بلتستانی
وبلاگ شخصی ارشاد حسين مطهري  
قالب وبلاگ
لینک های مفید
[ جمعه سوم مرداد 1393 ] [ 19:21 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

کراچی کے علاقے صدر ایمپریس مارکیٹ کے پاس امریکی سعودی نواز کالعدم سپاہ ملعون اورنگزیب فاروقی گروپ کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے معروف شیعہ رہنما آصف کربلائی شہید

ابنا: اطلاعات کے مطابق ملعون اورنگزیب فاروقی گروپ کے دہشتگردوں نے اس وقت اپنی درندگی کانشانہ بنایا جب وفات حضرت بی بی خدیجہ کی مناسبت سے مجلس عزا میں شرکت کے بعد اپنی کلفٹن میں موجود اپنی دوکان کی طرف جارہے تھے کے ان کا تعاقب کرنے والے موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے ایمپریس مارکیٹ کے قریب ان کی گاری پر اندھادہند فائرنگ کردی جس سے آصف کربلائی موقع پرہی شہید ہوگئے ۔شہید آصف کربلائی کی جسد خاکی کو جناح ہسپتال سے فاطمیہ غسل خانہ خراسان منتقل کیا جاردہا ہے ۔واضح رہے کے شہید آصف کربلائی کے پہلے بھی دو مرتبہ ملعون ا اورنگزیب فاروقی گروپ کے دہشتگردوں نے حملہ کیا گیاتھا جس میں سے ایک زخمی اور ایک میں خدا کے فضل و کرم سے وہ محفوظ رہے تھے آصف کربلائی کی ملت جعفری کے لیے بیشتر خدمات ہیں ان کی خدمات کو ملت جعفریہ کبھی فراموش نہیں کرسکتی.

.......

[ پنجشنبه نوزدهم تیر 1393 ] [ 16:36 ] [ ارشادحسین مطهری ]

صیہونی فوج کے تازہ فضائی حملے میں مزید آٹھ فلسطینی شہید ہو گئے۔

ابنا: رپورٹ کے مطابق، جمعرات کی صبح اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ پٹی کے خان یونس علاقے میں دو گھر پر حملہ گیا۔


طبی ذرائع کے مطابق اس حملے میں ساتھ افراد شہید ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ذرا‏ئع نے بعد میں بتایا کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر آٹھ ہو گئی ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شہداء اور زخمیوں کو نزدیکی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ اس طرح سے منگل سے اب تک اسرائیل کے فضائی حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 82ہو گئی ہے۔ ان حملوں میں پانچ سو سے زیادہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ادھر اسرائیلی حملوں کے بعد فلسطینیوں نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی قبضے والے فلسطینی علاقے ڈیمونا پر دو راکٹ فائر کیے ہیں جہاں اسرائیل کے جوہری تنصیبات موجود ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ٹوئٹر پر اپنے پیج پر اعتراف کیا ہے کہ آئرن ڈوم اینٹي میزائل سسٹم، فلسطینیوں کی طرف سے فائر کئے گئے تین میزائلوں میں سے دو کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

اسی درمیان تل ابیب نے کہا ہے کہ فلسطینیوں نے اس کے علاقوں پر بدھ کے دن مجموعی طور 70 میزائل فائر کئے ہیں۔

تازہ رپورٹ کے مطابق حماس کی طرف سے فائر کیا گیا ایک میزائل اسرائیل کی رگاوم ملٹری بیس پر لگا ہے جبکہ ایک اور راکٹ، ایشدود میں ایک گھر پر گرا ہے اور بیناے شیمون اور راحت اسرائیلی کالونیوں میں دن بھر خطرے کے سائرن بجتے رہے۔

بدھ کو ہی غزہ سے تقریبا سو كیلوميٹر کے فاصلے پر واقع حديرا علاقے میں تین میزائیل گرے جبکہ اشكول اور حیفا شہروں پر بھی ایک ایک راکٹ گرے اور سدوروت علاقے پر تقریبا ایک درجن میزائل مارے گئے۔

اسرائیلی اخبار ہآریٹزکے مطابق میزائل سے خوفناک آگ لگ گئی جسے فائر برگیڈ کے اہلکار بجھا نہیں پا رہے تھے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ پٹی پر مسلسل حملوں کے بعد فلسطینیوں کی جانب سے کی جانے والی جوابی کارروائی کے بعد اسرائیل میں فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں۔

جبکہ سیاحوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے اور ہوٹل ریزرویشن کینسل کئے جا رہے ہیں اور امریکہ نے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے کو بند کر دیا ہے۔

اسرائیل نے اپنے تین شہریوں کے قتل کو بہانہ بنا کر غزہ پر حملہ شروع کیا تھا جبکہ حماس نے اس اغوا اور قتل میں ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔

ابھی تک یہ پتہ نہیں چل پایا ہے کہ تین اسرائیلی شہریوں کے قتل میں کس کا ہاتھ تھا کیونکہ اغوا کے کچھ دنوں بعد ان کی لاشیں ملی تھی۔

اس قتل کے بعد مغربی ممالک نے وسیع پیمانے پر رد عمل ظاہر کیا ہے اور اسے دہشت گردانہ کارروائی کہہ کر اس واقعہ کی سخت مذمت کی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی ان تین نوجوان کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔

اس واقعہ کے بعد اسرائیلی کالونیوں کے باشندوں نے ایک سولہ سالہ فلسطینی نوجوان کو اغوا کیا اور اس کے بعد اسے زندہ جلا دیا تھا۔

[ پنجشنبه نوزدهم تیر 1393 ] [ 16:35 ] [ ارشادحسین مطهری ]

اسلامی جمہوریۂ ایران کے نائـب وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی نائب سربراہ کے درمیان جامع معاہدے کے متن کے مسودے کی تدوین کےحوالے سے جاری مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے ۔

ابنا: رپورٹ کے مطابق سید عباس عراقچی اور ھلگا اشمید نے کل بدھ کو ویانا کے وقت کے مطابق گیارہ بجے سے کوبرگ ہوٹل میں جامع ایٹمی معاہدے کے متن کی تدوین کے سلسلے میں شام چھ بجے تک مذاکرات انجام دیئے ۔ ایسے میں کہ جب ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے نمائندوں کی جانب سے ویانا میں ایٹمی مذاکرات کے چھٹے دور ميں کل آٹھویں دن بھی تبادلۂ خیال کا سلسلہ جاری رہا، فرانس کے وزیر خارجہ نے کہ گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان اختلاف پائے جانے کا دعوی کیا ہے ۔ فرانسیسی وزیر خارجہ لوران فابیوس نے کل بدھ کو اس ملک کی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے روس اور گروپ پانچ جمع ایک کے دیگر اراکین کے درمیان اختلاف کی خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں اصلی اختلافات ميں سے کوئی بھی اختلاف حل نہيں ہوا ہے اور امریکہ نے مذاکرات میں شامل ملکوں کے وزرائے خارجہ سے کہا ہے کہ وہ ویانا سے لوٹ جائیں ۔ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے فریقوں کے درمیان اختلاف پائے جانے کے فابیوس کے دعوے کو جرمنی کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مسترد کردیا ہے ۔ اس سلسلے ميں کیتھرین اشٹن کے ترجمان مائیکل مین نے کل سہ پہر کو ویانا میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو میں گروپ پانچ جمع ایک کے اراکین کے درمیان کسی بھی قسم کا اختلاف پائے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے مسئلے میں گروپ پانچ جمع ایک کے اراکین کے درمیان کوئی اختلاف نہيں پایا جاتا اور سب متحد ہیں ۔

.......

[ پنجشنبه نوزدهم تیر 1393 ] [ 16:34 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

صدائے مرجعیت پر لبیک کہتے ہوئے عراق کے جوانوں نے مختلف ناموں سے مختلف لشکر تیار کر کے تکفیری ٹولے داعش کو ناکوں چنے چبوانے کی ٹھان لی ہے۔
کربلا کے گورنر کونسل کے صدر نصیف جاسم الخطائی نے یہ خبر دیتے ہوئے کہا کہ جہاد کفائی کے لیے لوگوں کا کثرت سے نام درج کروانا، نام نویسی کے مراکز کا کم ہونا اس بات کا باعث بنا کہ کربلا میں حرم حضرت عباس (ع) کی جانب سے وزیر اعظم نوری مالکی سے وابستہ رضاکار کمیٹی پر مبنی ایک مرکز قائم کیا جائے جس میں رجوع کرنے والوں کے نام حرم حضرت عباس(ع) کی حمایت میں لکھے جائیں۔
الخطائی نے اس مرکز کے ذریعے تشکیل دئے گئے لشکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حرم کربلا کی حافظت اور داعش کا مقابلہ کرنے کی غرض سے ’’لشکر حضرت عباس(ع)‘‘ کے نام سے جوانوں کا لشکر تیار کیا گیا ہے۔
اسی مقصد کے پیش نظر گزشتہ روز جمعرات کو لشکر حضرت عباس(ع) نے کربلا میں پریڈ کی اور دشمنان اسلام و شیعت کو للکار کر کہا کہ اگر حضرت عباس(ع) کا نام سنا ہے تو کربلا کا رخ نہ کرنا۔
لشکر حضرت عباس(ع) کی پریڈ میں حرم حضرت عباس(ع) کے عہدہ دار اور شہر کربلا کے اعلی مقامات بھی حاضر تھے۔

 

[ یکشنبه هشتم تیر 1393 ] [ 23:9 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

رمضان، خوشی اور مسرت کا مہینہ ہے۔ عبادت اور بندگی کی خوشی، اللہ سے ملاقات کی خوشی، ضیافت الہی کی خوشی نہ کہ افطار کے وقت کے رنگا رنگ کھانوں کی خوشی۔


رمضان، خوشی کا مہینہ ہے
بقلم: ع۔ حسینی عارف
ترجمہ: الف۔ ع۔ جعفری
ہم معمولی اور خاکی انسان ماہ مبارک رمضان کو عام طور پر بھوک اور پیاس سے پہچانتے ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ ہمارے یہاں ماہ رمضان کو پرکھنے کا ترازو یا اس کے ’’سخت اور آسان‘‘ ہونے کا معیار رمضان کے دنوں کا لمبا ہونا یا چھوٹا ہونا یا گرم ہونا یا ٹھنڈا ہونا ہے۔
کچھ لوگ جن کی سطح ہم سے تھوڑی اونچی ہوتی ہے جو ہم لوگوں سے تھوڑا بڑھ کر سوچتے ہیں وہ بھوک و پیاس کے علاوہ رمضان کو کچھ دیگر حدود و قیود سے بھی پہچانتے ہیں جن کا تعلق انسان کی آنکھ و کان سے ہوتا ہے، ہاتھ پیر سے ہوتا ہے یا پھر زبان سے ہوتا ہے۔ ان کے یہاں رمضان کے سخت اور آسان ہونے کا معیار ہمارے یہاں کے معیار سے تھوڑا فرق کرتا ہے وہ رمضان کی سختی کو اس معیار سے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھوں نے کتنا ناجائز چیزوں کو دیکھا اور جائز کو دیکھنے میں کتنی کوتاہی کی، زبان نے کتنی غیبت کی اور ذکر خدا کرنے سے کتنی دور رہی۔
لیکن ان لوگوں کے لیے جو رمضان کی قدر و قیمت کو پہچانتے ہیں یہ مہینہ جشن و سرور کا مہینہ ہے ان کے یہاں بھوک و پیاس یا دیگر اعضاء و جوارح پر کنٹرول، نہ ہی سخت ہے اور نہ دیر پا ہے نہ روزے کی حالت میں گرمی کی شدت ان کی خوشی کو کم کر سکتی ہے اور نہ اعضاء و جوارح کی مراقبت ان کو سختی میں ڈال سکتی ہے

* * *

رمضان، خوشی اور مسرت کا مہینہ ہے۔ عبادت اور بندگی کی خوشی، اللہ سے ملاقات کی خوشی، ضیافت الہی کی خوشی نہ کہ افطار کے وقت کے رنگا رنگ کھانوں کی خوشی۔
اور کیوں یہ مہینہ جشن اور خوشی کا مہینہ نہ ہو، جبکہ پروردگار اس مہینے میں اپنی لطف و کرم کی نگاہ زمین والوں پر کرتا ہے اور شیطان کو زنجیروں میں جھکڑ دیتا ہے اور رحمت الہی کے دروازے اس مہینے میں روز و شب کھلے رہتے ہیں۔۔۔
 کیوں خوشی نہ ہو جبکہ لیلۃ القدر اسی مہینے میں ہے جو نزول قرآن کی شب ہے، جو فرشتوں کے نزول کی شب ہے جو امام زمانہ (ع) سے دوبارہ بیعت کرنے کی شب ہے جو آسمان ک طرف امید و آرزو کے ساتھ نگاہ کرنے کی شب ہے۔۔۔ اس مہینے میں جشن منانے کے لیے یہی کافی ہے کہ اس ماہ کی ایک رات میں عبادت کر کے ۱۰۰۰ مہینوں کی عبادت کا ثواب حاصل ہو جاتا ہے۔۔۔
اور یہ مہینہ کیوں خوشی کا مہینہ نہ ہو جب کہ اس میں صاحب ثروت اور مالدار لوگ جب پورا دن بھوک و پیاس برداشت کرتے ہیں تو انہیں بھی فقیروں کی سال بھر کی بھوک و پیاس کا احساس ہوتا ہے ۔۔۔
اور اس ماہ میں کیوں خوشی نہ ہو جبکہ اس ماہ میں گناہ ایسے جھڑ جاتے ہیں جیسے موسم خزاں میں درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ اگر انسان حقیقی معنی میں روزہ دار ہو تو۔۔۔
اور پھر کیوں اس ماہ میں جشن نہ منائیں جب کہ خدا خود کو( نہ جنت اور اس کی نعمتوں کو) روزے کی جزا کے طور پر روزہ دار کے حوالے کرتا ہے۔

* * *

اگر ماہ رمضان خوشی کا مہینہ نہ ہوتا تو ہم اس ماہ میں ایک دوسرے کو مبارک باد نہ کہتے اور ایک دوسرے کے گلے نہ ملتے۔۔۔۔
پروردگارا! ہم تیرا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہیں کہ تونے ہمیں اتنی برکتوں والا مہینہ دیا، اس میں اتنی عظیم کتاب نازل کی، اپنے پیغمبروں اور اماموں کو بھیجا، ہمیں اس ماہ میں اپنی ضیافت پر بلایا، اس مہینے میں تو نے شب قدر رکھی اور تو خود روزہ دار کی جزا قرار پایا۔ ان سب چیزوں پر ہم تیرا شکر ادا کرتے ہیں۔ اور تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں اس ماہ کی حقیقی خوشی درک کرنے کی توفیق عنایت فرما ۔ آمین۔
ماہ مبارک سب پر مبارک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[ یکشنبه هشتم تیر 1393 ] [ 23:6 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

تکفیری ٹولے داعش کے ایک عنصر نے خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے امیر المومنین ابوبکر البغدادی سے خانہ کعبہ کے انہدام کا حکم حاصل کر لیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تکفیری ٹولے داعش نے عراق کے صوبہ الانبار کی سرحد پر واقع سعودی عرب کے شہر ’’عرعر‘‘ پر قبضہ کر لیا ہے اور اس ٹولے کے رہبر ’’ابوبکر البغدادی‘‘ کے حکم کے مطابق اب خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس تکفیری ٹولے داعش کے ایک عنصر نے خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے امیر المومنین ابوبکر البغدادی سے خانہ کعبہ کے انہدام کا حکم حاصل کر لیا ہے۔
ابوتراب المقدسی کہ جس نے اس پیغام کو ٹویٹر پر شائع کیا ہے نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ اب خانہ خدا میں اللہ کی عبادت نہیں ہو رہی ہے لہذا مجاہدین نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ سعودی عرب پر حملہ کریں اور خانہ خدا کو مسمار کر دیں۔
اس نے مزید کہا ہے کہ خانہ خدا کو منہدم کرنے کا حکم امیر ابوبکر البغدادی کی طرف سے ملا ہے اور اس گروہ نے سعودی عرب پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس دھشتگرد گروہ داعش نے کہا ہے کہ لوگ مکہ جاتے ہیں تا کہ پتھروں سے تبرک حاصل کریں نہ کہ خدا کی عبادت کریں!۔۔۔ خدا کی قسم اگر ہم نے سعودی عرب پر فتح حاصل کی تو سب سے پہلے ہم خانہ خدا کو مسمار کریں گے۔

الحیات مجلے نے رپورٹ دی ہے کہ تکفیری ٹولے داعش سے وابستہ دھشتگردوں نے عراق کے صوبہ الانبار سے قریب سعودی عرب کے سرحدی علاقے عرعر پر قبضہ کر لیا ہے۔
داعش نے سعودی عرب کے اس شہر پر قبضہ کر کے اس ملک کے بادشاہ ملک عبد اللہ کے دل میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے جس کی وجہ سے ملک عبد اللہ نے ایک پیغام جاری کیا ہے۔
ملک عبد اللہ نے بروز ہفتہ کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم دھشتگردی کی ہر شکل و صورت کو کنڈم کرتے ہیں اور ہم اجازت نہیں دیتے کہ ایک دھشتگرد گروہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر مسلمانوں کو نقصان پہنچائے یا مسلمانوں کی زمینوں کا استعمال کرے ہم پورے عزم و ارادے کے ساتھ اور اپنے ملک کے عوام کی مدد کے ذریعے اس دھشتگرد گروہ کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
ملک عبد اللہ نے اپنے پیغام میں تاکید کی ہے کہ اسلام دین وحدت، دین برادری اور دین اتحاد ہے کہا جاتا ہے کہ بعض مسلمان دین سے دور ہو گئے ہیں اور فتنہ پروروں کے دھوک میں آ گئے ہیں۔
سعودی بادشاہ نے کہا ہے کہ یہ لوگ دھشتگردی اور اصلاح طلبی کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں نہ ہی یہ جانتے ہیں کہ بعض لوگ مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ امن و شانتی دنیائے اسلام میں واپس لوٹے گی اور محبت و برادری کی قدریں محفوظ ہوں گی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے تاہم ان دھشتگرد ٹولوں کی دامے سخنے درھمے مدد کر کے انہیں دنیائے اسلام پر مسلط کیا اور تین سال شام میں بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا انہیں دربدر کیا اب عراق میں سینکڑوں مسلمانوں کی جانوں کا ضیاع کروایا اب جب اپنی باری آئی تو مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور برادری کی قدریں یاد آئیں خدا ایسے مسلمانوں کی ہدایت کرے ورنہ انہیں نیست و نابود کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[ یکشنبه هشتم تیر 1393 ] [ 23:5 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

پی پی کے قائدین نے بھٹو کی روش کو ترک کر کے مفاد پرست، دنیا پرستوں اور جاہل لوگوں کو اردگرد جمع کر لیا تو پیپلز پارٹی اپنی موت آپ مر گئی ہے۔ میں کسی مری ہوئی پارٹیوں میں نہیں رہنا چاہتا۔ میں زندہ انسان ہوں عوامی حقوق کی جنگ لڑنا چاہتا ہوں اور وہ جنگ کسی مردہ پارٹی میں رہ تو ممکن نہیں تھی۔ دوسری طرف جے یو آئی کو بلتستان کے عوام کے مفاد کے خاطر جوائن کیا ہے۔ ہم نے گلگت بلتستان میں امن و امان کو بحال کیا، نفرتوں کو ختم کیا اور وحدت و محبت عام کی، فرقہ واریت کو ختم کرکے کر کے ثابت کر دیا کہ ہم انتظامیہ اور حکومت سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔

وفاقی پارٹیاں گلگت بلتستان کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، مولانا بلال زبیری
مولانا حافظ محمد بلال زبیری کا تعلق اسکردو سے ہے۔ اسکردو میں مرکزی انجمن اہلسنت کے نائب خطیب ہیں۔ بلتستان میں آپ کی شہرت ایک شعلہ بیان مقرر اور سیاسی و مذہبی شخصیت کی حیثیت سے ہے۔ آپ نے سیاست کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی میں کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اسکردو کے رہنماء تھے اور حال ہی میں پی پی پی کو خیر باد کہہ کر انجمن علمائے اہل سنت میں شمولیت اختیار کی ہے اور آپ کو بحیثیت سرپرست منتخب کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں گندم سبسڈی کے خاتمے کے خلاف جب عوامی ایکشن کمیٹی نے جدوجہد شروع کی تو آپ نے صف اول کا کردار ادا کیا اور اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اسلام ٹائمز نے آپ سے ایک انٹرویو کیا ہے جو اپنے محترم قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان کے حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے۔؟
مولانا بلال زبیری: سب پہلے میں آپکا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان اہم موضوعات پر گفتگو کرنے کے لیے زحمت کی۔ محترم ایسا ہے کہ ہمارے بنیادی حقوق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تعلیمی پسماندگی ہے اور تعلیمی پسماندگی کے پیچھے بھی موجود سازشوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جیسا کہ نیپولین نے کہا تھا کہ تم مجھے تعلیم یافتہ مائیں دے دو میں تمہیں اچھی قوم دونگا۔ لہٰذا تعلیم یافتہ افراد پیدا ہو جائیں تو قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا کوئی کار دشوار نہیں۔ اگر معاشرہ اور سماج تعلیم یافتہ ہو تو انہی کے درمیان سے باصلاحیت قیادت سامنے آئے گی جو قوم کو بہتری کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ اہل قیادت ہی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ قوم کو اپنے حقوق مانگنے اور قربانی دینے کے لئے آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کے شعور کو اجاگر کرنے کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت تک کسی بھی ملک یا کسی بھی قوم کو کامیابی نہیں مل سکتی جب تک عوام باشعور نہ ہوں۔ عوام کے دلوں میں جذبہ پیدا ہو جائے تو کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ ہمیں اس وقت تک حقوق میسر نہیں آ سکتے جب تک عوام بیدار نہ ہوں۔

اسلام ٹائمز: آپ کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم راہنماوں میں ہوتا تھا لیکن آپ نے اچانک پی پی پی کو خیر باد کہہ کر جمیعت علمائے اسلام میں شمولیت اختیار کرنے اس کی کیا وجہ ہے۔؟
مولانا بلال زبیری: اصل میں میں پی پی پی میں جوانی میں گیا تھا۔ ہم نے کچھ مذہبی اور سیاسی پارٹیوں میں کام کیا۔ اس وقت پی پی پی کے علاوہ کسی پارٹی میں بیٹھ کر عوامی حقوق کے لئے کام نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ میں نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز پی پی پی سے کیا لیکن اس وقت گلگت بلتستان اور پاکستان کے پی پی پی کے رہنماؤں اور قائدین نے پیپلز پارٹی کو گھر کی لونڈی بنا رکھا ہے۔ پی پی کے قائدین نے بھٹو کی روش کو ترک کر کے مفاد پرست، دنیا پرستوں اور جاہل لوگوں کو اردگرد جمع کر لیا تو پیپلز پارٹی اپنی موت آپ مر گئی ہے۔ میں کسی مری ہوئی پارٹیوں میں نہیں رہنا چاہتا۔ میں زندہ انسان ہوں عوامی حقوق کی جنگ لڑنا چاہتا ہوں اور وہ جنگ کسی مردہ پارٹی میں رہ تو ممکن نہیں تھی۔ دوسری طرف جے یو آئی کو بلتستان کے عوام کے مفاد کے خاطر جوائن کیا ہے۔ ہم نے گلگت بلتستان میں امن و امان کو بحال کیا، نفرتوں کو ختم کیا اور وحدت و محبت عام کی، فرقہ واریت کو ختم کرکے کر کے ثابت کر دیا کہ ہم انتظامیہ اور حکومت سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں ملک کے گوشہ گوشہ میں یہی اقدار لے کے جانا چاہتا ہوں، میں پاکستان کے دوسرے حصوں کو گلگت بلتستان سے ملانے کے لیے پل کا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں، ان مقاصد کے حصول کے لیے جے یو آئی میں شمولیت اختیار کی ہے لیکن میں یہ بات آپ کے توسط سے واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جے یو آئی میں شمولیت اور سرپرستی عوامی خدمت سے مشروط۔ ہے۔

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ نون اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مختلف راہنما گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر سے مربوط کرتے ہیں اس سلسلے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
مولانا حافظ بلال زبیری: مسئلہ کشمیر پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے۔ ملکی قائدین نے ابتداء میں بڑی غلطی کی تھی۔ وہ غلطی ہمارے قائدین کی یہ تھی کہ مسئلہ کشمیر کو ادھورا چھوڑ کر پاکستان کی تکمیل پر دستخط کر دیئے، یہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ اس کے بعد ہمارے لوگوں نے اس خطے پر مسلط ڈوگرہ فوج کو مار بھگا کر کشمیر اور انڈیا تک پہنچا دیا اور اپنی سلطنت کو آزاد کیا۔ اس کا مسئلہ کشمیر کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔ ہم نے بہت سارے علاقے آزاد کئے تھے اس میں نوبرا، کرگل اور اس کے علاوہ بہت سارے علاقے جو انڈیا کے پاس ہیں وہ کبھی ہمارے پاس تھے۔ مرکزی حکومتوں نے غداری کر کے انڈیا کو دیئے اور آج ہم کف افسوس مل رہے ہیں۔ یہ علاقے ہماری مختلف سیاسی پارٹیوں نے غداری کر کے اور کمزوری دکھا کر مختلف دورانیوں میں انڈیا کے ساتھ شامل کرائے۔ مسئلہ کشمیر کے ساتھ اس علاقے کو شامل رکھنا گلگت بلتستان کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ کیوں کہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا ارادہ نہ کسی ادارہ کا ہے اور نہ پارٹی کا۔ لہٰذا آزادی حاصل کرنے والی قوم کو گروی رکھنا ظلم ہے۔ ہم کشمیری نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مزید ہم نے پی پی پی اور مسلم لیگ پر تکیہ کیا تو یہ پارٹیاں ہمیں محروم رکھیں گی۔ یہ غدار پارٹیاں ہیں انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دینے میں صحیح کردار ادا نہیں کیا۔ اگر اب بھی مرکزی حکومتیں مسئلہ کشمیر کے نام پر یا کسی اور نام پر حقوق سے محروم رکھتی ہیں تو یہ محرومیاں عظیم طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہونگی۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان کے انتخابات میں ہمیشہ مرکزی حکومت کا عمل دخل رہا ہے، گلگت بلتستان میں بھی انہی کی حکومت آتی رہی ہے جو مرکز میں ہو، کیا اس بار بھی ایسا ہو گا۔؟
مولانا بلال زبیری: جی ہاں! کسی زمانے میں ایسا ہی ہوتا تھا کہ مرکز میں جس بھی پارٹی کی حکومت ہوتی تھی گلگت بلتستان میں انہی کی حکومت آتی تھی لیکن اب کی بار ایسا نہیں ہوگا کیونکہ یہاں کی عوام بیدار ہو چکی ہے۔ اگر مرکزی حکومت نے دھونس دھاندلی کے ذریعے یہاں حکومت لانے کی کوشش کی تو عوامی طاقت سے انکے تمام عزائم کو خاک میں ملا کر دم لیں گے۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کے حوالے سے آپ کا کیا لائحہ عمل کیا ہے۔؟

مولانا بلال زبیری: آئندہ انتخابات کے حوالے سے لائحہ عمل اور پالیسی مکمل طور پر ترتیب دے کر بہت جلد آپ دوستوں تک پہنچائی جائے گی۔ البتہ میں آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ مرکزی پارٹیاں ہمارے حقوق کی راہ میں رکاوٹ کے علاوہ کچھ نہیں۔ علاقائی پارٹیاں ہی متحد ہو کر حقوق کی جنگ لڑ سکتی ہے اور کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ اس ضمن میں عوامی ایکشن کمیٹی کا کردار فعال کرنے کی ضرورت ہے اور آغا علی قیادت میں ہم نے خطے کے حقوق کی جنگ لڑنی ہے۔ مجھے یقیین ہے کہ ہم نے حقوق کی جدوجہد کا جو آغاز کیا وہ کامیابی سے ہمکنار ہوگا کیونکہ ہمارے قائدین اور تمام رہنما اس کام سے مخلص ہیں اور کسی درباری قیادت اور رہنما کی روش پر چلنے والے نہیں بلکہ عوامی امنگون کے مطابق جدوجہد کرنے کی قسم کھائی ہے۔

اسلام ٹائمز: سید مہدی شاہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئندہ حکومت بھی انکی ہی قائم ہوگی، کیا ایسا ممکن ہے۔؟

مولانا بلال زبیری: مہدی شاہ کو شاید اپنی کارکردگی کا اندازہ نہیں اور اس بات کا بھی علم نہیں کہ عوام کس حد تک انکی پالیسیوں سے متنفر ہیں۔ عوام ان کی کس کارکردگی سے متاثر ہوکر انہیں ووٹ دے گی۔ وہ احمقانہ باتیں کر کے حکومت قائم نہیں کر سکے گی۔

اسلام ٹائمز: مسلم لیگ نون کی اعلٰی قیادت اور مرکز کے خزانوں کا منہ گلگت بلتستان کی طرف ہے وہ کس طرح کے اعلانات اور منصوبہ جات کے ذریعے یہاں کی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔؟

مولانا بلال زبیری: جیسا کہ میں نے کہا کہ مسلم لیگ نون ہو یا کوئی اور پارٹی گلگت بلتستان کی عوام کو دھوکہ نہیں دے سکے گی۔ یہاں کی عوام اچھِی طرح جانتی ہیں کہ مسلم لیگ نون اس خطے سے مخلص ہے، وہ لاکھ جھوٹے دعوے اور اعلانات کرے، یہاں کی عوام کو دھوکہ نہیں دے سکے گی۔ اگر مرکزی پارٹیاں مخلص ہیں تو پہلے گلگت بلتستان کو حقوق دیں پھر یہاں کے عوام سے محبت اور خطے کی ترقی کی دم بھریں۔ وفاقی پارٹیوں میں پی پی پی اور پی ایم ایل این یہاں شکست فاش سے دوچار ہونگی کیوںکہ کئی بار یہاں پر ان کی حکومت آئی لیکن انہوں نے قوم کو کیا دیا وہ سب کے سامنے ہے۔
[ پنجشنبه بیست و نهم خرداد 1393 ] [ 15:58 ] [ ارشادحسین مطهری ]

مغربی سامراج کی طرف سے ان تکفیری گروہوں کی خلقت کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ سامراجی قوتیں بجائے اس کے کہ خود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑیں، ان تکفیری گروہوں کو لڑایا جائے جیسا کہ آج کل عملی طور پر ہو رہا ہے کہ یہ گروہ پاکستان سے لے کر افغانستان، عراق، شام ، لیبیا اور دوسرے افریقی ممالک میں مغربی سامراج کے سپاہی بن کر مسلمانوں کے قتل عام پر تلے ہوئے ہیں اور سامراجی قوتوں کو خود مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔

تکفیری گروہ اور پس پردہ حقائق
تحریر: عاشق حسین طوری

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس افغانستان کے لئے طویل مدتی خطرہ ہیں اور پاکستان میں موجود گروپ افغانستان جاکر فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ یہ بات ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے جو طالبان کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ سے منسلک کالعدم تحریک طالبان پاکستان، لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی مشرقی اور جنوبی افغانستان میں افغان فورسز پر حملوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ شمالی افغانستان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کی طاقت بڑھ رہی ہے اور یہ تنظیم کئی صوبوں میں متحرک ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد یہ طویل مدتی خطرہ پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتا ہے اور اسکے اثرات جنوبی اور وسطی ایشیاء تک پھیل سکتے ہیں۔ افغان اور بین الاقوامی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ سے منسلک ان جنگجو گروپوں کا مستقبل قریب میں افغانستان سے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اس رپورٹ کے حوالے سے عرض یہ ہے کہ القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس صرف پاکستان میں ہی نہیں پائے جاتے کہ جن کا افغانستان سے نکلنے کا امکان نہیں اور اس کے اثرات جنوبی اور وسطی ایشیاء تک پھیل سکتے ہیں بلکہ القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کا سلسلہ اب پاکستان، جنوبی ایشیاء اور مرکزی ایشیاء سے نکل کر مشرق وسطی سے ہوتا ہوا افریقی ممالک تک پنہچا ہوا ہے لیکن اقوام متحدہ کی کونسل ایک خاص ہدف کے تحت اسے صرف افغانستان کے لئے طویل مدتی خطرے کے طور پر پیش کرتی ہے تاکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے لئے طویل مدتی قیام کے لئے ایک بہانہ تراشا جائے۔ البتہ چاہے کوئی بہانہ ہو یا نہ ہو امریکہ بہادر سے کون پوچھنے والا ہے کہ تم کیوں افغانستان کی جان نہیں چھوڑ رہے ہو، تو یہ رپورٹیں صرف دکھلاوے کے لئے ہیں تاکہ رائے عامہ کو ورغلایا جاسکے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی پائی جاتی ہے اس سے نمٹنے کے لئے امریکی افواج کا ہونا ضروری ہے حالانکہ کون نہیں جانتا کہ القاعدہ اور اس سے منسلک نیٹ ورکس کس کی پیداوار ہیں اور اسلام اور جہاد کے نام پر کام کرنے والے ان تکفیری گروہوں کا اصل خالق کون ہے۔

جن مقاصد کے لئے یہ شدت پسند اور تکفیری گروہ بنائے گئے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:
١: یہ تکفیری گروہ جو بظاہر جہاد اور اسلام کے محافظ ہونے کا نعرہ لگاتے ہیں درحقیقت اسلام کی مخالفت بلکہ دشمنی پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ گروہ پاکستان سے لے کر افغانستان، مشرق وسطٰی اور افریقی ممالک تک اسلام کے نام پر جو کاروائیاں کرتے ہیں اسلام انکی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور ان کے کام اسلامی احکامات کے سراسر منافی ہیں۔ اسلام نے کہاں پر بےگناہ انسانوں کو قتل کرنے اور بالخصوص جانوروں کی طرح ان کو ذبح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اسلام میں کہاں پر اس بات کی اجازت ہے کہ جنگ میں فورسز، حتی معصوم غیر عسکری افراد کو قید کرنے کے بعد بے دردی سے مارا جاۓ، جانورں کی طرح ذبح کیا جاۓ اور ان کا سینہ چیر کر کلیجہ چبایا جائے۔ اسلام نے اس بات کی کب اجازت دی ہے کہ ننھے ننھے بچوں پر رحم نہ کیا جائے اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کو بیدردی سے قتل کیا جائے۔ رسول خدا (ص) کے کس غزوے میں لڑکیوں اور شادی شدہ عورتوں کو اجازت دی گئی تھی کہ میدان جنگ میں جا کر مجاہدین کی شہوانی ضرورتوں کو پورا کریں اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کو جہاد بالنکاح کا نام دیا جائے، یعنی اسلامی احکامات کو بدنام کرنے کی ایک اور گھناؤنی سازش۔ شاید ان کاموں کا امریکی اور وہابی اسلام سے تعلق ہو، پر اسلام اور شریعت محمدی (ص) سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو اسلام کے دشمن ان تکفیری گروہوں کے ذریعے یہ سب کچھ اس لئے کروا رہے ہیں کہ اسلام کو بدنام کیا جائے اور مغرب میں اسلام کی طرف تیزی سے رغبت اور رجحان کا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے اس کو روکا جائے۔

٢: مغربی سامراج کی طرف سے ان تکفیری گروہوں کی خلقت کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ سامراجی قوتیں بجائے اس کے کہ خود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑیں، ان تکفیری گروہوں کو لڑایا جائے جیسا کہ آج کل عملی طور پر ہو رہا ہے کہ یہ گروہ پاکستان سے لے کر افغانستان، عراق، شام ، لیبیا اور دوسرے افریقی ممالک میں مغربی سامراج کے سپاہی بن کر مسلمانوں کے قتل عام پر تلے ہوئے ہیں اور سامراجی قوتوں کو خود مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔

٣: تیسرا مقصد یہ ہے کہ مشرق وسطٰی اور اسلامی دنیا کے قلب میں کینسر کے دانے یعنی اسرائیل کو خطرات سے نجات دلانے کے لئے ان ہی تکفیری گروہوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ ان تکفیری گروہوں نے مسلمانوں کی توجہ اسرائیل سے ہٹا کر ان کو آپس کی لڑائی میں مصروف کر دیا ہے بلکہ شام اور لبنان کے محاذوں پر تو اسرائیل اور داعش کی گٹھ جوڑ ہو چکی ہے اور اسرائیل داعش کی مدد کر رہا ہے۔ آج تک کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ القاعدہ کا کوئی رکن اسرائیل کے خلاف لڑا ہو یا فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کے لئے مارا جا چکا ہو۔

٤: چوتھا مقصد یہ کہ ان ہی دہشت گردوں اور تکفیریوں سے مسلمانوں، یورپ اور امریکہ کے عوام کو ڈرایا جا رہا ہے اور ان سے نمٹنے کے لئے امریکی افواج کو اتارنے کے بہانے تراشے جاتے ہیں۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی سامراجی قوتوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے کسی ملک اور علاقے میں جانے کا ارادہ کیا ہے تو پہلے ان تکفیری گروہوں کو وہاں بھیجا گیا ہے اور ساتھ ہی پٹھو حکومتوں کو امریکا سے امن معاہدوں کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور یہ سوال بہت سے ذہنوں میں موجود ہے کہ امریکہ نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو جیل سے کیوں رہا کیا تھا جو 2005ء سے 2009ء تک عراق میں امریکی جیل میں قید تھا۔
[ پنجشنبه بیست و نهم خرداد 1393 ] [ 15:57 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 
 
مولف:آیت اللہ سید ابوالحسن مولانا
مترجم:مولاناعلی اصغر سیفی
امام مہدی عج اللہ فرجہ الشریف کا موضوع ایسا موضوع نہیں ہے کہ محض شیعہ حضرات اس پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس موضوع پر تمام اسلامی دانشور خواہ وہ کسی بھی مذہب اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں سب متفق ہیں نیز سب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے خاندان سے ہوں گے ، ان کے ہم نام ہوں گے اور علی و فاطمہ علیھما السلام کی نسل مبارک سے ہوں گے اور جب ظہور فرمائیں گے تو وہ دنیا کہ جو ظلم و جور سے پر ہوچکی ہوگی اسے عدل و انصاف سے پر کریں گے اور اسلامی مفکرین اور دانشوروں کا یہ اتفاق اس بنا پر ہے کہ امام مہدی عج کے حوالے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ سے احادیث متواتر بلکہ ان سے بڑھ کر احادیث وارد ہوئی ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وصلواتہ علی محمد و آلہ
امام مہدی عج اللہ فرجہ الشریف کا موضوع ایسا موضوع نہیں ہے کہ محض شیعہ حضرات اس پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس موضوع پر تمام اسلامی دانشور خواہ وہ کسی بھی مذہب اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں سب متفق ہیں نیز سب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے خاندان سے ہوں گے ، ان کے ہم نام ہوں گے اور علی و فاطمہ علیھما السلام کی نسل مبارک سے ہوں گے اور جب ظہور فرمائیں گے تو وہ دنیا کہ جو ظلم و جور سے پر ہوچکی ہوگی اسے عدل و انصاف سے پر کریں گے اور اسلامی مفکرین اور دانشوروں کا یہ اتفاق اس بنا پر ہے کہ امام مہدی عج کے حوالے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ سے احادیث متواتر بلکہ ان سے بڑھ کر احادیث وارد ہوئی ہیں ۔
ہاں البتہ اس حوالے سے اہل سنت میں اختلاف نظر موجود ہے کہ آیا وہ امام حسنع کی اولاد میں سے ہوں گے یا امام حسینع کی اولاد میں سے ہوں گے یا یہ کہ آیا وہ پیدا ہوچکے ہیں یا پیدا ہوں گے؟
اہل سنت کے وہ علماء اور مفکرین جو شیعہ علماء کی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ امام مہدیعج پیدا ہوچکے ہیں اور ابھی زندہ ہیں اور امام حسن عسکریع کے فرزند ارجمند ہیں ان کی اچھی خاصی تعداد ہے مثلا ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں :
۱ابوسالم کمال الدین محمد بن طلحہ بن محمد قرشی شافعی اپنی کتاب مطالب السؤل فی مناقب آل رسول میں۔
۲ابوعبداللہ محمد بن یوسف محمد گنجی شافعی اپنی کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان میں۔
۳نور الدین علی بن محمد بن الصباغ مالکی اپنی کتاب الفصول المھمۃ میں۔
۴فقیہ واعظ شمس الدین ابوالمظفر یوسف بن قزغلی بن عبد اللہ بغدادی حنفی جو کہ سبط ابن جوزی کے نام سے مشہور ہیں۔
۵محی الدین عربی حاتمی اندلسی اپنی کتاب الفتوحات المکیہ میں۔
۶نور الدین عبد الرحمن بن احمد بن قوام الدین دشتی جامی شرح کافیہ ابن حاجب کے مصنف اپنی کتاب شواھد النبوۃ میں۔
۷شیخ عبد الوھاب بن احمد بن علی شعرانی مصری اپنی کتاب الیواقیت والجواھر میں
۸جمال الدین عطا اللہ بن سید غیاث الدین فضل اللہ اپنی کتاب روضۃ الاحباب فی سیرۃ النبی والال والاصحاب میں۔
۹حافظ محمد بن محمد بن محمود بخاری کہ جو خواجہ یارسا کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب فصل الخطاب میں۔
۱۰عبد الرحمن جو کہ مشایخ صوفیہ میں سے تھے اپنی کتاب مرآۃ الاسرار میں
۱۱شیخ حسن عراقی۔
۱۲ابو محمد احمد بن ابراھیم بلاذری حدیث مسلسل میں۔
۱۳ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن خشاب کہ جو ابن خشاب کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب تواریخ موالیہ الائمہ و وقیاتھم میں جناب علامہ سید محسن امین شامی کتاب اعیان الشیعہ جلد۲ صفحہ ۶۴ سے ۷۰ تک میں ان تیرہ افراد کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے بعد فرماتے ہیں ان کے علاوہ دیگر اھل سنت کہ جو امام مہدی عج کے موجود ہونے کے قائل ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جو بھی ان علماء کے بارے میں جاننا چاہتا ہے وہ ہماری کتاب البرھان علی وجود صاحب الزمان اور علامہ نوری کی کتاب کشف الاستار کی طرف رجوع کرے ۔
نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید کہتے ہیں:
اس جہان کے ختم ہونے سے پہلے مہدی موعود منتظر کے آنے کا مسئلہ مسلمانوں میں مورد اتفاق ہے ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۵۳۵
قاضی بہلول بہجت افندی اپنی کتاب تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمد علیہ صلی اللہ علیہ و آلہ میں اس حوالے سے یوں لکھتے ہیں:
امام ابوالقاسم محمد المھدی ابھی تک زندہ ہیں اور جب اللہ تعالی اذن فرمائے گا ، ظہور فرمائیں گے چونکہ امت کے درمیان امام کا ظہور مورد اتفاق ہے لہذا اس کے دلائل کی وضاحت کے ہم محتاج نہیں ہیں قاضی بہلول بہجت افندی ، تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمد ص چاپ ہفتم ص ۱۳۹ الی ۱۴۱
اس اتفاق کی بنیاد وہ بہت ساری احادیث ہیں کہ پیغمبر اسلام سے امام مہدی عج کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور علماء کرام نے انہیں اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور ان کے متواتر ہونے کی وضاحت کی ہے اور بہت سے علماء نے تو اس موضوع پر مستقل کتابیں تحریر کی ہیں تو ان فراوان احادیث اور کتب کے ہوتے ہوئے شیعہ سنی علماء اور محققین کبھی بھی اس مسئلہ میں شک و تردید کا شکار نہیں ہوسکتے سوائے ایسے عقل و خرد سے بیگانے اور دشمن دین خدا کہ جو اس موضوع کو واضح اور روشن دیکھنے سے محروم ہیں اور اپنے خود ساختہ خیالات میں ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں ورنہ اگر دیکھا جائے تو ان بے شمار احادیث جو کہ متواتر بلکہ تواتر سے بھی بالاتر ہیں ان کی تصدیق عقیدہ نبوت کی اہم جزو ہے اور ان کا انکار گویا نبوت کا انکار ہے۔
اسی لئے جب ایک بزرگ عالم دین سے پوچھا گیا کہ آیا مہدی منتظر کا ظہور دین کی ضروریات میں سے ہے اور اس کا انکار مرتد ہونے کا سبب ہے یا نہ؟ تو انہوں نے جواب دیا:

یہ اعتقاد دین کی ضروریات میں سے ہے اور ان کا انکار موجب کفر ہے فاضل مقداد اللوامع الھیہ چاپ تبریز پاورقی صفحہ ۲۸۹
حجاز کی ایک برجستہ علمی شخصیت اور مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسر شیخ عبد المحسن عباد اپنی ایک تقریر کہ جو عقیدہ اھل سنۃ والاثر فی المھدی المنتظر کے عنوان سے مدینہ یونیورسٹی کے رسالہ میں بھی آئی ہے اس میں کہتے ہیں :
میں ان پچیس اصحاب کے نام کہ جنہوں نے پیغمبر اسلام سے مہدی کے بارے میں احادیث نقل کی ہیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:
۱عثمان بن عفان ۲علی بن ابی طالب ۳طلحہ بن زبیر ۴عبدالرحمن بن عوف ۵الحسین بن علی ۶ام سلمہ ۷ام حبیبہ ۸عبد اللہ بن عباس ۹عبد اللہ بن مسعود ۱۰عبد اللہ بن عمر ۱۱عبد اللہ بن عمرو ۱۲ابوسعید الخدری ۱۳جابر بن عبداللہ ۱۴ابوھریرہ ۱۵انس بن مالک ۱۶عمار بن یاسر ۱۷عوف بن مالک ۱۸پیغمبر اسلام کے خادم ثوبان ۱۹قرۃ ابن ایاس ۲۰علی الھلالی ۲۱حذیفہ بن الیمان ۲۲عبد اللہ بن حارث بن حمزہ ۲۳عمران بن حصین ۲۴ابوالطفیل ۲۵جابر الصدفی۔ کتاب مصلح جھانی
وہ مزید اپنی بات بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
وہ آئمہ کہ جن سے صحاح ، سنن ، لغت ناموں اور مسانید وغیرہ میں مہدی کے حوالے سے احادیث نقل ہوئی ہیں وہ تحقیق کے مطابق ۳۸نفر ہیں اور وہ یہ ہیں:
۱ابوداؤد اپنی سنن میں ۲ترمذی اپنی جامع میں ۳ابن ماجہ اپنی سنن میں ۴نسائی کی سفارینی نے اسے لوامع الانوار البھیۃ میں ذکر کیا ہے اور منادی نے فیض القدیر میں ذکر کیا ہے جب کہ میں نے اسے صغری میں دیکھا شاید کبری میں ہو ۵ احمد اپنی مسند میں ۶ابن حیان اپنی صحیح میں ۷حاکم اپنی مستدرک میں ۸ابوبکر بن شیبہ المصنف میں ۹نعیم بن حماد کتاب الفتن میں ۱۰حافظ ابو نعیم کتاب المھدی در الحلیۃ میں ۱۱طبرانی الکبیر والاسط والصغیر میں ۱۲دارقطنی الافراد میں ۱۳بارودی معرفۃ الصحابہ میں ۱۴ابویعلی اسامہ اپنی مسند میں ۱۵بزاز اپنی مسند میں ۱۶حارث بن ابی اسامہ اپنی مسند میں ۱۷خطیب تلخیص المتشابہ اور المتفق والمتفرق میں ۱۸ابن عساکر اپنی تاریخ میں ۱۹ابن مندہ تاریخ اصفہان میں ۲۰ابوالحسن حربی اول من الحربیات میں ۲۱تمام الرازی اپنی فوائد میں ۲۲ابن جریر تھذیب الآثار میں ۲۳ابوبکر مقری اپنی معجم میں ۲۴ابو عمر والد انی اپنی سنن میں ۲۵ابو غنم کوفی کتاب الفتن میں ۲۶دیلمی مسند الفردوس میں ۲۷ابوبکر الاسکاف فوائد الاخبار میں ۲۸ابوالحسین بن المنادی کتاب الملاحم میں ۲۹بھیقی دلائل النبوۃ میں ۳۰ ابوعمر والقری اپنی سنن میں ۳۱ابن الجوزی اپنی تاریخ میں ۳۲یحیی بن عبد الحمید الحمانی اپنی مسند میں ۳۳رویانی اپنی مسند میں ۳۴ابن سعد طبقات میں ۳۵ابن خزیمہ ۳۶احسن بن سفیان ۳۷عمرو بن شبیہ ۳۸ابوعوانہ مصلح جھانی ص ۱۰۹ و ۱۱۰ امام مہدی ع ص ۱۴۹ الی ۵۳مسجد نبوی کے بعض مضافات کہ جو آل سعود کے دور حکومت میں کچھ عرصہ قبل تعمیر ہوئے ہیں ان عمارتوں کی چھتوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ روشنی ان سے گزرتی ہے میں نے ان عمارتوں کی دیواروں پر بعض صحابہ اور ہمارے بارہ ائمہ کے اسماء کا مشاھدہ کیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کا نام یوں لکھا ہوا ہے محمد بن الحسن العسکری اور یہ بات ہمارے شیعہ عقیدہ کے مطابق ہے کہ امام زمانہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں میں اپنے مضمون کو فارسی کے شاعر فرید الدین عطار نیشاپوری کے ان اشعارپر ختم کرتا ہوں :

صد ہزاران اولیاء روی زمین
از خدا خواھند مھدی را یقین

یاالھی مھدیم از غیب آر
تاجھان عقل گردد آشکار

مہدی ھادی است تاج اتقیاء
بہترین خلق برج اولیاء

مظھر العجائب النقل ینابیع المودۃ ص ۴۷۳
 

 

[ پنجشنبه بیست و دوم خرداد 1393 ] [ 4:44 ] [ ارشادحسین مطهری ]

آیت اللہ مکارم شیرازی نے مزید کہا: مسلمانوں کے درمیان موجود مشکلات کا راہ حل قتل و غارت نہیں ہے بلکہ ان مشکلات کا حل آپسی اتحاد و ہمدلی کو محفوظ رکھتے ہوئے دوستانہ نشستیں اور گفتگو ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ مکارم شیرازی نے سیستان و بلوچستان کے علماء کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ جہان اسلام کی آج بدترین صورتحال ہے جب ہم شام، عراق، پاکستان، مصر، یمن، بحرین اور دوسرے اسلامی ممالک کو دیکھتے ہیں تو ہر طرف ہمیں دشمن کی سازشیں کارفرما نظر آتی ہیں۔
انہوں نے کہا: اگر چہ مصر میں انتخابات ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی مصر امن و سکون سے دور ہے دوسرے اسلامی ممالک میں بھی دشمن کامیابی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے مزید کہا: دشمنوں نے بہت پلاننگ کے ساتھ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے دست و گریباں کر رکھا ہے تاکہ اسرائیل پلید سے مسلمانوں کی توجہ ہٹ جائے۔
جہان تشیع کے اس مرجع تقلید نے یہ سوال پوچھتے ہوئے کہ کیا امت اسلام کی ناگفتہ بہ حالت ہمیں جگانے کے لیے کافی نہیں ہے؟ کہا: تمام اسلامی ممالک میں سے صرف اسلامی جمہوریہ ایران ہے جس میں شیعہ و سنی امن و سکون کے ساتھ آپس میں زندگی گزار رہے ہیں اور انکے درمیان کوئی مشکل نہیں پائی جاتی لیکن دیگر اکثر ممالک میں فرقہ واریت کی آگ جل رہی ہے۔
موصوف نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امت مسلمہ کے درمیان تفرقے کی آگ لگانا قرآن کی نظر میں ایک قسم کا شرک ہے کہا: اگر انسان مسلمانوں کی اس صورتحال کو دیکھ کر گریہ کرے تو وہ بھی ناکافی ہے دشمن تفرقے کی آگ بڑھکا کر خود تماشا دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: کیا ایسے شرائط میں علما کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟ ہمیں مسلمانوں کے خبردار نہیں کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں انہیں اتحاد اور اتفاق سے رہنے کی ہر وقت نصیحت نہیں کرنا چاہیے؟
آیت اللہ مکارم شیرازی نے مزید کہا: مسلمانوں کے درمیان موجود مشکلات کا راہ حل قتل و غارت نہیں ہے بلکہ ان مشکلات کا حل آپسی اتحاد و ہمدلی کو محفوظ رکھتے ہوئے دوستانہ نشستیں اور گفتگو ہے۔
انہوں نے کہا: مسلمانوں اور اسلامی فرقوں کے ماننے والوں یا علما کو ایک دوسرے کی توہین کرنے کا بالکل کوئی حق حاصل نہیں ہے ہم ہمیشہ اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ اسلامی مقدسات کی توہین جائز نہیں ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا : البتہ اگر اہل تشیع یا اہل سنت کے درمیان کچھ لاابالی افراد افراطی رویہ اپنائیں تو یہ معیار نہیں ہے اور اس کا علما سے کوئی تعلق نہیں ہے علماء کو سنجیدگی سے کام لینا چاہیے اور اس قسم کے عناصر پر پابندیاں عائد کرنا چاہیے۔ کسی بھی مذہب کے علماء معیار ہوتے ہیں میں نے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں لیکن کسی ایک کتاب میں بھی سنی مذہب یا سنی عالم دین کی توہین نہیں کی ہے۔
انہوں نے آخر میں پھر تمام مسلمانوں کو اتحاد اور بھائی چارگی کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہا ہمیں اجازت نہیں دینا چاہیے کہ ہمارے اختلافات کی وجہ سے اسلام دنیا میں بدنام ہو ہم خداوند عالم سے دعا گو ہیں کہ اتحاد کی راہ میں قدم اٹھانے والوں کی مدد اور نصرت فرمائے۔

[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:32 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

مذکورہ اسکالرشپ کیلئے ملک بھر سے ہزاروں امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں جن میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے 20 اور گلگت بلتستان سے رحمن شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔

گلگت، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دیامر امریکہ میں فیلو شپ کیلئے منتخب ہو گئے
اسلام ٹائمز۔ امریکہ میں پبلک پالیسی اینڈ پبلک ایڈمنسٹریشن کی ایک سالہ فیلو شپ اسکالرشپ کے امتحان میں گلگت بلتستان ایڈمنسٹریشن کے نوجوان آفیسر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ضلع دیامر رحمٰن شاہ کامیاب ہو گئے ہیں اور ایک سالہ تعلیم کیلئے 12 جون کو امریکہ پہنچ رہے ہیں۔ مذکورہ اسکالرشپ کیلئے ملک بھر کے ہزاروں امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں جن میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے 20 اور گلگت بلتستان سے رحمن شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔ رحمٰن شاہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں گولڈ میڈلسٹ ہیں اور 2007ء کے مقابلے کے امتحان میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات کئے گئے۔ انہوں نے استور اور ہنزہ میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور حال ہی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دیامر کی حیثیت سے ڈیوٹی پر مامور تھے اور اسکالرشپ ملنے کے بعد ایک سال کی رخصت پر امریکہ جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوامی، سیاسی و سماجی حلقوں نے ان کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سالہ فیلو شپ مکمل کرنے کے بعد وہ گلگت بلتستان ایڈمنسٹریشن کے بہترین آفیسرز میں شمار ہونگے۔
[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:29 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

امام راحل کی 25ویں برسی کی مناسبت سے ہونیوالی تقریب سے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امام خمینی نے خداوند متعال پر اعتماد و بھروسہ کرتے ہوئے سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور حقیقی اسلام محمدی کی راہ میں ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی حکومت اور اسلامی جمہوری نظام حکومت قائم کیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:26 ] [ ارشادحسین مطهری ]



اسلامی حکومت کا مفہوم

امام خمینی (رہ) اپنے فقہی نظریات میں اسلامی نظام حکومت کو چلانے اور شرعی احکام کو اجراء کرنے کے سلسلے میں اسلامی حکومت یا اسلامی گورنمنٹ کے خاص طور سے قائل ہیں۔ اسلامی حکومت کے دوسری حکومتوں سے جدا ہونےکے  سلسلے میں امام کا نظریہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت دوسری حکومتوں سے مختلف ہوا کرتی ہے۔ اسلامی حکومت نے اپنے آغاز حکومت سے ہی سلطنت اور ولیعہدی پر خط بطلان لگا دیا۔ اور ایران اور مشرقی روم، مصر اور یمن میں سلطنت کی بساط الٹ کر رکھ دی۔

اسلامی حکومت استبدادی حکومت یا مشروطہ سلطنت کی اقسام میں سے نہیں ہے بلکہ اسلامی حکومت در حقیقت لوگوں پر الہی قوانین کی حکومت ہوتی ہے اسلامی حکومت میں حکومتی کارندہ پر حکومت چلانے میں مجموعی طور پر کچھ شرائط کی پابندی لازمی ہوتی ہے اور شرائط کا یہ مجموعہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر اکرم (ص) میں مشخص ہے شرائط کا یہ مجموعہ حقیقت میں احکام اور اسلامی قوانین ہیں جن کی رعایت اور جن کا اجرا ہونا ضروری ہے۔ اس بنا پر آپ کی نگاہ سے اسلامی حکومت اور دوسری تمام استبدادی حکومتوں کے درمیان نکتہ افتراق اسلامی احکام کی پابندی اور ان کا اجراء کرنا ہے۔

اسلامی حکومت کی تشکیل عقل کی رو سے

وہ دلائل جو اسلامی حکومت کی تشکیل کو امام معصوم [ع] کے زمانہ غیبت میں ضروری بناتے ہیں امام خمینی (رہ) نے ان دلائل کو سیرہ نبوی سے مستند فرمایا ہے آپ کے وہ دلائل عبارت ہیں:

پیغمبر اسلام (ص) کی روش اور سنت، اسلامی حکومت کی تشکیل پر دلیل ہے اس لیے کہ اولاً آنحضرت نے سب سے پہلے خود حکومت کو تشکیل دیا۔ اور تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ آپ نے حکومت تشکیل دی اور آپ اسلامی قوانین اور اسلامی نظام کے نافذ کرنے کے لیے اور اسلامی معاشرے کو چلانے کے لیے خود اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے گردو نواح کے علاقوں میں گورنر روانہ کئے، مسند قضاوت پر بیٹھتے تھے اور قاضی معین فرماتے تھے دوسرے ممالک کے بادشاہوں اور قبیلوں کے روسائوں کے پاس اپنے سفیر بھیجتے تھے۔ معاہدہ اور عہد و پیمان باندھتے تھے۔ جنگی کمانڈ کرتے تھے۔ بطور خلاصہ آنحضرت تمام حکومتی امور کو چلاتے تھے۔ ثانیاً آپ نے خداوند عالم کے فرمان کے مطابق اپنے بعد حاکم معین فرمایا لہذا ظاہر سی بات ہے کہ جب خداوند عالم پیغمبر[ص]  کے بعد حاکم کا تیعن کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد بھی حکومت کی ضرورت ہے۔ پیغمبراسلام نے بھی اپنی وصیت کے ضمن میں الہی پیغام کا ابلاغ فرمایا لہذا یہ ساری چیزیں دلیل ہیں اس بات پر کہ پیغمبر کی وفات کے بعد حکومت کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔ امام خمینی (رہ) کے فقہی نظریہ کے مطابق جس طرح پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے میں اسلامی حکومت کی تشکیل کی ضرورت تھی اسی طرح شرعی احکام کے نافذ کرنے کی بھی ضرورت تھی۔ اور یہی احکام کے اجراء کی ضرورت اسلامی حکومت کی تشکیل کا باعث بنی۔ اور واضح ہے جب پیغمبر اسلام کے زمانے میں احکام کے اجراء کی ضرورت تشکیل حکومت کا باعث بنی تو اس ضرورت کا تعلق کسی خاص زمان و مکان سے نہیں ہے اور نہ ہی اسے زمان اور مکان میں محدود کیا جا سکتا ہے۔ لہذا یہ ضرورت پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد بھی جاری اور ساری ہے۔ اسی طرح وحدت اسلامی کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل اور ایجاد ایک دوسری عقلی دلیل ہے جو امام خمینی (رہ) نے بیان فرمائی ہے ہم اگر چاہیں وحدت اسلامی کو قائم کریں اور اسلامی معاشروں کو دشمنوں کے تصرف اور نفوذ ، اور دوسری استکباری حکومتوں کے تسلط سے آزاد کرنا چاہیں تو ان تمام باتوں کو ممکن بنانے کے لیے حکومت کی تشکیل کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ علاوہ اس کے مظلوموں اور محروموں کی نجات اور ظالموں کا مقابلہ جو علماء اسلام کا وظیفہ ہے اسلامی حکومت کی تشکیل پر ہی مبنی ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوموں اور محروم افراد کو نجات دلائیں ہمارا وظیفہ ہے مظلوموں کی پشت پناہی کریں اور ظالموں سے دشمنی کریں اور یہی وہ وظیفہ ہے کہ جسے امیر المومنین (ع) نے اپنی مشہور اور معروف وصیت میں اپنے دونوں بیٹوں کے لیے بیان فرمایا ہے آپ اپنے دونوں بیٹوں کو مخاطب کر کے بیان فرماتے ہیں: کونا للظالم خصماً و للمظلوم عوناً۔ علماء اسلام کا وظیفہ ہے کہ وہ ظالموں اور ستمگروں کے نامشروع کاموں سے نبرد آزما ہوں اور ہر گز ایسا نہ ہونے دیں کہ ایک طرف بے شمار لوگ بھوکے اور محروم رہیں اور دوسری طرف ظالم ، ستمگر اور حرام خور، ناز و نعمت کی زندگی بسر کریں۔ دوسری طرف سے امام خمینی (رہ) اسلامی حکومت کےسلسلے میں قوہ مجریہ اور حاکم اسلامی کے تعین، احکام کے اجراء اور مجموعی مقررات اور شریعت الٰہیہ کے قوانین کے نفاذ کے لیے حکومتی ارکان کے ایجاد کو ضروری سمجھتے ہیں۔ قوانین کا مجموعہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس لیے کہ قانون بشریت کی سعادت اور اصلاح کا سبب قرار پائے اس کے لیے قوہ مجریہ کی ضرورت ہے۔ اسی لیے خداوند عالم نے قوانین کے مجموعہ  یعنی شریعت الٰہیہ کے نزول کے علاوہ حکومت کے چلانے والے اور قوانین کے نافذ کرنے والوں کو بھی بھیجا۔ رسول خدا (ص) اسلامی معاشرے کو چلانے اور تمام حکومتی امور کی تشکیلات  میں سرفہرست قرار پاتے ہیں۔ وحی کے ابلاغ ، بیان و تفسیر ، عقائد اور اسلامی نظام کے احکامات کے بیان کے علاوہ آپ نے احکام نے اجراء اور اسلامی نظام کی برقراری جیسا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ تاکہ اسلامی حکومت کو تشکیل دے سکیں۔ امام خمینی (رہ) کے فقہی نظریہ کے مطابق اسلامی حکومت کی تشکیل شرعی احکام کے اعلی ترین درجہ پر فائز ہے اس طرح سے کہ اسلامی حکومت کی تشکیل دوسرے تمام فرعی احکام جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ پر مقدم ہے۔ اس لیے کہ اسلامی حکومت رسول خدا (ص) کی ولایت مطلقہ کا ایک شعبہ ہے۔

اسلامی حکومت کی تشکیل کا مقصد
امام خمینی (رہ) اسلامی معاشرے کے تحفظ، بدنظمی سے دوری، اسلامی امت کے درمیان ہرج ومرج، اور اسلامی ممالک پر غیروں کے حملے اور ان کی سرحدوں کا تحفظ، احکام الٰہیہ کا اجراء جیسے مہمترین اہداف تک پہنچنے کے لیے اسلامی حکومت کے قیام کو لازمی اور ضروری سمجھتے ہیں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ سماج کے نظام کی حفاظت شریعت الٰہیہ کے موکد واجبات میں سے ہے جب کہ مسلمانوں کے امور میں بد نظمی سر گردانی، پریشانی خدا اور خلق خدا کے نزدیک ایک ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلامی حکومت کے بغیرمعاشرے میں نظام کی حفاظت، خلل اندازی کے تمام راستوں کا سد باب، ممکن نہیں ہے لہذا اسلامی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ علاوہ اسکے جو ہم نے ذکرکیا ہے کہ اسلامی ملک کی سرحدوں کی غیروں کے حملات سے حفاظت، اور متجاوزین کے تسلط سے محفوظ رکھنے کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل عقلا اور شرعا واجب ہے اور اس بات کا اس وقت تک تحقق پانا ممکن نہیں ہے جب تک اسلامی حکومت میسر نہ ہو۔

اسی طرح امام خمینی [رہ] نے مولائے کائنات کے ایک خطبہ کی طرف استناد کرتے ہوئے فرمایا جس میں امیر المومنین فرماتے ہیں: اما و الذی فلق الحبۃ و برا النسمۃ لو لا حضور الحاصر و قیام الحجۃ بوجود الناصر و ما اخذ اللہ علی العلماء ان لا یقاروا علی کظۃ ظالم و لا لقیت حبلحا علی غاربھا۔

ہاں،قسم ہے اس خدا کی جس نے بیج کا منہ کھولا اور اس کے اندر جان ڈالی اگر بیعت کرنے والوں کا مجمع نہ ہوتا اور مددگاروں کا وجود قیام کے لیے حجت نہ ہوتا اگر خداوند عالم نے علماء سے یہ عہد و پیمان نہ لیا ہوتا کہ ستمگروں کی پرخوری اور غارت گری بھوکوں کی جان لیوا بھوک اور ستمدیدہ افراد کی  محرومیت کے مقابلہ میں سکوت اختیار نہ کرنا ہوتا تو میں لگام حکومت کو رہا کر دیتا۔

امام خمینی (رہ) امیر المومنین کے کلام کی طرف استناد کرتے ہوئے فرماتے ہیں محروم لوگوں کی نجات، استعمار اور استثمار سے جنگ جیسے اہداف تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل کو ضروری سمجھتے ہیں۔

اسلامی حکومت کی خصوصیات
الف:امام خمینی[رہ] کے نظریہ کے مطابق اسلامی حکومت کی خصوصیات میں سے ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں حاکم مطلق اور حاکمیت مطلقہ صرف خداوند عالم سے مخصوص ہے۔ یعنی اسلامی حکومت میں حاکم مطلق اور حقیقی سلطان صرف خداوند عالم ہے

ب: اس کے علاوہ اسلامی حکومت پر حاکم قانون صرف قانون الٰہیہ ہے۔ حاکمیت مطلقہ صرف خدا سے مخصوص ہے لہذا قانون بھی خدا کا قانون اور اس کا فرمان ہے۔ اسلامی قانون یا خدا کا فرمان اسلامی حکومت کے اندر کلی طور پر حاکم ہوتا ہے۔ لہذا تمام لوگ رسول خدا[ص] سے لے کر آپ کے خلفاء اور دوسرے تمام لوگ اس قانون کے تابع ہوتے ہیں اور یہ قانون وہی قانون ہے جو خداوند عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے اور قرآن اور نبی اکرم کی زبان سے بیان ہوا ہے

ج: اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اسلامی احکام منجملہ اقتصادی قوانین، سیاسی قوانین، حقوقی قوانین روز قیامت تک باقی اور قابل نفاذ ہیں۔ چنانچہ یہ بات ذہن میں رہے کہ الہی احکام کا نفاذ اسلامی حکومت کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں ہے خداوند عالم نے اسلامی احکام کے ابلاغ کے لیے اپنے رسول کو زمین پر اپنا خلیفہ اور جانشین منصوب کیا اور اسلامی حکومت کی ولایت،سرپرستی اور ذمہ داری آپ کو سونپی۔ پیغمبر اکرم نے بھی اپنے بعد امت اسلامی کی ذمہ داری امام علی علیہ السلام اور ان کے بارہ معصوم فرزندوں کی طرف منصوب کی حتی امام کی غیبت کے زمانے میں بھی امت کی ولایت اور سرپرستی آپ کے ذمہ ہے۔

د: امام معصوم کی غیبت کے زمانے میں عقل کی تشخیص اور نقلی دلائل کی رہنمائی کی روشنی میں اسلامی حکومت اور ولایت کے سلسلہ کا جاری رکھنا ایک ضروری اور لازمی امر ہے۔  اس بنا پر بارہویں امام (ع) کے عصر غیبت میں الہی احکام کو تعطل کا شکار نہیں بنایا جا سکتا۔ بلکہ ان کا نفاذ ہونا چاہیے اور ایک ولی امر مسلمین یعنی ایک ایسے حاکم کا وجود لازمی اور ضروری ہے جو اسلامی حکومت میں نظم و ضبط کو قائم کرے اور اسلامی قوانین کو برقرار رکھ سکے۔ ایسے حاکم کا وجود لازمی ہے جو ظالموں اور ستمگروں کو ظلم و استبداد اور دوسروں کے حقوق کی پامالی سے روک سکے۔ امین و امانتدار اور خلق خدا کا محافظ ہو لوگوں کا ھادی ، لوگوں کو عقائد، احکام اور اسلامی نظام کی تعلیم دے۔ اور دشمنوں اور ملحدوں کی طرف سے دین میں داخل کی جانے والی بدعتوں کو روک سکے۔

خلافت کی کیفیت کی تشریع کے سلسلہ میں امام خمینی کے بیانات اسلام کی نگاہ سے

حضرت امیر علیہ السلام کی حکومت اور منصوبہ بندی، اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے ایک آئیڈیل۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
عید غدیر وہ دن ہے جس دن پیغمبر اکرم (ص) نے اسلامی حکومت کے وظائف کو معین فرمایا اور قیامت تک کے لیے اسلامی حکومت کے لیے آئیڈیل شخصیت کو معین فرمایا اسلامی حکومت کے آئیڈیل کی تعریف یہ ہے کہ آئیڈیل ایک ایسی شخصیت ہو جو ہر اعتبار سے مہذب اور ہر لحاظ سے معجزہ ہو اگر چہ پیغمبر جانتے تھے کہ واقعی معنی میں ایسی شخصیت سوائے حضرت امیر علیہ السلام کے کوئی دوسری نہیں ہو سکتی لیکن اس طرح کے آئیڈیل کو نزدیک سے دوسروں پر آشکار کیا اور حکومتوں کو آخر تک کے لیے معین کر دیا۔ چنانچہ حضرت امیر نے بھی اپنے نظام حکومت کو مالک اشتر کے لیے ایک معاہدہ میں بیان فرمایا کہ وہ لوگ جو آپ کی طرف سے شہروں یا ملکوں پر حاکم ہیں ان کے حکومتی اعتبار سے کیا فرائض ہیں؟ پیغمبر اکرم(ص) نے حکومت کے لیے جو طریقہ کار معین کیا یا لوگوں پر سرپرستی کے لیے جو طریقہ بیان فرمایا اس کے مطابق اب تک جتنی بھی حکومتیں بر سر کار آئیں صرف حضرت امیر (ع) کی حکومت اور امام حسن (ع) کی چند روزہ حکومت کے علاوہ ان میں سے ایک کے اندر بھی حکومت کرنے کی لیاقت اور صلاحیت نہیں پائی جاتی تھی اگر چہ بعض حکومتوں میں ایک حد تک آداب نبوی کی رعایت کی گئی اور بعض ایسی حکومتیں بھی تھی جن میں آداب اور رسومات نبوی کو یکسر فراموش کر دیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خود حضرت امیر (ع) نے امیر شام معاویہ کے خلاف قیام کیا حالانکہ معاویہ مسلمان تھا اور ظاہری طور ہر اسلامی کاموں کو انجام دیتا تھا شاید اسلامی اعتقاد رکھتا تھا یا نہیں بھی رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ جو کچھ لوگ جو اپنے خیال میں حضرت امیر[ع] کو نصیحت کررہے تھے کہ آپ ایک مدت تک معاویہ کو اپنی حکومت کے سایہ میں رکھ لیں اور جب آپ کی حکومت کی بنیادیں مضبوط ہو جائیں تواس وقت معاویہ کو نکال باہر کر دیں حضرت امیر علیہ السلام نے ان کی کسی بات پر کوئی توجہ نہیں کی اس لیے کہ ان کے نزدیک ایک ایسے شخص کو جس نے ظلم و جور کو ملک کے اندر عام کر رکھا تھا اور الہی قوانین اور موازین اسلام کے خلاف عمل کرتا رہا ہے میں ایک لمحہ کے لیے اس کو حاکم قرار نہیں دے سکتا۔ بلکہ حضرت امیر اس کو حاکم معین کر دیتے تو یہ بات اس چیز پر دلیل بن جاتی کہ ایک فاسق و فاجر شخص ولی امر کی طرف سے حاکم  بن سکتا ہے۔ حضرت امیر نے اس کام سے دریغ کیا اگر چہ اس  وقت اس کو حاکم معین کر دینا مصلحت کے تحت بھی ہوتا تب بھی آپ قبول نہ کرتے مثلا معاذ اللہ معاویہ کو قبول کر لیتے اور جیسے ہی آپ کی حکومت کی جڑیں مضبوط ہو جاتی تو معاویہ کو باہر کر دیتے۔ لیکن حضرت امیر نے خود کو اجازت نہیں دی کہ ایک دن کے لیے بھی معاویہ کو اپنی حکومت میں رہنے دیتے یہ بات ہمارے لیے حجت ہے کہ ان ظالم و جابر حکومتوں کو نابود کریں اور اگر خدا نخواستہ ایسا ہماری قدرت سے باہر ہو تو بھی ان حکومتوں کے لیے اپنی رضایت کا اظہار نہ کریں اگر چہ یہ رضایت ایک دن یا ایک لمحہ کے لیے کیوں نہ ہو۔ یہ رضایت ظالم کے ظلم کے اوپر اور متجاوز کے تجاوز پر رضایت ہے، لوگوں کے اموال کی غارتگری پر رضایت ہے اور کسی بھی  مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ ظالم کی حکومت کے لیے اپنی رضایت کا اظہار کرے خواہ ظالم کی حکومت کی مدت ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان سے جنگ کریں ہر شخص سے جتنا ہو سکتا ہے جتنا اس کی توان میں ہے ان سے مقابلہ کرے۔ اس سلسلہ میں کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہے۔

ایرانی قوم کی اسلامی حکومت کی نسبت بیداری، فرمان رسول اکرم (ص) پر لبیک
آج جب ایران کی قوم قیام کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور مسائل سے مکمل آشنائی اور بیداری سے قیام کیا ہے شہروں سے لے کر دیہاتوں کے کونہ کونہ تک سب کی ایک ہی آواز ہے اور سب کےمسئلہ کا عنوان ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ظالم اور جابر حکومت نہیں چاہتے۔ہم اسلامی حکومت کے خواہاں ہیں اور آزادی کے طلبگار ہیں استقلال چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری حکومت اسلامی حکومت ہو۔ یہ وہی لبیک ہے جو لوگوں نے رسول اللہ (ص) کے فرمان اور ان کی فرمایش پر کہی ہے۔ وہ خصوصیات جو پیغمبر اکرم (ص) نے ایک حکومت کے لیے معین کی ہیں اور وہ تمام خصوصیات جو کلی طور پر ایک حکومت میں ہونا چاہیے وہ کلی صفات جو ایک معتبر حکومت میں ہونا چاہیے ہمیں انہیں حضرت امیر (س) کی حکومت سے اقتباس کرنا چاہیے ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے اگر چہ ہم ان تمام پہلوں کی رعایت نہیں کر سکتے بلکہ کوئی بھی ہر اعتبار سے ان کی رعایت نہیں کر سکتا اس لیے کہ ان کی حکومت، خود مسئلہ حکومت سے بڑھ کر تھی اور کچھ کام حضرت امیر سے مخصوص تھے لیکن اصلی مسئلہ  یہ ہے کہ حکومت کو ایک عادلانہ حکومت ہونا چاہیے جو لوگوں کے اوپر ظلم و ستم نہ کرے اسلامی حکومت میں اگر ایک شخص کسی کو قتل کر دیتا ہے تو اس کو قتل کر دیا جاتا ہے اگر کوئی کسی کو ایک طمانچہ مار دیتا ہے تو اس کو طمانچہ کا انتقام دینا پڑتا ہے لیکن اگر اس ایک طمانچہ کے بدلے میں کسی کو ایک روز قیدی بنا دیا جائے تو یہ اسلامی نظام کے خلاف ہے اس لیے کہ یہ اس ایک طمانچہ کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے البتہ بعض خاص مواقع پر قیدی بھی بنائے جاتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان حکومتوں کی طرح جو ابھی بر سر کار ہیں، جس کو بھی گرفتارکر کے لائیں پہلے اس کی اچھی خاصی پٹائی کریں خوب مار پیٹ کے بعد ایک مدت کے لیے قید میں ڈال دیں اور بے شمار ٹارچر کریں اور پھر تفتیش کرنے کے بعد معلوم ہو کہ اشتباہ کیا تھا کہ اس وقت اعتراف کریں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔

اسلام نظام حکومت کو مرتب کرنے والا دین ہے
بہر حال اسلام، حکومت کی کیفیت اور اس کے نظام کو مرتب کر چکا ہے ایسا نہیں ہے کہ اسلام کے پاس کوئی مرتب نظام نہ ہو اس سلسلے میں جو بھی باتیں کی جاتی ہیں وہ صرف مفت باتیں ہوتی ہیں اسلام کے اندر حاکم کی خصوصیات معلوم ہیں اور خاص نظام کے تحت مرتب بھی ہیں اوراس کے حکومتی پروگرام کو حضرت امیر علیہ السلام مرتب اور معین کر چکے ہیں۔ آپ نے مشخص کر دیا ہے کہ حکومت کو کیسا ہونا چاہیے اس کی عدالت کو کیسا ہونا چاہیے اس کے قاضیوں کو کیسا ہونا چاہیے حکومت اور اس کے کارندوں کو کیسا ہونا چاہیے یہ سارے وہ مسائل ہیں وہ واضح اور معلوم ہیں اور اسلام نے ان کا تعین پہلے سے کر رکھا ہے۔ یہ جناب یہ جو کہتے ہیں کہ اگر میں نہ رہوں تو خلا ایجاد ہو جائے گا یا ان کے رفقاء جو کہتے ہیں اگر یہ صاحب نہ ہوں تو ایک خلا ایجاد ہو جائے گا یہ ساری بے ربط باتیں ہیں خلا تو ابھی ہے یہ صاحب تو خود خلا کا باعث بنے ہوئے ہیں اس لیے کہ فی الحال ساری چیزیں واقعیت سے خالی ہیں ابھی ہمارے پاس واقعی کچھ بھی نہیں ہے۔ اور جو کچھ ہے بھی تو وہ صرف کاغذی تصویریں ہیں۔ اور ہر بات اندر سے کھوکھلی اور واقعیت سے دور ہے۔

ملک کی آزادی اور استقلال کا مفہوم موجودہ تمدن میں
وہ ساری ھیاھو کہ ہم تہذیب و تمدن کے دروازے سے داخل ہو چکے ہیں یا تہذیب و تمدن کے دروازے پر کھڑے ہیں اور داخل ہونا چاہتے ہیں اچھی بات ہے لیکن کون سا دروازہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دروازہ کی کوئی خبر نہیں ہے اور نہ ہی کسی تہذیب و تمدن کی خبر ہے تمدن کا پہلا مرحلہ قوم و ملت کی آزادی ہے ایک قوم جس کے پاس آزادی نہیں اس کے پاس تہذیب و تمدن نہیں۔ ایک ملک جو مستقل نہیں ہے اور دوسروں کے رحم و کرم پر ہے اغیار سے وابستہ ہے اور اغیار کے کارناموں سے وابستہ ہے اسے ایک متمدن ملک نہیں کہا جائے گا۔ متمدن ملک وہ ہے جو آزاد ہے۔ جس کی مطبوعات آزاد ہوں جس کے لوگ اپنے عقیدہ اور رائے کے اظہار میں آزاد ہوں کسی بھی چیز کی تو آزادی نہیں اور تم کہتے ہو کہ ہم تمدن کے دروازے پر آکھڑے ہوئے ہیں۔

 اسلامی نظام کو نافذ کرنے کے عہدہ دار ماہر، نیک اور صالح افراد
ابھی ان صاحب کی موجودگی سے خلا پایا جاتا ہے اگر یہ تشریف لے جائیں تو کسی قسم کا خلا باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ ان کے جانے سے صحیح اور قابل کارکنان کام کریں گے کچھ ایسے لوگ ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں ان میں کچھ وہ لوگ ہیں ملک کے اندر موجود ہیں اور کچھ بیروں ملک حصول تعلیم میں مشغول ہیں جو ملک سے باہر ہیں وہ واپس نہیں آسکتے اور جو ملک کے اندر ہیں وہ بھی مجبور ہیں جیسے ہی یہ صاحب تشریف لے جائیں گے تو سارے کام اپنی جگہ اچھے طریقے سے انجام پائیں گے اسلام کا منشور پہلے سے معین اور مشخص ہے کہ  حاکم کو کیسا ہونا چاہیے اور کس پوزیشن کا ہونا چاہیے کسی طرح کا آدمی ہونا چاہیے ہم لوگوں سے بھی عرض کریں گے ایک ایسے حاکم کا تعین کریں جیسا اسلام چاہتا ہے لوگ اپنے اختیار سے معین کرے اور میں عرض کرتا ہوں آپ حضرات کی خدمت میں جن کو وکیل بنانا چاہیں وہ بھی آپ اپنے اختیار سے بنائیں سب کچھ آپ کے اپنے اختیارمیں ہے اور کسی قسم کا خلا درکار نہیں ہے۔ یہ جناب تشریف لے جائیں سارے خلا خود ہی ختم ہو جائیں گے نہ یہ کہ ان کے جانے سے کوئی خلا پیدا ہو جائے گا۔ یہ ساری باتیں بہودہ ہیں کہتے ہیں تو کہتے رہیں۔

ایران میں اسلامی حکومت کا قیام دنیا میں اسلام کے تعارف کا اصلی عامل
بہر صورت ہم امید رکھتے ہیں کہ خدا اس روز ہمارے اوپر رحمت نازل فرمائے اور ہمیں توفیق دے یہ جو لڑائی ہم لڑ رہے ہیں اس میں مسلمان کامیاب ہوں اسلام کو تقویت حاصل ہو اور اسلامی حکومت کو برقرار کریں تاکہ دنیا دیکھے کہ حکومت کسے کہتے ہیں؟ اور حکومت کو کیسا ہونا چاہیے؟ حکومت کیا ہے؟ اور حکومت کے کیا معنی ہیں؟ حاکم کی رفتار کیسی ہوتی ہے؟ حاکم اپنی قوم کے ساتھ کیسی رفتار کرتا ہے یا دوسرے تمام لوگوں کی رفتار کیسی ہوتی ہے؟ یہ بھی مشخص ہو جائے کہ حکومت کے کارکنان کیسے لوگ ہوتے ہیں قضاوت کیسے لوگوں کو کرنا چاہیے؟ ثقافتی امور کے عہدہ داروں کو کیسا ہونا چاہیے؟ اور یہ ساری باتیں پہلے سے طے شدہ ہیں انشاء اللہ اگر اسلامی حکومت برقرار ہو جاتی ہے تو سب کچھ قوم و ملت کی دلی خواہشات کے مطابق ہو گا۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ

[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:23 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 
 
امام راحل(رہ) کی پچیسویں برسی کے موقع پر تہران میں آپ کے مزار میں منعقدہ پروگرام میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس میں دسیوں غیرملکی مہمان بھی شامل تھے اس جم غفیر سے رہبر معظم انقلاب نے خطاب کیا۔

[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:21 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 


بوکو حرام کی طرف سے گزشتہ ماہ اغوا کی گئی مزیدچار لڑکیاں قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

نائیجریا کی ریاست بونو کے کمشنر برائے تعلیم نے بتایا ہے کہ اب بھی دوسو انیس طالبات لاپتہ ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نائیجریا میں مذہبی عسکریت پسند تنظیم بوکو حرام نے چودہ اپریل کو شبوک نامی گاؤں سے ایک سیکنڈری اسکول سے دو سو چوہتر طالبات کو اغوا کر لیا تھا اور انہیں لونڈیاں بنا کر فروخت کرنے کی دھمکی دی تھی جس پر پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
حکام کے مطابق ترپن لڑکیاں اغوا کیے جانے کے کچھ دیر بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔
کمشنر تعلیم موسٰی نیوا نے قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والی چار لڑکیوں سے متعلق مزید معلومات بتانے سے انکار کر دیا تھا۔
انتہا پسند تنظیم بوکو حرام نے 2009 سے نائجیریا کے خلاف بغاوت شروع کی ہوئی ہے اور اس تنظیم کی طرف سے کیے گئے حملوں میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں.

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:52 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

 

امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے کہا ہے کہ وہ الیکٹرانک جاسوسی کے ماہر جاسوس تھے نہ کہ ایک کم درجے کے ہیکر ۔

ابنا: سی آئی اے کے سابق جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے لیے بیرون ملک خفیہ مشنز پر تعینات رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ انسانوں کی بہ نسبت کمپیوٹرز کے ذریعے زیادہ بہتر خفیہ معلومات حاصل کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک تربیت یافتہ جاسوس ہیں اور میں نے بیرون ملک خفیہ طور پر کام کیا اور مجھے ایک فرضی نام بھی دیا گیا تھا۔ اسنوڈن نے مزید کہا کہ انہوں نے سی آئی اے اور این ایس اے کے لیے کام کیا ہے اور ڈیفنس اینٹلیجنس ایجنسی میں لیکچر بھی دیے ہیں۔
واضح رہے کہ ایڈورڈ اسنوڈن امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے کی جانب سے دنیا میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی کرنے کے پروگرام کا راز افشا کرنے کے بعد امریکہ سے فرار ہو کر روس چلے گئے تھے۔ جاسوسی کے پروگرام کے فاش ہونے کے بعد کئی ممالک کے ساتھ جن میں یورپی ممالک بھی شامل تھے، امریکا کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
.....

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:51 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 


دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی ملک گیر مہم کامیابی سے جاری ہے جس کے تحت فوج نے ريف دمشق صوبے کے جنوبی علاقے میں دسیوں دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

ابنا: شام کے سرکاری ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق شام کی مسلح فوج نے بدھ کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر وسیع حملہ کیا جس میں دسیوں دہشت گرد ہلاک جبکہ فوج نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی ضبط کیا ۔ مارے جانے والوں میں زیادہ تر سعودی عرب کے شہری ہیں ۔ فوج نے اسی طرح مرکزی صوبے حمص کے تدمر علاقے میں ایک دہشت گرد کو مار گرایا جو ایک بلڈنگ میں بم لگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
فوج نے اسی طرح شمالی حلب میں کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا جبکہ فوج نے اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی کئی سرنگوں کا پتہ لگا کر تباہ کر دیا ۔ اسی طرح دہشت گردوں کے قبضے والے صوبے ادلب اور جنوبی درعا میں فوج نے کارروائی کرتے ہوئے کئی گاؤں پر دوبارہ کنٹرول کر لیا ہے۔

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:51 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی مناسبت سے ایرانی عوام کے مختلف طبقات، اعلی حکام ، قرآن مجید کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے والے مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقات میں فرمایا: سامراج کی طرف سے ایران اور شیعہ کے متعلق خوف و ہراس پیدا کرنے کا مقصد اسرائیل کی حفاظت ہے۔

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مہر نیوز کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی مناسبت سے ایرانی عوام کے مختلف طبقات، اعلی حکام ، قرآن مجید کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے والے مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقات میں فکر ،بصیرت، شعور، امت اسلامی کے دشمنوں کی حقیقی شناخت، اسی طرح اتحاد اور قومی اور عقیدتی اختلافات سے پرہیز کو عالم اسلام کی اہم ضروریات قراردیتے ہوئے فرمایا: آج پرچم اسلام کی سرافرازی و سربلندی اور مسلمانوں کے درمیان اسلامی تشخص کا احساس پہلے کی نسبت بہت قوی اور مضبوط ہوگیا ہے اور ایرانی قوم بھی اللہ تعالی کی نصرت اور مدد کے وعدے پر اعتماد اور حسن ظن کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کی جانب گامزن ہے اور مشکلات سے عبور کرنے اور ظلم و جہالت اور ناانصافی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے موچوں کو فتح کررہی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور پیغمبر اسلام(ص) اور دوسرے انبیاء کرام (ع) کی بعثت کا مقصد عقل و دانش، خرد اور شعور کی جانب انسانوں کی ہدایت قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر اسلامی معاشرے میں عقل و خرد اور شعور سے استفادہ متداول اور رائج ہوجائے تو عالم اسلام کی بہت سی مشکلات حل ہوجائیں گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلام اور قرآن سے غلط اور سطحی  نظریات اخذ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی تعلیمات اور قرآنی مفاہیم کے بارے میں عدم معرفت اور غلط  نظریہ اس بات کا باعث بن گيا ہے کہ آج بعض افراد اسلام کے نام پر مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کو قتل کرتے ہیں اور حتی افریقی ممالک میں اسلام کے نام پر بے گناہ لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالم اسلام کے موجودہ شرائط میں فکر و شعور کی طاقت سے استفادہ نہ کرنے کے ایک اور نمونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج دشمن آشکارا طور پر اسلام کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ قومی اور عقیدتی اختلافات اور شیعہ اور سنی اختلافات کو وسیلہ بنا رہے ہیں لیکن اگر عقل و شعور کی طاقت سے استفادہ کیا جائے تو دشمن کے ہاتھ اور اس کے  ناپاک عزائم کو دیکھا جاسکتا ہے اور اسلام دشمن عناصر کے اہداف کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اتحاد اور امت واحدہ کی تشکیل کو عالم اسلام کی ایک دوسری ضرورت قراردیا اور سامراجی طاقتوں کی جانب سے اسرائیل کی حفاظت، اپنی مشکلات کو پوشیدہ رکھنے، ایران اور شیعہ کو خوفناک اور خطرناک بنا کر پیش کرنے اور مسلمانوں کی صفوں میں اختلافات پیدا کرنے کو دشمنوں کے اہداف میں شمار کرتے ہوئے فرمایا:  مسلمان قوموں بالخصوص ممتاز شخصیات اور دانشوروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تدبیر اور بصیرت کے ذریعہ امت اسلامی کے دشمن محاذ کی صحیح شناخت اور معرفت حاصل کریں اور ان واضح حقائق کے بارے میں اچھی طرح متوجہ ہوجائیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک کے سیاسی اداروں کو جاہلیت کا مروج قراردیا اور جاہلیت کے خاتمہ کو پیغبمر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا مقصد اور ہدف قراردیتے ہوئے فرمایا: نا انصافی ، تبعیض، انسانی کرامت و شرافت پر عدم توجہ ، جنسی مسائل ، عورتوں کے تبرج کے سلسلے میں وسیع تبلیغات، یہ تمام امور مغربی ممالک کے گمراہ سماج کے علائم اور  مظاہر ہیں جس کی بازگشت جاہلیت کے دور کی طرف ہوتی ہے البتہ مغربی ممالک جاہلیت کو نئے اور ماڈرن طریقہ سے فروغ دے رہے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کو کچلنے کے سلسلے میں وسیع کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر چہ بظاہر بعض جگہوں پر طاقت کے ذریعہ اسلامی بیداری کو کچل دیا گيا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بیداری کو کچلنا ناممکن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعثت کے پیغام، اندرونی اتحاد، دشمن کے مد مقابل شجاعت  اور اللہ تعالی کی نصرت اور مدد کے وعدے پر امید کے احساس کے سائے میں ایرانی قوم کی ترقیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کے لطف و کرم سے جدید حکومت اور  تازہ نفس حکام، اسلام کی سربلند اور سرافرازی کے لئے مختلف اور گوناگوں  شعبوں میں کام اور تلاش کے سلسلے میں مصروف اور مشغول ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انسانی زندگی کی راہ میں مشکلات اور چیلنجوں کو ایک قدرتی امر قراردیتے ہوئے فرمایا: عقل اور تدبیر کے حامل افراد مشکلات کو انسانی عزت و شرف تک پہنچنے اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لئے برداشت کرتے ہیں لیکن جاہل اور نادان انسان اللہ تعالی کی ولایت قبول کرنے کے بجائے شیاطین کی ولایت سے تمسک کرتے ہیں اور شیاطین کے سامنے میں ذلیل و خوار ہو جاتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں ایک قرآنی فریم ورک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قرآنی آیات کی روشنی میں  وہ لوگ جو عزت تک پہنچنے کے لئے اللہ تعالی کی ہدایت اور ولایت کے بجائے انسان اور اسلام کے دشمنوں اور شیاطین کی ولایت کا سہارا لیتے ہیں وہ سرانجام عزت تک نہیں پہنچ پائیں گے اور وہی شیاطین ان کا سپاس اور شکریہ بھی ادا نہں کریں گے۔

رہبر معظم نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: قرآن مجید کے اس  فارمولے سے درس حاصل کرنا چاہیے اور سعادت کے صحیح اور درست راستے کو پہچاننا چاہیے جو الہی اور قرآنی ہدایت پر استوار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور بین الاقوامی گوناگوں اور مختلف میدانوں میں اسلامی جمہوری نظام کی کامیابیوں کے راز و رمز کو اللہ تعالی کے وعدوں پر اعتماد اور اس پرحسن ظن قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کا راستہ یہی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر فرمایا: اللہ تعالی کی رحمتیں حضرت امام (رہ) پر نازل ہوں جنھوں نے یہ راستہ ہمیں دکھایا۔ اللہ تعالی کی رحمت ہو ان شہیدوں پر جنھوں نے اس راہ میں اپنی جان فدا کی، اللہ تعالی کی رحمت  ایرانی قوم پر نازل ہو جس نے اس راہ کے تمام مراحل میں اپنی تیاری اور آمادگی کا ثبوت دیا اور اللہ تعالی کی رحمت ہمارے حکام  اور حکومتی اہلکاروں پر نازل ہو جو اس راہ میں کام و تلاش اور فداکاری کے لئے آمادہ ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صدر محترم حجۃ الاسلام والمسلمین جناب حسن روحانی نے عید سعید بعثت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور بعثت کو عظيم تاریخي رستاخیز اور وحی الہی کی بنیاد پر عقل سے درست استفادہ کے لئے بہت بڑي اور تاریخی نعمت قراردیتے ہوئے کہا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عظيم اخلاق اور مہربانی کے ساتھ دلوں کو اپنی طرف مجذوب کیا  اور انسانیت کو علم و معنویت اور حریت کا تحفہ عطا کیا۔

صدر حسن روحانی نے کفر محاذ کی جانب سے  عالم اسلام پر انتہا پسندی، شدت پسندی  اختلاف اور ناانصافی جیسی مشکلات مسلط کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا: آج انقلاب اسلامی اتحاد ، ہمدلی  اور کفر کے مقابلے میں امت اسلامی کے اختلافات کو دور کرنے کا علمبردار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:50 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله حسین نوری همدانی نے آج صبح درس خارج فقہ سے پہلے جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں مسجد آعظم قم میں منعقد ہوا، ملت اسلامیہ کو عید مبعث کی مبارکباد دی اور کہا: حضرت رسول اسلام(ص) ملت کو عظیم اور قدرتمند بنانے کے لئے مبعوث ہوئے تھے ۔

حضرت آیت ‌الله نوری همدانی نے اسلامی عزت کی بنیادوں اور اساس کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اسلام میں عزت کی پہلی بنیاد ایمان اور دوسرے علم ہے ، خداوند متعال کسی بھی ملت اور معاشرہ کو جہالت کی صورت میں عزت و بلندی تک نہیں پہونچا سکتا ۔

اس مرجع تقلید نے بیان کیا: عقل و بصیرت اور اتحاد و یکجہتی اسلام میں عزت و بلندی کے دیگر اسباب ہیں کہ اس سلسلہ میں آیات و روایات میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اتحاد و یکجہتی کی دعوت دی گئی ہے ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے اسلام میں عزت و بلندی کے پانچویں آئین کی جانب اشارہ کیا اور کہا: مسلمان اس قدر مضبوط و مستحکم ہوں کہ دشمن ان سے خوف زدہ و ہراساں رہے ۔

انہوں نے بیان کیا: آج علم و ایمان کے ساتھ ایٹمی توانائیاں اور بیلیسٹیک میزائل نیز دیگر ٹیکنالوجی ، دشمن کے خوف و وحشت اور ہماری قدرت و عزت کا سبب ہے ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دشمن کے سامنے خود کو تسلیم کرنا اسلام کے مورد پسند نہیں ہے کہا: عزت و ذلت خدا کے ہاتھوں ہے ، دوسروں سے عزت کی بھیک مانگنا مناسب نہیں ہے ۔

انہوں ںے دین کی غلط تفسیر گمراہیوں کا سبب جانا اور کہا: تکفیری گروہ من جملہ دھشت گرد داعش نے عراق اور شام میں دین کی غلط تفسیر کر کے عقل و منطق سے دور وحشی گری انجام دی اور لاکھوں بے گناہوں کا قتل عام کرڈالا اور لوگوں کو بے گھر کر دیا ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ شیعہ کے بقدر کسی بھی مذھب کے دشمن موجود نہیں ہیں کہا: تکفیری شیعوں کی طاقت سے خوف زدہ ہیں لھذا ہم دن بہ دن مختلف میدانوں میں شیعہ کی قدرت میں اضافہ کریں ۔

اس مرجع تقلید نے شیعہ کا خوف ، اسلام کا خوف اور ایران کا خوف عالمی سامراجیت کا حربہ بتاتے ہوئے دشمن کی اس سازش کے خلاف ہوشیار رہنے کی تاکید کی ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ کے اس نامور استاد نے آخر میں بیان کیا: سبھی حالات اور وقت کی شناخت کے ساتھ اسلام کی عزت و مکتب اہلبیت علیھم السلام کی ترقی کی کوشش کریں ۔

 

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:48 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

 قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام و المسلمین سید ساجد علی نقوی نے 28 رجب کی مناسبت سے ارسال کردہ پیغام میں کربلا کو فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام دیا ۔

اس پیغام کا تفصیل متن مندرجہ ذیل ہے :

حق و صداقت کی سربلندی اور دین مبین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے جان و مال اور اولاد کا نذرانہ پیش کرنا خانوادہ عصمت و طہارت کا شیوہ رہا ہے اور مذہب حق کی حمایت اور بقاء کے لئے نواسہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے نانا کے مدینہ کو خیرباد کہہ کر رہتی دنیا تک کے لئے یہ ثابت کردیا کہ اگر دین اسلام پر مشکل اور کڑا وقت آجائے تو وطن چھوڑنے سے بھی دریغ نہیں کیا جانا چاہئے ۔

نواسہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم حضرت امام حسین علیہ السلام نے واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اوردنیا کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار، جاہ و حشم کے حصول، ذاتی مفادات کے مدنظر یا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازم سفر ہوئے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی، دنیاوی ، حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت ، شریعت محمدی، دینی احکام ، اوامر و نواہی اور اسلام کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی ۔

امام عالی مقام کی بے مثال قربانی اور تحریک کربلا سے آج بھی دنیائے عالم میں چلنی والی آزادی و حریت کی تحریکیں استفادہ کررہی ہیں اور چونکہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے اس لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ، غیر اسلامی، لادین، غیر منصفانہ، ظالمانہ، آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔

اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام حاکم طبقات اور محروم و مظلوم طبقات امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ آپ نے فقط ایک مذہب یا مسلک یا امت کی فلاح کی بات نہیں کی بلکہ پوری انسانیت کی نجات کی بات کی ہے۔ البتہ خصوصیت کے ساتھ محروم، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔

اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں، بے اعتدالیوں، بدعنوانیوں، کرپشن، اقرباء پروری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے مذہبی، شہری اور قانونی حقوق کی پامالی کی طرف بھی نشاندہی فرمائی۔ امام حسین علیہ السلام کے اس اجتماعی انداز سے آج دنیا کا ہر معاشرہ اور ہر انسان بلا تفریق مذہب و مسلک استفادہ کرسکتا ہے۔

 

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:47 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

 

حسینیہ بلتستانیہ قم میں شہید کی سالگره کی مناسبت سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ وه امت اسلامی کے اتحاد کے حوالے سے جانی پہچانی شخصیت تهے۔

شہید علامہ حسن ترابی نے اپنی پوری زندگی ملت تشیع کی خدمت کرتے ہوئے گزاری، عظمت علماء کانفرنس
اسلام ٹائمز۔ مجمع طلاب شگر کی جانب سے حسینیہ بلتستانیہ قم میں علامہ حسن ترابی کی سالگره کی مناسبت سے ایک عظیم الشان کانفرنس "عظمت علماء کانفرس" کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے شہید علامہ حسن ترابی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ ترابی نے اپنی پوری زندگی ملت تشیع کی خدمت کرتے ہوئے گزاری، وه امت اسلامی کے اتحاد کے حوالے سے جانی پہچانی شخصیت تھے۔ اس کانفرس میں قم میں موجود پاکستانی علماء کرام و طلاب کے کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے آخر میں تعلیمی میدان میں نمایان کارکردگی دکھانے والے علماء کرام کو مجمع طلاب شگر کا سب سے بڑی تعلیمی ڈگری "نشان عظمت" پیش کی گئی۔
[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:45 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

اسکردو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آج جو ہم پر حکمران مسلط ہیں وہ جھوٹے، بدکردار، کرپٹ اور لٹیرے ہیں، جو الیکشن چوری کرکے جعلی مینڈیڈیٹ لیکر جعلی حکومت بنا لیتے ہیں، ان چوروں اور انکی چوری کی ہوئی حکومت کو ہم نہیں مانتے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[ دوشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1393 ] [ 8:5 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

کانفرنس میں شرکت کیلئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور مرکزی ترجمان حسن ظفر نقوی بھی پہنچ چکے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[ دوشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1393 ] [ 8:3 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

: کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں ہم مذہب یا مسلک کی بیناد پر نہیں بلکہ خدمت کی بنیاد پر الیکشن لڑینگے۔ کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ بھی جاری کیا جائیگا۔

[ دوشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1393 ] [ 8:1 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 تہران میں ہونیوالی ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کیساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور وسعت دینے کا خواہاں ہے۔













[ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 ] [ 18:46 ] [ ارشادحسین مطهری ]

سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے دورے کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کے بارے میں مفاہمت کی کئی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کئے جائیں گے۔
























[ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 ] [ 11:52 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

: تہران میں وزیراعظم محمد نواز شریف اور اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے پر اتفاق، نواز شریف کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔
















[ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 ] [ 11:50 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

وزیراعظم نواز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر ایران پہنچ گئے
پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے۔ وزیراعظم کے ہمراہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ موجود ہیں۔ ایران دورے کے دوران وزیراعظم نواز شریف ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور روحانی پیشوا آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کریں گے۔ جس میں سرحدی صورت حال، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی ترقی کے باہمی مفاد کے مواقع کا جائزہ لیاجائے گا۔ اس موقع پر متعدد شعبوں میں کئی مفاہمتی معاہدے طے پانے کے علاوہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے مستقبل کا بھی فیصلہ ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور ایران میں نئی حکومتوں کے قیام کے بعد اعلٰی قیادت کی سطح پر یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔
[ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 ] [ 11:46 ] [ ارشادحسین مطهری ]



مجلس علماء بحرین کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا ہے کہ ملک میں پائی جانے والی مذہبی ناانصافی اتنی واضح ہے کہ کسی ثبوت کی محتاج نہیں جبکہ آل خلیفہ حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اور مخالفین کو پرامن احتجاج کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔
آل خلیفہ نے مذاکرات کے دروازے بند کر رکھے ہیں، ہمارے ساتھ تبعیض آمیز برتاو کیا جا رہا ہے، آیت اللہ شیخ عیسی قاسم
اسلام ٹائمز [نیوز ڈیسک] – بحرین کے معروف شیعہ عالم دین اور مجلس علماء بحرین کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے الدراز خطے میں خطبہ نماز جمعہ میں کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت صرف ایک بات پر ڈٹی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ملک میں اصلاحات، امن و امان اور مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومت کا موقف سرکاری جیلوں میں جاری قیدیوں کے ساتھ سلوک سے جانا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہر قسم کے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کو ممنوع اعلان کیا گیا ہے جو جمہوری تقاضوں کے خلاف ہے جبکہ حکومت کی سیکورٹی فورسز مظاہروں میں شریک شہریوں کے خلاف زہریلی آنسو گیس اور رائفل کی گولیاں استعمال کر رہی ہے۔

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومتی غنڈوں کی جانب سے عام شہریوں کا قتل عام اور شہداء کی لاشیں وارثین کے حوالے نہ کیا جانا کھلی دہشت گردی ہے جس کا مقصد شہداء کے گھرانوں کو خاموش رہنے اور انہیں حکومت کے خلاف ہر قسم کی عدالتی کاروائی سے باز رہنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اور یہ چاہتی ہے کہ عوام اس کے ظالمانہ اقدامات کے سامنے خاموش ہو جائیں۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومت مذاکرات انجام دینے میں مخلص نہیں لہذا ہم ایسے مذاکرات کو قبول نہیں کر سکتے جس کا مقصد صرف مدمقابل پر اپنے مطالبات کو تحمیل کرنا ہو۔ ایسے مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف رائے عامہ کو دھوکہ دینا اور دنیا کو فریب دینا ہے۔

بحرین کے معروف شیعہ عالم دین اور خطیب نماز جمعہ نے گذشتہ ہفتے دارالحکومت مناما میں "تہذیبوں کے درمیان گفتگو" کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے اس کانفرنس میں شریک افراد کیلئے صرف ایک ہی پیغام ہے اور وہ یہ کہ وہ آئیں اور آل خلیفہ رژیم کی جانب سے ہماری مسمار شدہ مساجد کو دیکھیں۔ یہ اس حکومت کا حقیقی چہرہ ہے اور حکومت کی گفتگو کا انداز ہے جو اس نے شروع سے اپنا رکھا ہے۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ اگر اس کانفرنس میں شریک افراد کیلئے ہمارے ملک میں آزادی کو کوئی اہمیت حاصل ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ بحرین میں موجود مذہبی ناانصافی اور اہل تشیع کے ساتھ حکومت کے تبعیض آمیز رویئے کو دیکھیں۔ انہوں نے کہا یہ تبعیض آمیز حکومتی رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور اتنا عیاں ہے کہ اسے ثابت کرنے کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔

[ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 ] [ 20:14 ] [ ارشادحسین مطهری ]
.: Weblog Themes By Pichak :.

درباره وبلاگ

استفاده از مطالب وبلاگ با ذكر منابع بلامانع است.
امکانات وب