X
تبلیغات
بلتستانی

بلتستانی
 
وبلاگ شخصی ارشاد حسين مطهري

محل درج آگهی و تبلیغات
 
نوشته شده در تاريخ پنجشنبه پانزدهم فروردین 1392 توسط ارشادحسین مطهری

حضرت آیت اللہ العظمی سبحانی نے شیخ النمر پر عائد الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا: اب ایسے انسان پر جاسوسی کا الزام لگاتے ہیں جس کی ساری زندگی میں سوائے تقویٰ، پرہیزگاری، تدریس و تقریر کے علاوہ کچھ نہیں ہے، سب جانتے ہیں کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ 

 عربستان کے شیعوں کے ساتھ اخلاق اور عدالت سے پیش آو
اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ حضرت آیت اللہ العظمی شیخ جعفر سبحانی نے حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ النمر کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کر کے مقدمے چلانے والے سعودی حکام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: یہ یہ سب پر عیاں ہے کہ یہ الزامات عدال و انصاف سے دور ہیں ان سے قبائیلی بو آتی ہے۔
حضرت آیت اللہ سبحانی نے آج اپنے درس کے دوران پیغمبر اکرم (ص) کی اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جس میں آنحضور (ص) نے فرمایا: "من سمع رجلا منادی یا للمسلمین و لم یجبه فلیس بمسلم‘‘ جو شخص کسی مسلمان کی فریاد کو سنے اور اس کی مدد کو نہ پہنچے وہ مسلمان نہیں ہے، کہا:سعودی مسلمانوں کے درمیان آیت اللہ شیخ النمر کی زندگی ان کے مصلح ( اصلاح کرنے والے) ہونے پر بہترین دلیل ہے۔
انہوں نے کہا: یہ مجاہد عالم دین چاہتا ہے ملک میں امن ہو لیکن اس شرط کے ساتھ کہ شیعوں پر ظلم نہ کیا جائے، شیعہ کو دوسرے درجہ کا شہری نہ دیکھا جائے۔
شیعوں کے مرجع تقلید نے کہا: اب ایسے انسان پر جس کی ساری زندگی میں سوائے تقویٰ، پرہیزگاری، تدریس و تقریر کے علاوہ کچھ نہیں ہے جاسوسی کا الزام لگاتے ہیں سب جانتے ہیں کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔
حضرت آیت اللہ سبحانی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ طول تاریخ میں بھی انبیاء و اولیا کو ان عناوین کے ساتھ متہم کیا جاتا رہا ہے کہا: رسول خدا (ص) پر خیانت کا الزام لگایا گیا، کاہن ہونے کا الزام لگایا گیا، کذاب و ساحر کہا گیا لیکن کچھ بھی ثابت نہیں کر پائے البتہ یہی چیز پیغمبر گرامی اسلام (ص) کے ان الزامات سے پاک و مبرا ہونے کی دلیل ہے اور آپ (ص) کی زندگی اتنی پاکیزہ تھی کہ وہ کسی دوسری اخلاقی برائی کی نسبت آپ کی طرف نہ دے سکے۔
انہوں نے مزید کہا: بعینہ یہی تہمتیں آیت اللہ شیخ نمر اور دیگر ۱۶ علماء، ڈاکٹروں اور انجینیروں پر لگائیں جا رہی ہیں جو سب کے سب شیعہ ہیں۔ واضح ہے کہ یہ سب بے بنیاد الزامات ہیں۔ ان کا عدالت سے کوئی ربط نہیں ہے ان سے قبائیلی بو آتی ہے۔
حضرت آیت اللہ العظمی سبحانی نے حکام سعودی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: میں اسی منبر سے سعودی حکام کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم لوگ آج تک ظلم اور بربریت کے راستے پر چلتے رہے ہو جس کا کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا ایک بار اپنے اس طریقہ کار کو بدل کر دیکھ لو عدالت اور اخلاق کے راستے پر چل کر بھی دیکھ لو، شیعوں کے ساتھ بھی انصاف اور ان کے حقوق کی رعایت کر کے دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ ملتا ہے کہ نہیں۔
انہوں نے آخر میں واضح کیا: کیوں تم نے استکبار کا راستہ اپنا رکھا ہے ایک مرتبہ انبیاء اور اولیاء کے راستہ پر چل کر بھی دیکھ لو۔ مجھے امید ہے کہ ہماری یہ نصیحتیں ان کے کانوں تک پہنچیں گی۔
نوشته شده در تاريخ پنجشنبه پانزدهم فروردین 1392 توسط ارشادحسین مطهری


حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے اس ملک کے شیعہ علماء بالخصوص شیخ النمر کو کسی طرح کا گزند پہنچنے سے آل سعود کو خبردار کرتے ہوئے کہا: سعودی حکام کو جان لینا چاہیے کہ اس ملک کے شیعہ تنہا نہیں ہیں کسی قسم کا خطرہ اگر انہیں لاحق ہوا تو پوری دنیا کے شیعہ اور غیر شیعہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ 

 آیت اللہ مکارم شیرازی کا شیخ النمر کے بارے میں سعودی حکومت کو انتباہ اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے عربستان کے بزرگ عالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ نمر باقر النمر پر مقدمے کو آل سعود کا ایک نیا پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے انہیں اوراس سرزمین کے دیگر علماء کو کسی طرح کا جارحانہ گزند پہنچنے سے سعودی حکام کو خبردار کیا۔
حضرت آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے آج صبح قم مسجد اعظم میں اپنے درس کی ابتدا میں سعودی میں بعض شیعہ علماء کو جیل میں بند کرنے اور ان کے سلسلے میں آل سعود کے گستاخانہ اعمال کی مذمت کرتے ہوئے کہا: موثق اطلاعات کے مطابق حال میں سعودی حکومت نے بہت سارے شیعوں پر بےجا سختیاں کرنا اور جاسوسی ٹیم کا انکشاف کرنے کے عنوان سے ایک نیا پروپیگنڈہ شروع کر رکھا ہے۔
انہوں نے سعودی عدالت میں شیخ النمر کے اعدام کے لیے صدور حکم کے مطالبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: سعودی حکام کا یہ ایک نیا پروپیگنڈا ہے حتی عربستان کی یونیورسٹیوں کے اساتید اور علماء نے بھی اس چیز کا اعتراف کیا ہے۔
حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے سعودی حکومت کی طرف سے ہونے والی بد اخلاقیوں کی وجوہات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: سعودی حکومت پر اندرونی طور سے دباو ہے کہ ملک میں اصلاحات وجود پانا چاہیے چونکہ عوام بیدار ہو چکے ہیں اور ان کی علمی سطح اونچی ہو چکی ہے اور وہ عوامی حکومت قائم کرنے پر مصر ہیں جو ان کا مسلمہ حق ہے۔
انہوں نے مزید کہا: سعودیہ کے علاوہ بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ دیگر ممالک میں بھی اسلامی بہاریں آئیں ہیں استبدادی اور استکباری حکومتیں سرنگوں ہو چکیں ہیں یا ہو رہی ہیں۔ سعودی بھی بحرین ، شام اور یمن میں شکست کھا چکے ہیں۔ اس بنا پر سعودی حکومت نے عوامی افکار کو منحرف کرنے کے لیے اس طرح کے پروپیگنڈوں کو شروع کیا ہے۔ اور اس عنوان سے کہ ہم نے جاسوسوں کی ایک ٹیم کو حراست میں لیا ہے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کے افکار کو جھوٹ موٹ میں ایک دوسری سمت موڑ دیں اور ملک کی تمام بدبختیوں کو شیعوں کی گردنوں پر ڈال دیں۔
اس مرجع تقلید نے اس ملک کے شیعہ علماء بالخصوص شیخ النمر کو کسی طرح کا گزند پہنچنے سے آل سعود کو خبردار کرتے ہوئے تاکید کی: سعودی حکام کو جان لینا چاہیے کہ اس ملک کے شیعہ تنہا نہیں ہیں کسی قسم کا خطرہ اگر انہیں لاحق ہوا تو پوری دنیا کے شیعہ اور غیر شیعہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔
حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے مزید کہا: آل سعود حکام تصور نہ کریں کہ اگر ان کے خلاف عدالت نے حکم صادر کر دیا تو کوئی انہیں پوچھنے نہیں ہو گا۔ سعودی حکام متوجہ رہیں کہ وہابیوں کے علاوہ تمام مسلمان اس مسئلہ پر خاموش نہیں رہیں گے۔
شیعیان عالم کے مرجع تقلید نے سعودی حکومت کی ایرانی زائرین کی نسبت بد اخلاقیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا: یہ بد اخلاقیاں صرف جنت البقیع میں ہی نہیں بلکہ مسجد النبی (ص) کے اندر بھی رخ پاتی ہیں اور ایرانی زائرین مخصوصا ایرانی علماء کی توہین کی جاتی ہے۔
حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے اس طرح کی تمام حرکات کی مذمت کرتے ہوئے کہا: کیا کوئی نہیں ہے جو سعودی حکمرانوں سے یہ پوچھے کہ کیا یہ لوگ اللہ کے مہمان نہیں ہوتے ہیں؟
انہوں نے مزید کہا: بین الاقوامی قانون کے مطابق اگر کوئی شخص کسی ملک کا ویزا لے کر اس ملک میں سفر کرتا ہے تو وہ وہاں کا مہمان ہوتا ہے۔ اس ملک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے جان و مال کی حفاظت کرے۔ تم لوگوں کو توہین کرنے کی اجازت کس نے دی؟
حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے اس طرح کے تمام اقدامات کو دینی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیتے ہوئے واضح کیا: ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ مکہ، مدینہ، مسجد النبی (ص)، مسجد الحرام،۔۔۔ تم لوگوں کی ذاتی ملکیتیں ہیں کہ تم لوگ جیسا چاہو ویسا کرو۔ یہ مقدس مقامات تمام مسلمانوں سے متعلق ہیں، وہابیوں کے علاوہ دنیا کے تمام مسلمانان ان مقامات اور قبور کی زیارات کو مستحب سمجھتے ہیں۔
حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے تمام مسلمانوں سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہ ایک تنطیم عمل میں لائی جائے جو ان مقدس مقامات پر نگرانی رکھے کہا: امید ہے کہ ایک دن ایسا آئے کہ او آئی سی کی طرف سے ایک تنظیم عمل میں لائی جائے جو حرمین شریفین پر نظارت رکھے۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے، جو چیز تمام مسلمانوں سے متعلق ہے ضروری ہے کہ تمام مسلمان اس پر نظارت رکھتے ہوں۔
نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هشتم فروردین 1392 توسط ارشادحسین مطهری

سعودی عرب کے وہابی ملاؤں نے شام میں دہشت گردوں کو عرب لڑکیاں سپلائی کرنے کے لئے " جہاد النکاح" کا فتوی دیا ہے جس کی تیونس کے علماء نے شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے بدعت اور غیر شرعی عمل قراردیا ہے۔ 

 شام میں دھشگردوں کے لیے ’’جہاد النکاح‘‘ جائز، سعودی وہابی ملاوں کا فتویٰ
ابنا: عرب ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے وہابی ملاؤں نے شام میں دہشت گردوں کو عرب لڑکیاں سپلائی کرنے کے لئے " جہاد النکاح" کا فتوی دیا ہے جس کی تیونس کے علماء نے شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے بدعت اور غیر شرعی عمل قراردیا ہے۔ سعودی عرب کے وہابی علماء نے شام کے جہاد میں عورتوں کی شرکت کا فتوی  " جہاد النکاح " کے عنوان سےدیا ہے تاکہ عرب لڑکیاں شام میں لڑنے والوں دہشت گردوں کے ساتھ " جہاد النکاح " کریں۔ اس فتوی کی روشنی میں تیونس اور دیگر عرب ممالک کی کئی لڑکیوں کو شام روانہ کیا گيا ہے۔ سعودی عرب کے وہابی عالم محمد العریفی نے یہ فتوی صادر کیا ہے اور اس فتوی کے بعد تیونس کے ایک دہشت گرد ابو قصی نے تیونس کی 13 لڑکیوں کو شام روانہ کرنے کا اعتراف کیا ہے، سعودی وہابی علماء عورتوں کے لئے شام کے ساتھ لڑائی میں شرکت کے لئے جہاد النکاح کو بہترین طریقہ قراردیتے ہیں ، لیکن تیونس کے علماء کا کہنا ہے کہ سعودی وہابی ملاؤں نے شام میں مسلح دہشت گردوں کو عرب لڑکیاں سپلائی کرنے کا غیر شرعی جواز دیدیا ہے۔
ادھر تیونس کے سرکاری وکیل نے تیونس سےشام میں دہشت گرد بھیجنے کے نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات کا حکم دیدیا ہے۔ تیونس کے مقامی ذرائع کے مطابق تیونس کے ایک ہزار مسلح دہشت گرد شام کی حکومت اور عوام کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
  ذرائع کے مطابق شام میں ترکی، سعودی عرب ،قطر، کویت،امارات، اردن، تیونس  ، مصر، لیبیا، افغانستان ، پاکستان اور یورپ سمیت  35 ممالک کے دہشت گرد موجود ہیں جو  شامی عوام اور حکومت کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هشتم فروردین 1392 توسط ارشادحسین مطهری

آل سعود کے سرکاري وکيل نے ممتاز شيعہ عالم دين شيخ باقر نمر کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کيا ہے - 

 سعودي عرب ميں شيعہ عالم دين شيخ باقر نمر پر مقدمہ ، سزائے موت کا مطالبہ
ابنا:  ممتاز شيعہ عالم دين شيخ باقر نمر پر رياض کي ايک عدالت ميں منگل سے  مقدمے کي کاروائي شروع ہوگئي ہے - اس رپورٹ کے مطابق آل سعود کے سرکاري وکيل نے آيت اللہ شيخ باقر نمر پر قطيف ميں شورش، غير ملکي مداخلت حاصل کرنے، ملک سے غداري، آل سعود حکام کي توہين اور غير ملکي قوت سے استفادے کي دھمکي نيز بحرين ميں شورش کي حمايت کا الزام لگاتے ہوئے عدالت سے ان کے لئے سزائے موت کا مطالبہ کيا ہے
قابل ذکر ہے کہ آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں نے آيت اللہ شيخ باقر نمر کو  جولائي دو ہزار بارہ ميں زخمي کرنے کے بعد گرفتار کرليا تھا -  انہوں نے آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں کے حملے اور گرفتاري سے قبل اپني ايک تقرير ميں  بحرين ميں سعودي عرب کي مداخلت کي  سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ آل سعود کي حکومت بحرين ميں عوام کا قتل عام کيوں کررہي ہے جبکہ اس نے فلسطين کے بارے ميں اب تک کوئي معمولي قدم بھي نہيں اٹھايا ہے -

سعودي عرب بالخصوص اس ملک کے مشرقي علاقوں القطيف، العواميہ، القسيم اور البريدہ ميں تقريبا دوسال سے سماجي نا انصافي ، امتيازي سلوک اور عوام کے بنيادي انساني حقوق کي پامالي کے خلاف عوام کے مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے جس کے دوران آل سعود کے سيکورٹي اہلکاروں کے حملوں ميں متعدد افراد شہيد سيکڑوں زخمي اور ہزاروں افراد گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کئے جاچکے ہيں ليکن مظاہرے بند ہونے کے بجائے وسيع تر ہوئے ہيں اور رياض، جدہ ، مدينہ منورہ اور مکہ مکرمہ ميں  بھي عوامي مظاہرے ہوئے ہيں.


نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هشتم فروردین 1392 توسط ارشادحسین مطهری


جناب زہرا(س) نے وصیت کی کہ انہیں رات کے عالم میں دفنایا جائے لیکن یہ وصیت صرف اس وجہ سے نہیں تھیں کہ نامحرموں کی آپ کے جنازے پر نگاہ نہ پڑے بلکہ آپ ان لوگوں کو باخبر نہیں کرنا چاہتی تھیں جنہوں نے آپ پر ظلم و ستم کے طوفان ڈھائے۔ 

بقلم: افتخار علی جعفری


 کیوں حضرت زہرا (س) کو رات میں دفنایا گیا؟

سوال: کہا جاتا ہے کہ حضرت زہرا (س) کو رات میں دفن کیا گیا تھا۔ کیا یہ صرف اس وجہ سے تھا جو آپ نے جناب اسما بنت عمیس کو وصیت کی تھی، تاکہ نامحرم آپ کے جسد کو نہ دیکھ سکیں؟

جواب: جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا رات کے عالم میں دفن ہونا، خلفاء کا جنازے میں شریک نہ ہونا، قبر کا مخفی ہونا، یہ تمام وہ راز ہیں جن کے پس پردہ بہت سارے حقائق پوشیدہ ہیں۔ ٹھیک ہے جناب زہرا (س) نے وصیت فرمائی تھی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں جناب زہرا ایسی وصیت کرنے پر مجبور ہوئیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ اپنی اس وصیت کے ذریعہ اپنے دشمنوں کی نسبت ناراضگی کا اظہار کرنا چاہتی تھیں؟ اور قیامت تک کے محققین کے لیے یہ سوال چھوڑ کر جانا چاہتی تھیں کہ کیوں جناب زہرا (س) کا جنازہ رات میں اٹھایا گیا؟ کیوں جناب زہرا (س) کی قبر مخفی ہے ؟ کیوں حضرت علی (ع) نے خلفاء وقت کو خبر کئے بغیر آپ کے جنازہ پر نماز ادا کر دی؟ وغیرہ وغیرہ

کیا وہ شخص جو جانشین پیغمبر (ص) تھا وہ دختر رسول (ص) کے جنازہ پر نماز پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا؟

جی ہاں، جناب زہرا(س) نے وصیت کی کہ انہیں رات کے عالم میں دفنایا جائے لیکن یہ وصیت صرف اس وجہ سے نہیں تھیں کہ نامحرموں کی آپ کے جنازے پر نگاہ نہ پڑے بلکہ آپ ان لوگوں کو باخبر نہیں کرنا چاہتی تھیں جنہوں نے آپ پر ظلم و ستم کے طوفان ڈھائے۔ یہ شیعت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے رسول اسلام (ص) کے بعد جانشین رسول (ص) ہونے کا دعویٰ کیا تھا دختر رسول (ص) دنیا سے جاتے وقت ان سے ناراض تھیں لہذا جناب فاطمہ (ص) کی محبت دل میں رکھنے والے اور ان کی سیرت پر چلنے والے کیسے ان سے راضی ہو سکتے ہیں؟

جناب زہرا (س) کے خلفاء راشدین سے ناراضگی پر شیعہ سنی کتابوں میں کثرت سے روایات موجود ہیں ہم یہاں پر صرف چند ایک کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

اہلسنت کی کتابوں میں:

رات میں دفن کرنا اور خلفاء کو اطلاع نہ دینا

محمد بن اسماعیل بخاری لکھتے ہیں:

وعَاشَتْ بَعْدَ النبي صلى الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عليها.

فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا رسول خدا (ص) کے بعد چھ مہینے زندہ رہیں جب دنیا سے رخصت ہوئیں تو آپ کے شوہر علی (ع) نے رات کے عالم میں آپ کو دفن کر دیا اور ابوبکر کو اطلاع نہیں دی۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر، تحقيق د. مصطفى ديب البغا، ناشر: دار ابن كثير، اليمامة - بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 - 1987.

ابن قتیبہ دینوری نے تاویل مختلف الحدیث میں لکھا ہے:

وقد طالبت فاطمة رضي الله عنها أبا بكر رضي الله عنه بميراث أبيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما لم يعطها إياه حلفت لا تكلمه أبدا وأوصت أن تدفن ليلا لئلا يحضرها فدفنت ليلا.

فاطمہ(س) نے ابوبکر سے اپنے باپ کی میراث کا مطالبہ کیا ابوبکر نے قبول نہیں کیا تو فاطمہ(س) نے قسم کھائی کہ ابوبکر کے ساتھ بات نہیں کریں گی اور وصیت کی کہ انہیں رات کو دفن کیا جائے اور وہ (ابوبکر) ان کے جنازہ میں شریک نہ ہو۔

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)، تأويل مختلف الحديث، ج 1، ص 300، تحقيق: محمد زهري النجار، ناشر: دار الجيل، بيروت، 1393هـ، 1972م.

عبد الرزاق صنعانی لکھتے ہیں:

عن بن جريج وعمرو بن دينار أن حسن بن محمد أخبره أن فاطمة بنت النبي صلى الله عليه وسلم دفنت بالليل قال فرَّ بِهَا علي من أبي بكر أن يصلي عليها كان بينهما شيء.

ابن جریح اور عمرو بن دینار سے نقل کیا ہے کہ انہیں حسن بن محمد نے خبر دی کہ فاطمہ (س) بن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ کو رات میں دفن کیا گیا اس نے کہا کہ فاطمہ (س) اور ابوبکر کے درمیان جو کچھ ہوا اس کی وجہ سے علی (ع) نے اسے نماز پڑھنے کے لیے مطلع نہیں کیا۔

نیز لکھتے ہیں:

عبد الرزاق عن بن عيينة عن عمرو بن دينار عن حسن بن محمد مثله الا أنه قال اوصته بذلك

حسن بن محمد سے اس کے مشابہ ایک اور روایت بھی نقل ہوئی ہے اس میں صرف اتنا فرق ہے کہ اس میں آیا ہے کہ فاطمہ(س) نے خود اس کام کی وصیت کی تھی۔

الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)، المصنف، ج 3، ص 521، حديث شماره 6554 و حديث شماره: 6555، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي، ناشر: المكتب الإسلامي - بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ.

ابن بطال نے شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے:

أجاز أكثر العلماء الدفن بالليل... ودفن علىُّ بن أبى طالب زوجته فاطمة ليلاً، فَرَّ بِهَا من أبى بكر أن يصلى عليها، كان بينهما شىء.

اکثر علماء نے جنازہ کو رات میں دفن کرنے کو جائز قرار دیا ہے۔۔۔ اور علی بن ابی طالب نے اپنے زوجہ فاطمہ کا جنازہ رات کو دفن کیا تاکہ ابوبکر ان پر نماز نہ پڑھ سکے چونکہ ان دونوں ( فاطمہ اور ابوبکر) کے درمیان کوئی اختلاف تھا۔

إبن بطال البكري القرطبي، أبو الحسن علي بن خلف بن عبد الملك (متوفاي449هـ)، شرح صحيح البخاري، ج 3، ص 325، تحقيق: أبو تميم ياسر بن إبراهيم، ناشر: مكتبة الرشد - السعودية / الرياض، الطبعة: الثانية، 1423هـ - 2003م.

ابن ابی الحدید نے جاحظ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:

وظهرت الشكية، واشتدت الموجدة، وقد بلغ ذلك من فاطمة ( عليها السلام ) أنها أوصت أن لا يصلي عليها أبوبكر۔

فاطمہ کی شکایت اور نارضگی اس حد تک تھی کہ انہوں نے وصیت کی کہ ابوبکر ان کے جنازہ پر نماز نہ پڑھے۔

إبن أبي الحديد المدائني المعتزلي، أبو حامد عز الدين بن هبة الله بن محمد بن محمد (متوفاي655 هـ)، شرح نهج البلاغة، ج 16، ص 157، تحقيق محمد عبد الكريم النمري، ناشر: دار الكتب العلمية - بيروت / لبنان، الطبعة: الأولى، 1418هـ - 1998م.

 دوسری جگہ لکھتے ہیں:

وأما إخفاء القبر، وكتمان الموت، وعدم الصلاة، وكل ما ذكره المرتضى فيه، فهو الذي يظهر ويقوي عندي، لأن الروايات به أكثر وأصح من غيرها، وكذلك القول في موجدتها وغضبها.

فاطمہ (س) کی قبر کا مخفی ہونا، موت کو چھپانا، اور ابوبکر کا نماز جنازہ نہ پڑھنا، اور مزید جو کچھ سید مرتضی نے لکھا ہے وہ سب میرے نزدیک واضح اور مورد تائید ہے۔ اس لیے کہ اس موضوع پر کثرت سے روایات موجود ہیں اور باقی روایتوں سے صحیحتر ہیں اور اس طرح ( شیخین کے سلسلے میں ) آپ کی ناراضگی اور غضب کی بات بھی میرے نزدیک مورد تائید ہے۔

شرح نهج البلاغة، ج 16، ص 170.

 

شیعوں کی کتابوں میں

جناب فاطمہ (س) کا رات میں دفن ہونا

اگر چہ جناب زہرا (ص) کی رات میں دفن کے سلسلے میں وصیت شیعہ علماء کے نزدیک مسلم اور قطعی ہے لیکن ہم یہاں پر صرف ایک روایت کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

مرحوم شیخ صدوق نے رات کو دفنانے کی وجہ کے بارے میں لکھا ہے:

عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام لِأَيِّ عِلَّةٍ دُفِنَتْ فَاطِمَةُ (عليها السلام) بِاللَّيْلِ وَ لَمْ تُدْفَنْ بِالنَّهَارِ قَالَ لِأَنَّهَا أَوْصَتْ أَنْ لا يُصَلِّيَ عَلَيْهَا رِجَالٌ [الرَّجُلانِ‏].

علی بن ابو حمزہ نے امام صادق علیہ السلام سے پوچھا: کیوں فاطمہ زہرا(س) کو رات میں دفن کیا گیا دن میں نہیں؟ فرمایا: فاطمہ سلام اللہ علیہا نے وصیت کی تھی کہ انہیں رات میں دفن کیا جائے تاکہ کچھ لوگ( دو آدمی) ان کے جنازہ پر نماز نہ پڑھ سکیں۔

الصدوق، أبو جعفر محمد بن علي بن الحسين (متوفاي381هـ)، علل الشرايع، ج‏1، ص185، تحقيق: تقديم: السيد محمد صادق بحر العلوم، ناشر: منشورات المكتبة الحيدرية ومطبعتها - النجف الأشرف، 1385 - 1966 م .

 مرحوم صاحب مدارک لکھتے ہیں:

 إنّ سبب خفاء قبرها ( عليها السلام ) ما رواه المخالف والمؤالف من أنها ( عليها السلام ) أوصت إلى أمير المؤمنين ( عليه السلام ) أن يدفنها ليلا لئلا يصلي عليها من آذاها ومنعها ميراثها من أبيها ( صلى الله عليه وآله وسلم ).

 جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو رات میں دفن کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ دوست و دشمن سب نے نقل کیا ہے کہ آپ (س) نے امیر المومنین علی (ع) کو وصیت کی تھی کہ انہیں رات کو دفنایا جائے تاکہ وہ لوگ جنہوں نے آپ کو اذیت و آزار دیں اور آپ کو اپنے باپ کی میراث سے محروم کیا آپ کے جنازہ میں شریک نہ ہوں اور آپ پر نماز نہ پڑھ سکیں۔

الموسوي العاملي، السيد محمد بن علي (متوفاي1009هـ)، مدارك الأحكام في شرح شرائع الاسلام، ج 8، ص279، نشر و تحقيق مؤسسة آل البيت عليهم السلام لإحياء التراث، الطبعة: الأولي، 1410هـ.

نتیجہ

مذکورہ روایات اور اہلسنت کے علماء کے اعتراف کی روشنی میں جناب زہرا (س) کو رات کے عالم میں دفنانا آپ کی وصیت کی وجہ سے تھا جو آپ نہیں چاہتی تھیں کہ جن لوگوں نے آپ کے بابا کے بعد آپ کو اس قدر ستایا کہ اٹھارہ سال کی عمر میں سر کے بال سفید ہو گئے، کمر خمیدہ ہو گئی، پسلیاں توڑ دی گئی، شکم میں محسن کو شہید کر دیا گیا، وہ لوگ آپ کے جنازے میں شریک ہوں۔  وہ لوگ کیسے جناب زہرا (س) کی جنازہ میں شریک ہو سکتے تھے؟ جناب زہرا (س) ہرگز انہیں اجازت نہیں دے سکتی تھی کہ وہ آپ کے جنازے پر نماز پڑھیں۔ ایسے میں اگر رات کو دفنانے کی وصیت نہ کرتی اور دن میں جنازہ اٹھتا تو یقینا رسم نبھانے وہ لوگ بھی جنازہ میں شریک ہو جاتے جس سے ایک تو جناب زہرا(س) کی روح کو اذیت ہوتی۔ دوسرے اگر علی علیہ السلام انہیں منع کرتے تو ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہو جاتا۔ ممکن تھا تلواریں نکل آتیں تو جنازہ کی بے حرمتی ہوتی۔ لہذا جناب زہرا (س) نے پہلے سے ہی ان تمام حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے رات کے عالم میں اپنے دفنانے کی وصیت کر دی تاکہ کسی کو خبر نہ ہو اور مسلمان خونریزی سے بچ جائیں۔


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه سی ام اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری































نوشته شده در تاريخ چهارشنبه سی ام اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: پروفیسر سبط جعفر زیدی کی شہادت سے پاکستان کے عوام ایک محب وطن، عاشق اہلبیت (ع)، منتظرِ امام مہدی (عج) اور ایک شفیق اور مہربان انسان سے محروم ہوگئی ہے۔































نوشته شده در تاريخ چهارشنبه سی ام اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: شہید پروفیسر سبط جعفر زیدی کی نماز جنازہ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے پڑھائی، نماز جنازہ کے موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ عباس کمیلی، علامہ فرقان حیدر عابدی سمیت بڑی تعداد میں علماء و ذاکرین و شعرائے کرام موجود تھے۔ انکی نماز جنازہ میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی، جن میں ماہرین تعلیم، اساتذہ، ان کے شاگرد، احباب اور ہزاروں سوگوار شامل تھے۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔































نوشته شده در تاريخ چهارشنبه سی ام اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: جشن نوروز ہر سال بہار کے شروع ہونے پر منایا جاتا ہے، جب موسم میں بہار کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں اور ایک نئے موسم کی ابتدا ہوتی ہے اور اس مناسبت سے جشن نوروز کے موقع پر ہم آپس میں ایک دوسرے سے دوستی کا تجدید عہد کرتے ہیں اور اسی مناسبت سے یعنی جشن نوروز میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے اور ہم ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور آپس میں صلح و دوستی کا رشتہ اور مضبوط ہوتا ہے۔
عالمی جشن نوروز
رپورٹ: این ایچ نقوی

نوروز فطرت کی تجدید کا دن تصور کیا جاتا ہے۔ نوروز کا مطلب نیا دن ہے۔ جشن نوروز آذربائیجان اور وسط ایشیاء کے ممالک جو ترک قومیتوں پر مشتمل ہیں، کے علاوہ ایران، افغانستان، تاجکستان اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے کچھ حصوں میں اپنے روائتی اور مذہبی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کی ایک اپنی مذہبی، ثقافتی، روایتی اور تہذیبی اہمیت ہے۔ نوروز کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ نوروز کے وقت سے کچھ پہلے پورا خاندان اس میز یا دسترخوان کے گرد بیٹھتا ہے اور گھر کا بڑا دعاؤں کی کتاب سے نئے سال کی دعا پڑھتا ہے۔ اس دوران وہ کتاب کے مختلف صفحوں کے درمیان کچھ رقم بھی رکھتا جاتا ہے، جو بعد میں خاندان کے افراد میں تقسیم کر دی جاتی ہے۔ یہ شکرانے کا ایک انداز ہے۔

پاکستان میں بھی نوروز کی تقریبات کا آغاز ہوچکا ہے۔ گذشتہ دن جشن نوروز کی ثقافتی تقریب قائداعظم یورنیورسٹی اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا حقیقیان نے جشن نوروز کی تقریب کا افتتاح کیا اور ابتدائی خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر قائداعظم یونیورسٹی کے فٹبال گراونڈ کو رنگا رنگ ثقافتی اسٹالز اور پینافلیکس کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ ہر اسٹال ایک منفرد ثقافت اور روایات کا عکاس تھا۔ دنیا کے مختلف ممالک جہاں نوروز کا تہوار منایا جاتا ہے، ان کی تفصیل مختلف پینافلیکس کی شکل میں آویزاں کی گئی تھی۔

ایرانی سفیر نے تقریب سے اپنے خطاب کا آغاز کچھ یوں کیا۔ الله تبارک کے بابرکت نام سے شروع کرتا ہوں۔ سب سے پہلے میں ایران و پاکستان کے دیرینہ تعلقات پر اظہار اطمینان کرتا ہوں اور اپنے تمام ایرانی ہم وطنوں اور تمام ان ملکوں کو جن میں جشن نوروز کو باقاعدہ منایا جاتا ہے اور اپنے تمام معزز مہمانان کو جنہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی ہے، جشن نوروز کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ اور ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف ایشین سویلایزیشن، جنہوں نے اس پروگرام کو مرتب کیا ہے کا بھی بہت شکر گزار ہوں۔

آپ بہتر جانتے ہیں کہ جشن نوروز ہر سال بہار کے شروع ہونے پر منایا جاتا ہے، جب موسم میں بہار کے رنگ نمایاں نظر آتے ہیں اور ایک نئے موسم کی ابتدا ہوتی ہے اور اس مناسبت سے جشن نوروز کے موقع پر ہم آپس میں ایک دوسرے سے دوستی کا تجدید عہد کرتے ہیں اور اسی مناسبت سے یعنی جشن نوروز میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوتا ہے اور ہم ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور آپس میں صلح و دوستی کا رشتہ اور مضبوط ہوتا ہے۔ نوروز کا تہوار بہت قدیمی ہے اور یہ تہوار قبل از اسلام بھی ایران اور مختلف ملکوں میں منایا جاتا تھا اور ظہور اسلام کے بعد یہ تہوار ایک اللہ تعالٰی کی طرف سے تحفہ الہی کے طور منایا جاتا ہے۔ ہفت سین (نوروز کا دستر خوان) جس میں قرآن کریم کا موجود ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تہوار قرآن کریم اور تحفہ الہی کا مرہنون منت ہے۔

آخر میں آج کے روز جو ہمارے برادران اور خواہران جن میں پاکستانی، افغانی، ترکمنستانی اور مختلف ممالک جن میں نوروز باقاعدہ منایا جاتا ہے، ان کی شرکت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں اور تمام مہمانان گرامی، خاص طور پر محترمہ فردوس عاشق اعوان، سفارتخانہ افغانستان کے دوئم اتاشی، نمایندہ خصوصی سفارت ترکمانستان اور محترمہ طیبہ بخاری اور تمام مہمانان گرامی جنہوں نے اس پروگرام میں شرکت کی، ان کا نہایت شکر گزار ہوں۔ تقریب سے سابق وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی خطاب کیا۔


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه سی ام اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبر اور اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیاسی سیل کے رکن کا اسلام ٹائمز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کا کشمیر کیساتھ کوئی تعلق نہیں؟ ہمارا کلچر، تہذیب و تمدن، زبان اور معاشرتی روایات کا دور دور تک کشمیریوں سے کوئی تعلق نہیں اور ہماری علیحدہ پہچان اور تشخص ہے اور یہاں کی اکثریتی آبادی اپنے آپ کو کشمیر کا حصہ تصور نہیں کرتی۔
گلگت بلتستان کے غیور اور محب وطن عوام کو دیگر پاکستانی شہریوں کے مساوی حقوق حاصل نہیں، دیدار علی
دیدار علی ممبر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا شمار گلگت بلتستان کی نامور سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپکا تعلق گلگت شہر سے ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گلگت ہی میں حاصل کی اور میٹرک کے بعد تعلیم کے سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد چلے گئے، جہاں سے ایف اے اور بی ایس سی کیساتھ ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ دیدار علی صاحب قائد گلگت کے نام سے پہنچانی جانے والی معروف سماجی شخصیت جوہر علی خان مرحوم کے قریبی رفقاء میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ آپ طویل عرصے سے ملت جعفریہ کی قومی مذہبی جماعت تحریک جعفریہ پاکستان سے وابستہ رہے اور تحریک جعفریہ گلگت بلتستان کے کلیدی عہدوں پر کام کرتے رہے، آپ نے 1999ء کے انتخابات میں تحریک جعفریہ کے ٹکٹ پر گلگت حلقہ نمبر 1 سے قانون ساز اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ آپ نے پچھلے انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لیکر حلقہ نمبر 2 گلگت سٹی سے کامیابی حاصل کی ہے۔ دیدار علی کا شمار شہید علامہ سید ضیاء الدین رضوی کے بھی قریبی رفقاء میں ہوتا ہے اور آپ شہید کی جانب سے اٹھائی گئی تحریک اصلاح نصاب تعلیم میں انکے شانہ بشانہ رہے۔ آپ مرکزی انجمن امامیہ گلگت کے دو مرتبہ صدر رہ چکے ہیں۔ آپ سیاسی مصروفیات کے علاوہ اس وقت اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیاسی سیل کے ممبر بھی ہیں۔ اسلام ٹائمز نے دیدار علی صاحب سے حالات حاضرہ پر ایک انٹریویو لیا ہے، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔
اسلام ٹائمز : دیدار علی صاحب، آپ گذشتہ طویل عرصے سے گلگت بلتستان کے سیاسی منظر نامے میں اہم عہدوں پر رہے ہیں، شہید آغا ضیاء الدین رضوی کے قریبی رفقاء میں آپکا شمار ہوتا ہے اور اس وقت قانون ساز اسمبلی گلگت بلتستان کے ممبر بھی ہیں۔ گلگت بلتستان کے مخصوص حالات اور فرقہ واریت کے حوالے سے آپکا کیا موقف ہے۔؟
دیدار علی صاحب: گلگت بلتستان کا خطہ جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے، اس جنت نظیر خطے کو قدرت نے بیش بہا قدرتی نعمات سے نوازا ہے اور اس کیساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی جیو پولیٹکل اور اسٹرٹیجک اہمیت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ چین، بھارت، افغانستان اور وسطی ایشیاء کی ریاستوں کی سرحدیں اس خطے سے منسلک ہیں۔ لہٰذہ یہ خطہ طویل عرصے سے بین الاقوامی قوتوں کی نظروں میں ہے اور یہاں رونما ہونے والی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھی وہی قوتیں ملوث ہیں جو اس حساس خطے میں بدامنی و انارکی پھیلا کر اور فرقہ واریت کو ہوا دیکر استحکام پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف عمل ہیں۔ 

گلگت بلتستان میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ نہیں ہے، درحقیقت چند مٹھی بھر شدت پسند گروہ ہیں جن کے بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے مراسم ہیں اور ماضی میں ہمارے بعض ریاستی اداروں کی بھی انہیں سرپرستی حاصل رہی ہے۔ لہٰذہ یہی مقامی شدت پسند عناصر بین الاقوامی قوتوں کے آلہ کار بن کر اس خطے میں شدت پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ مگر الحمداللہ ابتک وہ اپنے عزائم میں ناکام ہوچکے ہیں، کیونکہ گلگت بلتستان کے غیور اور باشعور عوام اب یہ جان چکے ہیں کہ انکا مشترکہ دشمن کون ہے اور انکے کیا مقاصد ہیں۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور ریاستی ادارے اپنے فرائض نیک نیتی کیساتھ انجام دیں اور ملک دشمن عناصر کیخلاف ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت، موجودہ سیاسی پیکج اور ایک طبقے کی جانب سے اس پیکچ کی مسلسل مخالفت اور گلگت بلتستان کو کشمیر کا حصہ قرار دینے کی مہم کے حوالے سے آپکا کیا موقف ہے۔؟

دیدار علی صاحب: دیکھئے جی، یہ یقیناً ایک المیہ ہے کہ نصف صدی سے بھی زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک گلگت بلتستان کے غیور اور محب وطن عوام کو دیگر پاکستانی شہریوں کے مساوی حقوق حاصل نہیں، ہماری قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کوئی نمائندگی نہیں۔ جس کی وجہ سے یہاں کے عوام بالخصوص نوجوان نسل میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ ہمارے آباو و اجداد نے بغیر کسی بیرونی امداد کے ڈوگرہ راج کیخلاف قیام کرکے اور جنگ آزادی لڑ کر اپنی مدد آپ کے تحت اس خطے کو آزاد کرایا تھا اور 15 دنوں تک ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود رہنے کے بعد باہمی مشاورت سے یہاں کے غیور اور محب وطن عوام نے قائد اعظم محمد علی جناح کو خط لکھ کر الحاق پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا تھا اور میں یہ جملہ اکثر دہراتا رہتا ہوں کہ ’’پاکستان کے دیگر علاقوں کے لوگ تو شاید By Chance پاکستانی بنے ہوں مگر گلگت بلتستان کے محب وطن عوام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم By Choice پاکستانی بنے ہیں۔
 
مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج تک ہمیں مسئلہ کشمیر کیساتھ نتھی کرکے مکمل قومی دھارے میں شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ زمینی حقائق اس تاثر کی سختی کیساتھ نفی کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کا کشمیر کیساتھ کوئی بھی تعلق ہے؟ ہمارا کلچر، تہذیب و تمدن، زبان اور معاشرتی روایات کا دور دور تک کشمیریوں سے کوئی تعلق نہیں اور ہماری علیحدہ پہچان اور تشخص ہے اور یہاں کی اکثریتی آبادی اپنے آپ کو کشمیر کا حصہ تصور نہیں کرتی اور یہ ایک مسلمہ حقیقت بھی ہے کہ ہمارا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ رہی بات موجودہ سیاسی پیکج کی تو ہم اسے ایک مثبت پیش رفت ضرور سمجھتے ہیں، مگر ہمارا اصل ہدف گلگت بلتستان کو ملک کا پانچواں آئینی صوبہ بنوانا ہے۔

اسلام ٹائمز: اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے آئندہ ملکی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ماضی میں گلگت بلتستان میں تحریک جعفریہ کے پلیٹ فارم نے انتخابات میں حصہ لیکر بھرپور کامیابیاں بھی حاصل کی تھیں، اس حوالے سے آپکا کیا موقف ہے اور کیا گلگت بلتستان کی سطح پر بھی اسلامی تحریک پاکستان ماضی کی طرح آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیگی۔؟
دیدار علی صاحب: ملت جعفریہ پاکستان کی بانی ملت ہے اور محافظ ملت بھی اور جن حالات میں تحریک جعفریہ نے سیاست میں قدم رکھا، تب پورے ملک میں مذہبی بنیادوں پر مسائل موجود تھے اور قانون سازی یا ترامیم میں فقہ جعفریہ کو سرکاری طور پر نظر انداز کیا جانے لگا، ایسے میں ملت جعفریہ کی نمائندگی ایوانوں میں ناگزیر ہوچکی تھی اور قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے سیاسی پلیٹ فارم کا اعلان کیا جو فرقہ پرستوں کی ناکامی تھی اور فرقہ پرست سازشوں میں تیز ہوئے اور دانستہ طور پر ہمیں ملک میں فرقہ پرستی کی ٹھیکیدار تنظیم کے برابر میں لایا گیا اور ملت جعفریہ کو ہر سطح پر محروم رکھنے کے خواہشمندوں نے تحریک جعفریہ پر پابندی لگوا دی۔ تحریک جعفریہ نے پورے ملک میں بالعموم اور گلگت بلتستان میں بالخصوص ملت جعفریہ کو سیاسی بیداری کے ساتھ ایوانوں اور گلگت بلتستان کی کونسل تک رسائی دی اور یہ اعزاز بھی ہمیں حاصل رہا کہ 1999ء کے انتخابات کے بعد تحریک جعفریہ پاکستان نے قائد محترم علامہ ساجد نقوی اور شہید علامہ سید ضیاء الدین رضوی کی سرپرستی اور راہنمائی میں عمدہ سیاسی حکمت عملی اپناتے ہوئے پیپلز پارٹی کی اکثریت کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور بعض آزاد اراکین کیساتھ اپنی حکومت بنائی اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو (اس وقت کا وزیراعلٰی) بھی تحریک جعفریہ کا امیدوار منتخب ہوا۔ 

گذشتہ انتخابات میں قومی جماعت پر پابندی اور چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر ہم اگرچہ جماعتی بنیادوں پر طور انتخابات میں حصہ تو نہ لے سکے مگر ہمارے موثر ووٹ بنک کی بدولت گلگت شہر کے دونوں حلقوں، 1 اور 2 سے ہمیں آزاد حیثیت سے کامیابی ملی اور میں نے اور رضی الدین رضوی صاحب (سابق مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک جعفریہ) نے حلقہ 1 اور 2 گلگت سے بالترتیت آزاد حیثیت سے الیکشن لڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو بھاری مینڈیٹ سے شکست دیکر ثابت کر دیا کہ ملت جعفریہ گلگت اب بھی سیاسی طور پر بیدار اور اپنا موثر ووٹ بنک رکھتی ہے اور بلاشبہ اس کامیابی میں ہمارے مخلص کارکنان، قائد محترم، علماء کرام، بزرگان اور ملت کی ماوں، بہنوں اور بالخصوص نوجوانوں کی انتھک محنت اور کوششیں شامل تھی۔ انشاءاﷲ آئندہ الیکشن میں بھی ملت جعفریہ اپنے قومی پلیٹ فارم اسلامی تحریک پاکستان سے بھرپور حصہ لے گی اور مرکزی پالیسی کے تحت ملت کی ترجمانی میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

اسلام ٹائمز: ایم ڈبلیو ایم نے بھی عملی سیاست میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے، کیا اسلامی تحریک پاکستان اور ایم ڈبیلو ایم کے ایک ساتھ الیکشن میں حصہ لینے سے شیعہ ووٹ بنک تقسیم ہونے کا خدشہ نہیں؟ اور کیا ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک کا انتخابی اتحاد ممکن نہیں۔؟
دیدار علی: مجلس وحدت مسلمین کے حوالے سے جہاں تک میری معلومات ہیں، گلگت بلتستان کی سطح پر تو ابھی تک کوئی حتمی رائے سامنے نہیں آئی کہ وہ باقاعدہ سیاسی عمل میں شریک ہیں کہ نہیں، اس لئے اس حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه سی ام اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری


اسلام ٹائمز: نماز جنازہ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے پڑھائی، نماز جنازہ کے موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ عباس کمیلی، علامہ فرقان حیدر عابدی سمیت بڑی تعداد میں علماء و ذاکرین و شعرائے کرام موجود تھے۔۔
شہید پروفیسر سبط جعفر آہوں اور سسکیوں کیساتھ سپرد خاک، ایم ڈبلیو ایم کا 3 روزہ سوگ کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ معروف شاعر و ادیب اور کالج پرنسپل پروفیسر سبط جعفر زیدی کو کراچی میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ گذشتہ روز لیاقت آباد میں دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے والے کالج پرنسپل اور معروف شاعر و ادیب پروفیسر سبط جعفر کی نماز جنازہ امروہہ گراؤنڈ انچولی میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے پڑھائی، جس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ شیخ محمد حسن صلاح الدین، علامہ صادق رضا تقوی، جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی، شیعہ علماء کونسل کے صوبائی رہنما علامہ ناظر عباس تقوی اور آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک علامہ مرزا یوسف حسین سمیت ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین اور ممتاز شخصیات کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ بعد میں میت تدفین کے لئے وادی حسین قبرستان میں لے جائی گئی، جہاں تدفین عمل میں آئی۔ پروفیسر سبط جعفر کی ٹارگٹ کلنگ پر سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن کی اپیل پر آج تمام کالجز بند ہیں، جس کے باعث تدریسی عمل معطل ہے۔ سبط جعفر کی شہادت پر مختلف تنظیموں نے بھی تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق معروف شاعر، ادیب، ماہر تعلیم اور ہر دل عزیز شخصیت پروفیسر سبط جعفر زیدی جو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے شہید ہوگئے تھے، انکی نماز جنازہ امروہہ گراونڈ میں ادا کی گئی اور سپر ہائی وے کے وادی حسین قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ انکی نماز جنازہ میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی، جن میں ماہرین تعلیم، اساتذہ، ان کے شاگرد، احباب اور ہزاروں سوگوار شامل تھے۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ہزاروں افراد کا جلوس جنازہ سپر ہائی وے پر واقع قبر ستان وادی حسین پہنچا، جہاں انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔ واقعے کے خلاف مجلس وحدت مسلمین اور اساتذہ کی تنظیم سپلا نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔


نوشته شده در تاريخ دوشنبه بیست و هشتم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری


اسلام ٹائمز: تفصیلات کے مطابق استاد پروفیسر سبط جعفر کو دہشت گردوں نے اپنی فائرنگ کا اس قت نشانہ بنایا جب وہ لیاقت آباد سندھی ہوٹل میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج سے باہر نکل رہے تھے۔
ملت جعفریہ کا عظیم نقصان، پروفیسر سبط جعفر دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید
اسلام ٹائمز۔ سرزمین پاکستان پر بسنے والے اہل تشیع کے لئے ایک اور بڑا عظیم نقصان معروف شاعر اہلبیت (ع) استاد سید سبط جعفر زیدی امریکی پے رول پر پلنے والے دہشت گردوں کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق استاد پروفیسر کو دہشت گردوں نے اپنی فائرنگ کا اس قت نشانہ بنایا جب وہ لیاقت آباد سندھی ہوٹل میں واقع گورنمنٹ ڈگری کالج سے باہر نکل رہے تھے۔ دہشت گردوں نے پروفیسر سبط جعفر کو پانچ گولیاں ماریں۔ شہید کے جسد خاکی کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

پروفیسر سبط جعفر زیدی کی شہادت سے پاکستان کی عوام ایک محب وطب، عاشق اہلبیت (ع)، منتظرِ امام مہدی (عج) اور ایک شفیق اور مہربان انسان سے محروم ہوگئی ہے۔ سبط جعفر کی شہادت ملت جعفریہ کیلئے ایک بہت بڑا نقصان ہے جس کا ازالہ کرنا شاید ہی کبھی ممکن ہو۔ شہید نے اپنی تمام حیات مدح سرائی اہل بیت اور ملت جعفریہ کی سر بلندی کیلئے وقف کر رکھی تھی اور ان کی شہادت ملت جعفریہ کو ایک ایسا صدمہ دے گئی کہ جس کا تدارک کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔


موت ان کے محبوں کو آتی نہیں
آ بھی جائے تو پھر بچ کے جاتی نہیں
موت کا خطر موت سے کیا ہے ڈر
اس سے بچنا بھی کیا آگئی آگئی

غسل میت نہ کہنا میرے غسل کو
اجلے ملبوس کو مت کفن نام دو
میں چلا ہوں علی (ع) سے ملاقات کو
جس کی تھی آرزو وہ گھڑی آگئی

استاد سبط جعفر کا مشہور کلام جب خدا کو پکارا سے اقتباس


نوشته شده در تاريخ سه شنبه بیست و دوم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری


اسلام ٹائمز: اس وقت طالبان کے یاروں کے خلاف آواز اٹھائیے، غداری کے خلاف آواز اٹھائیے۔ ابھی وقت ہے، ابھی بولئے، ابھی مہم چلائیے، ابھی قوم کو یہ شعور دیجئے کہ غداروں کا جو یار ہے، وہ بھی غدار ہے۔ غداری کو موضوع بنائیے اور غداری کو مسترد کیجئے۔ غداری کے خلاف عوامی شعور کو اس قدر بیدار کیجئے کہ لوگ آسانی سے اس حقیقت کو سمجھنے لگیں کہ اب ہمارے سامنے راستہ صرف ایک ہے، دوسرا نہیں، ملک و قوم کے ساتھ غداری یا وفاداری۔۔۔ غداروں سے نفرت یعنی دین اور ملک و قوم سے محبت۔
غداروں سے نفرت کیجئے
تحریر: نذر حافیnazarhaffi@yahoo.com
تاریخ وفاداروں اور غداروں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ غداری کی ہزار شکلیں ہیں، صرف بےگناہ انسانوں کو قتل کرنا ہی ملک و ملت کے ساتھ غداری نہیں ہے، بلکہ قاتلوں کو شاباش دینا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا، ان کے جرائم پر پردہ ڈالنا، انہیں اقتدار اور سیاست میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کرنا، ان کے ساتھ مذاکرات کی فضا تیار کرنا، انہیں سیاسی لیڈروں کے طور پر متعارف کرانا، یہ سب ملک و قوم اور ملت کے ساتھ غداری ہے۔ 
یہ غداری ہے۔۔۔ مساجد میں شہید ہوجانے والے بےگناہ نمازیوں کے خون کے ساتھ، 
یہ غداری ہے۔۔۔ بازاروں کے چوراہوں پہ بمب بلاسٹ کے شکار ہوجانے والے معصوم انسانوں کے ساتھ،
یہ غداری ہے ۔۔۔داتا دربار اور بری امام جیسے مقدس مزارات پر خاک و خون میں لت پت ہوجانے والے انسانوں کے ساتھ۔
یہ غداری ہے۔۔۔۔ پاکستان کے سبز پرچم اور ملت پاکستان کے سرخ خون کے ساتھ۔
یہ غداری ہے۔۔۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے پاکستان کے دیانتدار بیوروکریٹس کے خون ساتھ۔۔۔
 یہ غداری ہے۔۔۔ یہ غداری ہے۔۔۔ یہ غداری ہے۔۔۔

ہمیں اپنی ملت کی سلامتی کو مصلحتوں کے عوض فروخت نہیں کرنا چاہیے، ہمیں یہ بات خود بھی سمجھنی چاہیے اور پوری ملت پاکستان کو سمجھانی چاہیے کہ دشمن کا دوست، صرف اور صرف دشمن ہوتا ہے۔ اس وقت طالبان کے یاروں کے خلاف آواز اٹھائیے، غداری کے خلاف آواز اٹھائیے۔ ابھی وقت ہے، ابھی بولئے، ابھی مہم چلائیے، ابھی قوم کو یہ شعور دیجئے کہ غداروں کا جو یار ہے، وہ بھی غدار ہے۔ غداری کو موضوع بنائیے اور غداری کو مسترد کیجئے۔ جو شخص اپنی ملت کے قاتلوں اور دشمنوں کے لئے قابلِ اعتماد ہو، وہ ملت کا خیر خواہ کیسے ہوسکتا ہے۔
 
یہ اسی صدی کی بات ہے کہ اپنی ملت کے ساتھ غداری کرنے والوں میں سے ایک ایسا بھی تھا کہ وہ تاریخ کے نامور بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تھا۔ اتنا بڑا بادشاہ کہ اپنے آپ کو علی الاعلان بادشاہ کہتا اور اپنے نام کے ساتھ بادشاہ لکھتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ دنیائے سیاست میں اس کے نام کا سکّہ چلتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ امریکہ اور یورپ کے تمام منصوبے اس کے تعاون اور مدد سے پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ وہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا تھا کہ وہ اور امریکہ و یورپ کا اہم اتحادی ہے، وہ ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے ملک کو مسلسل مغرب کے سانچے میں ڈھالتا جا رہا تھا۔ اس نے دینی طالبعلموں کو اچھوت اور دینی مدارس کو پسماندگی کے مراکز قرار دے دیا تھا، وہ مذہبی حلقوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے زبان سے دین کی سربلندی کی باتیں کرتا تھا اور عملاً امریکہ و یورپ کا مطیع تھا۔

اس نے انگریزوں کی خوشنودی اور رضا مندی کے لیے اپنی قومی عزت اور ملکی وقار کو بڑے خوبصورت انداز میں نیلام کر دیا تھا۔ وہ دین کی باتوں سے صرف زبانی چسکا لیتا تھا اور پردے کو ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ گردانتا تھا۔ اس نے بے پردگی اور بے حجابی کی تبلیغ کا آغاز اپنے ہی گھر سے کیا۔ 1928ء کے شروع میں پہلی بار اس کی بیوی اور بیٹی مجمع عام میں بے حجاب آئیں۔ اس نے ترکی کا دورہ کرنے کے بعد 1934ء میں کشف حجاب یعنی بے پردگی کا قانون بنایا جو 1935ء میں عملی طور پر نافذ ہوا۔ 1928ء سے لیکر 1935ء تک وہ اپنی ہی ملکی، قومی اور اسلامی حدود و روایات کے خلاف ترقی اور خوشحالی کے نام پر سرد جنگ لڑتا رہا۔ 

عوام الناس کو "بے پردگی" سے مرعوب کرنے کے لئے جنوری 1935ء میں ایک یونیورسٹی کے افتتاحی پروگرام میں اس بادشاہ کی بیوی اور دو بیٹیاں اور اس کے وزراء و مشراء کی بیویاں اور بیٹیاں سب بے پردگی کے عالم میں شریک ہوئیں۔ اسی روز اس جشن میں خطاب کرتے ہوئے اس بادشاہ نے اعلان کیا کہ "آج ہم نے زندان کی تمام سلاخوں کو توڑ دیا ہے۔ اب قفس میں رہنے والے قیدی آزاد ہیں اور اُنھیں اختیار ہے کہ وہ اپنے لیے قفس کی جگہ حسین و خوبصورت گھر بنائیں۔ یہ بادشاہ رضا شاہ پہلوی تھا۔ جی ہاں وہی رضا شاہ پہلوی جو اغیار کے ہر حکم کو فرمانبردار بیٹے کی طرح بجا لاتا تھا۔ جس نے اپنی عزّت اور خودمختاری کو امریکہ و یورپ کے اشاروں پر قربان کر دیا تھا۔ جو امریکہ کی آنکھوں کا تارا، برطانیہ کا چہیتا اور ترکی کا لاڈلا تھا۔ 

اسے گھمنڈ تھا کہ امریکہ و یورپ کے ساتھ اس کے مضبوط تعلقات ہیں۔ اسے گمان تھا کہ وہ روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اسے یقین تھا کہ اس کے روشن خیالی اور ترقی کے نعروں کے خلاف زبان کھولنے والے غیر مہذب، جاہل اور پسماندہ لوگ ہیں۔ لیکن وقت آنے پر ثابت ہوا کہ اس نے اپنے گرد امریکہ اور یورپ کے وعدوں کی جو فصیلیں کھڑی کی ہوئی تھیں، وہ ریت کی دیواریں تھیں۔ آج شہنشاہ ایران کی شخصیّت حرف غلط کی طرح مٹ چکی ہے۔ مغرب کی وہی خرافات جنہیں شہنشاہ ترقی اور خوشحالی کے لیے ضروری سمجھتا تھا، شہنشاہیّت کے لیے زہر قاتل ثابت ہوئیں اور شہنشاہ کے بلند و بانگ دعوے اور نعرے ہی اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔ 

ہمارے سیاستدان اور اربابِ اقتدار بھی جب دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات کے نعرے لگاتے ہیں تو انہیں سابقہ حکمرانوں کی تاریخ سامنے رکھنی چاہیے۔ انہیں ہر یو ٹرن لینے سے پہلے، ہر سرخ بتی پر اشارہ توڑنے سے پہلے، ہر ایمرجنسی کا سائرن بجانے سے پہلے، امریکی اور برطانوی کارندوں کے ساتھ ملی بھگت کرنے سے پہلے اور ملت پاکستان کے قاتلوں اور دہشت گردوں کے ساتھ دوستی کے لئے ہاتھ بڑھانے سے پہلے، صرف ایک مرتبہ اتنا سوچ لینا چاہیے کہ زمانہ محمد علی جناح کا احترام اور میر جعفر پر لعنت کیوں کرتا ہے؟ سیاستدان اور حکمران اپنی ملت کی سلامتی کے امین ہوتے ہیں، فوج اور پولیس اپنی قوم کی حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے اور جو لوگ بھی اپنے فریضے کی ادائیگی میں وفاداری کے ساتھ اپنی جان قربان کر دیتے ہیں، وہ ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتے ہیں، لیکن جو لوگ قوم کے ساتھ خیانت کرتے ہیں، رہتی دنیا ان پر لعنتیں بھیجتی رہتی ہے۔

آج ملت پاکستان کی مظلومیت تو دیکھئے! کراچی سے لے کر خیبر تک اور پنجاب و بلوچستان سے لے کر گلگت و بلتستان تک ہماری قوم کا ہر بچہ، ہر لمحے اپنی غیر متوقع موت کا انتظار کر رہا ہے، کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہوجائیگا۔ قاتل دندناتے پھر رہے ہیں اور کچھ تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔۔۔ کہیں نہیں ۔۔کہیں نہیں ۔۔۔ لہو کا سراغ۔۔۔اب ہم جس فرقے سے بھی تعلق رکھتے ہوں، جس صوبے کے بھی رہنے والے ہوں اور جو بھی زبان بولتے ہوں، ہمارے سامنے بھی صرف ایک ہی راستہ ہے، چاہے تو دہشت گردوں، غداروں، خونخواروں، قاتلوں، درندوں، وحشیوں اور بے گناہ انسانوں کا قتلِ عام کرنے والوں کے پرچم تلے جمع ہوجائیں اور چاہے تو امن کے علمبرداروں اور وطن کے وفاداروں کے کندھوں سے کندھا ملا لیں۔ 

ہماری آنکھوں کے سامنے جس طرح میر جعفر اور میر صادق جیسے پاکستان کے دشمنوں اور غداروں کی نسلِ نو پاکستان کو توڑنے کے لئے ڈٹی ہوئی ہے، اسی طرح محمد علی جناح جیسے وفاداروں کی اولاد بھی پاکستان کو بچانے کے لئے سینہ سپر ہے۔ اس وقت طالبان کے یاروں کے خلاف آواز اٹھائیے، غداری کے خلاف آواز اٹھائیے۔ ابھی وقت ہے، ابھی بولئے، ابھی مہم چلائیے، ابھی قوم کو یہ شعور دیجئے کہ غداروں کا جو یار ہے، وہ بھی غدار ہے۔ غداری کو موضوع بنائیے اور غداری کو مسترد کیجئے۔ غداری کے خلاف عوامی شعور کو اس قدر بیدار کیجئے کہ لوگ آسانی سے اس حقیقت کو سمجھنے لگیں کہ اب ہمارے سامنے راستہ صرف ایک ہے، دوسرا نہیں، ملک و قوم کے ساتھ غداری یا وفاداری۔۔۔ غداروں سے نفرت یعنی دین اور ملک و قوم سے محبت۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه بیست و دوم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: پاکستان میں جاری مسلسل شیعہ نسل کشی کے خلاف نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مختلف ممالک اور گوشوں میں احتجاج جاری ہے۔










نوشته شده در تاريخ سه شنبه بیست و دوم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری


ایران ،پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے افتتاح کے بعد امریکی حکومت نے اس پر مداخلتی بیان دیتے ہوئے منصوبے میں شامل ہونے کی بناء پر پاکستان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ 

 ایران پاکستان گیس منصوبہ کے افتتاح کے بعد امریکہ کی پاکستان کو دھمکی ابنا: غیرملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ویکٹوریہ نولینڈ نے کل ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ہمیں اس منصوبے پر شدید خدشات ہیں اور امریکہ اس پر اپنے خدشات سے پاکستان کو واضح طور پرآگاہ کر چکا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی دباؤ کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے صدور نے کل پیر کو ایران –پاکستان گیس پائپ لائن کا افتتاح کیا۔افتتاحی تقریب میں صدرمملکت محمود احمدی نژاد نے کہا کہ مغرب کا حق نہیں بنتا کہ وہ اس منصوبے کی ممانعت کرے۔


نوشته شده در تاريخ سه شنبه بیست و دوم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری


اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں آج تاریخی دن ہے ۔ دو دہائیوں کے انتظار کے بعد بالآخر آج ایران – پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ دیا گيا ۔ 

 ایرن پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ کا افتتاح ہو گیا
ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری آج منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اوردونوں ممالک کے صدورنے پاک ایران گیس منصوبے کا باقاعدہ سنگ بنیاد رکھ دیا ۔ تقریب کا انعقاد پاک ایران سرحدی علاقے چا بہار میں کیا گیا۔
افتتاحی تقریب میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اور پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے علاوہ دونوں ممالک کے وزراء ،پاکستان کے صوبائی وزرائے اعلی اور بعض اسلامی ممالک کے سفیر شریک ہوئے ۔
ایک ارب 50 کروڑ ڈالرز کی لاگت سے بنائے جانے والے اس پر وجیکٹ کے منصوبے سے پاکستان کو75کروڑ مکعب فٹ گیس ملے گی۔ ایران نے اپنی حدود سے گزرنے والی گیس پائپ لائن کا کام پہلے ہی مکمل کر لیا ہے جبکہ پاکستانی حصے کی لمبائی 750 کلومیٹر ہے جس پر کام کا آغاز کیا جائیگا۔
پاکستان اور ایران کے درمیان اس منصوبے سے یومیہ پچھتر کروڑ مکعب فیٹ گیس کی درآمد کے لیے ایرانی کمپنی پاک ایران بارڈر سے پاکستان میں نواب شاہ تک سات سو اسّی کلومیٹر طویل پائپ لائن تعمیر کرے گی۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے امریکی دباؤ کے باوجود اس گیس پائپ لائن منصوبے کو پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیا ہے۔اس منصوبے کے تحت دس دسمبر 2014ء تک پاکستان کو ایران سے گیس کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔


نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیستم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: مرکزی ریلی مجلس وحدت مسلمین، ادارہ امید طلاب پاکستان ،جامعه روحانیت بلتستان اور مدرسہ امام خمینی (رہ) کی جانب سے جہاد چوک سے حرم مطہر تک نکالی گئی، جس میں دینی طلاب، بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی۔
































نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیستم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: تہران کے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجلس خبرگان رہبری کے سربراہ آیت اللہ مہدوی کنی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا قتل عام ایک عالمی سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد امت مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنا ہے۔


















نوشته شده در تاريخ یکشنبه بیستم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری



اسلام ٹائمز: تہران کے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مجلس خبرگان رہبری کے سربراہ آیت اللہ مہدوی کنی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا قتل عام ایک عالمی سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد امت مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنا ہے۔
ایران کے مختلف شہروں میں پاکستان کے اہل تشیع کے قتل عام کیخلاف زبردست احتجاج
اسلام ٹائمز۔ آج اسلامی جمہوری ایران کے مختلف شہروں میں پاکستان میں مظلوم اہل تشیع کے قتل عام کے خلاف زبردست احتجاج کیا گيا۔ ایران کے دینی طلباء اور اساتذہ نے پاکستان میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ ایران کے بزرگ علمائے دین اور مجتہدین کرام کی اپیل پر پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف دینی تعلیم کے عالمی مرکز قم المقدس کے علاوہ مشہد المقدس، اصفہان، شیراز، اراک اور دارالحکومت تہران سمیت ایران بھر کے تمام دینی تعلیمی مراکز کے اساتذہ اور طلبا و طالبات نے احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا اور مساجد اور مدارس میں احتجاجی احتماعات میں شرکت کرکے پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ 

مقدس شہر قم کی مسجد اعظم میں ہونے والے احتجاجی اجتماع میں شہر کے تمام مراجعین عظام اور مجتہدین کرام نے شرکت کی، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی طلباء بھی احتماع میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر قم کے دینی تعلیمی مرکز کے سربراہ سید ہاشم حسینی نے اپنے خطاب میں دنیا بھر کے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔
دارالحکومت تہران کے مدرسۂ مروی میں بھی ایک بڑا احتجاجی اجتماع ہوا، جس میں تہران بھر کے دینی مدارس کے طلباء اور اساتذہ نے شرکت کی۔ اس اجتماع سے مجلس خبرگان رہبری کے سربراہ آیت اللہ مہدوی کنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا قتل عام ایک عالمی سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد امت مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ شیعہ مسلمانوں کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات کرے اور قومی یکجہتی اور ملکی سالمیت کے خلاف ہونے والی سازش کو کامیاب نہ ہونے دے۔

دیگر ذرائع کے مطابق مراجع عظام تقلید کے فرمان کے مطابق ایران کے تمام دینی تعلیمی مراکز پاکستان میں ہونے والے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے سوگ میں بند رہے۔ قم میں مرکزی احتجاجی جلسہ حضرت معصومہ (س) قم کے حرم میں مسجد اعظم میں منعقد ہوا، جس میں مختلف شہروں کے امام جمعہ، درس خارج کے اساتید، حوزہ علمیہ قم کے مختلف شعبوں کے مسئول اور دینی طلاب اور طالبات کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ احتجاجی جلسہ سے پہلے شہر کے مختلف حصوں سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئی، جو مسجد اعظم میں اختتام پذیر ہوئیں۔ مرکزی ریلی مجلس وحدت مسلمین، ادارہ امید طلاب پاکستان اور مدرسہ امام خمینی (رہ) کی جانب سے جہاد چوک سے حرم مطہر تک نکالی گئی، جس میں دینی طلاب، بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ ریلی میں شریک مختلف ممالک کے دینی طلاب نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں پاکستان میں ہونے والی شیعہ نسل کشی کی شدید مذمت کی گئی تھی۔ ریلی کے شرکاء مردہ باد امریکہ، مردہ باد اسرائیل، مردہ باد وھابیت جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ ریلی احتجاجی جلسہ کی جگہ پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئی۔ 

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حوزہ علمیہ قم کے مسئول آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشھری کا کہنا تھا کہ آج جو کچھ اسلامی ممالک میں ہو رہا، اس کے پیچھے امریکہ، اسرائیل اور سامراجی طاقتیں پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ ہم پاکستان میں ہونے والی شیعہ نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اسی طرح افغانستان اور عراق میں ہونے والے حوادث کہ جن میں شیعہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم واضح انداز میں کہتے ہیں کہ ہم اس ساری شیعہ نسل کشی میں تکفیریوں کو سو فیصد قصور وار نہیں سمجھتے، بلکہ یہ بے وقوف اور جاہل لوگ آج امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں۔ حوزہ علمیہ قم کے مسئول کا مزید کہنا تھا کہ میں ان جاہل لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ آیا اگر آج رسول خدا (ص) موجود ہوتے تو وہ ان بے گناہ خواتین، بچوں اور نوجوانوں کی قتل و غارت گری پر خوش ہوتے؟

سید ہاشم حسینی کا کہنا تھا کہ میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا آج کا جلسہ کسی سنی کے خلاف نہیں ہے، ہم یقین رکھتے ہیں آج تو خود سنی بھی شیعہ مسلمانوں کی طرح ان جاہل تکفیری وہابی دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل اور شہید ہو رہے ہیں۔ پاکستان یا عراق میں جہاں کہیں بھی شیعہ مسلمان شہید ہوتے ہیں، ان کے ساتھ سنی مسلمان بھی شہید ہوتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی سلامتی کے اداروں اور مسلمان ممالک کے حکمرانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے کہ یہود ونصاریٰ کے دوست نہ بننا، اگر تم نے ان کے ساتھ دوستی کی تو تم بھی ان میں شامل ہو جاؤ گے۔ آج ہم پاکستان کے سلامتی کے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے خاطر خواہ انتظام کریں۔ حوزہ علمیہ قم کے مسئول نے اپنی تقریر کے آخری حصہ میں کہا کہ آج شیعہ مسلمان اتنے کمزور نہیں ہیں کہ وہ مقابلہ بہ مثل نہ کرسکیں اور ہمیں اس کام سے کوئی نہیں روک سکتا، صرف ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے کاموں سے اسلام کے دشمن کا منصوبہ کامیاب ہو اور وہ اس طرح اپنی سازش میں کامیابی حاصل کرسکے۔


نوشته شده در تاريخ شنبه نوزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

دفتر تبليغات اسلامی حوزه علميه قم با صدور بيانيه‌ای جنايات اخير و كشتار شيعيان مظلوم در پاكستان را محكوم كرد. 

 بيانيه‌ دفتر تبليغات اسلامی در محكوميت كشتار شيعيان مظلوم در پاكستان

به گزارش خبرگزاری اهل‏بیت(ع) ـ ابنا ـ دفتر تبليغات اسلامی حوزه علميه قم با صدور بيانيه‌ای جنايات اخير و كشتار شيعيان مظلوم در پاكستان را محكوم كرد.

در اين بيانيه آمده است: «اين روزها، صحبت از كشتار وحشيانه شيعيان مظلوم پاكستان و وضعيت ايتام شهدای پاكستان دل‌های بسياری را لرزانده است و تلخ‌تر اينكه اين جنايات گروه‌های سلفی و وهابی، در برابر بی‌تفاوتی چشم‌های تماشا و خاموشی رسانه‌های مسموم جهان اتفاق می‌افتد.

متأسفانه امروزه محوری از تروريست‌ها كه به هرگونه سلاح و امكانات جنگی نيز دسترسی دارند به همه جای دنيا گسترش يافته‌اند و به طور روزمره نيز در كشورهايی نظير پاكستان، افغانستان، عراق، سوريه، و ... دست به اقدامات رقت‌بار تروريستی و خشونت می‌زنند. اقدام تروريستی اخير كه به كشته شدن بيش از يكصد تن از شيعيان بی‌گناه پاكستان منجر شد، نمونه‌ای از اقدامات خشن گروه‌های تروريستی است كه ديگر شكلی از تسويه حساب قومی و دينی هدفمند به خود گرفته است.

دفتر تبليغات اسلامی حوزه علميه قم در ادامه اين بيانيه، ضمن ابراز انزجاز شديد از خشونت و سوء قصدهای تروريستی در كشور دوست و همسايه پاكستان‌، و اعلام همدردی با بازماندگان و خانواده جان‌باختگان، پيرو درخواست مراجع تقليد و علما مبنی بر تعطيلی دروس حوزه و سطوح عالی برای برگزای مجلس سوگواری برای شيعيان و شهدای پاكستان، از كليه علما، اساتيد، فضلا و طلاب جهت شركت در تجمع اعتراض‌آميز روز شنبه مورخ 19 اسفندماه در مسجد اعظم دعوت به عمل آورد.


نوشته شده در تاريخ شنبه نوزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: مہمان خصوصی شیعہ عُلماء کونسل پنجاب کے صوبائی صدر علّامہ مظہر عباس علوی تھے۔ اجلاس میں سید مجاہد عباس گردیزی بلامقابلہ ضلعی صدر منتخب ہوگئے۔











نوشته شده در تاريخ شنبه نوزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری


اسلام ٹائمز: کوئٹہ میں شہداء ملت جعفریہ کی یاد میں علمدار روڈ چوک پر دعا کمیل کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں مرد و خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
























نوشته شده در تاريخ شنبه نوزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام ملک کے دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں بڑی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔








نوشته شده در تاريخ شنبه نوزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک کے دیگر شہروں کی طرح کوہاٹ میں بھی یوم وفا کی مناسبت سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔













نوشته شده در تاريخ شنبه نوزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

سلام ٹائمز: مجلس وحدت مسلمین اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گلگت ڈویژن کے زیر اہتمام ملک گیر یوم وفا کے سلسلے میں گلگت میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔


















نوشته شده در تاريخ شنبه نوزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری


اسلام ٹائمز: پشاور میں مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ جس میں شیعہ علماء کونسل اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت متعدد ماتمی سنگتوں نے بھرپور طریقے سے حصہ لیا۔































نوشته شده در تاريخ پنجشنبه هفدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

آیت اللہ وحید خراسانی: پاکستان اور بحرین کے شیعوں کے لیے جنہیں مظلومانہ طریقہ سے قتل کیا جاتا ہے پورے حوزہ علمیہ کو عزا منانا چاہیے ۔ آیت اللہ جوادی آملی: ہمارے ملک کے سیاسی لیڈر مختلف طرح کی نشستیں جیسے ۵+۱، ۲ + ۱، ۳+ ۲ وغیرہ منعقد کرتے ہیں انہیں ان موضوعات کے لیے بھی ایسی کوئی نشست رکھنا چاہیے۔ آیت اللہ مکارم شیرازی: پاکستان کے حکمران اگر شیعوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں تو حکومت کو کسی ایسے کے حوالے کریں جو اس بات پر قادر ہو۔آیت اللہ سبحانی: یہ واقعات اسلامی اور انسانی سماج کی خاموشی کا نتیجہ ہیں، آیت اللہ نوری ہمدانی: وہابیت جہان اسلام کی سب سے بڑی مصیبت ہے۔ 

 آیت عظام کی پاکستان اور بحرین میں شیعوں کے قتل عام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے پر تاکید

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا۔ پاکستان میں مظلوم اور بے سہارا شیعوں کے قتل عام اور بحرین میں آل خلیفہ کے ظلم و بربریت کے حوالے سے مراجع کرام نے اپنے اپنے بیانات میں ان واقعات کی مذمت کی ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیعوں کے حفاظت کے لیے کوئی موثر قدم اٹھائے۔
آیت اللہ العظمی وحید خراسانی: آل محمد(ص) کے یتیم پاکستان میں قتل عام ہو رہے ہیں
آیت اللہ العظمی وحید خراسانی نے وہابیت کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا: پاکستان اور بحرین کے شیعوں کے لیے پورے حوزہ علمیہ کو عزا میں بیٹھنا چاہیے جو مظلومانہ طریقہ سے قتل عام ہو رہے ہیں۔
انہوں نے آج قم میں مسجد اعظم میں اپنے درس تفسیر کے دوران پاکستان میں شیعوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا: آل محمد (ص) کے یتیموں کا پاکستان میں قتل عام ہو رہا ہے یہ جو مارے جا رہے ہیں عورتیں، مرد، بچے بوڑھے ان کا کیا قصور ہے؟ صرف اس لیے کہ یہ اہلبیت رسول (ص) کےچاہنےوالے ہیں؟
شیعوں کے مرجع تقلید نے کہا: لیکن ہم نے کیا کیا؟ ان کے مقابلہ میں ہمارا عکس العمل کیا تھا؟
آیت اللہ وحید خراسانی نے اقوام متحدہ کے منشور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اقوام متحدہ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد ۳۰ شقوں پر مشتمل ایک منشور تیار ہوا جس کی پہلی شق میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ تمام حکومتیں اس کو عمل میں لانے پر مکلف اور موظف ہیں اور کوئی اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اس منشور کے مطابق امریکہ کے صدر اور پاکستان کے کسی کونے میں رہنےوالی ایک خاتون کے حقوق یکساں ہیں کہا: یہ وہ قانون ہے جس کے عمل پر تمام ممالک کے حکمران مکلف ہیں اور اس کی رعایت کرنے پر موظف ہیں۔
انہوں نے اس منشور کی تیسری شق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس شق کے مطابق تمام انسانوں کو حق حاصل ہے کہ وہ آزاد زندگی کریں، اور ان کی جانی و مالی حفاظت کی جائے۔ کیا پاکستان اور بحرین کے شیعہ آرام و سکون سے ہیں؟ کیا اقوام متحدہ اپنے بنائے ہوئے اس منشور کی پابند ہے؟ اس کا ان جرائم کے مقابلہ میں کیا عکس العمل ہے؟
آیت اللہ وحید خراسانی نے کہا: جو چیز تعجب آور ہے وہ یہ ہے کہ اس منشور کی دیگر شقوں کے مطابق تمام انسان چاہے وہ کسی رنگ و روپ کے ہوں کسی مذہب و ملت کے ماننے والے ہوں بغیر تفریق کے آزاد و اپنے حقوق کے مالک ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلحہ بھیج کر اپنے مزدوروں کو پیسہ دے کر عورتوں، بچوں اور جوانوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ کیا اس طرح کے جرائم کے ساتھ اقوام متحدہ کی کوئی عزت باقی رہتی ہے؟
انہوں نے واضح کیا: اس اقوام متحدہ میں جو حقوق انسانی کی حمایت کے لیے تشکیل دی گئی ہے کتنی حکومتیں حق وٹو رکھتی ہیں؟ وہ حکومتیں جو انسانیت کی نابودی کے لیے اسلحہ بیچتی ہیں اور انسانوں کو قتل کرنے کے لیے مزدور بناتی ہیں وہی حق وٹو بھی رکھتی ہیں۔
حضرت آیت اللہ وحید خراسانی نے امیر المومنین (ع) کی نگاہ میں حقوق بشر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلا حقوق بشر پر مشتمل منشور لکھا ہے ان کے لیے نہایت شرم کی بات ہے جو وہ یہ کہتے ہیں۔ یہ کہاں اور امیر المومنین علی (ع) کا بنایا ہوا منشور کہاں؟ علی کے قبضے میں اسلامی ممالک کے علاوہ پورے روم اور ایران کی حکومت بھی تھی اس کے بعد جب مسلمانوں میں بیت المال کو تقسیم کرتے تھے تو جتنے دینار امام حسن کو دیتے تھے اتنے ایک غلام حبشی کو دیتے تھے۔

آیت اللہ مکارم شیرازی: پاکستانی حکمران اگر شیعوں کی جان کی حفاظت نہیں کر سکتے تو استعفی دے دیں۔

آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے بھی آج مسجد اعظم میں فقہ کے درس خارج کے دوران پاکستان میں شیعوں کے قتل عام اور کراچی میں ہونے والے حالیہ بم دھماکوں کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے اس حادثہ کو ایک عظیم سانحہ قرار دیا اور کہا: کچھ روز قبل کوئٹہ میں تکفیری وہابیوں نے ایک بہت بڑی خباثت انجام دی اور کتنے مسلمانوں کو خاک و خون میں رنگین کیا۔ اور اب کراچی میں ویسی حرکت کر کے دسیوں بے گناہ مظلوم شیعوں کو زندگی سے محروم کیا۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ہم ان جرائم کے مقابلہ میں خاموش نہیں رہ سکتے اور ان کی مذمت کریں گے کہا کہ تمام مراجع تقلید اور حوزہ ھای علمیہ کے مسئولین  ۹ مارچ سنیچر کے دن پورے حوزہ علمیہ میں چھٹی کر کے مسجد اعظم میں ایک عظیم احتجاجی اجتماع کریں گے اور اس واقعہ کی مذمت کریں گے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی نے تاکید کی: پاکستانی حکومت کو ہمارا پیغام یہ ہے کہ اگر اپنے ملک کے شہریوں کی حفاظت نہیں کر سکتے تو حکومت کے عہدوں کو چھوڑ دیں اور اپنی پوسٹوں کو انہیں دے دیں جو اس کام کی توانائی رکھتے ہیں۔
حوزہ علمیہ کے برجستہ استاد نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ دنیا کے تمام شیعوں کو ان واقعات پر اعتراض کرنا چاہیے کہا: یہ کون سا طریقہ ہے کہ کچھ وحشی قسم کے لوگوں کو دنیا میں کھلا چھوڑ رکھا ہے جو جہاں چاہتے ہیں کوئی نہ کوئی درندگی وجود میں لاتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو خاک و خون میں لت پت کرتے ہیں۔
انہوں نے تاکید کی: اسلامی جمہوریہ ایران کو بھی ڈٹ کر اعتراض کرنا چاہیے اور اس طرح کے مسائل کے پاس سے چپکے سے نہیں گذر جانا چاہیے بلکہ شور مچانا چاہیے۔

آیت اللہ جوادی آملی: ہم سب پاکسانی شیعوں کے لیے عزادار ہیں

آیت اللہ العظمی جوادی آملی نے پاکستانی شیعوں کے کشت و کشتار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان واقعات کے سد باب کرنے پر تاکید کی۔
انہوں نے بھی مسجد اعظم میں اپنے درس تفسیر کے دوران سنیچر کے دن تمام مراجع و علماء کے ساتھ مسجد اعظم میں پاکستانی شیعوں کے ساتھ سوگ میں بیٹھنے کی تائید کی اور یہ کام بہت ضروری سمجھا اور کہا: ہم سب پاکستان کے مظلوم شیعوں کے ساتھ سوگوار اور عزادار ہیں۔
حضرت آیت اللہ جوادی آملی نے کہا: اس طرح کے واقعات کا سد باب کرنے کے لیے تین کام انجام دینا پڑیں گے:
پہلا یہ کہ شیعہ کلچر کو بغیر افراط و تفریط کے رائج کیا جائے۔ دوسرا یہ ہے کہ مجمع تقریب مذاہب کے سرپرست، وہابی، سلفی، طالبان اور القاعدہ کے علماء کے ساتھ گفتگو کریں اور ان کے ساتھ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے مذاکرات کریں۔
انہوں نے تیسرا کام اسلامی جمہوریہ ایران کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر روز شیعہ کہیں نہ کہیں مارے جاتے ہیں یہ ایٹمی انرجی کے مسئلہ سے کم مسئلہ نہیں ہے ہمارے سیاسی عہدہ داروں کو چاہیے کہ مختلف طرح کی نشستیں جیسے پانچ جمع ایک، ایک جمع دو، دو جمع تین، وغیرہ منعقد کر کے ان واقعات کے بارے میں بھی بات کریں۔ اور دوسرے ممالک کے سیاستمداروں کو بھی ان مسائل میں دخیل کریں تاکہ کوئی سیاسی راہ حل پیدا ہو۔ کوئی ایسا دن نہیں گذرتا جس دن کسی نہ کسی کے قتل ہونے کی خبر نہ ملے۔

آیت اللہ سبحانی: یہ واقعات اسلامی اور انسانی سماج کی خاموشی کا نتیجہ ہیں
آیت اللہ العظمی سبحانی نے بھی پاکستان میں ہونے والے دھشتگردانہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اسلامی اور انسانی سماج کی خاموشی کا نتیجہ قرار دیا۔
انہوں نے بھی آج اصول فقہ کے درس خارج میں مسجد اعظم میں پیغمبر اکرم (ص) کی ایک روایت سے استناد کرتے ہوئے کہا: تمام مسلمان ایک بدن کے اعضا کے مانند ہیں اور ہر مسلمان کے دکھ درد کے مقابلہ میں دوسرا مسلمان بھی رنجیدہ ہوتا ہے۔
حضرت آیت اللہ سبحانی نے ان واقعات کو دشمن کی طرف سے شیعوں کو ختم کرنے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیتے ہوئے کہا: کچھ دن پہلے کوئٹہ میں شیعوں کو خون میں رنگین کیا اور دو دن پہلے کراچی میں مظلوم شیعوں کا قتل عام کیا۔ اور ہر آئے دن بھی کہیں نہ کہیں سے کسی کے قتل کی خبر آتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: کیوں اسلامی سماج کے ضمیر خوابیدہ ہیں؟ کیوں مصر اور باقی اسلامی ممالک میں کوئی ان کرائم کے خلاف نہیں بولتا؟ انسانی سماج کے ضمیر بھی مردہ ہیں اور اسلامی سماج کے بھی۔ ایک ارب مسلمان کہاں ہیں؟ حقوق بشر کا نعرہ لگانے والے کہاں ہیں؟
آیت اللہ العظمی سبحانی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کا کیا صرف اتنا کام ہے کہ وہ ان واقعات کی فقط مذمت کرکے بیٹھ جائے کہا: اس مقدار تک مذمت تو ایک بوڑھیا بھی کر سکتی ہے پس اقوام متحدہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟
آیت اللہ سبحانی نے پاکستانی حکومت کو بھی مقصر ٹھہراتے ہوئے کہا: وہ حکومت جو اپنے شہریوں کی جانوں کی حفاظت نہ کر سکے اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کئی سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور ہر بار پاکستانی عہدہ دار وعدہ دیتے ہیں کہ ہم ان واقعات کا سد باب کریں گے لیکن کچھ بھی کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میں سب سے زیادہ پاکستانی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتا ہوں کہا: مجھے امید ہے کہ میری یہ بات ان کے کانوں تک پہنچے گی کہ وہ بارگاہ خداوندی میں جوابدہ ہیں۔
آیت اللہ سبحانی نے ایرانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ ان مسائل کے بارے میں غور و فکر کرے اور ان کا سد باب کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھائے۔

آیت اللہ نوری ہمدانی: وہابیت جہان اسلام کی سب سے بڑی مصیبت ہے
 آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے بھی پاکستان میں حالیہ دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلفی عناصر علاقے کے بعض ممالک کی مالی اور تشہیراتی حمایت سے پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔
 انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق، اور شام و پاکستان جیسے ملکوں میں گمراہ فرقہ وہابی شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سامراج اور گمراہ افراد کی سازشوں کا نتیجہ ہے۔
آیت اللہ ھمدانی نے وہابیت کو عالم اسلام کی بڑی مشکل قراردیا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ ان مجرمانہ کاروائيوں پر احتجاج کریں۔

انہوں نے بھی بروز سینچر تمام مراجع اور علماء کے ساتھ مل کر صدائے احتجاج بلند کرنے اور وہابیت کے اس غیر انسانی عمل کی مذمت کرنے پر تاکید کی۔


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک مرجع تقلید اور بزرگ ‏عالم دین آیت اللہ حسین نوری ھمدانی نے پاکستان میں شیعہ کشی کی مذمت کی ہے۔ 

 وہابیت عالم اسلام کی سب سے بڑی مشکل ابنا: آیت اللہ حسین نوری ہمدانی نے آج شہر قم میں پاکستان میں حالیہ دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلفی عناصر علاقے کے بعض ممالک کی مالی اور تشہیراتی حمایت سے پاکستان کے شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق، اور شام و پاکستان جیسے ملکوں میں گمراہ فرقہ وہابی شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سامراج اور گمراہ افراد کی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ آیت اللہ ھمدانی نے وہابیت کو عالم اسلام کی بڑی مشکل قراردیا۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ ان مجرمانہ کاروائيوں پر احتجاج کریں۔

 واضح رہے کراچی کے عباس ٹاون علاقے میں اتوار کی رات دو زبردست بم دھماکے ہوئے تھے جن میں پچپن افراد شہید اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان بم دھماکوں کا ھدف قریبی امام بارگاہ میں نماز ادا کرنے والے شیعہ مسلمان تھے۔

ادھر پاکستان میں شیعہ نسلی کشی کے خلاف پورے ایران کے حوزہ ہائے علمیہ سنیچر کے دن تعطیل ہونگے۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے حوزہ ہائے علمیہ کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ڈائرکٹر سیدحسن طیب حسینی نے اعلان کیا کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی کے خلاف مراجع عظام کی جانب سے احتجاجی پروگرام کے پیش نظر سنیچر کو پورے ایران کے دینی مدرسوں کی چھٹی ہوگی۔
 


نوشته شده در تاريخ چهارشنبه شانزدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے پاکستان کے شہر کراچی میں شیعہ آبادی والے علاقے میں دہشتگردانہ دھماکوں کی شدید مذمت کی ۔ 

 ایران کی طرف سے کراچی دھشت گردانہ دھماکوں کی مزمت
ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے بیان میں ایران کی قوم اور حکام کی جانب سے کراچی شہر کے شیعہ آبادی والے علاقے میں دہشتگردانہ بم دہماکوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین اور پاکستان کی حکومت و عوام سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ پر تعزیت پیش کی گئی ہے اور دہشتگردانہ اقدامات کو مسلمانوں اور پاکستان کے دشمنوں کی تفرقہ پردازانہ پالیسیوں کا حصہ قرار دیا ہے ۔ ایران کی وزارت خارجہ نے دہشتگردانہ اقدامات کی تکرار اور اس کے سد باب کے لئے پاکستان کی حکومت اور اس ملک کی مذہبی شخصیات کی جانب سے ضروری اقدامات انجام دیئے جانے اور ملکوں کی اس حوالے سے ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے عالمی برادری کو دہشتگردی کے خلاف مہم کہ جس نے تقریبا تمام اقوام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھاہے سنجیدہ و ٹھوس اقدامات انجام دینے کی دعوت دی ۔ گذشتہ روز پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر کراچی میں شیعہ آبادی والے علاقے عباس ٹاؤن میں ہونے والے دہشتگردانہ بم دہماکوں میں 60 افراد شہید اور 150 کے قریب زخمی ہوئے جبکہ 50 سے زیادہ فلیٹ تباہ اور 20 دکانیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں ۔


نوشته شده در تاريخ جمعه یازدهم اسفند 1391 توسط ارشادحسین مطهری

اسلام ٹائمز: امتحانی مراکز کے دورے میں رہنماؤں نے چیئرمین بورڈ انجینئر اسلم سے امتحان کی تفصیلات کی بریفنگ لی اور آئی ایس او کی اس علمی کاوش کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلتستان میں معیار تعلیم کو بلند کرنے میں یہ سرگرمیاں نہایت کاریگر ثابت ہوں گی۔
















.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک