X
تبلیغات
بلتستانی

بلتستانی
 
وبلاگ شخصی ارشاد حسين مطهري

محل درج آگهی و تبلیغات
 
نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و ششم آبان 1392 توسط ارشادحسین مطهری

حضرت عباس علمدار علیہ السلام امام علی علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کی والدہ کا نام ام البنین سلام اللہ علیہا تھا جن کا تعلق عرب کے ایک بہادر قبیلے سے تھا۔ حضرت عباس (ع) اپنی بہادری اور شیر دلی کی وجہ سے بہت مشہور ہوئے۔ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے ساتھ ان کی وفاداری واقعہ کربلا کے بعد ایک ضرب المثل بن گئی۔ وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں۔ اطاعت امام وقت اور وفا اگر کوئی سیکھنا چاہے تو اسے باب الحوائج حضرت عباس علمدار (ع) سے ہی سیکھنا چاہیئے۔ بقول شاعر
کس قدر تیری وفا کے چرچے ہیں اقوام میں
تھی وفا بےنام ورنہ تو وفا کا نام ہے


ولادت باسعادت:
حضرت عباس علیہ السلام چار شعبان المعظم 26ھ کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک ان کے بھائی امام حسین علیہ السلام نے انہیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انہیں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بہت محبت تھی۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس عظیم الشان بچے کا نام عباس رکھا۔ روایت ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کی پیدائش کا مقصد ہی امام حسین علیہ السلام کی مدد اور نصرت تھا اور اہلِ بیت علیہم السلام کو شروع سے واقعہ کربلا اور اس میں حضرت عباس علیہ السلام کے کردار کا علم تھا، حضرت علی ابن ابی طالب (ع) نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالب کے مشورے سے جو انساب کے ماہر تھے ایک متقی اور بہادر قبیلے کی خاتون فاطمۂ کلابیہ سے عقد کیا اور اپنے پروردگار سے دعا کی کہ پروردگار! مجھے ایک ایسا بیٹا عطا فرما جو اسلام کی بقاء کے لئے کربلا کے خونیں معرکہ میں امام حسین (ع) کی نصرت و مدد کرے چنانچہ اللہ نے فاطمۂ کلابیہ کے بطن سے کہ جنہیں حضرت علی علیہ السلام نے ام البنین کا خطاب عطا کیا تھا، چار بیٹے امام علی کو عطا کر دیئے اور ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص و عام تھی اور سبھی نے میدان کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیا اور شہید ہوئے لیکن عباس (ع) ان سب میں ممتاز اور نمایاں تھے کیونکہ خود حضرت علی علیہ السلام نے ان کی ایک خاص نہج پر پرورش کی تھی۔

ابتدائی زندگی:
حضرت علی علیہ السلام نے ان کی تربیت و پرورش کی تھی۔ حضرت علی علیہ السلام سے انہوں نے فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی علوم و معارف خصوصا علم فقہ حاصل کئے۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ ثانی حیدر کہلانے لگے۔ حضرت عباس علیہ السلام بچوں کی سرپرستی، کمزوروں اور لاچاروں کی خبر گيری، تلوار بازی اور و مناجات و عبادت سے خاص شغف رکھتے تھے۔ ان کی تعلیم و تربیت خصو صاً کربلا کے لئے ہوئی تھی۔ لوگوں کی خبر گیری اور فلاح و بہبود کے لئے خاص طور پر مشہور تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو باب الحوائج کا لقب حاصل ہوا۔ حضرت عباس کی نمایان ترین خصوصیت ”ایثار و وفاداری“ ہے جو ان کے روحانی کمال کی بہترین دلیل ہے۔ وہ اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کے عاشق و گرویدہ تھے اورسخت ترین حالات میں بھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لفظ وفا ان کے نام کے ساتھ وابستہ ہو گیا ہے اور اسی لئے ان کا ایک لقب شہنشاہِ وفا ہے ۔

جنگ صفین:
جنگ صفین امیر المومنین خلیفتہ المسلمین حضرت علی علیہ السلام کے خلاف شام کے گورنر نے مئی، جولائی 657ء مسلط کروائی۔ اس جنگ میں حضرت عباس علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کا لباس پہنا اور بالکل اپنے والد علی علیہ السلام کے طرح زبردست جنگ کی حتیٰ کہ لوگوں نے ان کو علی ہی سمجھا۔ جب علی علیہ السلام بھی میدان میں داخل ہوئے تو لوگ ششدر رہ گئے۔ اس موقع پر علی علیہ السلام نے اپنے بیٹے عباس کا تعارف کرواتے ہوئے کہا کہ یہ عباس ہیں اور یہ بنو ھاشم کے چاند ہیں۔ اسی وجہ سے حضرت عباس علیہ السلام کو قمرِ بنی ھاشم کہا جاتا ہے۔

واقعہ کربلا اور حضرت عباس علیہ السلام:واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس علیہ السلام کی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے آپ کو لشکر حق کا علمبردار قرار دیا۔ امام حسین علیہ السلام کے ساتھیوں کی تعداد 72 افراد پر مشتمل تھی اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزار سے زیادہ تھی مگر حضرت عباس علیہ السلام کی ہیبت و دہشت لشکر ابن زياد پر چھائی ہوئی تھی۔ کربلا میں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس علیہ السلام جنگ کا رخ بدل سکتے تھے لیکن امام وقت نے انہیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔ امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس کی عظمت و جلالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے تھے، ”چچا عباس کامل بصیرت کے حامل تھے وہ بڑے ہی مدبر و دور اندیش تھے انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہو گئے آپ نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپنا حق ادا کر گئے“ ۔
ضو وہ شیشے میں کہاں جو الماس ميں ہے
سارے عالم کی وفا حضرت عباس ميں ہے

حرم حسین (ع) کے پاسدار، وفاؤں کے درخشان مینار، اسلام کے علمبردار، ثانیِ حیدرِ کرّار، صولتِ علوی کے پیکر، خاندانِ رسول (ص) کے درخشان اختر، اسلام کے سپاہ سالارِ لشکر، قلزمِ علی کے نایاب گوہر، فاطمہ زہرا (س) کے پسر، ثانیِ زہرا (س) کے چہیتے برادر، علمدار کربلا حضرتِ ابوالفضل العبّاس علیہ السلام، کسی کے قلم میں اتنی طاقت کہاں کہ طیّارِ عرشِ معرفت، اطلسِ شجاعانِ عرب کے بارے میں خامہ فرسایی کر سکے یا انکی فضیلت میں اپنے لبوں کو وا کر سکے ۔ اسلیے کہ انکی فضیلت اور عظمت وہ بیان کر رہے ہیں جو ممدوح خدا ہیں۔ شخصیت والا صفات کے بارے میں چند روایاتِ معصومین اور چند حقایق تاریخ، قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

امام  زین العابدین حضرت سید سجّاد (ع) فرزند سید شہداء علیہ السلام فرماتے ہیں، "ان العباس عنداللہ تبارک و تعالیٰ منزلۃ یغبتہ علیہا جمیع الشہداء یوم القیامۃ" خداوند عالم کے نزدیک عبّاس کی وہ منزلت ہے کہ تمام شہداء قیامت کے دن رشک کرینگے۔1 
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں، "کان عمّی العباس بن علی نافذ البصیرۃ، صلب الایمان، جاہد مع اخیہ الحسین و ابلی بلاء حسنا و مضی شہیدا"۔ میرے عمو عباس جو بصیرتِ نافذ اور ایمان محکم رکھتے تھے انہوں نے اپنے بھائی حسین کے ساتھ جہاد کیا اور بلاء نیک کے متحمل ہوئے اور افتخار شہادت سے شرفیاب ہوئے۔2
بصیرت نافذ وہ رکھتا ہے جسکی فکر اور رائے قوی ہو اگر عبّاس اس صفت کے حامل نہ ہوتے تو راہِ اسلام میں یہ فداکاری جو آپ نے پیش کی وہ نہ ہوتی۔ استحکام ایمان حضرتِ عباس کی فداکاری سے ثابت ہوتا ہے۔ مقاتل نے آپ کا رجز جو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ کے کٹ جانے کے بعد پڑ ھا، یوں بیان کیا ہے۔
واللہ ان قطعتم یمنی انّی احامی ابدا عن دینی
و عن امام صادق الیقین نجل النبی المصطفیٰ الامین

قسم خدا کی اگر میرا داہنا ہاتھ قلم کر دیا تب بھی میں ہمیشہ اپنے دین اور امام جو پیامبر خدا کی یادگار ہیں حمایت کروں گا۔3

جمالِ حضرتِ عبّاس:
آپکو قمرِ بنی ہاشم اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ بہت حسین اور جمیل تھے اور مورّخین نے آپکے حسن و جمال کو اس طرح نقل کیا ہے، "کان العباس و سیما جمیلا یرکب الفرس المطہم و رجلاہ یخطان فی الارض و یقال لہ قمر بنی ہاشم"۔ عباس اتنے خوبصورت اور حسین تھے کہ جب بلند قامت گھو ڑ ے پر سوار ہوتے تو انکے پاؤں زمین پر خط دیتے ہوئے جاتے تھے اور انکو لوگ بنی ہاشم کا چاند کہتے تھے۔ 4

علمِ حضرتِ عبّاس:

حضرت عبّاس کے علم کے بارے میں آئمہ فرماتے ہیں، "ان العباّس بن علی زق العلم زقا عبّاس"۔ عباس نے علم کو اس طرح حاصل کیا جیسے کبوتر اپنے بچّے کو دانا چگاتا ہے۔ 5 ملّا محمد باقر بجنوردی اپنی کتاب الکبریت الاحمر میں لکھتے ہیں، عبّاس اہلبیت کے افاضل اور اکابر فقہاء میں سے ہیں بلکہ وہ عالم غیر معلّم ہیں۔ 6 امامِ سجّاد اپنے خطبہ میں جو آپ نے دربارِ یزید میں ارشاد فرمایا ایک جملہ حضرتِ عبّاس کے لیے ارشاد فرماتے ہیں، انّہ من اہل بیت زقّو العلم زقا۔ 7 وہ اس خاندان سے تعلّق رکھتے ہیں جنہوں نے علم کو غذا کی طرح کھایا ہے جب یزید نے اس جملہ کو سنا بےاختیار ا سکی زبان سے نکلا کہ اس کلمہ کو عرب پرندے کو غذا دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں اسلئے زقو العلم زقا کا مطلب ہے کہ خاندان پیامبر اپنی اولاد کو بچپنے میں ہی علم سے آراستہ کر دیتے ہیں۔ شاعر نے بھی کیا خوب نقشہ کھینچا ہے۔
علم کسی نے کسی کو دیا تھا خیبر میں
وہ دن اور آج کا دن علم ہمارا ہے


شجاعتِ حضرتِ عبّاس:
تاریخ نے شجاعتِ حضرتِ عبّاس کو اس طرح نقل کیا ہے، کالجبل العظیم و قلبہ کاالّطود الجسیم لانّہ کان فارسا ہماما و بطلا ضرغاما و کان جسور اعلیٰ الطّعن والضرب فی میدان الکفّار۔ وہ بلندی میں کوہِ عظیم کی مانند، قوّت میں ان کا قلب بلند و وسیع پہاڑ کی طرح شجاعِ بے، مثال شیرِ ضرغام تھے، جنگ میں کفار ہمّت اور مردانگی کی داد دیتے تھے۔ 8 روایت میں ہے کہ جنگِ صفین میں ایک جوانِ نقابدار لشکرِ امیرالمومنین سے نکلا جس سے ہیبت اور شجاعت ظاہر ہوتی تھی، جسکی عمر تقریبا سولہ سال ہو گی اور جنگ کرنے کے لیے مبارز طلب کرنے لگا شامی فوج کے سربراہ نے ابو شعثاء کو حکم دیا کہ جنگ کرے، ابو شعثاء نے کہا شام کے لوگ مجھے ہزار سوار کے برابر سمجھتے ہیں، میرے سات بیٹے ہیں میں ان میں سے ایک کو بھیجتا ہوں وہ اس کا کام تمام کر دے گا اور اس نے اپنے ایک بیٹے کو بھیجا لیکن وہ قتل ہو گیا اسی طرح اس نے اپنے ساتوں بیٹوں کو بھیجا اور سب قتل ہوتے رہے، ابو شعثاء نے جب یہ دیکھا دنیا اسکی نظر میں تاریک ہو گئی وہ خود بھی میدان میں آیا اور وہ بھی جہنم واصل ہوا، جب لوگوں نے شجاعت کے اس ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کو میدان میں دیکھا تو کسی کی ہمّت نہ ہوئی کہ کوئی اس شجاع بے مثال کے مقابلہ میں جاتا وہ جوان اپنے لشکر کی طرف پلٹ گیا اصحاب امیرالمومنین حیرت زدہ تھے کہ یہ جوان کون ہے لیکن جب نقاب رخ سے ہٹی تو پتا چلا کہ قمرِ بنی ہاشم حضرتِ ابوالفضل العباس ہیں۔ 9
شجاعت حضرتِ عبّاس کا اس روایت سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے وہ چیزیں جو اہلبیت علیہم السلام کے لشکر سے لوٹی گئیں تھیں ان میں پرچمِ حضرت عبّاس بھی تھا جب یہ تمام اشیاء یزید کے سامنے پیش کی گئی تو یزید لعین کی نگاہ اس پرچم پر گئی وہ
غور سے اس پرچم کو دیکھتا رہا اور تعجّب سے کبھی اٹھتا تھا کبھی بیٹھتا تھا، کسی نے سوال کیا، امیر کیا ہوا کہ اس طرح مبہوت اور حیرت زدہ ہو یزید نے پوچھا یہ پرچم کربلا میں کس کے ہاتھ میں تھا کہا عبّاس برادرِ حسین کے ہاتھ میں، یزید کہتا ہے کہ مجھے تعجّب اس علمبردار کی شجاعت پر ہے پوچھا کیوں؟ کہا دیکھو پورا پرچم حتیّٰ اس کی لکڑی پر تیروں اور دوسرے اسلحوں کے نشانات ہیں صرف اس ایک جگہ کے جہاں سے اس کو پکڑ ا گیا ہے یہ جگہ کاملا محفوظ ہے اسکا مطلب ہے کہ تیر اور دوسرے اسلحے اس جگہ بھی لگے لیکن اس بہادر نے علم کو اپنے ہاتھ سے رہا نہیں کیا آخری وقت تک اس پرچم کی حفاظت کرتا رہا جب اسکا ہاتھ گرا تب پرچم گرا۔

شہادت:
کربلا میں حضرت عباس (ع) نے ایک نرالی تاریخ رقم کی، امام حسین (ع) کے فوج کے قابل ترین اور ماہرترین سپہ سالار اور علمدار تھے اور آنحضرت کو بھی آپ سے نہایت محبت تھی اور آپ کے مشورے پر عمل کرتے تھےـ عاشورا کی عصر کو جب شمر بن ذی الجوشن نے حضرت عباس (ع) اور ان کے بھائیوں جعفر، عثمان، اور عبداللہ کے لئے امان نامہ بھیجکر چاہا کہ امام حسین (ع) کو چھوڑ کر عمر بن سعد کے ساتھ مل جائیں یا دونوں کو چھوڑ کر وطن واپس چلے جائیں۔ حضرت عباس اور انکے بھائیوں نے شمر کی اس دعوت کو ٹھکرایا اور حضرت عباس نے کہا، تیرے ہاتھ ٹوٹیں اور تیرے امان نامے پر لعنت ہوـ اے خدا کے دشمن کیا تم ہمیں حکم کرتے ہو کہ امام حسین (ع) کی مدد نہ کریں اور اسکے بدلے ملعون اور اسکے اولادوں کی اطاعت کریں؟ کیا ہمیں امان ہے اور پیغمبر (ص) کے فرزند کیلۓ امان نہیں۔ اسی طرح جب عاشور کی رات امام حسین (ع) نے اپنے تمام ساتھیوں سے کہا کہ رات کے اندھیرے کا سہارا لے کے یہاں سے چلے جاو اور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاو، دشمن کا معاملہ صرف مجھ سے ہے اور مجھے  میرے حال پر چھوڑ دو ـ اس وقت سب سے پہلے حضرت عباس (ع) نے اپنی جانثاری اور وفاداری کا اعلان کیا۔ عرض کی اے امام ! کس لئے آپ کو چھوڑ دیں؟ کیا آپ کے بعد زندہ رہیں؟ خدا نہ کرے ہم آپ کو دشمنوں کے مقابلے میں اکیلا چھوڑیں۔ ہم آپ کے ساتھ رہیں گے اور اپنی آخری سانس تک آپ کی حمایت کریں گے۔ حضرت عباس (ع) کے بعد امام حسین (ع) کے دوسرے سارے ساتھیوں نے اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔ الغرض، اس عظیم انسان نے دسویں محرم کو قربانی اور فداکاری کی عظیم اور بےنظیر تاریخ رقم کی اور جب تک زندہ تھے امام حسین (ع) پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے دی اور خمیہ گاہ کی طرف دشمن ترچھی آنکھ سے بھی دیکھنے کی جرات نہ کر سکا، امام زین العابدین (ع) نے جو کربلا میں حاضر تھے اپنے چاچا عباس (ع) کی بےنظیر فداکاری اور مجاہدت کو نزدیک سے دیکھا تھا، انکی فداکاری اور معنوی مقام کے بارے میں فرماتے تھے، "رَحَمَ اللہ العبّاس، فَلَقَدْ آثَر، و أبلي، و فدي اخاہ بنفسہ حتّي قطعت يداہ، فابدلہ اللہ (عزّ و جلّ) بہما جناحين يطير بہما مع الملائكہ في الجنّہ، كما جعل لجعفر بن ابي طالب(ع)، و انّ للعباس عند اللہ (تبارك و تعالي) منزلہ يغبطہ بہا جميع الشّہداء يوم القيامہ"۔ خدا میرے چچا عباس (ع) کو رحمت کرے کہ اپنے آپ کو اپنے بھائی پر فدا کیا یہاں تک کہ دونوں بازوں قلم ہوئے اور اللہ تعالی نے ان دو ہاتھوں کے بدلے دو پر دیئے، جن سے وہ جنت میں اڑتے ہیں جسطرح انکے چچا جعفر بن ابیطالب (ع) کو دو پر عنایت ہوئے ہیں۔ بارگاہ الٰہی میں حضرت عباس (ع) کا ایسا مقام اور ایسی فضیلت ہے کہ ہر شہید اسکی آرزو کرتا ہےـ

دس محرم روز عاشورا کو امام حسین علیہ السلام نے ان کے بےحد اصرار پر انہیں پیاسے بچوں خصوصاً اپنی چار سالہ بیٹی سکینہ بنت الحسین کے لئے پانی لانے کی اجازت دی، مگر ان کو صرف نیزہ اور علم ساتھ رکھنے کا حکم دیا۔ اس کوشش میں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کٹوا دیئے اور شہادت پائی۔ اس دوران ان کو پانی پینے کا بھی موقع ملا مگر تین دن کے بھوکے پیاسے شیر نے گوارا نہیں کیا کہ وہ تو پانی پی لیں اور خاندانِ رسالت پیاسا رہے۔ شہادت کے بعد جیسے باقی شہداء کے ساتھ سلوک ہوا ویسے ہی حضرت ابوالفضل العباس کے ساتھ ہوا۔ ان کے سر مبارک کو کاٹ کر نیزہ پر لگایا گیا اور جسمِ مبارک کو گھوڑوں کے سموں سے پامال کیا گیا۔ 10 ان کا روضہ اقدس عراق کے شہر کربلا میں ہے، جہاں پہلے ان کا جسم دفن کیا گیا اور بعد میں شام سے واپس لا کر ان کا سر دفنایا گیا۔ دریائے فرات جو ان کے روضے سے کچھ فاصلے پر تھا اب ان کی قبر مبارک کے اردگرد چکر لگاتا ہے اور یہ معجزہ آج تک دنیا کو اہلبیت اطہار (ع) بالخصوص باب الحوائج حضرت عباس (ع) کی فضلیت بیان کر رہا ہے۔ حضرت عباس (ع) 34 سال کی عمر میں شھید ہوئے، آپ کی اولاد میں  ایک چھوٹا فرزند تھا جن کا نام" عبداللہ " تھاـ ان سے آپ کی نسل با برکت آگے چلی۔ یہ حضرت عبّاس کی وفا، شجاعت، علم اور انکی معرفت امام  کی ایک جھلک تھی۔ خداوند عالم سے دعا ہے کہ ہمیں حقیقی محبین اہلبیت علیہم السلام میں سے قرار دے۔ (آمین یا رب العالمین)

حوالہ جات:
1۔ بحار ج ۴۵ ص ۲۹۸
2۔ العبّاس بن علی ص ۳۶ نقل ذخیرۃالدّارین
3۔ منتہی الامال ج ۱ ص۲۷۱
4۔ العبّاس ، مقرّم ص۷۶ و خصایص العبّاسیہ ص۱۲۰
5۔ اسرار الشہادۃ ص۳۲۴
6۔ الکبریت الاحمر ج ۳ ص۴۵
7۔ العبّاس ، مقرم ص۹۵
8۔ خصایص العباسیہ ص ۱۱۸ و ۱۱۹
9۔ فرسان الھیجاء ج۱ ص
10۔ چہرۂ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العبّاس ص ۱۹۰۔۱۹۳


نوشته شده در تاريخ یکشنبه پنجم آبان 1392 توسط ارشادحسین مطهری



افسوس صد افسوس کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض قریبی افراد کی جاہلانہ کینہ توزی اور جاہ طلبی کے سبب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت ادھوری رہ گئی اور اس پر عمل نہ کیا گیا اور وہ فیصلہ جو خداوند متعال نے امت مسلمہ کیلئے کر رکھا تھا اسے عملی جامہ پہننے سے روک دیا گیا۔

عید سعید غدیر، سیرہ معصومین علیھم السلام کی روشنی میں
اسلام ٹائمز- عید غدیر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ اسے ایک اسلامی دن قرار دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس دن خداوند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا:
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا (سورہ مائدہ، آیہ 3)
"آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں مکمل کر دیں اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو چن لیا"۔ 
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تمام ائمہ معصومین علیھم السلام نے عید سعید غدیر کے دن خوشی منانے اور اس دن کی یاد تازہ رکھنے پر خاص تاکید کی ہے۔ ائمہ معصومین علیھم السلام نے عید سعید غدیر کو "عید الاکبر" یعنی بڑی عید کے طور پر یاد کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن نہ صرف حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین اور خلیفہ بلافصل کے طور پر تعیین کیا گیا بلکہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دستور الہی کے تحت اپنے بعد آنے والے تمام جانشینوں یعنی حضرت زہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت علی علیہ السلام کے گیارہ فرزندان کا نام لے کر انہیں لوگوں کو پہچنوایا اور آخر الزمان میں امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی خوشخبری بھی سنائی۔ 
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ غدیر کے واقعے نے اسلام کے مستقبل پر انتہائی گہرا اثر ڈالا ہے اور اسلام کی تقدیر میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ واقعہ غدیر کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ایک اہم ترین الہی فریضہ انجام دیا۔ وہ فریضہ جس کا انجام دینا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام رسالت کے برابر تھا اور نعوذباللہ اس فریضے کو انجام دینے میں کوتاہی کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گذشتہ تمام محنتوں پر پانی بہ جانے اور اسلام کے آغاز سے جدوجہد کرنے والے تمام مسلمانوں کی فداکاریاں اور قربانیاں ضائع ہو جانے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا تھا۔ وہ فریضہ جس کی ادائیگی کے دوران پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ صرف اپنے جانشین یعنی حضرت علی علیہ السلام بلکہ ان کے بعد والے جانشینوں یعنی حضرت امام حسن علیہ السلام، حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کی نسل سے باقی 9 اماموں میں سے ہر ایک کا نام لے کر لوگوں کے سامنے یہ اعلان کیا کہ یہ افراد میرے جانشین اور خلیفہ ہیں۔ 
 
لیکن افسوس صد افسوس کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض قریبی افراد کی جاہلانہ کینہ توزی اور جاہ طلبی کے سبب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت ادھوری رہ گئی اور اس پر عمل نہ کیا گیا اور وہ فیصلہ جو خداوند متعال نے امت مسلمہ کیلئے کر رکھا تھا اسے عملی جامہ پہننے سے روک دیا گیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد اسلام اور مسلمین کو ان کے حقیقی راستے سے منحرف کر دیا گیا جس کے بھیانک نتائج عالم اسلام آج بھی بھگت رہا ہے۔ خداوند متعال سورہ مائدہ کی تیسری آیہ میں فرماتا ہے:
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا (سورہ مائدہ، آیہ 3)
"آج کے دن ہم نے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں مکمل کر دیں اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو چن لیا"۔ 
اسی طرح سورہ مائدہ کی آیہ 67 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:
یا ایها الرسول بلغ  ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل  فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس
"اے رسول، جو کچھ تمہاری جانب تمہارے خدا کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دو اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گویا تم نے اپنی رسالت کو کوئی کام انجام نہ دیا اور یاد رکھو خدا تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا"۔ 
 
سب مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آیہ حضرت علی علیہ السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور جب یہ آیہ نازل ہوئی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ تھام کر اسے ہوا میں بلند کیا اور فرمایا:
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ
"جس جس کا میں مولی ہوں یہ علی اس اس کا مولا ہے، اے خدا جو علی سے محبت کرے تو بھی اس سے محبت کر اور جو علی سے دشمنی اختیار کرے تو بھی اس سے دشمنی کر"۔
شیعہ اور سنی مورخین کا کہنا ہے کہ اس موقع پر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی موجود تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر حضرت علی علیہ السلام کو مبارکباد عرض کی اور کہا:
بَخّ بَخّ لَکَ یَا ابْنَ أَبی طالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَیْتَ مَوْلایَ وَ مَوْلا کُلِّ مُؤمِنٍ وَ مُؤمِنَةٍ
"مبارک ہو اے ابوطالب کے بیٹے، تو ہمارا بھی ولی بن گیا اور ہر مومن مرد اور عورت کا بھی ولی بن گیا ہے"۔ 
 
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ انتہائی اہم اور مشکل دینی فریضہ انجام دینے کے باوجود پریشان تھے اور فرماتے رہتے تھے کہ خداوند متعال نے مجھے ایسا کام انجام دینے کا حکم دیا تھا جس کو انجام دینے میرے لئے انتہائی مشکل تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ لوگ اس بارے میں مجھے جھٹلا دیں گے۔ لیکن خداوند متعال نے مجھے دھمکی دی کہ اگر اس فریضہ کو انجام نہیں دیا تو میرے عذاب کا شکار ہو جاو گے اور یہ آیہ نازل فرمائی:
یا ایها الرسول بلغ  ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل  فما بلغت رسالته والله یعصمک من الناس (سورہ مائدہ، آیہ 67)۔
 
واقعہ غدیر ائمہ معصومین علیھم السلام کے کلام اور سیرت کی روشنی میں:
جب ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیھم السلام کی سیرت کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، امیرالمومنین امام علی علیہ السلام اور دوسرے ائمہ طاہرین علیھم السلام نے روز غدیر کو ایک عید کے طور پر منایا ہے اور اس دن دوسرے مسلمانوں کو مبارکباد پیش کیا کرتے تھے اور انہیں تاکید کرتے تھے کہ وہ اس دن ایک دوسرے کو عید مبارک کہیں۔ 
 
حجہ الوداع کے دوران جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خم کے میدان میں غدیر کا معروف خطبہ دیا تو اس کے آخر میں تین بار فرمایا: من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ۔ تاکہ یہ جملہ تاریخ میں اور مسلمانوں کے کانوں میں ہمیشہ کیلئے باقی رہ جائے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کو اپنے جانشین اور خلیفہ کے طور پر اعلان کر چکے تو اسی دن اس دن کو عید قرار دیا اور ایک خیمے میں تشریف لے گئے اور ہر آنے والے کو انتہائی خوشی کے عالم میں مبارکباد دینے لگے اور ان سے فرمایا: 
"مجھے بھی مبارکباد دیں کیونکہ خداوند عالم نے مجھے نبوت سے اور میرے اہلبیت کو امامت سے مخصوص کر دیا ہے"۔ 
 
اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک اور موقع پر یوں فرماتے ہیں:
"غدیر خم کے دن (18 ذی الحج) میری امت کی سب سے بڑی عید کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب خداوند متعال نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بھائی ابوطالب کے بیٹے علی کو اپنی امت کی ہدایت کا پرچم عطا کروں اور یہ اعلان کروں کہ میرے بعد ہدایت کا راستہ صرف اس کے ہاتھ میں ہو گا۔ غدیر خم وہ دن ہے جب خداوند متعال نے دین اسلام کو کامل کر دیا اور میری امت پر اپنی نعمتوں کو مکمل کر دیا اور ہمارے لئے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا"۔ 
 
امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کا خطبہ غدیریہ:
خود امیرالمومنین امام علی علیہ السلام سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے 18 ذی الحج کو عید کا دن قرار دیا کرتے تھے۔ امام علی علیہ السلام کے دورہ خلافت کا واقعہ ہے کہ ایک دن عید سعید غدیر جمعہ کو آ گئی۔ مسلمانوں کی بڑی تعداد نماز جمعہ میں شریک ہونے کیلئے مسجد میں جمع تھی۔ امام علی علیہ السلام خطبہ جمعہ کیلئے منبر پر تشریف لائے۔ امام حسین علیہ السلام اس دن کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
"دن شروع ہوئے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے جب میرے والد محترم نے جمعہ کا خطبہ دینا شروع کیا۔ انہوں نے سب سے پہلے خداوند متعال کی حمد و ثنا انجام دی اور اس کے بعد خدا کی صفات بیان کیں اور فرمایا کہ حاکمیت اعلی خداوند متعال کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس کے بعد خدا کی نعمتوں کا ذکر کیا اور لوگوں کو مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا: خداوند متعال نے آج کے دن آپ کیلئے دو بڑی عیدیں اکٹھی کر دی ہیں (عید غدیر اور عید جمعہ)۔ ایسی دو عیدیں جو ایک دوسرے کے فلسفہ وجودی کی تکمیل کرتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک عید دوسری عید کے ذریعے ہدایت حاصل کرنے میں موثر ہے۔ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے والد محترم نے اس کے بعد فرمایا: توحید اور خدا کی وحدانیت پر ایمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کو مانے بغیر درگاہ خداوندی میں قبول نہیں کیا جائے گا اور دین و شریعت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس شخص کی ولایت کو مانے بغیر قبول نہیں ہو گا جس کا حکم خدا نے دیا ہے اور یہ سب کچھ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اہل ولایت کے ساتھ توسل اور تمسک پیدا نہ ہو جائے"۔ 
 
اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے فرمایا: "خداوند متعال نے غدیر کے دن اپنے منتخب شدہ افراد کے بارے میں اپنا ارادہ اپنے رسول پر نازل کر دیا اور اپنے رسول کو دستور دیا کہ ان کی ولایت اور جانشینی کا اعلان کر دو تاکہ کفار اور منافقین کا راستہ بند ہو جائے۔ اور اس کام میں اپنے دشمنوں کی جانب سے کسی خطرے کی پرواہ نہ کرے۔ غدیر کا دن انتہائی شان و منزلت والا دن ہے۔ اس دن خدا کی جانب سے مسلمانوں کیلئے آسانیاں نازل ہوئی ہیں اور سب افراد پر اتمام حجت ہو چکی ہے۔ آج کا دن حقائق کو فاش کرنے اور اعلی عقائد کے اظہار کا دن ہے۔ آج کا دن دین کی تکمیل اور وعدہ پورا کرنے کا دن ہے۔ غدیر کا دن شاہد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور مشہود (علی ابن ابیطالب علیہ السلام) کا دن ہے۔ آج کا دن کفر و نفاق کے زیرسایہ انجام پانے والے معاہدوں کے ٹوٹنے کا دن ہے۔ آج کا دن حقیقی اسلام سے متعلق حقائق کے آشکار ہونے کا دن ہے۔ آج کا دن شیطان کی ذلت اور خواری کا دن ہے۔ آج کا دن دلیل اور استدلال کرنے کا دن ہے۔ آج کا دن ایسے افراد کی صف الگ ہونے کا دن ہے جو اس کا انکار کرتے ہیں اور آج کا دن وہ عظیم دن ہے جس سے آپ میں سے کچھ لوگوں نے علیحدگی اختیار کر رکھی ہے۔ آج کا دن ہدایت اور خدا کے بندوں کی آزمائش کا دن ہے۔ آج کا دن دلوں اور سینوں میں چھپے ہوئی نفرتوں اور دشمنیوں کے آشکار اور واضح ہونے کا دن ہے۔ آج کا دن مومن اور جان نثار افراد کیلئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی واضح باتوں کے بیان کا دن ہے۔ غدیر حضرت شیث پیغمبر کا دن ہے، حضرت ادریس پیغمبر، حضرت یوشع پیغمبر اور حضرت شمعون پیغمبر کا دن ہے۔ 
 
عید غدیر کی مناسبت سے منشور علوی علیہ السلام:
امیرالمومنین امام علی علیہ السلام خطبہ غدیریہ کے آخر میں فرماتے ہیں:
"اے مسلمانو تم پر خدا کی رحمت نازل ہو، آج کے اس عظیم اجتماع سے واپسی پر آج کے دن کو عید کے طور پر منائیں (اور مندرجہ ذیل اعمال انجام دیں): اپنے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کیلئے زیادہ سے زیادہ تحائف خریدیں اور ان کے ساتھ نیکی سے پیش آئیں اور عفو و درگذر سے کام لیں۔ اپنی دینی بھائیوں کے ساتھ جہاں تک ہو سکے نیکی کریں اور انہیں مال عطا کریں۔ خدا نے جو نعمتیں آپ کو عطا کر رکھی ہیں ان کی بابت اس کا شکر ادا کریں۔ آپس میں متحد ہو جائیں اور ایک جگہ جمع ہوں تاکہ خداوند متعال آپ کے اجتماع میں برکت ڈالتے ہوئے آپ کی تعداد بڑھا دے۔ ایکدوسرے کے ساتھ بھلائی کریں تاکہ خدا آپ کے دلوں میں زیادہ محبت اور الفت ڈال دے۔ ایکدوسرے کو الہی نعمتوں کی خاطر مبارکباد دیں جیسا کہ خداوند متعال بھی آپ لوگوں کو دوسری عیدوں کی نسبت زیادہ ثواب اور اجر دے کر مبارکباد دے رہا ہے"۔ 
 
اس کے بعد امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
"آج کے دن ایکدوسرے کی مالی مدد کرنا آپ کے اموال میں برکت اور عمر میں اضافے کا باعث بنے گا۔ دوسروں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا خدا کی رحمت اور عنایت کا سبب بنے گا۔ آج کے دن مسکراتے چہروں اور اظہار مسرت کرتے ہوئے ایکدوسرے سے مصافحہ کریں۔ اپنی توفیقات پر خدا کا شکر ادا کریں۔ ایسے فقیر اور کمزور افراد کے پاس جائیں جنہوں نے آپ سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں اور ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے کھانے میں شامل ہوں۔ عید غدیر کے دن کسی فقیر کی ایک درھم سے مدد کرنا عام دنوں میں 2 لاکھ درہم مدد کے برابر ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ جب ایکدوسرے سے ملاقات کریں اور ایکدوسرے کو گلے لگائیں، ایکدوسرے کو مبارکباد پیش کریں کیونکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ایسا ہی دستور فرمایا ہے۔ 
 
جنگ صفین کے دوران حدیث غدیر کو بیان کرنا:
مولای متقیان امام علی علیہ السلام جنگ صفین کے دوران ایک دن اپنے سپاہیوں کے درمیان بیٹھے تھے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی اپنے فضائل بیان فرما رہے تھے۔ آپ علیہ السلام نے سورہ مائدہ کی آیہ 55 "انما ولیکم اللہ و رسوله والذین آمنوا الذین یقیمون الصلاۃ و یوتون الزکوۃ و ھم راکعون" اور اسی طرح سورہ توبہ کی آیہ 16 "و لم یتخذوا من دون اللہ و لا رسوله و لا المومنین ولیجه" کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: لوگوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول کیا ولایت سے متعلق آیات کچھ خاص مومنین کے ساتھ مخصوص ہیں یا سب مسلمانوں کیلئے ہیں؟ اس موقع پر خداوند متعال نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ نماز، روزہ، زکات اور حج کی مانند ولایت اور حکومت سے متعلق امور بھی لوگوں کو بیان فرمائیں۔ لہذا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر خم میں مجھے لوگوں کا ولی قرار دیا اپنے خطبے کے دوران فرمایا: ان اللہ ارسلنی برساله ۔۔۔۔۔ من کنت مولاہ فعلی مولاہ ۔۔۔۔ 
 
حضرت زہرا سلام اللہ علیھا اور غدیر:
حضرت سیدہ زہرا سلام اللہ علیھا سے پوچھا گیا: 
آیا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی وفات سے قبل امیرالمومنین علی علیہ السلام کی امامت اور جانشینی کے بارے میں کچھ فرمایا تھا؟ 
آپ سلام اللہ علیھا نے جواب دیا: وا عجبا، کیا تم لوگ روز غدیر خم کو بھول گئے ہو؟ 
اسی طرح حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے ایک اور موقع پر فرمایا:
خداوند متعال نے غدیر خم کے ذریعے سب پر اپنی حجت تمام کر دی ہے اور کسی کے پاس کوئی بہانہ باقی نہیں بچا۔ 
 
ایک دن حضرت زہرا سلام اللہ علیھا احد کے مقام پر اپنے والد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا سید الشھداء حضرت حمزہ کے مزار پر گریہ کناں تھیں۔ اسی دوران محمود بن لبید کا وہاں سے گزر ہوا۔ وہ باہر ہی بیٹھ گیا اور جب حضرت زہرا سلام اللہ علیھا عزاداری سے فارغ ہوئیں تو اس نے آپ سلام اللہ علیھا سے پوچھا:
اے دختر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، کیا علی ابن ابیطالب کی امامت اور جانشینی کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب سے کوئی حدیث دلیل کے طور پر پیش کر سکتی ہیں؟
حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے فرمایا: 
"وا عجبا، کیا تم غدیر خم جیسے عظیم واقعے کو فراموش کر چکے ہو؟ میں خدا کو گواہ بنا کر کہتی ہوں کہ میں نے اپنے کانوں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ: علی وہ بہترین انسان ہے جسے میں نے آپ لوگوں کے درمیان اپنا جانشین قرار دیا ہے، علی میرے بعد آپ کا امام اور خلیفہ ہے۔ میرے دو فرزند حسن اور حسین اور ان کے بعد حسین کی نسل سے 9 افراد پاک اور نیک امام اور پیشوا ہوں گے۔ اگر تم لوگوں نے ان کی اطاعت کی تو وہ تمہیں ہدایت کی جانب لے جائیں گے اور اگر ان کی مخالفت کی تو قیامت تک تم لوگوں میں اختلافات اور تفرقہ موجود رہے گا"۔
 
امام حسن و امام حسین علیھما السلام اور غدیر:
امام حسن اور امام حسین علیھما السلام ہر سال عید سعید غدیر کے موقع پر شہر کوفہ میں بڑے پیمانے پر دعوت کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ یہ دعوتیں اور جشن حضرت علی علیہ السلام کی زندگی کے دوران بھی برگزار کئے جاتے تھے۔ ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل کوفہ میں عید غدیر منانے کا رواج پڑ گیا۔ اسی طرح امام حسن علیہ السلام نے معاویہ سے صلح نامہ لکھتے وقت واقعہ غدیر خم کو بیان کرتے ہوئے اس بات پر تاکید کی کہ وہ حق پر ہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی ایک سال حج کے موقع پر بنی ہاشم قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد اور دوسروں کو جمع کیا اور انہیں غدیر خم کا واقعہ یاد دلایا۔ 
 
امام حسن مجتبی علیہ السلام کا خطبہ اور غدیر خم کو بیان کرنا:
امام حسن علیہ السلام نے اہل کوفہ کو خطبہ دیتے ہوئے ان کی توجہ اہل بیت اطہار علیھم السلام کی حاکمیت جیسی عظیم نعمت کی جانب مبذول کروائی جو اب ان سے چھینی جا چکی تھی۔ امام مجتبی علیہ السلام نے اپنی خلافت کے برحق اور جائز ہونے پر تاکید فرمائی اور غدیر خم کے عظیم واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
"آپ لوگوں کو میرے جد امجد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ فرمائشات یاد ہوں گی جن میں وہ کہا کرتے تھے کہ: جب بھی لوگ ایسے شخص کو اپنا حکمران چن لیں جس سے زیادہ بہتر اور باصلاحیت شخص ان میں موجود ہو تو اس کا نتیجہ ان کی بدبختی کی صورت میں ظاہر ہو گا اور اس سے بچنے کا صرف ایک راستہ ہے کہ وہ جس شخص کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور اسے بھول چکے ہیں اس کی جانب واپس لوٹ آئیں۔ 
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: اے علی میرے بعد تمہاری مثال موسی کے بعد ہارون جیسی ہے، وہ اپنے بھائی موسی کا جانشین تھا جبکہ تم میرے جانشین اور خلیفہ ہو۔ تم میں اور ہارون میں فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"۔ 
 
اس کے بعد امام حسن مجتبی علیہ السلام نے فرمایا: 
تم لوگوں نے اپنے پیغمبر کو دیکھا ہے اور غدیر خم میں ان کی فرامین کو سنا ہے۔ اس دن میرے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے والد علی علیہ السلام کا ہاتھ تھاما اور لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا: ہر وہ شخص جس کا میں مولی اور سرپرست ہوں اس کا علی مولی ہو گا۔ خدایا، ہر اس شخص سے دوستی کر جو علی سے دوستی کرے اور ہر اس شخص سے دشمنی کر جو علی سے دشمنی کرے۔ ۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد میرے جد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سختی سے تاکید کی کہ موجود افراد اس واقعے کی خبر تمام ایسے افراد تک پہنچائیں جو وہاں موجود نہیں۔ 
 
امام حسین علیہ السلام اور منی میں حدیث غدیر کو بیان فرمانا:
معاویہ کی موت سے ایک سال قبل امام حسین علیہ السلام حج ادا کرنے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ عبداللہ ابن عباس اور عبداللہ ابن جعفر بھی آپ علیہ السلام کے ہمراہ تھے۔ اس سال بنی ہاشم کے مرد و خواتین کی بڑی تعداد بھی حج پر موجود تھی۔ امام حسین علیہ السلام نے ایام تشریق کے دوران انہیں منی کے میدان میں جمع کیا۔ اس عظیم اجتماع میں 700 سے زیادہ تابعین اور 200 سے زیادہ اصحاب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی شریک تھے۔ سب افراد امام حسین علیہ السلام کے گرد پروانوں کی طرح جمع تھے اور اس انتظار میں تھے کہ آپ علیہ السلام انہیں اپنے کلام سے مستفیض فرمائیں۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خطبے کا آغاز خدا کی حمد و ثنا سے کیا اور پھر فرمایا:
 
"آپ لوگ اچھی طرح دیکھ رہے ہیں کہ معاویہ کے ساتھی کس طرح ہم اور ہمارے شیعیان پر ظلم و ستم روا رکھے ہوئے ہیں۔ میری باتوں کو غور سے سنیں اور انہیں لکھ لیں (تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس سے فیض یاب ہو سکیں) اور دوسرے شہروں اور قبیلوں میں بسنے والے مومن اور قابل اعتماد ساتھیوں تک بھی پہنچائیں۔ انہیں ہم اہلبیت علیھم السلام کے حقوق کو ادا کرنے کی جانب دعوت دیں۔ مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں کہ وقت گزر جائے اور ہمارے حقوق ضائع ہو جائیں اور ہم مظلوم قرار پائیں کیونکہ خدا سب سے بہتر حامی ہے۔ میں آپ لوگوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کو یاد نہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر خم کے روز میرے والد علی علیہ السلام کو اپنا وصی اور اپنے بعد امام اور خلیفہ قرار دیا تھا؟ اور حدیث ولایت بیان کی تھی؟ اور آپ لوگوں کو تاکید کی تھی کہ جو بھی اس وقت حاضر ہیں وہ یہ خبر ایسے افراد تک پہنچائیں جو یہاں موجود نہیں؟"۔ سب نے مل کر جواب دیا: جی ہمیں یاد ہے۔
 
امام محمد باقر علیہ السلام اور غدیر:
فضیل بن یسار، بکیر بن اعین، محمد بن مسلم، برید بن معاویہ اور ابوالجارود امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھے۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی ولایت اور غدیر کے بارے میں فرمایا:
"خداوند متعال نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ ولایت علی علیہ السلام کو بیان کریں اور یہ آیہ نازل فرمائی: انما ولیكم الله و رسوله و الذین آمنوا الذین یقیمون الصلاة و یؤتون الزكاة‏۔ اس آیہ کے نازل ہونے کے بعد اولی الامر کی اطاعت بھی مسلمانوں پر واجب ہو گئی لیکن بعض مسلمان یہ نہ سمجھ سکے کہ اولی الامر کون ہے؟ خداوند متعال نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کیلئے واضح طور پر بیان کریں اور نماز، زکات، روزہ اور حج کی طرح اولی الامر کا مصداق بھی کھلے الفاظ میں بیان کریں۔ اس حکم خداوندی کے بعد پیغمبر اکرم پریشان ہو گئے اور انہیں یہ خوف لاحق ہوا کہ کہیں اس وضاحت کے بعد کچھ لوگ دین اسلام سے مرتد نہ ہو جائیں اور انہیں جھٹلانا شروع نہ کر دیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدا کی جانب توجہ کی اور پھر آیہ تبلیغ (یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک ۔۔۔۔) نازل ہوئی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بعد دستور دیا کہ تمام مسلمان غدیر خم کے میدان میں جمع ہو جائیں اور وہاں سب کے سامنے علی ابن ابیطالب علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے جانشین اور خلیفہ کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بعد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب افراد پر تاکید کی کہ وہ یہ پیغام ان لوگوں تک بھی پہنچائیں جو وہاں موجود نہیں۔ 
 
امام جعفر صادق علیہ السلام اور غدیر:
حسان جمال روایت کرتا ہے: میں امام صادق علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے مکہ کی جانب سفر کر رہا تھا۔ جب ہم جحفہ کی میقات کے نزدیک "مسجد غدیر" پر پہنچے تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے مسجد کے بائیں جانب دیکھا اور فرمایا: یہ وہ جگہ ہے جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غدیر کے دن علی علیہ السلام کو اپنے جانشین اور خلیفہ کے طور پر پیش کیا تھا اور فرمایا تھا: من کنت مولاہ فعلی مولاہ۔ اس کے بعد امام صادق علیہ السلام نے دوسری طرف دیکھتے ہوئے باقی افراد کی خیمہ گاہ کی جگہ مشخص کی اور فرمایا: ابوخذیفہ کا غلام سالم اور ابوعبیدہ جراح اس طرف بیٹھے تھے۔ بعض افراد ایسے تھے جنہوں نے جب دیکھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام کا ہاتھ تھام رکھا ہے تو وہ شدید حسد کا شکار ہو گئے اور ایکدوسرے سے کہنے لگے: پیغمبر خدا کی دو آنکھوں کو دیکھو، کس طرح (نعوذ باللہ) پاگلوں کی طرح اردگرد گھوم رہی ہیں اور انہیں آرام نہیں آتا۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور یہ آیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ پر نازل فرمائیں: و ان یكادالذین كفروا لیزلقونك بابصارهم لما سمعوا الذكر و یقولون انه لمجنون و ما هو الا ذكر للعالمین۔ (وہ افراد جو کافر ہو گئے ہیں جب انہوں نے قرآن کو سنا تو قریب تھا تمہیں بری نظر لگا دیتے، وہ کہ رہے تھے کہ یہ پاگل ہے جبکہ قرآن دنیا والوں کیلئے آگاہی اور بیداری کے سوا کچھ نہیں)۔ 
 
حسن بن راشد نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہوئے کہا: میں نے آپ علیہ السلام کو کہا: میری جان آپ پر قربان ہو، کیا مسلمانوں کیلئے عید فطر اور عید قربان کے علاوہ کوئی اور بھی عید ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں اے حسن، ان دونوں سے زیادہ عظیم اور بڑی ایک اور بھی عید ہے۔ میں نے پوچھا: وہ کون سا دن ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: وہ دن جب امیرالمومنین علی علیہ السلام کو لوگوں کیلئے امام اور پیشوا مقرر کیا گیا۔ میں نے پوچھا: میری جان آپ پر قربان ہو، اس دن کون سے اعمال انجام دینے چاہئیں؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: روزہ رکھو اور پیغمبر اور ان کی آل پر درود بھیجو اور جن لوگوں نے ان پر ظلم ڈھائے ہیں ان پر تبری کرو۔ تمام انبیاء الہی نے اپنے اوصیاء یہ حکم دے رکھا تھا کہ جس دن ان کا جانشین مشخص ہوا ہے اس دن کو عید کے طور پر منائیں۔ میں نے عرض کی: جو شخص اس دن روزہ رکھے اس کا کیا ثواب ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس کا ثواب 60 مہینے روزہ رکھنے کا ہے۔ 
 
امام کاظم علیہ السلام اور مسجد غدیر:
عبدالرحمان بن حجاج کہتا ہے: میں امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں شرف یاب ہوا۔ میں سفر پر جانا چاہتا تھا۔ میں نے آپ علیہ السلام سے مسجد غدیر خم کے بارے میں سوال پوچھا۔ امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: اس مسجد میں نماز ادا کرو کیونکہ بہت ثواب اور فضیلت رکھتی ہے۔ میرے والد فرمایا کرتے تھے کہ مسجد غدیر میں ضرور نماز ادا کریں۔ 
 
امام علی رضا علیہ السلام اور غدیر:
امام علی رضا علیہ السلام کو خبر ملی کہ کچھ لوگ واقعہ غدیر خم کا انکار کر رہے ہیں۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
"میرے والد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ غدیر کا دن آسمان والوں کے درمیان زمین والوں کی نسبت زیادہ معروف ہے۔ بالتحقیق خدا اس دن مومن مردوں اور خواتین کے 60 سالہ گناہ بخش دیتا ہے اور ماہ مبارک رمضان سے دوگنا انہیں جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ دن کس قدر بافضیلت اور اہم ہے تو یقینا فرشتے ہر روز دس بار ان سے مصافحہ کرنے آتے"۔ 
 
فیاض بن محمد بن عمر طوسی نے 259 ہجری قمری میں جب خود اس کی عمر 90 سال تھی روایت کی ہے: میں نے امام علی رضا علیہ السلام سے غدیر کے دن ملاقات کی۔ آپ علیہ السلام کے حضور بعض خاص صحابی بھی موجود تھے۔ امام علی رضا علیہ السلام نے انہیں افطار کی دعوت دے رکھی تھی اور ان کے گھر بھی کھانا، لباس اور تحائف حتی جوتے اور انگوٹھیاں بھجوائیں۔ امام علی رضا علیہ السلام ہمیشہ اس عظیم دن کو یاد کرتے رہتے تھے۔ 
 
امام حسن عسکری علیہ السلام اور غدیر:
ایک مومن شخص نے امام حسن عسکری علیہ السلام سے پوچھا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کا کہ "من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ" کیا مطلب ہے؟ امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایا: 
"خداوند متعال چاہتا تھا کہ یہ جملہ ایک ایسی نشانی اور پرچم میں تبدیل ہو جائے جو امت میں اختلافات کے وقت اہل حق کی پہچان کا باعث بنے"۔
 
امام زمانہ عج اور غدیر:
حضرت ولی عصر عج سے منسوب دعای ندبہ میں آیا ہے:
فلما انقضت ایامه اقام ولیه علی بن ابی طالب صلواتك علیهما و آلهما هادیا اذ كان هم المنذر و لكل قوم هاد فقال و الملاء امامه من كنت مولاه فهذا علی مولاه اللهم وال من والاه و عاد من عاداه.
"جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات آئے تو انہوں نے علی ابن ابیطالب علیہ الصلوات و السلام کو امت کی ہدایت کیلئے چن لیا چونکہ وہ ڈرانے والے تھے اور ہر قوم کو ہادی کی ضرورت ہے۔ پس رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام کے روبرو کھڑے ہو کر لوگوں کو کہا: جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کا علی مولا ہے، خدایا جو بھی علی سے دوستی کرے اس سے دوستی کر اور جو بھی علی سے دشمنی کرے اس سے دشمنی کر۔


نوشته شده در تاريخ یکشنبه پنجم آبان 1392 توسط ارشادحسین مطهری



ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے سرحدی علاقے سراوان کی سرحد پر گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے ہوئے بارڈر فورس پر حملے کے نتیجے میں ۱۴ افراد شہید اور ۶ زخمی ہوئے ہیں۔ 

 اپ ڈیٹ/ایران کے سرحدی علاقے سراوان میں سرحدی فورس پر دھشتگردانہ حملہ/ ۱۴ سپاہی شہید اور ۶ زخمی
ایران پاکستان کے سرحدی علاقے سراوان میں گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے ایرانی سرحدی فورس کو اپنے دھشتگردانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔ رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھشتگرد گروپ ’’بیگانہ‘‘ سے وابستہ مسلح افراد نے سراوان سرحد پر موجود ایرانی سپاہیوں کو اس وقت اپنے حملوں کا نشانہ بنایا جب وہ اپنی ڈیوٹیاں بدل رہے تھے۔
صوبہ سیستان و بلوچستان کے نائب سیکورٹی گورنر نے اس خبر کی تائید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ جھڑپ ایک دم سرحد کے اوپر ہوئی جس میں ایرانی سپاہیوں کے ۱۴ افراد کو شہید، ۶ کو زخمی اور ۴ کو اغوا کر لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: مسلح دھشتگرد حملہ کر کے پاکستان کی طرف فرار کر گیے۔

شیعہ سنی اتحاد میں دن بدن مضبوطی/ فتنہ پرور افراد کا منہ توڑ جواب دیں گے
ابنا کی رپورٹ کے مطابق صوبہ چاربھار کے نمایندے جدگال یعقوب نے اس حادثہ کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اس حملے میں شہید ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے سپاہیوں کی شہادت کے موقع پر جو گزشتہ شب سرحد پر دھشتگردوں کے حملوں کا نشانہ بنے ہیں رہبر معظم انقلاب اور ان کے گھروالوں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: گزشتہ شب سراوان بارڈر پر کئے گئے حملے کا مقصد ایران میں ایرانی برداری کے اندر موجود اتحاد اور یکجہتی کو خدشہ دار کرنا ہے۔
صوبہ چابہار کے نمائندے نے مزید کہا: یقینی طور پر اس بزدلانہ حملے کے پیچھے عالمی استکبار اور استعمار کا ہاتھ ہے لیکن خدا انہیں اندھا کرے انہوں نے نہیں دیکھا کہ ۸ سالہ دفاع مقدس میں ہمارے جوانوں نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اسلامی انقلاب کی جڑوں کو مضبوط بنانے میں کس قدر قربانیاں پیش کیں؟
یعقوب جدگال نے تاکید کی: ایران میں شیعہ سنی اتحاد دن بدن مضبوط ہو رہا ہے اور ہرگز ہم دشمنوں کو اختلاف اور تفرقہ کی اجازت نہیں دیں گے اور بہر قیمت اپنے وطن کی حفاظت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا: ہم ملک کے سکیورٹی عہدہداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جلد از جلد ان افراد کے ساتھ سختی سے نمٹیں جو صوبہ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و یکم مهر 1392 توسط ارشادحسین مطهری



امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت/ حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اور اسلام میں سکے کی ابتدا/ آپ کے بعض علمی ہدایات وارشادات/ امام محمدباقرعلیہ السلام کی شہادت 

تیار کنندہ: سید افتخار علی جعفری


 محمد(ع)، باقر علوم آل محمد(ص)
 امام محمد باقر علیہ السلام کی علمی حیثیت
             کسی معصوم کی علمی حیثیت پر روشنی ڈالنا بہت دشوار ہے ،کیونکہ معصوم اور امام زمانہ کو علم لدنی حاصل ہوتا ہے، وہ خدا کی بارگاہ سے علمی صلاحیتوں سے بھرپور متولد ہوتا ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام چونکہ امام زمانہ اور معصوم ازلی تھے اس لیے آپ کے علمی کمالات،علمی کارنامے اور آپ کی علمی حیثیت کی وضاحت ناممکن ہے تاہم میں ان واقعات میں سے مستثنی ازخروارے،لکھتاہوں جن پرعلماء عبورحاصل کرسکے ہیں۔
          علامہ ابن شہرآشوب لکھتے ہیں کہ حضرت کا خود ارشاد ہے کہ” علمنامنطق الطیر و اوتینا من کل شئی “ ہمیں طائروں تک کی زبان سکھاگئی ہے اورہمیں ہرچیز کا علم عطا کیا گیاہے (مناقب شہرآشوب جلد ۵ ص ۱۱) ۔
          روضة الصفاء میں ہے کہ ’’بخدا سوگند کہ ما خازنان خدائیم درآسمان زمین الخ‘‘ خدا کی قسم ہم زمین اور آسمان میں خداوندعالم کے خازن علم ہیں اور ہم یہ شجرہ نبوت اور معدن حکمت ہیں ،وحی ہمارے یہاں آتی رہی اور فرشتے ہمارے یہاں آتے رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ظاہری ارباب اقتدار ہم سے جلتے اورحسد کرتے ہیں، لسان الواعظین میں ہے کہ ابو مریم عبدالغفار کا کہنا ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہواکہ :
۱ ۔ مولا کونسا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا: جس سے اپنے برادر مومن کو تکلیف نہ پہنچے ۔  ۲۔  کونسا خلق بہتر ہے؟ فرمایا: صبر اور معاف کردینا   ۳ ۔ کون سا مومن کامل ہے؟ فرمایا: جس کے اخلاق بہتر ہوں  ۴ ۔  کون سا جہاد بہتر ہے؟  فرمایا: جس میں اپنا خون بہہ جائے  ۵ ۔ کونسی نماز بہترہے؟ فرمایا: جس کا قنوت طویل ہو، ۶ ۔ کون سا صدقہ بہترہے؟ فرمایا: جس سے نافرمانی سے نجات ملے،  ۷ ۔ بادشاہان دنیا کے پاس جانے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ فرمایا: میں اچھا نہیں سمجھتا، پوچھاکیوں؟ فرمایاکہ اس لیے کہ بادشاہوں کے پاس کی آمدورفت سے تین باتیں پیداہوتی ہیں  :  ۱ ۔ محبت دنیا، ۲ ۔فراموشی مرگ،  ۳ ۔ قلت رضائے خدا۔
          پوچھا پھر میں نہ جاؤں؟ فرمایا: میں طلب دنیا سے منع نہیں کرتا، البتہ طلب معاصی سے روکتا ہوں ۔
          علامہ طبرسی لکھتے ہیں کہ یہ مسلمہ حقیقت ہے اور اس کی شہرت عامہ ہے کہ آپ علم و زہد اور شرف میں ساری دنیا سے فوقیت لے گئے ہیں آپ سے علم القرآن، علم الآثار، علم السنن اور ہرقسم کے علوم، حکم، آداب وغیرہ کے مظاہرہ میں کوئی نہیں ہوا، بڑے بڑے صحابہ اور نمایاں تابعین، اور عظیم القدر فقہاء آپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کرتے رہے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابرین عبداللہ انصاری کے ذریعہ سے سلام کہلایا تھا اور اس کی پیشین گوئی فرمائی تھی کہ یہ میرا فرزند”باقرالعلوم“ ہوگا،علم کی گتھیوں کو سلجھائے گا کہ دنیا حیران رہ جائے گی(اعلام الوری ص ۱۵۷ ،علامہ شیخ مفید)
          علامہ شبلنجی فرماتے ہیں کہ علم دین، علم احادیث،علم سنن اور تفسیر قرآن و علم السیرت و علوم وفنون ،ادب وغیرہ کے ذخیرے جس قدر امام محمد باقر علیہ السلام سے ظاہر ہوئے اتنے امام حسین اور امام حسین علیہم السلام کی اولاد میں سے کسی سے ظاہرنہیں ہوئے ۔ (ملاحظہ ہوکتاب الارشاد ص ۲۸۶ ،نورالابصار ص ۱۳۱ ،ارجح المطالب ص ۴۴۷ ۔)
          علامہ ابن حجر مکی لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے علمی فیوض و برکات اور کمالات و احسانات سے اس شخص کے علاوہ جس کی بصیرت زائل ہوگئی ہو، جس کا دماغ خراب ہوگیاہو اور جس کی طینت و طبیعت فاسد ہوگئی ہو،کوئی شخص انکارنہیں کرسکتا،اسی وجہ سے آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ”باقرالعلوم“ علم کے پھیلانے والے اورجامع العلوم ہیں، آپ کادل صاف، علم و عمل روشن و تابندہ نفس پاک اورخلقت شریف تھی، آپ کے کل اوقات اطاعت خداوندی میں بسرہوتے تھے۔
          عارفوں کے قلوب میں آپ کے آثار راسخ اور گہرے نشانات نمایاں ہوگئے تھے، جن کے بیان کرنے سے وصف کرنے والوں کی زبانیں گونگی اور عاجز وماندہ ہیں آپ کے ہدایات و کلمات اس کثرت سے ہیں کہ ان کااحصاء اس کتاب میں ناممکن ہے(صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔
          علامہ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ امام محمدباقرعلامہ زمان اورسردار کبیرالشان تھے آپ علوم میں بڑے تبحر اور وسیع الاطلاق تھے (وفیات الاعیان جلد ۱ ص ۴۵۰) علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ آپ بنی ہاشم کے سردار اور متبحر علمی کی وجہ سے باقر مشہور تھے آپ علم کی تہ تک پہنچ گئے تھے، اور آپ نے اس کے وقائق کو اچھی طرح سمجھ لیاتھا (تذکرةالحفاظ جلد ۱ ص ۱۱۱) ۔
          علامہ شبراوی لکھتے ہیں کہ امام محمد باقر (ع) کے علمی تذکرے دنیا میں مشہور ہوئے اور آپ کی مدح و ثناء میں بکثرت شعر لکھے گئے، مالک جہنی نے یہ تین شعر لکھے ہیں:
          ترجمہ  :  جب لوگ قرآن مجید کا علم حاصل کرنا چاہیں تو پورا قبیلہ قریش اس کے بتانے سے عاجز رہے گا، کیونکہ وہ خود محتاج ہے اور اگر فرزند رسول امام محمد باقر(ع) کے منہ سے کوئی بات نکل جائے تو بے حد و حساب مسائل و تحقیقات کے ذخیرے مہیا کر دیں گے یہ حضرات وہ ستارے ہیں جو ہرقسم کی تاریکیون میں چلنے والوں کے لیے چمکتے ہیں اور ان کے انوار سے لوگ راستے پاتے ہیں (الاتحاف ص ۵۲ ،وتاریخ الائمہ ص ۴۱۳) ۔
          علامہ ابن شہرآشوب کابیان ہے کہ صرف ایک راوی محمدبن مسلم نے آپ سے تیس ہزارحدیثیں روایت کی ہیں (مناقب جلد ۵ ص ۱۱) ۔
حضرت امام محمدباقر علیہ السلام اور اسلام میں سکے کی ابتدا
          مورخ شہیر ذاکرحسین تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۴۲ میں لکھتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے ۷۵ ھ میں امام محمدباقر علیہ السلام کی صلاح سے اسلامی سکہ جاری کیا اس سے پہلے روم و ایران کا سکہ اسلامی ممالک میں بھی جاری تھا۔
          اس واقعہ کی تفصیل علامہ دمیری کے حوالہ سے یہ ہے کہ ایک دن علامہ کسائی سے خلیفہ ہارون رشید عباسی نے پوچھا کہ اسلام میں درہم ودینارکے سکے، کب اورکیونکر رائج ہوئے انہوں نے کہا کہ سکوں کا اجراخلیفہ عبدالملک بن مروان نے کیا ہے لیکن اس کی تفصیل سے نا واقف ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ ان کے اجراء اور ایجاد کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی،ہارون الرشیدنے کہا کہ بات یہ ہے کہ زمانہ سابق میں جو کاغذ وغیرہ ممالک اسلامیہ میں مستعمل ہوتے تھے وہ مصر میں تیارہوا کرتے تھے جہاں اس وقت نصرانیوں کی حکومت تھی،اور وہ تمام کے تمام بادشاہ روم کے مذہب برتھے وہاں کے کاغذ پر جو ضرب یعنی (ٹریڈمارک) ہوتا تھا،اس میں بزبان روم(اب،ابن،روح القدس لکھاہواتھا ،فلم یزل ذلک کذالک فی صدرالاسلام کلہ بمعنی علوما کان علیہ ،الخ)۔
          اوریہی چیز اسلام میں جتنے دور گذرے تھے سب میں رائج تھی یہاں تک کہ جب عبدالملک بن مروان کازمانہ آیا، تو چونکہ وہ بڑا ذہین اورہوشیار تھا،لہذا اس نے ترجمہ کرا کے گورنر مصر کو لکھاکہ تم رومی ٹریڈمارک کو موقوف و متروک کردو،یعنی کاغذ کپڑے وغیرہ جو اب تیارہوں ان میں یہ نشانات نہ لگنے دو بلکہ ان پر یہ لکھوادو ”شہداللہ انہ لاالہ الاہو“ چنانچہ اس حکم پر عمل درآمد کیاگیا جب اس نئے مارک کے کاغذوں کا جن پر کلمہ توحید ثبت تھا، رواج پایا تو قیصرروم کوبے انتہا ناگوار گزرا اس نے تحفہ تحائف بھیج کر عبدالملک بن مروان خلیفہ وقت کو لکھاکہ کاغذ وغیرہ پر جو”مارک“ پہلے تھا وہی بدستورجاری کرو، عبدالملک نے ہدایا لینے سے انکار کردیا اور سفیر کو تحائف وہدایا سمیت واپس بھیج دیا اور اس کے خط کاجواب تک نہ دیا قیصرروم نے تحائف کو دوگنا کرکے پھر بھیجااور لکھاکہ تم نے میرے تحائف کو کم سمجھ کر واپس کردیا،اس لیے اب اضافہ کرکے بھیج رہاہوں اسے قبول کرلو اور کاغذ سے نیا”مارک“ ہٹادو، عبدالملک نے پھر ہدایا واپس کردیا اورمثل سابق کوئی جواب نہیں دیااس کے بعدقیصرروم نے تیسری مرتبہ خط لکھااورتحائف وہدایابھیجے اورخط میں لکھاکہ تم نے میرے خطوط کے جوابات نہیں دئیے ،اورنہ میری بات قبول کی اب میں قسم کھا کر کہتاہوں کہ اگرتم نے اب بھی رومی ٹریڈمارک کوازسرنو رواج نہ دیا اور توحیدکے جملے کاغذ سے نہ ہٹائے تو میں تمہارے رسول کو گالیاں،سکہ درہم ودینار پرنقش کراکے تمام ممالک اسلامیہ میں رائج کردوں گا اورتم کچھ نہ کرسکو گے دیکھو اب جو میں نے تم کولکھاہے اسے پڑھ کرارفص جبینک عرقا،اپنی پیشانی کاپسینہ پوچھ ڈالواور جومیں کہتاہوں اس پرعمل کرو تاکہ ہمارے اورتمہارے درمیان جورشتہ محبت قائم ہے بدستورباقی رہے۔
          عبدالملک ابن مروان نے جس وقت اس خط کوپڑھا اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی ،ہاتھ کے طوطے اڑگئے اورنظروں میں دنیاتاریک ہوگئی اس نے کمال اضطراب میں علماء فضلاء اہل الرائے اورسیاست دانوں کوفورا جمع کرکے ان سے مشورہ طلب کیا اورکہاکہ کوئی ایسی بات سوچو کہ سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے یا سراسر اسلام کامیاب ہوجائے، سب نے سرجوڑکر بہت دیرتک غورکیا لیکن کوئی ایسی رائے نہ دے سکے جس پرعمل کیاجاسکتا”فلم یجد عنداحدمنہم رایایعمل بہ“ جب بادشاہ ان کی کسی رائے سے مطمئین نہ ہوسکا تواور زیادہ پریشان ہوا اوردل میں کہنے لگا میرے پالنے والے اب کیا کروں ابھی وہ اسی تردد میں بیٹھا تھاکہ اس کا وزیراعظم”ابن زنباع“ بول اٹھا،بادشاہ تو یقیناجانتاہے کہ اس اہم موقع پراسلام کی مشکل کشائی کون کرسکتاہے ،لیکن عمدا اس کی طرف رخ نہیں کرتا،بادشاہ نے کہا”ویحک من“ خداتجھے سمجھے،توبتاتوسہی وہ کون ہے؟ وزیراعظم نے عرض کی ”علیک بالباقرمن اہل بیت النبی“ میں فرزند رسول امام محمدباقرعلیہ السلام کی طرف اشارہ کررہاہوں اور وہی اس آڑے وقت میں تیرے کام آسکتے ہیں ،عبدالملک بن مروان نے جونہی آپ کانام سنا قال صدقت کہنے لگا خداکی قسم تم نے سچ کہا اورصحیح رہبری کی ہے۔
          اس کے بعداسی وقت فورااپنے عامل مدینہ کولکھا کہ اس وقت اسلام پرایک سخت مصیبت آگئی ہے اوراس کادفع ہوناامام محمدباقرکے بغیرناممکن ہے،لہذا جس طرح ہوسکے انھیں راضی کرکے میرے پاس بھیجدو،دیکھواس سلسلہ میں جو مصارف ہوں گے،وہ بذمہ حکومت ہوں گے۔
عبدالملک نے دوخواست طلبی، مدینہ ارسال کرنے کے بعدشاہ روم کے سفیرکو نظر بندکردیا،اورحکم دیاکہ جب تک میں اس مسئلہ کوحل نہ کرسکوں اسے پایہ تخت سے جانے نہ دیاجائے۔
          حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام کی خدمت میں عبدالملک بن مروان کاپیغام پہنچااورآپ فوراعازم سفرہوگئے اوراہل مدینہ سے فرمایاکہ چونکہ اسلام کاکام ہے لہذا میں تمام اپنے کاموں پراس سفرکو ترجیح دیتاہوں الغرض آپ وہاں سے روانہ ہوکرعبدالملک کے پاس جاپہنچے، بادشاہ چونکہ سخت پریشان تھا،اس لیے اسے نے آپ کے استقبال کے فورا بعدعرض مدعاکردیا،امام علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا”لایعظم ہذاعلیک فانہ لیس بشئی“ اے بادشاہ سن، مجھے بعلم امامت معلوم ہے کہ خدائے قادر وتوانا قیصرروم کواس فعل قبیح پر قدرت ہی نہ دے گا اور پھرایسی صورت میں جب کہ اس نے تیرے ہاتھوں میں اس سے عہدہ برآہونے کی طاقت دے رکھی ہے بادشاہ نے عرض کی یابن رسول اللہ وہ کونسی طاقت ہے جومجھے نصیب ہے اورجس کے ذریعہ سے میں کامیابی حاصل کرسکتاہوں۔
          حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ تم اسی وقت حکاک اور کاریگروں کوبلاؤ اوران سے درہم ودینارکے سکے ڈھلواؤ اور ممالک اسلامیہ میں رائج کردو، اس نے پوچھاکہ ان کی کیا شکل وصورت ہوگی اور وہ کس طرح ڈھلیں گے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا کہ سکہ کے ایک طرف کلمہ توحید دوسری طرف پیغمراسلام کانام نامی اور ضرب سکہ کا سن لکھاجائے اس کے بعداس کے اوزان بتائے آپ نے کہاکہ درہم کے تین سکے اس وقت جاری ہیں ایک بغلی جودس مثقال کے دس ہوتے ہیں دوسرے سمری خفاف جوچھ مثقال کے دس ہوتے ہیں تیسرے پانچ مثقال کے دس ،یہ کل ۲۱/ مثقال ہوئے اس کوتین پرتقسیم کرنے پرحاصل تقسیم ۷/ مثقال ہوئے،اسی سات مثقال کے دس درہم بنوا،اوراسی سات مثقال کی قیمت سونے کے دینارتیارکرجس کا خوردہ دس درہم ہو،سکہ کانقش چونکہ فارسی میں ہے اس لیے اسی فارسی میں رہنے دیاجائے ،اوردینارکاسکہ رومی حرفوں میں ہے لہذااسے رومی ہی حرفوں میں کندہ کرایاجائے اورڈھالنے کی مشین (سانچہ) شیشے کابنوایاجائے تاکہ سب ہم وزن تیارہوسکیں۔
          عبدالملک نے آپ کے حکم کے مطابق تمام سکے ڈھلوالیے اور سب کام درست کرلیا اس کے بعدحضرت کی خدمت میں حاضرہوکردریافت کیاکہ اب کیاکروں؟ ”امرہ محمدبن علی“ آپ نے حکم دیاکہ ان سکوں کو تمام ممالک اسلامیہ میں رائج کردے، اورساتھ ہی ایک سخت حکم نافذکردے جس میں یہ ہوکہ اسی سکہ کو استعمال کیاجائے اور رومی سکے خلاف قانون قراردیئے گئے اب جوخلاف ورزی کرے گااسے سخت سزادی جائے گی ،اوربوقت ضرورت اسے قتل بھی کیاجاسکے گا۔
          عبدالملک بن مروان نے تعمیل ارشادکے بعد سفیرروم کو رہاکرکے کہا کہ اپنے بادشاہ سے کہناکہ ہم نے اپنے سکے ڈھلواکررائج کردیے اورتمہارے سکہ کوغیرقانونی قراردے دیا اب تم سے جوہ وسکے کرلو۔
          سفیرروم یہاں سے رہاہ وکرجب اپنے قیصرکے پاس پہنچااوراس سے ساری داستان بتائی تووہ حیران رہ گیا،اورسرڈال کردیرتک خاموش بیٹھاسوچتارہا، لوگوں نے کہابادشاہ تونے جو یہ کہاتھا کہ میں مسلمانوں کے پیغمبرکو سکوں پرگالیاں کنداکرادوں گا اب اس پرعمل کیوں نہیں کرتے اس نے کہاکہ اب گالیاں کندا کرکے کیاکروں گااب توان کے ممالک میں میراسکہ ہی نہیں چل رہااورلین دین ہی نہیں ہورہا(حیواة االحیوان دمیری المتوفی ۹۰۸ ھ جلد ۱ طبع مصر ۱۳۵۶ ھ)۔
آپ کے بعض علمی ہدایات و ارشادات
          علامہ محمدبن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابرجعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام سے ملاتوآپ نے فرمایا اے جابرمیں دنیا سے بالکل بے فکرہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہو وہ دنیاکوکچھ نہیں سمجھتا،اور تمہیں معلوم ہوناچاہئے کہ دنیاچھوڑی ہوئی سواری اتاراہواکپڑا اور استعمال کی ہوئی عورت ہے مومن دنیاکی بقاسے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نورخدااس سے پوشیدہ نہیں ہوتا مومن کوتقوی اختیارکرناچاہئے کہ وہ ہروقت اسے متنبہ اوربیدارکھتاہے سنودنیاایک سرائے فانی ہے ’’نزلت بہ وارتحلت منہ “ اس میں آناجانالگارہتاہے آج آئے اورکل گئے اوردنیاایک خواب ہے جوکمال کے ماننددیکھی جاتی ہے اورجب جاگ اٹھے توکچھ نہیں …
          آپ نے فرمایا تکبربہت بری چیزہے ،یہ جس قدرانسان میں پیداہوگا اسی قدراس کی عقل گھٹے گی ،کمینے شخص کاحربہ گالیاں بکناہے ۔
          ایک عالم کی موت کوابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہتر سمجھتا ہے ایک ہزار عابد سے وہ ایک عالم بہتر ہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچارہاہو۔
میرے ماننے والے وہ ہیں جواللہ کی اطاعت کریں آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والا بخشاجاتاہے اورجس رخسارپر آنسوجاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
          سستی اور زیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے ۔
          خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کو چاہئے کہ اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہوں کومحفوظ رکھیں۔
          دعاسے قضابھی ٹل جاتی ہے ۔ نیکی بہترین خیرات ہے
          بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کواپنی آنکھ کی شہتیر دکھائی نہ دے،اور دوسرے کی آنکھ کا تنکانظرآئے ،یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اوردوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظر آئیں اور خودعمل نہ کرے، صرف دوسروں کوتعلیم دے۔
          جو خوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دور رہے ،وہ تمہارابھائی اور دوست نہیں ہے (مطالب السؤل ص ۲۷۲) ۔
          علامہ شبلنجی لکھتے ہیں کہ حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ جب کوئی نعمت ملے تو کہو الحمدللہ اورجب کوئی تکلیف پہنچے توکہو”لاحول ولاقوة الاباللہ“ اورجب روزی تنگ ہوتو کہو استغفراللہ ۔
          دل کو دل سے راہ ہوتی ہے،جتنی محبت تمہارے دل میں ہوگی ،اتنی ہی تمہارے بھائی اور دوست کے دل میں بھی ہوگی ۔
تین چیزیں خدا نے تین چیزوں میں پوشیدہ رکھی ہیں :
          ۱ ۔ اپنی رضااپنی اطاعت میں ،کسی فرمانبرداری کوحقیرنہ سمجھو شایداسی میں خداکی رضاہو۔
          ۲ ۔ اپنی ناراضی اپنی معصیت میں، کسی گناہ کومعمولی نہ جانو توشایدخدا اسی سے ناراض ہوجائے۔
          ۳ ۔  اپنی دوستی یااپنے ولی، مخلوقات میں کسی شخص کو حقیرنہ سمجھو، شایدوہی ولی اللہ ہو (نورالابصار ص ۱۳۱ ،اتحاف ص ۹۳) ۔
          احادیث آئمہ میں ہے امام محمدباقرعلیہ السلام فرماتے ہیں انسان کوجتنی عقل دی گئی ہے اسی کے مطابق اس سے قیامت میں حساب وکتاب ہوگا۔
          ایک نفع پہنچانے والاعالم سترہزارعابدوں سے بہترہے ،عالم کی صحبت میں تھوڑی دیربیٹھنا ایک سال کی عبادت سے بہترہے خدا ان علماء پر رحم و کرم فرمائے جواحیاء علم کرتے اور تقوی کو فروغ دیتے ہیں ۔
          علم کی زکواة یہ ہے کہ مخلوق خداکو تعلیم دی جائے ۔ قرآن مجید کے بارے میں تم جتناجانتے ہو اتناہی بیان کرو۔
          بندوں پرخداکا حق یہ ہے کہ جوجانتاہو اسے بتائے اورجو نہ جانتاہواس کے جواب میں خاموش ہوجائے ۔ علم حاصل کرنے کے بعداسے پھیلاو،اس لیے کہ علم کوبند رکھنے سے شیطان کاغلبہ ہوتاہے ۔
          معلم اورمتعلم کا ثواب برابرہے ۔  جس کی تعلیم کی غرض یہ ہوکہ وہ … علماء سے بحث کرے ،جہلا پررعب جمائے اورلوگوں کواپنی طرف مائل کرے وہ جہنمی ہے ،دینی راستہ دکھلانے والا اورراستہ پانے والا دونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابرہیں۔ جودینی راستہ دکھلانے والا اور راستہ پانے والا دونوں ثواب کی میزان کے لحاظ سے برابرہیں ۔
          جودینیات میں غلط کہتاہو اسے صحیح بنادو، ذات الہی وہ ہے، جوعقل انسانی میں نہ سماسکے اورحدودمیں محدودنہ ہوسکے ۔
          اس کی ذات فہم و ادراک سے بالاتر ہے خداہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، خداکی ذات کے بارے میں بحث نہ کرو،ورنہ حیران ہو جاؤگے ۔ اجل کی دو قسمیں ہیں ایک اجل محتوم،دوسرے اجل موقوف، دوسری سے خداکے سواکوئی واقف نہیں، زمین حجت خداکے سواکوئی واقف نہیں ،زمین حجت خداکے بغیرباقی نہیں رہ سکتی۔
          امت بے امام کی مثال بھیڑ کے اس گلے کی ہے،جس کا کوئی بھی نگران نہ ہو۔
          امام محمدباقرعلیہ السلام سے روح کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں پوچھاگیا توفرمایاکہ روح ہواکی مانندمتحرک ہے اوریہ ریح سے مشتق ہے ، ہم جنس ہونے کی وجہ سے اسے روح کہاجاتاہے یہ روح جو جانداروں کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے ،وہ تمام ریحوں سے پاکیزہ ترہے۔
…روح مخلوق اورمصنوع ہے اورحادث اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والی ہے۔
…وہ ایسی لطیف شئے ہے جس میں نہ کسی قسم کی گرانی اورسنگینی ہے نہ سبکی، وہ ایک باریک اوررقیق شئے ہے جوقالب کثیف میں پوشیدہ ہے،اس کی مثال اس مشک جیسی ہے جس میں ہوا بھردو،ہوا بھرنے سے وہ پھول جائے گی لیکن اس کے وزن میں اضافہ نہ ہوگا۔۔ روح باقی ہے اور بدن سے نکلنے کے بعد فنا نہیں ہوتی، یہ نفخ صور کے وقت ہی فناہوگی۔
آپ سے خداوندعالم کے صفات کے بارے میں پوچھاگیا توآپ نے فرمایا،کہ وہ سمیع و بصیر ہے اور آلہ سمع و بصرکے بغیرسنتا اور دیکھتاہے،رئیس معتزلہ عمربن عبیدنے آپ سے دریافت کیاکہ”من یحال علیہ غضبی“ ابوخالد کابلی نے آپ سے پوچھاکہ قول خدا”فامنواباللہ ورسولہ والنورالذی انزلنا“ میں،نورسے کیامرادہے؟آپ نے فرمایا”واللہ النورالائمة من آل محمد“ خداکی قسم نورسے ہم آل محمدمرادہیں۔
 آپ سے دریافت کیاگیاکہ یوم ندعواکل اناس بامامہم سے کون لوگ مرادہیں آپ نے فرمایاوہ رسول اللہ ہیں اوران کے بعدان کی اولادسے آئمہ ہوں گے، انہیں کی طرف آیت میں اشارہ فرمایاگیاہے جوانہیں دوست رکھے گااوران کی تصدیق کرے گاوہی نجات پائے گااورجو ان کی مخالفت کرے گاجہنم میں جائے گا، ایک مرتبہ طاؤس یمانی نے حضرت کی خدمت میں حاضرہوکریہ سوال کیاکہ وہ کونسی چیزہے جس کاتھوڑااستعمال حلال تھا اورزیادہ استعمال حرام،آپ نے فرمایاکہ وہ نہرطالوت کاپانی تھاجس کاصرف ایک چلو پیناحلال تھا اوراس سے زیادہ حرام پوچھا وہ کون ساروزہ تھاجس میں کھاناپیناجائزتھا،فرمایا وہ جناب مریم کا روزہ صمت تھا جس میں صرف نہ بولنے کاروزہ تھا ،کھاناپیناحلال تھا، پوچھا وہ کون سی شئے ہے جوصرف کرنے سے کم ہوتی ہے بڑھتی نہیں، فرمایاکہ وہ عمرہے ۔ پوچھاوہ کون سی شئے ہے جوبڑھتی ہے گھٹتی نہیں ،فرمایاوہ سمندرکاپانی ہے ،پوچھاوہ کونسی چیزہے جوصرف ایک باراڑی پھرنہ اڑی،فرمایاوہ کوہ طورہے جوایک بارحکم خداسے اڑکربنی اسرائیل کے سروں پرآگیاتھا۔ پوچھاوہ کون لوگ ہیں جن کی سچی گواہی خدانے جھوٹی قراردی،فرمایاوہ منافقوں کی تصدیق رسالت ہے جودل سے نہ تھی۔
          پوچھابنی آدم کا ۱/۳ حصہ کب ہلاک ہوا،فرمایاایساکبھی نہیں ہوا،تم یہ پوچھوکہ انسان کا ۱/۴ حصہ کب ہلاک ہواتومیں بتاؤں کہ یہ اس وقت ہواجب قابیل نے ہابیل کوقتل کیا،کیونکہ اس وقت چارآدمی تھے آدم،حوا،ہابیل اورقابیل ،پوچھاپھرنسل انسانی کس طرح بڑھی فرمایاجناب شیث سے جوقتل ہابیل کے بعدبطن حواسے پیداہوئے۔
امام محمدباقرعلیہ السلام کی شہادت
          آپ اگرچہ اپنے علمی فیوض وبرکات کی وجہ سے اسلام کوبرابرفروغ دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود ہشام بن عبدالملک نے آپ کو زہرکے ذریعہ شہیدکرا دیا اورآپ بتاریخ ۷/ ذی الحجہ ۱۱۴ ھ یوم دوشنبہ مدینہ منورہ میں انتقال فرما گئے اس وقت آپ کی عمر ۵۷/ سال کی تھی آپ جنت البقیع میں دفن ہوئے (کشف الغمہ ص ۹۳ ،جلاء العیون ص ۲۶۴ ،جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ ص ۴۴۹ ،انوارالحسینہ ص ۴۸ ، شواہدالنبوت ص ۱۸۱ ، روضة الشہداء ص ۴۳۴) ۔
          علامہ شبلنجی اورعلامہ ابن حجرمکی فرماتے ہیں ”مات مسموماکابیہ“ آپ اپنے پدربزرگوار امام زین العابدین علیہ السلام کی طرح زہر سے شہیدکردیئے گئے (نورالابصار ص ۳۱ ،صواعق محرقہ ص ۱۲۰) ۔
          آپ کی شہادت ہشام کے حکم سے ابراہیم بن ولید والی مدینہ کی زہر خورانی کے ذریعہ واقع ہوئی ہے ایک روایت میں ہے کہ خلیفہ وقت ہشام بن عبدالملک کی مرسلہ زہرآلود زین کے ذریعہ سے واقع ہوئی تھی (جنات الخلودص ۲۶ ،دمعہ ساکبہ جلد ۲ ص ۴۷۸) ۔
          شہادت سے قبل آپ نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے بہت سی چیزوں کے متعلق وصیت فرمائی اور کہا کہ بیٹا میرے کانوں میں میرے والد ماجد کی آوازیں آرہی ہیں وہ مجھے جلدبلا رہے ہیں (نورالابصار ص ۱۳۱) ۔ آپ نے غسل و کفن کے متعلق خاص طور سے ہدایت کی کیونکہ امام راجز امام نشوید امام کوامام ہی غسل دے سکتا ہے (شواہدالنبوت ص ۱۸۱) ۔
          علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنی وصیتوں میں یہ بھی فرمایا کہ ۸۰۰/ درہم میری عزاداری اور میرے ماتم پرصرف کرنا اور ایسا انتظام کرناکہ دس سال تک منیٰ میں بزمانہ حج میری مظلمومیت کا ماتم کیاجائے (جلاء العیون ص ۲۶۴) ۔
          علماء کابیان ہے کہ وصیتوں میں یہ بھی تھا کہ میرے بندہائے کفن قبر میں کھول دینا اورمیری قبر چارانگل سے زیادہ اونچی نہ کرنا(جنات الخلود ص ۲۷) ۔


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و یکم مهر 1392 توسط ارشادحسین مطهری

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ تکفیری گروپوں کی طرف سے تین عظیم خطرات اسلام، امت مسلمہ اور انسانیت کو لاحق ہیں؛ علمائے اسلام کے ان کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہئے/ جہاد النکاح کا فتوی اسی گروپ کے علماء کی طرف سے سامنے آیا؛ علمائے اسلام اس مسئلے پر خاموش کیوں ہوئے؟ 

 تکفیری تفکرات اسلام کے لئے تین خطرات کا باعث/ جہاد النکاح کا فتوی ایک عظیم رسوائی

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مرجع تقلید آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے آج فقہ کے درس خارج کے دوران قم المقدسہ کی مسجد اعظم میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت باقر العلوم (علیہ السلام) کی شہادت کے موقع تعزیت پیش کی اور تکفیریوں کے کرتوتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گوکہ تکفیری گروپ ایک اقلیتی گروپ ہے لیکن ان کے کرتوت پہلے مرحلے میں مسلمانوں کے لئے خطرے کا سبب ہیں اور ہر روز بےگناہ انسانوں کو خون میں تڑپایا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا: تکفیری شیعہ اور سنی پر رحم نہیں کرتے اور بغیر کسی دلیل و منطق کے بےگناہ انسانوں کا خون بہاتے ہیں۔
آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے کہا: تکفیری تفکرات کے پیروکار گروپوں سے دوسرا بڑا خطرہ اسلام اور عالم اسلام کو لاحق ہے کیونکہ ان گروپوں کے کرتوتوں کی وجہ سے اسلام کا تابندہ چہرہ تاریک کیا جارہا ہے اور اسلام کو ایک تشدد آمیز مذہب کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا: رسول اللہ(ص) رحمت اور مہربانی کے پیغمبر ہیں لیکن تکفیریوں نے اسلام کی قوت جاذبہ کو دافعہ میں تبدیل کردیا ہے اور یہی دشمنان اسلام کے لئے بہانہ اور دستاویز ہے تا کہ وہ دنیا میں اسلام کے خلاف ہونے والے اقدامات کو فروغ دے سکیں۔
انھوں نے کہا: تکفیریوں کا تیسرا خطرہ عالم انسانیت کو لاحق ہے اور وہ یہ ہے کہ تکفیریوں نے ہر علاقے کو بدامنی سے دوچار کیا اور بنی نوع انسانی کے لئے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں اور ہمیں ان تفکرات کے پیروکاروں کے سامنے خاموش نہیں ہونا چاہئے۔
آیت اللہ العظمی نے "اسلام، مسلمانوں اور عالم انسانیت کے لئے تکفیریوں کے خطرات اور سد باب کی روشیں" کے عنوان سے مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہم یہ کانفرنس اگلے سال شہر مقدس قم میں منعقد کررہے ہیں اور اس میں عالم اسلام کے علماء شرکت کریں گے؛ خوش قسمتی سے اس کانفرنس کا اچھا خاصا خیر مقدم ہوا ہے اور اس کانفرنس کا مقدماتی (تمہیدی) اجلاس بھی پرشکوہ انداز سے منعقدہ کیا گیا جس میں شیعہ اور سنی علماء نے بھرپور شرکت کی۔
انھوں نے کہا: مقدماتی اجلاس کے انعقاد کے بعد وہابیوں سے متعلق ویب سائٹوں اور ٹی وی نیٹ ورکس نے اپنی تشہیری مہم کو شدت بخشتے ہئے کہا کہ شیعیان آل رسول(ص) اہل سنت کو کچل دینا چاہتے ہیں!
انھوں نے ان پراپیگنڈوں کو بےبنیاد قرار دیا اور کہا: اس اجلاس اور آنے والی کانفرنس کا ہرگز اہل سنت کو کچلنے سے تعلق نہیں ہے اور ہم نے اس کانفرنس میں شرکت کے لئے اہل سنت کے علماء کو دعوت دی ہے اور ان کی طرف دوستی کا ہاتھ پھیلا دیا ہے اور بھی ایسے ہی لوگ ہیں۔
انھوں نے کہا: وہابیت کے بھی دو شعبے ہیں: تکفیری اور غیر تکفیری؛ ہم غیر تکفیریوں کے ساتھ بحث و مذاکرہ بھی کرسکتے ہیں تا ہم تکفیری شعبہ بہت خطرناک ہے اور اپنے سوا اہل سنت سمیت تمام مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔
انھوں نے وہابی گروپوں سے مخاطب ہوکر کہا: تنازعات سے پرہیز کرو۔ ہم نے اعلان کیا ہے کہ ہمارا اختلاف صرف تکفیریوں سے ہے اور دوسروں کے ساتھ ہمارا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور حتی کہ ہمارا اصرار ہے کہ تکفیریوں کو بھی راہنمائی اور ہدایت دینا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا: ہم نے اس کانفرنس کے لئے دعوت عام دی ہے؛ عالم اسلام کو اس طرح کے تفکرات اور ان کے پیروکاروں کے کرتوتوں پر خاموشی نہیں اختیار نہیں کرنی چاہئے؛ کیونکہ آج ہمیں عالم اسلام اور امت و دین اسلام کو خطرات درپیش ہیں؛ ہم اہل سنت کے علماء کی مدد سے دنیا کو بتائیں گے کہ اسلام ان وحشیانہ اقدامات سے بیزار اور بری الذمہ ہے۔
انھوں نے تکفیری ٹولوں کے علماء کی طرف سے دیئے جانے والے جہاد النکاح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسی گروہ کے علماء کی طرف سے دیا جانے والا جہاد النکاح کا فتوی ایک عظیم رسوائی، تھا؛ علمائے اسلام کو اس قسم کے اقدامات پر کیوں خاموش ہونا چاہئے؟!
انھوں نے کہا: ہمیں امید ہے کہ "اسلام، مسلمانوں اور عالم انسانیت کے لئے تکفیریوں کے خطرات اور سد باب کی روشیں" کے عنوان سے مجوزہ بین الاقوامی کانفرنس تاریخ اسلام کی زندہ جاوید کانفرنس کے طور پر ابھرے۔


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه چهارم مهر 1392 توسط ارشادحسین مطهری

جہاد النکاح کاشکار خواتین روزانہ 20 سے 100 دہشت گردوں کی درندگی کا نشانہ/ وزير مذہبی امور پر مقدمہ

تیونس کی ائمہ جمعہ و جماعت یونین نے تیونس کے مذہبی امور کے وزير پر، جہاد نکاح کے حامی مفتیوں کی حمایت کے الزام میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ یونین عنقریب عدالت میں اس سلسلے میں پٹیشن دائر کرے گی۔ 

 جہاد النکاح کاشکار خواتین روزانہ 20 سے 100 دہشت گردوں کی درندگی کا نشانہ/ وزير مذہبی امور پر مقدمہ

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تیونس کی ائمہ جمعہ و جماعت یونین کے سیکرٹری جنرل "فاضل عاشور" نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ مذکورہ یونین نے وزیر مذہبی امور نور الدین الخادمی پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں جہاد النکاح کا فتوی دینے والے مفتیوں کی حمایت کے الزام میں عدالت لے جایا جائے گا؛ کیونکہ ان فتوؤں کی وجہ سے بہت سی تیونسی خواتین جہاد النکاح کی غرض سے شام گئی ہیں اور وہاں سے حاملہ ہو کر آئی ہیں لیکن انہین یہ نہیں معلوم کہ ان کے بچوں کا باپ کون ہے؟
فاضل عاشور نے کہا: مذہبی امور کی وزارت، مساجد اور قرآنی مدارس کے انتظام میں ناکام ہوچکی ہے اور اب تیونس کی ائمہ جمعہ و جماعت یونین ایک کمیٹی تشکیل دینے کا ارادہ رکھتی ہے جس کا مقصد "وہابیت کو "نہ" کہنا ہے"۔ 
تیونس کے وزير داخلہ"لطفی بن جدو" نے حال ہی مین کہا ہے کہ تیونس کی متعدد لڑکیاں شام میں جہاد النکاح کرنے کے بعد حاملہ ہوک کر تیونس واپس آئی ہیں۔
انھوں مجلس مؤسسین (پارلیمان) سے خطاب کرتے ہوئے کہا: تیونس سے شام جانے والی ہر لڑکی روزانہ جبہۃالنصرہ کے 20 سے لے کر 100 تک وہابی دہشت گردوں کے ساتھ ہمبستر ہوتی رہی ہے اور ان سے حاملہ ہوکر ملک واپس آچکی ہیں۔  
جہاد النکاح نامی وہابی بدعت اور تیونسی نوجوانوں کی شام اسمگلنگ حالیہ مہینوں میں تیونس کے عوام کی پریشانی کا سبب بنی ہوئی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ تیونس کے 12 ہزار نوجوان قطر اور سعودی عرب کے خرچے اور ترکی کی خفیہ ایجنسی کے تعاون سے شام پہنچائے گئے ہیں جہاں وہ شام کے عوام، حکومت اور افواج کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اب تک ان میں سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
تیونس سے آئے ہوئے افراد کی زیادہ تر تعداد القاعدہ سے وابستہ ٹولوں کی سرکردگی میں دہشت گردی میں مصروف ہے جن کے اڈے ترکی سے ملی ہوئی شامی سرحدوں کے قریب واقع ہوئے ہیں۔


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه چهارم مهر 1392 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: آئی ٹی پی گلگت ڈویژن کے زیراہتمام مقامی ہوٹل میں علامہ ساجد نقوی کی صدارت میں منعقد ہونیوالی کانفرنس سے مختلف سیاسی و مذہبی راہنماوں نے خطاب کیا۔


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه چهارم مهر 1392 توسط ارشادحسین مطهری

بڑی طاقتیں ایران کیساتھ دھونس اور دھمکی کی زبان میں بات نہ کریں، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز: تہران میں ہفتہ دفاع مقدس کے آغاز کی تقریب سے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ انکا ملک اپنے ایٹمی معاملے کو حل کرنے کے لئے مغرب سے کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کرنے کو تیار ہے۔
بڑی طاقتیں ایران کیساتھ دھونس اور دھمکی کی زبان میں بات نہ کریں، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ مغرب کو چاہیے کہ وہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو ملت ایران کے مسلم حق کی حیثیت سے تسلیم کرلے۔ ایرانی صدر نے اتوار کے روز رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی قدس سرہ کے مزار پر ایران کے ہفتہ دفاع مقدس کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کو چاہیے کہ وہ ایران کے تمام ایٹمی حقوق منجملہ ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کو عالمی قوانین کے تحت تسلیم کرلے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو جان لینا چاہیے کہ ایران ساری دنیا کو صلح و دوستی اور علاقائی نیز عالمی مسائل کو تعاون اور مل جل کر حل کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی جمہوری ایران اپنے ایٹمی معاملے کو حل کرنے کے لئے مغرب سے کسی پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کرنے کو تیار ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مدمقابل کو برابری اور احترام کے اصول نیز دوطرفہ مفادات کے تناظر میں مذاکرات کرنے چاہیں۔ 

ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران ایک بڑا اور انقلابی تہذیب و تمدن کا حامل ملک ہے، اسی وجہ سے ہم دنیا کی بڑی طاقتوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ملت ایران کے ساتھ طاقت اور دھمکیوں کی زبان استعمال نہ کریں کیونکہ دھمکیاں، جنگ اور سفارتکاری ایک ساتھ کوئی معنی نہیں رکھتیں اور کوئی بھی آزاد منش اور اہل منطق قوم، دھمکیوں اور سفارتکاری کو اکٹھے ہرگز قبول نہیں کرتی۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ملت ایران صرف ترقی کی خواہاں ہے اور عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں چاہتی، اسی لئے اس نے ہمیشہ این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں قدم اٹھایا ہے اور اس پر کاربند ہیں۔ ایرانی صدر نے عراق کی طرف سے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کا دوبارہ جائزہ لئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا کہ انقلاب کے دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ایک ڈکٹیٹر کو اکسا کر اور اس کی مالی اور فوجی حمایت کرکے ایک عظیم دینی اور عوامی انقلاب کو تباہ کرسکتے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے دشمنوں نے صدام کی حکومت کو جو سیاسی، انٹیلیجنس اور مالی امداد منجملہ کیمیاوی ہتھیار دیئے تھے وہ نہ صرف ملت ایران کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور نہ کرسکے بلکہ دشمن ہماری ایک بالشت زمین پر بھی قبضہ باقی نہ رکھ سکا۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے تاکید کی کہ گرچہ مسلط کردہ جنگ سے ایران اور عراق کو بے پناہ مالی نقصان ہوا ہے لیکن اسلامی انقلاب کے دشمن اس طرح سے بھی اسلامی انقلاب کو منحرف کرنے کے مذموم اھداف تک نہيں پہنچ سکے۔ حسن روحانی نے کہا کہ ایران نے گذشتہ دو سو برسوں میں کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا ہے اور ایرانی قوم کبھی بھی جارحانہ عزائم اور استعماری اہداف کی حامل نہیں رہی ہے، لیکن ہم ایک لمحہ بھی دشمنوں کے مقابل خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہمیشہ اپنی آزادی، عزت، شرف اور ارضی سالمیت کا بھرپور دفاع کریں گے۔

اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے بعض ممالک کی جانب سے دہشتگردوں کی مالی اور فوجی حمایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے مسلط کردہ جنگ کے دوران صدام کی حمایت کرکے دشمنان انقلاب کو کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا تھا، اسی طرح سے علاقے میں آج دہشتگردوں کی حمایت کرنے والوں کو خطرناک نتائج کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایران کی مسلح افواج کو علاقے میں امن و استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کے دعوے کے برخلاف جو ایران کو ہمسایہ اور دیگر ممالک کے لئے خطرہ قررار دے رہے تھے، وہ حکومت یعنی غاصب اسرائیل، علاقے کے لئے خطرہ ہے، جس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہيں اور جو عالمی قوانین کی بھرپور مخالفت کرتی ہے۔ 

ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران جنگ کے خلاف ہے اور جنگ پسندوں کو یہ نصیحت کرتا ہے کہ علاقے میں ایک اور جنگ چھیڑ نے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ انہیں اس کے نتائج سے پشیمانی کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ایرانی صدر نے خطے منجملہ شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کو جنگ سے حل نہیں کیا جاسکتا اور بحرانوں کا واحد راہ حل باہمی تعاون اور ملکوں کا ہماھنگی کے ساتھ مل جل کر کام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو مل کر شام کے حلاف جنگ کا سدباب اور شام کے عوام کی خواہشتات کے مطابق مذاکرات منعقد کرانے کی کوشش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران کی مسلح افواج ڈیٹیرینٹ طاقت کی حامل ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ عشق وطن سے سرشار، ہوشیاری اور عالمی مسائل سے آگاہ نیز جدید ترین سازوسامان سے لیس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج اپنی قوم کا دفاع کرنے کے لئے ہمہ تن آمادہ ہیں، جو انہیں اپنا ہی حصہ سمجھتی ہے اور تمام مشکلات و مسائل کے باوجود ولی فقیہ کی ھدایات کے زیر سایہ اسلامی انقلاب کے مستقبل کو تابناک دیکھ رہی ہے۔


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه چهارم مهر 1392 توسط ارشادحسین مطهری

ایٹمی مسئلے کا سادہ ترین حل ایران کے مسلمہ، فطری اور قانونی حق کو قبول کیا جانا ہے، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز: گذشتہ رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ان چند سالوں میں مسلسل ایک آواز سنائی دیتی رہی کہ جنگ کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن آج مجھے اس غیر قانونی اور فضول بات کی بجائے کہنے دیں کہ صلح ہماری دسترس میں ہے۔
ایٹمی مسئلے کا سادہ ترین حل ایران کے مسلمہ، فطری اور قانونی حق کو قبول کیا جانا ہے، ڈاکٹر حسن روحانی
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اقوام عالم کو پائیدار امن کے قیام کے لئے باہمی اتحاد و اتفاق کی دعوت دی۔ وہ گذشتہ رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے تھے۔ ایرانی صدر نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ ہم دنیا کے مختلف علاقوں میں جنگ کے آپشن کی بجائے پوری دنیا میں پائیدار صلح کے قیام کی خاطر متحد ہونے کے آپشن پر غور و فکر کریں۔ انہوں نے کہا کہ پابندیاں انسانیت کے مسلمہ حقوق منجملہ صلح و امن، ترقی اور پیشرفت، صحت تک رسائی، تعلیم اور ان سب سے بڑھ کر زندہ رہنے جیسے حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ہر طرح کی پابندیوں کا نتیجہ اور ہر طرح کی لفظی جنگ اور مختلف الفاظ سے کھیلنے کا نتیجہ صرف اور صرف آگ کو بھڑکانا، جنگ طلبی اور انسانوں کی نابودی ہے۔ یہ آگ صرف پابندیوں کی زد میں آئے ہوئے افراد کے دامن میں نہیں لگتی بلکہ پابندیاں عائد کرنے والے ممالک کی عوام کی زندگیوں اور اقتصاد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی کے فرمان کے مطابق اس مسئلہ کا سادہ ترین حل ایران کے اس مسلمہ، فطری اور قانونی حق کو قبول کیا جانا ہے۔ یہ ایک سیاسی نعرہ نہیں ہے بلکہ ایران میں ٹیکنالوجی کی موجودہ صورتحال کی شناخت، بین الاقوامی صورتحال، حاصل جمع صفر کے کھیل کے خاتمے اور باہمی اتفاق اور امن و امان تک پہنچنے کے لئے مشترکہ اہداف اور منفعت کے حصول پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایٹمی اسلحہ اور قتل عام کے لئے ایران کی دفاعی ڈاکٹرائن میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ بات ہمارے مذہبی اور اخلاقی اعتقادات کے منافی ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان تناو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ ایران باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دوسرے ممالک کے ساتھ تعمیری بات چیت کا خواہاں ہے اور اس فریم ورک کی وجہ سے امریکہ کے ساتھ کشیدگی کو بڑھانا نہیں چاہتا۔ 

ایرانی صدر نے اس بات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ انہوں نے باراک اوبامہ کی تقریر کو بہت دقت سے سنا ہے کہا کہ امریکی رہنماوں کی جانب سے سیاسی عزم کے اظہار اور عسکریت پسند گروہوں کے مفادات کے حصول سے خودداری برتنے کی صورت میں اختلافات کا راہ حل ڈھونڈنے کے لئے فریم ورک بنایا جاسکتا ہے اور اس فریم ورک میں ضروری ہے کہ باہمی احترام، برابری کے موقف اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کو بنیاد بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان چند سالوں میں مسلسل ایک آواز سنائی دیتی رہی کہ جنگ کا آپشن استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن آج مجھے اس غیر قانونی اور فضول بات کی بجائے کہنے دیں کہ صلح ہماری دسترس میں ہے۔

اسلامی جمہوری ایران کے صدر نے افغانستان میں فوجی مداخلت، صدام کی جانب سے ایران پر جنگ مسلط کئے جانے، کویت پر قبضے، عراق میں فوجی مداخلت، فلسطینی عوام پر ظلم و تشدد، ایران میں سیاسی اور عام افراد کی ٹارگٹ کلنگ اور خطے کے ممالک یعنی عراق، افغانستان اور لبنان میں بم دھماکوں کو شدت پسندی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ آج جو کچھ فلسطین کی عوام کے ساتھ ہو رہا ہے وہ شدت پسندی کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے، فلسطین کی سرزمین پر قبضہ ہے اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق شدت سے پامال کئے جا رہے ہیں اور وہ اپنے گھر، جائے پیدائش اور مادر وطن سے بھی محروم ہیں۔

انہوں نے شام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کی ابتدا سے اور اس وقت جب خطے کے اور چند بین الاقوامی بازیگروں نے شدت پسند گروہوں کو مسلح کرنے، انہیں جنگی ساز و سامان اور اطلاعات فراہم کرنے اور اس مسئلے کے فوجی حل کی کوششیں شروع کیں، تو ہم نے اس بات کی تاکید کی تھی کہ شام کے مسئلے کا راہ حل جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر طرح کے کیمیاوئی ہتھیاروں کے استعمال کی پر زور مذمت کرتے ہوئے، شام کی جانب سے اینٹی کیمیاوئی ہتھیار کنونشن کے قبول کئے جانے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہیں اور ہمیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ شدت پسند گروہ اور دہشتگردوں کی ان ہتھیاروں تک رسائی سے اس پورے خطے کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه چهارم مهر 1392 توسط ارشادحسین مطهری


طالبان کیخلاف فوجی آپریشن ہی پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کا واحد حل ہے، مولانا شیخ حسن صلاح الدین
اسلام ٹائمز: بزرگ عالم دین و ایم ڈبلیو ایم پاکستان کی مرکزی شوریٰ عالی کے سربراہ نے ”اسلام ٹائمز“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح صیہونیوں سے مذاکرات کرکے فلسطینی حکومتوں کو کچھ نہیں ملا، نواز حکومت کو بھی تکفیری دہشت گرد طالبان سے مذاکرات کرکے کچھ حاصل نہیں ہوگا کیونکہ صیہونی ہوں یا طالبان دونوں کی منطق و فکر ایک ہی ہے، یعنی طاقت و جبر کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنا۔
طالبان کیخلاف فوجی آپریشن ہی پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کا واحد حل ہے، مولانا شیخ حسن صلاح الدین
اسلام ٹائمز: سعودی مفتیوں کی جانب سے دیئے گئے جہاد النکاح کے بارے میں دیئے گئے فتویٰ پر کیا کہیں گے کہ جس کے تحت اسلام کے بنیادی تصور نکاح سمیت روح جہاد و اسلام کے روشن چہرے کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی۔؟ مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاد النکاح کا فتویٰ بھی دراصل ان متعدد فتووں میں سے ایک فتویٰ ہے جو اسلامی قواعد و ضوابط و تعلیمات کے مطابق نہیں ہیں، کیونکہ اس سے پہلے بھی متعدد بار اس قسم کے بے بنیاد فتاویٰ دیئے جاچکے ہیں، لہٰذا یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ تاریخ اسلام میں ہمیں اس قسم کے جہاد کی مثال نہیں ملتی۔ رسول اکرم (ص) کا زمانہ ہو یا خلفائے راشدین کا دور، ہمیں اس قسم کے نکاح کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ شام میں کیا واقعی جہاد ہو رہا ہے کہ جس کیلئے جہاد النکاح کا فتویٰ دیا گیا۔ شام میں تو جہاد ہو ہی نہیں رہا ہے بلکہ شام میں جہاد کے نام پر دنیا کے 80 سے زائد ممالک سے آئے ہوئے بیرونی تکفیری سلفی دہشت گردوں نے شامی معصوم عوام پر دہشت گردی، ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے اور خطے میں اسرائیل مخالف واحد ریاست کے خلاف ان بیرونی دہشت گرد باغیوں کو امریکہ و اسرائیل اور انکے اتحادی مغربی و عرب ممالک کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔
 
اس پر ان دہشت گردوں کا دعویٰ ہے کہ وہ شام میں اسلامی حکومت کے قیام کیلئے لڑ رہے ہیں، تو کیا جن ممالک سے، خصوصاً جن عرب ممالک سے ان دہشت گردوں کو شام میں لایا گیا ہے، کیا ان عرب ممالک میں یہ دہشت گرد اسلامی حکومت نافذ کرچکے ہیں، کیا افغانستان میں حکومت اسلامی کا قیام عمل میں لاسکے، یہ اپنے ممالک میں پہلے اسلامی نظام نافذ کیوں نہیں کرتے۔ یہ حقیقت اب پوری دنیا پر عیاں ہوچکی ہے کہ دنیا کے 80 سے زائد ممالک سے آئے ہوئے تکفیری دہشت گرد شام کی عوام اور حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں، یعنی ایک طرف شامی عوام اور انکی حمایت یافتہ بشار الاسد حکومت ہے اور دوسری طرف یہ تکفیری بیرونی دہشت گرد ہیں، جنہیں امریکہ و اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہے، دنیا جان چکی ہے کہ ان تکفیری دہشت گردوں کو شام کے اندر امریکہ اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ لہٰذا جب شام میں جہاد ہی نہیں ہو رہا ہے کہ تو اس جہاد النکاح کی شرعی حیثیت کیسے ہوسکتی ہے۔ لہٰذا جہاد کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے، جوانوں خصوصاً لڑکیوں کو دھوکہ دینے کیلئے بعض خدا سے ناآگاہ مفتیوں نے یہ جہاد النکاح کا فتویٰ دیا ہے، اس کی کوئی اسلامی اساس و بنیاد نہیں ہے۔

اسلام ٹائمز: گذشتہ روز پشاور کے ایک گرجا گھر کو تکفیری طالبان دہشت گردوں نے خودکش حملے کے ذریعے نشانہ بنایا، اس طرح کے دہشت گردانہ واقعات کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟ مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین: سب سے پہلے تو ہم ملت تشیع پاکستان کی جانب سے مسیحی برادری کو نشانہ بنانے کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام و پاکستان دشمن طالبان تکفیری دہشت گرد عناصر کی ان دہشتگردانہ کارروائیوں کا مقصد اسلام اور مملکت عزیز پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنا ہے۔ یہ دہشت گرد شروع دن سے ہی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں، یہ تکفیری دہشت گرد پاکستان کو ناکام ریاست بنانے کی سازشیں کر رہے ہیں اور ان تمام سازشوں میں تکفیری و طالبان دہشت گردوں کو امریکہ، اسرائیل و بھارت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں سے یہ لوگ اس پیغام کو دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے لوگ ایک ساتھ امن و سکون کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ یہ تنگ نظر تکفیری طالبان دہشت گرد اپنی فکر کے مخالف ہر مذہب و مسلک کے خلاف ہیں، انہوں نے اہل تشیع، اہلسنت بریلوی مکتب فکر یہاں تک کہ دیوبندی شخصیات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

اسلام ٹائمز: ایک حلقے کا کہنا ہے کہ سانحہ پشاور کا مقصد طالبان کے ساتھ حکومتی مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے، اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے۔؟ مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین: اصل میں یہ تاثر وہ لوگ دے رہے ہیں جو شروع دن سے ہی طالبان کے حامی ہیں اور حکومت سے مذاکرات کے نتیجے میں ملک میں طالبان کی اجارہ داری چاہتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ شیعہ سنی و دیگر مکاتب فکر اور مذاہب کو نشانہ بنانے کا مقصد ملک میں فرقہ واریت پھیلانا ہے، آپس میں نفرتیں پھیلانا ہے، تاکہ ملک کی جڑوں کو کمزور کرکے اس کی سلامتی و بقاء کو نقصان پہنچایا جائے۔ مگر طالبان کے حمایتیوں نے کبھی بھی انہیں دہشت گردانہ کارروائیوں سے روکنے کی کوششیں نہیں کی۔ یہ تکفیری طالبان اصل میں مذاکرات سے نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے پاکستان پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: آپنے کہا کہ کچھ جماعتیں طالبان کی حامی ہیں، اسی تناظر میں کہا جا رہا ہے کہ جماعت اسلامی طالبان کی ترجمانی اور دفاع شروع کرچکی ہے اور جماعت اسلامی کے سربراہ منور حسن نے ایک سیمینار میں کہا کہ طالبان کیسے سیز فائر کرسکتے ہیں جبکہ پاکستانی فوج کے حملے جاری ہیں، کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ آپ جماعت اسلامی کی طالبان حمایت پالیسی کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؟
مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین: ہم مجموعی طور پر جماعت اسلامی کے بارے میں مثبت رویہ رکھتے ہیں، بطور خاص مرحوم قاضی حسین احمد کے زمانہ، جس میں انہوں نے اصلاح اور مصالحت کے بارے میں بہت کام کیا اور ہمارے عمائدین نے بھی بہت ساتھ دیا اور اس حوالے سے ساتھ دیتے رہینگے۔ یہ ایک کلّی نظریہ ہے۔ لیکن جماعت اسلامی کے بعض موقف ہیں پاکستان کے اندر اور بیرون ملک، ان موقف کی تائید میں ہم کوئی معقول دلیل نہیں پاتے۔ لہٰذا جماعت اسلامی کے بعض موقف پر ہمارے تحفظات ہیں، جس میں سے ایک انکا طالبان کی حمایت کرنا ہے۔ جیسا کہ آپ نے کہا کہ انہوں نے بیان دیا کہ طالبان کیسے سیز فائر کرسکتے ہیں، تو دیکھیں اس حوالے سے جماعت اسلامی کا معقول موقف تو یہ ہونا چاہئیے تھا کہ دونوں طرف سے سیز فائر ہونا چاہئیے، اگر آپ واقعی مصالحت کار ہیں۔ دیکھیں یہاں طالبان اور القاعدہ کے حامی اور ہم خیال ہیں، اسلامی تعلیمات کے مطابق یہ لوگ باغی ہیں۔ میں یہ نہیں کہ سکتا کہ پاکستان میں اسلامی حکومت ہے مگر یہاں مسلمانوں کی حکومت ہے، یہاں جو بھی مال و زمین ہے، ادارے ہیں یا جو کچھ بھی ہے وہ سب مسلمانوں سے وابستہ ہے۔ پاکستان میں جتنے ادارے ہیں یہ سب مسلمانوں کے ہیں، چاہئیے وہ پولیس ہو یا فوج، ایجنسیز بھی بہرحال نظام کے مطابق مسلمانوں کی حفاظت و تحفظ کیلئے ہے۔ اب یہ اسلامی حکومت ہے یا نہیں، یہ دوسرا مسئلہ ہے مگر مسلمانوں کی حکومت تو ہے۔
 
اس طرح طالبان نے مسلمانوں کی حکومت کے خلاف بغاوت کی ہے یعنی مسلمانوں کے خلاف بغاوت کی ہے، تو یہ باغی گروہ ہے۔ لہٰذا باغیوں سے مذاکرات کے وقت یہ ہونا چاہئیے تھا کہ حکومت پہلے یہ شرط لگاتی کہ ہم طالبان سے جب مذاکرات کرینگے جب وہ ہتھیار ڈالیں گے، دہشت گردی بند کرے، یعنی کم سے کم پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ طالبان اعلان کریں کہ ہم اور حملے نہیں کرینگے۔ دوسرا قدم یہ ہونا چاہئیے کہ طالبان سارا اسلحہ حکومت کے حوالے کریں۔ تو یہ طالبان کے حمایتی لوگ حکومت اور طالبان کو ایک برابر سمجھتے ہیں اور طالبان جو خودکش حملوں اور دہشت گردی کے نتیجے میں بے گناہ عوام کو نشانہ بناتے ہیں، اس میں طالبان کو حق بجانب سمجھتے ہیں۔ لہٰذا جماعت اسلامی کے طالبان حمایت کے موقف پر ہم تحفظات رکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ شام کے حوالے سے بھی جو موقف رکھتے ہیں اس پر بھی ہمارے تحفظات ہیں، شام میں بھی وہ باغی دہشت گردوں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ شام میں دہشت گردوں کو امریکی و سعودی سرپرستی حاصل ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی امریکا اور سعودی عرب کو مصر کے مسئلے میں تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔ 

جماعت اسلامی ایک طرف تو مصر میں عوام کی حمایت کا نعرہ لگاتی ہے مگر وہ شام اور بحرین میں کیوں عوام کی حمایت کیلئے آواز بلند نہیں کرتی۔ کیا جماعت اسلامی کو شام میں 80 سے زائد ممالک سے آنے والے بیرونی تکفیری دہشت گرد شامی عوام نظر آتے ہیں۔ کیا شام میں انہوں نے حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے دیکھے ہیں۔ جبکہ شام میں قبائلی نظام ہے اور انکی اکثریت اہلسنت ہیں، مگر انہوں نے کبھی بشار حکومت کے خلاف مظاہرے نہیں کئے بلکہ وہ شامی حکومت کے ساتھ ہیں۔ اچھا اگر آپ مصر میں عوام کے ساتھ دے رہے ہیں تو بحرینی عوام کی حمایت میں کیوں بڑی بڑی ریلیاں نہیں نکال رہے، کیوں مہم نہیں چلا رہے ہیں۔ کیوں جماعت اسلامی بحرین میں وہاں کی نہتی عوام پر ظلم و ستم کرنے والی سعودی افواج کی بحرین سے انخلاء کا مطالبہ نہیں کرتی۔

اسلام ٹائمز: تو کیا آپ سمجھتے پاکستان سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے طالبان کیخلاف آپریشن ہی واحد حل ہے۔؟ مولانا شیخ محمد حسن صلاح الدین: دیکھیں نظریاتی طور پر دو مسئلے ہیں، صلح یا جنگ۔ تو ہم نظریاتی طور پر صلح چاہتے ہیں۔ کسی صورت میں بھی ہم جنگ نہیں چاہتے۔ حتیٰ دشمن کے ساتھ بھی ہم جنگ نہیں چاہتے۔ آپس میں معاہدہ ہو، دونوں امن و سلامتی کے ساتھ رہیں۔ ہم اصولی طور پر صلح و صفائی کے حامی ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال میں مسئلہ یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ صلح اور مذاکرات ممکن ہیں یا نہیں۔ صلح تو ہونا چاہئیے مگر مذاکرات کے ذریعے یا طاقت کے استعمال سے۔ کئی دہائیوں سے طالبان کی دہشت گردی و بربریت، انکی وحشی گری اور اقدامات جو سب کے سامنے ہیں، انکی روشنی میں، میں سمجھتا ہوں کہ طالبان مذاکرات کے اہل ہی نہیں ہیں، کیونکہ انکی منطق طاقت، دہشت گردی، خودکش حملے، بم دھماکے ہیں۔ لہٰذا یہ لوگ مذاکرات کے اہل نہیں بلکہ ان کے خلاف بھرپور طاقت کا استعمال کرنا چاہئیے۔ 

یہ بالکل وہی مسئلہ ہے کہ جو فلسطین اور صیہونیوں کے درمیان کا مسئلہ ہے۔ فلسطین میں بھی اب صلح کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کئی دہائیوں سے وہاں بھی مزاکرات کا سلسلہ جاری ہے مگر وہاں بھی مزاکرات سے ابھی تک سوائے نقصان کے کچھ نہیں ملا۔ وہاں بھی صیہونیوں کی منطق طاقت ہے کہ جس کے ذریعے وہ اپنی مرضی مسلط کرنا چاہئیے ہیں اور جیسا کہ انہوں نے وہاں اپنی مرضی غاضب حکومت کی صورت میں مسلط کی ہوئی ہے اور بالکل ایسی ہی پاکستان میں طالبان کی منطق بھی ہے یعنی طاقت، زور زبردستی۔ اگر یہ لوگ اہل منطق ہوتے تو ان کے مقابل بھی منطق سے بات کی جاتی، دلیل کے مقابلے میں دلیل سے بات کی جاتی۔ مگر پاکستان میں طالبان طاقت کا استعمال کر رہے ہیں اور حکومت سر سر اور مذاکرات کی رٹ لگائے ہوئی ہے۔ آپ نے دیکھا کہ جیسے ہی مذاکرات شروع کرنے کی بات کی، طالبان نے بجائے دہشت گردی روکنے کے خودکش حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا، عوام، افواج اور اب مسیحی برادری کو نشانہ بنایا گیا۔ تو طالبان طاقت کے استعمال کے قائل ہیں، یہ لوگ مذاکرات کے اہل نہیں ہیں۔
 
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ دہشت گرد تکفیری طالبان قاتل ہیں، جنکے ہاتھ ہزاروں بے گناہ معصوم پاکستانی عوام کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، تو اسلامی نکتہ نظر سے قاتل کا حکم ہے قصاص یعنی قاتل کو قتل کیا جائے۔ کیا حکومت مذاکرات کے نتیجے میں ان قاتلوں کو چھوڑنا چاہتی ہے یا ان قاتلوں کو سزا دینا چاہتی ہے۔ اب یہ تو ظاہر سی بات ہے کہ طالبان اپنے آپ کو تو قتل کرنے کی اجازت نہیں دینگے، بلکہ طالبان کی جانب سے تو ایک جگہ یہ شرط بھی سامنے آئی ہے کہ ان کے تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے۔ اب یہاں قصاص کی بات تو ختم ہوگئی ہے، تو ان ہزاروں لوگوں کے خون کا حساب کون لے گا، کون اس بات کا جواب دیگا۔ شریعت کے مطابق مقتولین کے اہل خانہ کی رضائیت کے بغیر آپ کون ہوتے ہیں کہ ان دہشت گرد طالبان کو معاف کر دیں۔ اب مشکل یہ ہے کہ اگر معاف نہ کریں تو ظاہر ہے مذاکرات ختم ہیں اور اگر معاف کرینگے تو یہ اسلام کے حکم کے خلاف ہوگا، چونکہ طالبان مذاکرات کے دوران بھی دہشت گردی سے باز نہیں آرہے ہیں تو اس لئے طالبان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن ہی پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کا واحد حل ہے اور پوری قوم اس معاملے میں حکومت و افواج پاکستان کے ساتھ ہے۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه نوزدهم شهریور 1392 توسط ارشادحسین مطهری


اسلام ٹائمز: معروف ذاکر اہل بیت (ع) کا دفاع وطن کنونشن سے خطاب میں کہنا تھا کہ شیعہ نے پاکستان بنایا تھا اور ہم ہی اسے بچائیں گے۔ کیا رسول (ص) کی رسالت کا اقرار کرنے والا کافر ہے۔ چودہ سو سال سے شیعہ قتل حسین (ع) کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
مذہب شیعہ نے پاکستان بنانے میں مثالی کردار ادا کیا، ریاض شاہ رتووال
اسلام ٹائمز۔ دفاع پاکستان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے معروف ذاکر اہل بیت (ع) ریاض حسین شاہ رتووال نے کہا کہ مذہب شیعہ نے ہمیشہ شر سے بیزاری اور خیر کا درس دیا۔ چودہ سو سال سے قوم شیعہ مظلومانہ زندگی گزار رہی ہے، لیکن ارباب اختیار آج تک یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون۔ ملک کی ایجنسیاں مرنے اور مارنے والے میں تمیز سے قاصر ہیں۔ جب کوئی ادارہ اپنی ذمہ دار بطریق احسن ادا نہ کرسکے تو اسے ختم کر دینا چاہیے۔ یہ وطن بے تحاشہ قربانیاں دے کر حاصل کیا گیا اور مذہب شیعہ نے پاکستان بنانے میں مثالی کردار ادا کیا۔ ہم ہی نے پاکستان بنایا تھا اور ہم ہی اسے بچائیں گے۔ کیا رسول (ص) کی رسالت کا اقرار کرنے والا کافر ہے۔ چودہ سو سال سے شیعہ قتل حسین (ع) کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ آج شام میں پر حملہ امریکہ کر رہا ہے اور پیسہ سعودی عرب فراہم کر رہا ہے۔ کیا آل سعود قرآن کی خلاف ورزی نہیں کر رہے، جس میں کہا گیا کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے۔ عالم اسلام کی چھپن ریاستوں کو اسلام کی بقا کے لئے مل بیٹھنا ہوگا۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه نوزدهم شهریور 1392 توسط ارشادحسین مطهری

دفاع وطن کنونشن میں دہشت گردوں کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور کراچی سمیت ملک بھر میں بھرپورآپریشن کرنے کی قراردادیں منظور
اسلام ٹائمز:مجلس وحدت مسلمین مسلمانان عالم کو شام کے مسئلے پر آگاہ رہنے، شعور اور فکر کے ساتھ ظالم اور مظلوم کی شناخت رکھنے، اتحاد اور وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کی جانب سے ہر قسم کی سازش سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتی ہے اور پاکستان کی تما م سیاسی و مذہبی جماعتوں کو وحدت کے لیے حقیقی کردار ادا کرنے کے لیے دعوت دیتی ہے۔
دفاع وطن کنونشن میں دہشت گردوں کیخلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنے اور کراچی سمیت ملک بھر میں بھرپورآپریشن کرنے کی قراردادیں منظور
اسلام ٹائمز۔ دفاع وطن کنونشن میں متفقہ طور پر قراردارتیں منظور کی گئیں جن کی حاضرین نے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے تائید کی۔ منظور کی گئی گئیں قراردادوں کے مطابق، شیعیان پاکستان کا اسلام آباد میں منعقدہ عظیم الشان وفاع وطن کنونشن کے شرکاء عہد کرتے ہیں کہ تمام تر قربانیوں اور دہشت گردی کے باجود ملک عزیز پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی اپنی جان و مال سے حفاظت کریں گے، اس لیے کہ پاکستان بنایا تھا اور پاکستان کو بچائیں گے۔

دفاع وطن کنونشن کے شرکا عہد کرتے ہیں کہ مجلس وحدت مسلمین کے سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی قیادت میں ملک میں اتحاد وحدت کا پرچم سربلند رکھیں گے اور ہر اس قوت کے خلاف قیام کریں گے جو مسلمانان عالم کے مابین استعماری قوتوں کے ایما پر تفرقہ اور نفرت پھیلانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔

مجلس وحدت مسلمین پوری پاکستانی قوم کو دعوت دیتی ہے کہ ملک میں عدل کے نفاذ اور مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف مجلس کا ساتھ دیں اور ملک سے ظلم و استبداد کے نظام کے خاتمے کے لیے مجلس وحدت مسلمین کے دست وبازو بنیں۔

مجلس وحدت مسلمین تمام محب وطن مذہبی و سیاسی قوتوں کو اپنے شانہ بشانہ چلنے اور ملک سے فرسودہ نظام کے خاتمے اور ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ہم آواز ہونے کی دعوت دیتی ہے۔ ہمارے دروازے ہر وطن دوست قوت سے مذاکرات کے لیے کھلے ہیں۔

حکمران دہشت گردوں، فوج اور قوم کے قاتلوں سے مذاکرات کے بجائے ان کے خلاف بھرپور کارروائی کرے۔

ملک دشمن اسلام دشمن قوتوں کے چہروں سے اب نقاب اتر چکی ہے، اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل اساس اور سنہری اصولوں کو پامال کرنے والے چند مٹھی بھر دہشت گردوں کے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں اور اب پوری قوم ان مٹھی بھر دہشت گردوں کے عزائم سے آگاہ ہو چکی ہے، وقت ہے کہ ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے لیے ملکر جدوجہد کریں۔

ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے قوم اب سیاسی جماعتوں سے مایوس ہوچکی ہے، آل پارٹیز کانفرنس بھی فقط نشستن، خوردن اور برخاستن ثابت ہوگی، اگر حکمران جماعت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مخلص ہے تو مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر دہشت گرد مٹھی بھر گروہ کے خلاف جرات مندانہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی حکمت عملی کے لیے عملی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

مجلس وحدت مسلمین اپنے بھرپور سیاسی تشخص کے ساتھ تمام سیاسی قوتوں کو وطن میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کے اقدار کی بحالی اور ان کے استحکام کے لیے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

مجلس وحدت مسلمین حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ وزیر اعظم نوازشریف سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ شام پر ممکنہ امریکی جارحیت اور وہاں جاری دہشت گردی کی بھرپور مذمت کرے اور اپنا بھرپور کردار ادا کرے ایسے کسی بھی فیصلے سے گریز کیا جائے جو اسلام اور مسلمین کے خلاف ہو۔

مجلس وحدت مسلمین غاصب اور جارح امریکا اور اس کے حواریوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ مسلمان ممالک پر جارحیت سے گریز کریں اور اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کے لیے جھوٹ کا سہارا لیکر شام پر حملے سے اجتناب کریں ورنہ شام پوری امت مسلمہ کا نکتہ اتحاد بن کر ابھرے گا اور ان ظالم صیہونی قوتوں کا غرور خاک میں ملادے گا۔

مجلس وحدت مسلمین مسلمانان عالم کو شام کے مسئلے پر آگاہ رہنے، شعور اور فکر کے ساتھ ظالم اور مظلوم کی شناخت رکھنے، اتحاد اور وحدت کو برقرار رکھنے کے لیے امریکا، اسرائیل اور ان کے حواریوں کی جانب سے ہر قسم کی سازش سے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتی ہے اور پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو وحدت کے لیے حقیقی کردار ادا کرنے کے لیے دعوت دیتی ہے۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه نوزدهم شهریور 1392 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: ایس یو سی اور کربلا فاونڈیشن کے زیراہتمام یوم شہداء کا انعقاد، علما کرام، تنظیمی کارکنان اور شہداء کے ورثا کی شرکت، امدادی چیک تقسیم۔
ملک دشمن عالمی سطح پر مسائل پیدا کر رہا ہے اور ہمیں آپس میں لڑانا چاہتا ہے، شیخ مرزا علی
اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن اور کربلا فاونڈیشن کے زیراہتمام ایک تقریب ’’یوم شہداء‘‘ کے نام سے صوبائی سیکرٹریٹ گلگت میں منعقد ہوئی، جسمیں شہداء کے ورثاء علماء کرام، اسلامی تحریک کے کارکنان، جے ایس او کے نوجوانوں اور جعفریہ یوتھ کے اراکین نے شرکت کی۔ یوم شہداء سے خطاب کرتے ہوئے صدر شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن علامہ شیخ مراز علی نے کہا کہ آج معاشرے میں انسانوں کے حقوق نہیں ہیں، معاشرہ میں معمولی نوعیت کے جھگڑوں میں انسان قتل ہوتا ہے، گویا انسان کی جان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ نہ ہمسایے آپس میں حقوق کا خیال رکھتے ہیں اور نہ دو قبیلوں یا بستیوں کے درمیان قوت برداشت ہے اور نہ دین کی تابعداری اور نہ اُصولوں کی پاسداری ہے، جو انسان کو مشکلات سے نکالتی ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ آج کا ماحول دیکھیں کہ کبھی لسانیت کے نام پر، کبھی علاقائیت کے نام پر تو کبھی مسلک کی بنیاد پر لوگ قتل کئے جاتے ہیں اور اس وقت ملک دشمن عالمی سطح پر مسائل پیدا کر رہا ہے اور ہمیں آپس میں لڑانا چاہتا ہے، بغیر کسی جرم و خطا کے ملت جعفریہ کے بے گناہ مومینن کو بسیوں سے اتار کر شناخت کرکے شہید کیا جاتا ہے اور دشمن اسطرح مذہبی گشیدگی پھیلا کر مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے، جو معاشرے کیلئے بگاڑ کا سبب بنتا جا رہا ہے، ان مسائل کو دور کرنے کیلئے علماء ہی کردارا دا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے قائد مرحوم علامہ محمد حسین دہلوی، قائد مرحوم علامہ مفتی جعفرحسین، قائد شہید علامہ سید عار ف حسین الحسینی کی قومی و ملی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی آج قومی سطح پر وہی کردار ادا کر رہیں ہے جو کردار گذشتہ قائدین نے انجام دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج قومی سطح پر ملت جعفریہ کی جو شناخت ہے وہ قائد محترم علامہ سید ساجد علی نقوی کی حکمت عملی ہی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں کہتا ہوں کی قوم کا قائد وہی ہوگا جسکو ولی فقیہ کی حمایت حاصل ہے اور ولی فقیہ کے حکم کی اطاعت نہ کرنا خیانت ہے۔ 

یوم شہداء سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے راہنما شیخ اقبال توسلی نے کہا کہ شہداء اور اسیروں کے مسائل بے شمار ہیں مگر آج ان مسائل کو حل کرنے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہید علامہ سید ضیاءالدین رضوی کے دور میں شہداء اور اسیروں کے مسائل کے حل کیلئے خاص خیال رکھا جاتا تھا مگر اب وہ سلسلہ بند ہوچکا ہے، جس کے وجہ سے اسیروں کے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن اور کربلا فاونڈیشن نے شہداء اور اسیروں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بیڑہ اُٹھایا ہے، انشاءاللہ مومینن کا ساتھ رہا تو جلد ہی ان مسائل کو حل کیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ بلال رہبری نے شہداء کے درجات اور یتیموں اور اسیروں کے حقوق بیان کئے۔ تقریب کے اختتام پر شہداء کے ورثاء میں مالی معاونت کیلئے امداد تقسیم کی گئی۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه نوزدهم شهریور 1392 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: ایوان صدر میں منعقدہ تقریب حلف برداری میں چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے نو منتخب صدر سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔
نومنتخب صدر ممنون حسین نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

قصر صدارت میں نیا مکین آباد ہوگیا، ممنون حسین نے ملک کے بارھویں صدر کا حلف اٹھا لیا، چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نئے صدر سے حلف لیا۔ پروقار تقریب میں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف، سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعظم، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، تمام صوبوں کے وزرائے اعلٰی، گورنرز اور اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ سفراء اور ممنون حسین کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ تیس جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ممنون حسین 432 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے بارھویں صدر منتخب ہوئے تھے۔۔ ان کے مدِمقابل تحریکِ انصاف کے ریٹائرڈ جسٹس وجیہہ الدین نے 77 ووٹ حاصل کئے تھے۔


نوشته شده در تاريخ شنبه نهم شهریور 1392 توسط ارشادحسین مطهری

مالک بن انس: «ما رَأَتْ عَیْنٌ وَلا سَمِعَتْ اذُنٌ وَ لا خَطَرَ عَلى‏ قَلْبِ بَشَرٍ افْضَلُ مِنْ جَعْفَرِبْنِ مُحَمَّدٍ فی علم و عبادۃ و تقویٰ»علم، عبادت اور پرہیزگاری میں جعفر بن محمد سے برتر نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں خطور کیا 

بقلم: سید افتخار علی جعفری


 امام صادق(ع) کا علمی مقام اور ائمہ اہلسنت کے اعترافات اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امام صادق علیہ السلام کی شخصیت کا ایک اہم پہلو آپ کا علمی کمال تھا۔ اہلسنت و الجماعت کے بڑے بڑے اماموں نے آپ کے آگے زانو ادب تہہ کئے اور آپ کی شاگردی کا شرف حاصل کر کے اس پر فخر کیا اور امام علیہ السلام کے علمی مقام کی تعریف و تمجید کی۔ ذیل میں اہلسنت کے دو اماموں کے اعترافات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اس کے بعد دیگر علماء اہلسنت کے اقوال بھی اس سلسلے میں بیان کرتے ہیں:
۱: ابو حنیفہ
 فرقہ حنفی کے بانی ابو حنیفہ کہتے ہیں: میں نے جعفر بن محمد سے زیادہ عالم کسی کو نہیں دیکھا۔(۱)
انہوں نے ایک اور مقام پر کہا: جب منصور دوانیقی نے جعفر بن محمد کو اپنے دربار میں بلوایا تو مجھے طلب کیا اور کہا: لوگ جعفر بن محمد کے گرویدہ ہو گئے ہیں۔ لوگوں کی نظروں میں ان کی اہمیت کو ختم کرنے کے لیے تم مشکل سے مشکل سوال تیار کرو۔ میں نے چالیس مشکل سوال تیار کئے۔ پھر ایک دن منصور نے مجھے بلایا۔ جب میں مجلس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ جعفر بن محمد بھی اس کے دائیں طرف بیٹھے ہیں۔ جب میری نگاہ ان پر پڑی تو میں ان کی عظمت اور جلالت سے اس قدر متاثر ہوا کہ اتنا کبھی کسی سے نہیں ہوا تھا۔
میں نے سلام کیا اور منصور کے اشارے سے بیٹھ گیا۔ منصور نے ان کی طرف رخ کیا اور کہا: یہ ابو حنیفہ ہیں۔ انہوں نے کہا: ہاں میں انہیں جانتا ہوں۔
اس کے بعد منصور نے میری طرف مڑ کر کہا: اے ابو حنیفہ! اپنے سوالات ابو عبد اللہ سے پوچھو۔
میں نے سوالات کرنا شروع کئے، جو مسئلہ میں بیان کرتا تھا جعفر بن محمد اس کے جواب میں فرماتے تھے: تمہارا عقیدہ اس سلسلے میں یہ ہے اہل مدینہ کا عقیدہ یہ ہے اور ہمارا عقیدہ یہ ہے۔
بعض مسائل میں وہ ہمارے عقیدے سے موافق، بعض میں اہل مدینہ کے عقیدہ سے موافق اور بعض میں دونوں کے ساتھ مخالف تھے۔
میں نے چالیس سوال پیش کئے اور انہوں نے سب کے قانع کنندہ جواب دئے۔
اس کے بعد ابو حنیفہ کا کہنا ہے: ’’امام صادق تمام علماء سے زیادہ عالم اور فقہی مسائل میں علماء کے اختلافات سے بھی آگاہ تھے‘‘۔(۲)
تاریخ میں ہے کہ دسیوں مقامات پر ابو حنیفہ نے امام صادق علیہ السلام کی شاگردی پر فخر کرتے ہوئے اسے اپنی نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ ان کا یہ جملہ معروف ہے ’’لولا سنتان لھلک نعمان‘‘( اگر نعمان دو سال جعفر بن محمد کی شاگردی نہ کرتا تو ہلاک ہو گیا ہوتا)۔(۳)
۲: مالک بن انس
 اہلسنت کے معروف چار اماموں میں سے ایک اور فرقہ مالکی کے بانی مالک بن انس کہتے ہیں: ایک مدت تک میری جعفر بن محمد کے پاس رفت و آمد رہی، میں نے ہمیشہ انہیں تین حالتوں میں سے ایک میں دیکھا یا نماز کی حالت میں یا روزے کی حالت میں یا تلاوت قرآن کی حالت میں۔ اور کبھی میں نے انہیں نہیں دیکھا کہ وہ بغیر وضو کے حدیث کہیں(۴)۔
اس کے بعد انہوں نے کہا: «ما رَأَتْ عَیْنٌ وَلا سَمِعَتْ اذُنٌ وَ لا خَطَرَ عَلى‏ قَلْبِ بَشَرٍ افْضَلُ مِنْ جَعْفَرِبْنِ مُحَمَّدٍ فی علم و عبادۃ و تقویٰ»علم، عبادت اور پرہیزگاری میں جعفر بن محمد سے برتر نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں خطور کیا(۵)۔
۳: ابن حجر ہیثمی لکھتے ہیں کہ جعفر بن محمد سے اس قدرعلوم نشر ہوئے کہ آپ ہر انسان کا ورد زباں ہو گئے اور ہر جگہ آپ کا چرچا ہو گیا اور فقہ و حدیث کے بزرگترین علماء جیسے یحییٰ بن سعید، ابن جریح، مالک، سفیان ثوری، سفیان بن عیینہ، ابو حنیفہ، شعبہ اور ایوب سجستانی نے آپ سے حدیثیں نقل کرتے تھے۔(۶)
۴: ابو بحر جاحظ: تیسری صدی ہجری کے معروف دانشمند ابو بحر جاحظ کہتے ہیں: جعفر بن محمد وہ شخص ہیں جن کا علم پوری دنیا پر چھا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ابو حنیفہ اور سفیان ثوری ان کے شاگرد تھے اور ان دو افراد کا جعفر بن محمد کا شاگرد ہونا ان کے علمی مقام کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے(۷)۔
۵: ابن خلکان: معروف مورخ لکھتے ہیں: جعفر بن محمد فرقہ امامیہ کے بارہ اماموں میں سے ایک اور خاندان پیغمبر(ص) کے بزرگان میں سے ہیں کہ آپ کی سچائی اور صداقت کی بنا پر آپ کو صادق کہا جاتا ہے۔(۸)

حوالہ جات
۱:  ذهبى، شمس الدین محمد، تذکرة الحفاظ، بیروت، داراحیا، التراث العربى، ج 1، ص 166
۲: مجلسى، بحارالانوار، ط2، تهران، المکتبة الاسلامیه، 1395 ه'.ق ج 47، ص 217- حیدر، اسد، الامام الصادق و المذاهب الاربعة، ط 2، بیروت، دارالکتاب العربى، 1390 ه'.ق، ج 4، ص 335
۳: مختصر التحفه الاثني عشريه، ص 8، الامام صادق عليه‏السلام، ج 1، ص 58، اعلام الهدايه، ج 8، ص 23.
۴: ابن حجر العسقلانى، تهذیب التهذیب، ط 1، بیروت، دارالفکر، 1404 ه'.ق ج 1، ص 88
۵: حیدر، اسد، الامام الصادق و المذاهب الاربعة ، ج 1، ص 53
۶: الصواعق المحرقه، ط 2، قاهره، مکتبة القاهره، 1385 ه'.ق، ص 201
۷: حیدر، اسد، الامام الصادق و المذاهب الاربعة ، ج 1، ص 55(به نقل از رسائل جاحظ)
۸؛ وفیات الاعیان، تحقیق: دکتر احسان عباس، ط 2، قم، منشورات الشریف الرضى، 1364 ه'.ش، ج 1، ص 327
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲


نوشته شده در تاريخ شنبه نهم شهریور 1392 توسط ارشادحسین مطهری

شیعہ دینی مرجع تقلید آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ امریکہ اسلامی ممالک میں اپنے عربی اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ ملکر تباہی پھیلانا چاہتا ہے اور شام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی یلغار انکے کے لئے بہت مہنگی ثابت ہوگی۔ 

 شام پر امریکی جارحیت خود امریکہ کے لیے مہنگی ثابت ہو گی اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ شیعہ دینی مرجع تقلید آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی نے کہا ہے کہ امریکہ اسلامی ممالک میں اپنے عربی اور مغربی اتحادیوں کے ساتھ ملکر تباہی پھیلانا چاہتا ہے اور شام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی یلغار انکے کے لئے بہت مہنگی ثابت ہوگی۔
انھوں نے کہا کہ شام کے مسئلہ کا فوجی حل نہیں ہے اور شام کے مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے انھوں نے کہا کہ شام کے خلاف جو نام نہاد اسلامی ممالک امریکہ کا تعاون کر رہے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کا ارتکاب کررہے ہیں۔
 واضح رہے کہ امریکہ بڑا شیطان ہے اور اس کے حامی بعض عرب اور غیر عرب ممالک چھوٹے شیطان ہیں اور چھوٹے شیطانوں میں سعودی عرب، قطر اور ترکی بھی شامل ہیں جو شام کے خلاف امریکہ کا تعاون کررہے ہیں۔


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و هفتم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری


دھشتگرد گروپوں جیسے طالبان اور القاعدہ کے نظریات کو قریب سے بھانپنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے شدت پسندانہ کارناموں کی توجیہ کے لیے اسلامی جہاد کے مفہوم سے متمسک ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ اسلام میں جہاد کے واقعی معنی اور مفہوم کو پہچانیں اور اس کے بعد یہ دیکھیں کہ کیا فریضہ جہاد اس طرح کے دہشت گردانہ اور تشدد پسندانہ اقدامات انجام دینے کا جواز فراہم کرتا ہے یا نہیں؟ 

بقلم: افتخار علی جعفری


 جہاد اور دہشت گردی میں فرق
دھشتگرد گروپوں جیسے طالبان اور القاعدہ کے نظریات کو قریب سے بھانپنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے شدت پسندانہ کارناموں کی توجیہ کے لیے اسلامی جہاد کے مفہوم سے متمسک ہوتے ہیں لہذا ضروری ہے کہ اسلام میں جہاد کے واقعی معنی اور مفہوم کو پہچانیں اور اس کے بعد یہ دیکھیں کہ کیا فریضہ جہاد اس طرح کے دہشت گردانہ اور تشدد پسندانہ اقدامات انجام دینے کا جواز فراہم کرتا ہے یا نہیں؟
ہم اس مقالے میں کوشش کریں گے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں شیعہ و سنی علماء کے نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے جہاد کے واقعی معنی اور مفہوم کو پہچانیں اور دھشتگرد گروپوں کے جہادی دعووں کی صحت یا عدم صحت کی علمی تحقیق کریں۔
الف: جہاد کے معنی
جہاد لغت میں مادہ " جھد" سے مشتق ہے کہ جس کے معنی "نہایت مشقت اور کوشش کرنا" کے ہیں۔ فقہ کی اصطلاح میں اس کی یوں تعریف ہوئی ہے:" کلمہ اسلام کی سر بلندی اور شعائر ایمان کی سرفرازی کے راستے میں جان و مال قربان کر دینا"۔
مجاہد اسے کہتے ہیں جو اپنی تمام تر طاقت، توانائی اور قدرت کو آخری لمحہ تک اپنے مقصد کے حصول کے لیے صرف کر دے۔
بطور کلی جہاد کی دو صورتیں ہیں:
پہلی صورت: تمام امکانات اور سہولیات کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جان اور مال و ثروت کو صرف کرنے کے تلاش و کوشش کرنا۔
دوسری صورت: کسی مقصد کو حاصل کرنے کی راہ میں مشکلات کا تحمل کرنا اور  اپنی طاقت و توانائی کو صرف کرنا۔
لیکن ہر صورت میں شرعی لحاظ سے جہاد یہ ہے کہ انسان اپنی جان و ثروت کو قربان کرنے کےساتھ کلمہ توحید اور اسلام کی سر بلندی اور اسلامی رسالت اور شریعت کے نفاذ کی راہ میں ممکنہ تلاش و کوشش کرے۔
ب: جہاد کی اقسام
کلی طور پر جہاد کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے: جہاد اکبر اور جہاد اصغر۔ اسلام کی سربلندی اور کلمہ حق کی سرفرازی کی خاطر کفار و مشرکین کے ساتھ جہاد کرنے کو جہاد اصغر کہتے ہیں جبکہ معنوی درجات کی بلندی کےلیے اپنے نفس امارہ اور لوامہ کے ساتھ جہاد کرنے کو جہاد اکبر کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اکرم (صلّي الله عليه و آله و سلّم) سے مروی اس روایت کے مطابق جو آپ نے ایک غزوہ سے کامیابی کے ساتھ واپس آئے بعض اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائی: “ رجعتم من الجهاد الاصغر عليكم بالجهاد الاكبر”. قاہرہ یونیورسٹی کے سابقہ چانسلر علامہ شیخ محمود شلتوت ان قرآنی آیات کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے جو جہاد کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جنگ کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں: ایک مسلمانوں کی مسلمانوں سے جنگ اور دوسری مسلمانوں کی غیر مسلمانوں سے جنگ۔
ان کی نظر میں مسلمانوں کی مسلمانوں کے ساتھ جنگ امت کے داخلی اور حیاتی امور میں سے ہے اور قرآن نے طغیان اور سر کشی کے وقت سزا معین کی ہے تا کہ سماج میں نظم و انتظام باقی رہے اور ملک کی طاقت کمزور نہ ہو اور ظلم و ستم کا سد باب کیا جائے۔ قرآن میں سورہ حجرات کی نویں اور دسویں آیتوں میں آیا ہے کہ اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو انہیں صلح کی طرف دعوت دو اور اگر ان میں سے ایک ظلم کی جانب بڑھے اور قتل و غارت سے باز نہ آئے تو اس کے ساتھ جنگ کرو جب تک کہ صلح کے طرف نہ لوٹ آئیں۔ واضح ہے کہ اس جنگ کا فلسفہ مطلقہ عدالت کی برقراری، آزادی اور حریت کو پامال ہونے سے بچانا اور ظلم و سرکشی سے روکنا اور سماج میں نظم و نسق قائم کرنا ہے۔
انہوں نے جنگ کی دوسری قسم یعنی مسلمانوں کی غیر مسلمانوں سے جنگ کے بارے میں، مکہ میں مسلمانوں کی سختیوں اور ظالم حکمرانوں کی طرف سے ان پر ڈھائے جانے والے مصائب و آلام کا تذکرہ کرنے اور پیغمبر اکرم (ص) کے صبر و بردباری سے کام لینے کے بارے میں سفارشات بیان کرنے اور جنگ کے سلسلے میں سورہ حج کی ۴۰ ویں اور ۴۱ ویں آیات میں خدا کی طرف سے بیان شدہ سب سے پہلے حکم جنگ کے ذیل میں لکھا ہے کہ یہ آیتیں جنگ کو جائز قرار دینے پر دلالت کرتی ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھایا، انہیں جلا وطنی کیا گیا اور انہیں اپنا عقیدہ بدلنے پر مجبور کیا گیا۔ یہ جوازیت دفاعی سنت اور ظالم حکمرانوں کا مقابلہ کرنے کے ساتھ سازگار ہے۔ اس جنگ کا مقصد یہ ہے کہ اجتماعی توازن برقرار رہے اور سرکش افراد کو سرنگوں کیا جائے اور لوگوں کو عقیدے اور ایمان کے اعتبار سے آزاد رہنے کا حق دیا جائے۔ انہوں نے قرآن کریم کی کچھ دوسری آیتوں سے جنگ کے بارے میں مثالیں پیش کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ آیات اس کے باوجود کہ ان میں جنگی اصول، جنگی وجوہات اور اغراض و مقاصد کا تذکرہ ہوا ہے لیکن ہر گز  جنگ کے ذریعے دین کو زبردستی قبول کرنے کی دعوت نہیں دی رہی ہیں اور جنگ کی جوازیت کا عمدہ سبب مسلمانوں پر کیے جانے والا ظلم و ستم کا دفاع ہے۔
انہوں نے جنگ اور جہاد کو قرآن اور اسلام کی نگاہ سے بیان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل نکات اور نتائج  اخذ کئے ہیں: قرآن کریم میں ایک آیت بھی تلاش نہیں کی جا سکتی جو یہ کہتی ہو کہ جنگ کے لیے اٹھ  کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں کا قتل عام کر کے انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کرو۔ اسلام میں جنگ کی جوازیت صرف ظلم و ستم کا مقابلہ کرتے ہوئے دفاعی حیثیت رکھتی ہے ۔جہاں کہیں بھی اسلام نے جنگ کو جائز قرار دیا ہے صرف مستضعفین کی حمایت میں استعمار اور استکبار کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے اور جنگ کے دوران بھی ضعیف افراد کو دبانے سے منع کیا ہے اور تاکید کی ہے کہ آپس میں صلح کو ترجیح دی جائے اور کافروں سے ان کے خون کے بدلے جزیہ  اسی وجہ سے قرار دیا گیا ہے تا کہ اسلامی سماج میں کوئی ان کی طرف انگلی نہ اٹھائے اور انہیں اذیت و آزار نہ پہنچائے۔ یہ اسلامی حکومت کا اصول ہے کہ سماج میں رہنے والے کسی طبقہ کو کسی قسم کی اذیت نہ دی جائے۔ ہر انسان عقیدہ کے اعتبار سے آزاد رہے۔
ایک اور اعتبار سے جہاد کو نیز دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں؛ ۱: دفاعی جہاد: یعنی جب اسلامی معاشرہ دشمنوں کی طرف سے تہدید یا حملے کا نشانہ بنے تو اس صورت میں اپنا دفاع کرنا واجب ہے اسے دفاعی جہاد کہتے ہیں۔ ۲: ابتدائی جہاد : یعنی جہاد میں پہل کرنا بغیر اس کے کہ دشمن کی طرف سے کوئی خطرہ لاحق ہو۔  اسلام کو وسعت دینے، مذہبی شعائر کو دنیا میں پھیلانے اور بشریت کو ضلالت اور گمراہی سے نجات دینے کی غرض سے جنگ کی جائے۔ جہاد کی صورت صرف حکم نبی یا امام معصوم(ع) سے لازم الاجرا ہے ان کے علاوہ کوئی دوسرا ابتدائی جہاد کرنے کا حکم نہیں دے سکتا۔
استاد شہید مطہری جہاد کی حقیقت اور ماہیت کو دفاعی صورت میں سمجھتے ہیں۔ آپ معتقد ہیں کہ محققین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جہاد کی ماہیت دفاعی ہے۔ یعنی اسلام میں کسی عنوان سے جنگ و جدال، مد مقابل کا مال و ثروت چھیننے یا دشمن پر حکومت کرنے کی غرض سے ہر گز جائز نہیں ہے۔ اس طرح کی جنگ اسلام کی نظر میں تشدد اور جارحیت کہلاتی ہے۔ وہ جہاد جو صرف دفاع کے عنوان سے ہو اور تجاوز کا مقابلہ کرنے کی خاطر ہو اسلام میں مشروعیت رکھتا ہے۔ آپ اس کے باوجود کہ دفاع کو ایک مقدس امر سمجھتے ہیں لیکن تقدس کا ملاک حق و حقاینت کا دفاع اور انسانی حقوق اور انسانی آزادی کا دفاع قرار دیتے ہیں۔
شہید مطہری سورہ بقرہ کی ۱۹۰ ویں آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ استدلال کرتے ہیں کہ تجاوز کرنے والوں اور شر پھیلانے والوں سے جنگ کرو اس سے پہلے کہ ان کا شر ہم تک پہنچے لیکن اگر غیر متجاوز افراد کے ساتھ جنگ کی جائے تو یہ خود تجاوز اور غیر شرعی عمل اور ظلم ہے۔ آپ اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ قرآن جہاد کو دفاعی صورت میں منحصر کرتا ہے اور کسی پر بھی جارحیت  کی اجازت نہیں دیتا۔ البتہ ان کی نظر میں تجاوز اور جارحیت ایک عام معنی رکھتا ہے اور جان و مال عزت و آبرو، زمین اور آزادی میں محدود نہیں ہے۔ اگر انسانی اقدار کو پامال کیا جائے، انسانی قدروں کو روندا جائے تو اسے بھی تجاوز کہاجائے گا۔
شیخ محمود شلتوت بھی صدر اسلام کی جنگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ استدلال کرتے ہیں کہ صدر اسلام میں مسلمانوں نے کبھی ابتداً کسی پر حملہ نہیں کیا اور اپنی آزادی اور استقلال کا دفاع کرنے کے علاوہ انہوں نے کبھی قیام نہیں کیا۔
ج: اسلام اور صلح
اسلام امن و شانتی کا دین ہے اور اسلام نے ہمیشہ صلح اور سلامتی کو جنگ وجدال پر برتری دی ہے۔ اور پیغمبر اسلام (ص) اور امیر المومنین (ع) نے ہمیشہ جنگ شروع ہونے سے پہلے دشمنوں کو صلح کی دعوت دی ہے قرآن کریم میں بھی صلح قبول کرنے پر واضح دستورات موجود ہیں:
ان جنحوا للسلم فاجنح لها و توكل علي الله انه هوالسميع العليم و ان يريد و ان يخدعوك فان حسبك الله هو الذي ايدك بنصره و بالمومنين(سورہ انفال،۶۱،۶۲)
اور اگر یہ لوگ صلح کرنے کی طرف مائل ہوں آپ بھی صلح کی طرف مائل ہو جائیں اور خدا پر توکل کریں بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے اور اگر یہ آپ کو دھوکہ و فریب دینا چاہیں تو خدا آپ کے لیے کافی ہے وہ وہی خدا ہے جس نے اپنی اور مومنین کی مدد سے آپ کو تقویت بخشی۔
سورہ نساء، آیت ۹۰ میں بھی آیا ہے کہ اگر " کافر اور ظالم جنگ سے کنارہ کشی اختیار کر لیں اور آپ کے ساتھ صلح کی  پیشکش کریں تو ان کی طرف جنگ کے لیے ہاتھ نہ بڑھانا ۔۔۔
شیخ محمود شلتوت بھی اس سلسلے میں سورہ انفال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بھی دشمن جنگ سے ہاتھ کھینچ لے اور قتل و غارت سے پرہیز کرے اور صلح کی پیشکش کرے اور اس پیشکش میں کوئی دھوکا اور فریب نہ ہو تو ان کی پیشکش کو قبول کرنا چاہیے بغیر کسی وجہ کے ان پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔
ان کی نظر میں جنگ صرف اس لیے ہے کہ ظلم اور تجاوز کا دفاع کیا جائے اور در حقیقت جنگ کا مقصد صلح اور عدالت قائم کرنا ہوتا ہے انہوں نے سورہ انفال کی ۶۴ ویں آیت کی تفسیر میں لکھا ہے" اور ان کے لیے جتنی طاقت جمع کر سکتے ہیں کریں" جنگ کا ساز و سامان مہیا کرنا صرف ظلم کا مقابلہ کرنے اور صلح اور عدالت برقرار کرنے کی خاطر درست ہے۔ انہوں نے آیت کے لفظ "سلم" کو تاکید  کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کلمہ کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں میں صلح کا بیج بوئیں تاکہ سماج میں امن و شانتی برقرار رہے۔
متفکر اسلام شہید مطہری نیز آیات صلح کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ منجملہ آیات" والصلح خیر (نساء ۱۲۸) یا “يا ايها الذين آمنوا و ادخلو في المسلم كافه (بقره، 208) اس بات پر تاکید کرتی ہیں کہ اسلام میں صلح، جنگ سے کئی گناہ زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔
البتہ آپ ظلم و جور کے نیچے دھبنے کو صلح نہیں کہتے لہذا اسی وجہ سے آپ کا یہ کہنا ہے کہ اسلام کبھی بھی ذلت کو تحمل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
د: جنگ و جہاد میں انسانی اقدار کا لحاظ
اسلام صلح کی تاکید کرنے اور ہر طرح کے تجاوز سے روکنے کے ساتھ ساتھ دفاعی جنگوں میں بھی انسانی اقدار اور حرمتوں کی رعایت کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ انسانی اقدار اور حرمتوں سے مراد وہ اخلاقی اصول اور قواعد ہیں جن کی ہر مذہب و ملت کے افراد کے ساتھ جنگ میں رعایت کرنا ضروری ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اصول انسانی فطرت سے وجود پاتے ہیں اور دین اسلام بھی ان قواعد اور اصول کو محترم سمجھتا ہے۔ اور جنگ میں بھی ان کی رعایت کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل موارد کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے:
جنگ سے پہلے اسلام کی طرف دعوت
چونکہ اسلامی جہاد کا مقصد انسانوں کو توحید کی دعوت دینا ہے لہذا جہاد میں سب سے پہلے مشرکوں کو اسلام کی طرف دعوت دی جاتی ہے اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو جنگ در کار نہیں ہوتی۔ امیر المومنین (ع) نے پیغمبر اسلام سے ایک روایت میں نقل کیا ہے کہ جب آپ(ع) کو یمن میں جنگ کے لیے بھیجا تو فرمایا کہ جب تک انہیں اسلام کی دعوت نہ کر لو ان کے ساتھ جنگ مت کرنا اور اگر خدا تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت کر لے تو یہ تمہارے لیے ہر اس چیز سے بہتر ہے جس پر سورج چمکتا ہے۔ لہذا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صلح اور مذاکرات کی دعوت جنگ پر مقدم ہے۔
پناہ مانگنے والوں کو پناہ دینا
اگر کوئی کافر کسی مسلمان یا اسلامی حاکم سے پناہ کا تقاضا کرے اور امان چاہے تو اسے امان دینا ضروری ہے اس سلسلے میں ہر مسلمان کچھ شرائط کے ساتھ اسے پناہ دینے کا حق رکھتا ہے اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ امان دی گئی مدت میں امان حاصل کردہ افراد کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کرے۔
جنگ میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں وغیرہ کی حفاظت
مذکورہ افراد کی اسلامی جہاد میں حفاظت کرنا اور انہیں کسی قسم کا نقصان نہ پہچانا اسلام کے اندر منجملہ انسانی اقدار میں سے ہے۔ اسلامی فوج کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ان افراد کو نشانہ بنائیں۔
پیمان شکنی ممنوع
اسلام کا حکم ہے کہ اگر دشمن کے ساتھ کوئی عہد و پیمان باندھا جائے تو جب تک وہ خود خیانت نہ کرےاور اسے نہ توڑے آپ کو توڑنے کا حق نہیں ہے۔ پیغمبر اکرم (ص) اور علی علیہ السلام بہت سختی سے اس قانون کے پابند تھے۔
خلاف انسانیت اعمال انجام دینا ممنوع
اسلام دشمن کو مثلہ کرنے ( یعنی اس کے کان، ناک وغیرہ کاٹنے ) سے سخت منع کرتا ہے اور پیغمبر اکرم (ص) جنگ پر بھیجنے سے پہلے یہ تاکید کرتے تھے کہ کوئی بھی ایسا اقدام کرنے کی جرات نہ کرے۔ اسلام اس طریقے کے غیر انسانی اعمال انجام دینے سے منع کرتا ہے۔
قیدیوں کے ساتھ انسانی سلوک
قیدی بنانے کا مقصد دشمن کی طاقت کو کمزور بنانا اور اسیروں کو اسلام سے آشنا کرنا ہے۔ اسلام اسیروں کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھ کر ان کی آزادی کے راستے فراہم کرنے کی سفارش کرتا ہے۔
ہ: جہاد اور دہشت گردی
اسلام میں جہاد کے معنی اور مفہوم کو جاننے کے بعد یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ دہشت گردی کو ہر گز جہاد کا عنوان نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اولا: جہاد اسلام میں سب سے پہلے ایک دفاعی امر ہے یعنی دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں مسلمان اور اسلامی ملک اپنی عزت و آبرو  کا دفاع کر سکتے ہیں۔ ثانیا: پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت یہ بتاتی ہے کہ آپ ابتدائی صورت میں جنگ حتی دفاع کرنے سے بھی منع کرتے تھے جب تک کہ دفاع کے لیے بھی خدا کا حکم نازل نہ ہو جائے آپ دفاع کے لیے بھی نہیں نکلتے تھے۔ آپ ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ دشمنوں کو صلح اور گفتگو کی دعوت دیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ظاہری دشمن کے ساتھ جہاد سے پہلے باطنی دشمن کے ساتھ جہاد کرنا اسلام کی نگاہ میں زیارہ قابل اہمیت ہے اس جہاد میں انسان کو پہل کرنے کا حق حاصل ہے اور ہر انسان اس جنگ میں دشمن پر پہلا وار کر سکتا ہے۔ جہاں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کہ پہلے دشمن حملہ آور ہو پھر ہم اس کا مقابلہ کریں اور اپنا دفاع کریں بلکہ یہاں ابتدائی جہاد ہی زیادہ سودمند ثابت ہوتا ہے  اسلیے کہ باطنی دشمن کے حملے کے بعد انسان کے ایمان کا گلہ کٹ جائے گا پھر اس دشمن پر حملہ کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہ ہو گا اور پھر جب ایمان کا گلہ کٹ گیا تو دفاع کس بات کا ہوگا؟ اسی وجہ سے اس جہاد کا جہاد اکبر کہا گیا ہے۔
اور دوسری طرف سے اسلام دین صلح و سلامتی ہے اور سماج میں صلح اور سالمیت قائم رکھنے پر بہت زیادہ تاکید کرتا ہے اور جنگ کے دوران بھی جیسا کہ ذکر کیا گیا انسانی قدروں کی رعایت کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ اسلام کی نظر میں بے گناہ افراد کو قتل کرنا خواتین، بچوں بوڑھوں کو نقصان پہنچانا قطعا جائز نہیں ہے۔
 لہذا کیسے بعض لوگ جہاد کے نام پر دہشت گردانہ اقدامات انجام دے کر بچوں، عورتوں اور بے گناہ لوگوں کے قتل کا سامان فراہم کرتے ہیں اور اسے بعد بڑی آسانی سے اسے ’’جہاد اسلامی‘‘ کا عنوان دے دیتے ہیں؟! واضح ہے کہ یہ کام کسی بھی صورت میں اسلام کی نظر میں جائز نہیں ہے اور کسی بھی عنوان سے انسانی قتل عام ، بے گناہ لوگوں کو خون میں رنگین کرنا اور بچوں عورتوں کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانا  ’’اسلامی جہاد‘‘ نہیں کہلاتا۔ اور از خود ایسے حملے کرکے انہیں جہاد کی طرف نسبت دے دینا بالکل شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔
قرآن کریم سورہ تحریم کی آیت میں پیغمبر اکرم (ص) کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: “ يا ايها النبي جاهد الكفار و المنافقين و اغلظ عليهم “:  اے رسول کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ دوسری طرف پیغمبر اکرم (ص) سے منقول ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: میں مامور ہوا ہوں کہ اس وقت تک مشرکین کے ساتھ جنگ کروں جب تک کہ وہ توحید کا اقرار نہ کر لیں کہ خدائے واحد و لاشریک کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
اس آیت اور روایت دونوں کا مضمون بظاہر ابتدائی جہاد پر دلالت کرتا ہے لیکن ابتدائی جہاد کا اختیار ہرگز مسلمانوں کو نہیں دیا گیا ہے بلکہ یہ خطاب پیغمبر اکرم (ص) کی ذات سے مخصوص ہے کہ جو معصوم ہیں جو ہر طرح کی خطا اور اشتباہ سے محفوظ ہیں۔ چونکہ پیغمبر اکرم (ص) انسانی اور اخلاقی کمالات کے بلند ترین مراتب پر فائز ہیں اس لحاظ سے کچھ اوامر اور تکالیف ان کی ذات سے مخصوص ہیں کوئی دوسرا ان میں شریک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہم یہ کہتے ہیں ابتدائی جہاد کا اختیار صرف امام معصوم(ع) کو حاصل ہے غیر معصوم ابتدائی طور پر جنگ کا حکم نہیں دے سکتا۔ لہذا جب ابتدائی جہاد کی اسلام ہر انسان کو اجازت نہیں دیتا تو ٹروریزم اور دہشت گردی کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟ جس سے بے گناہ لوگوں کی بوٹیاں اڑائی جائیں اور انسانی حرمتوں کو پامال کیا جائے۔ یقینا جو لوگ اس قسم کے اقدامات کرتے ہیں جن کی نظر میں انسانی کی کوئی قدر نہیں ہے ان کا تعلق دین اسلام سے نہیں ہے چاہے وہ خود کو کسی بھی فرقے سے منسوب کرتے رہیں چاہے وہ خود کو بظاہر کتنے بھی مقدس و چوکدس پیش کرتے ہیں۔ ایسے افراد اسلام مخالف ایجنسیوں کی طرف سے اسلام کو بدنام کرنے کے لیے مسلمانوں کی صفوں میں لا کر کھڑے کئے گئے ہیں ورنہ دین مقدس اسلام سے ایسے افراد اور ان کے شرپسندانہ اقدامات کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و هفتم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری



مرحوم آیة اللہ میرزا محمد باقر فقیہ ایمانی کو عالمِ خواب میں امام حسن مجتبیٰ(ع) فرماتے ہیں:
''منبروں سے لوگوں کو کہیں اور انہیں حکم دیں کہ توبہ کریں اور امام زمانہ کے تعجیلِ ظہور کے لئے دعا کریں، آنحضرت کے لئے دعا نماز میت کی طرح واجب کفائی نہیں ہے کہ جو بعض کے انجام دینے سے باقی لوگوں سے ساقط ہو جائے ۔بلکہ پنجگانہ نمازوں کی طرح(واجب عینی) ہے کہ جو ہر بالغ شخص کے اوپر واجب ہے کہ وہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا کرے۔ (مکیال المکارم ،١،٤٣٨،بہ نقل منتخب صحیفہ مھدیہ،ص٢٤) 

بقلم: افتخار علی جعفری


 ہر مشکل کا راہ حل ’’دعا‘‘ انسان اگر اپنے وجود میں تھوڑی سی دقت کرے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ وہ اس عالم بیکراں کے اندر تن تنہا اُس صفر کے مانند ہے جسکا تعلق کسی ہندسہ سے نہ ہو۔ صفر اگر تنہا ہو تو اس کی کوئی حیثیت اور قیمت نہیں ہوتی ۔ صفر کا وجودمحض احتیاج ہے۔ صفر اپنی حیثیت بنانے اور اپنے وجود کو ظاہر کرنے میں ہندسہ کا محتاج ہے۔ اگر ہندسہ سے اپنا تعلق برقرار رکھے تو یہ صفر نہیں رہے گا بلکہ دس اور بیس کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ یہی حال ہے انسان کا۔ انسان بذات خود فقر محض اور احتیاج محض ہے انسان فقیر الی اللہ ہے''یا ایھا الناس  انتم الفقراء الی اللہ واللہ ھو الغنی''(سورہ فاطر،١٥)بذات خود اس کی کوئی حیثیت اور قیمت نہیں ۔اس لیے کہ اس کے پاس اپنا کچھ نہیں ۔سب کچھ اس کے مالک کا دیا ہوا ہے اگر اپنے مالک سے تعلق اور رابطہ برقرار رکھے گا تو اس کی قیمت یہ ہو گی کہ وہ کائنات کی ہر شے سے اشرف اور برتر ہو گا اور اگر اپنے اس رابطہ کو منقطع کر دیا تو ''بل ھم اضل'' اور '' اسفل السافلین '' کی منزل میں آجائے گا اور اس کی کوئی ارزش و قیمت نہیں رہے گی۔
اپنے خالق اور پالنے والے سے رابطہ اور تعلق برقرار رکھنے کے ذرایع میں سے ایک عمدہ ذریعہ ''دعا'' ہے۔ دعا کو ''کلام صاعد''کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ دعا بندہ کا وہ کلام ہوتا ہے جو خدا کی طرف صعود کرتا ہے۔ دعا خدا سے ہم کلام ہونے اور اس سے راز و نیاز کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
دعا انسان کا فطری تقاضا ہے۔دعا یعنی مانگنا،طلب کرنا ۔ایک بچہ دنیا میں قدم  رکھتے ہی رو کر ماں سے دودھ مانگتا ہے اور اپنی محتاجی کا اعلان کرتا ہے۔ اور مرتے دم تک دوسروں کا محتاج بنا رہتا ہے۔ اس دنیوی زندگی میں انسان کے پاس اورکوئی چارہ بھی نہیں ہے اگر کوئی باغیرت انسان پیدا ہو جائے جو یہ چاہے کہ بغیر کسی کی محتاجی اور کسی سے کچھ مانگے اس دنیا میں زندگی گذار لے تو شاید پیدا ہونے کے بعد ایک بھی دن زندہ نہ رہ سکے۔ اس لئے کہ کم سے کم زندہ رہنے کے لئے ماں کا محتاج ہونا پڑے گا۔غرض یہ کہ انسان ایسے عالم میں زندگی گذار رہا ہے جہاں ہر کام اسباب اور وسائل کے ذریعے انجام پاتا ہے۔ رزق مختلف ذرایع اور اسباب کے واسطے انسان تک پہنچتا ہے مریض ہوتا ہے تو ڈاکٹر اور دوا کے ذریعے شفا ملتی ہے۔ پیاس لگتی ہے تو پانی کے ذریعے بجھتی ہے۔لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ اسباب اور وسائل اصل نہیں ہیں ۔ان اسباب کو سببیت دینے والا اور اسباب فراہم کرنے والا کوئی اور ہے۔ رزق اور دوا کے اندر تاثیر پیدا کرنے والا کوئی اور ہے۔ وہ نہ چاہے تو کھیت کے اندر بوئے ہوئے دانے کو دنیا کی کوئی طاقت اگا نہیں سکتی ۔وہ ہمیں سیر کرنا نہ چاہے تو ہم کتنا کھاتے رہیں سیر نہیں ہو سکتے ۔پانی پیتے رہیں کبھی پیاس نہیں بجھ سکتی ۔دوا ڈاکٹر نے دی مگر شفا دینے والا کوئی اور ہے۔ وہ شفا نہ دینا چاہے تو دوا کوئی اثر نہیں کر سکتی۔نازک مسئلہ یہ ہے کہ انسان ظاہری اسباب اور وسائل میں کھو جاتا ہے اور ان کے حقیقی مؤثر کی طرف متوجہ نہیں ہوتا جبکہ ’’لا موثر فی الوجود الا اللہ‘‘۔کمال تو یہ ہے کہ انسان ڈاکٹر سے دوا لے لیکن شفا خدا سے طلب کرے۔کھیت میں کام کرے لیکن رزق خدا سے طلب کرے۔ہر چیز کا مطالبہ اس سے کرے۔ اسے اچھا نہیں لگتا کہ اس کا بندہ اس کے علاوہ کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ خداوند عالم نے جناب موسیٰ  (ع) سے کہا:
''یا موسیٰ سلنی کل ما تحتاج الیہ حتی علف شاتک و ملح عجینک''۔(بحار،٩٣،٣٠٣)اے موسیٰ اپنی ہر چیز حتی بکری کے لیے چارا اور اپنے کھانے کا نمک بھی مجھ سے مانگو۔
رسول خدا (ص) فرماتے ہیں : ''  لیسأل احدکم ربہ حاجتہ کلھا حتی یسألہ شسع نعلہ اذا انقطع''(بحار ،٩٣،٢٩٥) تم میں سے ہر کوئی اپنی حاجت کو خدا سے طلب کرے حتی اگر جوتے کے تسمے ٹوٹ جائیں تو وہ بھی خدا سے مانگے۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ جب سب کچھ دینے والا وہی ہے تو انسان کیوں نہ  ہر چیز اس سے مانگے ۔ اس سے مانگنے میں نہ کوئی عار ہے اور نہ کوئی ننگ۔ بلکہ انسان کے لئے باعث کمال اور فضیلت ہے کہ انسان ہمیشہ اپنا رابطہ اس سے برقرار رکھے اور اس کی بارگاہ میں دعا کرے۔ اور وہ سننے والا بھی ایسا ہے جو سب سے زیادہ انسان کے قریب ہے۔''اذا سألک عبادی عنی فانی قریب''( بقرہ،١٨٦) وہ انسان کی رگ گردن سے زیادہ اس کے قریب ہے۔''نحن اقرب الیہ من حبل الورید''(ق،١٦) وہ انسان اور اس کے قلب کے بیچ حائل  ہو جاتا ہے''انّ اللہ یحول بین المرء وقلبہ''(انفال ٢٤) اس نے وعدہ دیا ہے کہ تم مجھے پکارو میں جواب دوں گا '' ادعونی استجب لکم'' (مومن۔٦٠) ،اجیب دعوت الداع اذا دعان (بقرہ،١٨٦)۔ جب اس نے استجابت دعا کا وعدہ دیا ہے تو ہم کیوں نہ اس سے دعا مانگیں کیوں نہ ہر حال میں اسی کے آگے ہاتھ پھیلائیں اور رسول اسلام(ص) سے منقول ہے کہ ''دعا مغز عبادت ہے''(بحار ،ج٩٣ ص ٣٠٢) دعا کے بغیر عبادت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔دعا نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس سب کچھ ہے ہمیں خدا سے مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں اور یہ چیز عین کفر و استکبار ہے۔
دعا کی فضیلت
پیغمبر اکرم ۖفرماتے ہیں ''الدعاء افضل من قرائة القرآن''(المیزان ٢ ،٣٤)دعا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔قرآن کی تلاوت کا مطلب یہ ہے کہ خداہم سے ہم کلام ہو رہا ہے اس لئے کہ قرآن اس کا کلام ہے۔ لیکن دعا کا مطلب یہ ہے کہ ہم خدا سے اپنا رابطہ برقرار کرنا چاہتے ہیں ہم خدا سے ہم کلام ہونا چاہتے ہیں اور یقینا یہ عمل فضیلت کا حامل ہے۔ دوسری روایت میں آنجناب ۖسے منقول ہے ''الدعاء سلاح المومن وعمود الدین ونور السموات والارض''(کافی،٢،٤٦٨)دعا مومن کا اسلحہ ہے، دین کا ستون ہے اور زمین اور آسمانوں کا نور ہے۔امیر المومنین  فرماتے ہیں:'' نعم السلاح الدعاء''(غرر الحکم)سب سے بہترین اسلحہ دعا ہے۔
آج کے اس پیشرفتہ دور میں جہاں ایٹمی اسلحہ موجود ہو دعا کو ایک اسلحہ کے طور پر باور کرانا بہت سخت بات ہے اس لئے کہ اس اسلحے سے نہ شہروں کے شہر برباد کیے جا سکتے ہیں اور نہ ہزاروں جانیں لی جاسکتی ہیں ۔(مگر یہ کہ بدعا کا سہارا لیا جائے جس کی مثالیں طوفان نوح ،عذاب بنی اسرائیل وغیرہ) آج کے دور میں بہترین اسلحہ اسی کو کہا جاتا ہے جو ایک دفعہ کے وار سے ہزاروں جانیں اپنی لپیٹ میں لے اور دسیوں بستیاں اجاڑ دے۔ مگر آج دنیا والوں کو یہ حقیقت باور کر لینا چاہیے کہ ایک مومن اور خدا پرست انسان کے لئے سب سے بہترین اسلحہ ''دعا'' ہے۔جسکا مشاھدہ چند سال پہلے لبنان میں ہو چکا ہے۔ لبنان کی مقاوت اگر ایٹمی اسلحوں کے زور پر ہوتی تو اسرائیل ایٹمی اسلحے کے اعتبار سے دنیا میں چوتھا ملک ہے۔ لبنان تو اس کے مقابلے میں مٹھی بھر بھی نہیں تھا۔ مگر لبنان نے ایک عظیم کامیابی سے ہمکنار ہو کر اسرائیل کو یہ دکھلا دیا کہ جنگ صرف ایٹمی اسلحوں کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی،ہمارے پاس وہ اسلحہ موجود ہے جسکے سامنے تمہارے بڑے بڑے ایٹمی اسلحہ ماند پڑ جاتے ہیں،جسے ہمارے عظیم الشان پیغمبر(ص) نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیا ہے اور وہ ہے ''دعا''۔
دعا کے مستجاب ہونے کے شرائط
آیات کی نگاہ میں
الف:دعا خوف اور رجاء کے ساتھ کی جائے۔
''وادعوہ خوفا وطمعا انّ رحمة اللہ قریب من المحسنین''(شوریٰ،٢٦)
انسان کو ہمیشہ خوف اور رجا کے بیچ میں رہنا چاہیے نہ خدا سے صرف خوفزدہ اچھی چیز ہے اور نہ فقط رجاء اور امید رکھنا اور اس کے عذاب سے نہ ڈرنا۔  دعا کرتے وقت بھی انسان کو ان دو حالتوں کے بیچ کی حالت اختیار کرنا چاہیے۔
ب:دعا تضرع اور گریہ کی حالت میں اور تنھائی میں ہونا چاہیے۔
''ادعوا ربکم تضرعا و خفیة''(اعراف ،٥٥)
اپنے پروردگار کو پکارو تضرع کے ساتھ اور تنہائی میں۔
ج: دعا کے ساتھ ساتھ ایمان اور عمل صالح بھی ضروری ہے۔
''و یستجیب الذین آمنوا وعملوا الصالحات ویزید ھم من فضلہ''(شوریٰ ،٢٦)
وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اعمال صالح انجام دیتے ہیں ان کی درخواست (خدا) قبول کرتا ہے اور ان پر اپنا فضل اضافہ کرتا ہے۔
د: اخلاص
''فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین''(مومن،١٤)
خدا کو پکارو اپنے دین کو اس کے لئے خالص کر کے۔
اخلاص قبولیت اعمال کی شرط ہے وہ عمل جسمیں اخلاص اور للٰہیّت نہ ہو خدا اس کو پسند نہیں کرتا ۔

روایات کی نگاہ میں
الف:معرفت خداوند
قال قوم للصادق  ''ندعوا فلا یستجاب لنا؟'' ''قال  لانکم تدعون من لا تعرفونہ''(بحار ٩٣،٣٧٦)
ایک گروہ نے امام صادق(ع) سے کہا : ہم دعا کرتے ہیں قبول نہیں ہوتی؟ امام نے فرمایا:تم اسے پکارتے ہو جس کی نسبت تمہیں معرفت نہیں ہے۔
انسان کے پاس خدا کی معرفت جتنی زیادہ ہوتی ہے اتنا اسے اپنا فقیر ہونا اورخدا کا محتاج ہونا زیادہ محسوس ہوتا ہے جس کی بنا پر زیادہ خدا سے متوسل ہوتا ہے اور دعا مانگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور آئمہ معصومین (ع) زیادہ خدا سے دعا مانگتے رہے ہیں۔ انہیں جتنی خدا کی معرفت ہوتی ہے اتنا اس سے اپنا رابطہ اور رشتہ محکم کرتے ہیں ۔اور جب وہ ہمیشہ خدا سے اپنا رشتہ جوڑے رکھتے ہیں تو خدا بھی ان کی باتوں کو سنتا ہے اور ان کی دعاوں کو مستجاب کرتا ہے۔
ب:عمل صالح
قال رسول اللہ ۖ:''یکفی من الدعا ء مع البرّ ما یکفی الطعام من الملح''(بحار٩٣،٣٧٦)
پیغمبر اکرم ۖفرماتے ہیں:دعا نیک عمل کے ساتھ ایسے ہے جیسے کھانے میں نمک ہو۔
ج:حلال رزق
قال رسول اللہ(ص) لمن قال لہ احب ان یستجاب دعائی''طھر مأکلک و لا تدخل فی بطنک الحرام''(وہی)
پیغمبر اکرم ۖ نے اس شخص کو جو یہ کہہ رہا تھا میں چاہتا ہوں کہ میری دعا قبول ہو،ارشاد فرمایا:اپنی غذا کو پاک کرو اور اپنے پیٹ میں حرام کو داخل مت کرو۔
لقمہ حرام انسان کی زبان کو بے تاثیر بنا دیتا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ ایک لقمہ حرام کھانے سے چالیس دن تک انسان کی دعا قبول نہیں ہوتی اور اگر انسان زندگی بھر مال حرام کھاتا رہے تو ایسے شخص کی دعا تو بالکل قبول نہیں ہو سکتی ۔وہ افراد جو سالانہ خمس نہیں نکالتے سہم امام اور سہم سادات کو اپنے مال سے الگ نہیں کرتے اور ان کے غاصب بنے رہتے ہیں وہ لقمہ حرام اپنے پیٹ میں بھرتے ہیں ایسے افراد کو کبھی بھی قبولیت دعا کی توقع نہیں رکھنا چاہیے۔
د:حضور قلب
''ان اللہ لا یستجیب دعاء بظھر قلب ساہ فاذا دعوت فاقبل بقلبک ثم استیقن بالاجابہ''(کافی ٢،٣٧٣)
اس شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی جس کا دل خدا کی طرف متوجہ نہ ہو جب بھی خدا کو پکارو تو حضور قلب سے پکارو پھر یقین کر لو کہ دعا قبول ہو گی۔

چار طرح کے لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی
امام صادق  فرماتے ہیں : چار گروہ ایسے ہیں جن کی دعا قبول نہیں ہوتی:
پہلا گروہ وہ لوگ ہیں جو گھر میں بیٹھے ہوں اور دعا کریں خدایا ہمیں رزق عطا کر۔ خدا ان سے کہتا ہے کیا میں نے تمہیں کام کرنے کا حکم نہیں دیا؟۔
دوسرا گروہ وہ لوگ  ہیں جن کی بیویاں صالح نہ ہوں اور وہ ان کو برا بھلاکہتے اور مار پیٹ کرتے ہوں ۔خدا ان سے کہتا ہے کیا میں نے تمہیں ایسے موقع پر طلاق کا حکم نہیں دیا؟۔
تیسرا گروہ وہ افراد ہیں جو مال وثروت رکھتے ہیں لیکن اس کو اسراف اور حرام کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور پھر دعا کرتے ہیں خدایا ہمیں رزق عطا کر۔خدا ان سے کہتا ہے کیا میں نے قناعت سے کام لینے کو نہیں کہا تھا؟۔
اور چوتھا گروہ وہ لوگ ہیں جو اپنا مال بغیر گواہ کے قرض دیتے ہیں (اور جب واپس نہیں ملتا تو پریشان ہوتے ہیں اور دعا کرتے ہیں)خدا ان سے کہتا ہے کیا میں نے گواہ بنانے کا حکم نہیں دیا تھا ؟۔

کون سی دعا کرنا چاہیے؟
آج کے دور میں سب سے اہم دعا امام زمانہ (ع) کے ظہورکی دعا ہے۔ آقائے تہرانی ایرانی ٹیلیویژن سے آیة اللہ بہجت سے یہ واقعہ نقل کر رہے تھے:مسجد کوفہ میں ایک شخص بہت تضرع ،گریہ و زاری اور خلوص کے ساتھ دعا کر رہا تھا اور اپنی ایک ایک مشکل کو بارگاہ خداوندی میں عرض کر رہا تھا کہ اتنے میں ایک جوان اس شخص کی پیٹھ کی پیچھے آکر کھڑا ہو گیا اور اس کا شانہ ہلا کر کہتا ہے ''اے بندہ خدا اتنی سب مشکلات گنوانے کے بجائے میرے ظہور کے لئے دعا کر تو تمہاری یہ تمام مشکلات حل ہو جائیں گی''۔یقینا ایسا ہی ہے امام زمانہ (ع) کا ظہور ہی تمام مشکلات کا حل ہے اور بس۔
صاحب ''مکیال المکارم ''امام زمانہ (ع) کے ظہور کیلئے دعا کرنے کے سلسلے میں فرماتے ہیں :جیسا کہ آیات اور روایات سے ثابت ہے دعا عبادتوں کی ایک قسم ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اہم ترین اور باعظمت ترین دعا،اس شخص کے لئے دعا ہے جس کے حق اور اس کے ظہور کے لئے دعا کرنے کو ہمارے اوپر واجب قراردیا ہے اور جسکے وجود کی برکتوں سے خداوند عالم کی نعمتیں اس کی مخلوقات تلک پہنچتی ہیں ۔(مکیال المکارم،١،٤٣٨)
مرحوم آیةاللہ میرزا محمد باقر فقیہ ایمانی کو عالمِ خواب میں امام حسن مجتبیٰ(ع)  فرماتے ہیں:
''منبروں سے لوگوں کو کہیں اور انہیں حکم دیں کہ توبہ کریں اور امام زمانہ کے تعجیلِ ظہور کے لئے دعا کریں، آنحضرت کے لئے دعا نماز میت کی طرح واجب کفائی نہیں ہے کہ جو بعض کے انجام دینے سے باقی لوگوں سے ساقط ہو جائے ۔بلکہ پنجگانہ نمازوں کی طرح(واجب عینی) ہے کہ جو ہر بالغ شخص کے اوپر واجب ہے کہ وہ امام زمانہ کے ظہور کے لئے دعا کرے۔ (مکیال المکارم ،١،٤٣٨،بہ نقل منتخب صحیفہ مھدیہ،ص٢٤)
اس روایت کی روشنی میں مومنین کے اوپر واجب ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے آقا و مولا امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کے لئے دعا کریں ۔خدایا اپنی آخری حجت کے صدقے میں ان کے ظہور میں تعجیل فرما اور ہمیں ان کے اعوان و انصار میں شامل فرما۔ آمین


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و هفتم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری


اقتباس از کتاب : المیہ جمعرات
مصنف: محمد تیجانی سماوی (تیونس)


حضرت علی علیہ السلام کے طرز زندگی کے بعد ہمیں اس بات کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان کے حریفوں کے کردار کا تذکرہ کریں کیونکہ "تعرف الاشیاء باضدادھا "چیزوں کی پہچان ا ن کے متضاد سے ہوتی ہے ۔
اسی قاعدہ کے پیش نظر ہم امیر المومینین کے بد ترین مخالف کے کردار کی تھوڑی جھلکیاں پیش کرنا چاہتے ہیں ۔کیونکہ اگر شب تاریک کی ہولناکی نہ ہو تو روز روشن کی عظمت واضح نہیں ہوسکتی اور اگر کسی نے تپتی ہوئی دھوپ کو سرے سے دیکھا ہی نہ ہو تو اس کے لئے نخلستان کی ٹھنڈی چھاؤں کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل ہوجائے گا ۔
اسی طرح سے جس کو ابو جہل کی خباثت کا علم نہ ہو اسے محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وآلہ سلم رافت کا صحیح علم نہ ہوسکے گا اور جب تک کردار معاویہ پیش نظر نہ ہو اس وقت تک علی علیہ السلام کی عدالت اجتماعی کی قدر منزلت کاپتہ نہیں لگ سکے گا ۔
حقیقت تو یہ ہے کہ علی کا معاویہ سے موازنہ کرنا ضدین کے مابین موازنہ قرار پاتا ہے اور حضرت علی (ع) اور معاویہ کے کردار میں زمین وآسمان کا فرق ہے ۔
مختصر الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی زندگی جس قدر عدل اجتماعی کے لئے وقف تھی ۔ویسے ہی معاویہ کی پوری زندگی بے اصولی اور لوٹ مار اور بے گناہوں کے قتل عام کے لئے وقف تھی ۔ حضرت علی علیہ السلام رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحیح جانشین تھے ۔ اسی طرح سے معاویہ اپنے باپ کے کردار وفضائل کا صحیح جانشین تھا ۔حضرت علی علیہ السلام حضرت فاطمہ بنت اسد (رض) اور حضرت خدیجہ (رض) کی صفات جمیلہ کے وارث تھے جبکہ معاویہ اپنی ماں ہند جگر خوار کی خوانخوار عادات کا وارث تھا ۔
معاویہ نے مکر وفریب سے اپنا مقصد کیا اور امت اسلامیہ آج تک اس کے منحوس اثرات سے نجات حاصل نہیں کرسکی ۔
معاویہ نے قبائلی عصبیتوں کو ازسرنو زندہ کیا اور مجرمانہ ذہنیت کو جلا بخشی جس کے شعلوں کی تپش آج بھی امت اسلامیہ اپنے بدن میں محسوس کررہی ہے ۔ ہم نے اس فعل میں اس کے کردار کی چند جھلکنا پیش کی ہیں تاکہ انصاف پسند اذہان علی علیہ السلام اور معاویہ کی سیاست کے فرق کو سمجھ سکیں
وبضدّھا تتبین الاشیاء

حضرت حجر بن عدی کا المیہ
مورخ ابن اثیر تاریخ کامل لکھتے ہیں :-
51 ہجری میں حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کو قتل کیا گیا ۔ اور اس کا سبب یہ کہ معاویہ نے 41 ہجری میں مغیرہ بن شعبہ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے ہدایت کی کہ :- " میں تجھے بہت سی نصتیںہں کرنا چاہتا تھا لیکن تیری فہم وفراست پر اعتماد کرتے ہوئے میں زیادہ نصحیتیں نہیں کروں گا لیکن ایک چیز کی خصوصی طور پر تجھے نصیحت کرتا ہوں ۔ علی کی مذمت اور سبّ وشتم سے کبھی باز نہ آنا اور عثمان کے لئے دعا ئے خیر کو کبھی ترک نہ کرنا اور علی کے دوستوں پر ہیشہا تشدد کرنا اور عثمان کے دوستوں کو اپنا مقرب بنانا اور انہیں عطیات سے نوازنا "
مغیرہ نے معاویہ کے حکم پر پورا عمل کیا وہ ہمیشہ حضرت علی علیہ السلام پر سب و شتم کرتا تھا اور حضرت حجر بن عدی اسے برملا ٹوک کر کہتے تھے کہ لعنت اور مذمت کا حق دار تو اور تیرا امیر ہے اور جس کی تم مذمت کررہے ہو وہ فضل وشرف کا مالک ہے ۔مغیرہ نے حجر بن عدی اور اس کے دوستوں کے وظائف بند کردئیے حضرت حجر کہا کرتے تھے کہ بندہ خدا ! تم نے ہمارے عطیات ناحق روک دئیے ہیں تمہیں ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ ہمارے عطیات بحال کرو ۔
مغیرہ مرگیا اور اس کی جگہ زیاد بن ابیہ کوفہ کا گورنر مقرر ہوا ۔ زیادہ نے بھی معاویہ اور مغیرہ کی سنت پر مکمل عمل کیا اور وہ بد بخت امیرالمومنین علیہ السلام پر سبّ وشتم کرتا تھا ۔ حجر بن عدی ہمیشہ حق کا دفاع کرتے تھے ۔زیاد نے حجر بن عدی اور ان کے بارہ ساتھوئں کو گرفتار کرکے زندان بھیج دیا اور ان کے خلاف ان کے "جرائم" کی تفصیل لکھی اور چار گواہوں کے دستخط لئے اور حضرت حجر بن عدی کی مخالفت میں جن افراد نے دستخط کئے تھے ان میں طلحہ بن عبیداللہ اکے دو بیٹے استحاق اور موسی اور زبیر کا بیٹا منذرعماد بن عقبہ بن ابی معیط سر فہرست تھے پھر زیادہ نے قیدیوں کو وائل بن حجر الحضرمی اور کثیر بن شہاب کے حوالے کرکے انہیں شام بھیجا۔
زیاد کے دونوں معتمد قیدیوں کو لے کر شام کی طرف چل پڑے جب "مقام غریین" پر یہ قافلہ پہنچا تو شریح بن بانی ان سے ملا اور وائل کو خط لکھ کر دیا کہ یہ خط معاویہ تک پہنچا دینا ۔ قیدیوں کا قافلہ شام سے باہر" مرج عذرا" کے مقام پر پہنچا تو قیدیون کو وہاں ٹھہرایا گاع اور وائل اور کثیر زیاد کا خط لے کر معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ کو زیاد کا خط دیا جس میں زیاد نے تحریر کیا تھا کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھی آپ کے شدید دشمن ہیں اور ابو تراب کے خیر خواہ ہیں اور حکومت کے کسی فرمان کو خاطر میں نہیں لاتے یہ لوگ کوفہ کی سرزمین کو آپ کے لئے تلخ بنانا چاہتے ہیں لہذا آپ جو مناسب سمجھیں انہیں سزا دیں تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت حاصل ہوسکے ۔اس کے بعد وائل نے شریح بن ہانی کا خط معاویہ کے حوالے کیا جس میں تحریر تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے زیاد نے اپنے محضر نامہ میں میری گواہی بھی لکھی ہے اور حجر کے متعلق میری گواہی یہ ہے کہ یہ ان لوگوں میں سے ہے جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکواۃ دیتے ہیں اور حج وعمرہ کرتے ہیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ اس کا خون اور مال تم پر حرام ہے ۔
زیادنے جن محبان علی کو گرفتار کیا تھا ان کے نام درج ذیل ہیں
(1):- حجر بن عدی کندی (2):- ارقم بن عبداللہ کندی (3):- شریک بن شداد حضرمی (4):- صیفی بن فسیل شیبانی (5):- قبیصہ بن صنیع عبسی (6):- کریم بن عفیف خثمی (7):- عاصم بن عوف بجلی (8) :- ورقا بن سمی بجلی (9):- کدام بن حسان عنزی (10):- عبدالرحمن بن حسان غزی (11):- محرر بن شہاب تمیمی (12:- عبداللہ بن حویہ سعدی ۔
درج بالا بارہ افراد کو پہلے گرفتار کیا گیا تھا اس کے بعد دو افراد عتبہ بن اخمس سعد بن بکر اور سعد بن نمران ہمدانی کو گرفتار کرے کے شام بھیجا گیا تو اس طرح سے ان مظلوموں کی تعداد چودہ ہوگئی ۔
حضرت حجر بن عدی کے واقعہ کو مورخ طبری نے یوں نقل کیا ہے :-
قیس بن عباد شیبانی زیاد کے پاس آیا اور کہا ہماری قوم بنی ہمام میں ایک شخص بنام صیفی بن فسیل اصحاب حجر کا سرگروہ ہے اور آپ کا شدید ترین دشمن ہے ۔زیاہ نے اسے بلایا ۔جب وہ آیا تو زیاد نے اس سے کہا کہ "دشمن خدا تو ابو تراب کے متعلق کیا کہتا ہے "؟
اس نے کہا کہ میں ابو تراب نام کے کسی شخص کو نہیں پہنچاتا ۔
زیاد نے کہا!کیا تو علی ابن ابی طالب کو بھی نہیں پہچانتا ؟
صیفی نے کہا:- جی ہاں میں انہیں پہچانتا ہوں ۔زیاد نے کہا ! وہی ابو تراب ہے ۔
صیفی نے کہا!ہرگز نہیں وہ حسن اور حسین کے والد ہیں ۔
پولیس افسر نے کہا کہ امیر اسے ابو تراب کہتا ہے اور تو اسے والد حسنین کہتا ہے؟ حضرت صیفی نے کہا کہ تیرا کیا خیال ہے اگر امیر جھوٹ بولے تو میں بھی اسی کی طرح جھوٹ بولنا شروع کردوں ؟
زیاد نے کہا ! تم جرم پر جرم کررہے ہو ۔میرا عصا لایا جائے ۔
جب عصا لایا گیا تو زیاد نے ان سے کہا کہ اب بتاؤ ابو تراب کے متعلق کیا نظریہ رکھتے ہو؟
صیفی نے فرمایا ! میں ان کے متعلق یہی کہوں گا کہ وہ اللہ کے صالح ترین بندوں میں سے تھے ۔
یہ سن کر زیادہ نے انہیں بے تحاشہ مارا اور انہیں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جب زیاد ظلم کرکے تھک گیا تو پھر حضرت صیفی سے پوچھا کہ تم اب علی کے متعلق کیاکہتے ہو؟
انہوں نے فرمایا ! اگرمیرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے بھی کردئیے جائں تو بھی میں ان کے متعلق وہی کہوں گا جو اس سے پہلے کہہ چکا ہوں ۔ زیاد نے کہا تم باز آجاؤ ورنہ میں تمہیں قتل کردوں گا ۔
حضرت صیفی نے فرمایا کہ اس ذریعہ سے مجھے درجہ شہادت نصیب ہوگا اور ہمیشہ کی بد بختی تیرے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے گی ۔
زیاد نے انہیں قید کرنے کا حکم کردیا ۔چنانچہ انہیں زنجیر پہنا کر زندان بھیج دیا گیا ۔بعد از اں زیاد نے حضرت حجر بن عدی اور ان کے دوستوں کے خلاف فرد جرم کی تیار کی اور ان مظلوم بے گناہ افراد کے خلاف حضرت علی علیہ السلام کے بدترین دشمنوں کے اپنے دستخط ثبت کئے ۔ابو موسی کے بیٹے ابو بردہ اپنی گواہی میں تحریر کیا کہ " میں رب العالمین کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کرلی اور امیر کی اطاعت سے انحراف کیا ہے اور لوگوں کو امیر المومنین معاویہ کی بیعت توڑنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہوں نے لوگوں کو ابو تراب کی محبت کی دعوت دی ہے ۔
زیادہ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ باقی افراد بھی اسی طرح کی گواہی تحریر کریں ۔میری کوشش ہے کہ اس خائن احمق کی زندگی کا چراغ بجھا دوں ۔
عناق بن شر جیل بن ابی دہم التمیمی نے کہا کہ میری گواہی بھی ثبت کرو ۔مگر زیاد نے کہا ! نہیں ہم گواہی کے لئے قریش کے خاندان سے ابتدا کریں گے اور اس کے ساتھ ان معززین کی گواہی درج کریں گے جنہیں معاویہ پہچانتا ہو ۔
چنانچہ زیاد کے کہنے پر اسحاق بن طلحہ بن عبیداللہ اور موسی بن طلحہ اور اسماعیل بن طلحہ اور منذر بن زبیر اور عمارہ بن عقبہ بن ابی معیط ،عبدالرحمان بن ہناد ،عمربن سعد بن ابی وقاص ،عامر بن سعود بن امیہ ،محرز بن ربیعہ بن عبدالعزی ابن عبدالشمس ،عبیداللہ بن مسلم حضرمی ، عناق بن وقاص حارثی نے دستخط کئے
ان کے علاوہ زیاد نے شریح قاضی اور شریح بن ہانی حارثی کی گواہی بھی لکھی قاضی شریح کہتا ہے تھا کہ زیاد نے مجھ سے حجر کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا تھا کہ وہ قائم اللیل اور صائم النہار ہے ۔
شریح بن ہانی حارثی کو علم ہوا کہ محضر نامہ میں میری بھی گواہی شامل ہے تو وہ زیاد کے پاس آیا اور اسے ملامت کی اور کہا کہ تو نے میری اجازت اور علم کے بغیر میری گواہی تحریر کردی ہے میں دنیا وآخرت میں اس گواہی سے بری ہوں ۔ پھروہ قیدیوں کے تعاقب میں آیا اور وائل بن حجر کو خط لکھ دیا کہ میرا یہ خط معاویہ تک ضرور پہچانا ۔اس نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ زیادہ نے حجر بن عدی کے خلاف میری گواہی بھی درج کی ہے تو معلوم ہو کہ حجر کے متعلق میری گواہی یہ کہ وہ نماز پڑھتا ہے ،زکواۃ دیتا ہے ، حج وعمرہ بجا لاتا ہے ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہے ، اس کی جان ومال انتہائی محترم ہے ۔
قیدیوں کو دمشق کے قریب "مرج عذرا " میں ٹھہرا یا گیا اور معاویہ کے حکم سے ان میں سے چھ افراد کو قتل کردیاگیا ۔ ان شہیدان راہ حق کے نام یہ ہیں –
(1):- حجربن عدی رضی اللہ عنہ (2):- شریک بن شداد حضرمی (3):- صیفی بن فسیل شیبانی (4):- قبیصہ بن ضبیعہ عبسی(5):- محرز بن شہاب السعدی (6):- کدام بن حیان الغزی رضی اللہ عنھم اجمعین ۔
اس کے علاوہ عبدالرحمن بن حسان عنزی کو دوبارہ زیاد کےپاس بھیجا گیا اور معاویہ نے زیاد کو لکھا کہ اسے بد ترین موت سے ہمکنار کرو ۔زیاد نے انہیں زندہ دفن کرادیا (1)۔

خدا کی رحمت کند این عاشقان پاک طینت را
حضرت حجر اور ان کے ساتھیوں کی شہادت پر ہند بنت زید نے یہ مرثیہ پڑھا تھا :-
ترفع ایھا القمر المنیر ۔۔۔ تبصر ھل تری حجر الیسیر
یسیر الی معاویۃ بن حرب ۔۔۔ لیقتلہ کما زعم الامیر
الا یا حجر حجر بن عدی ۔۔۔ ترفتک السلامۃ والسرور
یری قتل الخیار علیہ حقا ۔۔۔ لہ شر امتہ وزیر
"اے قمر منیر! دیکھو تو سہی حجر جارہا ہے ۔حجر معاویہ بن حرب کے پاس جارہا ہے ۔امیر زیاد کہتا ہے کہ معاویہ اسے قتل کرےگا ، اے حجر بن عدی !تجھے ہمیشہ سلامتی اور خوشیاں نصیب ہوں ،معاویہ شریف لوگوں کو قتل کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے اور امت کا بد ترین شخص اس کا وزیر ہے ۔"
ڈاکٹر طہ حسین لکھتے ہیں :-
ایک مسلمان حاکم نے اس گناہ کامباح اور اس بدعت کو حلال سمجھا اپنے لئے کہ ایسے لوگوں کو موت کی سزا دیدے جس کے خون کی اللہ نے حفاظت چاہی تھی اور پھر موت کا حکم بھی حاکم نے ملزموں کو بلا دیکھے اور ان کی کچھ سنے اور ان کو اپنے دفاع کا کچھ حق دیئے بغیر دیدیا ۔حالانکہ انہوں نے باربار مطلع کیا کہ انہوں نے حاکم کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا ۔
اس سانحہ نے دور دور کے مسلمانوں کے دل ہلادیئے ۔حضرت عائشہ کو جب معلوم ہوا کہ اس جماعت کو شام بھیجا جا رہا ہے تو انہوں نے عبدالرحمن بن حارث ابن ہشام کو معاویہ کے پاس بھیجا کہ ان کے بارے میں اس سے گفتگو کریں ۔ لیکن جب عبدالرحمن پہنچے تو یہ جماعت شہید ہوچکی تھی ۔
اسی طرح عبداللہ بن عمر کو جب اس دردناک واقعہ کی اطلاع ملی تو انہوں نے عمامہ سر سے اتارکر لوگوں سے اپنا رخ پھیر لیا اور رونے لگے اور لوگوں نے ان کے رونے کی آواز سنی ۔
حجر کا قتل ایک سانحہ ہے ۔ اس دور کے بزرگوں میں سے کسی نے اس بات پر شک نہیں کیا کہ کہ یہ قتل اسلام کی دیوار میں ایک شگاف تھا اور معاویہ کو بھی اس کا اعتراف تھا چنانچہ وہ اسے اپنے آخری دنوں تک حجر کو نہ بھول سکا اور مرض الموت میں سب سے زیادہ اسے یاد کیا ۔مورخوں اور راویوں کا بیان ہے کہ معاویہ مرض الموت میں کہتا تھا :-حجر تو نے میری آخرت خراب کردی ۔ ابن عدی کے ساتھ میرا حساب بہت لمبا ہے ۔"(2)

غدر معاویہ کے دیگر نمونے
معاویہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے انسانی قدروں کو پامال کرنےمیں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا ۔
اس نے حضرت مالک اشتر کے متعلق سنا کہ حضرت علی نے انہیں محمد بن ابی بکر کی جگہ مصر کا گورنر مقررکیا ہے تو اس نے ایک زمین دار سے ‎سازش کی کہ اگر تو نے مصر پہنچنے سے پہلے مالک کو قتل کردیا تو تیری زمین کا خراج نہیں لیا جائے گا ۔
چنانچہ جب حضرت مالک اس علاقے سے گزرے تو اس نے انہیں طعام کی دعوت دی اور شہد میں زہر ملا کر انہیں پیش کیا ۔جس کی وجہ سے حضرت ومالک شہید ہوگئے۔
اس واقعہ کے بعد معاویہ اور عمرو بن العاص کہا کرتے تھے کہ شہد بھی اللہ کا لشکر ہے ۔امام حسن مجتبی علیہ السلام سے معاہدہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور حضرت حسن عیہ السلام کی زوجہ جعدہ بنت اشعث سے ساز باز کی کہ اگر وہ انہیں زہر دے کر شہید کردے تو اسے گراں قدر انعام دیاجائے گا اور اس کی شادی یزید سے کی جائے گی ۔
امام حسن علیہ السلام کی بیوی نے معاویہ کی انگیخت پر انہیں زہر دیا جس کی وجہ سے وہ شہید ہوئے ۔
مورخ مسعودی لکھتے ہیں کہ ابن عباس کسی کام سے شام گئے ہوئے تھے اور مسجد میں بیٹھے تھے کہ معاویہ کے قصر خضرا ء
سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی ۔آواز سن کر معاویہ فاختہ بنت قرظہ نے پوچھا کہ آپ کو کونسی خوشی نصیب ہوئی ہے ۔ جس کی وجہ سے تم نے تکبیر کہی ہے ؟ تو معاویہ نے کہا ! حسن کی موت کی اطلا ع ملی ہے ۔ اسی لئے میں نے باآواز بلند تکبیر کہی ہے ۔(3)

زیاد بن ابیہ کا الحاق
زیاد ایک ذہین اور ہوشیار شخص تھا ۔ حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں ان کا عامل تھا ۔ معاویہ اپنی شاطرانہ سیاست کے لئے زیاد کو اپنے ساتھ ملانا چاہتا تھا اور اس نے زیاد کو خط لکھا کہ تم حضرت علی علیہ السلام کو چھوڑ کر میرے پاس آجاؤ کیونکہ تم میرے باپ ابو سفیان کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہو ۔
زیاد کے نسب نامہ میں اس کی ولدیت کا خانہ خالی تھا ۔اسی لئے لوگ اسے زیاد بن ابیہ ۔یعنی زیاد جو اپنے باپ کا بیٹا ہے ، کہہ کر پکارا کرتے تھے ۔
حضرت علی علیہ السلام کو جب معاویہ کی اس مکاری کا علم ہوا تو انہوں نے زیاد کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے لکھا ۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ معاویہ تمہاری طرف خط لکھ کر تمہاری عقل کو پھسلانا اور تمہاری دھار کو کند کرنا چاہا ہے ۔ تم اس سے ہوشیار رہو کیونکہ وہ شیطان ہے جو مومن کے آگے پیچھے اور داہنی بائیں جانب سے آتا ہے تاکہ اسے غافل پاکر اس پر ٹوٹ پڑے اور اس کی عقل پر چھاپہ مارے ۔واقعہ یہ ہے کہ عمر بن خطاب کے زمانہ میں ابو سفیان کے منہ سے بے سوچے سمجھے ایک بات نکل گئی تھی جو شیطان وسوسوں مںہ سے ایک وسوسہ تھی ۔ جس سے نہ نسب ثابت ہوتا ہے اور نہ وارث ہونے کا حق پہنچتا ہے ۔ جو شخص اس بات کا سہارا لے کر بیٹھے وہ ایسا ہے جیسے بزم مے نوشی میں مبتلا بن بلائے آنے والا کہ اسے دھکے دے کر باہر کیا جاتا ہے یا زین فرس میں لٹکے ہوئے اس پیالے کی مانند جو ادھر سے ادھر تھرکتا رہتا ہے (4)۔
مسعودی ذکر کرتے ہیں کہ :-
40 ہجری میں معاویہ نے زیاد کو اپن بھائی بنا لیا اور گواہی کے لئے زیاد بن اسماء مالک بن ربیعہ اور منذر بن عوام نے معاویہ کے دربار میں زیاد کے سامنے گواہی دی کہ ہم نے ابو سفیان کی زبانی سنا تھا کہ زیاد نے میرے نطفہ سے جنم لیا ہے ۔اور ان کے بعد ابومریم سلولی نے درج ذیل گواہی دی کہ زیاد کی ماں حرث بن کلدہ کی کنیز تھی اور عبید نامی ایک شخص کے نکاح میں تھی طائف کے محلہ "حارۃ البغایا" میں بدنام زندگی گزار تی تھی اور اخلاق باختہ لوگ وہاں آیا جایا کرتے تھے اور ایک دفعہ ابو سفیان ہماری سرائے میں آکر ٹھہرا اور میں اس دور میں مے خانہ کا ساقی تھا ۔ ابو سفیان نے مجھ سے فرمائش کی کہ میرے لئے کوئی عورت تلاش کرکے لے آؤ ۔
میں نے بہت ڈھونڈھا مگر حارث کی کنیز سمیہ کے علاوہ مجھے کوئی عورت دستیاب نہ ہوتی ۔ تو میں نے ابو سفارن کو بتایا کہ ایک کالی بھجنگ عورت کے علاوہ مجھے کوئی دوسری عورت نہیں ملی ۔ تو ابو سفیان نے کہا ٹھیک ہے وہی عورت ہی تم لاؤ ۔
چنانچہ میں اس رات سمیہ کو لے کر ابو سفیان کے پاس گیا اور اسی رات کے نطفہ سے زیادکی پیدائش ہوئی ۔ اسی لئے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ معاویہ کا بھائی ہے ۔ اس وقت سمیہ کی مالکہ صفیہ کے بھائی یونس بن عبید نے کھڑے ہو کر کہا ۔
معاویہ ! اللہ اور رسول کا فیصلہ ہے کہ " بچہ اسی کا ہے جس کے گھر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں " اور تو فیصلہ کررہا ہے کہ بیٹا زانی کا ہے ۔یہ صریحا کتاب خدا کی مخالفت ہے ۔عبدالرحمن بن ام الحکم نے اس واقعہ کو دیکھ کریہ شعر کہے تھے :-
الا بلغ معاویہ بن حرب ۔۔۔ مغلغۃ من الرجل الیمانی
اتغضب ان یقال ابوک عف--- وترضی ان یقال ابوک زانی
فاشھد ان رحمک من زیاد ۔۔۔ کرحم الفیل من ولد الاتان
" ایک یمنی آدمی کا پیغام معاویہ بن حرب کو پہنچادو ۔ کیا تم اس بات پر غصّہ ہوتے ہو کہ تمہارے باپ کو پاک باز کہا جائے اور اس پر خوش ہوتے ہو کہ اسے زانی کہا جائے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا زیاد سے وہی رشتہ ہے جو ہاتھی کا گدھی کے بچے سے ہوتا ہے ۔"
ابن ابی الحدید نے اپنے نے اپنے شیخ ابو عثمان کی زبانی ایک خوبصورت واقعہ لکھا ہے :
"جب زیاد معاویہ کی طرف سے بصرہ کا گورنر تھا اور تازہ تازہ ابو سفیان کا بیٹا بنا تھا اس دور میں زیاد کا گزر ایک محفل سے ہوا جس میں ایک فصیح وبلیغ نابینا ابو العریان العددی بیٹھا تھا ۔ ابو العریان نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ گزرے ہیں ؟
تو لوگوں نے اسے بتایا زیاد بن ابی سفیان اپنے مصاحبین کے ساتھ گزرا ہے ۔ تو اس نے کہا ! اللہ کی قسم ابو سفیان نے تو یزید ،معاویہ ،عتبہ، عنبہ ،حنظلہ اور محمد چھوڑے ہیں ۔ یہ زیاد کہاں سے آگیا ؟
اس کی یہی بات زیاد تک پہنچی تو زیاد ناراض ہوا ۔کسی مصاحب نے اسے مشورہ دیاکہ تم اسے ‎سزا نہ دو بلکہ اس کا منہ دولت سے بند کردو۔
زیاد نے دوسو دینار اس کے پاس روانہ کئے ۔ دوسرے دن زیاد اپنے مصاحبین سمیت وہاں سے گزرا اور اہل محفل کو سلام کیا ۔
نابینا ابو العریان اسلام کی آواز سن کر رونے لگا۔ لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ! زیاد کی آواز بالکل ابو سفیان جیسی ہے (5)۔
حسن بصری کہا کرتے تھے کہ معاویہ میں چار صفات ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے اس میں ایک بھی ہوتی تو بھی تباہی کے لئے کافی تھی ۔
1:- امت کے دنیا طلب جہال کو ساتھ ملاکر اقتدار پر قبضہ کیا جبکہ اس وقت صاحب علم و فضل صحابہ موجود تھے ۔
2:- اپنے شرابی بیٹے یزید کو ولی عہد بنایا جو کہ ریشم پہنتا تھا اور طنبور بجاتا تھا ۔
3:- زیاد کو اپنا بھائی بنایا ۔ جب کہ رسول خدا کا فرمان ہے کہ لڑکا اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لئے پتھر ہیں ۔
4:- حجر بن عدی اور ان کے ساتھیوں کو ناحق قتل کیا (6)۔

اقوال معاویہ
معاویہ نے اپنی مرض موت میں یزید کو بلایا اور کہا کہ دیکھو میں نے تمہارے لئے زمین ہموار کردی ہے ار سرکشان عرب وعجم کی گردنوں کو تمہارے لئے جھکا دیا ہے اور میں نے تیرے لئے وہ کچھ کیا جو کوئی باپ بھی اپنے بیٹے کے لئے نہیں کرسکتا ۔مجھے اندیشہ ہے کہ امر خلافت کے لئے قریش کے یہ چار افراد حسین بن علی ۔عبداللہ بن عمر ،عبدالرحمن بن ابو بکر اور عبداللہ بن زبیر تیری مخالفت کریں گے ۔
ابن عمر سے زیادہ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔اگر باقی لوگ بیعت کرلیں گے تو وہ بھی تیری بیعت کرے گا ۔
حسین بن علی کو عراق کے لوگ اس کے گھر سے نکالیں گے اور تجھے ان سے جنگ کرنا پڑے گی ۔
عبد الرحمن بن ابو بکر کی ذاتی رائے نہیں ہے وہ وہی کچھ کرے گا جو اس کے دوست کریں گے ، وہ لہو ولعب اور عورتوں کا دلدادہ ہے ۔ لیکن ابن زبیر سے بچنا وہ شیر کی طرح تجھ پر حملہ کرے گا اور لومڑی کی طرح تجھے چال بازی کرے گا ۔ اگر تم اس پر قابو پاؤ تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کردینا (7)۔
2:- طبری نے مختلف اسناد سے ابو مسعودہ فرازی کی روایت نقل کی ہے کہ :- معاویہ نے مجھ سے کہا :- ابن مسعدہ ! اللہ ابو بکر پر رحم کرے نہ تو اس نے دناب کو طلب کیا اور نہ ہی دنیا نے اسے طلب کیا اور ابن حنتمہ کو دنیا نے چاہا لیکن اس نے دنیا کو نہ چاہا ۔عثمان نے دنیا طلب کی اور دنیا نے عثمان کو طلب کیا اور جہاں تک ہمارا معاملہ ہے تو ہم تو دنیا میں لوٹ پوٹ چکے ہیں ۔
3:- جب معاویہ کی سازش سے حضرت مالک اشتر شیدا ہوگئے تو معاویہ نے کہا! علی کے دو بازو تھے ایک ( عمّار یاسر) کو میں نے صفین میں کاٹ دیا اور دوسرے بازو کو میں نے آج کاٹ ڈالا ہے ۔
4:-معاویہ کو رسولخدا (ص) نے بد دعا دی تھی کہ اللہ اس کے شکم کو نہ بھرے ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا نے پورا اثر دکھایا تھا ۔ چنانچہ معاویہ دن میں سات مرتبہ کھانا کھاتا تھا اور کہتا تھا کہ خدا کی قسم پیٹ نہیں بھرا البتہ میں کھاتے کھاتے تھک گیا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1):- تاریخ طبری ۔جلد ششم –ص 155
(2):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص 243
(3):- مروج الذہب ومعادن الجوہر ۔جلد دوم ۔ص 307
(4):- نہج البلاغہ مکتوب 44
(5):- شرح نہج البلاغہ ۔جلد چہارم ۔ص 68
(6):- الفتنتہ الکبری ۔علی وبنوہ ۔ص 248
(7):-الکامل فی التاریخ ۔جلد سوم ۔ ص 259-260
 


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیست و هفتم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری

(1)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
انا یحیط علمنا با نبائکم ، ولا یعزب عنا شئی من اخبارکم (۱)

ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
تمھارے سارے حالات ھمارے علم میں ھیں اور تمھاری کوئی بات ھم سے پوشیدہ نھیں ھے ۔

(۲)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
اکثر و الدعا بتعجیل الفرج فان ذالک فرجکم (۲)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
تعجیل ظھور کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرو ، اس لئے کہ یہ دعا تمھارے ھی لئے حل مشکلات کو باعث ھے ۔

(۳)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
فا غلقوا ابواب السوال عما لا یعنیکم (۳)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں
وہ چیز جوتم سے متعلق نھیں ھے� اس کے بارے میں سوال نہ کرو ۔

(۴)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
انا خاتم الاوصیاء و بی یدفع اللہ البلاء عن اھلی و شیعتی (۴)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں :� میں سلسلہ ٴ اوصیا ء کی آخری کڑی ھوں۔ خدا وند عالم میرے وسیلہ سے میرے اھل اور میرے شیعوں سے بلاؤں کو دور کرتا ھے ۔

(۵)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
ان الارض لا تخلوا من حجة اما ظاھرا و ما مغمورا (۵)

ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں
زمین حجت خدا سے خالی نھیں ھے ، وہ حجت یاظاھر ھوتی ھے یا پوشیدہ ۔

(۶)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
کلما غاب علم بدا علم ، و اذا افل نجم طلع نجم (۶)

ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
جب کسی علم پرپردہ پڑ جاتا ھے تو دوسرا علم ظاھر ھو جاتا ھے اور جب کوئی ستارہ غروب ھو جاتا ھے تو دوسرا اسکی جگہ طلوع ھو جاتا ھے ۔

(۷)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
فا ما السجود علی اقبر فلا یجوز (۷)

ترجمہ ۔
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں:
کسی کی قبر پر سجدہ جائز نھیں ھے ۔


قال الامام المھدی علیہ السلام:
ارخص نفسک و اجعل مجلسک فی الدھلیز و اقض حوائج الناس (۸)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں :
اپنے کو لوگوں کے حوالے کر دو اور اپنے بیٹھنے کی جگہ دھلیز قرار دو اور ولوگوں کی حاجتوں کو پورا کرو

(۹)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
انی امان لاھل الارض کما ان النجوم امان لاھل السماء (۹)

ترجمہ:
حضرت امام مھدیعلیہ السلام فرماتے ھیں :
میں اھل زمین کے لئے اسی طرح سبب راحت و امان ھوں جس طرح ستارے اھل آسمان کے لئے باعث امان ھیں ۔

(۱۰)
قال الامام المھدی علیہ السلام:
سجدة الشکر من الزم السنن و اوجبھا (۱۰)

ترجمہ:
حضرت امام مھدی علیہ السلام فرماتے ھیں :
سجدہ ٴشکر واجب ترین مستحبات میں سے ھے ۔

حوالہ:
۱۔ بحار الانوار ج /۵۳ ص/۱۷۵
۲۔ کمال الدین صدوق ج/۲ ص /۴۸۵
۳۔بحار الانوار ج /۵۲ ص /۹۲
۴۔ بحار الانوار ج/ ۵۲ ص/۹۲
۵۔ کمال الدین صدوق ج/۲ ص/ ۵۱۱
۶۔بحار الانوار ج ۵۳ ص ۱۸۵
۷۔ احتجاج طبرسی ج۲ ص ۴۹۰
۸۔ فرما یشان حضرت بقیة اللہ ص ۱۷۰
۹۔ بحار الانوار ج ۷۸ ص ۳۸۰
۱۰۔احتجاج طبرسی ج۲ ص ۴۸۷
 


نوشته شده در تاريخ جمعه بیست و پنجم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: المیادین ٹی وی چینل کے میزبان غسان بن جدو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ حزب اللہ ایک مزاحمتی تحریک ہے اور مزاحمت کو جاری رکھنا چاہتی ہے، میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایمان اور اصول کا معاملہ ہے۔
ہم تیار ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ ہر موقع پر اور ہر جگہ پر مقابلہ کریں، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز۔ حزب اللہ دن رات مضبوط اور طاقتور ہو رہی ہے، اسرائیل کی جانب سے اپنے وطن کی سرحدوں کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے المیادین ٹی وی چینل کے میزبان غسان بن جدو کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ پہلے سے زیادہ طاقتور اور مضبوط ہوچکی ہے اور یہ سب کچھ حزب اللہ نے جولائی سنہ 2006ء میں غاصب اسرائیل کے ساتھ ہونے والی تینتیس روزہ جنگ کے بدلے میں سیکھا ہے۔ سید حسن نصراللہ نے گذشتہ دنوں لبنان کے جنوبی علاقے لبونہ میں ہونے والے دو بم دھماکوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کے نوجوان اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں اور لبونہ میں دو دھماکوں کا ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جب غاصب اسرائیلی دشمن نے سرحد پار آکر جاسوسی انجام دینے کی کوشش کی تو پہلے سے نصب شدہ دو بم ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکے سے پھٹے جس کے نتیجے میں غاصب اسرائیلی دشمن کے کئی فوجی زخمی ہوئے جبکہ ہلاک بھی ہوئے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد اسرائیلی بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور ان کے حواس باختہ ہوگئے کیونکہ وہ اس کاروائی کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ لبونہ ایک سرحدی علاقہ ہے اور حزب اللہ کے جوان ہر وقت وہاں پر موجود رہتے ہیں تاہم یہ حزب اللہ کے جوانوں کی ایک حکمت عملی کا حصہ تھا کہ انہوں نے اس مرتبہ زمین میں Land Mines نہیں لگائیں جبکہ اس کے بدلے میں IEDs کا استعمال کیا اور جیسے ہی اسرائیلی فوجی وہاں داخل ہوئے وہ اس کا نشانہ بنے۔

سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ جنوبی لبنان کے علاقے لبونہ میں اسرائیل کی طرف سے ہونے والی خلاف ورزی کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایک مضحکہ خیز بات ہے کہ اسرائیل نے پینسٹھ برس گزر جانے کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا اور آج اقوام متحدہ کی افواج کا سہارا لیتا ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ وہ ہماری سرحدوں کی خلاف ورزی کرے اور ہمارے لوگوں کا قتل عام کرے تاہم لبونہ میں ہونے والی خلاف ورزی بھی اسرائیلی منصوبہ بندی کا ایک حصہ تھی اور حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کو یہ پہلا اور آخری جواب نہیں تھا، ہم اسرائیل کی طرف سے اپنی سرزمین کی خلاف ورزی پر ذرہ برابر بھی خاموش نہیں رہیں گے اور مزاحمت کرتے رہیں گے۔ ہم اسرائیل کے سامنے کھڑے رہیں گے اور اس کو اسی طرح جواب دیں گے جس طرح وہ ہماری زمین کی خلاف ورزی کرے گا، ہم اپنے وطن کی سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔ سید المجاہدین سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم تیار ہیں کہ اسرائیل
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ امریکی اور سعودی نہیں چاہتے کہ حزب اللہ لبنان میں حکومت کا حصہ رہے۔
کے ساتھ ہر موقع پر اور ہر جگہ پر مقابلہ کریں لیکن اسرائیل کو کسی صورت اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری سرزمین کی خلاف ورزی کرے یا لبنان میں داخل ہو۔

سید حسن نصر اللہ نے لبنان کے سیاستدانوں اور فوج کی جانب سے اسرائیلی خلاف ورزیوں پر خاموشی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے کہ لبنان کے سیاست دان اور فوج اس معاملے پر خاموش رہتی ہے، لبنان میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو اسرائیل کو اپنا دشمن ہی تصور نہیں کرتی ہیں، حتیٰ لبنانی صدر کی کی جانب سے اقوام متحدہ میں دی گئی اسرائیل مخالف درخواست بھی نہایت کمزور ہے۔ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ ہم مانتے ہیں کہ عالمی برادری ہمیں اور اسرائیل کو برابر دیکھے اور فیصلہ کرے کہ کون غلط ہے، اگر ہم غلط ہوں تو ہماری مذمت کی جائے اور اگر غلطی اسرائیل کی ہو تو پھر چشم پوشی نہیں ہونی چاہئیے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یہ ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے وطن کا دفاع کریں اور اپنی سر زمین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر خاموش نہ رہیں اور ان کے خلاف اسی طرح کاروائی کریں جس طرح وہ ہمارے لوگوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ وہ ہمیں تنہاء نہیں چھوڑنا چاہتے تو ہم کیوں ان کے سامنے تر نوالہ بن جائیں، ہماری مزاحمت کا بنیادی مقصد امت کا مفاد اور امت کو متحد کرنا ہے اور ہم نے ہمیشہ لبنان کی حفاظت کی ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم سے سب سے بڑا مسئلہ امریکہ اور مغرب کو یہ ہے کہ اور خطے کی عرب ریاستوں کو بھی کہ ہم ایک مزاحمتی تحریک ہیں جبکہ ان کا ہمارے ساتھ کوئی اندرونہ مسئلہ نہیں، بلکہ صرف یہی مسئلہ ہے کہ ہم ایک مزاحمتی تحریک ہیں اور اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک ایسے ہیں جو ہمیں ہمارے اسلحہ کے بدلے میں کئی مراعات دینے کی بات کرتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں مسئلہ فلسطین کا کیا ہوگا؟ اور پھر غاصب اسرائیلی دشمن ہمارے وطن کو تباہ و برباد کر دے گا۔ حزب اللہ کے عظیم مجاہد سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ ماضی میں امریکی صدر جارج بش کے نائب صدر ڈک چینی نے لبنان میں ایک امریکی کے ذریعے ہمیں مراعات دینے کی آفر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ حزب اللہ کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرے گا، امریکہ ہمارے اسلحے کی بات ترک کر دے گا، امریکہ حزب اللہ کو امریکہ کی بنائی گئی دہشت گردی کی فہرست سے بھی خارج کر دے گا لیکن ہم نے امریکیوں کی ڈیل کو یکسر مسترد کر دیا۔ ہم کچھ نہیں دیں گے، ہم امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہیں چاہتے۔ سید حسن نصر اللہ نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ مجھے بتائیں کہ ایسے اسلحے کی کیا قدر و قیمت ہوگی کہ جو اپنے وطن اور وطن کی حمیت و عزت کی حفاظت نہ کر سکے؟ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جب ہم نے مزاحمت کی راہ کا انتخاب کیا ہے تو ہم یہ بات جانتے
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم نے جولائی 2006ء میں اسرائیل سے ہونیوالی تینتیس روزہ جنگ میں ایران سے کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں لیا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
ہیں کہ یہ شہادت کا راستہ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ کسی مذاکرات کا محتاج نہیں ہے۔ عالم مغرب اور ہمارے خطے کی عرب ریاستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حزب اللہ ایک مزاحمتی تحریک ہے اور مزاحمت کو جاری رکھنا چاہتی ہے۔ میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ایمان اور اصول کا معاملہ ہے۔

اسرائیل کے ساتھ تینتیس روزہ جنگ:
سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کو مئی 2000ء میں ایک تاریخی شکست سے دوچار کیا تھا اور ہم جانتے تھے کہ اسرائیل اس تاریخی اور ذلت آمیز شکست کے آثار سے مشکل سے باہر نکلے گا کیونکہ حزب اللہ نے سنہ 2000ء میں اسرائیل کے تمام تر دعووں کو خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا اور ایک عظیم الشان فتح اور لبنان کو آزادی دلوانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہم یہ بھی جانتے تھے کہ اسرائیل ضرور لبنان پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لئے حملہ آور ہوگا۔ سید حسن نصر اللہ نے 12 جولائی 2006ء کو اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کا مسئلہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ حزب اللہ کے کامیاب آپریشنوں میں سے ایک کامیاب ترین آپریشن تھا اور حزب اللہ اس بات کے لئے آمادہ تھی کہ اسرائیل ان پر جنگ تھونپ دے گا، حزب اللہ اس وقت انتظار کر رہی تھی لیکن اسرائیل نے تھوڑی دیر کی، حزب اللہ بالکل پریشان نہ تھی اور نہ کنفیوز تھی۔

سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ سنہ 2006ء جولائی میں ہونے والی جنگ میں ہمارا سب سے اہم ترین کام یہ تھا کہ دشمن کے فوجیوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں قتل کریں، اس کے لئے ہم نے اپنے ان جوانوں پر فیصلہ چھوڑ دیا کہ جنہوں نے اپنے خون کے آخری قطرے تک مارون الراس کے مقام پر اسرائیلیوں کے خلاف جہاد کیا۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ ہمیں خبر ملی کہ ایتا الشعب کے مقام پر ہمارے بہت سے جوان شہید ہوگئے ہیں اور ہمارا رابطہ ان سے قطع ہو چکا تھا، تاہم اسی اثناء میں سید المجاہدین المقاومۃ شہید حاج عماد مغنیہ نے مجھے بتایا کہ ہمارے تمام جوان ابھی تک محاذ پر موجود ہیں اور بفضل خدا زندہ و سلامت ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ بنت جبیل میں اسرائیلی دشمن بڑی تیزی دے اندر تک داخل ہوتا چلا گیا اور حزب اللہ نے اس وقت کئی مہینوں تک جنگ لڑنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر حملہ کئے جانے والے راکٹوں کی ایک قلیل تعداد استعمال کی گئی تھی جبکہ اس سے بڑھ کر ہمارے پاس موجود تھے اور ہم اس پوزیشن میں تھے کہ ہم اس سے کہیں زیادہ راکٹ اسرائیلیوں پر برسا سکتے تھے لیکن زیادہ لمبے عرصے تک جنگ لڑتے رہنے کے خیال سے ہم نے جنگ کی حکمت عملی اسی طرح وضع کی تاکہ کئی مہینوں تک جاری رہنے والی جنگ میں راکٹوں کا مسلسل استعمال جاری رہے۔ اسی طرح اس جنگ میں دیگر عناصر کی طرح ہمارے مرکزی اور نیچے بنائے گئے رابطے کے مقامات کا ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رہنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری اس جنگ میں حزب اللہ نے درجنوں اسرائیلی جاسوسوں کو گرفتار کرکے لبنانی سیکورٹی اداروں کے حوالے کیا۔ سید حسن نصر اللہ نے
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جولائی 2006ء میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی شامی افواج نے اسلحہ ڈپو حزب اللہ کے لئے کھول دئیے تھے، ہم نے کورنٹ میزائل شام سے حاصل کیا اور ہم نے کئی ایک ہتھیار جو کہ جنگ میں استعمال کئے شام سے لئے تھے۔
کہا کہ یاد رکھیں اسرائیل کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کی شکست کا ایک بنیادی نقطہ یہ تھا کہ ان کے پاس معلومات کمزور اور ذرائع کمزور ترین تھے۔ خصوصاً اس وقت کہ جب اسرائیلی افواج نے بعلبک میں قائم دارالحکمہ اسپتال میں اپنے فوجی اتارنے کی غلطی کی۔

سید حسن نصر اللہ نے المیادین ٹی وی کے غسا ن بن جدو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اسرائیلی دو فوجیوں کو اغوا کے بعد بعلبک لے جایا ہی نہیں گیا تھا جبکہ اسرائیل کے پاس معلومات یہ تھیں کہ دونوں اغوا شدہ اسرائیلی فوجی بعلبک میں موجود ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ آپ جانتے ہیں کہ اسرائیل کسی قسم کے سیاسی دباؤ میں نہیں تھا جبکہ ہم پر دباؤ ڈالا جا رہا تھا، اسرائیل نے بیروت شہر میں قائم دھایہ کے علاقے کو بمباری کرکے تباہ کر دیا، حزب اللہ یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ وہ تل ابیب پر بمباری کرکے بڑا نقصان پہنچا دے لیکن ہم یہ دیکھ رہے تھے کہ اگر اسرائیل مزید کچھ دن اس طرح کے حملے جاری رکھتا تو پھر حزب اللہ بھی اسرائیل کی شہری آبادی تل ابیب کو نشانہ بناسکتی تھی اور ایسے موقع پر اسرائیل کے ہزاروں ٹینکوں کو تباہ کر سکتے تھے۔

شام نے حزب اللہ کے لئے بے پناہ اسلحہ کے ذخیرے فراہم کئے:
المیادین پر جاری طویل انٹرویو کے دوران حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یقین کریں کہ کوئی اسرائیل ٹینک سلامت نہیں رہ سکتا تھا جو ہمارے کورنٹ میزائل کی زد میں آتا تھا، اسی طرح اسرائیل کی طرف سے ہم پر بحری جہاز سے جاری حملے ہمارے لئے حیرت انگیز تھے اور اس کو نشانہ بنانا مشکل کام تھا۔ ہمارے مجاہدین نے اس کام کو بھی انجام دیا اور اسرائیل کے اس بحری جہاز کو نشانہ بنایا جو سمندر میں موجود تھا اور لبنان پر بمباری کر رہا تھا۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ میرے ایک فون میسج کے ختم ہونے سے بھی پہلے مجاہدین نے اس پر میزائل حملہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ اسرائیل بحری جنگی جہاز بھی نابود ہوگیا۔ ایک سوال کے جواب میں سید حسن نصر اللہ نے بتایا کہ اسرائیل نے بیروت میں واقع دھایہ کے علاقے میں شہری عمارتوں کو یکے بعد دیگرے بمباری کا نشانہ بنایا، اس عمارت کے ہر کمرے میں حزب اللہ کا کوئی آدمی نہیں تھا اور نہ ہی پوری عمارتوں میں حزب اللہ کے رہنما رہتے تھے، یہ ایک غیر منطقی بات ہے کہ جنگ کے دوران حزب اللہ کی پوری قیادت ایک ہی علاقے میں جمع ہو جائے۔

سید حسن نصر اللہ نے بڑی وضاحت کے ساتھ بتایا کہ حزب اللہ نے جولائی 2006ء کی جنگ میں اور اس جنگ سے قبل شام سے بڑی تعداد میں اسلحہ وصول کیا ہے اور حزب اللہ نے اس جنگ میں شام سے ملنے والے اسلحے کے ساتھ بہت استفادہ کیا ہے۔ جنگ میں استعمال کئے جانے والے متعدد ہتھیار شامی ساختہ تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جولائی 2006ء میں جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی شامی افواج نے اسلحہ ڈپو حزب اللہ کے لئے کھول دئیے تھے۔ ہم نے کورنٹ میزائل شام سے حاصل کیا اور ہم نے کئی ایک ہتھیار جو کہ جنگ میں استعمال کئے شام سے لئے تھے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد نے کہا تھا کہ وہ بھی اس جنگ میں شریک ہونا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ جنگ صرف خطے یا کسی ایک مزاحمتی تحریک کے خلاف نہیں بلکہ
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جب ہم نے مزاحمت کی راہ کا انتخاب کیا ہے تو ہم یہ بات جانتے ہیں کہ یہ شہادت کا راستہ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ یہ معاملہ کسی مذاکرات کا محتاج نہیں ہے۔
اس جنگ کا مقصد پورے مشرق وسطیٰ پر اسرائیلی تسلط ہے۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ اگر صیہونی حسبیہ اور المسناء کے مقام پر شامی سرحدوں سے لبنان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتے تو اس سے پہلے ہی شامی افواج نے اپنے یونٹس کو چاک و چوبند کر دیا تھا تاکہ اسرائیلی فوجیوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ میں نے بشار الاسد کو بتایا کہ حزب اللہ کی پوزیشن مستحکم ہے اور ہم جنگ کو فتح کرنے کے قریب ہیں جبکہ اسرائیل اس جنگ میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کے ناپاک عزائم بھی خاک میں ملا دئیے گئے ہیں۔ میں نے ان کو بتایا کہ میں بالکل پریشان نہیں ہوں اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ شام کو اسرائیل سے اب کوئی خطرہ ہے۔ میں نے بشار الاسد سے کہا کہ میں نے یہ فون آپ کو حوصلہ دینے کے لئے کیا ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ یہ جنگ پوری خطے میں پھیلے بلکہ ہم اس جنگ کو فتح کرنے کے قریب ہیں۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم نے جولائی 2006ء میں اسرائیل سے ہونیوالی تینتیس روزہ جنگ میں ایران سے کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں لیا کیونکہ ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی۔

تینتیس روزہ جنگ کے بعد مذاکراتی عمل:
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ جنگ کے اختتام پر میں نے ہرگز فواد السینورا کو یہ اتھارٹی نہیں دی تھی کہ سیاسی سطح پر جنگ کے بارے میں مذاکرات کرے اور وہ بھی امریکی اور یورپی سیاست دانوں کے ساتھ۔ اگر ہم ان کو اپنی گردن پیش کریں تو وہ ذرا بھی دیر نہ کریں گے اور ہماری گردنوں کا کاٹ ڈالیں گے۔ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ جولائی 2006ء میں جاری جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہم سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا کہ ہم اپنا اسلحہ پھینک دیں، ہم سے یہ بھی کہا گیا کہ شامی اور فلسطین سرحدوں کے ساتھ کثیر ملکی افواج کے دستے نافذ کر دئیے جائیں گے تاہم حزب اللہ اسلحہ سے دستبردار ہو جائے اور ہم سے یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کے دو فوجی جو حزب اللہ کی قید میں ہیں انہیں رہا کیا جائے لیکن ہم نے ان تمام مطالبات کو مسترد کر دیا۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ یہ عرب ممالک ہی تھے جو حزب اللہ کے خلاف جنگ چاہتے تھے، ہم نے واضح کر دیا تھا کہ ہم اس جنگ کو لبنانی مطالبات کے پورا ہونے پر ختم کریں گے نہ کہ کسی خیانت کا حصہ بنیں گے، البتہ اس موقع پر اندرونی سطح پر سیاست کی بڑی کشمکش جاری تھی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ میں بالکل بھی حیرت زدہ نہیں تھا کہ لبنانی وزیر اعظم نے خود کو اس جنگ سے تنہا رکھا تھا، ان کا یہ فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ تھا۔

حزب اللہ کے بغیر کوئی حکومت نہیں بن سکتی:
سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ امریکی اور سعودی نہیں چاہتے کہ حزب اللہ لبنان میں حکومت کا حصہ رہے اسی لئے وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ایسی کوششیں کرتے رہتے ہیں جس سے وہ اس بات کے لئے تیار ہو جائیں کہ حزب اللہ سے ہٹ کر حکومت بنا لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے بغیر لبنان میں کوئی حکومت نہیں بن سکتی کیونکہ حزب اللہ ایک حقیقت ہے اور اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ان تمام تر باتوں کے باوجود میں بتانا چاہتا ہوں کہ حزب اللہ مزید طاقتور ہو چکی ہے اور حزب اللہ کی موجودہ طاقت جولائی 2006ء جنگ کی طاقت سے کئی گنا زیادہ ہے۔


نوشته شده در تاريخ جمعه بیست و پنجم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری


عراق میں آج بھی مختلف شیعہ نشین علاقوں میں دھماکے ہوئے ہیں جن کے باعث متعدد شیعہ شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ 

  ابنا: عراق میں تکفیری دہشتگردوں کی غیر انسانی کاروائياں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق آج بغداد کے مختلف علاقوں میں سترہ کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں درجنوں جاں بحق اور سکیڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بغداد کے مشرق میں حسینیہ علاقے میں دہشتگردانہ بم دھماکے میں آٹھ افراد شہید ہوئے ہیں۔ البلدیات کے علاقے میں ایک شہری جاں بحق ہوگئے جبکہ باب المعظم میں بیس افراد مارے گئے۔ الکرادہ میں بھی تین کاربم دھماکے ہوئے ہیں۔ دہشتگردانہ واقعات کے بعد سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں کا محاصرہ کرلیا جہاں جہاں بم دھماکے ہوئے تھے۔ عراق میں یہ بم دھماکے ایسے عالم میں ہورہے ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف وسیع کاروائياں کررہی ہیں۔



نوشته شده در تاريخ جمعه بیست و پنجم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری


لبنان کے شہر بیروت کے علاقے ضاحیہ میں حزب اللہ لبنان کے ایک اہم مرکز سید الشہداء(ع) کے قریب ہونے والے بھیانک دھماکے میں ۱۲ افراد شہید اور ۱۲۰ زخمی ہو گئے ہیں۔ 

 حزب اللہ لبنان کے اہم مرکز کے پاس بھیانک دھماکہ، ۱۳۲ شہید اور زخمی+تصاویر
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ المنار ٹی وی کے مطابق لبنان کے شہر بیروت کے علاقے ضاحیہ میں کچھ گھنٹے پہلے ایک بھیانک کار بم دھماکہ ہوا ہے جس کے باعث ۱۲ افراد شہید جبکہ ۱۲۰ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ضاحیہ میں ’’مجتمع سید الشھدا(ع)‘‘ کے قریب بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں آج عصر کے وقت ہونے والا یہ بھیانک دھماکہ اتنا خطرناک تھا جس سے اطراف کی کئی عمارتوں کو آگ لگ گئی اوربتایا جاتا ہے کہ ایک عمارت مکمل طور پر نذر آتش ہو گئی ہے جبکہ متعدد گاڑیاں بھی جل کر راکھ ہو گئیں۔
واضح رہے کہ ضاحیہ کا علاقہ حزب اللہ کی سیاسی سرگرمیوں کا علاقہ ہے اور مجتمع سید الشھدا(ع) سید حسن نصر اللہ کے ان اہم مراکز میں سے  ایک ہے جہاں وہ خطاب کرتے ہیں۔
ضاحیہ میں یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حزب اللہ کل ۳۳ روزہ جنگ کی کامیابی کی سالگرہ منانے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ 
شام میں سرگرم دھشتگرد گروہ جبہۃ النصرہ نے اس دھماکہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔



نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هفدهم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری


ماہ مبارک رمضان کے اخر ایام اور عید سعید فطر کے قریب، قم ایران کے مراجع تقلید اور علماء کرام نے فطرہ کے مقدار مقرر کی۔ 

 مراجع تقلید قم نے فطرہ کی مقدار مقرر کی

ابنا: حضرات آیات ناصر مکارم شیرازی، جعفر سبحانی، لطف‌ الله صافی گلپائگانی، حسین نوری ہمدانی، حسین وحید خراسانی، شبیری زنجانی، محمد امامی کاشانی اور عبد الله جوادی آملی نے عید سعید فطر کے قریب فطرہ کی مقدار کا اعلان کیا ۔
اس رپورٹ کے مطابق، حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے حرم مطھر حضرت معصومہ قم ‌(س) میں ہونے والی اپنی سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی نشست میں، غالبی غذاء کے تحت امسال ھر ادمی کا فطرہ 3  ھزار تومان معین کیا ۔
انہوں نے زکات فطرہ کو روز عید کے واجبات اور وظائف میں سے شمار کرتے ہوئے کہا: زکات فطرہ کا پہلا اثر ماہ مبارک رمضان کی عبادتوں کی قبولی اور دوسرا اثر پورے سال مصیبتوں اور بلاوں سے انسان کی حفاظت ہے ۔
 اس مرجع تقلید نے امسال کے فطرہ کی مقدار بتاتے ہوئے کہا: گیہوں کی لحاظ سے فطرہ کی مقدار 3 هزار تومان ہے اور چونکہ تہران میں گیہوں مہنگا ہے وہاں کے لوگ 3500 تومان فطرہ کی رقم ادا کریں گے و نیز چاول کے لحاظ سے فطرہ کی مقدار 15 هزار تومان ہے ۔
حضرت آیت ‌الله جعفر سبحانی نے بھی مدرسہ حجتیہ قم میں ہونے والے اپنے درس تفسیر قران کریم میں یہ کہتے ہوئے کہ بظاھر ائندہ جمعہ کو عید سعید فطر ہے کہا : امسال فطرہ کی مقدار 3600 تومان ہے اور فطرہ کے ادائگی ایک قسم کی شکر گزاری ہے  ۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ فقیروں اور نیازمندوں کی مدد، خداوند متعال کا شکر ادا کرنا ہے کہ اس نے ماہ مبارک رمضان میں روزہ رکھنے کی مہلت دی ہے کہا: اگر انسان اپنی ذمہ داری کو بخوبی ادا کرنا چاہتا ہو تو غالبی غذاوں کے تحت ہر انسان 3 کیلو اچھے گیہوں کی 3600 تومان قمیت فطرہ کے طور پر ادا کرے ۔
اس مرجع تقلید نے یاد دہانی کی : مارکیٹ میں 1000 تومان کیلو کا گیہوں بھی موجود ہے جو بہت اچھا گیہوں نہیں ہے، لھذا بہتر کے انسان اچھے گیہوں کا فطرہ ادا کرکے خود کو ایک سال تک کی بلاوں سے محفوظ کر لے ، اور اچھے گیہوں کے لحاظ سے فطرہ کی مقدار 3600 تومان بنتی ہے  ۔
حضرات آیات نوری همدانی اور وحید خراسانی نے بھی روٹیوں کا استعمال کرنے والوں کے لئے ہر ادمی کا 3500 تومان اور چاول کے استعمال والوں کے لئے ہر ادمی کا 15000 تومان امسال کے فطرہ کی مقدار معین کی ۔
حضرت آیت ‌الله سیستانی نے امسال گیہوں کے لحاظ سے فطرہ کی مقدار 3500 تومان اور چاول کے حوالہ سے فطرہ  کی مقدار 13500 تومان اعلان کی ہے ۔
حضرت آیت‌ الله شبیری زنجانی نے گیہوں کی بنیاد پر امسال فطرہ کی مقدار فی کس 5000 تومان اور چاول کی بنیاد پر 3 کیلو 600 گرام چاول بتایا ۔
و نیز حضرت آیت ‌الله جوادی آملی نے بھی گیہوں کو غالبی غذاء قرار دیتے ہوئے ہر انسان کا فطرہ 3000 تومان قرار دیا اور کہا:  چاول کھانے والے استمال کئے جانے والے تین 3 کیلو چاول کی بازار میں موجود قیمت ادا کرے ۔
آیت ‌الله محمد امامی کاشانی نے ہمارے رپورٹر سے گفتگو میں شھر تہران میں فطرہ کی مقدار معین کرتے ہوئے کہا کہ اگر غالبی غذا چاول ہے تو فطرہ کی مقدار 15000 تومان ہے اور اگر غالبی غذا گیہوں ہو تو ہر انسان کے  فطرہ کی مقدار 3500 تومان ہے  ۔
تہران کے عارضی امام جمعہ نے ماہ مبارک رمضان میں روزہ نہ رکھنے والے کے لئے کفارہ کی مقدار بتاتے ہوئے کہا: اگر انسان روزہ رکھنے سے معذور رہا ہو تو ہر دن روزہ نہ رکھنے کا کفارہ 1200 تومان اور جان بوجھ کر روزہ نہ رکھنے کا کفارہ 60000 تومان ہے  ۔


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هفدهم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری


ایران کے صوبہ زنجان کے محکمہ اسلامی تبلیغات کے سربراہ نے عید فطر کی آمد کی مناسبت سے مسلمانوں کومبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید فطر،گناہوں سے انسان کی نجات کا جشن ہے۔ 

 عید فطر، گناہوں سے انسان کی نجات کا جشن ہے

ابنا: حجۃ الاسلام علی دشتکی نے کہا ہے کہ ایک جامع اورکلی نگاہ میں تمام اوقات،زمانے،مہینے اورایام اللہ تعالیٰ سے متعلق ہیں اوران کا آپس میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن ایک لحاظ سے اللہ تعالیٰ اورائمہ اطہارعلیہم السلام نے خود بعض زمانوں کی اہمیت کی ضرورت پرزوردیا ہے جن میں ایک فجرکا وقت ہے کہ جس کی اللہ تعالی نے قسم کھائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ، پیغمبراکرم اورائمہ اطہارعلیہم السلام نے مہینوں کی اہمیت کی ضرورت پرزوردیا ہے اوربعض مہینے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں اوررسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجب،شعبان اورمضان کے مہینوں کی اہمیت بیان کی ہے یہاں تک کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک میں اس مہینے کی اہمیت پرایک خطبہ بیان فرمایا ہے ۔
حجۃ الاسلام علی دشتکی نے کہا ہے کہ پہلی بات یہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ رحمت ہے اوراس کا تسلسل برکت ہے اوربرکت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی انسانوں پرخصوصی عنایات ہیں جیسا کے ائمہ اطہارعلیہم السلام کے فرامین کے مطابق اس مہینے میں سونا بھی عبادت ہے اورایک آیت کی تلاوت کرنا،ختم قرآن کریم کے برابر ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ رمضان المبارک میں اللہ کی رحمت اورنجات کے دروازے انسان پرکھل جاتے ہیں اوررمضان المبارک کے آخری ایام مغفرت کے ہیں اوراللہ تعالی ٰ اس مہینے کے اختتام پر انسانوں کی مغفرت کرتا ہے لہذا انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ بھی اس مقدس مہینے کے مغفورین میں شامل ہوجائے۔
انہوں نے کہا ہے کہ عید فطر، انسان کی کامیابی اورخوشی اورانسانی کمال کے مراتب پرپہنچنے کا دن ہے جبکہ دوسری جانب شیطان نے قسم کھائی ہے کہ وہ اللہ کے بندوں کو گمراہ کرے گااورانہیں حقیقی سعادت تک نہیں پہنچنے دےگا لیکن اللہ تعالیٰ نےبھی فرمایا ہے کہ میں اپنے مومن بندوں کی اس طرح ہدایت کروں گا کہ وہ اپنے حقیقی مقام کوپالیں گے۔

.....


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هفدهم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری

ایران عراق سمیت بعض عربی ممالک میں کل جمعرات کو ماہ مبارک رمضان کی تیسویں تاریخ ہے 

 آیت اللہ سیستانی: عراق میں جمعہ کو عید فطر ہو گی
اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے کل جمعرات کو ماہ مبارک کی تیسویں تاریخ قرار دیتے ہوئے جمعہ کو عید فطر منانے کا اعلان کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بعض عربی ممالک؛ سعودی عرب، عرب امارات، قطر، کویت، فلسطین، شام، اردن، مصر اور لبنان میں کل جمعرات کو عید فطر منانے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ عمان، عراق اور دیگر عربی ممالک میں کل ماہ مبارک رمضان کی تیسویں تاریخ رہے گی۔ 


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری


.....


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری



آج کا مسلمان بیدار ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ ہمارا مرکز اور ہماری بقاء صرف اور صرف اسلام سے ہے اور ہمیں اتحاد بین المسلمین کے جھنڈے تلے جمع ہو کر روسی اور امریکی گماشتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ آج مسئلہ شیعہ سنی کا نہیں ہے بلکہ اسلام و کفر کا مسئلہ درپیش ہے۔ مسلمان متحد ہوکر ہی قومیتوں کے بتوں کو توڑ سکتے ہیں۔ ہمیں ناصرف سازشی عناصر پر کڑی نظر رکھنا ہوگی بلکہ فسادات برپا کرنے والوں کے ہاتھ کاٹنا ہوں گے۔ 

 علامہ سید عارف حسین الحسینی شہید، اتحاد امت کے عظیم داعی اتحاد امت کے عظیم داعی، ارضِ پاکستان پر وحدت بین المسلمین کے لئے عظیم خدمات پیش کرنے والی بلند مرتبہ علمی و عرفانی شخصیت علامہ سید عارف حسین الحسینی کو ہم سے جدا ہوئے پچیس برس بیت گئے ہیں۔ آپ 5 اگست 1988ء بروز جمعہ پشاور میں اپنے مدرسہ جامعہ معارف الاسلامیہ میں دم فجر اسلام و پاکستان دشمنوں کی گولی کا نشانہ بنائے گئے، آپ نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور قیادت میں اس ملک و ملت کیلئے بھرپور خدمات انجام دیں اور ان کی رہنمائی کا حق اس طرح ادا کیا کہ آج اتنا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی انہیں ایسے یاد کیا جاتا ہے جیسے کل کی ہی بات ہو۔ میرا نہیں خیال کہ آپ کی کمی کو کوئی اور پورا کرسکے۔
 
شہید قائد نے اپنے دور قیادت میں ملک کے کونے کونے میں جا کر لوگوں کی فکری، شعوری، مذہبی، اجتماعی، ملی تربیت و بیداری کیلئے دن رات ایک کیا اور مسلسل عوامی رابطہ کے ذریعے ان میں ایک درد، ایک احساس پیدا کر دیا، علامہ عارف الحسینی کی یہ خوبی کسی طور بھلائی نہیں جاسکتی کہ وہ اپنے ساتھ مختلف دورہ جات میں اہل سنت علماء کو بھی لے کر جاتے اور اتحاد کی فضا کو عوامی سطح پر نمایاں کرنے کی کوشش کرتے، جن لوگوں نے انہیں دیکھا ہے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ان کا یہ عمل دکھاوا یا مجبوری نہیں تھی بلکہ وہ اتحاد بین المسلمین پر پختہ یقین رکھتے تھے اور امت کو ایک لڑی میں پرونے کے شدید خوہش مند تھے۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے پشاور کے مولانا عبدالقدوس اور جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ ملک اکبر ساقی تو اکثر ان کے ہمراہ دیکھے جاتے اور اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے برپا کانفرنسز میں نمایاں طور پر شریک ہوتے۔

علامہ عارف الحسینی نے ملک میں مارشل لاء دور میں قیادت کی ذمہ داری سرانجام دی، یہ بڑا سخت دور تھا، جب جنرل ضیاءالحق نوے دن کے وعدے پر برسر اقتدار آیا تھا اور ملک میں مختلف انداز میں تفریق و انتشار عروج پکڑ رہا تھا، کہیں صوبائیت کی بو پھیل رہی تھی تو کہیں لسانیت کا بیج بویا جا رہا تھا، کہیں علاقائیت کا دور دورہ تھا تو کہیں فرقہ واریت کو دوام بخشا جا رہا تھا، افغان روس جنگ کی وجہ سے ملک میں کلاشنکوف کلچر در آیا تھا اور اسی کے باعث منشیات فروشی، خصوصی طور پر ہیروئن نے تباہی مچا رکھی تھی، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں لگی تھیں اور سیاسی ورکرز کو شاہی قلعہ لاہور میں سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ ایسے ماحول میں MRD کے نام سے بحالی جمہوریت کی تحریک چل رہی تھی، علامہ عارف حسین الحسینی نے اس تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا اور اس کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، اپنے تعاون کا بھرپور یقین دلایا، جو سیاسی جماعتوں کیلئے بہت حوصلہ افزائی کا باعث تھا۔ علامہ عارف الحسینی نے اپنے ہر خطاب میں مارشل لاء حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور امریکہ نواز پالیسیوں پر کڑی تنقید کی۔

اس کے ساتھ ساتھ اپنے دور قیادت میں انہوں نے مختلف قومی و بین الاقوامی مسائل پر اپنا مؤقف بڑی صراحت کے ساتھ پیش کیا، انہوں نے پہلی بار اپنی ملت کو دوسری اقوام و ملل کے مقابل لانے کی جدوجہد کی اور 6 جولائی 1987ء کے دن مینار پاکستان کے وسیع گراؤنڈ میں عظیم الشان قرآن و سنت کانفرنس منعقد کرکے اپنی سیاسی طاقت و قوت کا بھرپور اظہار کیا اور ایک سیاسی منشور کا اعلان بھی کیا۔۔۔۔۔ آپ کے افکار پر عمل پیرا ہو کر ملت پاکستان کی ڈوبتی ناؤ کو کنارے لگایا جاسکتا ہے۔۔۔۔۔

 آپکی خدمت میں شہید علامہ عارف الحسینی کے چند منتخب افکار پیش کرتے ہیں، جو ہمارے اس موقف کی گواہی دیں گے کہ شہید علامہ عارف الحسینی ایک درد مند ملت تھے، جنہیں اتحاد بین المسلمین کی پاکستان میں جاری تحریک کا سرخیل اور بانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ کلمات و اقتباسات ان کی مختلف تقاریر سے حاصل کردہ ہیں، جو انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں عوامی اجتماعات میں کیں۔۔۔!
مشترکہ دشمن:۔
شیعہ اور سنی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے تاریخی اختلافات کو حدود میں رکھیں، ہمارے مشترکہ دشمن امریکہ، روس اور اسرائیل ہیں، جو ہمیں نابود کرنے کے درپے ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہم اپنے فروعی اختلافات کو بھلا کر اسلام کے دشمنوں کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔
(شیعہ جامع مسجد بھکر میں خطاب "مارچ 1994ء")
اپنی اپنی فقہ پر قائم رہتے ہوئے اتحاد:۔
درحقیقت اپنے اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے بھی زندگی میں مل جل کر رہا جاسکتا ہے۔ آخر یہ کیوں ضروری ہے کہ میں کسی کے یا کوئی میرے مذہبی جذبات مجروح کرے۔ اسلام میں اسی وجہ سے کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی ممانعت ہے کہ اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ نفرت ہی موجب فساد بنتی ہے، البتہ کسی کی دل آزاری کئے بغیر اپنے عقائد پر سختی سے کاربند رہنا اسلام میں بہت ضروری ہے۔ ایران میں شروع شروع میں بعض بیرونی طاقتوں نے کرد قبائل کو عقائد کی بنا پر بغاوت پر ابھارا لیکن جب دوسری طرف سے ان کے مذہبی جذبات کے احترام کا وطیرہ اختیار کیا گیا تو شیعہ سنی اتحاد کی شاندار مثال دیکھنے میں آئی۔
(شہید باقر الصدر ؒ اور سیدہ بنت الہدیٰ کی چوتھی برسی کے موقع پر پیغامات "اپریل1984ء")
 
ہمارا پیغام اخوت:۔
وقت آگیا ہے کہ وحی الٰہی کے ذریعے پہنچے ہوئے ہمارے عظیم پیغام حیات اسلام کی صداقتوں پر یقین رکھنے والے تمام انسان باہم متحد ہوکر اُٹھ کھڑے ہوں، تاکہ انسانوں کو فریب دے کر لوٹنے والی استعماری اور شیطانی قوتوں پر بھرپور ضرب لگائی جاسکے اور دنیا میں عدل و انصاف، الفت و محبت اور حقیقی امن و آشتی کی فضا قائم کی جاسکے۔ بندوں پر بندوں کی حکمرانی ختم کرکے فقط مالک حقیقی کی حکمرانی کا نفاذ ہی ان شہدائے راہ حق کی تمنا ہے اور یہ انسانی کامرانیوں کی منزل ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پیغام شہداء کے امین بنیں اور ہر طرح کی قربانی دے کر اس امانت کی حفاظت کریں۔ وطن عزیز پاکستان میں حقیقی اسلامی معاشرے کا قیام ہماری اولین خواہش بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اس مقصد کے حصول کیلئے میں ہر مسلمان محب وطن پاکستانی کو دعوت اتحاد عمل دیتا ہوں۔
 
آج اتحاد اُمت کی اشد ضرورت ہے:۔
آج کا مسلمان بیدار ہوچکا ہے۔ مسلمانوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ ہمارا مرکز اور ہماری بقاء صرف اور صرف اسلام سے ہے اور ہمیں اتحاد بین المسلمین کے جھنڈے تلے جمع ہو کر روسی اور امریکی گماشتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ آج مسئلہ شیعہ سنی کا نہیں ہے بلکہ اسلام و کفر کا مسئلہ درپیش ہے۔ مسلمان متحد ہوکر ہی قومیتوں کے بتوں کو توڑ سکتے ہیں۔ ہمیں ناصرف سازشی عناصر پر کڑی نظر رکھنا ہوگی بلکہ فسادات برپا کرنے والوں کے ہاتھ کاٹنا ہوں گے۔
 
وہ دن دور نہیں جب بین الاقوامی استحصالی قوتوں کو امت مسلمہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ ہوسکے گی:۔
اسلام کے دشمنوں پر عیاں کر دینا چاہیے کہ فلسطین، لبنان، افغانستان، ہندوستان، اری ٹیریا اور دنیا کے دیگر ممالک میں مسلمانوں پر جو وحشت و بربریت کا بازار گرم کیا جا رہا ہے اور اسی طرح اسلامی جمہوریہ ایران اور لیبیا کے خلاف جو دیدہ و دانستہ اشتعال انگیز کارروائیاں کی جا رہی ہیں، وہ اس بات کی متقاضی ہیں کہ پوری امت مسلمہ ایک جسد واحد کی طرح اپنے تمام وسائل کے ساتھ دشمن کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے، اور اگر ایسا ممکن ہوسکا اور انشاءاللہ ایک دن ضرور ایسا ہوگا تو پھر کسی بین الاقوامی استحصالی قوت کو امت مسلمہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ ہوسکے گی۔ ہم آپ سے توقع رکھتے ہیں کہ آپ امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کیلئے سرگرم عمل ہوجائیں گے اور باطل قوتوں کے خلاف ایک مشترکہ لائحہ عمل کو اپنانے کیلئے عملی اقدامات کی طرف توجہ فرمائیں گے، نہ یہ کہ بعض حکومتوں کے ایماء پر آپ اسلامی کانفرنس کی طرف سے ایسی کانفرنس کا انعقاد کروائیں جو امت مسلمہ کے مفادات کو زک پہنچانے کے درپے ہو۔
(اسلامی کانفرنس کے سیکرٹری جنرل شریف الدین پیرزادہ
کے نام کھلا خط 21"فروری 1986ء")
 
وقت کے تقاضے:۔
میں تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وقت کے تقاضوں کا ادراک حاصل کریں، جو پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مسلمان متحد ہوکر عالمی سامراج کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ سامراجی قوتوں کی کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر موجود فروعی اختلافات کو ہوا دے کر انہیں کمزور کریں۔
(گلزار صادق بہاولپور میں ایک عظیم اجتماع سے خطاب
"مارچ 1986ء")
 
شرعی و ایمانی فریضہ:۔
میں تمام مسلمانوں سے بار بار یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہر ممکن طریقے سے امریکہ، روس اور اسرائیل کی اسلام دشمن پالیسیوں کی بھرپور مذمت اور ان سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے رہیں کہ یہ ان کا شرعی و ایمانی فریضہ ہے۔
( گلگت، بلتستان کے دورے کے موقع پر خطاب "جون1986ء")

تنگ نظری کی بجائے وسعت نظری:۔
بعض عناصر نے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے فتویٰ سازی کے کارخانے قائم کر لئے ہیں، تنگ نظری اہل تشیع میں ہو یا اہل تسنن میں اس سے فقط اسلام کو نقصان پہنچے گا۔ فتویٰ سازی اور تعصب بیرونی جارحیت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا فائدہ صرف اسلام دشمن قوتیں ہی اُٹھا سکتی ہیں۔ دنیا بھر کے باضمیر اور حریت پسند مسلمان متحد ہوکر ہی سامراجی تسلط، تنگ نظری اور تعصب سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔
(لاہور میں قرآن و سنت کانفرنس سے خطاب
6" جولائی 1986ء")
 
پاکستان سب کا ہے:۔
پاکستان کے قیام کیلئے تمام مکتب فکر کے مسلمانوں نے بھرپور جدوجہد کی ہے۔ آج کسی ایک مکتب فکر کے نظریئے کو دوسروں پر مسلط کرنے کا مقصد نظریہ پاکستان سے انحراف کے مترادف ہوگا۔
(بھکر میں عظیم الشان اجتماع سے خطاب "جولائی 1986ء")
 
25 نومبر 1946ء کے دن پاراچنار کے افغان سرحدی گاؤں پیواڑ میں روشن ہونے والا یہ ستارہ، آسمان پاکستان پر ساڑھے چار سال تک ملت کی رہنمائی کرتے ہوئے انتہائی جراءت و شجاعت کے مظاہرے کرتا ہوا 5 اگست 1988ء کو اسلام و پاکستان دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو کر بظاہر ڈوب دیا مگر جاتے جاتے قوم میں ایسی روشنی بکھیر گیا، جس کے طفیل آج بھی حق و صداقت کا پھریرا لہرا رہا ہے اور جمہوریت کے سائے تلے سبز ہلالی پرچم سربلند دکھائی دے رہا ہے۔
تحریر:  ارشاد حسین ناصر


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری



 

 

 ..............


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم مرداد 1392 توسط ارشادحسین مطهری

پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر فوج کے دو افسروں اور ایک پولیس افسر کو قتل کر دیا ۔ 

 گلگت میں تین سکیورٹی افسروں کا قتل ابنا: پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر فوج کے دو افسروں اور ایک پولیس افسر کو قتل کر دیا ۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کا ایک کرنل، ایک کیپٹن اور پولیس کے سینئر سپرنٹنڈنٹ ہلال احمد ایک سرکاری میٹنگ سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے جب نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا۔حملے میں چار اہلکار زخمی ہو گئے جن میں سے تین نے ہسپتال میں دم توڑ دیا۔
حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ فی الحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔


.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک