بلتستانی
وبلاگ شخصی ارشاد حسين مطهري  
قالب وبلاگ
لینک های مفید

مغربی سامراج کی طرف سے ان تکفیری گروہوں کی خلقت کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ سامراجی قوتیں بجائے اس کے کہ خود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑیں، ان تکفیری گروہوں کو لڑایا جائے جیسا کہ آج کل عملی طور پر ہو رہا ہے کہ یہ گروہ پاکستان سے لے کر افغانستان، عراق، شام ، لیبیا اور دوسرے افریقی ممالک میں مغربی سامراج کے سپاہی بن کر مسلمانوں کے قتل عام پر تلے ہوئے ہیں اور سامراجی قوتوں کو خود مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔

تکفیری گروہ اور پس پردہ حقائق
تحریر: عاشق حسین طوری

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس افغانستان کے لئے طویل مدتی خطرہ ہیں اور پاکستان میں موجود گروپ افغانستان جاکر فورسز پر حملے کرتے ہیں۔ یہ بات ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے جو طالبان کے خلاف پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ سے منسلک کالعدم تحریک طالبان پاکستان، لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی مشرقی اور جنوبی افغانستان میں افغان فورسز پر حملوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ شمالی افغانستان میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کی طاقت بڑھ رہی ہے اور یہ تنظیم کئی صوبوں میں متحرک ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد یہ طویل مدتی خطرہ پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتا ہے اور اسکے اثرات جنوبی اور وسطی ایشیاء تک پھیل سکتے ہیں۔ افغان اور بین الاقوامی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ القاعدہ سے منسلک ان جنگجو گروپوں کا مستقبل قریب میں افغانستان سے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

اس رپورٹ کے حوالے سے عرض یہ ہے کہ القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس صرف پاکستان میں ہی نہیں پائے جاتے کہ جن کا افغانستان سے نکلنے کا امکان نہیں اور اس کے اثرات جنوبی اور وسطی ایشیاء تک پھیل سکتے ہیں بلکہ القاعدہ سے منسلک نیٹ ورکس کا سلسلہ اب پاکستان، جنوبی ایشیاء اور مرکزی ایشیاء سے نکل کر مشرق وسطی سے ہوتا ہوا افریقی ممالک تک پنہچا ہوا ہے لیکن اقوام متحدہ کی کونسل ایک خاص ہدف کے تحت اسے صرف افغانستان کے لئے طویل مدتی خطرے کے طور پر پیش کرتی ہے تاکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے لئے طویل مدتی قیام کے لئے ایک بہانہ تراشا جائے۔ البتہ چاہے کوئی بہانہ ہو یا نہ ہو امریکہ بہادر سے کون پوچھنے والا ہے کہ تم کیوں افغانستان کی جان نہیں چھوڑ رہے ہو، تو یہ رپورٹیں صرف دکھلاوے کے لئے ہیں تاکہ رائے عامہ کو ورغلایا جاسکے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی پائی جاتی ہے اس سے نمٹنے کے لئے امریکی افواج کا ہونا ضروری ہے حالانکہ کون نہیں جانتا کہ القاعدہ اور اس سے منسلک نیٹ ورکس کس کی پیداوار ہیں اور اسلام اور جہاد کے نام پر کام کرنے والے ان تکفیری گروہوں کا اصل خالق کون ہے۔

جن مقاصد کے لئے یہ شدت پسند اور تکفیری گروہ بنائے گئے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں:
١: یہ تکفیری گروہ جو بظاہر جہاد اور اسلام کے محافظ ہونے کا نعرہ لگاتے ہیں درحقیقت اسلام کی مخالفت بلکہ دشمنی پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ گروہ پاکستان سے لے کر افغانستان، مشرق وسطٰی اور افریقی ممالک تک اسلام کے نام پر جو کاروائیاں کرتے ہیں اسلام انکی ہرگز اجازت نہیں دیتا اور ان کے کام اسلامی احکامات کے سراسر منافی ہیں۔ اسلام نے کہاں پر بےگناہ انسانوں کو قتل کرنے اور بالخصوص جانوروں کی طرح ان کو ذبح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اسلام میں کہاں پر اس بات کی اجازت ہے کہ جنگ میں فورسز، حتی معصوم غیر عسکری افراد کو قید کرنے کے بعد بے دردی سے مارا جاۓ، جانورں کی طرح ذبح کیا جاۓ اور ان کا سینہ چیر کر کلیجہ چبایا جائے۔ اسلام نے اس بات کی کب اجازت دی ہے کہ ننھے ننھے بچوں پر رحم نہ کیا جائے اور ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کو بیدردی سے قتل کیا جائے۔ رسول خدا (ص) کے کس غزوے میں لڑکیوں اور شادی شدہ عورتوں کو اجازت دی گئی تھی کہ میدان جنگ میں جا کر مجاہدین کی شہوانی ضرورتوں کو پورا کریں اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کو جہاد بالنکاح کا نام دیا جائے، یعنی اسلامی احکامات کو بدنام کرنے کی ایک اور گھناؤنی سازش۔ شاید ان کاموں کا امریکی اور وہابی اسلام سے تعلق ہو، پر اسلام اور شریعت محمدی (ص) سے انکا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو اسلام کے دشمن ان تکفیری گروہوں کے ذریعے یہ سب کچھ اس لئے کروا رہے ہیں کہ اسلام کو بدنام کیا جائے اور مغرب میں اسلام کی طرف تیزی سے رغبت اور رجحان کا جو سلسلہ شروع ہو چکا ہے اس کو روکا جائے۔

٢: مغربی سامراج کی طرف سے ان تکفیری گروہوں کی خلقت کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ سامراجی قوتیں بجائے اس کے کہ خود اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لڑیں، ان تکفیری گروہوں کو لڑایا جائے جیسا کہ آج کل عملی طور پر ہو رہا ہے کہ یہ گروہ پاکستان سے لے کر افغانستان، عراق، شام ، لیبیا اور دوسرے افریقی ممالک میں مغربی سامراج کے سپاہی بن کر مسلمانوں کے قتل عام پر تلے ہوئے ہیں اور سامراجی قوتوں کو خود مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہی نہیں۔

٣: تیسرا مقصد یہ ہے کہ مشرق وسطٰی اور اسلامی دنیا کے قلب میں کینسر کے دانے یعنی اسرائیل کو خطرات سے نجات دلانے کے لئے ان ہی تکفیری گروہوں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ ان تکفیری گروہوں نے مسلمانوں کی توجہ اسرائیل سے ہٹا کر ان کو آپس کی لڑائی میں مصروف کر دیا ہے بلکہ شام اور لبنان کے محاذوں پر تو اسرائیل اور داعش کی گٹھ جوڑ ہو چکی ہے اور اسرائیل داعش کی مدد کر رہا ہے۔ آج تک کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ القاعدہ کا کوئی رکن اسرائیل کے خلاف لڑا ہو یا فلسطین اور قبلہ اول کی آزادی کے لئے مارا جا چکا ہو۔

٤: چوتھا مقصد یہ کہ ان ہی دہشت گردوں اور تکفیریوں سے مسلمانوں، یورپ اور امریکہ کے عوام کو ڈرایا جا رہا ہے اور ان سے نمٹنے کے لئے امریکی افواج کو اتارنے کے بہانے تراشے جاتے ہیں۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی سامراجی قوتوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لئے کسی ملک اور علاقے میں جانے کا ارادہ کیا ہے تو پہلے ان تکفیری گروہوں کو وہاں بھیجا گیا ہے اور ساتھ ہی پٹھو حکومتوں کو امریکا سے امن معاہدوں کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اور یہ سوال بہت سے ذہنوں میں موجود ہے کہ امریکہ نے داعش کے سربراہ ابوبکر بغدادی کو جیل سے کیوں رہا کیا تھا جو 2005ء سے 2009ء تک عراق میں امریکی جیل میں قید تھا۔
[ پنجشنبه بیست و نهم خرداد 1393 ] [ 15:57 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 
 
مولف:آیت اللہ سید ابوالحسن مولانا
مترجم:مولاناعلی اصغر سیفی
امام مہدی عج اللہ فرجہ الشریف کا موضوع ایسا موضوع نہیں ہے کہ محض شیعہ حضرات اس پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس موضوع پر تمام اسلامی دانشور خواہ وہ کسی بھی مذہب اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں سب متفق ہیں نیز سب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے خاندان سے ہوں گے ، ان کے ہم نام ہوں گے اور علی و فاطمہ علیھما السلام کی نسل مبارک سے ہوں گے اور جب ظہور فرمائیں گے تو وہ دنیا کہ جو ظلم و جور سے پر ہوچکی ہوگی اسے عدل و انصاف سے پر کریں گے اور اسلامی مفکرین اور دانشوروں کا یہ اتفاق اس بنا پر ہے کہ امام مہدی عج کے حوالے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ سے احادیث متواتر بلکہ ان سے بڑھ کر احادیث وارد ہوئی ہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ وصلواتہ علی محمد و آلہ
امام مہدی عج اللہ فرجہ الشریف کا موضوع ایسا موضوع نہیں ہے کہ محض شیعہ حضرات اس پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس موضوع پر تمام اسلامی دانشور خواہ وہ کسی بھی مذہب اور مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں سب متفق ہیں نیز سب کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے خاندان سے ہوں گے ، ان کے ہم نام ہوں گے اور علی و فاطمہ علیھما السلام کی نسل مبارک سے ہوں گے اور جب ظہور فرمائیں گے تو وہ دنیا کہ جو ظلم و جور سے پر ہوچکی ہوگی اسے عدل و انصاف سے پر کریں گے اور اسلامی مفکرین اور دانشوروں کا یہ اتفاق اس بنا پر ہے کہ امام مہدی عج کے حوالے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ سے احادیث متواتر بلکہ ان سے بڑھ کر احادیث وارد ہوئی ہیں ۔
ہاں البتہ اس حوالے سے اہل سنت میں اختلاف نظر موجود ہے کہ آیا وہ امام حسنع کی اولاد میں سے ہوں گے یا امام حسینع کی اولاد میں سے ہوں گے یا یہ کہ آیا وہ پیدا ہوچکے ہیں یا پیدا ہوں گے؟
اہل سنت کے وہ علماء اور مفکرین جو شیعہ علماء کی اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ امام مہدیعج پیدا ہوچکے ہیں اور ابھی زندہ ہیں اور امام حسن عسکریع کے فرزند ارجمند ہیں ان کی اچھی خاصی تعداد ہے مثلا ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں :
۱ابوسالم کمال الدین محمد بن طلحہ بن محمد قرشی شافعی اپنی کتاب مطالب السؤل فی مناقب آل رسول میں۔
۲ابوعبداللہ محمد بن یوسف محمد گنجی شافعی اپنی کتاب البیان فی اخبار صاحب الزمان میں۔
۳نور الدین علی بن محمد بن الصباغ مالکی اپنی کتاب الفصول المھمۃ میں۔
۴فقیہ واعظ شمس الدین ابوالمظفر یوسف بن قزغلی بن عبد اللہ بغدادی حنفی جو کہ سبط ابن جوزی کے نام سے مشہور ہیں۔
۵محی الدین عربی حاتمی اندلسی اپنی کتاب الفتوحات المکیہ میں۔
۶نور الدین عبد الرحمن بن احمد بن قوام الدین دشتی جامی شرح کافیہ ابن حاجب کے مصنف اپنی کتاب شواھد النبوۃ میں۔
۷شیخ عبد الوھاب بن احمد بن علی شعرانی مصری اپنی کتاب الیواقیت والجواھر میں
۸جمال الدین عطا اللہ بن سید غیاث الدین فضل اللہ اپنی کتاب روضۃ الاحباب فی سیرۃ النبی والال والاصحاب میں۔
۹حافظ محمد بن محمد بن محمود بخاری کہ جو خواجہ یارسا کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب فصل الخطاب میں۔
۱۰عبد الرحمن جو کہ مشایخ صوفیہ میں سے تھے اپنی کتاب مرآۃ الاسرار میں
۱۱شیخ حسن عراقی۔
۱۲ابو محمد احمد بن ابراھیم بلاذری حدیث مسلسل میں۔
۱۳ابو محمد عبداللہ بن احمد بن محمد بن خشاب کہ جو ابن خشاب کے نام سے مشہور ہیں اپنی کتاب تواریخ موالیہ الائمہ و وقیاتھم میں جناب علامہ سید محسن امین شامی کتاب اعیان الشیعہ جلد۲ صفحہ ۶۴ سے ۷۰ تک میں ان تیرہ افراد کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے بعد فرماتے ہیں ان کے علاوہ دیگر اھل سنت کہ جو امام مہدی عج کے موجود ہونے کے قائل ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے اور جو بھی ان علماء کے بارے میں جاننا چاہتا ہے وہ ہماری کتاب البرھان علی وجود صاحب الزمان اور علامہ نوری کی کتاب کشف الاستار کی طرف رجوع کرے ۔
نہج البلاغہ کے شارح ابن ابی الحدید کہتے ہیں:
اس جہان کے ختم ہونے سے پہلے مہدی موعود منتظر کے آنے کا مسئلہ مسلمانوں میں مورد اتفاق ہے ابن ابی الحدید شرح نہج البلاغہ ج۲ ص ۵۳۵
قاضی بہلول بہجت افندی اپنی کتاب تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمد علیہ صلی اللہ علیہ و آلہ میں اس حوالے سے یوں لکھتے ہیں:
امام ابوالقاسم محمد المھدی ابھی تک زندہ ہیں اور جب اللہ تعالی اذن فرمائے گا ، ظہور فرمائیں گے چونکہ امت کے درمیان امام کا ظہور مورد اتفاق ہے لہذا اس کے دلائل کی وضاحت کے ہم محتاج نہیں ہیں قاضی بہلول بہجت افندی ، تشریح و محاکمہ در تاریخ آل محمد ص چاپ ہفتم ص ۱۳۹ الی ۱۴۱
اس اتفاق کی بنیاد وہ بہت ساری احادیث ہیں کہ پیغمبر اسلام سے امام مہدی عج کے بارے میں وارد ہوئی ہیں اور علماء کرام نے انہیں اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور ان کے متواتر ہونے کی وضاحت کی ہے اور بہت سے علماء نے تو اس موضوع پر مستقل کتابیں تحریر کی ہیں تو ان فراوان احادیث اور کتب کے ہوتے ہوئے شیعہ سنی علماء اور محققین کبھی بھی اس مسئلہ میں شک و تردید کا شکار نہیں ہوسکتے سوائے ایسے عقل و خرد سے بیگانے اور دشمن دین خدا کہ جو اس موضوع کو واضح اور روشن دیکھنے سے محروم ہیں اور اپنے خود ساختہ خیالات میں ہاتھ پاؤں مارتے رہتے ہیں ورنہ اگر دیکھا جائے تو ان بے شمار احادیث جو کہ متواتر بلکہ تواتر سے بھی بالاتر ہیں ان کی تصدیق عقیدہ نبوت کی اہم جزو ہے اور ان کا انکار گویا نبوت کا انکار ہے۔
اسی لئے جب ایک بزرگ عالم دین سے پوچھا گیا کہ آیا مہدی منتظر کا ظہور دین کی ضروریات میں سے ہے اور اس کا انکار مرتد ہونے کا سبب ہے یا نہ؟ تو انہوں نے جواب دیا:

یہ اعتقاد دین کی ضروریات میں سے ہے اور ان کا انکار موجب کفر ہے فاضل مقداد اللوامع الھیہ چاپ تبریز پاورقی صفحہ ۲۸۹
حجاز کی ایک برجستہ علمی شخصیت اور مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسر شیخ عبد المحسن عباد اپنی ایک تقریر کہ جو عقیدہ اھل سنۃ والاثر فی المھدی المنتظر کے عنوان سے مدینہ یونیورسٹی کے رسالہ میں بھی آئی ہے اس میں کہتے ہیں :
میں ان پچیس اصحاب کے نام کہ جنہوں نے پیغمبر اسلام سے مہدی کے بارے میں احادیث نقل کی ہیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں:
۱عثمان بن عفان ۲علی بن ابی طالب ۳طلحہ بن زبیر ۴عبدالرحمن بن عوف ۵الحسین بن علی ۶ام سلمہ ۷ام حبیبہ ۸عبد اللہ بن عباس ۹عبد اللہ بن مسعود ۱۰عبد اللہ بن عمر ۱۱عبد اللہ بن عمرو ۱۲ابوسعید الخدری ۱۳جابر بن عبداللہ ۱۴ابوھریرہ ۱۵انس بن مالک ۱۶عمار بن یاسر ۱۷عوف بن مالک ۱۸پیغمبر اسلام کے خادم ثوبان ۱۹قرۃ ابن ایاس ۲۰علی الھلالی ۲۱حذیفہ بن الیمان ۲۲عبد اللہ بن حارث بن حمزہ ۲۳عمران بن حصین ۲۴ابوالطفیل ۲۵جابر الصدفی۔ کتاب مصلح جھانی
وہ مزید اپنی بات بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
وہ آئمہ کہ جن سے صحاح ، سنن ، لغت ناموں اور مسانید وغیرہ میں مہدی کے حوالے سے احادیث نقل ہوئی ہیں وہ تحقیق کے مطابق ۳۸نفر ہیں اور وہ یہ ہیں:
۱ابوداؤد اپنی سنن میں ۲ترمذی اپنی جامع میں ۳ابن ماجہ اپنی سنن میں ۴نسائی کی سفارینی نے اسے لوامع الانوار البھیۃ میں ذکر کیا ہے اور منادی نے فیض القدیر میں ذکر کیا ہے جب کہ میں نے اسے صغری میں دیکھا شاید کبری میں ہو ۵ احمد اپنی مسند میں ۶ابن حیان اپنی صحیح میں ۷حاکم اپنی مستدرک میں ۸ابوبکر بن شیبہ المصنف میں ۹نعیم بن حماد کتاب الفتن میں ۱۰حافظ ابو نعیم کتاب المھدی در الحلیۃ میں ۱۱طبرانی الکبیر والاسط والصغیر میں ۱۲دارقطنی الافراد میں ۱۳بارودی معرفۃ الصحابہ میں ۱۴ابویعلی اسامہ اپنی مسند میں ۱۵بزاز اپنی مسند میں ۱۶حارث بن ابی اسامہ اپنی مسند میں ۱۷خطیب تلخیص المتشابہ اور المتفق والمتفرق میں ۱۸ابن عساکر اپنی تاریخ میں ۱۹ابن مندہ تاریخ اصفہان میں ۲۰ابوالحسن حربی اول من الحربیات میں ۲۱تمام الرازی اپنی فوائد میں ۲۲ابن جریر تھذیب الآثار میں ۲۳ابوبکر مقری اپنی معجم میں ۲۴ابو عمر والد انی اپنی سنن میں ۲۵ابو غنم کوفی کتاب الفتن میں ۲۶دیلمی مسند الفردوس میں ۲۷ابوبکر الاسکاف فوائد الاخبار میں ۲۸ابوالحسین بن المنادی کتاب الملاحم میں ۲۹بھیقی دلائل النبوۃ میں ۳۰ ابوعمر والقری اپنی سنن میں ۳۱ابن الجوزی اپنی تاریخ میں ۳۲یحیی بن عبد الحمید الحمانی اپنی مسند میں ۳۳رویانی اپنی مسند میں ۳۴ابن سعد طبقات میں ۳۵ابن خزیمہ ۳۶احسن بن سفیان ۳۷عمرو بن شبیہ ۳۸ابوعوانہ مصلح جھانی ص ۱۰۹ و ۱۱۰ امام مہدی ع ص ۱۴۹ الی ۵۳مسجد نبوی کے بعض مضافات کہ جو آل سعود کے دور حکومت میں کچھ عرصہ قبل تعمیر ہوئے ہیں ان عمارتوں کی چھتوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ روشنی ان سے گزرتی ہے میں نے ان عمارتوں کی دیواروں پر بعض صحابہ اور ہمارے بارہ ائمہ کے اسماء کا مشاھدہ کیا ہے اور امام مہدی علیہ السلام کا نام یوں لکھا ہوا ہے محمد بن الحسن العسکری اور یہ بات ہمارے شیعہ عقیدہ کے مطابق ہے کہ امام زمانہ امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرزند ہیں میں اپنے مضمون کو فارسی کے شاعر فرید الدین عطار نیشاپوری کے ان اشعارپر ختم کرتا ہوں :

صد ہزاران اولیاء روی زمین
از خدا خواھند مھدی را یقین

یاالھی مھدیم از غیب آر
تاجھان عقل گردد آشکار

مہدی ھادی است تاج اتقیاء
بہترین خلق برج اولیاء

مظھر العجائب النقل ینابیع المودۃ ص ۴۷۳
 

 

[ پنجشنبه بیست و دوم خرداد 1393 ] [ 4:44 ] [ ارشادحسین مطهری ]

آیت اللہ مکارم شیرازی نے مزید کہا: مسلمانوں کے درمیان موجود مشکلات کا راہ حل قتل و غارت نہیں ہے بلکہ ان مشکلات کا حل آپسی اتحاد و ہمدلی کو محفوظ رکھتے ہوئے دوستانہ نشستیں اور گفتگو ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ آیت اللہ مکارم شیرازی نے سیستان و بلوچستان کے علماء کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ جہان اسلام کی آج بدترین صورتحال ہے جب ہم شام، عراق، پاکستان، مصر، یمن، بحرین اور دوسرے اسلامی ممالک کو دیکھتے ہیں تو ہر طرف ہمیں دشمن کی سازشیں کارفرما نظر آتی ہیں۔
انہوں نے کہا: اگر چہ مصر میں انتخابات ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی مصر امن و سکون سے دور ہے دوسرے اسلامی ممالک میں بھی دشمن کامیابی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی نے مزید کہا: دشمنوں نے بہت پلاننگ کے ساتھ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے دست و گریباں کر رکھا ہے تاکہ اسرائیل پلید سے مسلمانوں کی توجہ ہٹ جائے۔
جہان تشیع کے اس مرجع تقلید نے یہ سوال پوچھتے ہوئے کہ کیا امت اسلام کی ناگفتہ بہ حالت ہمیں جگانے کے لیے کافی نہیں ہے؟ کہا: تمام اسلامی ممالک میں سے صرف اسلامی جمہوریہ ایران ہے جس میں شیعہ و سنی امن و سکون کے ساتھ آپس میں زندگی گزار رہے ہیں اور انکے درمیان کوئی مشکل نہیں پائی جاتی لیکن دیگر اکثر ممالک میں فرقہ واریت کی آگ جل رہی ہے۔
موصوف نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امت مسلمہ کے درمیان تفرقے کی آگ لگانا قرآن کی نظر میں ایک قسم کا شرک ہے کہا: اگر انسان مسلمانوں کی اس صورتحال کو دیکھ کر گریہ کرے تو وہ بھی ناکافی ہے دشمن تفرقے کی آگ بڑھکا کر خود تماشا دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا: کیا ایسے شرائط میں علما کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟ ہمیں مسلمانوں کے خبردار نہیں کرنا چاہیے؟ کیا ہمیں انہیں اتحاد اور اتفاق سے رہنے کی ہر وقت نصیحت نہیں کرنا چاہیے؟
آیت اللہ مکارم شیرازی نے مزید کہا: مسلمانوں کے درمیان موجود مشکلات کا راہ حل قتل و غارت نہیں ہے بلکہ ان مشکلات کا حل آپسی اتحاد و ہمدلی کو محفوظ رکھتے ہوئے دوستانہ نشستیں اور گفتگو ہے۔
انہوں نے کہا: مسلمانوں اور اسلامی فرقوں کے ماننے والوں یا علما کو ایک دوسرے کی توہین کرنے کا بالکل کوئی حق حاصل نہیں ہے ہم ہمیشہ اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ اسلامی مقدسات کی توہین جائز نہیں ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا : البتہ اگر اہل تشیع یا اہل سنت کے درمیان کچھ لاابالی افراد افراطی رویہ اپنائیں تو یہ معیار نہیں ہے اور اس کا علما سے کوئی تعلق نہیں ہے علماء کو سنجیدگی سے کام لینا چاہیے اور اس قسم کے عناصر پر پابندیاں عائد کرنا چاہیے۔ کسی بھی مذہب کے علماء معیار ہوتے ہیں میں نے بہت ساری کتابیں لکھی ہیں لیکن کسی ایک کتاب میں بھی سنی مذہب یا سنی عالم دین کی توہین نہیں کی ہے۔
انہوں نے آخر میں پھر تمام مسلمانوں کو اتحاد اور بھائی چارگی کی طرف دعوت دیتے ہوئے کہا ہمیں اجازت نہیں دینا چاہیے کہ ہمارے اختلافات کی وجہ سے اسلام دنیا میں بدنام ہو ہم خداوند عالم سے دعا گو ہیں کہ اتحاد کی راہ میں قدم اٹھانے والوں کی مدد اور نصرت فرمائے۔

[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:32 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

مذکورہ اسکالرشپ کیلئے ملک بھر سے ہزاروں امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں جن میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے 20 اور گلگت بلتستان سے رحمن شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔

گلگت، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دیامر امریکہ میں فیلو شپ کیلئے منتخب ہو گئے
اسلام ٹائمز۔ امریکہ میں پبلک پالیسی اینڈ پبلک ایڈمنسٹریشن کی ایک سالہ فیلو شپ اسکالرشپ کے امتحان میں گلگت بلتستان ایڈمنسٹریشن کے نوجوان آفیسر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ضلع دیامر رحمٰن شاہ کامیاب ہو گئے ہیں اور ایک سالہ تعلیم کیلئے 12 جون کو امریکہ پہنچ رہے ہیں۔ مذکورہ اسکالرشپ کیلئے ملک بھر کے ہزاروں امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائی تھیں جن میں پاکستان کے چاروں صوبوں کے 20 اور گلگت بلتستان سے رحمن شاہ کامیاب قرار پائے ہیں۔ رحمٰن شاہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز میں گولڈ میڈلسٹ ہیں اور 2007ء کے مقابلے کے امتحان میں اسسٹنٹ کمشنر تعینات کئے گئے۔ انہوں نے استور اور ہنزہ میں اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں اور حال ہی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر دیامر کی حیثیت سے ڈیوٹی پر مامور تھے اور اسکالرشپ ملنے کے بعد ایک سال کی رخصت پر امریکہ جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کے عوامی، سیاسی و سماجی حلقوں نے ان کی کامیابی پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سالہ فیلو شپ مکمل کرنے کے بعد وہ گلگت بلتستان ایڈمنسٹریشن کے بہترین آفیسرز میں شمار ہونگے۔
[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:29 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

امام راحل کی 25ویں برسی کی مناسبت سے ہونیوالی تقریب سے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امام خمینی نے خداوند متعال پر اعتماد و بھروسہ کرتے ہوئے سامراج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور حقیقی اسلام محمدی کی راہ میں ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی حکومت اور اسلامی جمہوری نظام حکومت قائم کیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:26 ] [ ارشادحسین مطهری ]



اسلامی حکومت کا مفہوم

امام خمینی (رہ) اپنے فقہی نظریات میں اسلامی نظام حکومت کو چلانے اور شرعی احکام کو اجراء کرنے کے سلسلے میں اسلامی حکومت یا اسلامی گورنمنٹ کے خاص طور سے قائل ہیں۔ اسلامی حکومت کے دوسری حکومتوں سے جدا ہونےکے  سلسلے میں امام کا نظریہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت دوسری حکومتوں سے مختلف ہوا کرتی ہے۔ اسلامی حکومت نے اپنے آغاز حکومت سے ہی سلطنت اور ولیعہدی پر خط بطلان لگا دیا۔ اور ایران اور مشرقی روم، مصر اور یمن میں سلطنت کی بساط الٹ کر رکھ دی۔

اسلامی حکومت استبدادی حکومت یا مشروطہ سلطنت کی اقسام میں سے نہیں ہے بلکہ اسلامی حکومت در حقیقت لوگوں پر الہی قوانین کی حکومت ہوتی ہے اسلامی حکومت میں حکومتی کارندہ پر حکومت چلانے میں مجموعی طور پر کچھ شرائط کی پابندی لازمی ہوتی ہے اور شرائط کا یہ مجموعہ قرآن کریم اور سنت پیغمبر اکرم (ص) میں مشخص ہے شرائط کا یہ مجموعہ حقیقت میں احکام اور اسلامی قوانین ہیں جن کی رعایت اور جن کا اجرا ہونا ضروری ہے۔ اس بنا پر آپ کی نگاہ سے اسلامی حکومت اور دوسری تمام استبدادی حکومتوں کے درمیان نکتہ افتراق اسلامی احکام کی پابندی اور ان کا اجراء کرنا ہے۔

اسلامی حکومت کی تشکیل عقل کی رو سے

وہ دلائل جو اسلامی حکومت کی تشکیل کو امام معصوم [ع] کے زمانہ غیبت میں ضروری بناتے ہیں امام خمینی (رہ) نے ان دلائل کو سیرہ نبوی سے مستند فرمایا ہے آپ کے وہ دلائل عبارت ہیں:

پیغمبر اسلام (ص) کی روش اور سنت، اسلامی حکومت کی تشکیل پر دلیل ہے اس لیے کہ اولاً آنحضرت نے سب سے پہلے خود حکومت کو تشکیل دیا۔ اور تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ آپ نے حکومت تشکیل دی اور آپ اسلامی قوانین اور اسلامی نظام کے نافذ کرنے کے لیے اور اسلامی معاشرے کو چلانے کے لیے خود اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے گردو نواح کے علاقوں میں گورنر روانہ کئے، مسند قضاوت پر بیٹھتے تھے اور قاضی معین فرماتے تھے دوسرے ممالک کے بادشاہوں اور قبیلوں کے روسائوں کے پاس اپنے سفیر بھیجتے تھے۔ معاہدہ اور عہد و پیمان باندھتے تھے۔ جنگی کمانڈ کرتے تھے۔ بطور خلاصہ آنحضرت تمام حکومتی امور کو چلاتے تھے۔ ثانیاً آپ نے خداوند عالم کے فرمان کے مطابق اپنے بعد حاکم معین فرمایا لہذا ظاہر سی بات ہے کہ جب خداوند عالم پیغمبر[ص]  کے بعد حاکم کا تیعن کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد بھی حکومت کی ضرورت ہے۔ پیغمبراسلام نے بھی اپنی وصیت کے ضمن میں الہی پیغام کا ابلاغ فرمایا لہذا یہ ساری چیزیں دلیل ہیں اس بات پر کہ پیغمبر کی وفات کے بعد حکومت کا سلسلہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔ امام خمینی (رہ) کے فقہی نظریہ کے مطابق جس طرح پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے میں اسلامی حکومت کی تشکیل کی ضرورت تھی اسی طرح شرعی احکام کے نافذ کرنے کی بھی ضرورت تھی۔ اور یہی احکام کے اجراء کی ضرورت اسلامی حکومت کی تشکیل کا باعث بنی۔ اور واضح ہے جب پیغمبر اسلام کے زمانے میں احکام کے اجراء کی ضرورت تشکیل حکومت کا باعث بنی تو اس ضرورت کا تعلق کسی خاص زمان و مکان سے نہیں ہے اور نہ ہی اسے زمان اور مکان میں محدود کیا جا سکتا ہے۔ لہذا یہ ضرورت پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد بھی جاری اور ساری ہے۔ اسی طرح وحدت اسلامی کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل اور ایجاد ایک دوسری عقلی دلیل ہے جو امام خمینی (رہ) نے بیان فرمائی ہے ہم اگر چاہیں وحدت اسلامی کو قائم کریں اور اسلامی معاشروں کو دشمنوں کے تصرف اور نفوذ ، اور دوسری استکباری حکومتوں کے تسلط سے آزاد کرنا چاہیں تو ان تمام باتوں کو ممکن بنانے کے لیے حکومت کی تشکیل کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ علاوہ اس کے مظلوموں اور محروموں کی نجات اور ظالموں کا مقابلہ جو علماء اسلام کا وظیفہ ہے اسلامی حکومت کی تشکیل پر ہی مبنی ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوموں اور محروم افراد کو نجات دلائیں ہمارا وظیفہ ہے مظلوموں کی پشت پناہی کریں اور ظالموں سے دشمنی کریں اور یہی وہ وظیفہ ہے کہ جسے امیر المومنین (ع) نے اپنی مشہور اور معروف وصیت میں اپنے دونوں بیٹوں کے لیے بیان فرمایا ہے آپ اپنے دونوں بیٹوں کو مخاطب کر کے بیان فرماتے ہیں: کونا للظالم خصماً و للمظلوم عوناً۔ علماء اسلام کا وظیفہ ہے کہ وہ ظالموں اور ستمگروں کے نامشروع کاموں سے نبرد آزما ہوں اور ہر گز ایسا نہ ہونے دیں کہ ایک طرف بے شمار لوگ بھوکے اور محروم رہیں اور دوسری طرف ظالم ، ستمگر اور حرام خور، ناز و نعمت کی زندگی بسر کریں۔ دوسری طرف سے امام خمینی (رہ) اسلامی حکومت کےسلسلے میں قوہ مجریہ اور حاکم اسلامی کے تعین، احکام کے اجراء اور مجموعی مقررات اور شریعت الٰہیہ کے قوانین کے نفاذ کے لیے حکومتی ارکان کے ایجاد کو ضروری سمجھتے ہیں۔ قوانین کا مجموعہ کسی بھی معاشرے کی اصلاح کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس لیے کہ قانون بشریت کی سعادت اور اصلاح کا سبب قرار پائے اس کے لیے قوہ مجریہ کی ضرورت ہے۔ اسی لیے خداوند عالم نے قوانین کے مجموعہ  یعنی شریعت الٰہیہ کے نزول کے علاوہ حکومت کے چلانے والے اور قوانین کے نافذ کرنے والوں کو بھی بھیجا۔ رسول خدا (ص) اسلامی معاشرے کو چلانے اور تمام حکومتی امور کی تشکیلات  میں سرفہرست قرار پاتے ہیں۔ وحی کے ابلاغ ، بیان و تفسیر ، عقائد اور اسلامی نظام کے احکامات کے بیان کے علاوہ آپ نے احکام نے اجراء اور اسلامی نظام کی برقراری جیسا عظیم کارنامہ انجام دیا۔ تاکہ اسلامی حکومت کو تشکیل دے سکیں۔ امام خمینی (رہ) کے فقہی نظریہ کے مطابق اسلامی حکومت کی تشکیل شرعی احکام کے اعلی ترین درجہ پر فائز ہے اس طرح سے کہ اسلامی حکومت کی تشکیل دوسرے تمام فرعی احکام جیسے نماز، روزہ، حج وغیرہ پر مقدم ہے۔ اس لیے کہ اسلامی حکومت رسول خدا (ص) کی ولایت مطلقہ کا ایک شعبہ ہے۔

اسلامی حکومت کی تشکیل کا مقصد
امام خمینی (رہ) اسلامی معاشرے کے تحفظ، بدنظمی سے دوری، اسلامی امت کے درمیان ہرج ومرج، اور اسلامی ممالک پر غیروں کے حملے اور ان کی سرحدوں کا تحفظ، احکام الٰہیہ کا اجراء جیسے مہمترین اہداف تک پہنچنے کے لیے اسلامی حکومت کے قیام کو لازمی اور ضروری سمجھتے ہیں اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ سماج کے نظام کی حفاظت شریعت الٰہیہ کے موکد واجبات میں سے ہے جب کہ مسلمانوں کے امور میں بد نظمی سر گردانی، پریشانی خدا اور خلق خدا کے نزدیک ایک ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلامی حکومت کے بغیرمعاشرے میں نظام کی حفاظت، خلل اندازی کے تمام راستوں کا سد باب، ممکن نہیں ہے لہذا اسلامی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رہ جاتا۔ علاوہ اسکے جو ہم نے ذکرکیا ہے کہ اسلامی ملک کی سرحدوں کی غیروں کے حملات سے حفاظت، اور متجاوزین کے تسلط سے محفوظ رکھنے کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل عقلا اور شرعا واجب ہے اور اس بات کا اس وقت تک تحقق پانا ممکن نہیں ہے جب تک اسلامی حکومت میسر نہ ہو۔

اسی طرح امام خمینی [رہ] نے مولائے کائنات کے ایک خطبہ کی طرف استناد کرتے ہوئے فرمایا جس میں امیر المومنین فرماتے ہیں: اما و الذی فلق الحبۃ و برا النسمۃ لو لا حضور الحاصر و قیام الحجۃ بوجود الناصر و ما اخذ اللہ علی العلماء ان لا یقاروا علی کظۃ ظالم و لا لقیت حبلحا علی غاربھا۔

ہاں،قسم ہے اس خدا کی جس نے بیج کا منہ کھولا اور اس کے اندر جان ڈالی اگر بیعت کرنے والوں کا مجمع نہ ہوتا اور مددگاروں کا وجود قیام کے لیے حجت نہ ہوتا اگر خداوند عالم نے علماء سے یہ عہد و پیمان نہ لیا ہوتا کہ ستمگروں کی پرخوری اور غارت گری بھوکوں کی جان لیوا بھوک اور ستمدیدہ افراد کی  محرومیت کے مقابلہ میں سکوت اختیار نہ کرنا ہوتا تو میں لگام حکومت کو رہا کر دیتا۔

امام خمینی (رہ) امیر المومنین کے کلام کی طرف استناد کرتے ہوئے فرماتے ہیں محروم لوگوں کی نجات، استعمار اور استثمار سے جنگ جیسے اہداف تک رسائی حاصل کرنے کے لیے اسلامی حکومت کی تشکیل کو ضروری سمجھتے ہیں۔

اسلامی حکومت کی خصوصیات
الف:امام خمینی[رہ] کے نظریہ کے مطابق اسلامی حکومت کی خصوصیات میں سے ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی حکومت میں حاکم مطلق اور حاکمیت مطلقہ صرف خداوند عالم سے مخصوص ہے۔ یعنی اسلامی حکومت میں حاکم مطلق اور حقیقی سلطان صرف خداوند عالم ہے

ب: اس کے علاوہ اسلامی حکومت پر حاکم قانون صرف قانون الٰہیہ ہے۔ حاکمیت مطلقہ صرف خدا سے مخصوص ہے لہذا قانون بھی خدا کا قانون اور اس کا فرمان ہے۔ اسلامی قانون یا خدا کا فرمان اسلامی حکومت کے اندر کلی طور پر حاکم ہوتا ہے۔ لہذا تمام لوگ رسول خدا[ص] سے لے کر آپ کے خلفاء اور دوسرے تمام لوگ اس قانون کے تابع ہوتے ہیں اور یہ قانون وہی قانون ہے جو خداوند عالم کی طرف سے نازل ہوا ہے اور قرآن اور نبی اکرم کی زبان سے بیان ہوا ہے

ج: اس بات کی طرف توجہ رہے کہ اسلامی احکام منجملہ اقتصادی قوانین، سیاسی قوانین، حقوقی قوانین روز قیامت تک باقی اور قابل نفاذ ہیں۔ چنانچہ یہ بات ذہن میں رہے کہ الہی احکام کا نفاذ اسلامی حکومت کی تشکیل کے بغیر ممکن نہیں ہے خداوند عالم نے اسلامی احکام کے ابلاغ کے لیے اپنے رسول کو زمین پر اپنا خلیفہ اور جانشین منصوب کیا اور اسلامی حکومت کی ولایت،سرپرستی اور ذمہ داری آپ کو سونپی۔ پیغمبر اکرم نے بھی اپنے بعد امت اسلامی کی ذمہ داری امام علی علیہ السلام اور ان کے بارہ معصوم فرزندوں کی طرف منصوب کی حتی امام کی غیبت کے زمانے میں بھی امت کی ولایت اور سرپرستی آپ کے ذمہ ہے۔

د: امام معصوم کی غیبت کے زمانے میں عقل کی تشخیص اور نقلی دلائل کی رہنمائی کی روشنی میں اسلامی حکومت اور ولایت کے سلسلہ کا جاری رکھنا ایک ضروری اور لازمی امر ہے۔  اس بنا پر بارہویں امام (ع) کے عصر غیبت میں الہی احکام کو تعطل کا شکار نہیں بنایا جا سکتا۔ بلکہ ان کا نفاذ ہونا چاہیے اور ایک ولی امر مسلمین یعنی ایک ایسے حاکم کا وجود لازمی اور ضروری ہے جو اسلامی حکومت میں نظم و ضبط کو قائم کرے اور اسلامی قوانین کو برقرار رکھ سکے۔ ایسے حاکم کا وجود لازمی ہے جو ظالموں اور ستمگروں کو ظلم و استبداد اور دوسروں کے حقوق کی پامالی سے روک سکے۔ امین و امانتدار اور خلق خدا کا محافظ ہو لوگوں کا ھادی ، لوگوں کو عقائد، احکام اور اسلامی نظام کی تعلیم دے۔ اور دشمنوں اور ملحدوں کی طرف سے دین میں داخل کی جانے والی بدعتوں کو روک سکے۔

خلافت کی کیفیت کی تشریع کے سلسلہ میں امام خمینی کے بیانات اسلام کی نگاہ سے

حضرت امیر علیہ السلام کی حکومت اور منصوبہ بندی، اسلامی حکومت کی تشکیل کے لیے ایک آئیڈیل۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
عید غدیر وہ دن ہے جس دن پیغمبر اکرم (ص) نے اسلامی حکومت کے وظائف کو معین فرمایا اور قیامت تک کے لیے اسلامی حکومت کے لیے آئیڈیل شخصیت کو معین فرمایا اسلامی حکومت کے آئیڈیل کی تعریف یہ ہے کہ آئیڈیل ایک ایسی شخصیت ہو جو ہر اعتبار سے مہذب اور ہر لحاظ سے معجزہ ہو اگر چہ پیغمبر جانتے تھے کہ واقعی معنی میں ایسی شخصیت سوائے حضرت امیر علیہ السلام کے کوئی دوسری نہیں ہو سکتی لیکن اس طرح کے آئیڈیل کو نزدیک سے دوسروں پر آشکار کیا اور حکومتوں کو آخر تک کے لیے معین کر دیا۔ چنانچہ حضرت امیر نے بھی اپنے نظام حکومت کو مالک اشتر کے لیے ایک معاہدہ میں بیان فرمایا کہ وہ لوگ جو آپ کی طرف سے شہروں یا ملکوں پر حاکم ہیں ان کے حکومتی اعتبار سے کیا فرائض ہیں؟ پیغمبر اکرم(ص) نے حکومت کے لیے جو طریقہ کار معین کیا یا لوگوں پر سرپرستی کے لیے جو طریقہ بیان فرمایا اس کے مطابق اب تک جتنی بھی حکومتیں بر سر کار آئیں صرف حضرت امیر (ع) کی حکومت اور امام حسن (ع) کی چند روزہ حکومت کے علاوہ ان میں سے ایک کے اندر بھی حکومت کرنے کی لیاقت اور صلاحیت نہیں پائی جاتی تھی اگر چہ بعض حکومتوں میں ایک حد تک آداب نبوی کی رعایت کی گئی اور بعض ایسی حکومتیں بھی تھی جن میں آداب اور رسومات نبوی کو یکسر فراموش کر دیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ خود حضرت امیر (ع) نے امیر شام معاویہ کے خلاف قیام کیا حالانکہ معاویہ مسلمان تھا اور ظاہری طور ہر اسلامی کاموں کو انجام دیتا تھا شاید اسلامی اعتقاد رکھتا تھا یا نہیں بھی رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ جو کچھ لوگ جو اپنے خیال میں حضرت امیر[ع] کو نصیحت کررہے تھے کہ آپ ایک مدت تک معاویہ کو اپنی حکومت کے سایہ میں رکھ لیں اور جب آپ کی حکومت کی بنیادیں مضبوط ہو جائیں تواس وقت معاویہ کو نکال باہر کر دیں حضرت امیر علیہ السلام نے ان کی کسی بات پر کوئی توجہ نہیں کی اس لیے کہ ان کے نزدیک ایک ایسے شخص کو جس نے ظلم و جور کو ملک کے اندر عام کر رکھا تھا اور الہی قوانین اور موازین اسلام کے خلاف عمل کرتا رہا ہے میں ایک لمحہ کے لیے اس کو حاکم قرار نہیں دے سکتا۔ بلکہ حضرت امیر اس کو حاکم معین کر دیتے تو یہ بات اس چیز پر دلیل بن جاتی کہ ایک فاسق و فاجر شخص ولی امر کی طرف سے حاکم  بن سکتا ہے۔ حضرت امیر نے اس کام سے دریغ کیا اگر چہ اس  وقت اس کو حاکم معین کر دینا مصلحت کے تحت بھی ہوتا تب بھی آپ قبول نہ کرتے مثلا معاذ اللہ معاویہ کو قبول کر لیتے اور جیسے ہی آپ کی حکومت کی جڑیں مضبوط ہو جاتی تو معاویہ کو باہر کر دیتے۔ لیکن حضرت امیر نے خود کو اجازت نہیں دی کہ ایک دن کے لیے بھی معاویہ کو اپنی حکومت میں رہنے دیتے یہ بات ہمارے لیے حجت ہے کہ ان ظالم و جابر حکومتوں کو نابود کریں اور اگر خدا نخواستہ ایسا ہماری قدرت سے باہر ہو تو بھی ان حکومتوں کے لیے اپنی رضایت کا اظہار نہ کریں اگر چہ یہ رضایت ایک دن یا ایک لمحہ کے لیے کیوں نہ ہو۔ یہ رضایت ظالم کے ظلم کے اوپر اور متجاوز کے تجاوز پر رضایت ہے، لوگوں کے اموال کی غارتگری پر رضایت ہے اور کسی بھی  مسلمان کو یہ حق نہیں ہے کہ ظالم کی حکومت کے لیے اپنی رضایت کا اظہار کرے خواہ ظالم کی حکومت کی مدت ایک گھنٹہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ان سے جنگ کریں ہر شخص سے جتنا ہو سکتا ہے جتنا اس کی توان میں ہے ان سے مقابلہ کرے۔ اس سلسلہ میں کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہے۔

ایرانی قوم کی اسلامی حکومت کی نسبت بیداری، فرمان رسول اکرم (ص) پر لبیک
آج جب ایران کی قوم قیام کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور مسائل سے مکمل آشنائی اور بیداری سے قیام کیا ہے شہروں سے لے کر دیہاتوں کے کونہ کونہ تک سب کی ایک ہی آواز ہے اور سب کےمسئلہ کا عنوان ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم ظالم اور جابر حکومت نہیں چاہتے۔ہم اسلامی حکومت کے خواہاں ہیں اور آزادی کے طلبگار ہیں استقلال چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری حکومت اسلامی حکومت ہو۔ یہ وہی لبیک ہے جو لوگوں نے رسول اللہ (ص) کے فرمان اور ان کی فرمایش پر کہی ہے۔ وہ خصوصیات جو پیغمبر اکرم (ص) نے ایک حکومت کے لیے معین کی ہیں اور وہ تمام خصوصیات جو کلی طور پر ایک حکومت میں ہونا چاہیے وہ کلی صفات جو ایک معتبر حکومت میں ہونا چاہیے ہمیں انہیں حضرت امیر (س) کی حکومت سے اقتباس کرنا چاہیے ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے اگر چہ ہم ان تمام پہلوں کی رعایت نہیں کر سکتے بلکہ کوئی بھی ہر اعتبار سے ان کی رعایت نہیں کر سکتا اس لیے کہ ان کی حکومت، خود مسئلہ حکومت سے بڑھ کر تھی اور کچھ کام حضرت امیر سے مخصوص تھے لیکن اصلی مسئلہ  یہ ہے کہ حکومت کو ایک عادلانہ حکومت ہونا چاہیے جو لوگوں کے اوپر ظلم و ستم نہ کرے اسلامی حکومت میں اگر ایک شخص کسی کو قتل کر دیتا ہے تو اس کو قتل کر دیا جاتا ہے اگر کوئی کسی کو ایک طمانچہ مار دیتا ہے تو اس کو طمانچہ کا انتقام دینا پڑتا ہے لیکن اگر اس ایک طمانچہ کے بدلے میں کسی کو ایک روز قیدی بنا دیا جائے تو یہ اسلامی نظام کے خلاف ہے اس لیے کہ یہ اس ایک طمانچہ کے مقابلہ میں کہیں زیادہ ہے البتہ بعض خاص مواقع پر قیدی بھی بنائے جاتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان حکومتوں کی طرح جو ابھی بر سر کار ہیں، جس کو بھی گرفتارکر کے لائیں پہلے اس کی اچھی خاصی پٹائی کریں خوب مار پیٹ کے بعد ایک مدت کے لیے قید میں ڈال دیں اور بے شمار ٹارچر کریں اور پھر تفتیش کرنے کے بعد معلوم ہو کہ اشتباہ کیا تھا کہ اس وقت اعتراف کریں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔

اسلام نظام حکومت کو مرتب کرنے والا دین ہے
بہر حال اسلام، حکومت کی کیفیت اور اس کے نظام کو مرتب کر چکا ہے ایسا نہیں ہے کہ اسلام کے پاس کوئی مرتب نظام نہ ہو اس سلسلے میں جو بھی باتیں کی جاتی ہیں وہ صرف مفت باتیں ہوتی ہیں اسلام کے اندر حاکم کی خصوصیات معلوم ہیں اور خاص نظام کے تحت مرتب بھی ہیں اوراس کے حکومتی پروگرام کو حضرت امیر علیہ السلام مرتب اور معین کر چکے ہیں۔ آپ نے مشخص کر دیا ہے کہ حکومت کو کیسا ہونا چاہیے اس کی عدالت کو کیسا ہونا چاہیے اس کے قاضیوں کو کیسا ہونا چاہیے حکومت اور اس کے کارندوں کو کیسا ہونا چاہیے یہ سارے وہ مسائل ہیں وہ واضح اور معلوم ہیں اور اسلام نے ان کا تعین پہلے سے کر رکھا ہے۔ یہ جناب یہ جو کہتے ہیں کہ اگر میں نہ رہوں تو خلا ایجاد ہو جائے گا یا ان کے رفقاء جو کہتے ہیں اگر یہ صاحب نہ ہوں تو ایک خلا ایجاد ہو جائے گا یہ ساری بے ربط باتیں ہیں خلا تو ابھی ہے یہ صاحب تو خود خلا کا باعث بنے ہوئے ہیں اس لیے کہ فی الحال ساری چیزیں واقعیت سے خالی ہیں ابھی ہمارے پاس واقعی کچھ بھی نہیں ہے۔ اور جو کچھ ہے بھی تو وہ صرف کاغذی تصویریں ہیں۔ اور ہر بات اندر سے کھوکھلی اور واقعیت سے دور ہے۔

ملک کی آزادی اور استقلال کا مفہوم موجودہ تمدن میں
وہ ساری ھیاھو کہ ہم تہذیب و تمدن کے دروازے سے داخل ہو چکے ہیں یا تہذیب و تمدن کے دروازے پر کھڑے ہیں اور داخل ہونا چاہتے ہیں اچھی بات ہے لیکن کون سا دروازہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دروازہ کی کوئی خبر نہیں ہے اور نہ ہی کسی تہذیب و تمدن کی خبر ہے تمدن کا پہلا مرحلہ قوم و ملت کی آزادی ہے ایک قوم جس کے پاس آزادی نہیں اس کے پاس تہذیب و تمدن نہیں۔ ایک ملک جو مستقل نہیں ہے اور دوسروں کے رحم و کرم پر ہے اغیار سے وابستہ ہے اور اغیار کے کارناموں سے وابستہ ہے اسے ایک متمدن ملک نہیں کہا جائے گا۔ متمدن ملک وہ ہے جو آزاد ہے۔ جس کی مطبوعات آزاد ہوں جس کے لوگ اپنے عقیدہ اور رائے کے اظہار میں آزاد ہوں کسی بھی چیز کی تو آزادی نہیں اور تم کہتے ہو کہ ہم تمدن کے دروازے پر آکھڑے ہوئے ہیں۔

 اسلامی نظام کو نافذ کرنے کے عہدہ دار ماہر، نیک اور صالح افراد
ابھی ان صاحب کی موجودگی سے خلا پایا جاتا ہے اگر یہ تشریف لے جائیں تو کسی قسم کا خلا باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے کہ ان کے جانے سے صحیح اور قابل کارکنان کام کریں گے کچھ ایسے لوگ ہیں جو تعلیم یافتہ ہیں ان میں کچھ وہ لوگ ہیں ملک کے اندر موجود ہیں اور کچھ بیروں ملک حصول تعلیم میں مشغول ہیں جو ملک سے باہر ہیں وہ واپس نہیں آسکتے اور جو ملک کے اندر ہیں وہ بھی مجبور ہیں جیسے ہی یہ صاحب تشریف لے جائیں گے تو سارے کام اپنی جگہ اچھے طریقے سے انجام پائیں گے اسلام کا منشور پہلے سے معین اور مشخص ہے کہ  حاکم کو کیسا ہونا چاہیے اور کس پوزیشن کا ہونا چاہیے کسی طرح کا آدمی ہونا چاہیے ہم لوگوں سے بھی عرض کریں گے ایک ایسے حاکم کا تعین کریں جیسا اسلام چاہتا ہے لوگ اپنے اختیار سے معین کرے اور میں عرض کرتا ہوں آپ حضرات کی خدمت میں جن کو وکیل بنانا چاہیں وہ بھی آپ اپنے اختیار سے بنائیں سب کچھ آپ کے اپنے اختیارمیں ہے اور کسی قسم کا خلا درکار نہیں ہے۔ یہ جناب تشریف لے جائیں سارے خلا خود ہی ختم ہو جائیں گے نہ یہ کہ ان کے جانے سے کوئی خلا پیدا ہو جائے گا۔ یہ ساری باتیں بہودہ ہیں کہتے ہیں تو کہتے رہیں۔

ایران میں اسلامی حکومت کا قیام دنیا میں اسلام کے تعارف کا اصلی عامل
بہر صورت ہم امید رکھتے ہیں کہ خدا اس روز ہمارے اوپر رحمت نازل فرمائے اور ہمیں توفیق دے یہ جو لڑائی ہم لڑ رہے ہیں اس میں مسلمان کامیاب ہوں اسلام کو تقویت حاصل ہو اور اسلامی حکومت کو برقرار کریں تاکہ دنیا دیکھے کہ حکومت کسے کہتے ہیں؟ اور حکومت کو کیسا ہونا چاہیے؟ حکومت کیا ہے؟ اور حکومت کے کیا معنی ہیں؟ حاکم کی رفتار کیسی ہوتی ہے؟ حاکم اپنی قوم کے ساتھ کیسی رفتار کرتا ہے یا دوسرے تمام لوگوں کی رفتار کیسی ہوتی ہے؟ یہ بھی مشخص ہو جائے کہ حکومت کے کارکنان کیسے لوگ ہوتے ہیں قضاوت کیسے لوگوں کو کرنا چاہیے؟ ثقافتی امور کے عہدہ داروں کو کیسا ہونا چاہیے؟ اور یہ ساری باتیں پہلے سے طے شدہ ہیں انشاء اللہ اگر اسلامی حکومت برقرار ہو جاتی ہے تو سب کچھ قوم و ملت کی دلی خواہشات کے مطابق ہو گا۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللہ

[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:23 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 
 
امام راحل(رہ) کی پچیسویں برسی کے موقع پر تہران میں آپ کے مزار میں منعقدہ پروگرام میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس میں دسیوں غیرملکی مہمان بھی شامل تھے اس جم غفیر سے رہبر معظم انقلاب نے خطاب کیا۔

[ پنجشنبه پانزدهم خرداد 1393 ] [ 15:21 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 


بوکو حرام کی طرف سے گزشتہ ماہ اغوا کی گئی مزیدچار لڑکیاں قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

نائیجریا کی ریاست بونو کے کمشنر برائے تعلیم نے بتایا ہے کہ اب بھی دوسو انیس طالبات لاپتہ ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نائیجریا میں مذہبی عسکریت پسند تنظیم بوکو حرام نے چودہ اپریل کو شبوک نامی گاؤں سے ایک سیکنڈری اسکول سے دو سو چوہتر طالبات کو اغوا کر لیا تھا اور انہیں لونڈیاں بنا کر فروخت کرنے کی دھمکی دی تھی جس پر پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
حکام کے مطابق ترپن لڑکیاں اغوا کیے جانے کے کچھ دیر بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔
کمشنر تعلیم موسٰی نیوا نے قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہونے والی چار لڑکیوں سے متعلق مزید معلومات بتانے سے انکار کر دیا تھا۔
انتہا پسند تنظیم بوکو حرام نے 2009 سے نائجیریا کے خلاف بغاوت شروع کی ہوئی ہے اور اس تنظیم کی طرف سے کیے گئے حملوں میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں.

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:52 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

 

امریکا کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے کہا ہے کہ وہ الیکٹرانک جاسوسی کے ماہر جاسوس تھے نہ کہ ایک کم درجے کے ہیکر ۔

ابنا: سی آئی اے کے سابق جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور نیشنل سیکورٹی ایجنسی کے لیے بیرون ملک خفیہ مشنز پر تعینات رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ انسانوں کی بہ نسبت کمپیوٹرز کے ذریعے زیادہ بہتر خفیہ معلومات حاصل کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک تربیت یافتہ جاسوس ہیں اور میں نے بیرون ملک خفیہ طور پر کام کیا اور مجھے ایک فرضی نام بھی دیا گیا تھا۔ اسنوڈن نے مزید کہا کہ انہوں نے سی آئی اے اور این ایس اے کے لیے کام کیا ہے اور ڈیفنس اینٹلیجنس ایجنسی میں لیکچر بھی دیے ہیں۔
واضح رہے کہ ایڈورڈ اسنوڈن امریکہ میں قومی سلامتی کے ادارے کی جانب سے دنیا میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی کرنے کے پروگرام کا راز افشا کرنے کے بعد امریکہ سے فرار ہو کر روس چلے گئے تھے۔ جاسوسی کے پروگرام کے فاش ہونے کے بعد کئی ممالک کے ساتھ جن میں یورپی ممالک بھی شامل تھے، امریکا کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی۔
.....

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:51 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 


دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی ملک گیر مہم کامیابی سے جاری ہے جس کے تحت فوج نے ريف دمشق صوبے کے جنوبی علاقے میں دسیوں دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

ابنا: شام کے سرکاری ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق شام کی مسلح فوج نے بدھ کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر وسیع حملہ کیا جس میں دسیوں دہشت گرد ہلاک جبکہ فوج نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی ضبط کیا ۔ مارے جانے والوں میں زیادہ تر سعودی عرب کے شہری ہیں ۔ فوج نے اسی طرح مرکزی صوبے حمص کے تدمر علاقے میں ایک دہشت گرد کو مار گرایا جو ایک بلڈنگ میں بم لگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
فوج نے اسی طرح شمالی حلب میں کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا جبکہ فوج نے اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی کئی سرنگوں کا پتہ لگا کر تباہ کر دیا ۔ اسی طرح دہشت گردوں کے قبضے والے صوبے ادلب اور جنوبی درعا میں فوج نے کارروائی کرتے ہوئے کئی گاؤں پر دوبارہ کنٹرول کر لیا ہے۔

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:51 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

 

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی مناسبت سے ایرانی عوام کے مختلف طبقات، اعلی حکام ، قرآن مجید کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے والے مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقات میں فرمایا: سامراج کی طرف سے ایران اور شیعہ کے متعلق خوف و ہراس پیدا کرنے کا مقصد اسرائیل کی حفاظت ہے۔

 اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مہر نیوز کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی مناسبت سے ایرانی عوام کے مختلف طبقات، اعلی حکام ، قرآن مجید کے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے والے مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفیروں کے ساتھ ملاقات میں فکر ،بصیرت، شعور، امت اسلامی کے دشمنوں کی حقیقی شناخت، اسی طرح اتحاد اور قومی اور عقیدتی اختلافات سے پرہیز کو عالم اسلام کی اہم ضروریات قراردیتے ہوئے فرمایا: آج پرچم اسلام کی سرافرازی و سربلندی اور مسلمانوں کے درمیان اسلامی تشخص کا احساس پہلے کی نسبت بہت قوی اور مضبوط ہوگیا ہے اور ایرانی قوم بھی اللہ تعالی کی نصرت اور مدد کے وعدے پر اعتماد اور حسن ظن کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کی جانب گامزن ہے اور مشکلات سے عبور کرنے اور ظلم و جہالت اور ناانصافی کے ساتھ مقابلہ کرنے کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے موچوں کو فتح کررہی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور پیغمبر اسلام(ص) اور دوسرے انبیاء کرام (ع) کی بعثت کا مقصد عقل و دانش، خرد اور شعور کی جانب انسانوں کی ہدایت قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر اسلامی معاشرے میں عقل و خرد اور شعور سے استفادہ متداول اور رائج ہوجائے تو عالم اسلام کی بہت سی مشکلات حل ہوجائیں گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلام اور قرآن سے غلط اور سطحی  نظریات اخذ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی تعلیمات اور قرآنی مفاہیم کے بارے میں عدم معرفت اور غلط  نظریہ اس بات کا باعث بن گيا ہے کہ آج بعض افراد اسلام کے نام پر مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کو قتل کرتے ہیں اور حتی افریقی ممالک میں اسلام کے نام پر بے گناہ لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے عالم اسلام کے موجودہ شرائط میں فکر و شعور کی طاقت سے استفادہ نہ کرنے کے ایک اور نمونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج دشمن آشکارا طور پر اسلام کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ قومی اور عقیدتی اختلافات اور شیعہ اور سنی اختلافات کو وسیلہ بنا رہے ہیں لیکن اگر عقل و شعور کی طاقت سے استفادہ کیا جائے تو دشمن کے ہاتھ اور اس کے  ناپاک عزائم کو دیکھا جاسکتا ہے اور اسلام دشمن عناصر کے اہداف کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اتحاد اور امت واحدہ کی تشکیل کو عالم اسلام کی ایک دوسری ضرورت قراردیا اور سامراجی طاقتوں کی جانب سے اسرائیل کی حفاظت، اپنی مشکلات کو پوشیدہ رکھنے، ایران اور شیعہ کو خوفناک اور خطرناک بنا کر پیش کرنے اور مسلمانوں کی صفوں میں اختلافات پیدا کرنے کو دشمنوں کے اہداف میں شمار کرتے ہوئے فرمایا:  مسلمان قوموں بالخصوص ممتاز شخصیات اور دانشوروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تدبیر اور بصیرت کے ذریعہ امت اسلامی کے دشمن محاذ کی صحیح شناخت اور معرفت حاصل کریں اور ان واضح حقائق کے بارے میں اچھی طرح متوجہ ہوجائیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مغربی ممالک کے سیاسی اداروں کو جاہلیت کا مروج قراردیا اور جاہلیت کے خاتمہ کو پیغبمر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا مقصد اور ہدف قراردیتے ہوئے فرمایا: نا انصافی ، تبعیض، انسانی کرامت و شرافت پر عدم توجہ ، جنسی مسائل ، عورتوں کے تبرج کے سلسلے میں وسیع تبلیغات، یہ تمام امور مغربی ممالک کے گمراہ سماج کے علائم اور  مظاہر ہیں جس کی بازگشت جاہلیت کے دور کی طرف ہوتی ہے البتہ مغربی ممالک جاہلیت کو نئے اور ماڈرن طریقہ سے فروغ دے رہے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسلامی بیداری کو کچلنے کے سلسلے میں وسیع کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر چہ بظاہر بعض جگہوں پر طاقت کے ذریعہ اسلامی بیداری کو کچل دیا گيا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلامی بیداری کو کچلنا ناممکن ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے بعثت کے پیغام، اندرونی اتحاد، دشمن کے مد مقابل شجاعت  اور اللہ تعالی کی نصرت اور مدد کے وعدے پر امید کے احساس کے سائے میں ایرانی قوم کی ترقیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کے لطف و کرم سے جدید حکومت اور  تازہ نفس حکام، اسلام کی سربلند اور سرافرازی کے لئے مختلف اور گوناگوں  شعبوں میں کام اور تلاش کے سلسلے میں مصروف اور مشغول ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انسانی زندگی کی راہ میں مشکلات اور چیلنجوں کو ایک قدرتی امر قراردیتے ہوئے فرمایا: عقل اور تدبیر کے حامل افراد مشکلات کو انسانی عزت و شرف تک پہنچنے اور اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لئے برداشت کرتے ہیں لیکن جاہل اور نادان انسان اللہ تعالی کی ولایت قبول کرنے کے بجائے شیاطین کی ولایت سے تمسک کرتے ہیں اور شیاطین کے سامنے میں ذلیل و خوار ہو جاتے ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اسی سلسلے میں ایک قرآنی فریم ورک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: قرآنی آیات کی روشنی میں  وہ لوگ جو عزت تک پہنچنے کے لئے اللہ تعالی کی ہدایت اور ولایت کے بجائے انسان اور اسلام کے دشمنوں اور شیاطین کی ولایت کا سہارا لیتے ہیں وہ سرانجام عزت تک نہیں پہنچ پائیں گے اور وہی شیاطین ان کا سپاس اور شکریہ بھی ادا نہں کریں گے۔

رہبر معظم نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: قرآن مجید کے اس  فارمولے سے درس حاصل کرنا چاہیے اور سعادت کے صحیح اور درست راستے کو پہچاننا چاہیے جو الہی اور قرآنی ہدایت پر استوار ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور بین الاقوامی گوناگوں اور مختلف میدانوں میں اسلامی جمہوری نظام کی کامیابیوں کے راز و رمز کو اللہ تعالی کے وعدوں پر اعتماد اور اس پرحسن ظن قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کا راستہ یہی ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر فرمایا: اللہ تعالی کی رحمتیں حضرت امام (رہ) پر نازل ہوں جنھوں نے یہ راستہ ہمیں دکھایا۔ اللہ تعالی کی رحمت ہو ان شہیدوں پر جنھوں نے اس راہ میں اپنی جان فدا کی، اللہ تعالی کی رحمت  ایرانی قوم پر نازل ہو جس نے اس راہ کے تمام مراحل میں اپنی تیاری اور آمادگی کا ثبوت دیا اور اللہ تعالی کی رحمت ہمارے حکام  اور حکومتی اہلکاروں پر نازل ہو جو اس راہ میں کام و تلاش اور فداکاری کے لئے آمادہ ہیں۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صدر محترم حجۃ الاسلام والمسلمین جناب حسن روحانی نے عید سعید بعثت کی مناسبت سے مبارکباد پیش کی اور بعثت کو عظيم تاریخي رستاخیز اور وحی الہی کی بنیاد پر عقل سے درست استفادہ کے لئے بہت بڑي اور تاریخی نعمت قراردیتے ہوئے کہا: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عظيم اخلاق اور مہربانی کے ساتھ دلوں کو اپنی طرف مجذوب کیا  اور انسانیت کو علم و معنویت اور حریت کا تحفہ عطا کیا۔

صدر حسن روحانی نے کفر محاذ کی جانب سے  عالم اسلام پر انتہا پسندی، شدت پسندی  اختلاف اور ناانصافی جیسی مشکلات مسلط کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا: آج انقلاب اسلامی اتحاد ، ہمدلی  اور کفر کے مقابلے میں امت اسلامی کے اختلافات کو دور کرنے کا علمبردار ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:50 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

مراجع تقلید قم میں سے حضرت آیت الله حسین نوری همدانی نے آج صبح درس خارج فقہ سے پہلے جو سیکڑوں طلاب و افاضل حوزہ علمیہ قم کی شرکت میں مسجد آعظم قم میں منعقد ہوا، ملت اسلامیہ کو عید مبعث کی مبارکباد دی اور کہا: حضرت رسول اسلام(ص) ملت کو عظیم اور قدرتمند بنانے کے لئے مبعوث ہوئے تھے ۔

حضرت آیت ‌الله نوری همدانی نے اسلامی عزت کی بنیادوں اور اساس کی جانب اشارہ کیا اور کہا: اسلام میں عزت کی پہلی بنیاد ایمان اور دوسرے علم ہے ، خداوند متعال کسی بھی ملت اور معاشرہ کو جہالت کی صورت میں عزت و بلندی تک نہیں پہونچا سکتا ۔

اس مرجع تقلید نے بیان کیا: عقل و بصیرت اور اتحاد و یکجہتی اسلام میں عزت و بلندی کے دیگر اسباب ہیں کہ اس سلسلہ میں آیات و روایات میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور مسلمانوں کو اتحاد و یکجہتی کی دعوت دی گئی ہے ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے اسلام میں عزت و بلندی کے پانچویں آئین کی جانب اشارہ کیا اور کہا: مسلمان اس قدر مضبوط و مستحکم ہوں کہ دشمن ان سے خوف زدہ و ہراساں رہے ۔

انہوں نے بیان کیا: آج علم و ایمان کے ساتھ ایٹمی توانائیاں اور بیلیسٹیک میزائل نیز دیگر ٹیکنالوجی ، دشمن کے خوف و وحشت اور ہماری قدرت و عزت کا سبب ہے ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دشمن کے سامنے خود کو تسلیم کرنا اسلام کے مورد پسند نہیں ہے کہا: عزت و ذلت خدا کے ہاتھوں ہے ، دوسروں سے عزت کی بھیک مانگنا مناسب نہیں ہے ۔

انہوں ںے دین کی غلط تفسیر گمراہیوں کا سبب جانا اور کہا: تکفیری گروہ من جملہ دھشت گرد داعش نے عراق اور شام میں دین کی غلط تفسیر کر کے عقل و منطق سے دور وحشی گری انجام دی اور لاکھوں بے گناہوں کا قتل عام کرڈالا اور لوگوں کو بے گھر کر دیا ۔

حضرت آیت الله نوری همدانی نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ شیعہ کے بقدر کسی بھی مذھب کے دشمن موجود نہیں ہیں کہا: تکفیری شیعوں کی طاقت سے خوف زدہ ہیں لھذا ہم دن بہ دن مختلف میدانوں میں شیعہ کی قدرت میں اضافہ کریں ۔

اس مرجع تقلید نے شیعہ کا خوف ، اسلام کا خوف اور ایران کا خوف عالمی سامراجیت کا حربہ بتاتے ہوئے دشمن کی اس سازش کے خلاف ہوشیار رہنے کی تاکید کی ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ کے اس نامور استاد نے آخر میں بیان کیا: سبھی حالات اور وقت کی شناخت کے ساتھ اسلام کی عزت و مکتب اہلبیت علیھم السلام کی ترقی کی کوشش کریں ۔

 

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:48 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

 قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام و المسلمین سید ساجد علی نقوی نے 28 رجب کی مناسبت سے ارسال کردہ پیغام میں کربلا کو فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام دیا ۔

اس پیغام کا تفصیل متن مندرجہ ذیل ہے :

حق و صداقت کی سربلندی اور دین مبین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لئے جان و مال اور اولاد کا نذرانہ پیش کرنا خانوادہ عصمت و طہارت کا شیوہ رہا ہے اور مذہب حق کی حمایت اور بقاء کے لئے نواسہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے نانا کے مدینہ کو خیرباد کہہ کر رہتی دنیا تک کے لئے یہ ثابت کردیا کہ اگر دین اسلام پر مشکل اور کڑا وقت آجائے تو وطن چھوڑنے سے بھی دریغ نہیں کیا جانا چاہئے ۔

نواسہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم حضرت امام حسین علیہ السلام نے واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ سے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کرکے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اوردنیا کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار، جاہ و حشم کے حصول، ذاتی مفادات کے مدنظر یا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازم سفر ہوئے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی، دنیاوی ، حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت ، شریعت محمدی، دینی احکام ، اوامر و نواہی اور اسلام کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی ۔

امام عالی مقام کی بے مثال قربانی اور تحریک کربلا سے آج بھی دنیائے عالم میں چلنی والی آزادی و حریت کی تحریکیں استفادہ کررہی ہیں اور چونکہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے اس لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ، غیر اسلامی، لادین، غیر منصفانہ، ظالمانہ، آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔

اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام حاکم طبقات اور محروم و مظلوم طبقات امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد سے استفادہ کرسکتے ہیں کیونکہ آپ نے فقط ایک مذہب یا مسلک یا امت کی فلاح کی بات نہیں کی بلکہ پوری انسانیت کی نجات کی بات کی ہے۔ البتہ خصوصیت کے ساتھ محروم، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔

اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں، بے اعتدالیوں، بدعنوانیوں، کرپشن، اقرباء پروری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے مذہبی، شہری اور قانونی حقوق کی پامالی کی طرف بھی نشاندہی فرمائی۔ امام حسین علیہ السلام کے اس اجتماعی انداز سے آج دنیا کا ہر معاشرہ اور ہر انسان بلا تفریق مذہب و مسلک استفادہ کرسکتا ہے۔

 

[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:47 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

 

حسینیہ بلتستانیہ قم میں شہید کی سالگره کی مناسبت سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ وه امت اسلامی کے اتحاد کے حوالے سے جانی پہچانی شخصیت تهے۔

شہید علامہ حسن ترابی نے اپنی پوری زندگی ملت تشیع کی خدمت کرتے ہوئے گزاری، عظمت علماء کانفرنس
اسلام ٹائمز۔ مجمع طلاب شگر کی جانب سے حسینیہ بلتستانیہ قم میں علامہ حسن ترابی کی سالگره کی مناسبت سے ایک عظیم الشان کانفرنس "عظمت علماء کانفرس" کے عنوان سے منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے شہید علامہ حسن ترابی کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علامہ ترابی نے اپنی پوری زندگی ملت تشیع کی خدمت کرتے ہوئے گزاری، وه امت اسلامی کے اتحاد کے حوالے سے جانی پہچانی شخصیت تھے۔ اس کانفرس میں قم میں موجود پاکستانی علماء کرام و طلاب کے کثیر تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے آخر میں تعلیمی میدان میں نمایان کارکردگی دکھانے والے علماء کرام کو مجمع طلاب شگر کا سب سے بڑی تعلیمی ڈگری "نشان عظمت" پیش کی گئی۔
[ پنجشنبه هشتم خرداد 1393 ] [ 17:45 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

اسکردو میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے آج جو ہم پر حکمران مسلط ہیں وہ جھوٹے، بدکردار، کرپٹ اور لٹیرے ہیں، جو الیکشن چوری کرکے جعلی مینڈیڈیٹ لیکر جعلی حکومت بنا لیتے ہیں، ان چوروں اور انکی چوری کی ہوئی حکومت کو ہم نہیں مانتے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[ دوشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1393 ] [ 8:5 ] [ ارشادحسین مطهری ]
 

کانفرنس میں شرکت کیلئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ امین شہیدی اور مرکزی ترجمان حسن ظفر نقوی بھی پہنچ چکے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[ دوشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1393 ] [ 8:3 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

: کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیو ایم کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں ہم مذہب یا مسلک کی بیناد پر نہیں بلکہ خدمت کی بنیاد پر الیکشن لڑینگے۔ کانفرنس کے اختتام پر اعلامیہ بھی جاری کیا جائیگا۔

[ دوشنبه بیست و نهم اردیبهشت 1393 ] [ 8:1 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 تہران میں ہونیوالی ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کیساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور وسعت دینے کا خواہاں ہے۔













[ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 ] [ 18:46 ] [ ارشادحسین مطهری ]

سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے دورے کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کے بارے میں مفاہمت کی کئی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کئے جائیں گے۔
























[ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 ] [ 11:52 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

: تہران میں وزیراعظم محمد نواز شریف اور اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کا گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے پر اتفاق، نواز شریف کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ تجارتی حجم پانچ ارب ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔
















[ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 ] [ 11:50 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 

وزیراعظم نواز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر ایران پہنچ گئے
پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اسلامی جمہوری ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی دعوت پر 2 روزہ سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے۔ وزیراعظم کے ہمراہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز، معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ موجود ہیں۔ ایران دورے کے دوران وزیراعظم نواز شریف ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی اور روحانی پیشوا آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کریں گے۔ جس میں سرحدی صورت حال، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی ترقی کے باہمی مفاد کے مواقع کا جائزہ لیاجائے گا۔ اس موقع پر متعدد شعبوں میں کئی مفاہمتی معاہدے طے پانے کے علاوہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے مستقبل کا بھی فیصلہ ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور ایران میں نئی حکومتوں کے قیام کے بعد اعلٰی قیادت کی سطح پر یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔
[ دوشنبه بیست و دوم اردیبهشت 1393 ] [ 11:46 ] [ ارشادحسین مطهری ]



مجلس علماء بحرین کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا ہے کہ ملک میں پائی جانے والی مذہبی ناانصافی اتنی واضح ہے کہ کسی ثبوت کی محتاج نہیں جبکہ آل خلیفہ حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اور مخالفین کو پرامن احتجاج کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔
آل خلیفہ نے مذاکرات کے دروازے بند کر رکھے ہیں، ہمارے ساتھ تبعیض آمیز برتاو کیا جا رہا ہے، آیت اللہ شیخ عیسی قاسم
اسلام ٹائمز [نیوز ڈیسک] – بحرین کے معروف شیعہ عالم دین اور مجلس علماء بحرین کے سربراہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے الدراز خطے میں خطبہ نماز جمعہ میں کہا کہ آل خلیفہ کی حکومت صرف ایک بات پر ڈٹی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ملک میں اصلاحات، امن و امان اور مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومت کا موقف سرکاری جیلوں میں جاری قیدیوں کے ساتھ سلوک سے جانا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہر قسم کے احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کو ممنوع اعلان کیا گیا ہے جو جمہوری تقاضوں کے خلاف ہے جبکہ حکومت کی سیکورٹی فورسز مظاہروں میں شریک شہریوں کے خلاف زہریلی آنسو گیس اور رائفل کی گولیاں استعمال کر رہی ہے۔

آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومتی غنڈوں کی جانب سے عام شہریوں کا قتل عام اور شہداء کی لاشیں وارثین کے حوالے نہ کیا جانا کھلی دہشت گردی ہے جس کا مقصد شہداء کے گھرانوں کو خاموش رہنے اور انہیں حکومت کے خلاف ہر قسم کی عدالتی کاروائی سے باز رہنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر رکھے ہیں اور یہ چاہتی ہے کہ عوام اس کے ظالمانہ اقدامات کے سامنے خاموش ہو جائیں۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ حکومت مذاکرات انجام دینے میں مخلص نہیں لہذا ہم ایسے مذاکرات کو قبول نہیں کر سکتے جس کا مقصد صرف مدمقابل پر اپنے مطالبات کو تحمیل کرنا ہو۔ ایسے مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف رائے عامہ کو دھوکہ دینا اور دنیا کو فریب دینا ہے۔

بحرین کے معروف شیعہ عالم دین اور خطیب نماز جمعہ نے گذشتہ ہفتے دارالحکومت مناما میں "تہذیبوں کے درمیان گفتگو" کے عنوان سے منعقد ہونے والی کانفرنس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری طرف سے اس کانفرنس میں شریک افراد کیلئے صرف ایک ہی پیغام ہے اور وہ یہ کہ وہ آئیں اور آل خلیفہ رژیم کی جانب سے ہماری مسمار شدہ مساجد کو دیکھیں۔ یہ اس حکومت کا حقیقی چہرہ ہے اور حکومت کی گفتگو کا انداز ہے جو اس نے شروع سے اپنا رکھا ہے۔ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نے کہا کہ اگر اس کانفرنس میں شریک افراد کیلئے ہمارے ملک میں آزادی کو کوئی اہمیت حاصل ہے تو انہیں چاہئے کہ وہ بحرین میں موجود مذہبی ناانصافی اور اہل تشیع کے ساتھ حکومت کے تبعیض آمیز رویئے کو دیکھیں۔ انہوں نے کہا یہ تبعیض آمیز حکومتی رویہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور اتنا عیاں ہے کہ اسے ثابت کرنے کیلئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔

[ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 ] [ 20:14 ] [ ارشادحسین مطهری ]


 نیو میمن مسجد کے باہر منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ 66 برس ہو چکے ہیں اور مسلم امہ کا تیسرا مقدس مقام قبلہ اول بیت المقدس تاحال صیہونی غاصب اسرائیل کے شکنجے میں ہے۔
حکومت پاکستان فلسطینیوں کے حق کی واپسی کیلئے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرے، فلسطین فاؤنڈیشن
اسلام ٹائمز۔ حکومت پاکستان مظلوم فلسطینیوں کے حق واپسی کے لئے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کرے، فلسطینیوں کے حق واپسی کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کے مرکزی ترجمان سید اظہر شاہ ہمدانی، جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی، جماعت اسلامی پاکستان کراچی کے نائب امیر مسلم پرویز، سابق امیر جماعت کراچی محمد حسین محنتی، عوامی مسلم لیگ پاکستان کے مرکزی رہنما محفوظ یار خان ایڈووکیٹ، ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے جنرل سیکرٹری شہزاد مظہر اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی ترجمان صابر کربلائی سمیت علامہ شوکت مغل، ناصر رضوان ایڈووکیٹ اور عبدالوحید یونس نے نیو میمن مسجد بولٹن مارکیٹ پر ’’ یوم نکبہ ‘‘ کی مناسبت سے جاری مہم ’’ یوم واپسی فلسطین، منزل فلسطین ‘‘ کے تحت فلسطینیوں سے اظہار ہمدردی اور غاصب اسرائیل سے نفرت کے اظہار کے لئے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مظاہرے میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اور مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مردہ باد امریکہ، اسرائیل نا منظور اور برطانیہ نا منظور سمیت فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے، فلسطینیوں کے حق واپسی کا دفاع کریں گے، اسرائیل ایک غیر قانونی ریاست ہے، فلسطینیوں ہم تمھارے ساتھ ہیں اور منزل فلسطین کے نعرے آویزاں تھے۔ شرکائے احتجاجی مظاہرہ نے مردہ باد امریکہ اور اسرائیل نا منظور سمیت برطانیہ مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کے پرچموں کو بھی نذر آتش کیا۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ 66 برس ہو چکے ہیں اور مسلم امہ کا تیسرا مقدس مقام قبلہ اول بیت المقدس تاحال صیہونی غاصب اسرائیل کے شکنجے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پوری دنیا میں ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد مظلوم فلسطینی بے گھر ہیں اور مہاجرین کی زندگی بسر کررہے ہیں لیکن افسوس ناک بات ہے کہ سنہ 1948ء میں موجود اقوام متحدہ نے ایک طرف تو اسرائیل کے غاصبانہ تسلط پر آنکھیں بند کرلی تھیں اسی طرح آج کی اقوام متحدہ بھی مظلوم فلسطینیوں کو ان کے وطن واپسی کا حق دلوانے میں بری طرح ناکام ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب لیگ سمیت او آئی سی کے کردار پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی اداروں کو چاہئیے کہ دنیا کے اس اہم ترین اور سلگتے ہوئے مسئلے کی طرف توجہ کریں اور مظلوم نہتے فلسطینی مسلمانوں کو وطن واپسی کا حق فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا مرحلہ ہے کہ دنیا بھر میں ’’ یوم نکبہ کو یوم واپسی فلسطین ‘‘ کے تحت منایا جا رہا ہے اور پوری دنیا میں ایک ہی نعرہ ’’ منزل فلسطین ‘‘ بلند ہو چکا ہے تاہم وہ وقت بھی دور نہیں کہ جب دنیا بھر کے تمام ممالک سے حریت پسندوں کے قافلے نکل کھڑے ہوں گے اور سب کا نعرہ ’’ منزل فلسطین ‘‘ ہی ہوگا اور پھر دنیا کی کوئی طاقت فلسطینیوں کو ان کے اپنے وطن واپس جانے سے نہیں روک سکے گی، مظاہرین نے حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور مسئلہ فلسطین کے حل کو فلسطینیوں کی امنگوں کے مطابق حمایت کرے۔ اس موقع پر مظاہرین نے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ سمیت عالمی سامراجی قوتوں کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے اور پر امن منتشر ہوگئے۔

[ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 ] [ 20:13 ] [ ارشادحسین مطهری ]


مرکزی دفتر میں ہونے والی ملاقات میں ایس یو سی ضلع گلگت کے صدر مولانا شیخ شہادت حسین ساجدی نے وفد کے ہمراہ مختلف تنظیمی و ملی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا۔
اسلام آباد، ایس یو سی ضلع گلگت و ہنرہ نگر کے وفد کی علامہ شبیر میثمی سے خصوصی ملاقات
  شیعہ علماء کونسل ضلع گلگت اور ضلع ہنزہ نگر کے عہدیداران کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے مولانا شیخ شہادت حسین ساجدی ضلعی صدر گلگت کی سربراہی میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی راہنما اور مرکزی سیاسی سیل کے انچارج حجۃ الاسلام علامہ شیخ شبیر حسن میثمی سے مرکزی دفتر ایس یو سی میں خصوصی ملاقات کی۔ اس موقع پر ایس یو سی صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عبّاس تقوی، کراچی ڈویژن کے صدر علامہ جعفر سبحانی بھی موجود تھے جبکہ ضلع گلگت اور ضلع ہنزہ نگر کے عہدیداران میں ضلع گلگت کے صدر مولانا شیخ شہادت حسین ساجدی، جنرل سیکرٹری شیخ سلطان صابری، سیکرٹری اطلاعات عارف حسین، شیخ گلاب حسین شاکری، شیخ اقبال حسین توسلی، اور ہنزہ کے راہنما شیخ شبیر حسین حکیمی شامل تھے۔ ملاقات میں گلگت بلتستان میں تنظیمی، ملی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی جبکہ مختلف قومی، ملی و تنظیمی امور پر طویل مشاورت کی گئی۔

[ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 ] [ 20:13 ] [ ارشادحسین مطهری ]

اس قوی خیال کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ جب ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باجود بھی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے بعد ٹی ٹی پی کو نہ صرف ان سے اظہار لاتعلقی کرنا پڑا بلکہ ان گروہوں سے اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جس سے ثابت ہوگیا کہ یہ کوئی ایک پلیٹ فارم پر موجود منظم طاقت نہیں بلکہ مختلف، آزاد دہشت گرد گروپوں کا ایک مجموعہ ہے۔ جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ اس حقیقت کے آشکارا ہونے تک گرچہ ریاست اور عوام کا ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ہے لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ریاست کے دشمن دہشت گرد گروہ ریاستی اداروں کے سامنے نہایت کمزور ہیں، ضرورت فقط موثر حکمت عملی کی ہے۔
افغانستان میں صدارتی انتخابات اور پاکستان (1)
تحریر: عمران خان
 
پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ افغانستان میں ہونیوالے صدارتی انتخابات میں پاکستان نے کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے نزدیک گرچہ یہ ایک مثبت اور بہتر پیشرفت تھی، تاہم افغانستان کے حوالے سے وہ جہادی جنگجو حلقے جنہوں نے روس کے خلاف امریکی وسائل سے ایک جنگ لڑی، وہ پاکستان کی اس پالیسی سے زیادہ خوش نظر نہیں آتے۔ ان کے نزدیک افغانستان میں امریکہ کی آمد کے بعد بھارت نے جو گہرا اثر و نفوذ پیدا کیا ہے، اس کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان افغانستان کا سیاسی مستقبل طے کرنے میں اپنا کردار اسی طرح ادا کرے، جس طرح ماضی میں کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں ہونیوالے حالیہ صدارتی انتخابات میں کسی امیدوار کو فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہوئی، جس کی وجہ سے انتخابات کا ایک اور دور ہوگا۔ جس میں فقط دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ افغان انتخابات کیسے ہوئے، امیدوار کون تھے، طالبان کا کیا کردار رہا، طالبان کے بائیکاٹ کی وجہ سے آنیوالی حکومت کے لیے افغانستان کتنا پرامن ہوگا اور افغانستان میں سیاسی استحکام سے خطے پر کیا اثرات ہونگے، کا مختصر جائزہ لینے سے قبل پاک افغان تعلقات میں آنیوالے پیچ و خم کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔
 
مشرف دور حکومت میں پاکستان نے امریکہ سے نان نیٹو اتحادی ہونے کا اعزاز تو حاصل کرلیا، مگر اس کے جواب میں برسوں پرانی افغان پالیسی سے مکمل طور پر رول بیک کرنا پڑا۔ نتیجے میں پاکستانی اداروں کی تخلیق کردہ وہ قوتیں جنہیں اسٹرٹیجک اثاثے ہونے کا اعزاز حاصل تھا، مخالف سمت میں اکٹھی ہونا شروع ہوگئیں۔ افغانستان پر امریکی قبضے کے بعد حامد کرزئی کا دور شروع ہوا۔ ابتداء میں صدر حامد کرزئی کو امریکہ و پاکستان کی آشیرباد حاصل تھی۔ صدر مشرف کے دور اقتدار کے خاتمے پر افغانستان میں موجود دوستوں کے تحفظات و خدشات میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ حامد کرزئی کی صدارت کے تیرہ برسوں میں افغانستان کے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ بڑھتا چلا گیا۔ وہی طالبان جنگجو جن کے خلاف پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا، انہی کو پاکستان میں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی، لیکن ان جنگجوؤں کے ساتھ آنیوالے مذموم بیرونی ایجنڈے نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کے وہ مراکز قائم کئے، جن کا شکار خود پاکستان ہونے لگا۔ 

افغانستان کی جانب سے متعدد بار ایسے الزامات عائد کئے گئے، جس میں کہا جاتا رہا کہ دہشت گرد پاکستان کے آزاد علاقوں میں اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کئے ہوئے ہیں اور وہیں سے آکر افغانستان میں دہشت گردی کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ سفارتی محاذ پر گرچہ پاکستان نے افغان کٹھ پتلی حکومت کے ان الزامات کو زیادہ مقبول نہیں ہونے دیا، لیکن کرزئی حکومت کو سخت حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا۔ کرزئی حکومت نے جنگجوؤں سے روابط مضبوط کئے اور افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے انہیں تعاون پر آمادہ کیا۔ بعض تجزیہ نگاروں نے اپنی تحریروں میں یہ خیال ظاہر کیا کہ کرزئی کی جانب سے امریکہ کے ساتھ سخت لہجے اور برطانوی فوجیوں کے افغانستان میں کردار سے بیزاری کے اعلان کی بنیادی وجہ جنگجو گروپوں کے ساتھ تعلقات کی بہتری ہے۔ امریکہ کی جانب سے افغان انتخابات سے قبل کرزئی حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کرے۔ جس کی رو سے افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد بھی افغانستان میں کئی ہزار امریکی فوجی موجود رہیں گے۔ اس مقصد کے لیے امریکہ نے افغانستان میں بڑے پیمانے پر فوجی تعمیرات بھی کر رکھی ہیں۔
 
کرزئی حکومت نے امریکہ کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے بلکہ چین جو کہ افغانستان میں فقط سرمایہ کاری تک محدود تھا، اس کے ساتھ فوجی اور دفاعی تعلقات بنانے اور بڑھانے میں خوشی ظاہر کی۔ کرزئی حکومت جنگجوؤں کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہی کہ بیرونی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کے مستقبل اور دوستوں و دشمنوں کا فیصلہ یہاں بسنے والوں نے ہی کرنا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد پاکستان کے لیے جس بڑی پریشانی نے جنم لیا وہ افغانستان سے پاکستان میں ہونیوالی دراندازی تھی۔ پہلے جنگجو پاکستان سے افغانستان جاکر مسلح کارروائیاں کرتے اور واپس آتے، لیکن اب یہ صورتحال ہے کہ افغانستان سے جنگجو پاکستان میں آکر کارروائیاں کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنیوالی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں موجود دہشت گردوں نے افغانستان میں مضبوط اور محفوظ ٹھکانوں کی تعمیر کے بارے افغان طالبان کو اعتماد میں لیا ہے۔ فاٹا کے علاقے میں موجود وہ جنگجو جو افغانستان سے آئے اور یہیں پر محفوظ ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہوئے، انہیں فاٹا کیصورت میں اپنی ایک الگ و خود مختار ریاست نظر آرہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں پاکستان سے اس علاقے کی علیحدگی کی صورت میں وہ یہاں آزادانہ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ 

افغان حکومت نے ان کی اس امید کو قوی کرنے کی خاطر ڈیورنڈ لائن کے مسئلہ کو تاحال حل نہیں ہونے دیا۔ افغان حکومت کی جنگجوؤں کے ساتھ فروغ پاتی مفاہمت میں پاکستانی اداروں کو اپنا کردار زوال پذیر ہوتا محسوس ہوا۔ چنانچہ پاکستان میں موجود وہ افراد جو کرزئی حکومت اور جنگجوؤں میں رابطے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے، ان کو نہ صرف گرفتار کیا گیا، بلکہ انتہائی محفوظ مقامات پر خفیہ طریقے سے رکھا گیا، حالات حاضرہ پر نظر رکھنے والوں نے ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور پھر رہائی کو اسی عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔ پاکستانی اداروں کے کردار سے اس امر کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے کہ ملک میں موجود جنگجو، یا مسلح قوتیں ریاستی اداروں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں۔ اس کے باجود وطن عزیز میں جاری دہشت گردی کی لہر کا قابو میں نہ آنا یقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جس طرح پاکستانی طالبان کو افغانستان میں موجودہ قوتوں کی دوستانہ تھپکی ملتی رہی ہے، اس طرح افغانستان میں موجود طالبان کی پاکستانی ادارے گاہے بگاہے حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ 

افغانستان میں امریکی آمد کے بعد آزاد اور چھوٹے جنگجو و دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کا سلسلہ شروع ہوا۔ گرچہ مسلح افرادی قوت جو کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو اور اپنے اندر نظم و ضبط رکھتی ہو، علاقے میں استحکام پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ چھوٹے چھوٹے آزاد جنگجو گروپ جن کی مانگوں کی فہرست زیادہ طویل بھی نہیں ہوتی، بیرونی قوتوں کے لیے زیادہ سود مند ثابت ہوتے ہیں۔ بڑے اور منظم جنگجو جتھے چونکہ ایک قیادت کے اندر رہ کر باقاعدہ احکامات کے تحت کام کرتے ہیں، لہذا ایک طرف ان کے مطالبات بھی لمبے چوڑے ہوتے ہیں اور اختلاف کی صورت میں جب وہ کارآمد نہیں رہتے تو نہ ہی ان کے متبادل دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی ان پر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت افغانستان میں امریکی آمد کے بعد چھوٹے بڑے کئی آزاد جنگجو گروہ بنے، اور کچھ ہی عرصے بعد یہی صورتحال پاکستان میں پیدا کی گئی۔ گرچہ پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی کی ہر کارروائی کی ذمہ داری تحریک طالبان قبول کرتی رہی، جس کا بڑا مقصد اپنا وزن افغان طالبان کے برابر ظاہر کرنا بھی تھا۔
 
اس عرصے میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ پہلی یہ کہ ٹی ٹی پی افغان طالبان کے ساتھ ہی مربوط ہے اور انہی کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ دوسرا خیال یہ تھا کہ ٹی ٹی پی گرچہ ملا عمر کو امیر مانتی ہے، تاہم اس کے ایجنڈے میں افغان حکومت اور دیگر بیرونی ایجنسیز بھی اثر رکھتی ہیں۔ دہشت گردی کے مختلف واقعات میں فکری تضاد بھی نمایاں نظر آتا رہا۔ کبھی فوج اور دفاعی اثاثے نشانہ بنے، تو کبھی مسلک، کبھی عام عوام اور کبھی اقلیتیں، حکومت بھی نشانے پر رہی اور اپوزیشن بھی، طالبان کو بھائی کہنے والے عمران خان کابینہ کا صوبائی وزیر بھی نشانہ بنا اور مرحوم قاضی حسین احمد پر بھی حملہ ہوا۔ یہاں تک کہ طالبان کے فکری اور عسکری پیشوا سمجھے جانیوالے کرنل امام کو بھی قتل کیا گیا اور جنرل نیازی کو بھی۔ دہشت گردی کے واقعات میں یہ تضاد دلیل تھا کہ کسی نظریاتی گروہ نے ریاست کے خلاف مقاصد کے حصول کے لیے جنگ مسلط نہیں کی ہوئی بلکہ مختلف گروہ مختلف قوتوں کے ایجنڈے کی خاطر یہ کارروائیاں سرانجام دے رہے ہیں۔ 

اس قوی خیال کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ جب ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باجود بھی کارروائیاں جاری رہیں، جس کے بعد ٹی ٹی پی کو نہ صرف ان سے اظہار لاتعلقی کرنا پڑا بلکہ ان گروہوں سے اس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جس سے ثابت ہوگیا کہ یہ کوئی ایک پلیٹ فارم پر موجود منظم طاقت نہیں بلکہ مختلف، آزاد دہشت گرد گروپوں کا ایک مجموعہ ہے۔ جو اپنے فیصلوں میں آزاد ہیں۔ اس حقیقت کے آشکارا ہونے تک گرچہ ریاست اور عوام کا ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ہے لیکن یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ریاست کے دشمن دہشت گرد گروہ ریاستی اداروں کے سامنے نہایت کمزور ہیں، ضرورت فقط موثر حکمت عملی کی ہے۔ 
(جاری ہے)

[ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 ] [ 20:12 ] [ ارشادحسین مطهری ]

دو سال کا عرصہ مکمل ہونیکے باوجود صوبائی حکومت دہشتگردوں کو تو گرفتار نہ کرسکی، لیکن دہشتگردی کیخلاف احتجاج کرنیوالوں کو گرفتار کرکے اسکردو جیل بھیج دیا۔


















[ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 ] [ 20:10 ] [ ارشادحسین مطهری ]


پاکستان میں شیعہ علماء کونسل تحریک جعفریہ کا تسلسل ہے۔ اس کی نسبت مجلس وحدت مسلمین ایک نئی شیعہ تنظیم ہے۔ طلباء کی تنظیمیں آئی ایس او اور اصغریہ ہیں۔ ان کے دستور میں نے پڑھے ہیں۔ یہ سب نظام امامت و ولایت کے قائل اور متعہد افراد ہیں۔ کوئی ثابت کر دے کہ یہ تنظیمیں غرب زدہ ہیں۔ دنیا بھر کی جن شیعہ تنظیموں کی میں نے بات کی یہ التقاط کی قائل نہیں۔ امت اسلام ناب ایک ہی نصب العین پر یقین رکھتی ہے۔ مداح اہلیت حاج محمود کریمی کے الفاظ میں عشق یعنی یہ کلام، تا بقیہ اللہ قیام، عشق یعنی یہ پیام، پا بہ پای فرزند امام۔ ہمارا نعرہ مرگ بر ضد ولایت فقیہ۔
شیعہ تنظیموں کا پیام تا بقیۃ اللہ قیام
تحریر: عرفان علی

یہ ایک ’’ٹو دی پوائنٹ‘‘ بحث اور نتیجہ خیز مقالہ ہے۔ ہم نے گذشتہ دو مقالوں میں کچھ معروضات پیش کیں۔ درخواست ہے ان برادران سے جو اتفاق نہیں کرتے کہ وہ ان دلائل کے مقابلے میں دلائل پیش کریں۔ امام خامنہ ای کا نظریہ برادر روحانی میثم ہمدانی بیان کرچکے، اس لئے اب اس کی روشنی میں اپنی اصلاح کرلیں۔ بہتر ہوگا کہ اب علامہ اقبال کی تنظیمی حیثیت واضح ہونے کے بعد انکے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ فرمائیں۔ انقلاب اسلامی کے تنظیمی بزرگان کے بارے میں بھی آپ اپنی اصلاح کرلیں اور امام خمینی کو ایسا سپر مین نہ بنائیں کہ جو صرف فلموں میں ہی پایا جاتا ہے۔ ان الفاظ پر معذرت کیونکہ امام کو تنظیمی بزرگان پر اعتماد تھا، لیکن مدعی سست گواہ چست والا موقف ہمیں ان الفاظ پر مجبور کرتا ہے۔ مودبانہ عرض کہ امام امت کے ان فرزندان حقیقی کی سیرت کا مطالعہ فرمائیں، جو دنیا بھر میں تنظیمی ڈھانچوں کے ذریعے اسلامی تحریکیں چلایا کرتے تھے اور اب بھی ایسا کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک سید بزرگوار اور امام خمینی کے الفاظ میں سید اعلام علامہ عارف حسین الحسینی تھے۔ وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ نامی ایک پارٹی کے سربراہ تھے، اسی عہدے پر شہید ہوئے۔ تنظیم کی اہمیت پر ان کی گفتگو کی آڈیو، وڈیو اور تحریری متن موجود ہے۔ انکی شہادت پر امام امت کا پیغام بھی پڑھیں، امام نے ان کو امام حسین علیہ السلام کا فرزند حقیقی لکھا۔

لبنان میں امام امت کے فرزندان حقیقی امام موسٰی صدر، راغب حرب، عباس موسوی جیسی قابل فخر ہستیوں کی تنظیمی وابستگی کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔ لبنانی حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کی کتاب حزب اللہ، دی ان سائیڈ اسٹوری میں بھی ان بزرگان کا تنظیمی پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ پڑھیں، میرے بھائی پڑھیں۔ امور زندگی میں نظم پیدا کریں۔ جماعت سے وابستہ رہیں، ان دو اقوال زریں کے بارے میں معلوم کریں کہ کیا امیر المومومنین امام المتقین نے یہ جملے نہیں کہے؟ آیت اللہ حسین فضل اللہ نے تنظیم الاخوان قائم کی۔ آیت اللہ شیخ مہدی شمس الدین بھی امام موسٰی الصدر کی پارٹی کے تنظیمی عالم دین تھے۔ بحرین کے شیعہ علمائے دین کو دیکھیں، معلوم کریں کہ جمعیت الوفاق الوطنی الاسلامیہ بحرین کے الیکشن میں سنگل لارجیسٹ پارٹی کی حیثیت سے جیت چکی۔ عراق میں دیکھیں، سید عمار الحکیم، ابراہیم جعفری، نوری المالکی کی اپنی جماعتیں ہیں، الیکشن میں حصہ لیتی ہیں۔ سید مقتدیٰ صدر کے حامیوں کی جماعت بھی عراقی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔

تحریکیں یا نہضت تنظیمی قائدین کے ذریعے ہی چلائی جاتی ہیں۔ کفاح المسلمین فی تحریر الہند پڑھیں۔ اس کتاب کو فارسی میں امام خامنہ ای نے تالیف و ترجمہ کیا ہے۔ اس کا نام ہے "مسلمانان در نہضت آزادی ہند۔" اس میں بھی مسلمانان ہند کے تنظیمی قائدین کی سیاسی جدوجہد کا تذکرہ ہے۔ حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کی کتاب کے پہلے باب کا عنوان جادہ و منزل ہے، اسکا مطالعہ ضرور کریں، اس میں پاکستان سمیت ہر اس ملک کے شیعہ کے لئے حکمت عملی موجود ہے کہ جہاں شیعہ اصولوں کے مطابق نظام حکومت نہیں ہے۔ اس میں اسلامی ریاست کا قیام کے عنوان کے تحت ایک حکمت عملی بیان کی گئی ہے، اسے ضرور پڑھیں اور سمجھیں۔ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں: ’’ایک تخیل کی صورت میں ہم اسلامی ریاست کے قیام کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں اور دوسروں کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنی ساری تمناؤں کو اسی میں مضمر سمجھیں، جبکہ عملی اظہار کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے ایک موزوں بنیاد کی ضرورت ہے، جس پر ریاست کی مضبوط عمارت تعمیر ہوسکے۔ ایسی بنیاد کا مظہر وہ عوام الناس ہیں جنہیں ایسے حکمران ادارے کے انتخاب کی آزادی دی گئی ہے۔ قرآن کے الفاظ میں دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔‘‘

اپنے اس پیغام کے بارے میں آگے چل کر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ ایسی اسلامی ریاست کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو عوام کی آزاد مرضی و منشا پر استوار ہو۔ اس لئے ہم اپنے ایمان و عقیدے کو اپنے گردوپیش کے حالات سے مکمل طور پر ہم آہنگ پاتے ہیں۔ جب تک یہ حالات ہمارے منصوبے کی تائید نہیں کرتے (خواہ اختلاف کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں یا کسی اور وجہ سے) ہم اپنے آپ کو قابل معافی سمجھتے ہیں۔ ایسا اس لئے ہے کہ ہم نے اپنا پیغام دے دیا ہے اور اپنے موقف کا اعلان کر دیا ہے، پھر یہ بات لوگوں پر چھوڑ دی ہے کہ وہ جس نظام کو چاہیں، اختیار کریں اور اپنے اس انتخاب کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔‘‘ 
سورہ یونس کی آیت نمبر 10: اگر تیرے رب کی یہ مشیت ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے، پھر تو کیا لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ لبنان میں ہمارے سیاسی تجربے نے ایک ایسے لائحہ عمل کے درست ہونے کا ثبوت دے دیا ہے، جو ایک مخلوط معاشرے کے اندر اسلامی بصیرت سے ہم آہنگ ہے۔‘‘

’’لیکن عملی کامیابیوں کے لئے کچھ بنیادیں اور کچھ معروضی طریق کار کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ بات ہمارے فرائض میں شامل ہے کہ ہم خدا کے دین کے لئے کوئی دانشمندانہ طریق کار اختیار کریں۔‘‘ ’’اسلام کو اختیار کرنے کا تقاضا ہے کہ اس بارے میں بصیرت حاصل کی جائے اور اس کے سیاق و سباق کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اس وقت جتنے اسلامی مکاتب فکر ہیں، وہ شریعت سے متعلق اپنے اپنے بانیوں کی تشریحات کی روشنی میں ایک رائے قائم کرتے ہیں۔ اس طرح ہماری پارٹی نے پیغمبر (ص) کی اولاد کی تشریح کی پیروی کا فیصلہ کیا ہے۔ اہل تشیع کا عمومی راستہ یہی ہے۔ وہ تعلیمات جنہیں ہماری پارٹی نے حرز جان بنایا ہوا ہے، انہی بنیادی اصولوں کا مجموعہ ہے اور یہ حزب اللہ کے لئے اسلام کی تفہیم کا ایک پس منظر ہے۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ آپ نے دیگر اسلامی عقائد میں سے کسی ایک کا انتخاب کیوں نہیں کیا اور ان سب میں سے کوئی مشترکہ راہ کیوں نہیں تلاش کی، جو کہ تمام مسلمانوں کو متحد کرنے کے چیلنج کا جواب ہوتی۔ اس سلسلے میں ہمارا جواب یہ ہوگا کہ مختلف مکاتب فکر کو متحد کرسکنا ہماری عزیز ترین خواہش ہے۔ کاش ہم اسے پورا کرسکیں، لیکن یہ ایک بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے، جسے سلجھانے کے لئے فقہائے کرام نے صدیوں کام کیا مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔‘‘

اس کتاب کے دوسرے باب میں حزب اللہ یا امت اللہ کے عنوان سے لکھا گیا کہ ’’امام خمینی نے اپنے منشور میں جن مقاصد کی توثیق کی تھی، ان پر عملدرآمد کے مسئلے پر غور و فکر شروع کر دیا گیا۔ پارٹی کی لیڈرشپ کی سطح پر متعدد امور پر صلاح و مشورہ ہوا، خاص طور پر مثالی تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل، ڈائریکٹوریل فریم ورک اور قوم کے اجزاء کو یکجا کرکے اسے ایک وحدت بنانے کے لئے قابل عمل تجاویز زیر بحث آئیں۔ ہمیں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی بھی ضرورت تھی کہ کیا پارٹی کا نام حزب اللہ رکھا جائے یا امت اللہ۔‘‘ ’’دوسری طرف قوم کے تصور کا انحصار ایک ایسے پلیٹ فارم پر ہوتا ہے، جو سب کو تسلیم کرتا ہو، خواہ ان کی وفاداریاں کچھ بھی ہوں اور وہ کوئی بھی کام کرتے ہوں، لیکن پروگرام پر عمل درآمد میں رکاوٹ نہ بنتے ہوں، اس کی بنیاد ایسی قیادت کی موجودگی پر استوار ہوتی ہے جو مساجد، علماء اور دیگر تنظیموں کو ہدایت جاری کرتی ہو۔ یہ ہدایات عمومی نوعیت کی ہوں، اور خاص خاص مواقع پر جاری ہوتی ہوں، جن پر قوم کان دھرتی ہو اور عمل کرتی ہو۔ تاہم لبنان جیسے متنوع معاشرے کے لئے ایسی ہدایات کوئی معنی نہیں رکھتیں، کیونکہ یہ ایک مختلف النوع عناصر پر مشتمل معاشرہ ہے۔ کافی سوچ بچار کے بعد بالآخر پارٹی کے لئے ایک تنظیمی فارمولا وضع کرلیا گیا۔‘‘ اسی کتاب سے مزید: ’’جس طرح ہر پارٹی یا تنظیم چند نظریات رکھتی ہے اور لوگوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتی ہیں، حزب اللہ بھی یہی کر رہی ہے۔‘‘ ’’پارٹی کے دیگر بہت سے ارکان فرقے (شیعت) سے تعلق نہیں رکھتے، لہٰذا پارٹی کا مشترکہ میدان نظریاتی ہے نہ کہ مذہبی عقیدے سے وابستگی۔‘‘

’’بیسویں صدی کی اسلامی تحریکیں‘‘، اس عنوان کے تحت شہید بزرگوار استاد مرتضٰی مطہری نے ایک بہت ہی کارآمد بات کی ہے، اگر ہم اس کو سمجھ پائیں۔ لکھتے ہیں کہ ’’ارسطو نے فلسفہ کے بارے میں یہ جملے کہے ہیں کہ اگر تم فلسفی بننا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو فلسفیانہ رنگ میں رنگو، اور اگر تم فلسفی نہیں بننا چاہتے تو بھی اپنے آپ کو فلسفی رنگ میں رنگو۔ اس کی وضاحت میں اس طرح کروں گا کہ ارسطو نے کہا کہ اگر فلسفہ صحیح ہے تو اس کی تائید کرو اور اگر غلط ہے تو اس کا انکار کرو۔‘‘ شہید عالی قدر مطہری مزید فرماتے ہیں کہ ’’وہ لوگ جو کچھ علوم کو اس طرح حاصل کرلیتے ہیں کہ انکے علوم کا فلسفیانہ غور و فکر سے کوئی باہمی رشتہ نہیں ہوتا اور فلسفہ کی نفی کرنے لگتے ہیں، تو وہ بڑی سخت غلطی میں مبتلا ہیں۔ قطعاً صحیح نہیں ہے کہ ایک آدمی جو فلسفہ اور فقہ کی ایک کتاب کے متعلق کچھ نہیں جانتا، وہ صرف کتاب کو دیکھ کر ہی اس کی تردید کر دے۔‘‘ ماضی کے بزرگ علماء کا حوالہ دے کر لکھا کہ یہ علماء عصر حاضر کے مزاج کے مطابق ہونے چاہئیں اور انہیں اس دور کے تمام احساسات سے بخوبی واقف ہونا چاہیے۔‘‘ اس کے علاوہ لکھا کہ کچھ نوجوانوں نے جو ولولہ انگیز جذبہ ایمانی رکھتے تھے، نے رائے طلب کی کہ وہ یونیورسٹی تعلیم کو فوراً ختم کرکے اسلاف کی تعلیمات سیکھنا چاہتے ہیں، لیکن شہید مطہری نے ان سے اتفاق نہیں کیا۔

پاکستان میں شیعہ علماء کونسل تحریک جعفریہ کا تسلسل ہے۔ اس کی نسبت مجلس وحدت مسلمین ایک نئی شیعہ تنظیم ہے۔ طلباء کی تنظیمیں آئی ایس او اور اصغریہ ہیں۔ ان کے دستور میں نے پڑھے ہیں۔ یہ سب نظام امامت و ولایت کے قائل اور متعہد افراد ہیں۔ کوئی ثابت کر دے کہ یہ تنظیمیں غرب زدہ ہیں۔ دنیا بھر کی جن شیعہ تنظیموں کی میں نے بات کی یہ التقاط کی قائل نہیں۔ امت اسلام ناب ایک ہی نصب العین پر یقین رکھتی ہے۔ مداح اہلبیت حاج محمود کریمی کے الفاظ میں عشق یعنی یہ کلام، تا بقیہ اللہ قیام، عشق یعنی یہ پیام، پا بہ پای فرزند امام۔ ہمارا نعرہ مرگ بر ضد ولایت فقیہ۔
(دوستوں سے معذرت کہ اب اس موضوع پر اسلام ٹائمز کے ان پیجز پر بات نہیں ہوگی۔ دوست چاہتے ہیں کہ پاکستان کی شیعہ تنظیمی سیاست پر لکھوں تو اسلام ٹائمز کی انتظامیہ کو راضی کرلیں۔ اگر اب بھی ہمارے بعض برادران کو شیعہ تنظیمی سیاست پر اعتراض ہے تو وہ مجھے براہ راست ایمیل کر دیں، انشاءاللہ اس فورم پر بات ہوگی)

[ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 ] [ 20:9 ] [ ارشادحسین مطهری ]

ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم اور بامقصد بنانے کے لئے وزیراعظم میاں نواز شریف گیارہ مئی سے دو دن کے دورے پر ایران جا رہے ہیں، جہاں ایرانی قیادت سے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی تعلقات کو زیادہ مضبوط اور موثر بنانے کا عہد کیا جائے گا۔ ایران اگست 1947ء میں آزادی کے بعد، پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ ہر عالمی فورم پر ایران نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی ان دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات تمام تر نشیب و فراز کے باوجود فروغ پذیر ہیں۔ حسن اتفاق ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں شہید نے بھی مئی (1949ء) کے مہینے میں ہی ایران کا دورہ کرکے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا تھا۔
پاک ایران تعلقات
تحریر: آغا مسعود حسین 

گذشتہ دو ماہ سے ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں تنائو پیدا ہوا ہے، اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ایران کے پانچ سکیورٹی گارڈز کو پاکستان کی سرحد کے قریب سے اغوا کرلیا گیا تھا، جس کا الزام ایران نے پاکستان پر عائد کیا تھا، حالانکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے بارڈر سکیورٹی گارڈز کو پاکستان کے کسی ادارے نے اغوا نہیں کیا بلکہ یہ علاقے میں موجود دہشت گردوں کی کارروائی ہوسکتی ہے۔ (اس وقت چار بارڈر سکیورٹی گارڈ ایران پہنچ چکے ہیں جبکہ ایک کے بارے میں شبہ ہے کہ مار دیا گیا)؛ چنانچہ ان گارڈز کی واپسی کے بعد کسی حد تک ایران پاکستان تعلقات میں کشیدگی کم ہوئی ہے، جو ان دونوں پڑوسی اسلامی ملکوں کے لیے اچھا شگون ہے۔
 
ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم اور بامقصد بنانے کے لئے وزیراعظم میاں نواز شریف گیارہ مئی سے دو دن کے دورے پر ایران جا رہے ہیں، جہاں ایرانی قیادت سے علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے باہمی تعلقات کو زیادہ مضبوط اور موثر بنانے کا عہد کیا جائے گا۔ ایران اگست 1947ء میں آزادی کے بعد، پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ ہر عالمی فورم پر ایران نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ آج بھی ان دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات تمام تر نشیب و فراز کے باوجود فروغ پذیر ہیں۔ حسن اتفاق ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خاں شہید نے بھی مئی (1949ء) کے مہینے میں ہی ایران کا دورہ کرکے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا تھا۔ 

اس پس منظر میں وزیراعظم کا دورۂ ایران اس لئے بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ موجودہ حکومت کا جھکائو سعودی عرب کی طرف بڑھتا اور پڑوسی ممالک خصوصاً ایران کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی گھٹ رہی ہے۔ ویسے بھی پاکستان کی وزارت خارجہ نے دبے لفظوں میں حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ باہمی تعلقات کو کسی ایک ملک کے ساتھ اس طرح وابستہ نہ کرے کہ دوسرے ممالک ان تعلقات سے متعلق شک و شبے میں مبتلا ہوجائیں، بلکہ کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات میں بیلنس ہونا چاہے۔ اس حقیقت کو پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کے مشیر سرتاج عزیز نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا اور وہ اسی سلسلے میں ایران بھی گئے تھے، تاکہ ایرانی قیادت کو اعتماد میں لے کر یہ بات گوش گزار کی جائے کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ایران کے خلاف نہیں ہیں بلکہ پاکستان کی تو یہ کوشش ہوگی کہ ایران اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں اگر کوئی کجی یا غلط فہمی ہے تو اسے دور ہونا چاہیے، بلکہ پاکستان اس سلسلے میں مدد بھی کرسکتا ہے۔
 
جیسا کہ میں نے اوپر کہیں لکھا ہے کہ گیارہ مئی سے وزیراعظم میاں نواز شریف ایران کے دورے پر جا رہے ہیں، جہاں وہ ایرانی قیادت سے تجدید عہد وفا کریں گے بلکہ انہیں یہ یقین بھی دلائیں گے کہ پاکستان کی جانب سے ایران کی سرحدوں کے اندر کسی قسم کی مداخلت نہیں ہو رہی، بلکہ پاکستان ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ایرانی قیادت کو یہ بھی باور کرایا جائے گا کہ پاکستانی بلوچستان کے بعض علاقوں میں علیحدگی پسندوں نے جو توڑ پھوڑ اور قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، اس سے پاکستان خود بھی پریشان اور نالاں ہے، جبکہ ایف سی ان کی مسلسل سرکوبی کر رہی ہے۔ دوسری طرف یہی شرپسند عناصر سرحد پار ایرانی بلوچستان میں دہشت گردی کا ارتکاب کرتے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بگاڑ اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انشاء اللہ وہ اپنی مذموم حرکتوں میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔
 
دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کی غرض سے پیر کے روز ایران کے وزیر داخلہ جناب عبدالرضا رحمانی فضلی اسلام آباد آئے تھے، اور اپنے ہم منصب چوہدری نثار علی خان کے ساتھ ملاقات کے دوران ان دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں پر ہونے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا تھا، اور یہ طے پایا تھا کہ دہشت گردی اور اغوا سے متعلق واقعات کے انسداد کے لئے یہ ضروری ہے کہ ان دونوں ملکوں کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ ہونی چاہیے، بلکہ اسے زیادہ موثر بنایا جائے، معلومات کے تبادلے کی بنیاد پر یہ دونوں ملک اپنے اپنے علاقوں میں سماج دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کرسکیں گے۔ جناب رحمانی فضلی اور چوہدری نثار علی خان کے مابین ملاقات ان دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں خوشگوار اضافے کا باعث بنی ہے، ویسے بھی ایران اور پاکستان کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ کے علاوہ 1999ء سے آزاد تجارت کا معاہدہ موجود ہے، جس کی وجہ سے تجارتی تعلقات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
 
پاکستان نے 1980ء کی دہائی میں ایران، عراق کے درمیان ہونے والی جنگ میں ایران کی مکمل حمایت کی تھی۔ پاکستان کے عوام کی بھاری اکثریت بلکہ کم و بیش تمام پاکستانی، ایران سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، اور باہمی تعلقات کو بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن اس ساتھ ہی وہ سعودی عرب سے بھی اپنے تعلقات کو مزید مستحکم و مضبوط ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، ویسے بھی دنیا کے تمام مسلمانوں کا ایمانی و دینی مرکز مکہ اور مدینہ سے منسلک ہے۔ اس لحاظ سے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات دو بھائیوں کے درمیان نہ ٹوٹنے والے رشتوں سے جُڑے ہوئے ہیں۔
 
بہرحال وزیراعظم میاں نواز شریف کا دورہ ایران، باہمی تعلقات میں مزید بہتری اور تفہیم کا باعث بنے گا، اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں مزید اضافہ ممکن ہوسکے گا۔ ایران پاک گیس پائپ لائن (740 کلو میٹر لمبی) کا مسئلہ بھی زیر بحث آئے گا۔ اگر پاکستان نے دسمبر 1914ء تک اپنی طرف کی گیس پائپ لائن تعمیر نہ کی تو اسے روزانہ ایک ملین ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان کے لیے اتنی بڑی رقم ادا کرنا خاصا مشکل ہوگا۔ وزیراعظم اس اہم مسئلہ پر ایرانی قیادت سے بات کریں گے۔ ممکن ہے کہ ایرانی صدر محترم حسن روحانی سے درخواست کریں کہ اس رقم کی ادائیگی کو فی الحال موخر کر دیا جائے، اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان ایران تعلقات میں مزید بہتری پیدا ہوسکے گی۔
"روزنامہ دنیا"

[ شنبه بیستم اردیبهشت 1393 ] [ 20:8 ] [ ارشادحسین مطهری ]

 
15 اپریل 2014ء کو ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام دوسری ’’عالمی اتحاد امت کانفرنس‘‘ اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ پہلی کانفرنس 11 و 12 نومبر 2012ء کو کونسل کے مرحوم صدر جناب قاضی حسین احمد کی قیادت میں اسلام آباد میں ہی منعقد ہوئی تھی۔ اس دو روزہ کانفرنس کا ایک عمومی اجتماع کنونشن سنٹر میں منعقد ہوا تھا جبکہ دوسرے روز مقامی ہوٹل میں خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ 2012ء میں منعقد ہونے والی یہ کانفرنس بہت پرشکوہ، یادگار، تاریخی اور نہایت موثر تھی۔ اس نے کونسل کی پیش رفت اور اس کے پیغام کی پذیرائی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔

جنوری 2013ء کو کونسل کے احیاء گر اور امت اسلامیہ کے عظیم دردمند راہنما قاضی حسین احمدؒ انتقال کرگئے، یہ ایک غیر متوقع، رِقت خیز اور ہلا دینے والا سانحہ تھا۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے لیے ایسے راہنما کی جدائی بہت غم انگیز تھی، جو خلوص و ہمت کا پیکر تھا اور درد مشترک و قدر مشترک پر امت کو مجتمع کرنے کی صدا بلند کرنے والا تھا۔ اللہ تعالٰی اپنے اُس حبیبؐ کے صدقے ان کے مقاماتِ عالی کو اور بلند کرے، جس کی محبت میں وہ ہمیشہ زمزمہ سنج رہتا تھا۔

قاضی حسین احمد مرحوم کی رحلت جان سوز کے بعد ملی یکجہتی کونسل کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا۔ اس کی بہت سی وجوہات تھیں۔ کون نہیں جانتا کہ بہت سی قوتوں کو امت اسلامیہ کے اتحاد کی اس جدوجہد سے کَد ہے۔ خود قاضی صاحب کو یہ قوتیں اپنے راستے کا کوہِ گراں سمجھتی تھیں۔ یہاں تک کہ ان کے نظریہ اتحاد امت کے خلاف شدت پسند گروہوں کے لیڈروں نے تقریریں کیں، انھیں اس راستے سے پلٹ آنے کو کہا، جب وہ حق کے راستے سے پلٹتے دکھائی نہ دیئے تو ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ قاضی صاحب مرحوم نے خود راقم سے بارہا بعض قوتوں کا نام لے کر کہا کہ وہ وحدت امت کی اس جدوجہد کے خلاف ہیں۔ انھوں نے نام لے کر بتایا کہ عالمی اتحاد امت کانفرنس میں عرب وفود کو شرکت سے روکنے کے لیے فلاں قوت نے کردار ادا کیا ہے۔ اس سب کے باوجود ان کا کہنا تھا کہ اب ان کے پاس جتنی بھی عمر ہے، وہ اسے امت کے اتحاد و وحدت کی کوششوں میں صرف کریں گے۔
 
وہ تو ملی یکجہتی کونسل کو ایک عالمی پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا چاہتے تھے۔ وہ اس کا عالمی سیکرٹریٹ قائم کرنے کے لیے بالکل تیار تھے، لیکن ابھی کونسل کے اندر اتنی آمادگی پیدا نہ ہوسکی تھی۔ اس سیکرٹریٹ کے توسط سے وہ عالم اسلام کے مسائل کو حل کرنے میں کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔ ملک کے اندر بعض موثر مذہبی جماعتیں ابھی کونسل کا حصہ نہیں بنی تھیں۔ البتہ قاضی صاحب کا احترام سب جماعتیں اور سب قائدین کرتے تھے۔ اس لیے جو جماعتیں ابھی کونسل کا باقاعدہ حصہ نہیں تھیں، وہ بھی اس کے مقاصد کی تائید کرتی تھیں، لیکن اس میں شمولیت کے حوالے سے ابھی ان کے کچھ تحفظات باقی تھے۔ معاملات آگے بڑھ رہے تھے کہ کونسل اچانک ایسے قائد سے محروم ہوگئی۔

اس کے بعد کونسل کو مجتمع رکھنا، امید کی شمع کو جلائے رکھنا اور قاضی صاحب کے خلا کو پر کرنے کی کوششیں کرنا مشکل مراحل تھے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی چونکہ کونسل کے سینیئر نائب صدر تھے، اس لیے قاضی صاحب کی رحلت کے بعد مجلس عاملہ کے پہلے اجلاس میں ہی اتفاق رائے سے انھیں کونسل کا قائم مقام صدر منتخب کر لیا گیا۔ قاضی صاحب کے جلائے ہوئے چراغوں کو روشن رکھنا، طے شدہ پروگراموں کو جاری رکھنا اور نئی قیادت کے انتخابات کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا، جیسے عظیم کام ان کے دوش پر آگئے تھے۔ انھوں نے کونسل کی موثر اور فعال شخصیات کے تعاون سے اپنی خاص حکمت عملی کے تحت ان تمام امور میں نتیجہ خیز پیش رفت کا مظاہرہ کیا۔

یہاں تک کہ 28 اکتوبر 2013ء کو اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں کونسل کے سربراہی اجلاس میں عبوری طور پر جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ جناب صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کو کونسل کا صدر اور جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ کو کونسل کا سیکرٹری جنرل منتخب کرلیا گیا۔ دونوں راہنماؤں نے چند ماہ کے اندر اندر کونسل میں ایک نئی روح پھونک دی۔ کونسل کے اندر اور باہر کی اہم مذہبی جماعتوں اور قائدین سے موثر رابطے کئے۔ عالمی سطح کی کانفرنسوں میں بھی پاکستان کے اس عظیم پلیٹ فارم کی نمائندگی کی۔ پاکستان کے عوام کو بھی اعتماد دیا، یہاں تک کہ کونسل کی مرکزی کابینہ اپنے 24 مارچ 2014ء کے اجلاس میں ایک اور عالمی اتحاد امت کانفرنس کا فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ فیصلہ کونسل کی قیادت کے اعتماد اور اعلٰی اسلامی مقاصد پر ان کے غیر متزلزل ایمان اور وحدت امت کی شمع کو روشن رکھنے کے لیے ان کی شدید آرزو کا مظہر تھا۔

ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام یہ دوسری عالمی اتحاد امت کانفرنس اپنے اندر پیش رفت کی بہت سی جہتیں رکھتی ہے۔ اس کانفرنس نے یقینی طور پر مرحوم قاضی صاحب کی قیادت میں منعقد ہونے والی عالمی اتحاد امت کانفرنس کی یادیں تازہ کر دیں۔ اس کانفرنس نے یہ پیغام دیا کہ کونسل کی موجودہ قیادت اپنے مرحوم قائدین مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور قاضی حسین احمد ؒ کی حقیقی ورثہ دار ہے اور اس ورثے کی حفاظت کا عہد کئے ہوئے ہے۔

اس کانفرنس میں ایسی مذہبی جماعتوں کے ممتاز قائدین بھی شریک ہوئے، جو ابھی کونسل کا فعال حصہ نہیں ہیں۔ اگرچہ کونسل میں شامل قائدین کی دلی آرزو ہے کہ ملک کی تمام مذہبی جماعتیں اور قائدین اس پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر امت کے اتحاد کا ایک خوبصورت اور طاقتور مظہر بن جائیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جو خود ملک سے باہر تھے، کی نمائندگی کے لیے کانفرنس میں ان کا اعلٰی سطحی وفد شامل تھا۔ جمعیت کے اس وقت کے قائم مقام امیر سینیٹر جناب مولانا گل نصیب اور سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کے علاوہ جمعیت کے آزاد جموں کشمیر کے صدر جناب مولانا یوسف سعید اس کانفرنس میں شریک ہوئے اور انھوں نے خطاب بھی فرمایا۔ 

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ناظم اعلٰی جناب خرم نواز گنڈا پور کانفرنس میں تشریف لائے اور انھوں نے تقریر کی۔ منہاج القرآن کے نمائندہ محترم ڈاکٹر رحیق عباسی نے ملی یکجہتی کونسل کے احیائی اجلاس میں شرکت کی تھی۔ وہ اس وقت منہاج القرآن انٹرنیشنل کے ناظم اعلٰی تھے۔ مرحوم قاضی صاحب کی خواہش تھی کہ ان کا ادارہ کونسل کی باقاعدہ رکنیت اختیار کرے، البتہ انھوں نے ’’مبصر‘‘ کی حیثیت سے کونسل سے وابستگی اختیار کی۔ ان کے نمائندگان مختلف کمیشنوں کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ اشتراک و تعاون فروغ پذیر رہے گا۔ اس کانفرنس میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سینیئر نائب صدر اور اسلامی نظریاتی کونسل کے محترم رکن جناب مولانا حافظ زبیر احمد ظہیر نے بھی شرکت کی اور حاضرین سے خطاب فرمایا۔ وفاق المدارس العربیہ کے ناظم اعلٰی جناب قاری محمد حنیف جالندھری بھی شریک ہوئے۔ وہ اپنے بیرون ملک کے دورے سے واپسی پر سیدھا اسلام آباد پہنچے، تاکہ اس کانفرنس میں شریک ہوسکیں۔ دارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم ممتاز عالم دین، وفاقی شرعی عدالت کے سابق جج مولانا مفتی محمد تقی عثمانی بھی اس کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔

کانفرنس میں افواج پاکستان کی سابقہ قیادت کے نہایت اہم ارکان بھی شریک ہوئے، جن میں سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) اسلم بیگ، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل، آئی ایس آئی کے ایک اور سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی اور جنرل (ر) عبدالقیوم شامل ہیں۔ پاکستان کی مختلف ممتاز یونیورسٹیوں کے نامور اساتذہ کرام اور دانشور بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ ان میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر، پروفیسر دوست محمد، پروفیسر ڈاکٹر شہتاز احمد، پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد، پروفیسر عبدالخالق سہریانی اور جناب عبدالرحمن شامل ہیں۔ ان اساتذہ کرام کا تعلق اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سرگودھا، پشاور یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں سے ہے۔ ان کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن جناب ڈاکٹر محسن مظفر نقوی، تحریک اتحاد امت کے سربراہ مولانا پیر سید چراغ الدین، جمعیت مشائخ اہل سنت کے ناظم اعلٰی پیر سید اشتیاق حسین شاہ، جامعہ نعیمیہ اسلام آباد کے مہتمم مفتی گلزار احمد نعیمی، متحدہ علماء محاذ کے سیکرٹری جنرل محمد سلیم حیدر اور جمعیت اتحاد العلماء کے مولانا سید قطب بھی زیب محفل تھے۔

الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذمہ داران سے بھی مخفی نہ تھا کہ ’’عالمی اتحاد امت کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ دوسری عظیم کانفرنس امت اسلامیہ کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ مختلف ٹی وی چینلز، قومی اخبارات اور قومی نیوز ایجنسیوں کے اہم نمائندگان کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کے مختلف نمائندگان بھی اس اہم ایونٹ کی کوریج کے لیے موجود تھے۔ ان میں اپنا نیوز، ڈان نیوز، ایکسپریس ٹی وی، روزنامہ ریاست، روز ٹی وی، آج ٹی وی، سماء ٹی وی، آر این اے، اقرا نیوز، ابتک ٹی وی، ثنا نیوز، نیوزون، روزنامہ جسارت، رائل ٹی وی، ڈیلی ٹاک، پرائم نیوز، اے آر وائی، میٹروواچ، روزنامہ الشرق، روزنامہ جہان پاکستان، روزنامہ آج، وش نیوز، سچ نیوز، دنیا نیوز، روزنامہ دنیا، ایشیا ٹوڈے، جیو نیوز، العالم ٹی وی، بزنس ٹائم، ڈیلی فرنٹیر، روزنامہ اوصاف، روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ نئی بات، اے این این، اسلام ٹائمز، اے پی پی، ارنا، پی پی آئی اور دیگر بہت سے اداروں کے نمائندگان شامل تھے۔

کانفرنس میں جموں و کشمیر کی اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس میں ایران اور افغانستان کے مہمانوں نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ایران سے آیۃ اللہ العظمٰی شیخ ناصر مکارم شیرازی کے دو رکنی نمائندہ وفد نے شرکت کی۔ وفد کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر علی زادہ موسوی تھے اور ان کے ہمراہ حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر سید محمود وزیری تھے۔ دونوں نمائندگان نے مختلف نشستوں میں حاضرین سے خطاب فرمایا۔ افغانستان کی نمائندگی کرتے ہوئے حزب اسلامی افغانستان کے بین الاقوامی امور کے انچارج اور ترجمان ممتاز دانشور ڈاکٹر غیرت بہیر نے کانفرنس سے خطاب کیا۔ بعض دیگر اسلامی ممالک کے نمائندگان کی شرکت بھی متوقع تھی، تاہم ان کی طرف سے خیر سگالی کے جذبات اور پیغامات کے ساتھ معذرت کا پیغام موصول ہوا۔

ملی یکجہتی کونسل کی رکن جماعتوں کی مختلف سطح کی قیادت نے اس کانفرنس میں بھرپور شرکت کی۔ پاکستان کے چاروں صوبوں، شمالی علاقہ جات، فاٹا اور آزاد جموں و کشمیر سے مذہبی قیادت کی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ علماء اور دانشوروں کے علاوہ اس کانفرنس میں مشائخ اور صوفیائے کرام کے آستانوں کے سجادہ نشین حضرات کی شرکت بھی نمایاں تھی۔ ان میں سے دیگر کے علاوہ حضرت پیر نورالحق قادری بھی رونق محفل تھے۔ انھوں نے حاضرین سے خطاب بھی کیا۔ یاد رہے کہ ملی یکجہتی کونسل میں مشائخ کرام کی متعدد تنظیمیں بھی بطور رکن موجود ہیں۔ کونسل میں ان کی شرکت ملک بھر میں فعال طور پر دکھائی دیتی ہے۔

ملی یکجہتی کونسل میں پاکستان میں موجود تمام مکاتب فکر کی نمائندہ تنظیمیں موجود ہیں اور ان کا یہ اجتماع اس امر کا اعلان ہے کہ مسالک کے کچھ فروعی اختلاف اور تعبیر کے کچھ فرق کے باوجود یہ تمام مسالک ایک امت کا حصہ ہیں اور ایک دوسرے کو امت اسلامیہ کے مختلف رنگوں اور تعبیروں کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ سب کو امت محمدیہؐ کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ایک دوسرے کی جان، مال اور آبرو کی حرمت کے قائل ہیں۔ سب شدت پسندی اور تشدد سے بیزار ہیں۔ سب مسلمانوں کے خلاف تکفیری روش سے اعلان برأت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی اتحاد امت کانفرنس میں جو ایک آدھ بات ملی یکجہتی کونسل کے مقاصد سے ہٹ کر کہی گئی، اسے نہ فقط پذیرائی حاصل نہ ہوئی بلکہ اس سے اجتناب کی دعوت دی گئی۔ کانفرنس کے نہایت مفید اور مثبت اثرات کا دائرہ پھیلتا چلا جا رہا ہے، جو یقینی طور پر خود کونسل کے دائرے کی وسعت اور اس کے پیغام کی مزید پذیرائی پر منتج ہوگا اور امتِ اسلامیہ کی سرحدوں کے اس پار بھی اس کا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مثبت پیغام جائے گا۔ ان شاءاللہ

تحریر: ثاقب اکبر
[ سه شنبه شانزدهم اردیبهشت 1393 ] [ 17:45 ] [ ارشادحسین مطهری ]

جامعه روحانیت بلتستان کے ایک وفد نے جامعة المصطفی العالمیه کے وائس چانسلر حضرت آیت الله اعرافی سے ملاقات کی ملاقات میں طلاب کے مختلف مسائل اور مشکلات کو بیان کیا اور بلتستان میں مدارس کو زیاده فعال بنانے کی ضرورت اور جامعة المصطفی میں بلتستان کے طلاب کی تعلیمی مشکلات کے حل پر زور دیا۔

آیت الله اعرافی نے فرمایا جامعه روحانیت بلتستان ایک عظیم، گرانقدر  اور وزین اداره هے اور آپکی فعالیتوں کو دیکھ کر دل کو سرور آتا هے آپکی فکری اور ثقافتی سرگرمیاں اور اجتماعی پروگراموں  کا جامعة المصطفی استقبال کرتا هے۔
آپ نے فرمایا نئے آنے والے طلاب کو راهنمائی کرتے هوئے ان سے بھی انکی مهارتوں کے مطابق استفاده کریں آپ نے وحدت پر زور دیتے هوئے فرمایا شیعه سنی کے درمیان اختلاف ایجاد کرنے والے عناصر پر کڑی نظر رکھیں آپ نے جامعه روحانیت کی طرف سے پیش کرده مشکلات کو بھی اسرع وقت میں حل کرنے کی یقین دهانی کرائی۔

[ سه شنبه شانزدهم اردیبهشت 1393 ] [ 17:41 ] [ ارشادحسین مطهری ]
.: Weblog Themes By Pichak :.

درباره وبلاگ

استفاده از مطالب وبلاگ با ذكر منابع بلامانع است.
امکانات وب