبين اسلام رشد پيدا كرد و بجاي خط بلتي خط فارسي جايگزين گرديد در زمان حكمران شير شاه فرزند مقپون بوخا سلطان سعيد خان والي كاشغر (سال 939 هجري) بر عليه بلتستان حمله كرد . راجه عبدالله خان فرمانرواي شيگر در آن زمان بود و بلتستان بنام تبت و بلتي معروف بوده است.
حكومت خانواده مقپون تخت زمانداري علي خان فرزند شير شاه از سال 1540 تا 1565 ميلادي گسترش پيدا كرده به اوج خود رسيد علي خان مناطقي از جمله شغر و دراس را به تصرف خود در آورد . در زمان حكمراني غازي مير فرزند علي خان از سال 1565 تا 1595 ميلادي سلطنت اسكردو گسترش پيدا مي كند و در اين زمان آخرين خانواده لون چهي در روندو فوت كرده بود. بنا بر اين غازي مير حكومت روندو را نيز بدست گرفت پايتخت روندو، "سنق" بود غازي مير روندو را به اسكردو پيوست و علي شير خان وليعهد خود را براي فتح كهرمنگ ماموريت داد علي شير خان كه بنام انچن (اعظم) معروف شد نخست كوته را فتح كرده، لداخيون را نيز شكست داده كهرمنگ را بدست آورد و كهرمنگ را نيز به سلطنت اسكردو پيوند دادعلي شير خان مناطق ديگر از جمله : سوت و بودا گهر بو وغيره را نيز فتح كرد و به با سلطنت اسكردو به پيوست و جشن بزرگي براي فتح در اسكردو برگزار گرد. در همان زمان در سال 1586 ميلادي اكبر پادشاه مغول كشمير را فتح كرده و به دهلي متصل كرده بود و سپس در سال 1592ميلادي براي گردش به كشمير مي رود و مراسم ازدواج فرزندش بنام شهزاد سليم را با دختر علي شير خان انچن برپا مي كند . بنا بر اين نسبتي بين سلطنت دهلي و بلتستان ايجاد مي گردد.
بعد از آن علي شير خان مناطقي از جمله: استوار ، چيلاس، گلگيت و چترال را نيز فتح مي نمايد وي در فتوحاتي ميدان چوگان بازي را در نزديكي سنگم رود گلگيت و سند بنا كرد كه هنوز نيز بنام مقپوني شغرن (ميدان چوگان بازي مقپون) معروف است.
علي شير خان انچن سه تا فرزند داشت كه اسامي آنها عبارتند از : آدم خان ( ولي عهد) ، عبدال خان و احمد خان ، بعد از در گذشت علي شير خان بين آدم خان درگيري ايجاد شد . عبدال خان برتخت حكومت اسكردو نشست و آدم خان به دهلي فرار كرد.
علي شير خان ثاني در سال 1787 الي 1800 ميلادي آخرين حكمران خانواده مقپون در بلتستان بوده است . بعد از آن سلطنت اسكردو رو به زوال گذاشته است. و به چندين قسمت تقسيم مي شود و آنگاه دوره دوگراها در بلتستان آغاز مي گردد. دوگراها بر عليه بلتستان حمله كرده بودند و حكومت بلتستان را اشغال كرده بودند. آنها مدت 800 سال در بلتستان حكمراني كرده ظلم وستم فراواني بر مردم اين ديار نموده بودند . مردم بلتستان هرگز حكومت دوگراها را قلباً نپذيرفتند و هميشه براي استقلال و نجات از ظلم و ستم دوگراها مي كوشيد ند . در سال 1947 ميلادي پاكستان استقلال يافت و در ماه يكم نوامبر 1948 مردم گلگيت به سرپرستي راجه بابر خان و سرهنگ ميرزا حسن خان در گلگيت استقلال يافتند. مردم بلتستان نهضت استقلال و جنگ آزادي را آغاز كردند مرد و زن كودك و نوجوان و سالمندان همه با هم درجنگ استقلال بر عليه دوگراها شركت كردند و در نتيجه در 14 اوت 1948 بعد از گذشت يكسال از استقلال پاكستان مردم بلتستان نيز دوگراها را شكست داده، استقلال يافتند. هزاران بلتستاني در اين جنگ شهيد شدند. در سال 1948 ميلادي منطقه پوريگ نيز استقلال يافت اما در نتيجه سياست و مصلحت آن زمان پاكستان اين مناطق آزاد را از دست داد.

 بلتستان بعد از استقلال به عنوان يك بخشداري تحت كنترل حكومت مركزي پاكستان قرار گرفت و در سال 1972 به دو بخشداري گانگچهي و اسكردو تقسيم شد . بلتستان را مناطق شمالي پاكستان نيز مي گويند. حيثيت آئيني بلتستان هنوز زير سوال است.
منطقه بلتستان كه مانند بهشتي در زمين است وضعيت تاسف آور و وخيمي دارد. خداوند سبحان اين منطقه را به جمال دل آرايي آراسته كرده است يك طرف اين منطقه كوههاي بلند همچون فصيلها لباسهاي برف پوشيده اند كه بلندي آنها به آسمان و ستاره ها مي رسد . دومين و بلندترين قله دنيا بنام كيتو K-II نيزدر همين منطقه قرار دارد مرتفع ترين ميدان جنگ جهان بنام سياچن نيز در اين منطقه واقع است اين منطقه باكوههاي بلند وضع زندگي پست و اسفباري دارد . شكي نيست كه برف سفيد حسن كوهها را افزايش مي دهد ولي براي مردم منطقه مشكلاتي بوجود مي آورد، مخصوصاً در فصل زمستان تماس اين منطقه با ساير مناطق جهان قطع ميشود بعلت ريزش كوهها جاده هاي بزرگ منتهي به اين منطقه بسته مي شوند تنها خط هوايي از اين خطر نسبتاً محفوظ است ولي اين هم بعلت خرابي هوايي منطقه اكثر بسته ميشود و پروازهاي هوا پيما هفته ها به تاخير مي افتد.
پانوشت ها:
1- Dani A.H. History of Northern Area of Pakistan.
2- Francke A.H. Baltistan & Ladakh, A. history.
3- Biddulph Jhon, Tribes of Hindoo Koosh
4- Ministry of in Promotion & Broadcasting facts about Pakistan  


ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه هشتم مرداد 1393
 

عید الفطر کے موقعہ پر غزہ میں لوگ شہداء کے مزاروں پر روتے بلکتے ایک دوسرے کو تسلی دیتے ہوئے خونین عید کے مناظر پیش کرتے ہوئے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه هشتم مرداد 1393
 

: گنگچھے خپلو میں جشن نزول قرآن کی مناسبت سے ایک عظیم الشان تقریب کا اہتمام ہوا، جس میں قاریان قرآن نے حسن قرائت کے جوہر دکھائے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 



ارسال توسط ارشادحسین مطهری
تعداد بازديد :  
تاريخ : چهارشنبه هشتم مرداد 1393
 

حماس کے عسکری ونگ الاقصٰی بریگیڈ نے سرنگ کے ذریعے صیہونی فوج پر کامیاب حملے کی فوٹیج جاری کی ہے، جس میں مقبوضہ فلسطین کے اندر کئی صہیونی فوجی مارے گئے تھے، اب تک 53 صیہونی فوجی مارے جاچکے ہیں۔

غزہ میں صیہونی حکومت کی وحشتناک کارروائیاں جاری، شہداء کی تعداد 1283 سے تجاوز کرگئی
غزہ میں صیہونی حکومت کی وحشت ناک کارروائیاں جاری ہیں اور تازہ حملوں میں 9 بچوں سمیت مزید 23 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ 23 ویں روز فلسطینی شہداء کی مجموعی تعداد 1283 ہوچکی ہے۔ صیہونی طیاروں نے غزہ میں بے گھر افراد کے باغ کو بھی نہ بخشا اور اور فٹ بال کھیلتے بچوں پر بمباری کر دی، جس سے 9 بچے شہید اور 46 زخمی ہوگئے۔ جبالیہ میں صیہونی ٹینکوں کی گولہ باری سے 70 سالہ بزرگ خاتون سمیت 5 افراد شہید ہوگئے۔ بمباری میں حماس کے سابق وزیراعظم اسماعیل ہانیہ کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ طاقت کے نشے میں چور صیہونی فوج نے خان یونس سمیت مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی، جس میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ادھر پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بھی مسلسل گولہ باری کی گئی، جس سے 11 افراد شہید ہوگئے۔ رات کو ہونے والی بمباری میں بھی بچوں سمیت 30 افراد کو شہید کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق بے گھر افراد کی تعداد ایک لاکھ 67 ہزار ہو گئی ہے۔ صیہونی حکومت نے غزہ کے واحد بجلی گھر کو بھی نشانہ بنایا، جس سے اٹھارہ لاکھ افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ ایک ہزار سے زائد گھر اجاڑنے کے بعد بھی صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت کو غزہ میں ایک طویل مدتی کارروائی کرنا پڑے گی۔ اقوام متحدہ کےسیکرٹری جنرل بان کی مون نے بچوں کی ہلاکت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فوجی جنگ بندی کا مطالبہ ایک بار پھر کر ڈالا ہے۔ 

دیگر ذرائع کے مطابق صیہونی حکومت آبادیوں کو اجاڑنے کے بعد پناہ گزین کیمپوں کے پیچھے پڑ گئی ہے، ایک اسکول پر حملے میں 20 افراد شہید کر دیئے۔ صرف منگل کے دن 128 فلسطینی شہید جبکہ 23 روز سے جاری مظالم میں 1260 سے زائد لوگ جانیں کھوچکے ہیں۔ سلامتی کونسل نے عید پر حملے روکنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کا جواب صیہونی حکومت نے غزہ پر حملے تیز کرکے دیا۔ اب جبکہ غزہ کی کئی آبادیاں ویران ہوچکی ہیں اور کھنڈر کا نظارہ پیش کر رہی ہیں۔ فلسطینیوں کے خون کی پیاسی صیہونی فوجیں، کیمپوں میں پناہ لینے والے نہتے لوگوں اور بچوں کو بھی نہیں چھوڑ رہیں۔ جبالیہ میں اقوام متحدہ کے مرکز پر حملہ کرکے کم از کم 20 افراد شہید کر دیئے۔ 23 روزہ لڑائی میں منگل کا دن فلسطینیوں پر قیامت خیز گزرا، جب صرف ایک دن میں بارود کی مسلسل برسات کرکے اسرائیل نے 128 نہتے افراد کی جانیں لے لیں، جن میں کئی خاندان کے خاندان شامل ہیں اور بڑی تعداد بچوں کی ہے۔
جب رات ہوئی تو اسرائیل کے بم سہنے والا غزہ تاریکی میں ڈوب گیا، کیونکہ غزہ کا واحد پاور اسٹیشن بھی صیہونی تباہی سے نہ بچ سکا۔ یہ تمام کارروائیاں جواب ہے سلامتی کونسل کے اس مطالبے کا جس میں بے پناہ جانی نقصان اور عید کے پیش نظر صیہونی حکومت پر حملے روکنے کے لیے زور دیا گیا تھا۔ صہیونی ریاست ان تمام کاررائیوں کا جواز حماس کے ان راکٹوں کو بتاتی ہے جس میں صیہونی شہریوں کا نہ ہونے کے برابر نقصان ہوا ہے۔ حماس کے عسکری ونگ الاقصٰی بریگیڈ کے کمانڈر نے کسی عارضی حل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہےکہ قبضہ اور غزہ کی ناکہ بندی ختم ہونے تک صیہونی حکومت کو چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ کمانڈر محمد دیف 2012ء کی لڑائی کے بعد پہلی بار منظر عام پر آئے ہیں۔ الاقصٰی نے سرنگ کے ذریعے صیہونی فوج پر کامیاب حملے کی فوٹیج جاری کی ہے، جس میں مقبوضہ فلسطین کے اندر کئی صہیونی فوجی مارے گئے تھے، اب تک 53 اسرائیلی فوجی مارے جاچکے ہیں۔


ارسال توسط ارشادحسین مطهری